Thursday, April 9, 2009

پانی کے مسائل اور ماحول کا سال

مارچ کے تیسرے ہفتے ۱۶ تا  ۲۲  مارچ میں شروع ہونے والے پانچویں ورلڈ واٹر فورم میں ۲۰،۰۰۰ افراددنیا بھر میں پانی کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لیے یکجا تھے۔  یہ فورم اس بار ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا ۔ اس فورم میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اورماحول کے حوالے سے کام کرنے والے مجھ سمیت ۴۱ صحافی بھی اس تاریخی فورم میں شامل تھے۔سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی صحافیوں کی ایک تنظیم میڈیا ۲۱ ہماری میزبان تھی۔



 اس فورم کا بنیادی خیال Bridging divides for Water تھا۔ عالمی سطح پر واٹر فورم منانے کا سلسلہ نوے کی دہائی کے آخری سالوں میں شروع ہواتھا ۔  یہ فورم ہر تیسرے سال منعقد ہوتا ہے۔پہلا ورلڈ واٹر فورم ۱۹۹۷مراکش میں دوسرا ۲۰۰۰نیدر لینڈ میں  تیسرا ۲۰۰۳ جاپان  چوتھا ۲۰۰۶ میکسیکو میں اور یہ پانچواں ترکی کے خوبصورت اور تاریخی شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا۔ اس فورم کے انعقاد کا بنیادی مقصد دنیا کو پانی کے حوالے سے درپیش چیلینجز سے آگاہی اور پانی کے مسائل کو حکومتوں اور ساست دانوں کے سرکاری اور سیاسی ایجنڈے میں سر فہرست لانا ہے۔ اس فورم کا افتتاح ترکی کے صدر عبداللہ گل نے کیا جبکہ اور بہت سے ممالک کی سرکردہ شخصیات نے بھی اس میں شرکت کی۔ خبر گرم تھی کہ پاکستان سے بھی بہت سے لوگ شرکت کر رہے ہیں لیکن معذرت کے ساتھ مجھے کہیں بھی پاکستان کی نمائندگی خصوصا سرکاری سطح پر نظر نہیں آئی۔  ایک آدھ اسٹال ہی کہیں لگادیا جاتا۔  پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود آبی تنازعات کو اجاگر کرنے کا یہ بہترین موقع تھا کیونکہ اس بین الاقوامی فورم پردنیا بھر کے واٹر ایڈووکیٹ جمع تھے۔ لیکن خیر سرکار کا کام سرکار ہی جانے!

استنبول ترکی کا دارالحکومت نہیں ہے لیکن تاریخی اہمیت کی بنا پر اسے ترکی کے دارالحکومت انقرہ پر سبقت حاصل ہے۔صدیوں پرانے اس شہر کے قدیم درو دیوارگذرتے وقت کو اپنے اندر سمیٹے تاریح سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ آپ چاہیں تو گذرے ہوئے وقت کو محسوس بھی کرسکتے ہیں اور چھو بھی سکتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔ تین ہزار چھوٹی بڑی مسجدوں کے شہر استنبول کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ میرے لیے اس شہرکی اہمیت کا حوالہ مذہبی تھا۔  مرکزی شہر سے دور گولڈن ہارن کے کنارے محترم صحابی اور میزبان رسول ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری آرام فرما ہیں۔  سلطان محمد فاتح نے یہاں ایک شان دار مقبرہ اور ایک عالی شان مسجد تعمیر کروائی ہے۔ سلطان ہی کے ہاتھ کا لگا ہوا ایک بہت بڑا اور قدیم درخت مزار کے احاطے میں موجود ہے۔  ترک عقیدت و محبت سے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کو سلطان ایوب کہتے ہیں۔  یہاںحضور اکرم ﷺ کی نعلین مبارک موجود ہے جس کے دیدار کے بعد بلاشبہ انسان خود کو خوش نصیب سمجھنے لگتا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر فاتحہ پڑھ کر اور نعلین مبارک کے دیدار کے بعد ہمارا دوسرا اہم کام توپ کاپی میوزیم کی زیارت تھی۔ توپ کاپی میوزیم دراصل ترکی کے سلطان محمد دوم کا محل تھا جس کے ایک حصے کو میوزیم کی شکل دی گئی ہے۔ شاید مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد یہ وہ محترم شہر ہے جہاں حضور اکرمﷺ اور دیگر انبیاءکی اتنی اہم اور متبرک اشیا اکھٹی موجود ہوں۔ یہاں کیا نہیں ہے کسے دیکھیں اور کسے نہ دیکھیں اور کس طرح دیکھیں کہ یہ سب آنکھوں میں بس جائے۔ حضورﷺ کا دندان مبارک، داڑھی مبارک کے بال ، نقش قدم مبارک، چار تلواریں، مہر مبارک، مدینے کی مٹی، روضہ رسول پر بچھنے والا قالین ، کعبے کے طلائی تالے ، حجر اسود کا طلائی کیس، حضرت ابراہیمِؑ کا پیالہ ، حضرت یوسف ؑ کا صافہ یا پگڑی ، حضرت موسیؑ کا عصا، حضرت عیسیؑ کی تلوار، خلفائے راشدینؓ اورزبیر بن عوام ؓکی تلواریں غرض اور بھی بہت کچھ جسے یاد رکھنا بھی بہت مشکل ہے کہ وہاں یہ سب دیکھتے ہوئے انسان کسی اوردنیا میں پہنچ جاتا ہے۔

 اسی تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل شہر استنبول کو پانچویں ورلڈ واٹر فورم کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ 

دنیا میں اس وقت پانی کے حوالے سے بہت گرما گرمی پائی جاتی ہے۔ خصوصا وہ ممالک بھی جہاں پانی کا فی الحال کوئی مسئلہ نہیں ہے بہت سرگرم ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بدلتے موسموں کی بے ترتیبی کسی بھی وقت ان کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا کرسکتی ہے۔لیکن وطن عزیز جو پانی کی کمی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے یہاں اس حوالے سے کوئی فکرمندی یا تشویش نہیں پائی جاتی ہے ۔ گویا راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

 رواں سال جسے ماحولیات کے قومی سال کا نام دیا گیا تھا دھیرے دھیرے مٹھی میں بند ریت کی طرح سرک رہا ہے۔ سال کا چوتھا مہینہ اپریل بھی اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی ایک بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جسے ہم ماحول کی بہتری کے لیے بنیادی قدم قرار دے سکیں۔  اپنے پچھلے مضمون میں ہم نے لکھا تھا کہ پاکستان پانی کے حوالے سے اپنے بیش بہا قدرتی وسائل کے باوجود انتہائی مشکلات سے دوچار ہے اور مستقبل میں یہ مشکلات اور بڑھ جائیں گی اگر ہم نے اس حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی۔ کم از کم اس سال پانی کے حوالے سے چند ضروری اور بنیادی نوعیت کے کام کر لیے جاتے تاکہ کچھ بھرم ہی رہ جاتا۔ پاکستان میں پانی کا مسئلہ بھی عجب پیچیدہ مسئلہ ہے   ہم وہ کم نصیب ہیں جو خشک سالی کے دنوں میں قحط و افلاس کے ہاتھوں جان دیتے ہیں اور اگر قسمت یاوری کرجائے اور رحمت خداوندی برس جائے تو پھر دریا ، ندی نالوں سے چھلکتا سیلاب بلائے جاں بن جاتا ہے۔ پانی کے حوالے سے ہم دسیوں بین الاقوامی معاہدوں کے شریک ہیں پاکستان میں پانی اور زراعت کی قومی پالیسیاں بھی تیار ہےں مگر بوجوہ یہ ابھی تک فائنل نہیں ہوسکی ہیں۔  اس کی کیا وجہ ہے یہ ہم نہیں جانتے لیکن کم از کم یہی کام ہم اس سال کرلیا جائے۔  پانی کی پالیسی ۲۰۰۵ میں تیار ہوئی تھی لیکن ابھی تک منظوری کے مراحل سے نہیں گذری جبکہ زراعت کی پالیسی ۱۹۹۰ کی تیار کردہ ہے۔  اب جبکہ یہ پالیساں ابھی تک روایتی دفتری مراحل سے گذر رہی ہیں لہذا اس مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتر ہے کہ ان کی منظوری سے پہلے ان میں چند اہم نکات کا اضافہ کردیا جائے۔  ہماری معلومات کے مطابق دونوں پالیسیوں میں موسمی تبدیلیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے یا اس کا صرف سرسری ذکر ہوا ہے۔  حالانکہ اب سب سے زیادہ یہی موضوع وقت کی ضرورت ہے کیونکہ موسمی تبدیلیاں سب سے زیادہ پانی کے معمولات کو ہی متاثر کررہی ہیں اور کریں گی۔  چاہے پہاڑوں میں گلیشیئر کا پگھلنا ہو  دریاؤں میں پانی کی روانی کا تسلسل ہو  صوبوں کے مابین پانی کے تنازعات ہوں یا سرحدوں سے باہر کے مسائل ہوں ان تمام مسائل کی جڑیں بنیادی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے ہی جا کر ملتی ہیں اس کے بعد پانی کا انتظام اور تقسیم وغیرہ کے مسائل سامنے آتے ہیں۔  ہمارے سامنے عالمی بینک کی ایک رپورٹ موجود ہے جس کے مطابق پاکستان کی معیشت ماحول کی تباہی کی قیمت ۳۶۵ ارب روپے سالانہ (مجموعی جی ڈی پی کا ٪۶ ادا کررہی ہے یعنی ایک ارب روپے روزانہ !  ایک کمزور معیشت کے لیے یہ نقصان کتنا خطرناک ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے کسی معیشت داں کی ضرورت نہیں ہے۔  پانی کی صفائی کے ناقص نظام، پانی کی آلودگی اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی صورت  ۱۱۲ ارب  زرعی شعبے کی بدحالی کی مد میں ۷۰ ارب  گھریلو فضائی آلودگی کا نقصان ۶۷ ارب  شہروں میں فضائی آلودگی ۶۵ ارب  جبکہ چراگاہوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی پرتقریبا  ۷  ارب روپے سالانہ ضائع ہوتے ہیں۔  اب ذرا غور کیجیے ایک ارب روپے سالانہ ہم اپنی غفلت اور بے پرواہی سے ضائع کر رہے ہیں اور دوسری جانب ہماری حکومت ہر بین الاقوامی فورم پر ہاتھ میں کشکول لیے کھڑی ہے۔  خدا جانے یہ بات ہماری سمجھ میں کب آئے گی کہ معیشت کی جھولی کا یہ سوراخ جس سے ایک ارب روپے روزانہ گر رہے ہیں اگر رفو نہیں کیا جائے گا تو چاہے کتنا ہی قرضہ لے لیا جائے جھولی ہر گز نہیں بھرے گی۔

