Showing posts with label پانی کا عالمی دن. Show all posts
Showing posts with label پانی کا عالمی دن. Show all posts

Friday, March 14, 2014

عالمی یوم آب ۔۔ صرف ریت پر لکھی تحریر نہ ہو

اربوں ڈالر قدر کا نہری نظام ۔۔۔ تھوڑی سی توجہ سے زمینیں سونا اگل سکتی ہیں

عالمی یوم آب 22 مارچ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، اس بار اس کا موضوع ”پانی اور تونائی“ ہے۔

آب و حیات کے ربط کا فلسفہ انتہائی سادہ لیکن مضبوط اور مربوط بنیادوں پر استوار ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم ہیں۔ حیات کے تمام رنگ آب ہی سے نکھرتے ہیں اور سنورتے ہیں۔تاریخ بھی اسی فلسفے کی تائید کرتی ہے کہ دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں نے پانی ہی کنارے جنم لیا اور یہیں ارتقا کے مراحل طے کیے۔ ہمیں قدرت نے ایک دو نہیں سات دریا عطا کیے جو اس کی فیاضی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، اسی لیے ہم سات دریاؤں کی سرزمین کہلاتے ہیں، یہ دریا ، دریائے سندھ، راوی ، چناب ، ستلج بیاس ، جہلم اور دریائے سرسوتی یا ہاکڑو(گھگر) ہیں۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کا نظام قدرت کی فراخ دلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔۔۔ لیکن آبی وسائل کا غیر دانش مندانہ استعمال،ناقص آبی انتظام اوربدلتے موسموں نے ہمارے آبی وسائل کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔



دیو مالائی اہمیت کے حامل دریائے سندھ کی لمبائی 2,900کلو میٹر ہے جو تبت میں جھیل مانسرور سے 30 میل دور کیلاش کے برفانی پانیوں سے شروع ہوتا ہے۔یہاں سے بہتا ہوا یہ عظیم دریا ایک چھوٹے سے مقام ”دم چک“ سے لداخ میں داخل ہوجاتا ہے ۔لداخ میں اسے ”سنگھے کھب“ کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ سنگھے کا مطلب ہے شیر اور کھب کامطلب ہے منہ یعنی شیر کا دہانہ ۔پاکستان بھر میں اس شیر کے دہانے والے دریا کے مختلف نام ہیں،یہ جن جن بستیوں کو سیراب کرتا اور ان کے دامن میں خوش حالی انڈیلتا گذرتا ہے وہاں کے رہنے والے اسے محبت اور شکر گذاری کے تحت مختلف نام دیتے ہیں مثلا پشتو میں اسے”ابا سین“ یعنی دریاؤں کا باپ ،سندھ میں اسے ”مہران“ اورسندھو ندی بھی کہا جاتا ہے۔لفظ سندھو سنسکرت کا لفظ ہے جس کی بنیاد ”سیند“ پر ہے جس کے معنی بہنے کے ہیں۔۔۔لیکن سدا بہنے والے اس سندھو کا پانی اب کہیں راستے میں ہی کھو جاتا ہے اور اس کے بعد تو صرف ریت ہی ریت رہ جاتی ہے ، ہر طرف اڑنے والی اور آنکھوں میں بھر جانے والی ریت!

پانی زمین پر زندگی کی ضمانت بھی ہے اورفطرت کے نظام میں توازن کی بنیاد، یہ زندگی کی ہر صورت کے لیے لازم بھی ہے اور ملزوم بھی۔چھ ارب سے زائد آبادی کے لیے پانی کی طلب دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور یہ آبادی کرہ ارض پر موجود میٹھے پانی کا %54 استعمال کرجاتی ہے۔یہ میٹھا پانی%70  زراعت، %22 صنعتیں ا ور %8 گھریلو سطح پر استعمال کیا جاتا ہے۔پانی کے استعمال کے حوالے سے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ استعمال 2025 تک ترقی پزیر ممالک میں %50 اور ترقی یافتہ ممالک میں %18 بڑھے گا۔ 1.4 ارب لوگ دریاؤں کے بیسن میں رہتے ہیں ، جہاں پانی کا استعمال اتنا زیاہ ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح انتہائی کم ہوگئی ہے۔یورپ کے %60 شہروں میں پانی کا استعمال اس شرح سے کہیں زیادہ ہے جس شرح سے یہ زمین میں جذب ہوگا ۔1.8 ارب افراد2025 تک پانی کی کمی کا شکار ہوں گے اور دنیا کی آبادی کا دو تہائی انتہائی کمی کا شکار ہوگا۔ یہ بھی ایک توجہ طلب بات ہے کہ ایک دن میں ایک شخص کی ضروریات پر دو سے چار لٹرز پانی خرچ ہوتا ہے لیکن اسی فرد کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے صرف ایک کلوگرام چاول حاصل کرنے کے لیے دو ہزار سے پانچ ہزار لیٹرز پانی کی ضررت ہوتی ہے۔جبکہ ایک کلوگرام گندم کے حصول کے لیے تیرہ ہزار سے سترہ ہزار لٹرز پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

