Showing posts with label بارش. Show all posts
Showing posts with label بارش. Show all posts

Thursday, April 9, 2009

پانی کے مسائل اور ماحول کا سال

مارچ کے تیسرے ہفتے ۱۶ تا  ۲۲  مارچ میں شروع ہونے والے پانچویں ورلڈ واٹر فورم میں ۲۰،۰۰۰ افراددنیا بھر میں پانی کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لیے یکجا تھے۔  یہ فورم اس بار ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا ۔ اس فورم میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اورماحول کے حوالے سے کام کرنے والے مجھ سمیت ۴۱ صحافی بھی اس تاریخی فورم میں شامل تھے۔سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی صحافیوں کی ایک تنظیم میڈیا ۲۱ ہماری میزبان تھی۔



 اس فورم کا بنیادی خیال Bridging divides for Water تھا۔ عالمی سطح پر واٹر فورم منانے کا سلسلہ نوے کی دہائی کے آخری سالوں میں شروع ہواتھا ۔  یہ فورم ہر تیسرے سال منعقد ہوتا ہے۔پہلا ورلڈ واٹر فورم ۱۹۹۷مراکش میں دوسرا ۲۰۰۰نیدر لینڈ میں  تیسرا ۲۰۰۳ جاپان  چوتھا ۲۰۰۶ میکسیکو میں اور یہ پانچواں ترکی کے خوبصورت اور تاریخی شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا۔ اس فورم کے انعقاد کا بنیادی مقصد دنیا کو پانی کے حوالے سے درپیش چیلینجز سے آگاہی اور پانی کے مسائل کو حکومتوں اور ساست دانوں کے سرکاری اور سیاسی ایجنڈے میں سر فہرست لانا ہے۔ اس فورم کا افتتاح ترکی کے صدر عبداللہ گل نے کیا جبکہ اور بہت سے ممالک کی سرکردہ شخصیات نے بھی اس میں شرکت کی۔ خبر گرم تھی کہ پاکستان سے بھی بہت سے لوگ شرکت کر رہے ہیں لیکن معذرت کے ساتھ مجھے کہیں بھی پاکستان کی نمائندگی خصوصا سرکاری سطح پر نظر نہیں آئی۔  ایک آدھ اسٹال ہی کہیں لگادیا جاتا۔  پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود آبی تنازعات کو اجاگر کرنے کا یہ بہترین موقع تھا کیونکہ اس بین الاقوامی فورم پردنیا بھر کے واٹر ایڈووکیٹ جمع تھے۔ لیکن خیر سرکار کا کام سرکار ہی جانے!

استنبول ترکی کا دارالحکومت نہیں ہے لیکن تاریخی اہمیت کی بنا پر اسے ترکی کے دارالحکومت انقرہ پر سبقت حاصل ہے۔صدیوں پرانے اس شہر کے قدیم درو دیوارگذرتے وقت کو اپنے اندر سمیٹے تاریح سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ آپ چاہیں تو گذرے ہوئے وقت کو محسوس بھی کرسکتے ہیں اور چھو بھی سکتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔ تین ہزار چھوٹی بڑی مسجدوں کے شہر استنبول کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ میرے لیے اس شہرکی اہمیت کا حوالہ مذہبی تھا۔  مرکزی شہر سے دور گولڈن ہارن کے کنارے محترم صحابی اور میزبان رسول ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری آرام فرما ہیں۔  سلطان محمد فاتح نے یہاں ایک شان دار مقبرہ اور ایک عالی شان مسجد تعمیر کروائی ہے۔ سلطان ہی کے ہاتھ کا لگا ہوا ایک بہت بڑا اور قدیم درخت مزار کے احاطے میں موجود ہے۔  ترک عقیدت و محبت سے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کو سلطان ایوب کہتے ہیں۔  یہاںحضور اکرم ﷺ کی نعلین مبارک موجود ہے جس کے دیدار کے بعد بلاشبہ انسان خود کو خوش نصیب سمجھنے لگتا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر فاتحہ پڑھ کر اور نعلین مبارک کے دیدار کے بعد ہمارا دوسرا اہم کام توپ کاپی میوزیم کی زیارت تھی۔ توپ کاپی میوزیم دراصل ترکی کے سلطان محمد دوم کا محل تھا جس کے ایک حصے کو میوزیم کی شکل دی گئی ہے۔ شاید مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد یہ وہ محترم شہر ہے جہاں حضور اکرمﷺ اور دیگر انبیاءکی اتنی اہم اور متبرک اشیا اکھٹی موجود ہوں۔ یہاں کیا نہیں ہے کسے دیکھیں اور کسے نہ دیکھیں اور کس طرح دیکھیں کہ یہ سب آنکھوں میں بس جائے۔ حضورﷺ کا دندان مبارک، داڑھی مبارک کے بال ، نقش قدم مبارک، چار تلواریں، مہر مبارک، مدینے کی مٹی، روضہ رسول پر بچھنے والا قالین ، کعبے کے طلائی تالے ، حجر اسود کا طلائی کیس، حضرت ابراہیمِؑ کا پیالہ ، حضرت یوسف ؑ کا صافہ یا پگڑی ، حضرت موسیؑ کا عصا، حضرت عیسیؑ کی تلوار، خلفائے راشدینؓ اورزبیر بن عوام ؓکی تلواریں غرض اور بھی بہت کچھ جسے یاد رکھنا بھی بہت مشکل ہے کہ وہاں یہ سب دیکھتے ہوئے انسان کسی اوردنیا میں پہنچ جاتا ہے۔

 اسی تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل شہر استنبول کو پانچویں ورلڈ واٹر فورم کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ 

دنیا میں اس وقت پانی کے حوالے سے بہت گرما گرمی پائی جاتی ہے۔ خصوصا وہ ممالک بھی جہاں پانی کا فی الحال کوئی مسئلہ نہیں ہے بہت سرگرم ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بدلتے موسموں کی بے ترتیبی کسی بھی وقت ان کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا کرسکتی ہے۔لیکن وطن عزیز جو پانی کی کمی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے یہاں اس حوالے سے کوئی فکرمندی یا تشویش نہیں پائی جاتی ہے ۔ گویا راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

 رواں سال جسے ماحولیات کے قومی سال کا نام دیا گیا تھا دھیرے دھیرے مٹھی میں بند ریت کی طرح سرک رہا ہے۔ سال کا چوتھا مہینہ اپریل بھی اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی ایک بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جسے ہم ماحول کی بہتری کے لیے بنیادی قدم قرار دے سکیں۔  اپنے پچھلے مضمون میں ہم نے لکھا تھا کہ پاکستان پانی کے حوالے سے اپنے بیش بہا قدرتی وسائل کے باوجود انتہائی مشکلات سے دوچار ہے اور مستقبل میں یہ مشکلات اور بڑھ جائیں گی اگر ہم نے اس حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی۔ کم از کم اس سال پانی کے حوالے سے چند ضروری اور بنیادی نوعیت کے کام کر لیے جاتے تاکہ کچھ بھرم ہی رہ جاتا۔ پاکستان میں پانی کا مسئلہ بھی عجب پیچیدہ مسئلہ ہے   ہم وہ کم نصیب ہیں جو خشک سالی کے دنوں میں قحط و افلاس کے ہاتھوں جان دیتے ہیں اور اگر قسمت یاوری کرجائے اور رحمت خداوندی برس جائے تو پھر دریا ، ندی نالوں سے چھلکتا سیلاب بلائے جاں بن جاتا ہے۔ پانی کے حوالے سے ہم دسیوں بین الاقوامی معاہدوں کے شریک ہیں پاکستان میں پانی اور زراعت کی قومی پالیسیاں بھی تیار ہےں مگر بوجوہ یہ ابھی تک فائنل نہیں ہوسکی ہیں۔  اس کی کیا وجہ ہے یہ ہم نہیں جانتے لیکن کم از کم یہی کام ہم اس سال کرلیا جائے۔  پانی کی پالیسی ۲۰۰۵ میں تیار ہوئی تھی لیکن ابھی تک منظوری کے مراحل سے نہیں گذری جبکہ زراعت کی پالیسی ۱۹۹۰ کی تیار کردہ ہے۔  اب جبکہ یہ پالیساں ابھی تک روایتی دفتری مراحل سے گذر رہی ہیں لہذا اس مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتر ہے کہ ان کی منظوری سے پہلے ان میں چند اہم نکات کا اضافہ کردیا جائے۔  ہماری معلومات کے مطابق دونوں پالیسیوں میں موسمی تبدیلیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے یا اس کا صرف سرسری ذکر ہوا ہے۔  حالانکہ اب سب سے زیادہ یہی موضوع وقت کی ضرورت ہے کیونکہ موسمی تبدیلیاں سب سے زیادہ پانی کے معمولات کو ہی متاثر کررہی ہیں اور کریں گی۔  چاہے پہاڑوں میں گلیشیئر کا پگھلنا ہو  دریاؤں میں پانی کی روانی کا تسلسل ہو  صوبوں کے مابین پانی کے تنازعات ہوں یا سرحدوں سے باہر کے مسائل ہوں ان تمام مسائل کی جڑیں بنیادی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے ہی جا کر ملتی ہیں اس کے بعد پانی کا انتظام اور تقسیم وغیرہ کے مسائل سامنے آتے ہیں۔  ہمارے سامنے عالمی بینک کی ایک رپورٹ موجود ہے جس کے مطابق پاکستان کی معیشت ماحول کی تباہی کی قیمت ۳۶۵ ارب روپے سالانہ (مجموعی جی ڈی پی کا ٪۶ ادا کررہی ہے یعنی ایک ارب روپے روزانہ !  ایک کمزور معیشت کے لیے یہ نقصان کتنا خطرناک ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے کسی معیشت داں کی ضرورت نہیں ہے۔  پانی کی صفائی کے ناقص نظام، پانی کی آلودگی اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی صورت  ۱۱۲ ارب  زرعی شعبے کی بدحالی کی مد میں ۷۰ ارب  گھریلو فضائی آلودگی کا نقصان ۶۷ ارب  شہروں میں فضائی آلودگی ۶۵ ارب  جبکہ چراگاہوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی پرتقریبا  ۷  ارب روپے سالانہ ضائع ہوتے ہیں۔  اب ذرا غور کیجیے ایک ارب روپے سالانہ ہم اپنی غفلت اور بے پرواہی سے ضائع کر رہے ہیں اور دوسری جانب ہماری حکومت ہر بین الاقوامی فورم پر ہاتھ میں کشکول لیے کھڑی ہے۔  خدا جانے یہ بات ہماری سمجھ میں کب آئے گی کہ معیشت کی جھولی کا یہ سوراخ جس سے ایک ارب روپے روزانہ گر رہے ہیں اگر رفو نہیں کیا جائے گا تو چاہے کتنا ہی قرضہ لے لیا جائے جھولی ہر گز نہیں بھرے گی۔