دنیا بھر میں بدلتے موسم ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آرہے ہیں اور تمام ممالک حتی الامکاں ایسی حکمت عملیاں تیار کررہے ہیں جو ان بدلتے موسموں سے ہم آہنگ ہوں خصوصا  Climate Change adaptation in the water sector اب وقت کی ضرورت تسلیم کر لی گئی ہے۔  کلائمیٹ چینج ہمارے لیے بھی ایک چیلنج بن کر موجود ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناتے ہمارے مسائل اور گمبھیر ہیں۔ درجہ حرارت کے بڑھنے سے ہمارے پانی کے وسائل براہ راست متاثر ہورہے ہیں اور ہر دو صورت میں یعنی سیلاب ہو یا خشک سالی ہمارے لیے عظیم بحران موجود ہے مثلا درجۂ حرارت کے بڑھنے سے پاکستان کے لیے پہلا خطرہ ہمالیائی گلیشیئرز ثابت ہوں گے۔ ان گلیشیئرز سے دنیا کے کئی بڑے دریا مثلاً دریائے سندھ گنگا برہم پترا  سلوین میکا ونگ یانگ ژی اور زرد دریا   نکلتے ہیں جن کا پانی پاکستان بھارت چین اور نیپال میں زندگی کو رواں دواں رکھنے کا باعث ہے۔ گرمی کے بڑھنے سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھلیں گے اور ان دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گی جس سے کناروں پر آباد لاکھوں افراد کو سیلاب کا سامنا ہو گا۔ سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے جس قدر کثیر سرمایہ درکار ہے اس کا پاکستان جیسا غریب ملک تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔کچھ عرصے بعد جب پانی کم ہو جائے گا تو یہی ممالک خشک سالی کا عذاب سہیں گے۔ زراعت تباہی سے دوچار ہو گی، قحط پھیلے گا اور ان غریب ممالک پر افلاس کے سائے اور گہرے ہو جائیں گے۔  یہ وہ کم از کم خطرات ہیں جو کسی ناکردہ جرم کی سزا کے طور پر پاکستان کو بھی بھگتنا ہوں گے۔

پانی ہمارے لیے موت اور زندگی کا مسئلہ ہے

 پانی کے بارے میں ہمیں سنجیدگی سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی ۔  ہندوستان نے اپنے دریاؤں پر دسیوں بڑے ڈیم بنا کر نہ صرف اپنا پانی محفوظ کر لیا ہے بلکہ پاکستان کے دریاؤں کا پانی بھی دھڑلے سے چرا رہا ہے۔ لیکن پاکستان کے پاس صرف دو ڈیم ہیں اور یہ دونوں ڈیم بھی مٹی اور ریت بھر جانے کے باعث اپنی گنجائش سے بہت کم پانی ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بہت کم ہے مثلا امریکا اور آسٹیلیا کی آبی ذخیرے کی صلاحیت ۵۰۰۰  کیوبک میٹر پر کیپیٹا اور چین کی ۲۲۰۰ کیوبک میٹر پر کیپیٹا ہے جبکہ پاکستان کی یہ صلاحیت صرف  ۱۵۰ کیوبک میٹر پر کیپیٹا ہے۔  بھارت اپنے ذخیرہ کردہ پانی سے اپنے متعلقہ دریاؤں کو ۱۲۰ سے ۲۲۰ دن تک رواں رکھ سکتا ہے جبکہ پاکستان کے دریا صرف ۳۰ دن تک رواں رہ سکتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے پانی کو کہیں ذخیرہ نہیں کر سکتے پانی کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق استعمال بھی نہیں کرسکتے۔ ماہرین کے مطابق تقریبا ۸  سے ۱۰ مقامات دریائے سندھ پر ایسے ہیں جہاں پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔  چھوٹے ڈیم کم مدت اور کم لاگت میں تعمیر کیے جاسکتے ہیں اس کے لیے نہ غیر ملکی قرضوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی ماہرین کی۔  اپنے وسائل اور اپنی مہارت سے ہم باآسانی یہ کام کرسکتے ہیں۔  یہ بدلتے موسم یعنی خشک سالی اور سیلاب براہ راست صحت کو بھی متاثر کریں گے خصوصا پاکستان جیسے خشک ملک میں جہاں بارشیں کم ہوتی ہیں یہ خشک سالی قیامت مچا دے گی۔ زیر زمین پانی بھی کم ہوتا چلا جائے گا۔پانی میں آلودگی اور بڑھ جائے گی ۔آلودہ پانی سے آنتوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔گرمیوں میں وبائی بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ بے شمار سروے رپورٹ بتاتی ہیں کہ گرمیوں میں ہی متعدی امراض مثلا ملیریا اور ڈینگی کی شدت بڑھتی ہے۔ ہمارے ملک کے سرد حصے جو ان بیماریوں سے محفوظ ہیں لیکن گلوبل وارمنگ کے تحت جب ان علاقوں کا بھی درجۂ حرارت بڑھے گا تو یہاں بھی یہ بیماریاں پھیلنے لگیں گی۔ ان بیماریوں کے علاج کے ضمن میں شہریوں پرجواضافی بوجھ پڑے گا وہ پہلے سے بدحال معیشت کو اور تباہ حال کردے گا۔ حرارت کا بڑھنا شہری گنجان علاقوں کے ساتھ ساتھ جزیروں  ساحلی علاقوں  نیم صحرائی علاقوں اور پہاڑی علاقوں کو بھی یکساں طور پر متاثر کرے گا۔ پاکستان جیسا غریب اورترقی پذیر ملک جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرتے ہیں جہاں انسانوں کا خون پانی سے بھی ارزاں اور پینے کا صاف پانی جنس گراں مایہ بن چکا ہو  جہاں لمبی قطاروں میں لگ کر آٹا دال خریدنا پڑتا ہو وہاں   climate change سے پیدا ہونے والے ان مسائل پر کون توجہ دے گا اور اس سے کون نمٹے گا؟ بسا اوقات مایوسی کا شدید احساس ہر امید کو ڈسنے لگتا ہے!

پانی کے بعد زراعت ہمارا اہم ترین شعبہ ہے ۔ اگر ہم چاہیں تو اس سال اس حوالے سے بھی چند ایک اہم فیصلے کرسکتے ہیں۔ ہمارا زرعی شعبہ پانی کی کمی سے دوچار ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا ٪۹۰ پانی جوزراعت میں استعمال ہوتا ہے اس میں سے ۲۰ سے ۳۰ فیصد راستے ہی میں ضائع ہوجاتا ہے ۔ ہمیں اس ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔  پاکستان کی زرعی فصلوں پر بھی دھیان دینا ہوگا۔ کیونکہ پانی کی بچت انتہائی ضروری ہے۔ ایسی فصلیں اگانا جس میں پانی کم استعمال ہو اور وہ منافع زیادہ دیں بہت ضروری ہوگا ۔ آنے والے وقتوں میں پرانی روایتی فصلیں اگانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

 ہماری تقریبا ۶۰فی صد آبادی شہروں میں رہے گی اس لیے ضروری ہے کہ تمام ضروریات زندگی مثلا سبزیاں   پھل   جانوروں کی پرورش اور دیگر تمام سرگرمیاں شہروں کے قریب ہوں۔ اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور کاربن کا اخراج بھی کم ہو گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ میں درختوں کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ موجودہ جنگلات کے بچاؤ کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔کیونکہ موسمی تبدیلی سے سیلاب آئیں گے۔  اس کے لیے ہمیں مربوط منصوبہ بندی اور زون بنانے ہوں گے۔  یاد رہے کہ ان تمام تبدیلیوں اور خطرات کی زد میں ہمارا غریب اور مظلوم طبقہ ہی نشانہ بنے گااورزیادہ تر علاقوں سے غریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔  اس کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ورنہ اس نقل مکانی کے بہت برے اثرات رونما ہو سکتے ہیں۔ پاکستان موسمی تبدیلیوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا لیکن بروقت بہترین منصوبہ بندی سے اس کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔

ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی عوام کو بھی ذہنی طور پر ان آفات سے نمٹنے کے لیے تیار کریں۔  ہمارا میڈیا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے جو لوگوں کو آنے والے کل کے خطرات سے آگاہ بھی کرسکتا ہے اور بچاؤکے لیے راستے بھی بتا سکتا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اب سیاست اور سیاست دانوں کے دائرے سے باہر نکلے ۔  زندگی کے اور بھی بہت سے حقائق ہماری توجہ چاہتے ہیں۔  اگرچہ سرکاری سطح پر کوئی خوش آئند بات نظر نہیں آتی لیکن عدلیہ بحالی کی حالیہ تحریک کی کامیابی امید کے در وا کررہی ہے کہ اب پاکستان بدل رہا ہے۔  خدا کرے کہ اس بدلتے ہوئے پاکستان میں رہنے والوں کے دن بھی بدل جائیں! آمین۔


Sunday, February 22, 2009

ہمارا ماحول اور خواتین

ماحول کی بہتری کے لیے خواتین کو آگے لایا جائے

سال کا دوسرا مہینہ بھی دبے پاؤں گذر چلا، حکومت نے اس سال کو ماحول کا قومی سال قرار دیاہے۔  ان دو مہینوں میں دارالحکومت میں ایک پر تکلف ورکشاپ منعقد ہوئی ،غیر ملکی مندوبین سمیت ہمارے بھی چند ماہرین نے شرکت کی ۔ اخبارات میں لاکھوں روپے کے اشتہارات چھپے لیکن ابھی تک عام سطح یا عوام کے لیے کوئی ایک بھی ایسا کام یا اعلان سامنے نہ آسکا کہ جو عام آدمی کے لیے کوئی بہتری کا پیغام لاتا یا جو اس کا تعلق ماحول سے جوڑ سکتا۔  پاکستان میں قدرتی وسائل کا زیاں اورماحول کا انحطاط اس بگاڑ تک پہنچ چکا ہے کہ جہاں عام نوعیت کے اقدامات یا اعلانات سے شاید ہی بات بن سکے۔  عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت ماحول کی تباہی کی قیمت 365 ارب روپے سالانہ(مجموعی جی ڈی پی کا %6) ادا کررہی ہے یعنی ایک ارب روپے روزانہ ! ایک کمزور معیشت کے لیے یہ نقصان کتنا خطرناک ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے کسی معیشت داں کی ضرورت نہیں ہے۔  پانی کی صفائی کے ناقص نظام، پانی کی آلودگی اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی صورت 112 ارب،زرعی شعبے کی بدحالی کی مد میں 70ارب ،گھریلو فضائی آلودگی کا نقصان 67ارب ،شہروں میں فضائی آلودگی 65ارب ،جبکہ چراگاہوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی پرتقریبا 7ارب روپے سالانہ ضائع ہوتے ہیں۔

 یہ وہ نقصان ہے جو ہم اپنی لاپرواہیوں ، غفلت اور کم علمی کے باعث برداشت کررہے ہیں دوسرے لفظوں میں یہ ہمارے اپنے اعمال ہیں جو اب پھل پھول رہے ہیں۔

دنیا بھر کے لیے ماحول اور خصوصا بدلتے موسم اب ایک ترجیحی مسئلہ بن چکا ہے اور اس کے روک تھام پر کام جاری ہے۔اگرچہ موسموں کے یہ بدلتے تیور اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے لیکن یہ بات کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ یہ بدلتے موسم خواتین کے لیے خصوصی پریشانی کا باعث بنیں گے۔موسم کی تبدیلی کو اگرچہ صرف ماحول کے حوالے سے جوڑا جاتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ بدلتے موسم صرف ماحول ہی کو نہیں بلکہ دنیا بھر کی معیشت اور سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے زیر اثردنیا کے ہر علاقے کی جغرافیہ ، ثقافت، رسوم و رواج ، معاشرت اور روایتی ذرائع روزگار سب بدل کر رہ جائے گا۔

انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائیمیٹ چینج  (IPCC)کی رپورٹ کے مطابق بدلتے موسموں کا اثر دنیا کے مختلف حصوں ، نسلوں، پیشوں اور مختلف عمر کے افراد پر مختلف ہوگا اور اس کی کوئی نپی تلی پیش گوئی ممکن نہیں ہے۔ اس بات کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ ماحول کی تبدیلی کے یہ اثرات دنیا کے ہر ملک پر مرتب ہوں گے لیکن زیادہ تباہ کاریاں ترقی پذیر ملکوں کے غریب عوام بھگتیں گے اور وسائل کی غیر مساویانہ تقسیم میں مزید ابتری نمایاں ہوگی ۔ معاشی خوش حالی ، تعلیم ،صحت و صفائی اور صاف پانی تک رسائی غریب کے لیے نا ممکن ہوجائے گی۔ غربت اور بدحالی ماحول پر شدید بدترین اثرات مرتب کرے گی۔ اگر خواتین اور غربت کا ماحول کے حوالے سے جائزہ لیں تو دنیا کے غریبوں میں خواتین کی تعداد 70 فیصد ہے۔ ماحولیاتی تغیر کا مرد اور خواتین مختلف انداز سے شکار ہوتے ہیں ۔ اس کا انحصار خواتین کی عمر حالات اور ثقافتی اقدار سے ہے لیکن بدقسمتی سے ماحول کے حوالے سے تمام پروگرام، پالیسیاں خواتین کا خیال اور ان کی شمولیت کے بغیر بنائی جاتی ہیں۔



