Showing posts with label پاکستان. Show all posts
Showing posts with label پاکستان. Show all posts

Friday, December 19, 2008

پانی کی چوری اور سرکاری خاموشی

سولہ کروڑ عوام کو جاگنا ہوگا

 قوم کو مبارک ہوکہ چناب کے پانی کے روکے جانے کا مسئلہ حل ہو گیا ! من موہن سنگھ جی نے امریکا میں یہ کہہ کر ہم سب کا من موہ لیا کہ سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔  یقینا عمل کیا جائے گا اور بھارت ایسا کر بھی رہا ہے ۔ کیا ہوا جو اس نے چناب کا پانی روکنے کے لیے غیر قانونی طور پر دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم تعمیر کرلیا ہے  جس کا ابھی حال ہی میں افتتاح کیا گیا ہے اور وہ بھی من موہن جی کے دست مبارک سے  یا وہ دریائے سندھ کا 40% پانی ایک خفیہ ٹنل کے ذریعے چوری کرکے دریائے برہم پترا میں ڈال رہا ہے اور اس سے بھی معاہدے کی روح پر بھلا کیا اثر پڑے گا کہ وہ دریائے سندھ کے اوپر کارگل کے مقام پر ایک بہت بڑا کارگل ڈیم بنا رہا ہے جو دنیا کا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا، جس کی تعمیر کے بعد دریائے سندھ کی حیثیت ایک برساتی نالے سے زیادہ کی نہیں رہ جائے گی۔بھارت دریائے سندھ میں آکر گرنے والے ندی نالوں پربھی 14چھوٹے ڈیم بنا رہا ہے اسی طرح جہلم سے ایک اور بگلیہار سے دو نہریں نکال کر راوی میں ڈالی جارہی ہیں اور راوی کا پانی ستلج میں ڈال کر راجھستان لے جایا جارہا ہے۔ جہلم پر 12اور چناب پر مزید 20 چھوٹے ڈیم بنائے جانے کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور یہ تمام آبی تجاوزات ان دریاؤں پر ہورہی ہیں جو سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آئے ہیں اور معاہدے کے مطابق ان دریاؤں کے پانی روکنے اور ان پر ڈیم بنانے کا بھارت کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ لیکن ظاہر ہے ان چھوٹی بڑی خلاف ورزیوں سے معاہدے کی روح پر بھلاکیا اثر پڑتا ہے جبھی تو ہماری حکومت بھی اتنی مطمئن نظر آرہی ہے۔بھارت کی تاریخ عہد شکنی سے عبارت ہے ، اس نے کبھی کسی معاہدے اور قانون کی پابندی نہیں کی۔ 

               چاہے وہ مسئلہ کشمیر ہو، سر کریک تنازعہ ہو یا آبی مسائل وہ ہر مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہش مند ضرور نظر آتا ہے لیکن برسوں کے تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی مسئلے کے حل میں تعطل پیدا کر دینے کا یہ وہ بہترین ہتھکنڈا ہے جسے بھارت مہارت سے استعمال کرتا ہے۔

کوئی نہیں ہے جو بھارت کو سچ کا آئینہ دکھائے ؟دریائے چناب کے پانی میں سے 7سے 8 ہزار کیوسک پانی بھارت روزانہ چوری کر رہا ہے۔اب صورت حال یہ ہے کہ پنجاب کی اس وقت تمام نہریں بند ہوچکی ہیں ان میں ریت اڑ رہی ہے ۔ساہیوال ،اوکاڑہ ،ملتان ،ایسٹرن بار ،اور ویسٹرن بار کے 35 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ جون سے اب تک پنجاب اور سندھ کی سوا کروڑ اراضی پانی کی کمی سی دوچار ہے اور قوم کو چاہے کتنے ہی دھوکے میں رکھا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ گندم کی فصل کا ہدف اب پورا ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔یہ صورت حال جاری رہی تو خدانخواستہ بہت جلد یہاں ایتھوپیا اور صومالیہ جیسے حالات پیدا ہوجائیں گے اورشمالی کوریا اور روانڈا کی طرح ہماری انتہائی زرخیز زرعی زمینیں اجاڑ ویران اوربے آباد ہو جائیں گی۔اس سنگین صورت حال پر حیرانی یہ ہے کہ کوئی بات ہی نہیں کر رہا ہے ، پچھلی حکومت سے خیر کسی کو کوئی امید نہیں تھی لیکن اس حکومت کو کیا ہوا؟ ایک خاموشی ہے ہر بات کے جواب میں! کیا اس مسئلے کے کرتا دھرتا اس خاموشی کا کوئی تسلی بخش جواز پیش کر سکتے ہیں؟ شاید نہیں ۔۔۔زنجیر بہت مضبوط ہے۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد دونوں ملکوں کے مابین 18 دسمبر 1947 کو ایک معاہدہ کیا گیا جس کی رو سے دونوںممالک کے درمیان پانی کی تقسیم ملکوں کی تقسیم سے پہلے والی پوزیشن پر ہی رکھنی تھی لیکن 8 ماہ سے بھی کم مدت کے اندر بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے آب پاشی کے لیے مخصوص ہر اس نہر کو بند کر دیا جو فیروز پور اور گورداسپور سے نکل کر دونوں ملکوں کی سرحد عبور کر رہی تھی۔ بھارت کی اس کارروائی کے باعث پاکستانی کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔انڈیا کا مطالبہ تھا کہ بھارتی پنجاب سے گزرنے والے تمام دریاؤں پر پاکستان، بھارت کا حق تسلیم کرے اور ان دریاؤں کے پانی پر پاکستان پنجاب کے باشندوں کے حق اور حصے کا مطالبہ نہیں کرے۔ اس کے برعکس پاکستان کا مطالبہ تھا کہ پانی کے استعمال یا کھپت کی موجودہ صورت حال جوں کی توں رہنے دی جائے البتہ زائد پانی کو دونوں ممالک کے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے اس مطالبے کو متعدد معاہدوں اور ملکوں کی حمایت حاصل تھی۔لیکن اپریل 1948 میں بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو دریاؤں کے پانی کی فراہمی روک کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی معاہدے اور اخلاقیات کو نہیں مانتا ۔اس آبی بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ایک وزارتی وفد کو نئی دہلی کا ہنگامی دورہ کرنا پڑا اور پانی کی بحالی کے لیے بات چیت کرنی پڑی۔ان مذاکرات میں بھارت نے اصرار کیا کہ مشرقی جانب سے آنے والے تمام دریاؤں پر پاکستان، بھارت کا ملکیتی حق تسلیم کرے ۔بھارت کا یہ مطالبہ سراسر غلط تھا کیونکہ 1921 کے بارسلونا کنونشن کے تحت ، جس کا رکن بھارت بھی تھا، کے مطابق کسی بھی ملک کو ایسے دریاؤں کا پانی روکنے یا ان کا رخ تبدیل کر دینے کا قطعی کوئی حق حاصل نہیں ہے جو کسی ملک کی سرحد عبور کر کے پڑوسی ملک میں داخل ہوتے ہیں۔ مذکورہ کنونشن کے مطاق کسی ملک کو دریاؤں کے پانی کی اس حد تک اور اس طریقے سے استعمال کی اجازت بھی حاصل نہیں کہ اس کے پڑوسی ملک کی زمینیں سیراب نہ ہو سکیں یا وہ پانی کو درست طور سے استعمال نہ کر سکے۔لیکن ہر قاعدے اور قانون سے خود کو ماورا سمجھنے والے بھارت نے اس کنونشن کو بھی اپنی ٹھوکر پر رکھا اور دریاؤں کے بالائی بہاؤ پر واقع اپنی حیثیت اور طاقت کا غیر قانونی مظاہرہ کرتے ہوئے 4 مئی 1948 کو ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد کو ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جس کے تحت اسے ریزرو بینک آف انڈیا میں، بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے مقرر کردہ رقم جمع کروانا ضروری تھا اور اس کے بعد ہی پاکستان کو پانی کی فراہم بحال کی جانی تھی۔ دونوں ممالک کے مابین سرحدوں کا تعین کرتے وقت برصغیر پاک وہند میں قائم نہری نظام پر توجہ نہیں دی گئی تھی البتہ باؤنڈری کمیشن نے یہ تنازع تسلیم کیا تھا۔ متاثرہ علاقوں کے نمائندوں نے ثالثی کمیشن کے سامنے اقرار کیا تھا کہ پانی کی سپلائی پر دونوں ممالک کا حق ہے۔ بہرحال پاکستان کو مجبورا مقررہ رقم بھارتی حکومت کو ادا کرنی پڑی۔مئی 1948 کے اس معاہدے پر دستخط کرنے اور رقم ادا کرنے کے بعد بھی بھارت نے آبی حارحیت برقرار رکھی اور بھارتی رویے سے مجبور ہوکر پاکستان نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس دوران بھارت نے دریائے بیاس اور ستلج کے بالائی حصے میں، فیروز پور سے آگے ہریک کے مقام پر بیراج کی تعمیر شروع کر دی تھی اور بھاگرا کی ڈیم سائٹ پر بھی کام شروع کردیا اور پاکستان کی ہر کوشش اور ہر اعتراض کو اس نے مسترد کر دیا اور یوں حالات ایک خطرناک نہج پر آگئے۔ چونکہ اس مسئلے سے لاکھوں لوگوں کی قسمت وابستہ تھی اور پرامن مذاکرات کے ذریعے اس کا حل بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا لہٰذا امریکا کے ایک مشہور رسالے کولیئر (جو1957 میں بند ہوا) نے ٹینیسی ویلی اتھارٹی کے سابق چیئرمین اور امریکی اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈیوڈ ای کو حقائق معلوم کرنے کی غرض سے بھارت اور پاکستان کے دورے پر بھیجا۔ ان کا کام اس مسئلے پر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرنا تھا جس کی مدد سے یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا۔