روزانہ دو ملین ٹن کوڑا اور فضلہ میٹھے پانی کے ذخائر میں بہادیا جاتا ہے۔.ترقی پزیر ممالک میں %70صنعتی فضلہ بغیر ٹریٹ کیے میٹھے پانی میں بہادیا جاتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او اور یونیسکو کی 2012 کی رپورٹ کے مطابق لاکھوں افراد کی سینیٹیشن کی سہولیات تک رسائی نہیں ہے اسی لیے دنیا بھر میں ڈائریا بیماری اور اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور %88 اموات کا سبب خراب سینیٹیشن کی سہولت ہے ۔آج بھی 2.5 ارب افراد کو بنیادی سنیٹیشن کی سہولت میسر نہیں ہیں اور اس ناقص سینیٹیشن کے باعث ہر بیس سیکنڈ بعد ایک بچہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ ڈائریا کی روک تھام کے لیے پہلی بار 15اکتوبر2008 کو پہلی بار ہینڈ واشنگ ڈے منایا گیا۔

پاکستان میں صورت حال مختلف لیکن زیادہ ابتر ہے۔ اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو پاکستان کا شمار کم آبی وسائل والے ملک سے انتہائی آبی قلت کے ملک کے طور پر کیا جائے گا 2025 تک۔زرعی ملک ہونے کے ناتے پانی کا زراعت میں بے تحاشہ استعمال ہے یعنی %93  زراعت کے لیے، %4  گھریلو استعمال کے لیے اور بقیہ صنعتی شعبے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ سیلابی پانی صرف ڈیلٹا کے استعمال میں آتا ہے جو ماحولیاتی نظام کے لیے بہتر ہے۔ سیلاب اور خشک سالی عام مظاہر ہیں۔ مون سون کی بارشوں اور گرمیوں میں گلیشئرز پگھلنے کے باعث دریا میں پانی کی مقدار خریف کے سیزن میں پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے ربیع کے مقابلے میں۔

کرہءارض اور لوگوں پربدلتے موسم یا کلائمیٹ چینج کے اثرات کا بنیادی ذریعہ پانی ہی ہوگا۔ یہ نہ صرف آبی وسائل میں تبدیلی لائے گا بلکہ اس حوالے سے یہ وسیلہ اور کمیاب ہوتا جائے گا۔

پاکستان کا شمار پانی کے کمی والے اور نیم خشک ممالک میں کیا جاتا ہے۔یہاں بارشوں کا سالانہ اوسط 240 ملی میٹر ہے۔آبادی اور دستیاب پانی کے درمیان عدم توازن کے باعث پاکستان کا شمار پانی کی کمی والے ممالک میں کیا جاتا ہے لیکن اس کی تیز رفتار بڑھنے والی آبادی اسے بہت جلد انتہائی کمی والے ممالک میں لے جائے گی۔ آبادی اور زراعت کا دارومدار دریائے سندھ کے پانی پر ہے، اور گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈی سینٹر(GCISC) کی تحقیق کے مطابق آئندہ پچاس سالوں میں مغربی ہمالیائی گلیشئرز میں کمی واقع ہوگی جس سے دریا میں پانی اور بھی کم ہوجائے گی،اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو ہمالیائی خطے پر انحصار کرنے والے ممالک کی معیشت، ماحول اور معاشرے پر برے اثرات مرتب ہوں گے، یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کے آبی ذخائر قراقرم اور کوہ ہندوکش کے گلیشیئرز پر زیادہ تر انحصار کرتے ہیں،اور ماہرین کے مطابق بدلتے موسموں کے اثرات کے تحت اس میں بہت زیادہ پگھلاؤ دیکھنے میں نہیں آیا ہے،مشاہدہ اور تحقیقی نتائج واضح کررہے ہیں کہ پانی کی کمی بدلتے موسموں کے اثرات سے اور بڑھ جائے گی، اور اس کے اثرات معیشت اور معاشرہ، ذاتی کمی، قدرتی آفات میں اضافہ، بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی بالائی اور زیریں علاقوں میں رہنے والوں میں تنازعات میں اضافہ آنے والے دنوں میں بڑھ جائے گا۔

آج پانی کے مسائل کے پیش نظر کچھ اقدامات ضروری نظر آتے ہیں جن کے حوالے سے حکومت کو فوری توجہ دینی چاہیے، ان میں چند درج ذیل ہیں۔