 اس حوالے سے بہت سے اقدامات ضروری ہیں مثلا بدلتے موسموں کی مناسبت سے خواتین کی تربیت، مہارت اور وسائل کے استعمال کے حوالے سے ان کے علم میں اضافہ، پالیسی سازی اور فیصلوں میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانا تاکہ فیصلے زمینی حقائق کی بنیادوں پر ہوں۔
اب یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ دنیا کی فضا کو آلودہ کرنے والی گرین ہاؤس گیسیں ترقی یافتہ ممالک کی چمنیوں سے نکلتی ہیں۔ جبکہ سزا غریب یعنی ترقی پذیر ملکوں کو بھگتنا پڑتی ہے۔ اس لیے یہ لازم ہوجاتا ہے کہ خواتین پر ماحول کے بدلتے اثرات کے حوالے سے یہی امیر ممالک ضروری اقدامات کریں اورایسی حکمت عملیاں مرتب کریں جو خواتین کے لیے صورت حال کچھ بہتر بنا سکیں۔ لیکن پہل کون کرے؟ اور اپنے سر یہ الزام کیوں لے۔

عورت کے خمیر میں پروردگار نے محبت کا عنصر بہت زیادہ شامل کیا ہے۔ وہ محبت کے بغیر نہیں رہ سکتی۔  یہ محبت چاہے، اس کے ارد گرد موجود اس کے اپنوں سے ہو یا اپنی چیزوں سے ۔ ماحول اور قدرتی وسائل کی حفاظت اور محبت بھی اس کے لیے نئی یا انوکھی بات نہیں ہے۔  پاکستانی عورت تو خصوصا اپنے ماحول اور وسائل کے انتظام اور حفاظت میں مرد سے آگے ہے۔ فطرت نے عورت کو کفایت اور سگھڑاپا عطا کیا ہے۔  وہ ان وسائل کو سیلقے اور کفایت سے برتتی ہے۔ اس صنعتی دور کے آغاز سے پہلے قدرتی وسائل کے پیداواری کام میں اور انہیں برتنے میں عورتوں کا زیادہ ہاتھ تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس وقت یہ کرہ ارض زیادہ محفوظ و مامون تھا ۔

یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ خواتین اور قدرتی وسائل لازم و ملزوم ہیں۔  ماحولیاتی انحطاط کا خسارہ زیادہ تر خواتین ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔  جیسے جیسے قدرتی وسائل آلودہ یا کمیاب ہوتے چلے جاتے ہیں، خواتین کے مسائل بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ قدرتی وسائل اور ماحولیاتی انحطاط سے بالواسطہ اور براہ راست خواتین ہی زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ماحولیاتی انحطاط کا عمل تیزی سے جاری ہے اور قدرتی وسائل کمیاب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

اس ماحولیاتی انحطاط میں اگرچہ عورت کا اتنا ہاتھ نہیں ہے لیکن پاکستانی معاشرے میں ماحول اور قدرتی وسائل کے انتظام و انصرام میں عورت کا کردار انتہائی اہم اور واضح ہے۔ وہ ان وسائل کی زیادہ اچھی محافظ ہے۔ یہ وسائل ہماری آئندہ نسلوں کی امانت ہیں لہٰذا ان کی حفاظت ہمارا فرض ہے اور آنے والی نسلوں کا خیال ایک ”ماں“ عورت سے زیادہ کون رکھ سکتا ہے۔

یہ عورت ہی ہے جس کی صبح مرد سے بہت پہلے اندھیرے میں طلوع ہو جاتی ہے۔ گھر کے تمام کام مثلا دور دراز دشوار گزار علاقوں سے ندیوں، چشموں اور کنوؤں سے ضروریات کے لیے پانی بھر کر لانا، مویشی چرانا، پھر ان کا دودھ نکالنے سے دہی اور لسی بلونے تک تمام کام عورت ہی کی ذمے داری ہے۔ گھر بھر کے لیے کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے لیے چارے کا انتظام بھی اسی کی ذمے داری ہے۔ پانی صرف پینے کے لیے ہی نہیں بلکہ نہانے، کپڑے دھونے، بچوں اور بڑوں کے استعمال کے لیے پانی لانا اور مویشیوں کو پلانا بھی اسی کا کام ہے۔ گھر کے تمام کاموں کے ساتھ ساتھ کھیتوں کی تمام ہریالی بھی اسی کے محنتی ہاتھوں کی مرہون منت ہے۔ کھیتوں میں کام کے دوران اسے صحت سے متعلق بہت سے خطرات لاحق ہوتے ہیں مثلاً صوبہ سندھ میں کپاس کی فصل کو لیجیے۔ پورے سندھ بھر میں کپاس چننا عورتوں ہی کا کام ہے۔ آپ کو کہیں کوئی مرد کپاس چنتا نظر نہیں آئے گا۔ اس ضمن میں کئی افراد سے پوچھا گیا مگر وہ کوئی خاص وجہ نہ بتا سکے سوائے اس کے کہ یہ رواج ہے اور ہمیشہ کپاس عورتیں ہی چنتی ہیں۔ رواج سے قطع نظر شاید یہ وہ نازک کام ہے جو عورتوں کے ہاتھوں سے ہی بہتر انجام پا سکتا ہے۔ نرم و نازک ریشم جیسی روئی کو چننے کے لیے ریشم جیسے نازک ہاتھ ہی درکار ہیں۔ (دیہات کے مسائل زدہ، غربت اور بدحالی کے ہاتھوں ستائی عورت کے لیے صنف نازک، ریشم یا ملائم ہاتھوں کی اصطلاحات اس کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔) کیا واقعی مرد خواتین کی کوئی مدد نہیں کرتے؟ ہمارے اس سوال پر بڑا دلچسپ جواب ہمیں موصول ہوا ۔ کہا گیا کہ ”اگر کپاس چوری وغیرہ کروانی ہو تو پھر مردوں کی خدمات ہی حاصل کی جاتی ہیں۔

خواتین سے کام لینے کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ وہ انتہائی تیزی سے کام کرتی ہیں۔ مردوں کے مقابلے ان کا کام بہت تیز اور انتہائی مہارت سے انجام پاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے کپاس پیدا کرنے والے 9 بڑے اضلاع میں 26 لاکھ عورتیں کپاس چننے کے کام سے وابستہ ہیں لیکن اس ضمن میں ان کے سرگرم کردار سے قطع نظر ان کی محنت کا پورا پھل انہیں نہیں ملتا۔ وہ پورا سال کپاس کی چنائی کا انتظار کرتی ہیں تاکہ چند پیسے کما کر وہ چند اشیائے ضرورت خرید سکیں یا پھر ڈاکٹر سے دوائی لے آئیں۔ ان اشیا کا وہ عام دنوں میں تصور بھی نہیں کر سکتیں مگر افسوس ہیرا پھیری کے باعث انہیں اکثر کم اجرت دی جاتی ہے۔ اس کٹھن کام میں عورتیں اپنا پورا دن تپتی دھوپ میں کھیتوں میں کھڑے کھڑے گزار دیتی ہیں۔ اکثر ان کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں۔ تیز دھوپ ان کی جلد کے لیے عذاب ثابت ہوتی ہے۔ عورتیں چوں کہ دن بھر کھیتوں پر گزارتی ہیں لہٰذا ان کے بچے بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ زمین پر پائے جانے والے کیڑے مکوڑے اور وہاں پھرنے والے جانور ان بچوں کے لیے خطرہ ہوتے ہیں لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ کھیتوں پر چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر ہیں۔ کپاس چوں کہ غذائی فصل نہیں ہے لہٰذا اس پر اندھا دھند زہریلی ادویات چھڑکی جاتی ہیں جس سے نہ صرف بچے بلکہ خواتین کی صحت بھی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اندازاً ہر سال 20,000 افراد ان زہریلی دواؤں کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں 60 تا 80 فیصد خوراک کی پیداوار عورتوں کی ہی مرہون منت ہے بلکہ کھیتوں پرکام کرنے والے مردوں کے آلودہ کپڑے دھونے، ان زہریلی ادویات کے ڈبے اور اوزار کی صفائی بھی عورتیں ہی کرتی ہیں۔ حاملہ خواتین ان دواؤں کے زہریلے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ ان دواؤں کی آلودگی نہ صرف شکم مادر میں بچے کومتاثر کرتی ہے بلکہ کئی جگہوں پر تو ماں کے دودھ کے آلودہ ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ کہیں کہیں یہ زہریلی ادویات گھروں میں رہنے کے باعث اور بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ جہاں کسی بات پر غصہ آیا اور یہ دوا پی کر خود کشی کر لی۔  اس کے علاوہ کہیں ان زہریلی ادویات کو لوگوں نے اپنے مقصد کے لیے بھی استعمال کیا ہے جس عورت کو قتل کرنا ہو اس کا گلا دبا دیا بعد میں زبان پر یہ زہریلی دوا ڈال دی اور مرنے والی پر خودکشی کا الزام لگا دیا۔  تیسری دنیا کی محنت کش خواتین جہاں عدم تحفظ کا شکار ہیں وہاں ان کے کام کرنے کی جگہوں پر پائی جانے والی ماحولیاتی آلودگی بھی ایک بہت بڑا رسک ہے۔ صنعت کاروں اور زمیں داروں پر لازم ہے کہ پیسہ کمانے کے ساتھ ساتھ ان غریب محنت کشوں کی صحت اور زندگی کی حفاظت کا بھی خیال رکھیں۔

بدلتے موسم براہ راست عورت کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ جب ندی نالے سوکھ جاتے ہیں تو عورتوں کو پانی کی تلاش میں دور دور تک بھٹکنا پڑتا ہے اور یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ بدین کے علاقے میں عورتوںکو پانی کے حصول کے لیے 4 کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑتا ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر محسوس کیجیے کہ پانی کے صرف دو مٹکوں کے حصول کے لیے 4 کلومیٹر تک پیدل تپتی دھوپ میں چلنا کس قدر عذاب ناک ہو گا اور پھر جہاں صرف پینے کے پانی کا حصول اس قدر دشوار ہو وہاں نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے پانی کا کیا سوال؟ گویا پانی کی کمی عورت ہی بھگتے گی۔ مرد تو کہیں بھی کسی بھی ندی نالے میں نہا کر آجائے گا۔ اسی طرح جب جس گھر میں دودھ، دہی، مکھن اور شہد وغیرہ کی کمی ہو گی تو عورت ہی کی خوراک متاثر ہوگی ۔ مرد تو کہیں باہر کھا کر آجائے گا۔ماحولیاتی تبدیلیوں سے جنگلات بھی کم ہوتے جائیں گے جس کے باعث ایندھنی لکڑی کا حصول دشوار ترین ہو جائے گا۔ مویشیوں کا چارا نایاب ہوجائے گا اور اس زمین پر عورت کی زندگی اور اجیرن ہو کر رہ جائے گی۔شہر کی عورت کا کردار اس حوالے سے ہمیں کچھ مختلف اور حوصلہ افزا نظر آتا ہے۔ وہ دیہات کی عورت کے مقابلے میں بہت بہتر ماحول اور قدرے خود مختاری سے زندگی گذارتی ہے لہذا وہ اگر چاہے تو ماحول کی بہتری کے لیے چھوٹے پیمانے پر ہی لیکن اہم کام کرسکتی ہے۔ شہروں کا سب سے بڑا مسئلہ آلودگی ہے۔ عورت چاہے تو آلودگی سے بچاؤکے لیے کام کر سکتی ہے۔ پانی کا کم استعمال، کچرے کا مناسب بندوبست اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔  وہ اپنے ارد گرد موجود آبی ذخائر کو آلودگی سے بچانے کے لیے اہم کرار ادا کر سکتی ہے۔ گھروں میں کیڑے مار ادویات کا استعمال ختم کر سکتی ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر گھریلو آسان ٹوٹکے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