وطن واپسی پر ڈیوڈ نے سلسلے وار آرٹیکلز کی صورت میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس سلسلے کا پہلا آرٹیکل ”کولیئر“ کے 4 اگست 1951 کے شمارے میں شائع ہوا۔اس نے لکھا تھا۔ ”ابتدائی نکتہ، جس سے شروعات کی جائے یہ ہو کہ پاکستان کو پانی سے محرومی اور اسے صحرا بنا دیے جانے کے خدشات ختم کیے جائیں۔ پانی کے حالیہ استعمال کے حجم کی بھارت تصدیق کرے اور دونوں ممالک کو پابند کیا جائے کہ وہ اور بھارت صحیح معنوں میں دریا کے بین الاقوامی طاس میں مل کر کام کریں۔ علیحدہ علیحدہ کام کرنے کی صورت میں مذکورہ دونوں ممالک یہ مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے کیوں کہ دریا (سندھ) دونوں ممالک کی سرحد کو خاطر میں نہیں لاتا اور کشمیر، بھارت اور پاکستان سے گزرنے والے اپنے قدرتی راستے پر گامزن رہتا ہے۔ اس پورے نظام کو بطور ایک اکائی ترقی دی جانی چاہیے اور امریکا کے سات ریاستوں کے TVA سسٹم کی طرح بطور ایک اکائی ہی اسے چلایا جانا بھی چاہیے۔

اس وقت کے عالمی بینک کے صدر یوجین آر لیک نے ڈیوڈ کے تحریر کردہ آرٹیکلز پڑھے اور ان سے رابطہ کر کے پوچھا کہ بھارت اور پاکستان کے لیے کیا ان کی تجاویز قابل قبول ہو سکتی ہیں۔ ڈیوڈ سے مشاورت کے بعدصدر عالمی بینک نے دونوں ممالک کے وزرا کے نام خطوط لکھے اور دریائے سندھ کے پانی کے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی غرض سے اپنے دفتر کی خدمات پیش کر دیں۔ اور یہ مذاکرات مئی 1952 میں عالمی بینک کی نگرانی میں شروع ہوئے۔ یہ مذاکرات وقفے وقفے کے ساتھ طویل نو برسوں تک جاری رہے لیکن پاکستان کی سیاسی جماعتیں اڑی رہیں کہ ہم اپنے تین دریا کسی قیمت پر بھارت کے حوالے نہیں کریں گے۔1957 میں پاکستان نے مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا فیصلے کیا ،اسے یقین تھا کہ اسے انصاف مل جائے گا لیکن اس کے فورا بعد ایوب خان تشریف لے آئے اور آتے ہی مذاکرات میں مصروف پاکستانی وفد کو حکم دیا کہ وہ بینک کی تجاویز غیر مشروط طور پر مان لیں۔اختلاف رکھنے والے وفد کو مذاکرات سے نکال دیا اور تین دریا یعنی 30 ملین ایکڑ فٹ قدرت کا عظیم تحفہ بالآخربھارت کے حوالے کر دیا گیا۔بھارتی صحافی کلدیپ نائر کی گواہی موجود ہے ”1951میں جب پاکستان سلامتی کونسل میں جا رہا تھا تو امریکی رضامندی سے معاملہ ورلڈ بینک کو منتقل کر دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) کے پانی پر پاکستان کو حقدار ٹھہرایا اور دیگر تین مشرقی دریا (راوی ، ستلج اور بیاس) بھارت کے حوالے کر دیے۔یہ معاہدہ جسے انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدہ) کا نام دیا گیا اس پر 19 ستمبر 1960 کو بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو، اس وقت کے پاکستانی حکومت کے سربراہ صدر ایوب خان اور اس وقت کے صدر عالمی بینک نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد 365,000 مربع میل کے علاقے کو سندھ طاس میں واقع دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کرنا اور دونوں ممالک کو اپنی اپنی سرحدوں کے اندر پانی کو قدرتی وسیلے کو محفوظ کرنا اور اس کا انتظام کرنا تھا۔ یہ معاہدہ یکم اپریل 1960 سے موثر ہوا۔ اس معاہدے کے شق میں یہ واضح ہے کہ مشرقی دریاؤں کے تمام تر پانی پربھارت اور مغربی دریاؤں کے پانی پر مکمل طور پر پاکستان کا حق ہوگا۔پاکستان میں داخل ہونے والے تمام دریاؤں کے پانی پر اور ان ذیلی دریاؤں کے پانی پر، جو اپنی قدرتی گزرگاہ سے ہوتے ہوئے مرکزی ستلج اور مرکزی راوی میں ضم ہو جاتے ہیں، پاکستان میں داخل ہونے کے بعد پاکستان کا حق ہو گا اور بھارت کسی بھی طرح ان کا بہاؤں روکنے کا مجاز نہیں ہے۔



لیکن ساٹھ سالہ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے کبھی کسی معاہدے کی پابندی نہیں کی اور اب حالیہ آبی حارحیت دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ اس کے لیے سندھ طاس معاہدہ کاغذ کے کسی بےکار پرزے سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور یہ سمجھنا بھی انتہائی خوش گمانی بلکہ بے وقوفی ہوگا کہ وہ ہماری بات چیت سے قائل ہوکر اپنے کروڑوں ڈالر کے منصوبوں سے دست بردار ہوجائے گا۔بھارت نے ان تین دریاؤں کے پانی کو استعمال کر کے انپے صحرا راجھستان کو گلزار بنا دیا ہے لیکن ہم ایسا نہ کرسکے جب بھی کسی ڈیم کی تعمیر کی بات ہوتی ہے تو سیاسی اور جاگیردارانے نظام کے محافظ وہ ہنگامہ مچادیتے ہیں کہ پورے ملک میں افراتفری پھیل جاتی ہے۔ ہماری اس نالائقی کو دیکھتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم واجپائی نے 2001 میں اپنے ایک انٹرویو میں اس خواہش کا اظار کیا تھا کہ  بھارت پیاس سے مر رہا ہے اور پانی کا ایک ایک قطرہ اس کی ضرورت ہے جبکہ ہمارا پڑوسی ملک پاکستان 35 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع کر رہا ہے تاکہ مچھلیاں بچائی جاسکیں۔ 2003 میں اسلام آباد میں ایک کانفرنس ہوئی تھی جس کا موضوع  واٹر اینڈ سیکیورٹی ان ساؤتھ ایشیا  تھا لیکن اگر آپ ریکارڈ اٹھاکر دیکھیں تو موضوع صرف اور صرف دریائے سندھ ،جہلم اورچناب تک محدود رہا۔ کانفرنس میں بھارتی وفد نے ہماری اسی نالائقی کو زیر بحث لاتے ہوئے ایک تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان اب تک اپنے حصے کا پانی استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے لہذا اس پانی کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کی غرض سے سندھ طاس معاہدہ نمبر 2 کیا جائے۔پاکستان کی جانب اس تجویز کی جتنی سخت مخالفت ہونی چاہیے تھی وہ بھی نہ ہوئی اور مشرف حکومت نے اگرچہ یہ معاہدہ نہ کیا البتہ جس طرح بھارت کے جارحانہ اقدام کے جواب میں خاموشی اختیار کی یہ خود قومی سطح کا جرم ہے۔ایک آمر نے معاہدے کے تحت تین دریا بیچ ڈالے تو یقینا دوسرے آمر کا اتنا تو حق بنتا تھا کہ وہ بغیر معاہدے کے تین دریا بخش دے۔

پچھلی حکومت بگلیہار ڈیم کی تعمیر کو چیلینج کرنے کے بجائے اس کی تعمیر پر اعتراض کرکے ایک فاش غلطی کرچکی ہے بلکہ اسے غلطی نہیں غداری کہنا زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ اس طرح اس نے بگلیہار ڈیم کی تعمیر کو تسلیم کرلیا تھا اور یہ غلط ہے کیونکہ دریائے چناب پر کسی ڈیم کی تعمیر کا بھارت کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔بلا شبہہ پاکستان اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔شمالی علاقوںمیں رچایا جانے والا آگ اور خون کا کھیل ہمارے چاروں صوبوں کے گلی محلوں اور سڑکوںتک آپہنچا ہے۔ جمہوریت کے ایک سال بعد بڑے دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کے ساتھ ساتھ قوم کے وہ خواب بھی جل کر راکھ ہوگئے جو سولہ کروڑ آنکھوں نے جمہوریت کی آمد پر امن ،انصاف ،استحکام اورتعمیر نو کے لیے بنے تھے۔ 2001 ءمیں نائن الیون کے بعد جو غلطیوں کے بیج ہم نے بوئے تھے وہ ان سات سالوں میں بارآور ہوئے اور ایسے ہوئے کہ آج یہ فصل خود کش حملوںکی صورت وطن کا بچہ بچہ کاٹ رہا ہے۔ ایسی صورت میں ہم یقینا کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے لیکن کیا ہم اپنے حق کے لیے آواز بھی بلند نہیں کر سکتے ؟ دوستی ،مفاہمت اور مصالحت کی پالیسی یقینا بہتر ہے لیکن کس قیمت پر ؟کیا ملک و قوم کی قیمت پر ؟ اپنے مستقبل کی قیمت پر؟ اور کیا یک طرفہ ایسی کسی پالیسی سے ہمارا بھلا ہوسکتا ہے جسے دوسرا فریق اپنی ٹھوکر پر رکھے اور اسے ہماری کمزوری سمجھے۔نہیں، اپنی بقا کے لیے ہمیں اس حوالے سے ایک واضح پالیسی بنانی ہوگی ، اس مسئلے کو ہر بین الاقوامی فورم پر اٹھانا ہوگا، عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی اس کھلی آبی حارحیت کو چیلینج کرنا ہوگا۔ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے اس کے آگے اس مسئلے کو اٹھانا ہوگا اور اسے اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور کرنا ہوگا ۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی صفوں میں موجود بھارتی مفادات کے لیے سرگرم ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔سندھ طاس واٹر کونسل کے چیئر مین ظہور الحسن ڈائر کے ایک اخباری انٹرویو کے مطابق پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بھارت کے مفادات کے لیے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ محکمہ آب پاشی کے دو اعلی افسران ایسے بھی ہیں جو دن رات اس کوشش میں مصروف ہیں کہ چناب کا معاملہ قومی سطح پر نہ اٹھایا جائے اور وہ اس مقصد کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔حکومت چاہے تو ظہور صاحب کی ان معلومات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