آبی وسائل اور خارجہ پالیسی

ہمیں آبی وسائل کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرنو مرتب کرنا ہوگا تاکہ سرحدوں سے باہر ان مشترکہ وسائل کا پائدار انتظام کیا جاسکے ۔ آنے والے وقتوں میں صرف بھارت سے ہی نہیں بلکہ افغانستان سے بھی آبی تنازعات میں اضافہ ہوگا ۔ موسمیاتی تبدیلیاں دریائے کابل کے پانی کی مقدارکو بھی متاثر کررہی ہیں لہذا اس حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان حساسیت بڑھے گی ۔ دریائے سندھ کے پانی پر بھارت کا تسلط اس کے بالائی علاقے میں ہونے کے باعث ہے جبکہ افغانستان کے دریائے کابل پر ہم بالائی اور زیریں دونوں علاقوں سے متعلق ہیں، افغانستان اس دریا کے درمیانی حصے سے متعلق ہے ۔ سندھ طاس کے معاہدے کا موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ازسرنو جائزہ اور افغانستان سے دریائے کابل پر ایک نئے معاہدے کی تشکیل آنے والے دور کے مسائل کا واحد حل ہوگا ۔
پاکستان اور بھارت دونوں ممالک آبی وسائل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بداعتمادی کو غیر اہم نہ جانیں اور فوری طور پر سندھ طاس معاہدے کو بھی اپنی بات چیت کے ایجنڈے میں سر فہرست لے آئیں ۔

بھارت کو یاد دلانا ہوگا کہ سندط طاس معاہدے کی شق نمبر 7 میں Futur Coperation کا ذکر ہے لیکن اگر ہم بھارت کا اس حوالے سے کردار دیکھیں تو حال یا مستقبل کسی حوالے سے کوئی مشترکہ سوچ موجودنہیں ہے ۔ اس کے ڈیموں کی تعمیر اس بات کی غماز ہے کہ وہ صرف اپنے مفاد کے لیے کام کرتا رہے گا اوراس حوالے سے کسی بھی قاعدے اور قانون کے ٹوٹنے کی پروا نہیں کرے گا ۔
پڑوسی ممالک کے درمیان بین السرحدی مسائل پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ آبادی میں اضافہ اور معاشی سرگرمیوں کا بڑھنا ان تنازعات کو اور بڑھاوا دے رہا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین آبی وسائل کے منصفانہ تقسیم کے لیے ایک معاہدہ” سندھ طاس معاہدہ“ موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد کے حوالے سے بہت سے سوال اٹھتے ہیں ۔ دریائے کابل کے پانی پر بھی تنازعات کھڑے ہوسکتے ہیں لہذا ” کابل طاس “ معاہدہ عمل میں لایا جائے۔ آبی سفارت کاری کے ضمن میں ٹریک 3 کے تحت دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا آغاز بھی فوری کیا جائے۔

صوبوں کے مابین اعتماد سازی

دریائے سندھ پر تین ذخیرہ گاہیں منگلا، تربیلااور چشمہ قائم ہیں جہاں خریف کے موسم میں جمع ہونے والا پانی ربیع کی فصلوں تک چلایا جاتاہے۔ ان ذخیرہ گاہوں صرف 35 دن کا پانی جمع کیا جاسکتا ہے جبکہ اب یہ گنجائش کم ہوکر 27 دن رہ گئی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ صوبوں کے مابین کسی بھی بڑے ہائڈروپاور ڈیم کے لیے کس طرح اعتماد بحال کیا جائے؟ اس حوالے سے ضروری ہے کہ بات چیت کا آغاز ہو، اٹھتے ہوئے تمام سوالات کے تسلی بخش جواب دیے جائیں اور پانی کی تقسیم کے حوالے سے منصفانہ اور شفاف طریقہ ءکار طے کیا جائے۔ تمام معلومات کا اکھٹا کرنااور متعلقین تک اس کی رسائی بہت ضروری ہے تبھی لوگ متعلقہ ماحولیاتی مسائل سمجھ سکیں گے جو فیصلہ سازی میں مددگارثابت ہوگا۔

صوبوں کے درمیان دریائے کابل اور دریائے سندھ کے پانی پر تنازعات انتہائی شدید ہیں اور اس کی بنیادی وجہ اعتماد کی انتہائی کمی ہے ۔ اس حوالے سے ایسے اقدام ضروری ہیں جس سے صوبوں کے مابین اعتماد بڑھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے جو تنازعات ہمارے صوبوں کے درمیان ہے اس کی بنیادی وجہ آئین کی دفعہ 161نظر آتی ہے، اس حوالے سے ماہر آبی امور اور ماحولیات ڈاکٹر پرویز امیر بھی زور دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ”پاکستان میں آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر میں آئین پاکستان کی دفعہ 161 بھی بہت بڑی رکاوٹ ہے جس کے مطابق ہائڈرو پاور کی رائلٹی اس صوبے کو ملے گی جس کی زمین پر پاور ہاؤس تعمیر ہوگا۔

آئین پاکستان کی یہی دفعہ 161 صوبوں کے مابین فساد کی جڑ بنی ہوئی ہے۔ اگر ہماری پارلیمنٹ متفقہ طور پر اس شق کو تبدیل یا ترمیم کردیتی ہے جس سے پورے پاکستان کو مساوی حقوق ملیں تو شاید صورت حال کچھ بدل جائے، ایک اعتماد کی فضا پیدا ہو اور آبی ذخائر کی تعمیر میں اتنی رکاوٹیں پیش نہ آئیں۔ہندوستان اپنے چھوٹے ڈیمز اور بیراجوں کی تعمیر اور مرمت سے 285 ملین ایکڑ پانی جمع کرنے کے لیے اپنا %40 کام مکمل کرچکا ہے جبکہ پاکستان ابھی تک صرف %10 ہی کرچکا ہے۔یہی صورت حال رہی تو آئندہ سیزن میں گندم کی فصل کو نقصان ہوگا۔ اس کی قیمت لوگوں کی قوت خرید سے اور باہر ہوجائے گی۔