شہری عورت ایک بہترین صارف بھی ہے۔ وہ اگر ایک سمجھ دار صارف کا کردار ادا کرے تو ہمارا ماحول بہت سی مشکلات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ مثلاً خریداری کے لیے ٹن پیک اشیا کو مسترد کر دے۔ خریداری کے لیے شاپنگ بیگ کو مسترد کردے اور کپڑے کی تھیلی یا تنکوں کی ٹوکری کا استعمال خود بھی کرے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے ۔ یہ عمل ہمارے ماحول کو ”شاپنگ بیگ“ سے نجات دلا دے گا۔  اپنی اشیائے ضرورت کو اگر تھوڑا سا گھٹا لیں تو اس غریب ملک کی غربت تھوڑی سی کم ہو جائے گی۔ مثلاً اگر آپ کے ہاں چینی کا استعمال دو کلو ہے تو اسے کم کر کے ڈیڑھ کلو کر لیں۔ آپ کے اس اقدام سے کاشت کار کم گنا پیدا کرے گا۔  زمین کو تھوڑا سا آرام مل جائے گا۔ یاد رکھیے کہ آپ کے ہر عمل کے اثرات عالمی سطح تک جا پہنچتے ہیں۔ اس لیے یہ کہہ کر جان مت چھڑائیے کہ اس بگڑے ہوئے سسٹم میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ یقین جانیے کہ آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں بلکہ آپ ہی سب کچھ کر سکتے ہیں۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے یعنی 1994 میں موسمی تبدیلیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کی توثیق کی تھی۔ یہی نہیں بلکہ اس نے دیگر متعلقہ معاہدوں Protocol کی تصدیق بھی کردی تھی۔ اگرچہ پاکستان کے بعض اہم اور متعلقہ حلقوں کا خیال یہ ہے کہ موسمی تبدیلیوں کا صنف سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور یہ مردو عورت پر یکساں ہوتے ہیں تو یہ بالکل غلط خیال ہے۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ Adaptability, Vulnerability اور Mitigation کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موسم کی تبدیلیوں کے اثرات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔


اس وقت پاکستان میں موسمی تبدیلیوں سے متعلق پالیسی پر کام جاری ہے تاہم پاکستان کو موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایسی پالیسی وضح کرنے کو ترجیح دے جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہو کہ عورتوں اور مردوں پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس پالیسی کے عمل میں اگر عورتوں کو بڑے پیمانے پر شامل کیا جائے تو ایسی صورت میں فیصلہ سازی کے لیے جو مواد حاصل ہوگا اس میں ہر مکتب خیال کو موثر نمائندگی حاصل ہوگی اور تبھی شاید کوئی بہتری کی صورت نکل سکے۔ ماحول کے قومی سال 2009 کا تیسرا مہینہ شروع ہوچکا ہے وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح پھسل رہا ہے اور مجھ سمیت کروڑوں لوگ انتظار کررہے ہیں کہ یہ سال جاتے جاتے وقت کی کتاب پرکچھ پکے رنگوں کے انمٹ اور یادگار نقوش چھوڑ جائے۔

Friday, December 19, 2008

پانی کی چوری اور سرکاری خاموشی

سولہ کروڑ عوام کو جاگنا ہوگا

 قوم کو مبارک ہوکہ چناب کے پانی کے روکے جانے کا مسئلہ حل ہو گیا ! من موہن سنگھ جی نے امریکا میں یہ کہہ کر ہم سب کا من موہ لیا کہ سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔  یقینا عمل کیا جائے گا اور بھارت ایسا کر بھی رہا ہے ۔ کیا ہوا جو اس نے چناب کا پانی روکنے کے لیے غیر قانونی طور پر دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم تعمیر کرلیا ہے  جس کا ابھی حال ہی میں افتتاح کیا گیا ہے اور وہ بھی من موہن جی کے دست مبارک سے  یا وہ دریائے سندھ کا 40% پانی ایک خفیہ ٹنل کے ذریعے چوری کرکے دریائے برہم پترا میں ڈال رہا ہے اور اس سے بھی معاہدے کی روح پر بھلا کیا اثر پڑے گا کہ وہ دریائے سندھ کے اوپر کارگل کے مقام پر ایک بہت بڑا کارگل ڈیم بنا رہا ہے جو دنیا کا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا، جس کی تعمیر کے بعد دریائے سندھ کی حیثیت ایک برساتی نالے سے زیادہ کی نہیں رہ جائے گی۔بھارت دریائے سندھ میں آکر گرنے والے ندی نالوں پربھی 14چھوٹے ڈیم بنا رہا ہے اسی طرح جہلم سے ایک اور بگلیہار سے دو نہریں نکال کر راوی میں ڈالی جارہی ہیں اور راوی کا پانی ستلج میں ڈال کر راجھستان لے جایا جارہا ہے۔ جہلم پر 12اور چناب پر مزید 20 چھوٹے ڈیم بنائے جانے کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور یہ تمام آبی تجاوزات ان دریاؤں پر ہورہی ہیں جو سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آئے ہیں اور معاہدے کے مطابق ان دریاؤں کے پانی روکنے اور ان پر ڈیم بنانے کا بھارت کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ لیکن ظاہر ہے ان چھوٹی بڑی خلاف ورزیوں سے معاہدے کی روح پر بھلاکیا اثر پڑتا ہے جبھی تو ہماری حکومت بھی اتنی مطمئن نظر آرہی ہے۔بھارت کی تاریخ عہد شکنی سے عبارت ہے ، اس نے کبھی کسی معاہدے اور قانون کی پابندی نہیں کی۔ 

               چاہے وہ مسئلہ کشمیر ہو، سر کریک تنازعہ ہو یا آبی مسائل وہ ہر مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہش مند ضرور نظر آتا ہے لیکن برسوں کے تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی مسئلے کے حل میں تعطل پیدا کر دینے کا یہ وہ بہترین ہتھکنڈا ہے جسے بھارت مہارت سے استعمال کرتا ہے۔

کوئی نہیں ہے جو بھارت کو سچ کا آئینہ دکھائے ؟دریائے چناب کے پانی میں سے 7سے 8 ہزار کیوسک پانی بھارت روزانہ چوری کر رہا ہے۔اب صورت حال یہ ہے کہ پنجاب کی اس وقت تمام نہریں بند ہوچکی ہیں ان میں ریت اڑ رہی ہے ۔ساہیوال ،اوکاڑہ ،ملتان ،ایسٹرن بار ،اور ویسٹرن بار کے 35 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ جون سے اب تک پنجاب اور سندھ کی سوا کروڑ اراضی پانی کی کمی سی دوچار ہے اور قوم کو چاہے کتنے ہی دھوکے میں رکھا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ گندم کی فصل کا ہدف اب پورا ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔یہ صورت حال جاری رہی تو خدانخواستہ بہت جلد یہاں ایتھوپیا اور صومالیہ جیسے حالات پیدا ہوجائیں گے اورشمالی کوریا اور روانڈا کی طرح ہماری انتہائی زرخیز زرعی زمینیں اجاڑ ویران اوربے آباد ہو جائیں گی۔اس سنگین صورت حال پر حیرانی یہ ہے کہ کوئی بات ہی نہیں کر رہا ہے ، پچھلی حکومت سے خیر کسی کو کوئی امید نہیں تھی لیکن اس حکومت کو کیا ہوا؟ ایک خاموشی ہے ہر بات کے جواب میں! کیا اس مسئلے کے کرتا دھرتا اس خاموشی کا کوئی تسلی بخش جواز پیش کر سکتے ہیں؟ شاید نہیں ۔۔۔زنجیر بہت مضبوط ہے۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد دونوں ملکوں کے مابین 18 دسمبر 1947 کو ایک معاہدہ کیا گیا جس کی رو سے دونوںممالک کے درمیان پانی کی تقسیم ملکوں کی تقسیم سے پہلے والی پوزیشن پر ہی رکھنی تھی لیکن 8 ماہ سے بھی کم مدت کے اندر بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے آب پاشی کے لیے مخصوص ہر اس نہر کو بند کر دیا جو فیروز پور اور گورداسپور سے نکل کر دونوں ملکوں کی سرحد عبور کر رہی تھی۔ بھارت کی اس کارروائی کے باعث پاکستانی کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔انڈیا کا مطالبہ تھا کہ بھارتی پنجاب سے گزرنے والے تمام دریاؤں پر پاکستان، بھارت کا حق تسلیم کرے اور ان دریاؤں کے پانی پر پاکستان پنجاب کے باشندوں کے حق اور حصے کا مطالبہ نہیں کرے۔ اس کے برعکس پاکستان کا مطالبہ تھا کہ پانی کے استعمال یا کھپت کی موجودہ صورت حال جوں کی توں رہنے دی جائے البتہ زائد پانی کو دونوں ممالک کے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے اس مطالبے کو متعدد معاہدوں اور ملکوں کی حمایت حاصل تھی۔لیکن اپریل 1948 میں بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو دریاؤں کے پانی کی فراہمی روک کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی معاہدے اور اخلاقیات کو نہیں مانتا ۔اس آبی بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ایک وزارتی وفد کو نئی دہلی کا ہنگامی دورہ کرنا پڑا اور پانی کی بحالی کے لیے بات چیت کرنی پڑی۔ان مذاکرات میں بھارت نے اصرار کیا کہ مشرقی جانب سے آنے والے تمام دریاؤں پر پاکستان، بھارت کا ملکیتی حق تسلیم کرے ۔بھارت کا یہ مطالبہ سراسر غلط تھا کیونکہ 1921 کے بارسلونا کنونشن کے تحت ، جس کا رکن بھارت بھی تھا، کے مطابق کسی بھی ملک کو ایسے دریاؤں کا پانی روکنے یا ان کا رخ تبدیل کر دینے کا قطعی کوئی حق حاصل نہیں ہے جو کسی ملک کی سرحد عبور کر کے پڑوسی ملک میں داخل ہوتے ہیں۔ مذکورہ کنونشن کے مطاق کسی ملک کو دریاؤں کے پانی کی اس حد تک اور اس طریقے سے استعمال کی اجازت بھی حاصل نہیں کہ اس کے پڑوسی ملک کی زمینیں سیراب نہ ہو سکیں یا وہ پانی کو درست طور سے استعمال نہ کر سکے۔لیکن ہر قاعدے اور قانون سے خود کو ماورا سمجھنے والے بھارت نے اس کنونشن کو بھی اپنی ٹھوکر پر رکھا اور دریاؤں کے بالائی بہاؤ پر واقع اپنی حیثیت اور طاقت کا غیر قانونی مظاہرہ کرتے ہوئے 4 مئی 1948 کو ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد کو ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جس کے تحت اسے ریزرو بینک آف انڈیا میں، بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے مقرر کردہ رقم جمع کروانا ضروری تھا اور اس کے بعد ہی پاکستان کو پانی کی فراہم بحال کی جانی تھی۔ دونوں ممالک کے مابین سرحدوں کا تعین کرتے وقت برصغیر پاک وہند میں قائم نہری نظام پر توجہ نہیں دی گئی تھی البتہ باؤنڈری کمیشن نے یہ تنازع تسلیم کیا تھا۔ متاثرہ علاقوں کے نمائندوں نے ثالثی کمیشن کے سامنے اقرار کیا تھا کہ پانی کی سپلائی پر دونوں ممالک کا حق ہے۔ بہرحال پاکستان کو مجبورا مقررہ رقم بھارتی حکومت کو ادا کرنی پڑی۔مئی 1948 کے اس معاہدے پر دستخط کرنے اور رقم ادا کرنے کے بعد بھی بھارت نے آبی حارحیت برقرار رکھی اور بھارتی رویے سے مجبور ہوکر پاکستان نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس دوران بھارت نے دریائے بیاس اور ستلج کے بالائی حصے میں، فیروز پور سے آگے ہریک کے مقام پر بیراج کی تعمیر شروع کر دی تھی اور بھاگرا کی ڈیم سائٹ پر بھی کام شروع کردیا اور پاکستان کی ہر کوشش اور ہر اعتراض کو اس نے مسترد کر دیا اور یوں حالات ایک خطرناک نہج پر آگئے۔ چونکہ اس مسئلے سے لاکھوں لوگوں کی قسمت وابستہ تھی اور پرامن مذاکرات کے ذریعے اس کا حل بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا لہٰذا امریکا کے ایک مشہور رسالے کولیئر (جو1957 میں بند ہوا) نے ٹینیسی ویلی اتھارٹی کے سابق چیئرمین اور امریکی اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈیوڈ ای کو حقائق معلوم کرنے کی غرض سے بھارت اور پاکستان کے دورے پر بھیجا۔ ان کا کام اس مسئلے پر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرنا تھا جس کی مدد سے یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا۔