دنیا بھر میں بدلتے موسم ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آرہے ہیں اور تمام ممالک حتی الامکاں ایسی حکمت عملیاں تیار کررہے ہیں جو ان بدلتے موسموں سے ہم آہنگ ہوں خصوصا  Climate Change adaptation in the water sector اب وقت کی ضرورت تسلیم کر لی گئی ہے۔  کلائمیٹ چینج ہمارے لیے بھی ایک چیلنج بن کر موجود ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناتے ہمارے مسائل اور گمبھیر ہیں۔ درجہ حرارت کے بڑھنے سے ہمارے پانی کے وسائل براہ راست متاثر ہورہے ہیں اور ہر دو صورت میں یعنی سیلاب ہو یا خشک سالی ہمارے لیے عظیم بحران موجود ہے مثلا درجۂ حرارت کے بڑھنے سے پاکستان کے لیے پہلا خطرہ ہمالیائی گلیشیئرز ثابت ہوں گے۔ ان گلیشیئرز سے دنیا کے کئی بڑے دریا مثلاً دریائے سندھ گنگا برہم پترا  سلوین میکا ونگ یانگ ژی اور زرد دریا   نکلتے ہیں جن کا پانی پاکستان بھارت چین اور نیپال میں زندگی کو رواں دواں رکھنے کا باعث ہے۔ گرمی کے بڑھنے سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھلیں گے اور ان دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گی جس سے کناروں پر آباد لاکھوں افراد کو سیلاب کا سامنا ہو گا۔ سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے جس قدر کثیر سرمایہ درکار ہے اس کا پاکستان جیسا غریب ملک تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔کچھ عرصے بعد جب پانی کم ہو جائے گا تو یہی ممالک خشک سالی کا عذاب سہیں گے۔ زراعت تباہی سے دوچار ہو گی، قحط پھیلے گا اور ان غریب ممالک پر افلاس کے سائے اور گہرے ہو جائیں گے۔  یہ وہ کم از کم خطرات ہیں جو کسی ناکردہ جرم کی سزا کے طور پر پاکستان کو بھی بھگتنا ہوں گے۔

پانی ہمارے لیے موت اور زندگی کا مسئلہ ہے

 پانی کے بارے میں ہمیں سنجیدگی سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی ۔  ہندوستان نے اپنے دریاؤں پر دسیوں بڑے ڈیم بنا کر نہ صرف اپنا پانی محفوظ کر لیا ہے بلکہ پاکستان کے دریاؤں کا پانی بھی دھڑلے سے چرا رہا ہے۔ لیکن پاکستان کے پاس صرف دو ڈیم ہیں اور یہ دونوں ڈیم بھی مٹی اور ریت بھر جانے کے باعث اپنی گنجائش سے بہت کم پانی ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بہت کم ہے مثلا امریکا اور آسٹیلیا کی آبی ذخیرے کی صلاحیت ۵۰۰۰  کیوبک میٹر پر کیپیٹا اور چین کی ۲۲۰۰ کیوبک میٹر پر کیپیٹا ہے جبکہ پاکستان کی یہ صلاحیت صرف  ۱۵۰ کیوبک میٹر پر کیپیٹا ہے۔  بھارت اپنے ذخیرہ کردہ پانی سے اپنے متعلقہ دریاؤں کو ۱۲۰ سے ۲۲۰ دن تک رواں رکھ سکتا ہے جبکہ پاکستان کے دریا صرف ۳۰ دن تک رواں رہ سکتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے پانی کو کہیں ذخیرہ نہیں کر سکتے پانی کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق استعمال بھی نہیں کرسکتے۔ ماہرین کے مطابق تقریبا ۸  سے ۱۰ مقامات دریائے سندھ پر ایسے ہیں جہاں پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔  چھوٹے ڈیم کم مدت اور کم لاگت میں تعمیر کیے جاسکتے ہیں اس کے لیے نہ غیر ملکی قرضوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی ماہرین کی۔  اپنے وسائل اور اپنی مہارت سے ہم باآسانی یہ کام کرسکتے ہیں۔  یہ بدلتے موسم یعنی خشک سالی اور سیلاب براہ راست صحت کو بھی متاثر کریں گے خصوصا پاکستان جیسے خشک ملک میں جہاں بارشیں کم ہوتی ہیں یہ خشک سالی قیامت مچا دے گی۔ زیر زمین پانی بھی کم ہوتا چلا جائے گا۔پانی میں آلودگی اور بڑھ جائے گی ۔آلودہ پانی سے آنتوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔گرمیوں میں وبائی بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ بے شمار سروے رپورٹ بتاتی ہیں کہ گرمیوں میں ہی متعدی امراض مثلا ملیریا اور ڈینگی کی شدت بڑھتی ہے۔ ہمارے ملک کے سرد حصے جو ان بیماریوں سے محفوظ ہیں لیکن گلوبل وارمنگ کے تحت جب ان علاقوں کا بھی درجۂ حرارت بڑھے گا تو یہاں بھی یہ بیماریاں پھیلنے لگیں گی۔ ان بیماریوں کے علاج کے ضمن میں شہریوں پرجواضافی بوجھ پڑے گا وہ پہلے سے بدحال معیشت کو اور تباہ حال کردے گا۔ حرارت کا بڑھنا شہری گنجان علاقوں کے ساتھ ساتھ جزیروں  ساحلی علاقوں  نیم صحرائی علاقوں اور پہاڑی علاقوں کو بھی یکساں طور پر متاثر کرے گا۔ پاکستان جیسا غریب اورترقی پذیر ملک جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرتے ہیں جہاں انسانوں کا خون پانی سے بھی ارزاں اور پینے کا صاف پانی جنس گراں مایہ بن چکا ہو  جہاں لمبی قطاروں میں لگ کر آٹا دال خریدنا پڑتا ہو وہاں   climate change سے پیدا ہونے والے ان مسائل پر کون توجہ دے گا اور اس سے کون نمٹے گا؟ بسا اوقات مایوسی کا شدید احساس ہر امید کو ڈسنے لگتا ہے!