اور وہ تمام لوگ جنہیں کالا باغ ڈیم پر تحفظات ہیں کیا بھارت کی آبی جارحیت ان کے لیے قابل قبول ہے؟ کالا باغ ڈیم کو نہ قبول کرنے والوں کے لیے کیا کارگل ڈیم قابل قبول ہے؟ خصوصا ہمارے سندھی بھائی ، کیا اس سے سندھ کو نقصان نہیں ہوگا ؟ ہزاروں ایکڑ پر مشتمل انڈس ڈیلٹا جو ویسے ہی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے کیا اس سے وہ یہ جنگ ہار نہیں جائے گا؟ ہزاروں ماہی گیر بے سروساماں بھٹکنے پر مجبور نہیں ہوں گے؟ ساحلی حیات برباد ہوجائے گی اور پاکستان سمندری حیات سے جو کثیر زرمبادلہ حاصل کرتا ہے اس سے محروم ہوجائے گا۔لاکھوں ماہی گیر برباد ہوجائیں گے۔ کیا یہ ماہی گیر تنظیموں کا مسئلہ نہیں ہے ؟ کیا یہ انسان کے بنیادی حقوق کی پامالی نہیں ہے اور اگر ہے تو اس کے لیے آواز بلند کرنے والی ملکی اور غیر ملکی تنظیمیں کہاں ہیں؟ میڈیا کیوں خاموش ہے ؟ ہمارے مقبول ترین ٹاک شوز کے میزبانوں کے لیے اس موضوع میں کوئی کشش نہیں ہے؟ ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی تنظیمیں اور جنگلی حیات کے محافظ کہاں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں؟ جاگیے۔۔۔ خدا کے لیے جاگ جائیے !

یاد رکھیے کہ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے صرف8 سال ہیں ۔بھارت 2016   میں اپنا  انٹرلنک ریور پروگرام  مکمل کرلے گا جو اس نے گذشتہ حکومت کی خاموش حمایت سے شروع کیا تھا ۔اس منصوبے کے تحت بھارت اپنے 21 دریاؤں کو باہم رابطہ نہروں سے مکمل کرے گا ۔ 33ڈیم بنائے گا اور10ہزار کلو میٹر طویل نہریں کھودے گا اور 33ڈیم بنائے گا۔ اس منصوبے سے اس کی 360ملین ایکڑ زمین آباد ہوگی اور30 ہزار میگا واٹ بجلی دستیاب ہوگی۔  وہ تو سر سبز و گل گلزار ہوجائے گا لیکن ہمارے ملک میں ریت اڑنے لگے گی ۔اس منصوبے کو بنگلہ دیش نے بھی اپنے لیے ڈیتھ ٹریپ فار بنگہ دیش قرار دیا ہے کیونکہ دریائے گنگا اور برہم پترا کے پانی سے بھی بھارت اسی طرح استفادہ کرے گا۔ ہم بنگہ دیش سے مل کر کوئی راہ نکال سکتے ہیں اور بین الاقوامی فورموں پر احتجاج کرسکتے ہیں۔

 اکیس ویں صدی کے اس گلوبل ولیج میں جنگ کے علاوہ بھی بہت سے راستے ہمارے لیے کھلے ہیں۔اور اگر ہم نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو پھر ہم اپنی آنی والی نسلوں کے لیے قحط اور افلاس کے سوا کچھ نہیں چھوڑیں گے۔پاکستان کی نصف آبادی انتہائی غذائی قلت سے دوچار ہے اورآٹے کا بحران ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے ۔آج یہ مسئلہ جنگ کیے بغیر حل ہو سکتا ہے ، بہت سے دوسرے راستے ہمارے لیے کھلے ہیں لیکن اگر ہم نے دیر کردی تو پھر ہر راستہ بند ہوتا چلا جائے گا سوائے   ۔ ۔ ۔ ۔

Saturday, October 27, 2007

قدرتی آفات اور ماحولیاتی مہاجرین


ہم کتنے بے  خبر ہیں!

سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں، دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات پر ایک شور برپا ہے۔تمام عالمی لیڈر اس حوالے سے عوام میں شعور و آگہی بڑھا رہے ہیں اور تمام حکومتیں ہروہ ممکنہ اقدام اٹھا رہی ہیں جس سے کرہ ارض کومزید تباہی سےبچانے کی کوئی صورت نکل سکے لیکن ہمارے ملک میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے گویا ہم کسی اور کرے کے باسی ہیں اور یہ سارے مسائل ہمارے نہیں ہیں۔اور صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ سکون اور اطمینان کی یہ فضا وائٹ ہاؤس میں بھی ہے۔وائٹ ہاؤس سے باہر کیا ہورہا ہے ، لوگ کیا سوچ رہے ہیں اس سے وائٹ ہاؤس کے مکینوں کو کوئی دلچسپی نہیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہماری حکومت اور رہنماؤں کو کسی بات کی پروا نہیں۔نہ ملک کی اور نہ عوام کی۔ کتنی خوش آئند بات ہے کہ دنیا کی ’سپر پاور‘ اور ’ہمارے‘ بیچ کتنی ہم آہنگی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی اس بے حسی میں بھی اس کا اپنا مفاد پوشیدہ ہے۔امریکا جانتا ہے کہ اگر وہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا اعتراف کر لے تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عالمی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور جب یہ مانے گا تو پھر اسے کیوٹو پروٹوکول جیسے معاہدے پر بھی دستخط کرنے پڑیں گے جو اس کی صنعتوں اور معیشت کے لیے کمر توڑ جھٹکا ثابت ہوگا۔ کیونکہ مضر گیسوں کی جس آلودگی سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ان گیسوں کا 42% امریکا کی صنعتوں کی چمنیوں سے ہی خارج ہوتا ہے جو اس معاہدے کے بعد پابندیوں سے گھر جائیں گی ۔گویا وائٹ ہاؤس کی بے نیازی میں بھی اس کی ملک اور قوم کا فائدہ پوشیدہ ہے ، یہ اور بات ہے کہ اس کے اس فائدے کے لیے دنیا یا غریب ممالک کیا قیمت چکا رہے ہیں۔


  لیکن ہماری حکومت ، ہمارے سیاسی رہنما کس فصل کی آس میں غلطیاں بو رہے ہیں؟

آج کل آپ ان لیڈرز کی تقریریں سن رہے ہوں گے ۔ کیا ان میں سے کسی نے پاکستان کے وسائل بچانے کی بات کی؟ کسی کے ایجنڈے میں پانی کے ذخیرے کے لیے چھوٹے ڈیم بنا نے کا ذکر ہے سوائے ایک کالا باغ ڈیم کا مسئلہ جسے لوگ صرف اور صرف سیاست چمکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔کیا سندھ سے تعلق رکھنے والے کسی لیڈر نے ہزاروں ایکڑ پر پھیلے زرخیز انڈس ڈیلٹا کی تباہ حالی پر روشنی ڈالی اور بے گھر ہوجانے والے لاکھوں غریبوں سے ہمدردی کی۔عالمی سطح پرپہچانے جانے والا یہ مسئلہ اپنے ملک میں کتنا اجنبی ہے۔بلٹ پروف گاڑیوں میں گھومنے والے یہ لیڈر بے چارے اس سر سبز شاداب انڈس ڈیلٹا کو کیا جانیں؟ جسے پانی کی کمی نے تباہ کردیا۔ لاکھوں لوگ ہجرت کر گئے اور مچھلیوں کی کئی نسلیں نایاب ہوگئیں۔

 پاکستان میں پانچ بڑے اور پندرہ چھوٹے دریا ہیں مگر 70%آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، تو کیا کسی لیڈر نے اس بارے میں بات کی۔لاکھوں لوگوں کو ڈاکٹر اور اسپتال کی سہولت میسر نہیں اور جنہیں خدا نے یہ توفیق دی تو وہ جعلی دواؤں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ سب مسائل انسان کی بنیادی ضروریات میں شمار ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ سہولیات آسائشات میں شمار ہوتی ہیں، ابھی ہم ان ہی میں الجھ رہے ہیں اور زمانہ قیامت کی چال چل چکا ہے۔

 پڑھیے اور سر دھنیے کہ سائنس دانوں کی نئی تحقیق کے مطابق اگر درجہ حرارت میں اضافہ اندازوں کی نسبت آدھا بھی ہوا تو کرہ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اس نے 65ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈائنو سارز کا خاتمہ ہوا تھا۔
ماحولیاتی تبدیلیاں اور موسمی تغیرات بنی نوع انسان کے لیے ایک نیا عذاب  لوگوں کی بے گھری کی صورت لا رہی ہیں۔ نظام قدرت میں دخل اندازی کے نتیجے میں پچھلے دس سالوں کے دوران دنیا میں قدرتی آفات کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ برطانیہ میں مقیم بنگلہ دیشی ماحولیاتی سائنس داں سلیم الحق کہتے ہیں کہ ان واقعات کی سائنسی وضاحت ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کی صورت میں ہی کی جاسکتی ہے۔