وطن واپسی پر ڈیوڈ نے سلسلے وار آرٹیکلز کی صورت میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس سلسلے کا پہلا آرٹیکل ”کولیئر“ کے 4 اگست 1951 کے شمارے میں شائع ہوا۔اس نے لکھا تھا۔ ”ابتدائی نکتہ، جس سے شروعات کی جائے یہ ہو کہ پاکستان کو پانی سے محرومی اور اسے صحرا بنا دیے جانے کے خدشات ختم کیے جائیں۔ پانی کے حالیہ استعمال کے حجم کی بھارت تصدیق کرے اور دونوں ممالک کو پابند کیا جائے کہ وہ اور بھارت صحیح معنوں میں دریا کے بین الاقوامی طاس میں مل کر کام کریں۔ علیحدہ علیحدہ کام کرنے کی صورت میں مذکورہ دونوں ممالک یہ مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے کیوں کہ دریا (سندھ) دونوں ممالک کی سرحد کو خاطر میں نہیں لاتا اور کشمیر، بھارت اور پاکستان سے گزرنے والے اپنے قدرتی راستے پر گامزن رہتا ہے۔ اس پورے نظام کو بطور ایک اکائی ترقی دی جانی چاہیے اور امریکا کے سات ریاستوں کے TVA سسٹم کی طرح بطور ایک اکائی ہی اسے چلایا جانا بھی چاہیے۔

اس وقت کے عالمی بینک کے صدر یوجین آر لیک نے ڈیوڈ کے تحریر کردہ آرٹیکلز پڑھے اور ان سے رابطہ کر کے پوچھا کہ بھارت اور پاکستان کے لیے کیا ان کی تجاویز قابل قبول ہو سکتی ہیں۔ ڈیوڈ سے مشاورت کے بعدصدر عالمی بینک نے دونوں ممالک کے وزرا کے نام خطوط لکھے اور دریائے سندھ کے پانی کے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی غرض سے اپنے دفتر کی خدمات پیش کر دیں۔ اور یہ مذاکرات مئی 1952 میں عالمی بینک کی نگرانی میں شروع ہوئے۔ یہ مذاکرات وقفے وقفے کے ساتھ طویل نو برسوں تک جاری رہے لیکن پاکستان کی سیاسی جماعتیں اڑی رہیں کہ ہم اپنے تین دریا کسی قیمت پر بھارت کے حوالے نہیں کریں گے۔1957 میں پاکستان نے مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا فیصلے کیا ،اسے یقین تھا کہ اسے انصاف مل جائے گا لیکن اس کے فورا بعد ایوب خان تشریف لے آئے اور آتے ہی مذاکرات میں مصروف پاکستانی وفد کو حکم دیا کہ وہ بینک کی تجاویز غیر مشروط طور پر مان لیں۔اختلاف رکھنے والے وفد کو مذاکرات سے نکال دیا اور تین دریا یعنی 30 ملین ایکڑ فٹ قدرت کا عظیم تحفہ بالآخربھارت کے حوالے کر دیا گیا۔بھارتی صحافی کلدیپ نائر کی گواہی موجود ہے ”1951میں جب پاکستان سلامتی کونسل میں جا رہا تھا تو امریکی رضامندی سے معاملہ ورلڈ بینک کو منتقل کر دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) کے پانی پر پاکستان کو حقدار ٹھہرایا اور دیگر تین مشرقی دریا (راوی ، ستلج اور بیاس) بھارت کے حوالے کر دیے۔یہ معاہدہ جسے انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدہ) کا نام دیا گیا اس پر 19 ستمبر 1960 کو بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو، اس وقت کے پاکستانی حکومت کے سربراہ صدر ایوب خان اور اس وقت کے صدر عالمی بینک نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد 365,000 مربع میل کے علاقے کو سندھ طاس میں واقع دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کرنا اور دونوں ممالک کو اپنی اپنی سرحدوں کے اندر پانی کو قدرتی وسیلے کو محفوظ کرنا اور اس کا انتظام کرنا تھا۔ یہ معاہدہ یکم اپریل 1960 سے موثر ہوا۔ اس معاہدے کے شق میں یہ واضح ہے کہ مشرقی دریاؤں کے تمام تر پانی پربھارت اور مغربی دریاؤں کے پانی پر مکمل طور پر پاکستان کا حق ہوگا۔پاکستان میں داخل ہونے والے تمام دریاؤں کے پانی پر اور ان ذیلی دریاؤں کے پانی پر، جو اپنی قدرتی گزرگاہ سے ہوتے ہوئے مرکزی ستلج اور مرکزی راوی میں ضم ہو جاتے ہیں، پاکستان میں داخل ہونے کے بعد پاکستان کا حق ہو گا اور بھارت کسی بھی طرح ان کا بہاؤں روکنے کا مجاز نہیں ہے۔



لیکن ساٹھ سالہ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے کبھی کسی معاہدے کی پابندی نہیں کی اور اب حالیہ آبی حارحیت دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ اس کے لیے سندھ طاس معاہدہ کاغذ کے کسی بےکار پرزے سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور یہ سمجھنا بھی انتہائی خوش گمانی بلکہ بے وقوفی ہوگا کہ وہ ہماری بات چیت سے قائل ہوکر اپنے کروڑوں ڈالر کے منصوبوں سے دست بردار ہوجائے گا۔بھارت نے ان تین دریاؤں کے پانی کو استعمال کر کے انپے صحرا راجھستان کو گلزار بنا دیا ہے لیکن ہم ایسا نہ کرسکے جب بھی کسی ڈیم کی تعمیر کی بات ہوتی ہے تو سیاسی اور جاگیردارانے نظام کے محافظ وہ ہنگامہ مچادیتے ہیں کہ پورے ملک میں افراتفری پھیل جاتی ہے۔ ہماری اس نالائقی کو دیکھتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم واجپائی نے 2001 میں اپنے ایک انٹرویو میں اس خواہش کا اظار کیا تھا کہ  بھارت پیاس سے مر رہا ہے اور پانی کا ایک ایک قطرہ اس کی ضرورت ہے جبکہ ہمارا پڑوسی ملک پاکستان 35 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع کر رہا ہے تاکہ مچھلیاں بچائی جاسکیں۔ 2003 میں اسلام آباد میں ایک کانفرنس ہوئی تھی جس کا موضوع  واٹر اینڈ سیکیورٹی ان ساؤتھ ایشیا  تھا لیکن اگر آپ ریکارڈ اٹھاکر دیکھیں تو موضوع صرف اور صرف دریائے سندھ ،جہلم اورچناب تک محدود رہا۔ کانفرنس میں بھارتی وفد نے ہماری اسی نالائقی کو زیر بحث لاتے ہوئے ایک تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان اب تک اپنے حصے کا پانی استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے لہذا اس پانی کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کی غرض سے سندھ طاس معاہدہ نمبر 2 کیا جائے۔پاکستان کی جانب اس تجویز کی جتنی سخت مخالفت ہونی چاہیے تھی وہ بھی نہ ہوئی اور مشرف حکومت نے اگرچہ یہ معاہدہ نہ کیا البتہ جس طرح بھارت کے جارحانہ اقدام کے جواب میں خاموشی اختیار کی یہ خود قومی سطح کا جرم ہے۔ایک آمر نے معاہدے کے تحت تین دریا بیچ ڈالے تو یقینا دوسرے آمر کا اتنا تو حق بنتا تھا کہ وہ بغیر معاہدے کے تین دریا بخش دے۔

پچھلی حکومت بگلیہار ڈیم کی تعمیر کو چیلینج کرنے کے بجائے اس کی تعمیر پر اعتراض کرکے ایک فاش غلطی کرچکی ہے بلکہ اسے غلطی نہیں غداری کہنا زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ اس طرح اس نے بگلیہار ڈیم کی تعمیر کو تسلیم کرلیا تھا اور یہ غلط ہے کیونکہ دریائے چناب پر کسی ڈیم کی تعمیر کا بھارت کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔بلا شبہہ پاکستان اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔شمالی علاقوںمیں رچایا جانے والا آگ اور خون کا کھیل ہمارے چاروں صوبوں کے گلی محلوں اور سڑکوںتک آپہنچا ہے۔ جمہوریت کے ایک سال بعد بڑے دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کے ساتھ ساتھ قوم کے وہ خواب بھی جل کر راکھ ہوگئے جو سولہ کروڑ آنکھوں نے جمہوریت کی آمد پر امن ،انصاف ،استحکام اورتعمیر نو کے لیے بنے تھے۔ 2001 ءمیں نائن الیون کے بعد جو غلطیوں کے بیج ہم نے بوئے تھے وہ ان سات سالوں میں بارآور ہوئے اور ایسے ہوئے کہ آج یہ فصل خود کش حملوںکی صورت وطن کا بچہ بچہ کاٹ رہا ہے۔ ایسی صورت میں ہم یقینا کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے لیکن کیا ہم اپنے حق کے لیے آواز بھی بلند نہیں کر سکتے ؟ دوستی ،مفاہمت اور مصالحت کی پالیسی یقینا بہتر ہے لیکن کس قیمت پر ؟کیا ملک و قوم کی قیمت پر ؟ اپنے مستقبل کی قیمت پر؟ اور کیا یک طرفہ ایسی کسی پالیسی سے ہمارا بھلا ہوسکتا ہے جسے دوسرا فریق اپنی ٹھوکر پر رکھے اور اسے ہماری کمزوری سمجھے۔نہیں، اپنی بقا کے لیے ہمیں اس حوالے سے ایک واضح پالیسی بنانی ہوگی ، اس مسئلے کو ہر بین الاقوامی فورم پر اٹھانا ہوگا، عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی اس کھلی آبی حارحیت کو چیلینج کرنا ہوگا۔ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے اس کے آگے اس مسئلے کو اٹھانا ہوگا اور اسے اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور کرنا ہوگا ۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی صفوں میں موجود بھارتی مفادات کے لیے سرگرم ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔سندھ طاس واٹر کونسل کے چیئر مین ظہور الحسن ڈائر کے ایک اخباری انٹرویو کے مطابق پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بھارت کے مفادات کے لیے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ محکمہ آب پاشی کے دو اعلی افسران ایسے بھی ہیں جو دن رات اس کوشش میں مصروف ہیں کہ چناب کا معاملہ قومی سطح پر نہ اٹھایا جائے اور وہ اس مقصد کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔حکومت چاہے تو ظہور صاحب کی ان معلومات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