پانی کے بعد زراعت ہمارا اہم ترین شعبہ ہے ۔ اگر ہم چاہیں تو اس سال اس حوالے سے بھی چند ایک اہم فیصلے کرسکتے ہیں۔ ہمارا زرعی شعبہ پانی کی کمی سے دوچار ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا ٪۹۰ پانی جوزراعت میں استعمال ہوتا ہے اس میں سے ۲۰ سے ۳۰ فیصد راستے ہی میں ضائع ہوجاتا ہے ۔ ہمیں اس ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔  پاکستان کی زرعی فصلوں پر بھی دھیان دینا ہوگا۔ کیونکہ پانی کی بچت انتہائی ضروری ہے۔ ایسی فصلیں اگانا جس میں پانی کم استعمال ہو اور وہ منافع زیادہ دیں بہت ضروری ہوگا ۔ آنے والے وقتوں میں پرانی روایتی فصلیں اگانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

 ہماری تقریبا ۶۰فی صد آبادی شہروں میں رہے گی اس لیے ضروری ہے کہ تمام ضروریات زندگی مثلا سبزیاں   پھل   جانوروں کی پرورش اور دیگر تمام سرگرمیاں شہروں کے قریب ہوں۔ اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور کاربن کا اخراج بھی کم ہو گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ میں درختوں کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ موجودہ جنگلات کے بچاؤ کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔کیونکہ موسمی تبدیلی سے سیلاب آئیں گے۔  اس کے لیے ہمیں مربوط منصوبہ بندی اور زون بنانے ہوں گے۔  یاد رہے کہ ان تمام تبدیلیوں اور خطرات کی زد میں ہمارا غریب اور مظلوم طبقہ ہی نشانہ بنے گااورزیادہ تر علاقوں سے غریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔  اس کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ورنہ اس نقل مکانی کے بہت برے اثرات رونما ہو سکتے ہیں۔ پاکستان موسمی تبدیلیوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا لیکن بروقت بہترین منصوبہ بندی سے اس کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔

ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی عوام کو بھی ذہنی طور پر ان آفات سے نمٹنے کے لیے تیار کریں۔  ہمارا میڈیا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے جو لوگوں کو آنے والے کل کے خطرات سے آگاہ بھی کرسکتا ہے اور بچاؤکے لیے راستے بھی بتا سکتا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اب سیاست اور سیاست دانوں کے دائرے سے باہر نکلے ۔  زندگی کے اور بھی بہت سے حقائق ہماری توجہ چاہتے ہیں۔  اگرچہ سرکاری سطح پر کوئی خوش آئند بات نظر نہیں آتی لیکن عدلیہ بحالی کی حالیہ تحریک کی کامیابی امید کے در وا کررہی ہے کہ اب پاکستان بدل رہا ہے۔  خدا کرے کہ اس بدلتے ہوئے پاکستان میں رہنے والوں کے دن بھی بدل جائیں! آمین۔


Thursday, September 18, 2008

ماحول اور قران کی گواہی

اہل مغرب اپنے آپ کو ماحول کے تحفظ کا علمبردار سمجھتے ہیں مگر وہ اس بات سے لا علم ہیں کہ تحفط ماحول اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔قران کریم اور احادیث نبوی ﷺ میں بار بار پاکیزگی اور صفائی کی تاکید کی گئی ہے۔حتی کہ اہل مغرب کی سوچوں سے بڑھ کر اسلام نے معاشرتی اور روحانی ماحول کے اصول بھی واضح کردیے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان اصولوں کو اپنائیں اور ان پر عمل کریں۔یہ بات بھی اکثر مشاہدے میں آئی ہے کہ علمائے کرام اپنے درس و تدریس اور خطبوں میں ماحول سے متعلق اسلامی تعلیمات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔نتیجتاً ایک طرف تو عوام الناس ماحول سے متعلق اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ رہتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے آفاقی مذہب اسلام کا پیغام بھی اہل مغرب یا دیگر غیر اسلامی ممالک تک نہیں پہنچ پاتا ہے ۔اس کمی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خدانخواستہ اسلام ماحولیاتی مسائل اور ماحول کے تحفط کی اہمیت کا احاطہ نہیں کرسکا اور یہ کہ یہ سب افکار و تعلیمات جدید سائنسی علوم کے مرہون منت ہے ۔



قران اللہ تعالی کا کلام ہے اور اس بات میں ہم مسلمانوں کو کوئی شک و شبہہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اسے آپ جوں جوں پڑھتے جاتے ہیں اس کے معنی نت نئے ڈھب سے آپ پر آشکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔قرآن کا عرصہ نزول 23 برس کے طویل عرصے پر محیط ہے۔اس طویل عرصے کے باوجود اس میں بلا کا ربط اور لسانی خوبصورتی ہے۔تمام تہذیبوں میں تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے اہم ذرائع میں ادب اور شاعری سر فہرست رہے ہیں۔دنیا کی تاریخ میں ایسے زمانے بھی گذرے ہیں جب شاعری اور ادب کو ویسا ہی اعلی مقام حاصل تھا جیسا کہ آج کے دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو حاصل ہے۔غیر مسلم ماہرین لسانیات تک کا اس پر اتفاق ہے کہ عربی ادب کا بلند پایہ نمونہ قران پاک ہی ہے ۔یعنی روئے زمین پر عربی ادب کی بہترین سے بھی بہترین مثال صرف قران پاک ہے۔نوع انسانی کو قران پاک کا چیلینج ہے کہ وہ آیات قرانی کے ہم پلہ کچھ بنا کر دکھائے ۔دیکھیے اللہ تعالی کتنے واشگاف الفاط میں کہتے ہیں کہ”اور اگر تمھیں اس امر میں شک ہو کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ،یہ ہماری ہے یا نہیں تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ،اپنے سارے ہم نواؤں کو بلالو ،ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو،اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر دکھاؤ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ،اور یقینا کر بھی نہیں سکتے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے پتھر اور انسان ۔جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لیے۔“ (سورہ 2 آیات نمبر 23 تا 24)۔یہ چیلینج قران پاک میں کئی مقامات پر دیا گیا ہے صرف ایک ایسی سورت بنانے کا جو اپنی خوبصورتی ،خوش بیانی ،معانی کی وسعت اور فکر کی گہرائی میں قران پاک کی برابری کرسکے ،اور آج تک یہ چیلنج پورا نہیں کیا جاسکا ہے۔

عربی دنیا کی وہ منفرد زبان ہے جو اپنے قواعد کے اعتبار اور تلفط اور ہجوں کے لحاط سے بھی ایک کامل و اکمل زبان ہے اور یہ اپنے ذخیرہ الفاظ کے لحاظ سے عدیم النظیر ہے۔ اس کی مشہور لغات مثلا لغت صحاح جوہری چالیس ہزار مادہ ہائے الفاظ پر مشتمل ہے جبکہ قاموس فیروز آبادی میں اسی ہزار مادے جمع ہیں اور تاج العروس سید مرتضی زبیدی کے مادہ ہائے الفاظ کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے۔مندرجہ بالا تعداد صرف مادہ ہائے الفاظ کی ہے جبکہ ان میں سے ہر ایک مادہ سے درجنوں مشتقات نکلتے ہیں ۔یعنی اگر مشتق الفاظ کو شامل کر لیا جائے تو ان کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے ۔عربی زبان میں ایک ایک چیز کے لیے درجنوں الفاظ موجود ہیں مثلا دن کے ہر گھنٹے کے لیے عربی میں جداگانہ نام ہے ،اسی طرح ہر چاندنی رات کا ایک خاص نام ہے ۔صرف پانی کے لیے 170الفاظ ،بارش کے لیے64اور ابر کے لیے 50الفاظ ہیں ۔قران کی زبان عربی دنیا کی تیسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے ۔اس سے پہلے کی قدیم زبانیں قصہ پارینہ بن چکی ہیں مثلا آریہ کی الہامی زبان سنسکرت ،یہودیوں کی مقدس زبان عبرانی ،عیسائیوں کی لاطینی زبان ،مجوسیوں کی ژندی زبان ،فراعنہ مصر کی قبطی زبان اور بابل و شام کی آشوری اور سریانی اور ہومر کی یونانی وغیرہ۔یہ شرف عربی ہی کو حاصل ہے کہ آج بھی اس آفتاب لا زوال کی تابندہ شعاعیں عالم پر محیط ہیں ۔عربی زبان زندہ ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ زندہ رہے گی۔

اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔قران اگرچہ 1400سال پہلے نازل ہوا لیکن اس کی حقانیت رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گی اور جب جب اس کا جائزہ لیا جائے گا یہ اس دور کے عین مطابق ثابت ہوگا ۔ قران متعدد تاریخی واقعات کا حوالہ دیتا ہے جو اس وقت کسی کے علم میں نہیں تھے۔لیکن وہ درست ثابت ہوئے۔ اس طرح قران کریم متعدد پیش گوئیاں بھی کرتا ہے اور یہ تمام پیش گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔اسی طرح بہت سے ایسے سائنسی حقائق کا ذکر بھی قران میں موجود ہے جو اس وقت لوگوں کے علم میں ہی نہیں تھے۔لیکن آج سائنس داں اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ہماری اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ قران کوئی سائنسی کتاب ہے لیکن اس کے باوجود اس میں کم از کم 1000ایسی مثالیں موجود ہیں جن کا براہ راست سائنس سے تعلق بنتا ہے۔ اگر ہم صرف ماحول کے حوالے سے ہی دیکھیں تو تحفظ ماحول اور ہر قدرتی وسیلے سے متعلق تفصیلی تذکرہ موجود ہے ۔ پانی ،اس کی اقسام ،پانی کے ذخائر کی تفصیل مثلا دریا ،سمندر ،جھیلیں،چشمے ،پانی کی صفائی و پاکیزگی،استعمال کے آداب وغیرہ۔ حیاتیاتی تنوع اور اس کی اہمیت ،درختوں کی اہمیت ،شجر کاری کے فوائد، نباتات پر اثر انداز عوامل ،پودوں کی اقسام بلحاظ ساخت،نباتات اور انسانی ساخت۔ زمین کی اہمیت اس کی حفاظت، سیاحت،پہاڑ، فضا اوراس کی اہمیت۔غرض یہ کہ ہرشعبے پر آپ کومطلوبہ تفصیل مل جائے گی۔ طوالت کے خوف سے ہم صرف ایک قدرتی وسیلے یعنی پانی کوموضوع بحث بنا رہے ہیں البتہ اس حوالے سے ہماری تحقیق جاری ہے جو ہم وقتا فوقتا آپ کے لیے پیش کرتے رہیں گے۔

آج یہ بات سب جانتے ہیں کہ پانی زندگی کے لیے لازم و ملزوم ہے، پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ دریا، سمندر اور جھیلوں کے کنارے ہی انسانی تہذیب پھلتی پھولتی اور نشوونما پاکر ترقی یافتہ معاشروں میں ڈھلتی رہی ہے۔حیات کی کسی بھی اکائی کا پانی کے بغیر تصور ممکن نہیں۔سائنس داں آج بھی دوسرے سیاروں پر کمند ڈالتے ہوئے سب سے پہلے پانی ہی کا امکان ڈھونڈتے ہیں۔ پانی کی اسی اہمیت کو قران ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی واضح کرچکا ہے۔دیکھیے سورہ الانبیاکی آیت نمبر 30 اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی اور سورہ نور میں ارشاد ہے  اور اللہ نے ہر جان دار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیے۔

 قران کی اس بات سے آج کے سائنس داںسو فیصد متفق ہیں۔

 Bernard Palac نامی سائنس داں نے 1580 میں water cycle یعنی آبی چکر بیان کیا تھا۔ لیکن اس انکشاف سے ایک ہزار سال پہلے قران نے متعدد مقامات پر آبی چکر کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔قران بتاتا ہے کہ پانی سمندروں کی سطح سے بخارات بن کر اٹھتا ہے ۔بادلوں میں تبدیل ہوتا ہے ،بادل بلآخر کثیف بن جاتے ہیں ،ان میں بجلیاں چمکتی ہیں اور ان سے بارش ہوتی ہے۔

سورہ مومنون میں ارشاد ہوتا ہے:

اورآسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرا دیا ، ہم اسے جس طرح چاہے غائب کرسکتے ہیں۔ المومنون  18

سورہ روم میں وضاحت ہے:

اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں ، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے ۔پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں۔یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے برساتا ہے تو وہ یکایک خوش و خرم ہوجاتے ہیں۔الروم 78

اور دیکھیے:

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا پھر اس پانی سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں۔ ( سورہ الزمر 21 (

اپنی ایک یگانہ روز گار کتاب حیاتیاتی چیزوں کی انفرادیت میں معروف سائنس داں(بائیو کیمسٹ) پروفیسر نیڈہم نے لکھا ہے کہ زندگی کے وجود کے لیے سیال چیزیں بے حد ضروری ہیں کیونکہ ٹھوس چیزوں میں ایٹمی ذرے بہت قریب ہوتے ہیں۔اوروہ کبھی بھی حرکی قوت ،قوت عمل رکھنے والے سالماتی عمل اور رد عمل کی اجازت نہ دیتے جس کی زندہ رہنے والے ہر فرد کو عمل کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کی تحریک کے لیے فعال ہونا بے حد ضروری ہے۔آسان لفظوں میں یہ کہ زندگی کی فعالیت کے لیے سیالی ماحول بے حد ضروری ہے اور پانی اللہ تعالی کی تخلیق میں بے حد خوبصورت اور کار آمد چیزہے۔ پانی کے خواص کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ ہر دور میں سائنس دانوں کے لیے حیران کن رہی ہیں۔تمام موجودات میں جیسے جیسے ان کا درجہ حرارت نیچے آتا ہے سکڑتی چلی جاتی ہیں  حجم میں کمی کا مطلب ہے کہ چیزوں کی کثافت بڑھ جاتی ہے  ۔اس کے برعکس پانی سکڑتا ہے اور جب اس کا درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے تو اس حد تک پہنچنے کے بعد پانی پھیلتا ہے اور حجم میں بڑھتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ٹھوس حالت میں پانی کا حجم کم ہوتا ہے بہ نسبت مائع حالت کے۔اگراس کو دیکھا جائے تو اپنی منجمد حالت میں برف کو پانی میں ڈوبنا چاہیے مگر ہوتا اس کے برعکس ہے۔

اللہ تعالی کی حکمت دیکھیے کہ پانی کی یہ خصوصیت سمندروں کے لیے بے حد اہم ہے۔اگر پانی میں یہ صفت نہ ہوتی تو زمین پر پانی منجمد ہوجاتا اور جھیلوں ، سمندروں میں زندگی ممکن نہ ہوتی۔اگر اس حقیقت کو ہم تفصیل سے ملاحظہ کریں تو دنیا کے کئی خطوں میں موسم سرما میں جبکہ درجہ حرارت منفی سے بھی نیچے آجاتا ہے اور یہ حالت جھیلوں اور سمندروں پر بھی یکساں اثر انداز ہوتی ہے اور ان جگہوں کا بھی درجہ حرارت گر جاتا ہے۔پانی کی ٹھنڈی تہہ نیچے بیٹھ جاتی ہے اور گرم تہہ اوپر آجاتی ہے۔جہاں وہ بھی ہواؤں سے ٹھنڈی ہوجاتی اور دوبارہ نیچے بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے لیکن 4 ڈگری سینٹی گریڈ پر یہ سائیکل ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ یہاں پانی دوبارہ پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔جس کے سبب وہ پھر ہلکا ہوجا تا ہے اور نچلی تہہ میں چلا جاتا ہے۔اور جب مزید کم ہوکر درجہ حرارت تین یا چار ڈگری سینٹی گریڈ پر یا جب پانی کی سطح پر جب درجہ حرارت زیرو ہوجاتا ہے تو پانی جم جاتا ہے۔لیکن صرف سطح پر اور پانی کا چار ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت نیچے مچھلیوں اور دوسری سمندری حیات کے لیے حیات کا ضامن ہوتا ہے۔اگر پانی کی یہ خصوصیات نہ ہوتیں اور یہ ویسا ہی ہوتا جیسا کہ عام حالت میں ہوتا ہے یعنی اس کی کثافت بڑھتی تو برف کی شکل میں نیچے بیٹھ جاتا ۔اس پس منظر میں سمندر جھیلیں نیچے سے اوپر کی سطح تک سب منجمد ہوجاتیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ۔کیونکہ پانی کی سطح پر برف کا جو غلاف ہوتا ہے وہی نہ ہوتا جو اوپر کی تہہ کو نچلی تہہ سے جدا کرتا ہے۔یعنی سمندر کی سطح پر ہلکی سی برف کی تہہ کبھی نہ جمتی اور پھر ہوتا یہ کہ سمندروں ،جھیلوں،دریاؤں کی نچلی سطح پر چند میٹر پانی کی سطح ہوتی اور ہوا کا درجہ حرارت دوبارہ گرم ہونے کے باوجود سمندروں میں زندگی بحال نہیں کی جاسکتی اور ایسے ایکو سسٹم میں سمندر مردہ ہوتے اور نہ ہی زمین پر زندگی کے آثار پائے جاسکتے ۔پانی کی اس خاصیت کے لیے ہمیں اللہ تعالی کا حد درجہ شکر گذار ہونا چاہیے جس کے سبب سرد و گرم موسم میں پانی کا درجہ حرارت قائم رہتا ہے اوراس کے سبب ہی زندگی کی رنگا رنگی قائم ودائم ہے۔

پانی کا سطحی دباؤ بھی حیران کن ہے اور اس کا واضح اثر پودوں کی زندگی پر پڑتا ہے ۔کسی پمپ کے بغیر پانی کئی میٹر اونچے درختوں کی شاخوں اور چھوٹے چھوٹے شگوفوں تک پہنچ جاتا ہے۔لیکن اگر سطحی دباؤ ذرا بھی کم ہوتا تو یہ سارا عمل نا ممکن ہوجاتا۔