سلیم الحق انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج ((IPCCکے ان سائنس دانوں میں شامل ہیں جن کی تیار کردہ رپورٹ کو اس سال نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ آئندہ بیس سال کے لیے دنیا وقت کے ایک ایسے دورانیے میں قید ہوگئی ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی قدرتی آفات کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔چاہے مضر گیسوں کا اخراج فی الفور صفر کر لیا جائے۔سلیم الحق کی تحقیق کے سائنسی اعدادو شمار کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ پچھلے ایک سو سال کے دوران جتنی بھی قدرت آفات آئی ہیں ان کی شدت میں حالیہ دس سالوں کے دوران تیزی آئی ہے۔ جو سیلاب پہلے بیس سالوں میں ایک دفعہ آتے تھے اب ہر پانچ سال بعد آنے لگے ہیں۔درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیرز پگھل رہے ہیں۔سطح سمندر میں اضافہ ہورہا ہے اور خدشہ ہے کہ ہمالیہ کے وہ گلیشیرز آئندہ بیس سالوں میں اپنا وجود کھو بیٹھیں گے۔

حال اور ماضی کی ماحولیاتی تبدیلیوں میں فرق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ صدیوں پر محیط غیر محسوس قدرتی جغرافیائی عمل کے نتیجے میں رونما ہوتی تھیں جبکہ اب تیزی سے صورت حال بدل رہی ہے۔اس صورت حال کی ذمے داری دنیا کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے یہ اور بات ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے اس کے زیادہ ذمے دار ہیں۔سلیم الحق کے مطابق کسی ایک بین الابراعظمی پرواز کے نتیجے میں خارج ہونے والی کاربن کی فی کس مقدار کسی غیر ترقی یافتہ ملک کے ایک کنبے کے سالانہ کیروسین آئل ( مٹی کا تیل) کے استعمال سے خارج ہونے والی کاربن کی مقدار سے زیادہ ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امیر ممالک میں رہنے والوں کو احساس ہونا چاہیے کہ ان کے لائف اسٹائل کی وجہ سے غریب ممالک کے لوگوں پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت کا ماہرین کے مطابق پہلا شکار بنگلہ دیش ہی ہوگا۔درجہ حرارت میں اضافے اور اس کے نتیجے میں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے سبب خیال کیا جاتا ہے کہ سال2030 تک بنگلہ دیش کے ایک کروڑ ستر لاکھ لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔اور اگر عالمی ماحولیاتی آلودگی پر قابو نہیں پایا گیا تو رواں صدی کے آخر تک موجودہ بنگلہ دیش کا ایک چو تھائی حصہ سمندر کی نذر ہو جائے گا۔

لیکن یہ بھی ایک المیہ ہے کہ اس صورت حال کے ذمے دار صدیوں سے دریاں اور سیلابوں کی سختیاں جھیلنے والے نہیں اس خطے کے باسی نہیں بلکہ وہ ممالک ہیں جو ترقی کی دوڑ میں کاربن اور دوسری مضر گیسوں کے اخراج کا سبب ہیں۔اس حوالے سے بی بی سی کی ایک مہم کاتذکرہ بے جا نہ ہوگا ۔یہ مہم ماحولیاتی تبدیلیوں کو اجاگر کرنے کی غرض سے بی بی سی کی عالمی سروس نے بی بی سی بنگالی سروس کی مدد سے شروع کی ہے جس کا نام بنگالی میں ’ نودی پوتھے بنگلہ دیش ‘ہے جس کا مطلب ہے کہ بنگلہ دیش کا سفر دریاؤں کے ذریعے۔

بنگلہ دیش کے دریاؤںکا یہ سفر ایک ماہ تک کشتی پر جاری رہے گا ۔ کشتی پر بی بی سی کے لیے مختلف زبانوں میں کام کرنے والے صحافی سوار ہیں۔اور وہ اپنے شب و روز اسی پر گذاریں گے تاکہ دریاؤں کے کناروں پر بسنے والوں کے مسائل کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرسکیں۔
کشتی میں وقتا فوقتا ماحولیات کے ماہرین بھی سوار ہوتے رہےں گے۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج یعنی آئی پی سی سی(نوبل پرائز یافتہ 2007 ) کے سربراہ نے بھی اس حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

بنگلہ دیش کو دریاؤں کی سرزمین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔تقریبا پندرہ کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں چھوٹے بڑے کم و بیش سات سو دریابہتے ہیں۔اور ان سب کے اپنے اپنے نام بھی ہیں تاہم بڑے اور مشہور دریا میگھنا، پدما، برہم پترا اور گنگا ہیں۔بنگلہ دیش کے بڑے دریا مل کر سترہ کروڑ پچاس لاکھ ہیکٹر رقبے پر بہتے ہیں ۔ دریاؤں کے پانی ہی سے زمین سیراب ہوتی ہےاور اسی سے ماہی گیروں کا روز گار وابستہ ہے لیکن ہر سال سیلابوں کی شکل میں یہ دریا انسانی جانوں کااور معاشی وسائل کا خراج بھی لیتے رہتے ہیں۔

آئی پی سی سی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہا تو بنگلہ دیش کے دریاؤں میں آنے والے سالانہ سیلابوں کی شدت میں بیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ سیلابوں اور سطح سمندر میں اضافے سے ماہرین کے مطابق جن بحرانوں کا سامنا ہوگا ان میں پینے کے پانی کی کمی ، جنگلات اور جنگلی حیات کو خطرہ، بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت اور صحت کے مسائل شامل ہیں۔

 اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی حدت سے عالمح سطح پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے جس کے نتیجے میں افریقہ اور ایشیا کے بعض علاقوں میں جنگیں چھڑ سکتی ہیں اور علاقائی شورش پیدا ہوسکتی ہے۔جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان کا خصوصی ذکر ہے جہاں درجہ حرارت سے گلیشیر پگھل رہے ہیں اور لوگوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔سوئس اور جرمن ماہرین کی ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا میں بڑھتی ہوئی گرمی سے جنوبی ایشیا اور افریقہ میں خطرناک جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔ان علاقوں کے غیر مستحکم ممالک نہ صرف انتشار کا شکار ہوسکتے ہیں۔ آبی اور ارضی وسائل پر کھینچ تان جنگوں کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔اوراس سے بڑے پیمانے پر لوگ اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسنے پر مجبور ہوں گے۔اگر گرمی میں صرف پانچ ڈگری سلیسیس کا اضافہ ہوگیا تو عالمی خانہ جنگی کی سی کیفیات پیدا ہوسکتی ہیں۔

ہمارے ایک اور پڑوسی افغانستان بھی خشک سالی کی بدترین صورت حال سے دوچار ہے۔موسم سرما کی برف باری کے باوجود دریاؤں کے کنارے خشک پڑے ہیں اور فصلوں کی تعداد کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ کنوؤں میں پانی ضرورت سے بہت کم ہے اور اس کا سبب بھی بارشوں کی کمی ہے ، بارشوں کا پانی زمین میں رسنے سے کنوئیں سیراب ہوتے ہیں۔مویشی بھی پیاسے مر رہے ہیں۔افغانستان سات سال سے جاری قحط سے ابھی نکل ہی پایا تھا کہ نئی خشک سالی نے صورت حال کو بدتر بنادیا۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سال کی خشک سالی کی وجہ سے 2.5ملین افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ اس سے قبل ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اندازہ 6.5افراد پہلے ہی موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ خشک سالی کا شکار علاقے زیادہ تر ملک کے جنوبی حصے میں ہیں۔ ان علاقوں سے ہزاروں لوگ گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔واضح رہے کہ جنوبی علاقے پر تشدد کرروائیوں کا گڑھ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ سانسوں کی ڈور برقرار رکھنے کے لیے زیادہ تر پوست کی کاشت کر رہے ہیں۔کیونکہ خشک سالی میں پوست بہترین کاشت ہوتی ہے۔غریب بے چارے اورکربھی کیا سکتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں بسنے والوں کے نزدیک اپنا علاقہ چھوڑنا ہی سب سے بہتر حکمت عملی ہے۔دریائی اور ساحلی علاقوں سے نقل مکانی کے باعث ڈھاکہ اس وقت آبادی میں اضافے کی شرح کی اعتبار سے دنیا کے بڑے شہروں میں سر فہرست ہے۔

عالمی سطح پر پناہ گزینوں کی تعداد میں پانچ سال بعد پہلی مرتبہ اضافہ ہوا ہے۔اور اقوام متحدہ کے نزدیک اس کی وجہ عراق پر تشدد صوری حال ہے۔اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس چودہ فیصد اضافے کے ساتھ پناہ گزینوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی تعداد بھی ایک کروڑ تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو خود ایک ریکارڈ ہے۔ پناہ گزینوں میں اضافہ عراق کے علاوہ لبنان ، مشرقی تیمور،سوڈان اور سری لنکا میں جاری شورش ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے اعدادو شمار میں وہ چالیس لاکھ فلسطینی شامل نہیں ہیں جو اسرائیل کی وجہ سے بے گھر ہوچکے ہیں۔تقریبا پندرہ لاکھ عراقی پناہ گزینوں کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔اور ان میں زیادہ تر اردن اور شام میں مقیم ہیں۔قومیت کے حساب سے پناہ گزینوں کی یہ دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔سر فہرست افغان ہیں جو اکیس لاکھ کی تعداد میں ہیں۔

غذائی بحران وارننگ

اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی ترقی پذیر ملکوں میں لاکھوں انسانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔ ایف اے او نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے جو بہت سے ملکوں کی برداشت سے با ہر ہوگا۔

ایف اے او کا کہنا ہے کہ ایسی مہنگائی کی پہلے نظیر نہیں ملتی اور اگر کسانوں کو فوری طور پر مدد نہیں ملے گی تو بہت سے ملک غذائی بحران کا سامنا نہ کرسکیں گے۔ ادارے نے کہا کہ37ممالک میں لڑائی اور قدرتی آفات کی وجہ سے غذائی بحران پیدا ہوا ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک پر خشک سالی اور سیلابوں نے حملے کیے ہیں ۔اس کے علاوہ تیل کا بھاؤ اونچا چلا گیا اور ساتھ میں اناج سے بننے والے بناسپتی ایندھن کی مانگ بڑھی ہے جس کی وجہ سے اور بھی شدید ہوگیا ہے کہ دنیا میں خوراک کے ذخیرے بہت گھٹ گئے ہیں اور امداد کے لیے بھی کھانے پینے کی اشیا کم ہوگئی ہے۔