اور وہ تمام لوگ جنہیں کالا باغ ڈیم پر تحفظات ہیں کیا بھارت کی آبی جارحیت ان کے لیے قابل قبول ہے؟ کالا باغ ڈیم کو نہ قبول کرنے والوں کے لیے کیا کارگل ڈیم قابل قبول ہے؟ خصوصا ہمارے سندھی بھائی ، کیا اس سے سندھ کو نقصان نہیں ہوگا ؟ ہزاروں ایکڑ پر مشتمل انڈس ڈیلٹا جو ویسے ہی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے کیا اس سے وہ یہ جنگ ہار نہیں جائے گا؟ ہزاروں ماہی گیر بے سروساماں بھٹکنے پر مجبور نہیں ہوں گے؟ ساحلی حیات برباد ہوجائے گی اور پاکستان سمندری حیات سے جو کثیر زرمبادلہ حاصل کرتا ہے اس سے محروم ہوجائے گا۔لاکھوں ماہی گیر برباد ہوجائیں گے۔ کیا یہ ماہی گیر تنظیموں کا مسئلہ نہیں ہے ؟ کیا یہ انسان کے بنیادی حقوق کی پامالی نہیں ہے اور اگر ہے تو اس کے لیے آواز بلند کرنے والی ملکی اور غیر ملکی تنظیمیں کہاں ہیں؟ میڈیا کیوں خاموش ہے ؟ ہمارے مقبول ترین ٹاک شوز کے میزبانوں کے لیے اس موضوع میں کوئی کشش نہیں ہے؟ ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی تنظیمیں اور جنگلی حیات کے محافظ کہاں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں؟ جاگیے۔۔۔ خدا کے لیے جاگ جائیے !

یاد رکھیے کہ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے صرف8 سال ہیں ۔بھارت 2016   میں اپنا  انٹرلنک ریور پروگرام  مکمل کرلے گا جو اس نے گذشتہ حکومت کی خاموش حمایت سے شروع کیا تھا ۔اس منصوبے کے تحت بھارت اپنے 21 دریاؤں کو باہم رابطہ نہروں سے مکمل کرے گا ۔ 33ڈیم بنائے گا اور10ہزار کلو میٹر طویل نہریں کھودے گا اور 33ڈیم بنائے گا۔ اس منصوبے سے اس کی 360ملین ایکڑ زمین آباد ہوگی اور30 ہزار میگا واٹ بجلی دستیاب ہوگی۔  وہ تو سر سبز و گل گلزار ہوجائے گا لیکن ہمارے ملک میں ریت اڑنے لگے گی ۔اس منصوبے کو بنگلہ دیش نے بھی اپنے لیے ڈیتھ ٹریپ فار بنگہ دیش قرار دیا ہے کیونکہ دریائے گنگا اور برہم پترا کے پانی سے بھی بھارت اسی طرح استفادہ کرے گا۔ ہم بنگہ دیش سے مل کر کوئی راہ نکال سکتے ہیں اور بین الاقوامی فورموں پر احتجاج کرسکتے ہیں۔

 اکیس ویں صدی کے اس گلوبل ولیج میں جنگ کے علاوہ بھی بہت سے راستے ہمارے لیے کھلے ہیں۔اور اگر ہم نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو پھر ہم اپنی آنی والی نسلوں کے لیے قحط اور افلاس کے سوا کچھ نہیں چھوڑیں گے۔پاکستان کی نصف آبادی انتہائی غذائی قلت سے دوچار ہے اورآٹے کا بحران ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے ۔آج یہ مسئلہ جنگ کیے بغیر حل ہو سکتا ہے ، بہت سے دوسرے راستے ہمارے لیے کھلے ہیں لیکن اگر ہم نے دیر کردی تو پھر ہر راستہ بند ہوتا چلا جائے گا سوائے   ۔ ۔ ۔ ۔

Monday, December 15, 2008

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

سینیٹیشن کا بین الاقوامی سال اور ہمارے حالات

نچلی سطح سے پھوٹتی انقلاب کی کرنیں، رضاکار اس تحریک کا ہراول دستہ ہیں

اب ہماری زندگی بدل گئی ہے۔“ اس جملے نے مجھے چونکا دیا ، میں نے غور سے اسے دیکھا۔اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور چہرہ شدت جذبات سے تمتمارہا تھا۔عمر کوٹ کے علاقے ساماروکے ایک چھوٹے سے گاؤں ”ہیمارام“ سے آنے والی راج بائی دیہاتی زندگی کی جھجک اور زبان کی مجبوری کے باوجود ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بولتی رہی۔ جذبات اس کی آنکھوں اور چہرے سے عیاں تھے۔کیا واقعی؟ میرے اس مشکوک رد عمل پر غور کیے بغیر اس نے اپنی بات جاری رکھی کہ ’کس طرح اس کے گاؤں میں کچھ عرصہ پہلے تک گندگی بکھری ہوئی تھی ۔ جانوروں کی غلاظت کے ساتھ ساتھ انسانی فضلہ بھی چاروں جانب بکھرا رہتا۔  اس فضلے پر بیٹھنے والی مچھر مکھیاں کھانے پینے کی چیزوں پر بیٹھ جاتیں اور یوں انتہائی خطرناک جراثیم گاؤں والوں کے پیٹ میں پہنچ جاتے۔راج بائی کے بچے اکثر بیمار رہتے۔ اس کا گھر والا اگرچہ کام کرتا تھالیکن سارے پیسے بیماریوں پر لگ جاتے‘ ۔

اور اب کیا ہوتا ہے؟’اب ایسا نہیں ہوتا ہے۔‘ راج بائی نے فخریہ بتایا’ اب ہم لوگوں نے اپنے گھروں میں لیٹرین بنا لیے ہیں۔ میں نے اپنے گھر کا لیٹرین خود تعمیر کیا کیونکہ میرا گھر والا تو کام پر جاتا تھا ، اس کے پاس ٹیم نہیں تھا ۔میں نے گاؤں کی سب عورتوں کو سمجھایا ، ساری گاؤں کی عورتوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گھروں کے لیٹرین خود تعمیر کیے ۔ یہ دیکھیں ہمارے ہاتھوں کے زخم !‘ راج بائی نے اپنے بازو میرے سامنے کردیے۔’پہلے ہم کھلے میں رفع حاجت کے لیے جاتے تھے مگر اب گھروں میں لیٹرین کی تعمیر سے صحت و صفائی میں بھی بہتری ہوئی ہے اور پردے کی طرف سے بھی بے فکری ہوگئی۔اب ہماری زندگی بدل گئی ہے۔ اب ہمارے گاؤں کے 500 لوگ بہت اچھی زندگی گذار رہے ہیں ۔



اقوام متحدہ کے زیر اہتمام 2008 کو”سال برائے سینیٹیشن International Year of Sanitation“ کے طور پر منایا گیا۔  پاکستان میں بھی اس حوالے سے مختلف سرگرمیاں جاری ہیں۔ اور دیگر شعبوں کی طرح یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اس شعبے میں بھی بہت پیچھے ہیں۔پانچ کروڑ افراد کو سینیٹیشن کی سہولت میسر نہیں ہے یعنی ان کے گھروں میں لیٹرین موجود نہیں ہیں۔ یہ افراد ابھی تک رفع حاجت کے لیے گاؤں کے کھلے علاقوں مثلا جنگلوں یا کھیتوں وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ خواتین اور بچے بھی اسی چلن کے عادی ہیں۔ بچے تو دور جانے کا بھی اہتمام نہیں کرتے بلکہ گھروں کے سامنے اور گلیوں میں ہی رفع حاجت کرتے ہیں ۔کھلی جگہوں پر رفع حاجت کا سبب لوگوں کی کم علمی اور صحت و صفائی کی بنیادی باتوں سے عدم آگاہی کے ساتھ ساتھ ان کی غربت اور روایتوں پر سختی سے عمل درآمد ہے۔پاکستان میں سات کروڑ سے زائد افراد ایسے ہیں جنہیں صحت اور صفائی کے حوالے سے بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔دنیا بھر میں پانچ ہزار اورپاکستان میں ہر روز پانچ سال سے کم عمرگیارہ سو بچے سینیٹیشن کے ناقص انتظامات ، حفظان صحت کی خرابیوں ، دستوں اور آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔پاکستان کو دستوں کی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے ہر سال 55 ارب سے لے کر 84ارب تک سرمایہ خرچ کرنا پڑتا ہے جو اس غریب ملک کی معیشت پر اضافی بوجھ ہے۔آلودہ ماحول اور آلودہ پانی بچوں میں پیٹ اور جگر کی بیماریوں کا بڑا سبب ہے۔ انسانی فضلے کے مضر اثرات سے انسانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے اسے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے۔

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام 2008 کو”سال برائے سینیٹیشن International Year of Sanitation“ کے طور پر منایا گیا ہے۔اسی سال سینیٹیشن کے موضوع پر جنوبی ایشیاکی تیسری سب سے بڑی کانفرنسSouth Asian Conference on Sanitation(SACOSAN) نئی دہلی انڈیا میں منعقد ہوئی۔اس کانفرنس میں تمام سارک ممالک بشمول افغانستان موجود تھے۔ یہ کانفرنس ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہے۔2006 میں یہ اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی۔ نئی دہلی میں ہونے والی اس کانفرنس کا افتتاح انڈیا کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کیا تھا اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ماحول حمید اللہ جان آفریدی بھی موجود تھے جنہوں نے سینیٹیش کے حوالے سے حکومت کے اقدامات اور اس کا نقطہ ءنظر پیش کیا۔

اگرچہ پچھلی کانفرنس سے لے کر اب تک ان دوسالوں میں بہت کام ہوا ہے اور ہر ملک نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے پھر بھی ان دوسالوں میں جنوبی ایشیا میں دس لاکھ بچے صحت و صفائی کی ناقص صورت حال کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہم سے مزید سنجیدگی اور اخلاص کا تقاضا کرتے ہیں۔