یہ بھی ایک خوش آئند بات ہے کہ اب پاکستان میں زراعت اور توانائی کی ضروریات کو پوراکرنے کے لیے چھوٹے اور درمیانے ڈیموں پر توجہ دی جارہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایسے کئی ڈیموں پر کام جاری ہے ۔

نہری پانی کی پیداواری صلاحیت اور چھوٹے ڈیموں کی کارکردگی میں اضافہ

پاکستان میں نہری نظام اور چھوٹے ڈیموں کی پیداواری صلاحیت سے دنیا کے دیگر ممالک مثلا مصر،ترکی اور ایران وغیرہ سے کم ہے۔اس صلاحیت میں اضافے کی غرض سے فصلوں کے لیے معیاری بیجوں کا استعمال، کھیتوں میں آب پاشی کے جدید اور کم خرچ طریقے مثلا فوارہ اورقطرہ آب پاشی وغیرہ سے پانی کا ضیاع کم کیا جائے گا۔ روزگار کے نئے مواقع سے بھی زراعت اور خصوصا پانی پر دباؤکم ہوجائے گا۔

 اسی طر ح چھوٹے ڈیموں کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ ساتھ ، مقامی افراد کے شراکتی منصوبوں سے پانی کی مقدار میں اضافہ اور ساتھ ہی حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے لیے بھی ماحول بہتر بنایا جاسکے گا۔

اس وقت دنیا بھرکی نظریں ہمالیائی خطے کے ممالک اوران کے آبی وسائل پر مرکوز ہیں۔ یہ خطہ اپنے آبی وسائل کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا کے کئی اہم ترین دریا اسی خطے کی پگھلتی برف سے رواں دواں رہتے ہیں۔ اس خطے کے دریائی علاقوں کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے والے ممالک میں پاکستان، افغانستان،بنگلہ دیش،بھوٹان،انڈیا،چین اور نیپال شامل ہیں۔دنیا کی %21  آبادی ان ہی ملکوں میں آباد ہے ۔ یہی خطہ دیگر جنوبی ایشیائی دریاؤں کے ساتھ ساتھ دو بڑے دریایعنی عظیم دریائے سندھ اور برہم پترا کا منبع بھی ہے۔ ہمالیہ سے پھوٹتے پانی کے یہ سرچشمے یعنی برہم پترا، گنگا،سند ھ، میگھنا 1.5بلین یعنی ڈیڑھ ارب لوگوں کی زندگیوں کو رواں دواں رکھتے ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ اس خطے کے لوگ اور حکومتیں مشترکہ طور پر ایسے اقدام کریں جس سے اس علاقے کے آبی وسائل مزید منظم ہوں اور زیریں علاقوں میں رہنے والے بھی اس سے مستفید ہوں، شاید یہی بقا کا راستہ ہوگا۔

ےہ امر مسلم ہے کہ پانی نہ صرف حےاتےاتی نمو کے لیے اےک جزو لازم ہے بلکہ ماحول کو متناسب اور متوازن رکھنے کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ صوبہ بلوچستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے یہاں کے بسنے والوں نے آبی ذخائر کا جس بے دردی سے ضیاع کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ نتیجتاً اس صوبے میں پانی کی کمیابی نہایت سنگین مسئلہ اختیار کر گئی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ پانی کی قلت ماحول پر اس خطرناک طریقے سے اثر انداز ہو رہی کہ خطرہ ہے کہ اگر کوئی سد باب نہ کیا گے تو شاید اس صوبے کے بیشتر علاقے انسانی و حیوانی زندگی کے لیے موزوں نہ رہیں گے۔

 آج سے تقریباً تیس سال قبل سبز انقلاب کا نعرہ لگایا گیا اور اس انقلاب کو بپا کرنے کے لیے جس بے دردی سے ماحولیاتی عناصر بالخصوص پانی کے ذخائر کو استعمال کیا گے  اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بلوچستان کے مختلف اضلاع ماحولیاتی بد حالی کا شکار ہیں اور اپنے پانی کے ذخیروں جس میں ان کی آنے والی نسلوں کا بھی حصہ تھا خرچ کر بیٹھے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آبی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے صورت حال بہت حوصلہ افزا نہیں ہے ۔اس منظرنامے میں صرف پانی کی کمی ہی نہی بلکہ اس کا تحفظ بھی ایک اہم مسئلہ ہے ۔آبی وسائل محدود ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ان کے بہتر انتظام کے لیے ملک کا انڈس بیسن اریگیشن سسٹم موجود ہے جو ملک کا قابل قدر اثاثہ ہے۔ دنیا کے بڑے نہری نظامو ںمیں سے ایک دریائے سندھ کا نہری نظام وفاق کے ماتحت ہے۔ یہ نہری نظام ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے ۔ اس نظام کے ڈھانچے کی مالی قدر 300 ارب ڈالر ٹھہرتی ہے۔ جبکہ معیشت میں اس کا حصہ 18 ارب ڈالر یا جی ڈی پی کا %21  ہے۔ 