اس سال اناج کی مہنگائی نئے ریکارڈ پر پہنچ گئی ہے جس نے ہر طرح کی غذائی اشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

اقوام متحدہ ہی کے عالمی ادارہ صحت نے فیصلہ کیا ہے کہ سری لنکا میں خوراک میں کمی کے شکار دسیوں ہزار بچوں کو مفت خوراک فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ بچے سری لنکا میں جنگ سے متاثرہ علاقے میں بستے ہیں۔سری لنکا میں یہ اپنی نوعیت کا واحد پروگرام ہے۔اسی ادارے کے ایک سروے میں علم ہوا ہے کہ ملک کے شمالی اور مشرقی حصوں میں اسکول جانے والے ایک چوتھائی بچے خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔یہ صورت حال علاقے میں جاری رہنے والی طویل خانہ جنگی کا نتیجہ ہے۔جرمنی کی ایک تنظیم کے سروے کے مطابق ایک تہائی بچے خوراک کی عدم دستیابی کے باعث ناشتہ کیے بغیر اسکول جاتے ہیں۔خصوصی طور پر چار سے پانچ سالہ بچے خطرناک حد تک خوراک کی کما کا شکار ہیں۔خوراک پروگرام کے تحت سو سے زائد اسکول جانے والے تینتیس ہزار بچوں کو خوراک فراہم کی جائے گی۔ جبکہ اگلے برس تک ایک لاکھ ستر ہزار بچے مناسب خوراک حاصل کر سکیں گے۔ان بچوں کو دوپہرکے کھانے میں دال اور چاول مفت فراہم کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس وقت 25لاکھ سے زائد افغان مہاجرین آباد ہیں۔اور تا حال اٹھائیس لاکھ چالیس ہزار سے زائد افغان باشندے وطن جاچکے ہیں۔ اور اقوام متحدے کی چھپن سالہ تاریخ میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا یہ سب سے بڑا پروگرام ہے جو 2000 میں شروع ہوا۔ 

پاکستان اور ایران دنیا میں سب سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کو پناہ دینے والے ملک ہیں ۔

خشک سالی ، بھوک اور افلاس کا تذکرہ ہو تو افریقہ کا ذکر کیسے نہ ہو۔ایڈز کے ہر ایک سو میں سے ستر مریض افریقہ میں ہیں ۔ روزانہ چھ ہزار مریض مر رہے ہیں اور گیارہ ہزارنئے بن رہے ہیں۔بوٹسوانا اورزیمبیا جیسے ممالک کی چالیس فیصد آبادی اس مرض کی لپیٹ میں ہے جسے ملیریا کہتے ہیں جس کا علاج باقی دنیا میں دس سے بیس روپے میں ہوجاتا ہے اور اس ملیریا سے ارققہ میں ماہانہ ڈیڑھ لکھ بچے مر رہے ہیں۔کسے فرصت کہ یہ معلوم کرتا پھرےے کہ پچھلے چالیس برسوں میں نائیجیریا ، سیرالیون اور انگولا کے معدنی ذخائر خانہ جنگی کا منحوس طوق کیسے بن گئے،کانگو میں گذشتہ چھ برس میں کیسے خانہ جنگی اور امداد کی عدم فراہمی نے اڑتیس لاکھ افراد کو مار ڈالا۔اور اس وقت بھی روزانہ ایک ہزار افراد کیوں مر رہے ہیں۔ جبکہ اسی کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے سولہ ہزار سپاہی گھوم رہے ہیں اور دنیا کے کسی ایک علاقے میں یہ اقوام متحدہ کی سب سے بڑی فوج ہے۔سوڈان کا علاقہ دار فور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور میڈیا کی توجہ کا مسلسل مرکز ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ پچھلے چالیس برسوں کے دوران بیس افریقی ملک کس لیے خانہ جنگی کے خونی تجربے سے گذرے اور اس آگ سے کن کن ممالک کی ترقی یافتہ ممالک اور کمپنیوں نے اپنے اقتصادی ہاتھ تاپے۔ یہ بھی ایک رونے کا مقام ہے کہ جس براعظم کا عالمی تجارت میں حصہ محض دو فیصد ہے اور امداد کے لیے ملنے والے ہر دو ڈالر میں سے ایک ڈالر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔اس بر اعظم پر تین سو بلین کا ڈالر کا قرضہ کس نے لادا۔ حالانکہ اس براعظم میں سالانہ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کرپشن اور بد انتظامی میں ضائع ہوجاتے ہیں۔یقین نہیں آتا کہ یہ وہی افریقہ ہے جہاں سب سے پہلے انسان نے اوزار بنائے اور آگ کا استعمال سیکھا۔ اور یہیں سے نسل انسانی باقی دنیا میں پھیلی۔

جنگوں اور دیگر سیاسی تنازعات کے سبب نقل مکانی کرنے والے فورًا عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں لیکن چونکہ ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے لوگوں کی ہجرت بہت زیادہ تعداد میں نہیں ہوتی ہے اس لیے لوگوں کی توجہ ان کی طرف بہت کم مبذول ہوتی ہے لہذا ان کے مسائل پر بھی بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔تا وقتیکہ سونامی یا زلزلے جیسی کوئی بڑی قدرتی آفت نہ آئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ماحولیاتی مہاجرین موجود ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ 2010 تک ایسے افراد کی تعداد 50ملین تک پہنچ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے 1951کے چارٹر میں ”مہاجرین” کی طے شدہ تعریف اور ا ن کی بحالی کا طریقہ کار موجود ہے لیکن ماحولیاتی مہاجرین اس تعریف پر پورا نہیں اترتے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فورا یہ طے کرنا ہوگا کہ کس طرح انہیں امداد فراہم کی جاسکتی ہے اور کس طرح انہیں بسایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحفظ ماحول کے بین الاقوامی معاہدے’ کیوٹو پروٹوکول‘ اور آئی پی سی سی کی تجاویز پر عمل درآمد میں امریکا کی موجودہ بش انتظامیہ ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔لیکن ان پر عمل درآمد کے حتمی سال دوہزار نو تک وائٹ ہاؤس میں تبدیلی آچکی ہوگی۔امریکی طرز عمل کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب دوسرے بڑے ممالک چین اور بھارت بھی کیوٹو پروٹوکول کے ےوالے سے تعاون نہیں کر رہے لیکن سلیم کا کہنا ہے کہ جب امریکا تعاون پر آمادہ ہوجاوئے گا تو چین اور بھارت بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

جس دنیا میں ہر سال پینتیس ارب ڈالر کا بوتل بند پانی پیا جاتا ہے ،اس دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں جبکہ انہیں صرف دس ارب ڈالر خرچ کرکے یہ سہولت مہیا کی جاسکتی ہے، یورپ سالانہ گیارہ ارب ڈالر کی آئس کریم کھا جاتا ہے لیکن دنیا کا ہر بچہ صرف ڈیڑھ بلین ڈالر کے ٹیکوں سے پانچ خطرناک بیماریوں سے محفوظ ہوسکتا ہے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیتا،پالتو جانوروں کی خوراک پر شمالی امریکا اور یورپ میں سالانہ سترہ ارب ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں،اور اس دنیا میں ناکافی غذائیت اور بھوک مری ختم کرنے کے لیے سالانہ انیس ارب ڈالر خرچ کرنے پر آمادہ نہیں،میک اپ اور پرفیومز پر ہم جولوگ ہر برس تینتیس ارب ڈالر صرف کردیتے ہیں جبکہ افریقہ کو ایڈز ، قحط اور خانہ جنگوں کے شکار بے گھروں کی آباد کاری کے لیے ہر برس صرف پچیس ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن افریقہ کو بہت ہی ایڑیاں رگڑنے کے بعد سالانہ اوسطا وارہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہی میر آتے ہیں۔

آپ اس موازنے سے بیزار ہوکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آخر ان اعدادو شمار کا مطلب کیا ہے ؟ کیا ہم بوتل بند منرل واٹر نہ پیئیں، اپنے بچوں کو آئس کریم نہ کھلائیں، پرفیوم نہ لگائیں، پالتو جانوروں کو کھانا نہ کھلائیں، ان کا علاج نہ کروائیں،اور یہ سب اگر ہم افورڈ کر سکتے ہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہے، آپ حکومتوں کو یہ وعظ کیوں نہیں دیتے کہ وہ اس دنیا کے غریب ملکوں کا خیال کریں،تو جناب حکومتوں کا یہ حال ہے کہ 1970میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد میں امیر ملکوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ زیادہ نہیں صرف اپنی سالانہ قومی آمدنی کا اعشاریہ سات فیصد یعنی نصف فیصد سے کچھ زائد غریب ملکوں کے لیے وقف کردیں تو دنیا پر سکون ہو جائے گی ،آج اڑتیس برس گذر چلے ہیںاور صرف چار ممالک یعنی سوئیڈن،ناروے ، ہالینڈ اور لکسمبرگ کو ہی یہ توفیق ہو سکی کہ وہ اقوام متحدہ کے اس امدادی ہدف پر پورا اتر سکیں۔

دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکا جو اس دنیا کے 25 سے 30فیصد تک وسائل سالانہ استعمال کرتا ہے، اپنی کل قومی آمدنی کے ایک فیصد کا بھی محض دسواں حصہ ترقی پذیر ملکوں کو بطور امداد دیتا ہے،اور وہ بھی اپنی شرائط پر یوں سمجھ لیں کہ اگر امریکا دفاع پر اگر اڑتیس ڈالر خرچ کرتا ہے تو اس کے مقابلے میں غریب ملکوں کو صرف ایک ڈالر دیتا ہے ، جنوبی کوریا کو جب پندرہ اگست 1945میں جاپانی چنگل سے نجات ملی تو اس وقت تک عالمی جنگ نے ملک کو ایک بڑے کھنڈرمیں تبدیل کردیا تھا، پھر پچاس سے تریپن تک کی جنگ کوریا نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، اس ملک کے پاس کوئی خاص معدنی دولت بھی نہیں تھی،بس ایک بہتر سا تعلیمی نظام تھا جس نے سیاسی اور فوجی آمریت کے لمبے سائے تلے بھی نہایت تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرلی، نتیجہ یہ ہے کہ جب کوریا دو برس پہلے ساٹھ سال کا ہوا تو وہ دنیا کی دس بڑی صنعتی قوتوں میں شامل تھا، اور فی کس آمدنی اٹھارہ ہزار سالانہ سے زائد تھی،