 اپنی فزیکل یا مادی خصوصیت کے علاوہ پانی بے حد عمدہ محلل ہے جس کے نتیجے میں ایک وسیع تعداد مفید کیمیائی اجزا کی دریاؤں سے پانی کے ساتھ بہتی ہوئی سمندر تک پہنچتی ہے ۔ اس سے سمندر کے کنارے ایک بہت منفرد ماحولیاتی نظام( ایکو سسٹم ) جنم لیتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلٹا کی لاکھوں ایکڑ زمین زرخیز ہوجاتی ہے۔تمام انسانوں اور حیوانوں کے لیے پانی کے سالماتی کشش (چپچپاہٹ) بہت ضروری ہے ۔کیونکہ اگر یہ ذرا بھی کم ہوتی تو دوران خون کا نظام اتنی کامیابی اور اکملیت کے ساتھ جاری و ساری نہیں رہ پاتا۔اور اگر پانی میں تھوڑا سا بھی گاڑھا پن بڑھ جاتا تو دنیا کا کوئی بھی قلب خون کو پمپ نہیں کرسکتا۔اسی طرح ہمارے جسم میں آکسیجن کے جذب ہونے کی صلاحیت صرف اس لیے ہے کہ پانی میں یہ خصوصیت موجود ہے ۔جب ہم سانس لیتے ہیں تو آکسیجن ہمارے پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے جو براہ راست فورا خون میں داخل ہوجاتی ۔ہمارے خون میں جو ہیمو گلوبن موجود ہوتی وہ آکسیجن کے لیے ٹرانسپورٹ کا کام کرتی ہے اور آکسیجن خلیات تک پہنچ جاتی ہے۔


غرض یہ کہ کائنات کا صرف ایک جز پانی ہی اللہ تعلی کا تخلیق کردہ سب سے بڑا معجزہ ہے اور دیکھنے والوں کے لیے اس میں کھلی نشانیاں موجود ہیں۔

Tuesday, April 29, 2008

پانی کی بڑھتی ہوئی آلودگی اور صحت کے مسائل

پانی ذندگی کی ضمانت ہے۔۔۔۔یہ وہ حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اب یہ الفاظ اپنی معنویت کھو رہے ہیں ۔ پانی جو زندگی کے لیے آب حیات کی حیثیت رکھتا ہے اب کہیں کہیں یہ انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بھی بن رہا ہے۔

  یہ سچ ہے کہ زندگی کا تصورپانی کے بغیر ممکن نہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ دریا سمندر اور جھیلوں کے کنارے ہی انسانی تہذیب پھلتی پھولتی اور نشوونما پاکر ترقی یافتہ معاشروں میں ڈھلتی رہی ہے۔گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ اگرچہ سمندر اور دریا اپنے راستے بدلتے رہتے ہیں   لیکن یہ ایک جغرافیائی اور ارتقائی عمل ہوتا ہے جو قدرتی نظام کے تابع ہوتا ہے اور سیکڑوں اور ہزاروں سال میں مکمل ہوتا ہے۔ لیکن آج اگر پانی اپنا کام بدل رہا اور انسانی جاں کے زیاں کا سبب بن رہا ہے تو یہ کسی قدرتی عمل کا حصہ نہیں ہے بلکہ انسان کی اپنی پروائی کا شاخسانہ ہے۔


 زمین پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت موسموں کو بے ترتیب کر رہا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر پانی کے وسائل پر پڑ رہا ہے۔کرہ ارض پر پانی کے وسائل کم سے کم ہورہے ہیں اورآلودگی حد سے بڑھ رہی ہے۔ یہ آلودہ پانی انسانی جانوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہورہا ہے۔پانی کے وسائل پر کام کرنے والے ایک ادارے کراچی واٹر پارٹنر شپ کی تحقیق کے مطابق  دنیا بھر میں سالانہ 10 ملین سے زائد لوگ پانی کی بیماریوں سے مر رہے ہیں اورترقی پذیر ملکوں میں پھیلی ہوئی 37 مہلک بیماریوں میں سے 21 کا تعلق گندے پانی اور سیوریج کے ناقص نظام سے ہے۔

ہمارے ملک میں تو صورت حال اور دگرگوں ہے  یوں تو یہاںکسی قدرتی وسیلے کی کوئی قدر ہے اورنہ اسے بچانے کی فکر اور آبی ذخائر کے ساتھ تو ہمارا سلوک انتہائی  شاندار ہے ، ہم اپنے ان قیمتی ذخائر یعنی سمندر، دریاؤں ، جھیلوں اور چشموںکو بطور  گٹر استعمال کرتے ہیں اور تمام گھریلو ، صنعتی اور زرعی کوڑا کرکٹ ، سیوریج اور فضلہ ان ہی میں بہا دیتے ہیں۔ اب ان ذخائر کے پانی کا کیا حال ہوگا اس کی وضاحت کے لیے نہ کسی پیچیدہ اعدادو شمار کی ضرورت ہے اور نہ بھاری بھرکم سائنسی اصطلاحات کی۔ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ پانی انسانی جانوں کے لیے کسی  واٹر بم  کا کام انجام دیتا ہے۔

  حکومت کے بلند وبانگ دعووں سے ایک عام آدمی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اسے تو پیٹ بھر روٹی اور دو گھونٹ صاف پانی کے درکار ہیں جس سے وہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ سکے۔ دو گھونٹ صاف پانی جو پاکستان میں جنس نایاب بنتا جا رہا ہے لوگوں تک پہنچانا یہ وہ کم از کم ذمے داری ہے جو حکومتوں پر عائد کی جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت کی ترجیحات کیا ہیں؟ ۔۔۔اس حوالے سے کچھ نہ کہنا ہی بہتر ہے۔
 پاکستان کے شہری کس قدر آلودہ پانی پیتے ہیں اس کا اندازہ درج ذیل رپورٹوں سے باآسانی ہوسکتا ہے۔

 PCSIR ہمارے ملک کا ایک معتبر سائنسی ادارہ ہے،روزنامہ جنگ میں اشاعت پذیر اس کی ایک رپورٹ پانی کی شدید آلودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس کے مطابق کراچی ، لاہور ،اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں جو پانی پینے کے لیے استعمال ہورہا ہے اس کا 75 فیصد حصہ پینے کے لیے مضر بلکہ ناقابل استعمال ہے۔مذکورہ ادارے نے پانی کے یہ نمونے ان شہروں کے مختلف اسکولوں کے نلکوں سے حاصل کیے تھے۔

 سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام کے ڈپارٹمنٹ آف انرجی اور انوائرنمنٹ کے ایک جائزے میں بھی تقریبا یہی نتائج حاصل ہوئے۔ اس جائزے میں پینے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے 295 نمونے نہروں کنووں   تالابوں  ہینڈ پمپوں اور ٹھٹھہ، بدین اور تھر پارکر میں سرکاری اداروں ( میونسپل کمیٹیوں) کی طرف سے فراہم کیے جانے والے ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے۔ نہروں اور نالوں سے حاصل کردہ تو تقریبا سو فیصد نمونوں کو تھرموٹالورینٹ کولیفورم سے آلودہ پایا گیا۔ہینڈ پمپوں  موٹر پمپوں  کنووں اور میونسپل اداروں کی طرف سے فراہم کیے جانے والے پانی کے 76 نمونوں کو تھرموٹالورینٹ کولیفورم سے آلودہ پایا گیا۔ان جائزوں سے یہ بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ پینے کے لیے استعمال ہونے والا آلودہ پانی اپنے مقام اجرا سے ہی آلودگی کا شکار ہوجاتا ہے۔

 پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جس کی حالیہ آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے اورشرح آبادی یہی رہی تو امید ہے کہ 2020 تک تین کروڑ ڈھائی لاکھ تک پہنچ جائے گی ۔کروڑوں کی آبادی والے اس شہر میں پانی کی نہ صرف قلت ہے بلکہ جو پانی میسر ہے وہ بھی انتہائی آلودہ اور صحت کے لیے مضر ہے۔ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے شہریوں کویومیہ695 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ پانی کی فراہمی کے دو بڑے ذرائع حب ڈیم اور دریائے سندھ ہیں ، حب ڈیم سے پانی کی فراہمی 30 سے 75ملین گیلن تک ہوتی ہے اور اس کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے جبکہ دریائے سندھ سے645 ملین گیلن پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔شہریوں کو پانی فراہم کرنے سے قبل صاف تو کیا جاتا ہے مگر صفائی کے ناقص انتظام کے سبب مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے پانی پھر آلودگی کا شکار ہوجاتا ہے۔اگرچہ فراہمی سے پہلے پانی کو کراچی واٹر اور سپلائی بورڈ کے سی او ڈی ہلز  پپری  گھارو اور سپر ہائی وے فلٹر پلانٹ سے گذارا جاتا ہے۔فلٹر اور ٹریٹمنٹ کے بعد یہاں پانی کا معیار بہتر ہوکر عالمی ادارہ صحت کے معیار کے قریب ہوجاتا ہے۔ پانی کو ٹریٹمنٹ کے عمل سے گذارنے کے لیے ایک خاص مدت کے لیے روکنا ضروری ہوتا ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے مقررہ مدت سے کم وقت میں پانی کو چھوڑ دیاجاتا ہے۔