Thursday, April 9, 2009

پانی کے مسائل اور ماحول کا سال

مارچ کے تیسرے ہفتے ۱۶ تا  ۲۲  مارچ میں شروع ہونے والے پانچویں ورلڈ واٹر فورم میں ۲۰،۰۰۰ افراددنیا بھر میں پانی کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لیے یکجا تھے۔  یہ فورم اس بار ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا ۔ اس فورم میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اورماحول کے حوالے سے کام کرنے والے مجھ سمیت ۴۱ صحافی بھی اس تاریخی فورم میں شامل تھے۔سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی صحافیوں کی ایک تنظیم میڈیا ۲۱ ہماری میزبان تھی۔



 اس فورم کا بنیادی خیال Bridging divides for Water تھا۔ عالمی سطح پر واٹر فورم منانے کا سلسلہ نوے کی دہائی کے آخری سالوں میں شروع ہواتھا ۔  یہ فورم ہر تیسرے سال منعقد ہوتا ہے۔پہلا ورلڈ واٹر فورم ۱۹۹۷مراکش میں دوسرا ۲۰۰۰نیدر لینڈ میں  تیسرا ۲۰۰۳ جاپان  چوتھا ۲۰۰۶ میکسیکو میں اور یہ پانچواں ترکی کے خوبصورت اور تاریخی شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا۔ اس فورم کے انعقاد کا بنیادی مقصد دنیا کو پانی کے حوالے سے درپیش چیلینجز سے آگاہی اور پانی کے مسائل کو حکومتوں اور ساست دانوں کے سرکاری اور سیاسی ایجنڈے میں سر فہرست لانا ہے۔ اس فورم کا افتتاح ترکی کے صدر عبداللہ گل نے کیا جبکہ اور بہت سے ممالک کی سرکردہ شخصیات نے بھی اس میں شرکت کی۔ خبر گرم تھی کہ پاکستان سے بھی بہت سے لوگ شرکت کر رہے ہیں لیکن معذرت کے ساتھ مجھے کہیں بھی پاکستان کی نمائندگی خصوصا سرکاری سطح پر نظر نہیں آئی۔  ایک آدھ اسٹال ہی کہیں لگادیا جاتا۔  پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود آبی تنازعات کو اجاگر کرنے کا یہ بہترین موقع تھا کیونکہ اس بین الاقوامی فورم پردنیا بھر کے واٹر ایڈووکیٹ جمع تھے۔ لیکن خیر سرکار کا کام سرکار ہی جانے!

استنبول ترکی کا دارالحکومت نہیں ہے لیکن تاریخی اہمیت کی بنا پر اسے ترکی کے دارالحکومت انقرہ پر سبقت حاصل ہے۔صدیوں پرانے اس شہر کے قدیم درو دیوارگذرتے وقت کو اپنے اندر سمیٹے تاریح سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ آپ چاہیں تو گذرے ہوئے وقت کو محسوس بھی کرسکتے ہیں اور چھو بھی سکتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔ تین ہزار چھوٹی بڑی مسجدوں کے شہر استنبول کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ میرے لیے اس شہرکی اہمیت کا حوالہ مذہبی تھا۔  مرکزی شہر سے دور گولڈن ہارن کے کنارے محترم صحابی اور میزبان رسول ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری آرام فرما ہیں۔  سلطان محمد فاتح نے یہاں ایک شان دار مقبرہ اور ایک عالی شان مسجد تعمیر کروائی ہے۔ سلطان ہی کے ہاتھ کا لگا ہوا ایک بہت بڑا اور قدیم درخت مزار کے احاطے میں موجود ہے۔  ترک عقیدت و محبت سے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کو سلطان ایوب کہتے ہیں۔  یہاںحضور اکرم ﷺ کی نعلین مبارک موجود ہے جس کے دیدار کے بعد بلاشبہ انسان خود کو خوش نصیب سمجھنے لگتا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر فاتحہ پڑھ کر اور نعلین مبارک کے دیدار کے بعد ہمارا دوسرا اہم کام توپ کاپی میوزیم کی زیارت تھی۔ توپ کاپی میوزیم دراصل ترکی کے سلطان محمد دوم کا محل تھا جس کے ایک حصے کو میوزیم کی شکل دی گئی ہے۔ شاید مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد یہ وہ محترم شہر ہے جہاں حضور اکرمﷺ اور دیگر انبیاءکی اتنی اہم اور متبرک اشیا اکھٹی موجود ہوں۔ یہاں کیا نہیں ہے کسے دیکھیں اور کسے نہ دیکھیں اور کس طرح دیکھیں کہ یہ سب آنکھوں میں بس جائے۔ حضورﷺ کا دندان مبارک، داڑھی مبارک کے بال ، نقش قدم مبارک، چار تلواریں، مہر مبارک، مدینے کی مٹی، روضہ رسول پر بچھنے والا قالین ، کعبے کے طلائی تالے ، حجر اسود کا طلائی کیس، حضرت ابراہیمِؑ کا پیالہ ، حضرت یوسف ؑ کا صافہ یا پگڑی ، حضرت موسیؑ کا عصا، حضرت عیسیؑ کی تلوار، خلفائے راشدینؓ اورزبیر بن عوام ؓکی تلواریں غرض اور بھی بہت کچھ جسے یاد رکھنا بھی بہت مشکل ہے کہ وہاں یہ سب دیکھتے ہوئے انسان کسی اوردنیا میں پہنچ جاتا ہے۔