اگرچہ اس عرصے میں انڈونیشیا تیل سے مالا مال ہونے کے باوجود اتنی ترقی نہ کرسکا جتنی اس کے ہمسایوں نے کی لیکن پھر بھی جب اس نے دو برس پہلے آزادی کی آٹھویں سالگرہ منائی تو ملک کم از کم آئینی جمہوریت کی راہ پر پوری طرح گامزن ہوچکا تھا، سری لنکا ساٹھ برس کا ہوا تو تامل سنہالہ تنازعے نے ملک کی چولیں ہلادیں لیکن ان حالات میں بھی اس کی فی کس آمدنی بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں ستر فیصد سے زائد رہی، اور جمہوریت بھی پٹڑی سے نہیں اتری، اور نوے فیصد تعلیمی خواندگی کے نتیجے میں سری لنکا جنوبی ایشیا کا سب سے پڑھا لکھا ملک بھی ہے۔

چین دو برس بعد ساٹھ سال کا ہوگا ، کمیونسٹ انقلاب کے وقت وہ بھارت سے بھی زیادہ پسماندہ تھا لیکن آج ساٹھ سال کی عمر میں چین دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری اور تیسری بڑی اقتصادی قوت ہے، جو ڈیڑھ ارب آبادی والے اس ملک کے لیے کسی معجزے سے کم

ملائشیا ابھی صرف پچاس برس کا ہے، آزادی کے وقت ملائیشا کی شناخت صرف ٹن کی معدنیات اور پام آئل تھی اور اس کا شمار پاکستان سے بھی زیادہ غریب ملک میں ہوتا ہے لیکن پچاس برس بعد ملائیشا جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقت ہیں۔

Tuesday, October 23, 2007

موسموں کی بے ترتیبی، کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟

کیوٹوپروٹوکول کے بعد نیا معاہدہ ، امریکا کا شمولیت سے انکار

آنے والے موسموں کے تغیرات ہمارے لیے مسائل کا ایک نیا در وا کررہے ہیں اور مسائل بھی ایسے کہ جن سے نمٹنا آسان نہیں ہے ۔گلوبل وارمنگ، گرین ہاؤس گیسی اثرات اورکلائمیٹ چینج جیسی اصطلاحات ماحول کے حوالے سے عام سنائی دے رہی ہیں ۔ابتدا میں ا ن مسائل کو عالمی مسائل سمجھا جاتا تھا لیکن تیزی سے بے ترتیب ہوتے موسموں نے ہمارے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔یہ طے ہے کہ کرہ ارض کے باسی ہونے کے باعث تمام مسائل ہم تک ضرور پہنچتے ہیں یا یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ قصور ہمارا ہو یا نہ ہو ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے سزا ہمیں ضرور بھگتنی ہوتی ہے خصوصا ایسی صورت میں جہاں ملک کے کرتا دھرتا لوگ صرف چین کی بانسری ہی بجانا جانتے ہیں ۔ ایک حکومت پانچ سال تک دودھ اور شہد کی نہریں( صرف زبانی دعووں کی حد تک) بہا کر رخصت ہوئی اور آئندہ حکومت بنانے کے لیے جبرکے اس موسم میں بھی سیاست داں الیکشن کی ریوڑیوں پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ان میں سے اکثر معزز لوگ شاید صرف نام کی حد تک موسموں کی بے ترتیبی(Climate change) اور بڑھتی ہوئی حدت (Global Warming) جیسے گمبھیر مسائل سے واقف ہوں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسائل اس وقت پوری دنیا میں ترجیہات کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔تمام ترقیاتی ممالک اس وقت Climate Change کے مسئلے پر انتہائی سنجیدگی سے سر جوڑے کام کررہے ہیں۔اور یہ بھی طے ہے کہ تمام شعبہ ہائے فکرکے ساتھ ساتھ جب تک سیاست داں اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے اس مسئلے کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوگی اور اس حوالے سے ہمیں اپنی کم مائیگی میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

 دسمبر کا پہلا عشرہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام Climate Change پرانڈونیشیا کے جزیرے بالی میں عالمی سطح کی ایک کانفرنس منعقد ہورہی ہے جہاں تقریبا190ممالک کے 10,000سے زائد وفود سر جوڑے بیٹھے ہیں۔اس کانفرنس کا اہم ترین ایجنڈاگلوبل وارمنگ ، اس کی وجوہات اور اس کے اثرات سے رونما ہونے والی موسموں کی بے ترتیبی کے ساتھ ساتھ کیوٹو پروٹوکول جیسے کسی نئے معاہدے کی تشکیل ہے۔ 1997 میں تشکیل دیا جانے والا معاہدہ کیوٹو پروٹوکول 2012 تک ختم ہوجائے گا۔

صنعتی ممالک کی چمنیوں سے خارج ہوتی خطرناک گیسوں کی روک تھام کے لئے جاپان کے شہر کیوٹو میں 1997 میں ایک معاہدہ کیوٹو پروٹوکول کا قیام عمل میں لایا گیاتھا۔ اس معاہدے کے تحت 2012 تک صنعتی ممالک کو ان گیسوں کے اخراج میں 5.2 فیصد تک کمی کرنا تھی۔ اس معاہدے پر سوائے امریکا کے سبھی ترقی یافتہ ملکوں نے دستخط کئے ہیں لیکن امریکا نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ امریکا کے اس اقدام سے یورپی ممالک اور ماہرین سخت نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا سب سے زیادہ ان گیسوں کی پیداوار کا ذمہ دار ہے لہٰذا تحفظ ماحول کے ا قدامات میں بھی اسے ہی سب سے زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔یوں بھی امریکا جیسے صنعتی ترقی یافتہ ملک کے تعاون کے بغیر ماحولیاتی مسائل پر قابو پانا ناممکن ہے۔حالیہ بالی کانفرنس کا ایک اہم ایجنڈا کیوٹو پروٹوکول کے بعد تشکیل دیے جانے والے معاہدے میں امریکا کو بھی شامل کرنا ہے۔

انڈونیشیا اس عالمی کانفرنس کا میزبان ہے جہاں لاکھوں افراد موجود ہوں گے اوراندازہ ہے کہ ان کی آمد و رفت سے 50,000 ہزار ٹن گرین ہاؤس گیسیس پیدا ہوں گی لہذا ان گیسوں کے انجذاب کے لیے لاکھوں پودے اور درخت لگائے گئے ہیں۔شاید وقت سے سبق سیکھنا اسی کو کہتے ہیں، یاد رہے کہ انڈونیشیا میں 2004دسمبرمیں سونامی نے تباہی مچائی تھی اور اس کا ایک سبب ماہرین ساحلی جنگلات کی کٹائی اور ہ فطری ماحولیاتی نظام میں حد سے زیادہ انسانی مداخلت قرار دے رہے تھے۔

ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق دنیا کی کل آمدنی کا 65% حصہ ان صنعتی ممالک کے پاس ہے ، جب کہ پوری دنیا میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا کل 45% حصہ ان ہی صنعتی ممالک کی چمنیوں سے خارج ہوتا ہے۔

 زمینی درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کے عمل کو Global Warming کہا جاتا ہے جو عموما گرین ہاؤس گیس اثرات کے باعث رونما ہوتا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات سے ہمارے موسم بے ترتیب ہورہے ہیں جس کے سبب پہاڑوں اور گلیشیر کی صورت میں صدیوں سے جمی برف پگھلنے لگے گی۔ سمندروں کی سطح بڑھ جائے گی۔ سیلاب اور سمندری طوفان رونما ہوں گے اور نشیبی سطح پر واقع ممالک اور جزیرے غرق آب ہوجائیں گے۔ موسموں کی ترتیب بگڑنے سے زراعت کی تباہی اور خوراک میں کمی واقع ہوگی۔ درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کے اضافے کے ساتھ حیاتی انواع کو اپنی بقا کے لیے قطبین کی طرف 90 کلو میٹر قریب ہونا پڑے گا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا اور حالات سے مطابقت نہ کرپانے کے سبب پودے اور بالآخر ان پر انحصار کرنے والی تمام انواع معدوم ہونا شروع ہو جائیں گی ، ماحولیاتی نظام اور فطری مساکن تباہی کے قریب ہوں گے۔

  اس سال کے آغاز پر ماہرین ماحولیات کی یہ رپورٹ یقینا دنیا بھر کے لیے غور طلب تھی کہ رواں سال گرم ترین سال ثابت ہوگا۔برطانیہ کے محکمہ مو سمیات اور ایسٹ اینجلیا یونیوسٹی کے تعاون سے کی گئی اس تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہورہا تھا کہ اس سال درجہ حرارت میں اور اضافہ ہوگا اور امکان ہے کہ یہ سال پچھلے کئی سالوں سے زیادہ گرم رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحر الکاہل میں بعض خاص تبدیلیوں(El- Nino)  کے سبب اس سال کرہ ارض پر درجہ حرارت بڑھے گا اور اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ اس برس 1998 سے بھی زیادہ گرمی پڑے گی۔ اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 2006 میں اوسطا برطانیہ میں پہلے سے کہیں زیادہ گرمی تھی اور 1914ء، جب سے درجہ حرارت کے ریکارڈ کا سلسلہ شروع ہوا ہے کبھی اتنی گرمی نہیں ہوئی تھی۔