 فلٹر پلانٹ میں ٹریٹمنٹ کے تمام مرحلوں سے گذارنے کے بعد پانی میں کلورین کی ایک خاص مقدار ڈالی جاتی ہے۔اس عمل کو کلورینیشن کہتے ہیں جس کے بعد پانی پینے کے لیے محفوظ ہوجاتا ہے لیکن عملا ایسا ہوتا نہیں ہے اورڈسٹری بیوشن سسٹم میں پانی دوبارہ آلودگی کا شکار ہو کر صارف تک پہنچتا ہے۔پانی کے آلودہ ہونے کی اہم وجوہات میں فراہمی آب کی بوسیدہ لائنیں ہیں۔  یہ لائنیں پرانی ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ سے رس رہی ہیں ۔ان چھوٹی اور بڑی پائپ لائنوں کی زندگی مکمل ہوچکی ہے لیکن وسائل کی کمی کے باعث پورے سسٹم کو یکسر تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ البتہ مختلف اوقات میں مختلف علاقوں مرمت کا کام ہوتا رہتا ہے۔ان پرانی پائپ لائنوں میں جگہ جگہ خصوصا جوڑوں میں سوراخ ہوگئے ہیں۔زمین کی نا ہمواری ، ہوا میں نمی اور زیر زمین پانی کی سطح بلند ہونے سے اس مسئلے نے مزید شدت اختیار کی ہے۔سیوریج کا پانی ان سوراخوں سے سے پائپ لائنوں میں چلا جاتا ہے۔اس کے علاوہ گھروں میں لوگوں نے پائپ لائنوں سے پانی کھینچنے کے لیے سکشن پمپ لگا رکھے ہیں لہذا جب لائنوں میں پانی نہیں ہوتا ہے تو ایک پریشر پیدا ہوتا ہے جو سیوریج کے پانی کو جو گٹر لائنیں بند ہونے کی وجہ سے پانی کی پائپ لائنوں کے ارد گرد جمع رہتا ہے کھینچ لیتا ہے ۔جب پائپ لائنوں میں پانی پریشر کے ساتھ سفر کرتا ہے تو ان سوراخوں سے رستا بھی رہتا ہے۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پانی کی کمی کاشکارکروڑوں کی آبادی والے اس شہر میں 40% ۔ جبکہ25% یہ انتہائی کمیاب پانی ٹپکتے نلکوں ، دھلتی کاروں اور وسیع و عریض لان میں پیڑوں پودوں کو دے کر ضائع کردیا جاتا ہے۔

کراچی کے شہری کس قدر قدر آلودہ پانی پیتے ہیں ، آئیے یہ بھی جان لیجیے ۔

  ڈاکٹر مبینہ آگبوٹ والاکی تحریر کردہ ایک رپورٹ Environmental Health in Sindh جو آئی یو سی این کی کتابSindh state of Environment & development میں شائع ہوئی تھی، کے مطابق  1997 میں کراچی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پینے کے پانی کے دو سو ترانوے نمونوں کو جب چیک کیا گیا تو ان میں صرف اڑتالیس یعنی تقریبا سولہ فیصد کو پینے کے لیے محفوظ پایا گیا۔پھر جن دو سو تینتیس پانی کے نمونوں کو جانچا گیا تھا ان میں سے تریسٹھ فیصدکو ایم پی این 507 سے آلودہ پایا گیا۔

 کراچی ہی میں 2000 میں کیے گئے ایک اور سروے کے مطابق گھریلو استعمال کے لیے جمع کیے جانے والے پانی میں سے کوئی 75فیصد تھرمو ٹالورینٹ کولیفورم سے متاثر تھے۔ایسے پانی میں ای کولی بھی متفرق شرح میں پائی گئی۔ای کولی کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ پینے کے پانی کہیں سے انسانی فضلہ بھی شامل ہورہا ہے۔عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پینے کے صاف پانی میں ای کولی ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔

 پانی میں اتنی زیادہ ملاوٹ( یا آلودگی) آنتوں کی متعدد بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

 1995 میں یونیسیف کے ملٹی پل انڈیکیٹرس کلسٹر سروے کے مطابق پاکستان میں شدید گرمی کے موسم میں پانچ سال کی عمر تک کے 26% بچوں کو دستوں ( ڈائریا) کی بیماری میں مبتلا پایا گیا ان میں سب سے زیادہ تعداد یعنی33% سندھ کے بچوں کی تھی۔1996 کے نیشنل ہیلتھ سروے آف پاکستان کے مطابق جن دنوں یہ سروے کیا جارہا تھا۔ ان دنوں صوبہ سندھ کے اندازہ% 35.9 بچوں کو ڈائریا کی شدید بیماری نے گھیر رکھا تھا۔

 1997 کراچی ہی میں میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق اس بات کا انکشاف ہوا کہ 39%بچوں کو ڈائریا کی بیماری بار بار ہوتی تھی۔ایک اور مطالعے میں جو 2000 اور2001 میں کیا گیا اور جس میں دو ہزار کے قریب بچوں کو مسلسل دو سال تک زیر مطالعہ رکھا گیا ، یہ بات سامنے آئی کہ ان زیر مشاہدہ ہر 100 میں سے1.51کی شرح سے بچے شدید ڈائریا سے متاثر ہوئے۔ماہرین متفق ہیں کہ بچوں میں ڈائریا کی پھیلتی بیماری کا ایک بڑا سبب گندا پانی اور صفائی کا ناقص نظام ہے۔

 معیادی بخار یا ٹائیفائیڈ عموما کسی مخصوص علاقے میں پیدا ہوتا ہے۔لیکن یہ رفتہ رفتہ متعدی بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور ایسا عموما موسم گرما میں ہوتا ہے۔ کیونکہ اس موسم میں کھانے پینے کی اشیا اور پانی میں سالمو نیلا ٹائی فائیفی (ہاضمے کو نقصان پہنچانے والے جرثومے ) پیدا ہوتے ہیں۔جون 1990اور دسمبر1994 کے درمیان آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل کراچی میں چار ہزار چار سو انتالیس (4439) مریضوں کے خون یا ہڈی کے گودے (بون میرو) سے سالمونیلا ٹائیفائی کے اجزا کو علیحدہ کیا گیا ۔ان مریضوں میں سے 1,441 یعنی 33% چھہ سال سے کم عمر کے بچے تھے ۔

کراچی ہی کے پی ان ایس شفا اسپتال میں جنوری 1994سے لے کر اپریل 1999تک 412ٹائیفائیڈ کے مریض آئے۔اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں1992سے1994کے درمیانی تین سال کے عرصے میں بلڈ کلچر(خون کے تفصیلی جائزے) کے جتنے نمونے بھی موصول ہوئے ان میں سے 7.1 فیصد فساد ہضم کی شکایت سے متاثر تھے۔ ٹائیفائیڈ دراصل ایسے علاقوں میں زور دکھاتا ہے جہاں صفائی کا نظام ناقص ہو۔خصوصا وہ شہری علاقے اس بیماری کا گڑھ بن جاتے ہیں جہاں پینے کے پانی اور سیوریج کی نالیاں باہم مل جاتی ہوں اور پانی آلودہ ہو جائے۔ای کولی کی آلودگی انسانی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پینے کے اس پانی میں کہیں نہ کہیں سے انسانی فضلہ شامل ہو رہا ہے۔ ناقص اور ٹوٹی پھوٹی سیوریج لائنوں سے رستے ہوئے سیوریج کا پینے کے پانی کی لائنوں سے مل جانا اب کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے بڑے شہروں اورخصوصا کراچی میں تو یہ عام بات ہے۔

 صنعتوں سے نکلنے والے آلودہ پانی کی ملاوٹ سے پینے کے پانی میں مضر دھاتوں خصوصا سیسہ کیڈ میم اورمرکری وغیرہ کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور پی سی ایس آئی آر کی 1999کی ایک رپورٹ جو آئی یو سی این کے میگزین جریدہ میں شائع ہوئی تھی کے تحت کورنگی کے صنعتی علاقے کا زیر زمین پانی صحت کے لیے انتہائی مہلک ہے۔اسی جریدے میں ای پی اے کے حوالے سے ایک اور رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ادارہ تحفظ ماحول ای پی اے نے کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں کنووں اور بورنگ کے پانی کے نمونوں کا کیمیائی تجزیہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ ملیر  کورنگی   ضلع جنوبی کراچی ، محمود آباد   اورنگی ٹاؤن   نارتھ کراچی  لیاری اور فیڈرل بی ایریا کے زیر زمین پانی کے نمونوں میں WHO کے مقرر کردہ معیار سے کئی گنا زیادہ دھاتیں اور زہریلے مواد موجود ہیں۔خصوصا کیڈمیم 16 ، گدلا پن یا مٹی 9 اور فضلاتی آلودگی 3گنا زیادہ پائی گئی۔