 اسی تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل شہر استنبول کو پانچویں ورلڈ واٹر فورم کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ 

دنیا میں اس وقت پانی کے حوالے سے بہت گرما گرمی پائی جاتی ہے۔ خصوصا وہ ممالک بھی جہاں پانی کا فی الحال کوئی مسئلہ نہیں ہے بہت سرگرم ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بدلتے موسموں کی بے ترتیبی کسی بھی وقت ان کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا کرسکتی ہے۔لیکن وطن عزیز جو پانی کی کمی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے یہاں اس حوالے سے کوئی فکرمندی یا تشویش نہیں پائی جاتی ہے ۔ گویا راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

 رواں سال جسے ماحولیات کے قومی سال کا نام دیا گیا تھا دھیرے دھیرے مٹھی میں بند ریت کی طرح سرک رہا ہے۔ سال کا چوتھا مہینہ اپریل بھی اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی ایک بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جسے ہم ماحول کی بہتری کے لیے بنیادی قدم قرار دے سکیں۔  اپنے پچھلے مضمون میں ہم نے لکھا تھا کہ پاکستان پانی کے حوالے سے اپنے بیش بہا قدرتی وسائل کے باوجود انتہائی مشکلات سے دوچار ہے اور مستقبل میں یہ مشکلات اور بڑھ جائیں گی اگر ہم نے اس حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی۔ کم از کم اس سال پانی کے حوالے سے چند ضروری اور بنیادی نوعیت کے کام کر لیے جاتے تاکہ کچھ بھرم ہی رہ جاتا۔ پاکستان میں پانی کا مسئلہ بھی عجب پیچیدہ مسئلہ ہے   ہم وہ کم نصیب ہیں جو خشک سالی کے دنوں میں قحط و افلاس کے ہاتھوں جان دیتے ہیں اور اگر قسمت یاوری کرجائے اور رحمت خداوندی برس جائے تو پھر دریا ، ندی نالوں سے چھلکتا سیلاب بلائے جاں بن جاتا ہے۔ پانی کے حوالے سے ہم دسیوں بین الاقوامی معاہدوں کے شریک ہیں پاکستان میں پانی اور زراعت کی قومی پالیسیاں بھی تیار ہےں مگر بوجوہ یہ ابھی تک فائنل نہیں ہوسکی ہیں۔  اس کی کیا وجہ ہے یہ ہم نہیں جانتے لیکن کم از کم یہی کام ہم اس سال کرلیا جائے۔  پانی کی پالیسی ۲۰۰۵ میں تیار ہوئی تھی لیکن ابھی تک منظوری کے مراحل سے نہیں گذری جبکہ زراعت کی پالیسی ۱۹۹۰ کی تیار کردہ ہے۔  اب جبکہ یہ پالیساں ابھی تک روایتی دفتری مراحل سے گذر رہی ہیں لہذا اس مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتر ہے کہ ان کی منظوری سے پہلے ان میں چند اہم نکات کا اضافہ کردیا جائے۔  ہماری معلومات کے مطابق دونوں پالیسیوں میں موسمی تبدیلیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے یا اس کا صرف سرسری ذکر ہوا ہے۔  حالانکہ اب سب سے زیادہ یہی موضوع وقت کی ضرورت ہے کیونکہ موسمی تبدیلیاں سب سے زیادہ پانی کے معمولات کو ہی متاثر کررہی ہیں اور کریں گی۔  چاہے پہاڑوں میں گلیشیئر کا پگھلنا ہو  دریاؤں میں پانی کی روانی کا تسلسل ہو  صوبوں کے مابین پانی کے تنازعات ہوں یا سرحدوں سے باہر کے مسائل ہوں ان تمام مسائل کی جڑیں بنیادی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے ہی جا کر ملتی ہیں اس کے بعد پانی کا انتظام اور تقسیم وغیرہ کے مسائل سامنے آتے ہیں۔  ہمارے سامنے عالمی بینک کی ایک رپورٹ موجود ہے جس کے مطابق پاکستان کی معیشت ماحول کی تباہی کی قیمت ۳۶۵ ارب روپے سالانہ (مجموعی جی ڈی پی کا ٪۶ ادا کررہی ہے یعنی ایک ارب روپے روزانہ !  ایک کمزور معیشت کے لیے یہ نقصان کتنا خطرناک ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے کسی معیشت داں کی ضرورت نہیں ہے۔  پانی کی صفائی کے ناقص نظام، پانی کی آلودگی اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی صورت  ۱۱۲ ارب  زرعی شعبے کی بدحالی کی مد میں ۷۰ ارب  گھریلو فضائی آلودگی کا نقصان ۶۷ ارب  شہروں میں فضائی آلودگی ۶۵ ارب  جبکہ چراگاہوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی پرتقریبا  ۷  ارب روپے سالانہ ضائع ہوتے ہیں۔  اب ذرا غور کیجیے ایک ارب روپے سالانہ ہم اپنی غفلت اور بے پرواہی سے ضائع کر رہے ہیں اور دوسری جانب ہماری حکومت ہر بین الاقوامی فورم پر ہاتھ میں کشکول لیے کھڑی ہے۔  خدا جانے یہ بات ہماری سمجھ میں کب آئے گی کہ معیشت کی جھولی کا یہ سوراخ جس سے ایک ارب روپے روزانہ گر رہے ہیں اگر رفو نہیں کیا جائے گا تو چاہے کتنا ہی قرضہ لے لیا جائے جھولی ہر گز نہیں بھرے گی۔