حکومت پاکستان نے پالیسی سازی کے حوالے سے بہت سے اقدامات کیے ہیں جن کا تذکرہ ہم آگے کریں گے ویسے بھی کسی پالیسی سے ہمیں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی ہے ۔ پالیسی بنانا اور اس پر عمل درآمد حکومت کا کام ہے سو حکومت جانے اور اس کا کام جانے، لیکن ”رویے بدلنا“ چونکادینے والا کام ہے اور اس سے ہمیں سو فیصد دلچسپی ہے ۔ کسی بھی فرد کا رویہ کیسے بدلا جائے گا؟ کیونکہ رویے بدلنا آسان نہیں ہوتا ہے ۔رویے صدیوں سے جاری رسوم وروایات ، مذہب، معاشی حالات ، جغرافیائی صورت حال اور ارد گرد کے ماحول کے زیر اہتمام تشکیل پاتے ہیں۔یہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ صدیوں کا ارتقائی عمل ہوتا ہے۔ رویے کسی بھی مخصوص ورثے اور ثقافت سے جڑے ہوتے ہیں انہیں تبدیل کرنے کا مطلب تو اکثر ایک کھلا فساد ہوتا ہے۔ لیکن کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا ہے سو یہ کام بھی ممکن ہے اور اس کا ثبوت وہ بہت سے پر عزم چہرے تھے جو اپنی کہانیاں سنارہے تھے۔ورلڈ بینک کے واٹر اینڈ سینیٹیشن پروگرام کے زیر اہتمام اسلام آباد میںمنعقد ورکشاپ کے شرکا تفصیلات بتا رہے تھے۔یہ تمام لوگ کسی پیسے کے لالچ کے بغیر ،کسی معاوضے کے بنا اپنے گاؤں کے لوگوں کی تقدیر بدلنے کا عزم کیے ہوئے تھے اور اس میں کامیاب بھی تھے۔یہ چھوٹے چھوٹے گاؤں کے ٹیچر تھے، دکان دار تھے،ناظم تھے یا کچھ بھی نہ تھے بس پر عزم جذبوں اور اخلاص سے پرایک دل کے مالک تھے۔انہیں مختلف تنظیموں کے ذریعے جب لیٹرین کی تعمیر اور افادیت اور انسانی فضلے کے مضر اثرات کا پتا چلا تو نہ صرف انہوں نے خود اس پر عمل کیا بلکہ پورے گاؤں والوں کی سوچ بدل کر رکھ دی ۔(یاد رہے کہ تقریبا پاکستان پانچ کروڑ افرادکو لیٹرین کی باقاعدہ سہولت میسر نہیں ہے) ابتدا میں اگرچہ انہیں بہت سخت مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر یہ نا ممکن ممکن ہو کر رہا۔گاؤں کے ان سادہ لوگوں کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں لیکن دلوں کو چھو جانے والی کہانیاں سنتے ہوئے ایک اور خوشگوار احساس ہوا کہ دھیرے دھیرے ہی سہی لیکن بہت نچلی سطح سے ایک انقلاب کی کونپل پھوٹ رہی ہے اور دوسری خوشی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر کامیاب تجربات کے پیچھے عورت ہی کھڑی نظر آرہی ہے۔پردے سے خود کو ڈھانپے ، کسی حساب کتاب اور بہی کھاتوں میں نظر نہ آنے کے باوجود یہ عورت اتنی طاقت ور ہے کہ سب کچھ بدل کر رکھ دیتی ہے۔زلزلے سے متاثرہ ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹ سریاں کی پرعزم شمیم نے بھی یہی بات دہرائی”زندگی کا مزہ ہمیں اب آرہا ہے“ یہ اب ساری گاؤں کی عورتیں کہتی ہیں۔ پہلی بار جب میں انہیں گھر میں لیٹرین بنانے کے حوالے سے قائل کر رہی تھی تو سب عورتیں میرے خلاف تھیں اور کوئی بات سننے کے لیے تیار نہ تھیں۔ پھر ہم نے اپنے اسکول کی بچیوں کو قائل کیا ۔ اسکول میں انہیں لیٹرین کی سہولت موجود تھی لہذا وہ اس کی افادیت جانتی تھیں ۔ ہم نے انہیں یاد دلایا کہ ” صفائی نصف ایمان ہے“ اور شرم و حیا عورت کا زیور ہے۔ باقی کام ان بچیوں کا ہے۔ ان بچیوں نے گھر والوں کو قائل کیا اور چراغ سے چراغ جلتا رہا۔ وہی عورت کی طاقت!

یہی بات ایبٹ آباد کے درئی ایمان دہرا رہے تھے۔  وہ ریٹائرڈ میجر ہیں انہوں نے رضاکارانہ طور پر یہ کام شروع کیا مگر لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا ، ایک موقع ایسا بھی آیا کہ وہ دل برداشتہ ہوگئے مگر ایسے میں ان کی بیٹی نے ان کی ہمت بڑھائی، وہ ہیلتھ ورکر تھی اس نے اپنی ساتھی کارکنوں کی مدد سے کام شروع کیا اورپہلے خواتین قائل ہوئیں پھر انہوں نے خود اپنے مردوں کو قائل کیا۔ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی دراصل ان کی سوچ میں تبدیلی ہے‘۔ ہری پور کے شبیر احمد کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگوں کو قائل کرنے میں ان پر تھوڑا بہت نفسیاتی اثر بھی ڈالتے ہیں۔ اس کے لیے ایک طریقہ (Shock and Shame) اختیار کرتے ہیں، ہم ان کے گاؤں میں چہل قدمی کرتے ہیں اور جہاں غلاظت پڑی نظر آتی ہے انہیں اس پر شرمندہ کرتے ہیں۔ مہمانوں کے سامنے اس گندگی پر وہ بڑے شرم سار ہوتے ہیں۔پھر ہم ایک قدم اور آگے بڑھ کر انہیں بتاتے ہیں کہ یہ گندگی واپس تمھارے کھانے پینے میں شامل ہورہی ہے۔مکھیاں اور مچھر ان پر بیٹھ کر پھر کھانے پینے کی اشیا کو بھی آلودہ کر دیتے ہیں۔اسی سے تمہارے بچے بیمار ہیں۔ ہم انہیں اندازا تخمینہ لگا کر بتاتے ہیں کہ وہ بچوں کی بیماری پر کتنا خرچ کر رہے ہیں جبکہ اس سے کہیں کم پیسوں سے اور بعض جگہوں پر تومفت میں لیٹرین بنایا جا سکتا ہے۔ پہلے کچھ لوگ قائل ہوتے ہیں پھر دھیرے دھیرے پورا گاؤں قائل ہوجاتا ہے۔ایسے گاؤں جو کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہوجاتا ہے اسے او ڈی ایف گاؤں کہتے ہیں یعنی

Open Defecation Free ۔اور وہ لوگ جو بلا معاوضہ رضاکارانہ طور پر یہ کام کرتے ہیں انہیں نیچرل لیڈر یا رضاکار (Barefoot ) کہا جاتا ہے۔اور یہ سارا عمل سی ایل ٹی ایس Community Led Total Sanitation کہلاتا ہے۔ سندھ میں اب تک مختلف تنظیموں کے زیر اہتمام 203 رضاکاروں کو تربیت دی گئی اور 720 گاؤں کے لوگوں نے کسی مدد کے بغیر اپنے گھروں میں لیٹرین تعمیر کیے اور یوں 504,000 افراد صفائی کے اس عمل میں شامل ہوگئے ۔ پنجاب میں 98 رضاکاروں نے تربیت حاصل کی اور 70 گاؤں کے 28,000 لوگ مستفید ہوئے۔ بلوچستان میں 39 رضاکاروں نے تربیت پائی اور 19گاؤں کے 10,640لوگوں نے فیض حاصل کیا۔ سرحد میں 124رضاکاروں نے تربیت حاصل کی اور 412 گاؤں کے 40,1700 افراد مستفید ہوئے ۔ اب تک تقریبا 1496 گاؤں صاف ہوئے اور 1.12ملین آبادی مستفید ہوئی۔اگرچہ یہ سارا عمل بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور کامیابیوں کی شرح بھی بہت تیز ہے مگر اسے اور تیز ہونا چاہیے کیونکہ ابھی تک 24 اضلاع میں صرف 500 رضاکار کام کررہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہماری تقریباپانچ کروڑافراد کو سینیٹیشن کی سہولت کی ضرورت ہے گویا کروڑوںافرادکے لیے صرف پانچ سو لوگ؟

پاکستان میں سینیٹیشن کے اقدامات کو اگر سرکاری سطح پر دیکھا جائے تو صورت حال کافی امید افزا نظر آتی ہے۔2002 میں جوہانسبرگ میں ہونے والی کانفرنس برائے پائیدار ترقی (WSSD)میں طے کیے گئے اہداف جنہیں ملینیئم ڈیولپمنٹ گول (MDG) کہا جاتا ہے ان کے مطابق 2015 تک ہر ملک کو اپنی آدھی سے زیادہ آبادی کے لیے صاف پانی اور سیوریج کی بہتر سہولت فراہم کرنا ضروری ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا کی 18%آبادی یعنی 1.2بلین لوگ لیٹرین کے استعمال کے بجائے کھلے علاقوں میں رفع حاجت کرتے ہیں۔

 اس حوالے سے حکومت پاکستان نے وفاقی اور صوبائی سطح پر سینیٹیشن کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے پالیسی سازی کے بہت سے اقدامات کیے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

پہلی نیشنل سینیٹیشن پالیسی اکتوبر2006 میں منظور کی گئی۔سندھ کی سینیٹیشن اور سولڈ ویسٹ پالیسی نومبر2007 میں منظور ہوئی، اس پر مزید کام جاری ہے۔پنجاب حکومت کا اربن واٹر سپلائی پروگرام اور سینیٹیشن پالیسی ”صاف ستھرا پنجاب“ تیار ہے اور نئی حکومت کے جائزے کی منتظر ہے۔بلوچستان حکومت نے سینیٹیشن اسٹریٹیجی اپریل 2008 میں منظور کی اور اب اس کا پی سی ون بھی تیار ہوچکا ہے۔ سرحد میں پالیسی کا آخری ڈرافٹ تجزیے کے مراحل سے گذر رہا ہے ۔آزاد کشمیر اور فاٹا میں بھی کام جاری ہے۔سینیٹیشن کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے چاروں صوبوں میں CLTS کے تحت کام جاری ہے ۔یہ تمام گروپ وزارت ماحولیات کے زیر نگراںکام کررہے ہیں۔2008 کے سال کو سینیٹیشن کے سال کے طور پر منانا بھی ان ہی اقدامات کا حصہ ہے اور15اکتوبر کو عالمی سطح پر منایا جانے والا ”ہاتھ دھونے کا دن“ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

حکومت کی یہ تمام پالیسیاں اور اقدامات اپنی جگہ بہترین ہیں لیکن یہ ہم اور آپ سب جانتے ہیں کہ ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا اگر ان منصوبوں کے عمل درآمد میں مقامی آبادی شامل نہ ہو۔پاکستان نے اکیس ویں صدی میں جن مسائل کے ساتھ قدم رکھا ہے ان میں سب سے اہم مسئلہ غربت اور ناخواندگی ہے۔پاکستان کی آدھی آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے اورغربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ ماحولیاتی بگاڑ اور غربت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ماحول اور مقامی آبادی کے مسائل کو نظر میں رکھے بغیر کوئی ترقی پائیدار نہ ہوگی اور نہ ہی قدرتی وسائل کی خاطر خواہ حفاظت ہوسکے گی۔ مقامی افراد کی شراکت بہت جلد کسی بھی منصوبے کا دائرہ کار بڑھا دیتی ہے اور اگر ان منصوبوں میں خواتین کا کردارمرکزیت کا حامل ہو تو پھر سمجھ لیں کہ یہ ترقی پائیدار بھی ہوگی۔ CLTS کے رضاکار بھی یہی دہرا رہے تھے۔ہمیں ماننا ہوگا کہ تبدیلی آرہی ہے اور ذہنوں کے بدلتے ہی سچائی کسی صبح صادق کی طرح چمک اٹھے گی۔ہمیں ماننا ہوگا کہ ہمارے ماحول ،صحت و صفائی اورقدرتی وسائل کی بہترین منتظم اور محافظ عورت ہی ہے ۔یہ وسائل ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہیں اوربھلا ایک” ماں“ سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ آنے والی نسلوں کا خیال کس طرح رکھنا ہے۔سینیٹیشن کی صورت حال بہتر بنانے کے عمل میں بھی ہمیں عورت کے کردار کو بڑھانا ہوگا۔ شعور اور آگہی بانٹنے کے اس عمل میں ہر ماں ، ہر بیوی اور ہر بیٹی کو شامل کرنا ہوگا۔ہر طبقہ ءفکر کو آگے آنا ہوگا۔ اگر مٹھی بھر رضاکار جنہیں Barefoot بھی کہا جاتا ہے ہزار سے زائد گاؤں کا نقشہ بدل سکتے ہیں تو چند ہزار افراد ملک کا نقشہ بھی بدل سکتے ہیں۔ Barefoot کا لفظی ترجمہ ” ننگے پاؤں“ ہے اور یہ بہت برمحل ہے کہ یہ پر عزم رضاکار مشکلات کی چلچلاتی دھوپ میں بہت کم وسائل کے ساتھ ننگے پاؤں ہی تو چل رہے ہیں۔ یہ خوبصورت اصطلاح ہمیں حبیب جالب کی یاد دلارہی ہے۔