 آلودہ پانی انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہورہا ہے ،کراچی واٹر پارٹنر شپ کے مطابق صرف  کراچی میں سالانہ  30,000اموات ریکارڈ کی گئی ہیںجن میں بچوں کی تعداد20 ہزار ہے۔

کراچی میں پانی کی کمی اور آلودگی دور کرنے اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے منصوبے زیر غور ہیں اور بہت سوں پر عمل بھی شروع ہوچکا ہے سر دست وہ ہمارا موضوع نہیں ہے اور نہ ہی ایک عام صارف کو اس سے کوئی دلچسپی ہے لیکن صورت حال میں بہتری کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے یہ سوال ہم سب کے لیے زیادہ اہم ہے۔

 کیا ایک عام آدمی کچھ کرسکتا ہے ؟ کیا وہ اپنے حالات میں تبدیلی لاسکتا ہے؟آئیے اس سوال کے جواب کی کھوج کرتے ہیں۔
 ہم کیا کرسکتے ہیں؟

 آلودہ پانی کے حوالے سے چند سادہ ،آسان اور آزمودہ طریقے جن کو اختیار کرنے سے صحت اور ماحول پر انتہائی خوشگوار اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔

ہم اپنی اور اپنوں کی صحت کے لیے کم از کم پانی ابال کر تو پی ہی سکتے ہیں اور اگر اتنا تردد بھی نہیں کرنا چاہتے تواس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ شیشے کی شفاف بوتلوں میں پانی بھر کر دھوپ میں چند گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔آپ ان بوتلوں کو چھت پر یاگیلری وغیرہ میں جہاں دھوپ اچھی آتی ہو رکھ سکتے ہیں۔سورج کی شعاعیں پانی کو آلودگی سے پاک کر دیں گی ۔اگر پانی بہت گدلا ہو تو پہلے پھٹکری سے صاف کر لیں کیونکہ سورج کی شعاعیں صرف 10cm تک ہی جراثیم کو مار سکتی ہیں۔

 ڈائریا سے بچنے کے لیے اپنے گھر میں اور خاص طور پر چھوٹے بچوں کو صابن کے استعمال کی ترغیب دیں خصوصابیت الخلا سے آکر صابن سے ہاتھ دھونا لازمی قرار دیجیے ، بچوں کو بھی یاد دلاتے رہیے اور ان کی نگرانی بھی کیجیے کہ وہ ایسا کر بھی رہے یا نہیں۔ یہ کوئی ٹوٹکا نہیں ہے بلکہ اس عمل کو باقاعدہ منصوبے کی صورت میں ایک آبادی پر آزمایا گیاتھا اور وہاں ڈائریا میں 30 فیصد کمی پائی گئی۔

 آلودہ پانی میں سے ڈائریا کے جراثیم کے خاتمے کے حوالے سے ہم اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا ایک تجربہ پیش کریں گے۔اگرچہ یہ بھی کوئی نیا طریقہ نہیں ہے لیکن اس کی آزمائش اور سائنسی بنیادوں پر چھان پھٹک کر نتائج مرتب کرنے کا سہراڈاکٹر انور حق کے سر ہے جو مائیکرو بائیولوجسٹ ہیں اور میری لینڈ بائیو ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ بالٹی مور میں میرین بائیو ٹیکنالوجی سے وابستہ رہے ہیں (ڈاکٹر انور حق جامعہ کراچی کے طالب علم رہ چکے ہیں اوراپنی استادمرحومہ ڈاکٹر نسیمہ ترمذی سے خاص عقیدت رکھتے ہیں۔) ڈاکٹر صاحب نے بنگلہ دیش میں پھیلتی ہوئی ہیضے کی بیماری پر قابو پانے کے لیے پرانی سوتی ساڑھی کا انتخاب کیا اوربرتن پر اس کی چار تہیں لگا کر اس سے پانی چھانا انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اس طریقے سے پانی ننانوے فیصد تک ہیضے کے جراثیم سے پاک ہوگیا ۔  ان کا کہنا ہے کہ پرانی سوتی ساڑھی کے ڈھیلے اور روئیں دار ریشوں میں ہیضے کے بیکٹیریا پھنس جاتے ہیں اور چھن کر برتن میں جانے والا پانی ان سے پاک ہوجاتا ہے۔ ان بیکٹیریا کی ساخت جھینگوں جیسی ہوتی ہے ۔اس ترکیب کی افادیت کو بین الاقوامی صحت کے اداروں نے نہ صرف مانا بلکہ اس کے عام استعمال کی بھی اجازت دی۔ابتدا میں تجرباتی طور پر یہ ترکیب بنگلہ دیش کے 65 دیہاتوں میں ایک لاکھ 33 ہزار افراد پر آزمائی گئی جس سے ان علاقوں میں اس سال صرف0.65 فیصد ہیضے کے کیس ریکارڈ ہوئے۔اب یہ ترکیب وہاں پانی صاف کر نے کے لیے عام ہوچکی ہے ۔ڈاکٹرانور حق کے اس پروجیکٹ میں ان کے ساتھ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن واشنگٹن کا ادارہ بھی شامل ہے۔

   مندجہ بالا تمام کم خرچ اورآسان لیکن بہت زیادہ مفید تراکیب سے ہم بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں،خصوصا پرانی ساڑھی سے پانی چھاننے کی ترکیب سے تو دیہی سطح پر پانی کی آلودگی کے حوالے سے انقلاب برپا ہو سکتا ہے ۔ساڑھی کی جگہ پرانے سوتی کپڑے سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔

 ان ترکیبوں پر خود بھی عمل کیجیے اور دوسروں کو بھی ان کی ترغیب دیجیے، اس سے نہ صرف آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی صحت بہتر ہوگی بلکہ کچھ کرنے کا ایک خوشگوار احساس بھی ہوگا ۔ ایک قیمتی خوشی اور ایک انمول طمانیت   خوشیوں کی ان خوبصورت تتلیوں اور سکون کے جگنووں کو مٹھی میں بند کر لیجیے کہیں دیر نہ ہو جائے۔اس موسم گرما میں اپنے اور دوسروں کے لیے بہار کا پیامبر بن جائیے۔ 


Tuesday, July 3, 2007

اس کی باتیں بہار کی باتیں

جھلسادینے والی گرمی کا توڑ سر سبز چھتیں

 گرمی کے جھلستے ہوئے دن اور سلگتی راتوں میں ہری بھری سر سبز چھتوں کا تذکرہ خاصا بر محل ہے ، دنیا بھر میں ان کی تعمیر کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ یورپی ممالک اور امریکا تجربات کے بعد پچھلے چھ سالوں سے ان کی تعمیر پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی بھی مثبت اقدام پر عمل درآمد میں ہمارے ملک میں جتنا وقت لگتا ہے اس کے حساب سے تو ان چھتوں کی ہریالی ہمارے لیے’ہنوز دلی دور است‘ کے برابر ہے لیکن امید تو کی جاسکتی ہے نا!۔

 پورے ملک اور خصوصا کراچی میں بجلی کی کمی نے کیا تباہی مچائی ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور اب بارش نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے ، دودنوں کی بارش نے عوام پر وہ عذاب نازل کیا ہے کہ الامان الحفیظ۔حالانکہ سرکاری بیان بازوں کے بیانات کے مطابق تو ملک کے خزانے ان سات سالوں میں لبریز ہوکر چھلک رہے ہیں ، زرمبادلہ کے ذخائر بھی پٹے پڑے ہیں، دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ،راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے ۔لیکن اس ہفتے کے منظر نامے نے سچ اور جھوٹ کو دودھ اور پانی کی طرح الگ کردیا ہے۔اے کاش کہ ہمیں جھوٹ بولتے ہوئے تھوڑی سی شرم آجائے!