 یہ موسم یک بیک اتنے بے ترتیب کیسے ہو چلے ؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حالات کو اس نہج تک پہنچنے میں ایک عرصہ لگا ہے۔ یہ طے ہے کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں ، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ سو یہ حادثہ بھی کئی دہائیوں کی بے پروائیوں اور غفلت سے رقم ہوا ہے ۔ حضرت انسان نے خود کو عقل کل سمجھ کرایک طرف تو فطرت کے قوانین میں دخل اندازی شروع کردی اور دوسری جانب نام نہاد ترقی سے اپنے موت کے پروانے پر خود دستخط کرنا شروع کردیا۔


 پچھلی صدی کی آخری تین دہائیوں سے ماہرین نے لوگوںکو خبردار کرنا شروع کر دیا تھا لیکن اس وقت شاید دنیا والوں کے لئے یہ نئی اور انہونی باتیں تھیں جنہیں وہ سمجھنے کے لئے تیار نہ تھے لیکن جب الگور کے ساتھ نوبل انعام یافتہ اقوام متحدہ کے انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) نے موسمیاتی تغیر (Climate Change) پر اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی تو جیسے دنیا کے ہر حصے میں ہلچل سی مچ گئی۔ اپریل 2007 میں جاری کردہ 1500 صفحات کی یہ ضخیم رپورٹ 100 ممالک کے 2000 سائنس دانوں کی شب و روز محنت کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر مناسب صنعتی سرگرمیوں سے فضا میں خطرناک گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تناسب بڑھ رہا ہے اور ا س کے نتیجے میں زمین کے درجہ ءحرارت میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔ 1990 سے جاری یہ اضافہ اگر 1.5 سے 2.5 سیلسیس تک جا پہنچا تو دنیا تباہی کے خوفناک منظر دیکھے گی۔ سیلاب، سمندری طوفان، خشک سالی اور قحط جیسے عذاب انسان کا مقدر بن جائیں گے اور زمین پر موجود 30 فیصد انواع صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ ”30 فیصد انواع کا معدوم ہونا“ کیا معنی رکھتا ہے کاش اس کی سنگینی کو ہم سمجھ سکتے۔ کسی ایک نوع کے بھی مٹنے سے فطرت کی اربوں سالہ محنت تو برباد ہوتی ہی ہے لیکن اس سے کہیں بڑا نقصان زندگی کی زنجیر میں سے ایک کڑی کا ٹوٹ جانا ٹھہرتا ہے۔ اب ذرا غور کیجئے کہ اس زنجیر کی 30فیصد کڑیوں کو باہر نکال کر پھینک دیا جائے تو اس زنجیر کا کیا حال ہو گا؟

 یہ رپورٹ دو ٹوک انداز میں اس کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ فضا کو آلودہ کرنے میں سب سے زیادہ امریکا کا ہاتھ ہے۔ ان خطرناک گیسوں کا 38 فیصد حصہ امریکا ہی کی چمنیوں سے نکلتا ہے لیکن ایک طاقتور اور وسائل سے مالا مال ملک ہونے کے ناتے وہ ان خطرات کا با آسانی مقابلہ کر سکتا ہے۔اصل مسئلہ تو غریب ممالک کا ہے۔جن کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ تیکنیکی مہارت۔

آج آلودگی کو دنیا کا ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے ۔دنیا سے آلودگی کے خاتمے کے لیے ”پیسے “ کی ضرورت ہے جبکہ ہمارا یہ خیال ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ ”پیسہ“حاصل کرنے کی ہوس ہی ہے جس نے تمام آلودگی کو جنم دیا۔ایک ایسافطری طرز زندگی اپنانا جو کرہ ارض کے لیے نقصان دہ نہ ہو اتنا آسان نہیں ہے لیکن اب اس کے بنا چارہ بھی نہیں ہے۔

غیر محتاط صنعتی سرگرمیوں سے فضا گرین ہاؤس گیسوں سے کس قدر آلودہ ہے اس کے لیے امریکا ہی کی ایک ریسرچ کے نتائج دیکھیئے ۔ہوائی کے جزائر میں قائم ایک امریکی اسٹیشن نے جس کی پیمائش سب سے مستند سمجھی جاتی ہے، بتایا کہ گذشتہ50 برس میں کاربن ڈائی آکسائیڈکی مقدار میں 25 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور یہ متواتر بڑھ رہا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق اس گیس کی سطح کاحجم 378 حصہ فی ملین ہوچکا ہے، جو1750ءکی سطح کے مقابلے میں100حصہ زیادہ ہے۔کیوٹو پروٹوکول کی اکثر شقوں کو دیگر صنعتی ممالک ماننے کے لیے تیار تھے مگرامریکی صدر نے نہایت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ماننے سے انکار کردیا ۔امریکا اور چین جیسی بڑی طاقتوں کے تعاون کے بغیر ماحولیاتی مسائل پر قابو پانا نا ممکن ہے۔

فضا میں مضر گیسوں کے کم کرنے کے معاہدے کیوٹو پروٹوکول کا مقصد دراصل ایسے طریقہ ءکار کی تلاش ہے جس کی مدد سے گرین ہاؤس گیسوں کو قابو میں رکھا جائے۔ ان خطرناک گیسوں میں سرفہرست کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔

کیوٹو پروٹوکول کے تحت کاربن ڈائی آکسائیڈ گھٹانے کے لئے ایک طریقہ کار Clean Development Mechanism (CDM) وضع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایسے ترقی یافتہ ممالک جو خطرناک گیسوں میں کمی کے حوالے سے اپنے ملک میں کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھاسکے اور اپنے متعین کردہ اہداف تک نہیں پہنچ سکے وہ کسی بھی ترقی پذیر ملک میں ماحول دوست سرگرمیاں انجام دے کر نتائج کو اپنے اہداف میں شامل کر سکتے ہیں۔ گویا وہ تحفظ ماحول کے حوالے سے غریب ملکوں میں سرمایہ کاری بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بات تو اب طے شدہ ہے کہ ماحولیاتی بگاڑ کے ذمے دار صرف اور صرف ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ فضائی آلودگی، گرین ہاؤس گیس اثرات، موسموں کے بے ترتیبی اور اوزون کی تہہ میں شگاف جیسے سنگین جرائم میں پاکستان جیسے غریب ملک کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ عالمی موسموں کی ہر تبدیلی ہم تک ضرور پہنچے گی بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ ہم ان آفات سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوں گے کیوں کہ ان سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس وسائل ہیں اور نہ تکنیکی مہارت۔

درجہ ءحرارت کے بڑھنے سے پاکستان کے لے پہلا خطرہ ہمالیائی گلیشیئرز ثابت ہوں گے۔ ان گلیشیئرز سے دنیا کے کئی بڑے دریا مثلاً دریائے سندھ، گنگا، برہم پترا، سلوین، میکا ونگ، یانگ ژی اور زرد دریا نکلتے ہیں جن کا پانی پاکستان، بھارت، چین اور نیپال میں زندگی کو رواں دواں رکھنے کا باعث ہے۔ گرمی کے بڑھنے سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھلیں گے (اوسطاً 10 تا 15میٹر سالانہ) اور ان دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گی جس سے کناروں پر آباد لاکھوں افراد کو سیلاب کا سامنا ہو گا۔ کچھ عرصے بعد جب پانی کم ہو جائے گا تو یہی ممالک خشک سالی کا عذاب سہیں گے۔ زراعت تباہی سے دوچار ہو گی، قحط پھیلے گا اور ان غریب ممالک پر افلاس کے سائے اور گہرے ہو جائیں گے۔ یہ وہ کم از کم خطرات ہیں جو کسی ناکردہ جرم کی سزا کے طور پر پاکستان کو بھی بھگتنا ہوں گے۔کسی بھی ملک کا ماحول تباہ ہونے کا مطلب اس کی معیشت اور سماجیات کی بھی تباہی ہے۔ماہرین کے مطابق ایشیا اور افریقہ خصوصا اس کا شکار ہیں ۔خوراک کی کمی بالآخر قحط کی صورت اختیار کر لے گی۔زرعی ملک ہونے کے ناطے گرم موسم پاکستان کی زراعت کو متاثر کر رہے ہیں۔سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ہمارے ساحل متاثر ہوں گے جس سے ساحلوں پر آباد لاکھوں افراد بے گھر ہوں گے۔سمندری خوراک کی ایکسپورٹ متاثر ہوگی جس سے ہماری معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔بنگلہ دیش کا حالیہ طوفان اس کی مثال ہے ۔سینٹر فار ایڈوانس اسٹڈیز کے مظہرالاسلام کا کہنا ہے کہ حالیہ طوفان گلوبل وارمنگ ہی کا نتیجہ ہے جس کے نتیجے میں 3,400 لوگ ہلاک ، سیکڑوں لاپتا اور 350,000 بے گھر ہوئے۔اس وقت تمام ممالک کی ضرورت ہے کہ وہ تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے ان بدلتے موسموں سے خود کو ہم آہنگ کرلیں اور محفوظ کرلیں۔لیکن غریب ممالک کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہے اور نہ ہی وہ تکنیکی طور پر اتنے مضبوط ہوتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے بڑی بڑی کانفرنسوں میں رقوم مختص کی جاتی ہیں لیکن یہ مدد ایسی ہی ہوتی جیسے کے اونٹ کے منہ میں زیرہ۔ بین الاقوامی امدادی ایجنسی آکسفیم کا کہنا ہے کہ یہ امداد غریب ممالک کی توہین کے برابر ہے لہذا حالیہ بالی کانفرنس میں اس پر نظر ثانی کی جائے۔اس حوالے سے ایک مثبت قدم کے طور پرریاض میں منعقد  OPEC سمٹ میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے گلوبل وارمنگ کے مسائل سے نمٹنے اور تکنیکی مہارت کے حصول کے لیے 300 ملین ڈالرز کا فنڈ مختص کیا ہے۔ امید ہے کہ دیگر اسلامی ممالک جہاں قدرت نے تیل کے چشمے بہادیے ہیں اپنی کچھ دولت اس اہم مسئلے کے حل کے لیے بھی استعمال کریں گے۔