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

اگر ہم نے ان رضاکاروں کا ساتھ نہ دیا اور یہ رضاکار تبدیلی نہ لاسکے تو یقین جانیے کہ ہر بلاول مقروض اور ہر بے نظیر کے پاؤں ننگے ہی رہ جائیں گے۔

 حبیب جالب کا یہ خوبصورت شعر ننگے پاؤں چلنے والے ہر رضاکار کے نام

Wednesday, November 19, 2008

سنیعہ حسین، ماحولیاتی صحافت کی علم بردار

جن کے روشن کیے ہوئے چراغ آج بھی جگمگا رہے ہیں

دھوپ ڈھل رہی تھی اور اگست کی خوش گوار شام پریس کلب کراچی کے سبزہ زار پر اتر رہی تھی۔باہر مختلف نعروں کا شور تھا اور اندر یادوں کا ہجوم تھا جو ذہن میں امنڈ رہا تھا۔ مہمانوں میں کوئی خالی ہاتھ نہ تھا۔کچھ یادیں ، کچھ باتیں، تصورات کے البم سے بہت سی تصویریں ابھر رہیں تھیں۔ گذرے ہوئے مہ و سال نے جنہیں دھندلا ضرور دیا تھا لیکن آج کی محفل نے پھر سے سب کچھ ترو تازہ کردیا تھا۔  یہ محفل سنیعہ حسین کی یاد میں ان کے دوستوں نے سجائی تھی۔سنیعہ اب ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں،ان کی باتیں اور دلنواز کھنکتی ہوئی ہنسی ابھی گذرے ہوئے کسی پل کی طرح سب کو یاد ہے۔

سنیعہ پاکستانی صحافی خواتین کے اولین کارواں میں شامل تھیں اور یہ وہ وقت تھا کہ صحافت کے شعبے میں کم از کم خواتین کے لیے بہت آسانیاں نہ تھیں۔مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا اور اپنے کام کو منوانا کسی جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا لیکن سنیعہ نے یہ کر دکھایا۔
 سنیعہ حسین نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 80 کی دہائی میں انگریزی صحافت سے بطور ایڈیٹرکیا ۔ وہ ایک ذہین ، سمجھ دار اور متحرک شخصیت تھیں۔ ان کے زیر ادارت شائع ہونے والے اخبارکا معیار آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ان کی تحریریں فکری ارتقا کا شعور لیے ہوئے ہوتیں۔

 اس دور میں انہوں نے ملک کے سیاسی حالات و واقعات اور بلدیات و شہری ترقیات جیسے امور پر بھی شاندار شمارے شائع کیے۔ رائے عامہ کی بیداری کے ساتھ ساتھ وہ انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کی علمبردار تھیں۔

یہ وہ دور تھا جب ہمارے معاشرے اور خصوصا صحافت میں ماحول سے متعلق کسی قسم کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا تھا۔

برصغیر میں صحافت کی تاریخ اگرچہ بہت پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1780ءمیں کلکتہ سے کمپنی کے ایک برطرف ملازم جیمز آگسٹس نے انگریزی زبان میں ایک ہفت روزہ اخبار شروع کیا اور جنوبی ایشیا میں جدید صحافت کا بانی ٹھہرا۔  اس کے اخبار کے بعد ہی کلکتہ ، مدراس اور بمبئی سے متعدد اخبارات شائع ہونے لگے۔مقامی زبانوں میں اخبارات کا اجرا 1822ءمیں اس وقت شروع ہوا جب کلکتہ سے جنوبی ایشیا کا پہلا اردو اخبار جام جہاں نما شائع ہونا شروع ہوا۔

1780 ءسے لے کر آج تک اخبارات نے ایک طویل سفر کیا ہے اور تاریخ کے مختلف ادوار میں اپنے قارئین کی رہنمائی کی ہے۔1857ءکی جدوجہد ہو، تعلیمی مسائل ہوں یا آئینی پیچیدگیاں، امن و امان کا مسئلہ ہو یا فرقہ ورانہ چپقلش اخبارات نے ہمیشہ اپنے وقت کے اہم مسائل کو اہمیت دی ہے۔ برطانوی تسلط سے آزادی کی تحریک اور اس جدوجہد کے دوران مختلف قوموں کے نقطہ ءنظر کو عوام تک پہنچانے اور عوام کی سوچ اور ان کے رویوں کو ظاہر کرنے میں اخبارات نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

برصغیر میں اخبارات کی ابتدا چونکہ ایک غیر ملکی سامراجی حکومت کے دور میں ہوئی تھی اس لیے صحافت میں سب سے زیادہ اہمیت آزادی کی تحریک اور عوام کا سیاسی شعور بلند کرنے کو دی جاتی رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کے اخبارات ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصے تک اس جدوجہد میں مصروف رہے اس لیے صحافیوں اور صحافت کو سیاسی تحریروں کی عادت ہوگئی ہے ۔

موجودہ دور میں بھی اخبارات اسی روایت پر عمل پیرا ہیں۔ سیاست کی قلابازیوں اور بازی گری میں پھنس کر بہت سی سماجی اور ترقیاتی مسائل خصوصا ماحولیاتی مسائل نظروں سے اوجھل ہو کر رہ جاتے ہیں۔آج تو پھر بھی منظر نامہ بہت بہتر ہے لیکن ہم بات کررہے ہیں 80ءکی دہائی کی جب یہ تذکرہ ہمارے لیے زیادہ مانوس نہ تھا۔اسی نا مہرباں دور میں سنیعہ نے ماحول کے حوالے سے کام شروع کیا۔

ماحولیاتی صحافت کا آغاز سنیعہ نے ہی کیا لیکن شاید اخبارات کی تنگ دامانی نے انہیں بہت جلد شعبہ بدلنے پر مجبور کردیا اور انہوں نے اپنی افتاد طبع کے عین مطابق تحفظ ماحول کے حوالے سے کام کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این سے وابستگی اختیار کرلی۔
 اب سنیعہ کے سامنے ایک کھلا آسمان تھا اور وہ اپنی من پسند اڑان بھر سکتی تھیں۔سنیعہ نے سب سے پہلے آئی یو سی این کے کنٹری آفس کراچی میں صحافیوں کے لیے ایک جرنلسٹ ریسورس سینٹر قائم کیا ۔ اس ادارے کا مقصد صحافیوں کو ماحولیاتی امور سے متعلق اعدادو شمار اور معلومات کی فراہمی کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی ماحولیاتی مسائل سے آگاہی اور حل کے حوالے سے تربیت فراہم کرنا بھی تھا تاکہ وہ ملک میں ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے رائے عامہ کی بیداری میں اہم کردار ادا کرسکیں۔ شاید وہ جانتی تھیں کہ تحفظ ماحول کے حوالے سے صحافی ہی ہر اول دستہ ثابت ہوں گے۔

 80ءکی دہائی کے آخر میں حکومت پاکستان نے بقائے ماحول سے متعلق’قومی حکمت عملی National  Conservation Strategy  کی تیاری شروع کی سنیعہ نے اس میں بھی بھرپور حصہ لیا۔

 ماحول کے حوالے سے وہ صحافیوں کے کردار کو انتہائی کلیدی سمجھتی تھیں اور رائے عامہ کی بیداری میں صحافت کو بہترین راستہ قرار دیتی تھیں۔ اسی خیال کے تحت انہوں نے ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں کے لیے ماحولیاتی امور سے متعلق کئی تربیتی ورکشاپ بھی منعقدکروائیں۔ ان کی یہ سوچ اور فکر کتنی صحیح تھی آج اس سچائی کی گواہی میں اور مجھہ جیسے بہت سے قلم کار مسلسل ماحول پر لکھ کر دے رہے ہیں۔ آج ملک میں ماحولیاتی صحافت کی جو روایت قائم ہے یقینا اس کاسلسلہ سنیعہ حسین سے جڑتا ہے ۔

1995 تک میرا تعلق بھی ماحول سے اتنا ہی تھا کہ یہ میرے نزدیک درخت، پودوں اور پرندوں کا دوسرا نام تھا لیکن سنیعہ، عمر آفریدی ( بی بی سی کے پروڈیوسر) اور محترم عبید اللہ بیگ (کسی تعارف کے محتاج نہیں) کے زیر تربیت ہونے والی فیصل آباد کی ایک ورکشاپ نے میری سوچ و فکر کو ایک نیا عنوان عطا کیا۔دل و دماغ میں گویا نئے دریچے کھل گئے اور کام کرنے کے لیے ایک نیا جہاں مل گیا۔  یہ پانچ روزہ ورکشاپ فیصل آبادکے مضافات ’گٹ والہ‘ میں جنگلات اور جنگلی حیات کی اہمیت کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی لیکن تربیت کاروں کی بہترین صلاحیت نے ہم سب شرکا کو ماحول کے حوالے سے ایک اٹوٹ رشتے میں باندھ دیا ۔میں اس حوالے سے سنیعہ ،عمر اور بیگ صاحب کی کاوشوں کو فراموش نہیں کرسکتی۔ گمبھیراور پیچیدہ مسائل کو سادہ لفظوں میں آسان بنانا اور اس پر غور و فکر کے لیے راہ ہموار کرنا ان سب کا مشترک خاصہ تھا ۔

 سنیعہ کی متحرک اور توانائی سے بھرپور شخصیت نے ذہن پر انمٹ نقوش چھوڑے ، ان سے تعلق کا یہ سلسلہ جاری رہا اور ماحول اور اس کے مسائل پر قلم اٹھانا میرا مشن بن گیا۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔

 1998 میں سنیعہ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن چلی گئیں ، جہاں انہوں نے دو سال عالمی کمیشن برائے ڈیمز میں خدمات انجام دیں۔اس کے بعد وہ نیپال چلی گئیں ،جہاں بین الاقوامی نیوز ایجنسی پانوس کے ریجنل ہیڈ کوارٹر میں ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا کے طور پر خدمات انجام دیں

2005 ءمیں سنیعہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، وہ آج ہم میں نہیں ہیں لیکن ایسے متحرک لوگ اپنی چھوٹی سی زندگی میں ہی بہت سے چراغ جلا دیتے ہیں اور اپنے بعد آنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کردیتے ہیں۔

 سنیعہ کے اسی کام کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے گھر والوں اور دوستوں نے ان کے نام سے ایک ادارہ  سنیعہ حسین ٹرسٹ قائم کیا ہے جو ضرورت مندخواتین کی تعلیم اور صلاحیتوں کی تربیت کے لیے کام کرے گا۔

 پریس کلب کے سبزہ زار پر شام ڈھل رہی ہے ، سنیعہ کے چاہنے والے اپنی یادوں کو الفاظ کا روپ دے رہے ہیں ، سحر علیِ، ساحرہ کاظمی، مہتاب اکبر راشدی ، زبیدہ مصطفی ،سنیعہ کی والدہ ، بہنیں اور بہت سے دوست  ۔۔۔ یادوں کا طویل سلسلہ ہے، درختوں پر پرندوں کی چہچہا ہٹ بڑھ رہی ہے شاید وہ بھی اس بچھڑنے والی ماحول دوست کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