دنیا بھر میں بدلتے موسم ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آرہے ہیں اور تمام ممالک حتی الامکاں ایسی حکمت عملیاں تیار کررہے ہیں جو ان بدلتے موسموں سے ہم آہنگ ہوں خصوصا  Climate Change adaptation in the water sector اب وقت کی ضرورت تسلیم کر لی گئی ہے۔  کلائمیٹ چینج ہمارے لیے بھی ایک چیلنج بن کر موجود ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناتے ہمارے مسائل اور گمبھیر ہیں۔ درجہ حرارت کے بڑھنے سے ہمارے پانی کے وسائل براہ راست متاثر ہورہے ہیں اور ہر دو صورت میں یعنی سیلاب ہو یا خشک سالی ہمارے لیے عظیم بحران موجود ہے مثلا درجۂ حرارت کے بڑھنے سے پاکستان کے لیے پہلا خطرہ ہمالیائی گلیشیئرز ثابت ہوں گے۔ ان گلیشیئرز سے دنیا کے کئی بڑے دریا مثلاً دریائے سندھ گنگا برہم پترا  سلوین میکا ونگ یانگ ژی اور زرد دریا   نکلتے ہیں جن کا پانی پاکستان بھارت چین اور نیپال میں زندگی کو رواں دواں رکھنے کا باعث ہے۔ گرمی کے بڑھنے سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھلیں گے اور ان دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گی جس سے کناروں پر آباد لاکھوں افراد کو سیلاب کا سامنا ہو گا۔ سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے جس قدر کثیر سرمایہ درکار ہے اس کا پاکستان جیسا غریب ملک تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔کچھ عرصے بعد جب پانی کم ہو جائے گا تو یہی ممالک خشک سالی کا عذاب سہیں گے۔ زراعت تباہی سے دوچار ہو گی، قحط پھیلے گا اور ان غریب ممالک پر افلاس کے سائے اور گہرے ہو جائیں گے۔  یہ وہ کم از کم خطرات ہیں جو کسی ناکردہ جرم کی سزا کے طور پر پاکستان کو بھی بھگتنا ہوں گے۔