دنیا میں غربت اور عالمی سطح پر موجود عدم مساوات کو حل کیے بغیر ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ کیونکہ صنعتی ممالک کے اپنائے گئے ترقیاتی اہداف بہت سے ماحولیاتی وسائل پر بے پناہ بوجھ کا سبب بنتے ہیں۔آزاد تجارت میں تیزی کے باعث 10سال کے عرصے میں دنیا 10فیصد جنگلات سے محروم ہوئی اور امیر ممالک کی چمنیوں سے نکلتی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ نے فضا کو مزید33 فیصد آلودہ کیا۔22 امیر ممالک اپنی صنعتوں کو ہزار ملین ڈالرز سالانہ چھوٹ فراہم کرتے ہیں جس میں ماحول میں خطرناک گیسوں کا اضافہ کرنے والی صنعتوں کو57 بلین ڈالرز دیے جاتے ہیں۔یہ رقم حیرت انگیز طور پر اس رقم کے مساوی ہے جو عالمی سطح پر ان گیسوں کی مقدار پر قابو پانے کے لیے درکار ہے۔آزاد معاشی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر غربت اور ماحولیاتی تباہ کاری کاعمل تیز تر ہوگیا ہے۔عام طور پر تجارت کی آزادی کو ماحول کے لیے نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے۔اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ زیادہ بین الاقوامی تجارت کے معنی زیادہ ہوائی ، سمندری اور زمینی مواصلاتی ذرائع کا استعمال ہے۔

آزاد تجارت کے نظریات کے پیچھے بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں، عالمی اداروںاور معاشی و فوجی طور پر طاقتور سرمایہ دار ممالک کا ہاتھ ہے۔خاص طور پر امریکا ، اسی لیے گلوبلائزیشن کا دوسرا نام سامراجیت ہے۔بڑے مالیاتی ادارے اپنے قرضہ جات کا50 فیصد نجی کمپنیوں کو دیتہ ہیں جن کا تعلق G-8 کے ممالک سے ہے۔امریکا اوزون کو نقصان پہنچانے والی مجموعی گیسوں کا تیسرا حصہ پیدا کرتا ہے ۔وہ نہ صرف ان گیسوں میں مسلسل اضافہ کررہا ہے بلکہ کیوٹو پروٹوکول سے انکار کرکے پوری انسانیت کی بقا کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

چند اصلاحات کی عام فہم تشریح:

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ  ( Global Warming)

زمینی درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کے عمل کو Global Warming کہا جاتا ہے جو عموما گرین ہاؤس گیس اثرات کے باعث رونما ہوتا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت دنیا کو مشکل میں ڈا ل رہا ہے۔اس سے پہاڑوں اور گلیشیر کی صورت جمی برف پگھلنے لگی گی۔ سمندروں کی سطح بڑھ جائے گی۔ سیلاب اور سمندری طوفان رونما ہوں گے اور نشیبی سطح پر واقع ممالک اور جزیرے غرق آب ہوجائیں گے۔ موسموں کی ترتیب سب گڑ بڑ ہوجائے گی۔ زراعت کی تباہی سے خوراک میں کمی ہوگی۔ درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کے اضافے کے ساتھ حیاتی انواع کو اپنی بقا کے لیے قطبین کی طرف 90 کلو میٹر قریب ہونا پڑے گا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا اور حالات سے مطابقت نہ کرپانے کے سبب پودے اور بالآخر ان پر انحصار کرنے والی تمام انواع معدوم ہونا شروع ہو جائیں گی ، ماحولیاتی نظام اور فطری مساکن تباہی کے قریب ہوں گے۔

 گرین ہاؤس اثرات اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ

 زمین دن میں سورج سے حرارت جذب کرتی ہے اور رات میں اس حرارت کا کچھ حصہ خلا میں واپس چھوڑ کر ٹھنڈی ہوجاتی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے یہ حرارت آزاد نہ ہوسکے تو زمینی درجہ حرارت بتدریج بڑھ جائے گا۔ 1972 میں تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری گیسیں مثلا میتھین ، کلوروفلورو کاربنز ،  نائٹرس آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ حرارت کو روک لیتی ہیں اور اسے خلا میں واپس نہیں جانے دیتیں۔ یہ گیسیں اس طرح کام کرتی ہیں جیسے کسی گرین ہاؤس میں شیشہ کام کرتا ہے کہ وہ حرارت کو داخل تو ہونے دیتا ہے لیکن تھوڑی حرارت کو روک لیتا ہے اور گرین ہاؤس سے باہر نکلنے نہیں دیتا۔ یہ گیسیں زمین پر زندگی کے لیے مطلوبہ حرارت کو باقی رکھنے میں ایک حیات بخش کردار انجام دیتی ہیں۔لیکن اب کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کوئلے اور کنجوری ایندھن کے بے تحاشہ جلانے کی وجہ سے فضامیں داخل ہورہی ہے۔جنگلوں کا تیزی سے گھٹتا ہوا حفاظتی پردہ کرہ ارض میں اس صورت حال کو مزیدخراب کر رہا ہے۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن کو ریلیز کرتے ہیں۔ درختوں کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی خاصی مقدار جذب نہیں ہوسکے گی اور فضا میں موجود رہے گی ۔ یہ گرین ہاؤس گیسیں جو ایک دبیز کمبل کی طرح فضا کو ڈھانپے ہوئے ہیں اس عمل کی ذمے دار ہیں جو گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے۔

تیزابی بارش

 تیزابی بارش اس وقت ہوتی ہے جب جلتے ہوئے کنجوری ایندھن سے (Fossil Fuel)  سے خارج شدہ سلفر اور نائٹروجن ، سورج کی روشنی  ماحول میں موجود آکسیجن اور پانی کے بخارات کے ساتھ مل کر بارش بناتی ہے ۔ ماہیت کے اعتبارے یہ بارش تیزابی ہوتی ہے۔یوں سمجھ لیجیے کہ سلفیورک اور نائٹرک ایسڈ کا پتلا شوربہ ہوتا ہے۔کچھ گنجان صنعتی یافتہ علاقوں میں ، فضا کے اندر ہائیڈروجن گیسیں ہائیڈروکلورک ایسڈ پیدا کرتی ہیں جو تیزابی بارش کاجزو ترکیبی بھی بن سکتی ہیں۔فضا کے ذریعے یہ آمیزہ بارش ، برف یا خشک ذرات کی شکل میں میٹھے پانی اور زراعتی زمین کی تیزابیت میں اضافہ کردیتا ہے۔

تیزابی بارش جھیلوں ، چشموں اور آبی ذخائر کی تیزابیت میں اضافہ کرتی ہے اور آبی حیات کے لیے شدید خطرے کا باعث ہے۔
تیزابی بارش بنیادوں میں دراڑیں ڈال کر عمارت کو کم زور اور غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ قدیم تاریخی یادگاریں اور عمارات جو تیزابی بارش کی زد میں آجاتے ہیں شکستہ ہوجاتے ہیں انڈیا میں تاج محل اس کی مثال ہے۔جس کا خوبصورت سنگ مر مر اب پیلا پڑ چکا ہے۔
تیزابی بارش بچوں اور بوڑھے افراد کے لیے تنفس کے مسائل اور فضا میں گندھک کی بہت زیادہ مقدار آنکھوں ، دانتوں اور جلد کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

اوزون کی تہہ

ہمارا فضائی ماحول مختلف اور متعدد سطحوں پر منقسم ہے ۔ زمین کی بالائی فضا میں ان ہی مختلف تہوں کے مابین 10سے 50 کلو میٹر کے درمیانی فاصلے پر اوزون گیس پر مشتمل تہہ واقع ہے۔ درحقیقت اوزون مالیکیول آکسیجن کے تین ایٹموں کے باہم ملنے سے بنتے ہیں جبکہ ہماری سانس لینے والی آکسیجن مخصوص دو ایٹموں کا مرکب ہے۔

آکسیجن کے مخصوص فارمولے سے تخلیق پانے والی یہ فضائی چھتری اپنے اہم کردار کے باعث کرہ ارض پر آباد ہر ذی حیات کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام انجام دیتی ہے۔ اس کے منفرد اجزائے ترکیبی میں یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ سورج سے خارج ہونے والی مضر صحت شعاعوں خصوصا الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی جذب کرکے غیر موثر بنادیں۔ سورج جہاں ہمارے لیے روشنی اور حرارت کا ایک بے پناہ وسیلہ ہے وہیں اس کی ضرر رساں شعاعیں جان دار مخلوق کے لیے انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہےں۔ ان شعاعوں سے بہت سی بیماریاں ، جلدی سرطان ، بینائی کا زیاں وغیرہ ہوتا ہے۔ یہ شعاعیں DNA کو تہہ و بالا کرتی ہیں۔


صنعتی ترقی نے جہاں آسانیاں پیدا کیں وہیں بے شمار ماحولیاتی مسائل نے جنم لیا۔ صنعتوں میں استعمال ہونے والی کلورو فلورو کاربنزیعنی  CFCs جن سے کلورین مونو آکسائیڈ پر مشتمل گیس خارج ہوتی ہے جو اوزون کے لیے انتہائی مہلک ہے۔ کلورین کے سالمے بہت زیادہ متعامل ہوتے ہیں اور بہت جلد تین ایٹموں پر مشتمل اوزون کو علیحدہ کرکے دوایٹمی آکسیجن کی شکل دے دیتے ہیں۔لہذا اب ایسی اشیا کو فروغ دیا جارہا ہے جس میں CFCs کا استعمال نہ ہو۔ اوون کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک معاہدہ ”مانٹریال پروٹوکول “ تشکیل دیا گیا۔