دو دن کی برسات نے کراچی میں جاری اربوں روپے کی لاگت کے میگا پروجیکٹ کو جس طرح الٹ کر رکھ دیا ،بقول ہمارے ایک کالم نویس کہ یہ میگا پروجیکٹ نہیں میگابلبلے تھے۔برسات کا یہ بہتا ہوا پانی جو پورے ملک میں تباہی پھیلا کر بالآخر سمندر میں گرجائے گا اس کی بوند بوند کتنی قیمتی ہے کاش ہمارے کرتا دھرتا یہ احساس کرسکتے۔ اگرتھوڑی سی بھی ذمے داری سے کام لیتے تو جگہ جگہ برساتی ندی نالوںاور دریاؤں پر چھوٹے چھوٹے ڈیم جو دراصل آبی ذخیرہ گاہ ہوتیں تعمیر کرچکے ہوتے تو آج اتنی تباہی نہ مچتی اور تمام پانی آنے والے دنوں کے لیے محفوظ بھی ہوجاتا۔اس کے لیے لاکھوں روپے کی کسی غیر ملکی کنسلٹینسی کی صرورت نہیں ہے اور نہ سالوں اس کے لیے نشستند گفتنداور برخاستند جیسی میٹنگوں کی۔ہمارے اپنے ملک میں بے شمار ایسے ماہرین موجود ہیں (دسیوں نام تو ہم بھی پیش کرسکتے ہیں) جنہوں نے اس شعبے پر بے پناہ کام کیا ہے ، اپنی عمریں تحقیق پر صرف کی ہیں ، ہم ان کے کام اور تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن اور بھی غم ہیں زمانے میں۔۔۔۔!

  لیکن اگر آپ کودنیا میں سر اٹھاکر جینا ہے، زمانے کے ساتھ چلنا ہے توخود کو بدلنا ہے۔ توانائی کے فرسودہ طریقوں کو ترک کرکے قدرتی ذرائع کو لازمی اختیار کرنا ہے ، آج نہیں تو کل سہی لیکن یہ وہ نوشتہ دیوار ہے جسے آپ کو پڑھ لینا چاہیے۔

 ماحول کی بڑھتی ہوئی تباہی اور گھٹتے ہوئے ذخائر نے دنیا کو توانائی کے قدرتی ذرائع کی طرف بھرپور طریقے سے متوجہ کر دیا ہے۔ ہوا ، سورج،اورپانی کی لہروں سے توانائی کا حصول یہ وہ خواب ہے جوآج ہر ایک آنکھ میں سجا ہوا ہے۔سب سے سستی ہوا اور سورج سے حاصل کردہ توانائی ہے۔توانائی کے حصول کے ساتھ ساتھ توانائی بچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے ۔ اسی خیال نے سر سبز چھتوں کے تصور کو جنم دیا ہے ۔ یہ کوئی نیا یا انوکھا طریقہ نہیں ہے بلکہ پرانی روایتی چھتوں ہی کی جدید شکل ہے۔وہ چھتیں خشک گھاس پھوس سے بنائی جاتی تھیں اور ان نئی چھتوں میں سر سبز گھاس اور پودے اگانے کا تصور پیش کیا گیا ہے ۔ یہ سرسبز چھتیں گرمی کی شدت کو کم کرتی ہیں جس سے بجلی کے آلات کا استعمال گھٹ جاتا ہے اور ان چھتوں کے ذریعے بارش کے پانی کا بہاؤ آہستہ کرکے اس پانی کا باآسانی ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

 یہ سر سبز چھتوں کی تیاری انتہائی آسان ہے ۔ چھت کو واٹر پروف ممبرین سے ڈھانپ دیا جاتا ہے پھر اس پر مٹی ڈال کر گھاس اور پودے اگائے جاتے ہیں۔ ایسی چھتیں ہماری ذہنی اختراع یا خیالی پلاؤ نہیں ہیں بلکہ امریکا میں چھ سال سے ان چھتوں کی تعمیر پر تجربات جاری ہیں اور اب یہ کئی شہروں میں اپنی بہار جانفزا دکھلا رہی ہیں اور عمارت کے درجہ حرارت کو کم کرکے شہریوں کے گرمی کے عذاب سے بچا رہی ہیں ۔ایک جائزے کے مطابق ایک عام سیمنٹ کی چھت والی عمارت کے مقابلے میں ان سرسبز چھتوں کے درجہ حرارت 31 فیصد کم ہوتا ہے یعنی یہ اکتیس فیصد زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں یہ بڑی بڑی چھتیں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بھی کام آتی ہیں ۔ ان کی تعمیر ڈھلوانی سطح کے انداز میں کی جاتی ہے اور ایسا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے کہ بارش کا پانی تیزی سے بہنے کے بجائے دھیرے دھیرے بہہ کر نیچے نصب ٹنکیوں میں جمع ہوجائے ۔ یہ برسات کا پانی سال بھر انہی سبز چھتوں کی آب پاشی کے لیے کام آتا ہے۔

شکاگو کے میئررچرڈ ڈیلے جونیئر نے 1999میں یورپ کےاتھا۔ دورے سے واپسی پر شکاگو کی ایک اہم عمارت سٹی ہال کی چھت کو سبز چھت کی شکل دی۔ بقول رچرڈ ڈیلے کے یورپ میں انہوں نے ایک سبز چھت کو بیحد کامیابی سے کام کرتے ہوئے دیکھا ۔ یورپ میں یہ سبز چھت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔ رچرڈ ڈیلے نے حکومت سے مشاورت کے بعد سبز چھت کے لئے فنڈ مختص کرایااور اس طرح آج شکاگو میں سٹی ہال سمیت تین سو اہم عمارات پر سبز چھتیں قائم ہیں ۔ امریکا دیگر شہروں کے مقابلے میں کسی بھی شہر میں سب سے زیادہ چھتیں ہیں۔ ان تین سو چھتوں کا احاطہ تیس لاکھ مربع میٹر پر محیط ہے ۔یہ چھتیں زیادہ تر تجارتی عمارات پر مشتمل ہیں جبکہ کچھ چھتیں رہائشی اور کچھ گودام کی چھتیں بھی ہیں ۔

ٹوم لپٹن شکاگومیں ایک ماہر ماحولیات ہونے کے علاوہ سٹی بیورو آف انوائرنمٹل سروسز کے ایک اہم عہدے دار بھی ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ بیس سال قبل حکومت نے ایک قانون فلور ایریا ریشو( F A R )نافذ کیا جس کے تحت کو ئی بھی بلڈرحکومت کی اجازت سے اپنے پلاٹ سے زیادہ کچھ جگہ اپنے استعمال میں لاسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ اضافی تعمیر وہ صرف مقررہ پلاٹ کی چھت پر تعمیر کرسکتا ہے۔ اس رعایت کے تحت ٹوم لپٹن نے 1996 میں اپنے گیراج پر سبز چھت بنائی ۔

  شکاگو میں بلڈرز کو سبز چھت بنانے کے عیوض حکومت کی طرف سے بہت سی مراعات دی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ شکاگو کا شمار سب سے زیادہ گنجان سبز چھتوں والے شہر میں ہوتا ہے ۔ حکومت کی طرف سے مراعات کے بعد بہت سے بلڈرز اور غیرتجارتی بنیادوں پر کام کرنے والے گروپوں نے حکومت کے ساتھ مل کرسبز چھتیں بنانے میں دل چسپی ظاہر کی ہے۔ نیویارک میں قائم ایک تنظیم ارتھ پلیج نامی تنظیم نے برونیکس ‘بروکلین اور ہارلیم میں سات سبز چھتوں پر کام کیا ۔ لیزا ہوف ارتھ پلیج کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں وہ بتا تی ہیں کہ رہائشی عمارات پر سبز چھتوں کی تعمیر پر لوگ بہت دل چسپی لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سبز چھتوں کے ہمارے نصف سے زیادہ منصوبے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال فروری میں ہمیں اور گرین روفس فار ہیلدی سٹیزن نامی ایک این جی او کو مینا پولیس لاس اینجلس ‘ اٹلانٹا اور دیگر شہروں کے لئے تین لاکھ ڈالرکی گرانٹ دی گئی تاکہ ہم لوگوں میں سبز چھتوں کے شعور کو اجاگر کریں اور انہیں یہ سکھائیں کہ سبز چھتوں کے لئے کیا ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، کس طرح سبز چھتوں پر لگے سبزے کی آب پاشی کی جاتی ہے اور بارش کا پانی کس طرح سبز چھتوں کے کام آتا ہے ۔

 سبز چھتوں کی پالیسی کے حوالے سے ابھی تک امریکی حکومت نے مکمل اعداد وشمار اکٹھے نہیں کئے ہیں تاہم اپریل 2007ءگرین روفس فار ہیلدی سٹیزن کے نام سے ایک مہم شروع کی جس کے تحت علاقائی سطح پر اعداد وشمارجمع کئے جائے گے ۔

امریکی علاقے میناپولیس اس سلسلے میں ایک ادارے فلپس ایکوانٹرپرائزز نے ایک اہم قدم اٹھایا اور لوگوں میں سبز چھتوں کا شعور اجاگر کرنے اور سہولت کے لیے اپنے ادارے کے پلیٹ فارم سے مقامی پودے فراہم کررہے ہیں جو باآسانی چھتوں پر لگائے جاسکتے ہیں ۔فلپس ایکو انٹرپرائزز اپنے سینٹر پر آنے والوں کو سبز چھتوں کی اہمیت سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔


 کیا ہمارے بلڈرز ، این جی اوز اور متعلقہ ادارے اس جانب بھی تھوڑی سی توجہ مرکوز کریں گے؟