پانی ہمارے لیے موت اور زندگی کا مسئلہ ہے

 پانی کے بارے میں ہمیں سنجیدگی سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی ۔  ہندوستان نے اپنے دریاؤں پر دسیوں بڑے ڈیم بنا کر نہ صرف اپنا پانی محفوظ کر لیا ہے بلکہ پاکستان کے دریاؤں کا پانی بھی دھڑلے سے چرا رہا ہے۔ لیکن پاکستان کے پاس صرف دو ڈیم ہیں اور یہ دونوں ڈیم بھی مٹی اور ریت بھر جانے کے باعث اپنی گنجائش سے بہت کم پانی ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بہت کم ہے مثلا امریکا اور آسٹیلیا کی آبی ذخیرے کی صلاحیت ۵۰۰۰  کیوبک میٹر پر کیپیٹا اور چین کی ۲۲۰۰ کیوبک میٹر پر کیپیٹا ہے جبکہ پاکستان کی یہ صلاحیت صرف  ۱۵۰ کیوبک میٹر پر کیپیٹا ہے۔  بھارت اپنے ذخیرہ کردہ پانی سے اپنے متعلقہ دریاؤں کو ۱۲۰ سے ۲۲۰ دن تک رواں رکھ سکتا ہے جبکہ پاکستان کے دریا صرف ۳۰ دن تک رواں رہ سکتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے پانی کو کہیں ذخیرہ نہیں کر سکتے پانی کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق استعمال بھی نہیں کرسکتے۔ ماہرین کے مطابق تقریبا ۸  سے ۱۰ مقامات دریائے سندھ پر ایسے ہیں جہاں پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔  چھوٹے ڈیم کم مدت اور کم لاگت میں تعمیر کیے جاسکتے ہیں اس کے لیے نہ غیر ملکی قرضوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی ماہرین کی۔  اپنے وسائل اور اپنی مہارت سے ہم باآسانی یہ کام کرسکتے ہیں۔  یہ بدلتے موسم یعنی خشک سالی اور سیلاب براہ راست صحت کو بھی متاثر کریں گے خصوصا پاکستان جیسے خشک ملک میں جہاں بارشیں کم ہوتی ہیں یہ خشک سالی قیامت مچا دے گی۔ زیر زمین پانی بھی کم ہوتا چلا جائے گا۔پانی میں آلودگی اور بڑھ جائے گی ۔آلودہ پانی سے آنتوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔گرمیوں میں وبائی بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ بے شمار سروے رپورٹ بتاتی ہیں کہ گرمیوں میں ہی متعدی امراض مثلا ملیریا اور ڈینگی کی شدت بڑھتی ہے۔ ہمارے ملک کے سرد حصے جو ان بیماریوں سے محفوظ ہیں لیکن گلوبل وارمنگ کے تحت جب ان علاقوں کا بھی درجۂ حرارت بڑھے گا تو یہاں بھی یہ بیماریاں پھیلنے لگیں گی۔ ان بیماریوں کے علاج کے ضمن میں شہریوں پرجواضافی بوجھ پڑے گا وہ پہلے سے بدحال معیشت کو اور تباہ حال کردے گا۔ حرارت کا بڑھنا شہری گنجان علاقوں کے ساتھ ساتھ جزیروں  ساحلی علاقوں  نیم صحرائی علاقوں اور پہاڑی علاقوں کو بھی یکساں طور پر متاثر کرے گا۔ پاکستان جیسا غریب اورترقی پذیر ملک جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرتے ہیں جہاں انسانوں کا خون پانی سے بھی ارزاں اور پینے کا صاف پانی جنس گراں مایہ بن چکا ہو  جہاں لمبی قطاروں میں لگ کر آٹا دال خریدنا پڑتا ہو وہاں   climate change سے پیدا ہونے والے ان مسائل پر کون توجہ دے گا اور اس سے کون نمٹے گا؟ بسا اوقات مایوسی کا شدید احساس ہر امید کو ڈسنے لگتا ہے!

پانی کے بعد زراعت ہمارا اہم ترین شعبہ ہے ۔ اگر ہم چاہیں تو اس سال اس حوالے سے بھی چند ایک اہم فیصلے کرسکتے ہیں۔ ہمارا زرعی شعبہ پانی کی کمی سے دوچار ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا ٪۹۰ پانی جوزراعت میں استعمال ہوتا ہے اس میں سے ۲۰ سے ۳۰ فیصد راستے ہی میں ضائع ہوجاتا ہے ۔ ہمیں اس ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔  پاکستان کی زرعی فصلوں پر بھی دھیان دینا ہوگا۔ کیونکہ پانی کی بچت انتہائی ضروری ہے۔ ایسی فصلیں اگانا جس میں پانی کم استعمال ہو اور وہ منافع زیادہ دیں بہت ضروری ہوگا ۔ آنے والے وقتوں میں پرانی روایتی فصلیں اگانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

 ہماری تقریبا ۶۰فی صد آبادی شہروں میں رہے گی اس لیے ضروری ہے کہ تمام ضروریات زندگی مثلا سبزیاں   پھل   جانوروں کی پرورش اور دیگر تمام سرگرمیاں شہروں کے قریب ہوں۔ اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور کاربن کا اخراج بھی کم ہو گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ میں درختوں کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ موجودہ جنگلات کے بچاؤ کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔کیونکہ موسمی تبدیلی سے سیلاب آئیں گے۔  اس کے لیے ہمیں مربوط منصوبہ بندی اور زون بنانے ہوں گے۔  یاد رہے کہ ان تمام تبدیلیوں اور خطرات کی زد میں ہمارا غریب اور مظلوم طبقہ ہی نشانہ بنے گااورزیادہ تر علاقوں سے غریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔  اس کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ورنہ اس نقل مکانی کے بہت برے اثرات رونما ہو سکتے ہیں۔ پاکستان موسمی تبدیلیوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا لیکن بروقت بہترین منصوبہ بندی سے اس کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔

ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی عوام کو بھی ذہنی طور پر ان آفات سے نمٹنے کے لیے تیار کریں۔  ہمارا میڈیا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے جو لوگوں کو آنے والے کل کے خطرات سے آگاہ بھی کرسکتا ہے اور بچاؤکے لیے راستے بھی بتا سکتا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اب سیاست اور سیاست دانوں کے دائرے سے باہر نکلے ۔  زندگی کے اور بھی بہت سے حقائق ہماری توجہ چاہتے ہیں۔  اگرچہ سرکاری سطح پر کوئی خوش آئند بات نظر نہیں آتی لیکن عدلیہ بحالی کی حالیہ تحریک کی کامیابی امید کے در وا کررہی ہے کہ اب پاکستان بدل رہا ہے۔  خدا کرے کہ اس بدلتے ہوئے پاکستان میں رہنے والوں کے دن بھی بدل جائیں! آمین۔