Monday, February 25, 2008

نہ وہ سورج نکلتا ہے نہ اپنے دن بدلتے ہیں

کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کوکیمیائی زہر سے خطرات
 ان کیمیکل کو کیڑے مار ادویات نہیں بلکہ صرف”زہر“ کہیے

 حد نظر تک لہراتے رنگ برنگے آنچل،دور دور تک پھیلے ہوئے چاندی جیسی کپاس کے کھیت اور ان کو چن کر سونا بناتے ہاتھ ، یہ ہاتھ ان ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کے ہیں کہ جنہوں نے اپنے نازک کاندھوں پر پاکستان کی پوری کاٹن ، ٹیکسٹائل اورکلوتھنگ انڈسٹری کا بوجھ سنبھالا ہوا ہے۔یہ صنعت اس زرعی ملک کے لیے خطیر زرمبادلہ فراہم کرنے کا سبب ہے اور پاکستان دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار کے حوالے سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔۔۔یہاں تک تو سب ٹھیک ہے ، ہم سب ان حقائق کو جانتے اور مانتے ہیں اور دنیا بھر میں”کاٹن ، ٹیکسٹائل اور کلوتھنگ انڈسٹری“ کی زنجیر کی اہم کڑی ہونے پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں لیکن ۔۔۔ اس کے بعد ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے،بے خبروں کا تو ذکر ہی کیا جو ہر طرح سے ”با خبر“ہیں وہ بھی چپ کا لبادہ اوڑھے کھڑے ہیں کیونکہ اسی میں ان کا فائدہ ہے۔

 دنیا بھر کے سروے اور تجزیوں کے نتائج چیخ چیخ کر اعلان کر رہے کہ پاکستان بھر میں کپاس کے کھیتوں میں کام کرتی اوراس چاندی سے سونا بناتی پاکستانی عورت شدید خطرات سے دوچار ہے ، پورے ملک کے کھیتوں پر چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر کا 80%کپاس کے کھیتوں پر چھڑکا جاتا ہے اور یہ زہر وہاں کام کرنے والی خواتین کی سانسوں میں رچ بس جاتا ہے۔دوسروں کو خوش حالی دینے والی ان خواتین کوان کھیتوں سے سر درد، جلدی بیماریوں اورمختلف اعضا کا کینسر تحفے میں ملتا ہے۔



 یہاں ہم اس بات کی صاف الفاط میں وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ کیڑے مار کیمیکل کو” ادویات“ کہنا لوگوں کو کھلا دھوکا دینا ہے ، یاد رکھیے کہ یہ کسی صورت دوا نہیں کہلا سکتے یہ تو صرف اورصرف زہر ہیں لہذا انہیں صرف ”زہر“ ہی کہا جائے ۔

 بدحال اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والی عورت کو تو ان خطرات کا ادراک ہی نہیں ہے لیکن جو لوگ اس بات کو جانتے ہیں وہ اپنی اپنی معاشی اور سماجی مجبوریوں کے باعث چپ ہیں۔ ان کی یہ خاموشی انتہائی مجرمانہ ہے۔

 حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کہ جس میں کھیتوں میں کام کرنے والی مختلف خواتین کے خون کے نمونوں کا جب تجزیہ کیا گیا تو 42%نمونے ان زہریلی ادویات سے آلودہ پائے گئے۔صرف10%خون کے نمونے نارمل پائے گئے۔

 پاکستان میں کپاس کی کاشت سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک موسمی سرگرمی کہلا ئی جا سکتی ہے لیکن اس سے وابستہ افراد کی تعداد اسے ایک اہم تجارتی سرگرمی میں شمار کرتی ہے۔کپاس چننے کا زیادہ تر کام خواتین ہی کرتی ہیں ۔ اندازہ اگست سے فروری تک 20لاکھ کپاس چننے والے افراد پاکستان کے اس ایکسپورٹ انجن کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔

 قدرتی وسائل کے ترقیاتی اور پیداواری عمل میں عورت کا کردار پورے معاشرے سے پیوست نظر آتا ہے۔اعداد و شمار کے بہی کھاتوں میں کہیں نظر نہ آنے والی یہ ہستی پاکستان کے شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے کام کو خاطرخواہ تسلیم کرنے میں ابھی بھی بہت سی رکاوٹیں باقی ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو کپاس کی پیداوارمیں بہترین سمجھے جاتے ہیں۔2004 کے اعداد و شمار کے مطابق کپاس کی تمام عالمی پیداوار کا 50% چین ،انڈیا اور پاکستان سے حاصل ہوا تھا ۔اور تقریبا ایک ارب لوگ دنیا بھر میں براہ راست اوربالواسطہ طور پر اس صنعت سے وابستہ ہیں ۔

  زرعی ملک ہونے کے ناتے ہماری زراعت کا زیادہ تر دارو مدار کپاس پر ہی ہے۔ہر سال کپاس کی پیداوار سے خطیر زرمبادلہ حاصل کیا جاتا ہے۔خصوصا سندھ کی آب و ہوا کپاس کی پیداوار کے لیے بہت زیادہ ساز گار ہے۔حیدرآباد، نوبشاہ،میرپور خاص ، سانگھڑ، سکرنڈ اور عمر کوٹ جیسے علاقے کپاس کی کاشت کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔سندھ میں کپاس کی چنائی کا عمل اکتوبر نومبر سے شروع ہوجاتا ہے۔اسے سندھی زبان میں چونڈو کہتے ہیں۔کپاس کی چنائی کا نوے فیصد کام خواتین انجام دیتی ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی تیز رفتاری ہے۔ وہ مردوں کے مقابلے میں کئی گنا تیزی ، مہارت اور بہت نرمی و نفاست سے یہ کام انجام دیتی ہیں۔مردوں کے کھردرے ہاتھ اوربھونڈا انداز اس نرم و نازک فصل کے لیے موزوں نہیں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کاشت کار اس کام کے لیے خواتین ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔کپاس چنتے ہوئے خواتین اپنے دوپٹے کو ایک خاص انداز سے اوڑھتی ہیں جسے کانبھو کہا جاتا ہے۔پشت پر اس دوپٹے کا تھیلا سا بن جاتا ہے جس میں وہ کپاس جمع کرتی جاتی ہیں۔انہیں کاٹن کے دوپٹے استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کیونکہ ریشمی کپڑے کا دوپٹہ کپاس کے معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 کپاس کا بیج جون میں بو دیا جاتا ہے اور اس کی پہلی چنائی نومبر سے شروع ہوتی ہے اور فروری تک جاری رہتی ہے۔اندازہ صرف سندھ اور جنوبی پنجاب میں کپاس چننے کے کام سے 20لاکھ سے زائد خواتین وابستہ ہیں۔

  عورت اپنی سماجی حیثیت میں خصوصا دیہی معاشرے میں مرد کے مقابلے میں ہر طرح سے کم تر تصور کی جاتی ہے ، اور اکثر جگہ تو گھر کے کام کاج ، بچے سنبھالنے کے ساتھ ساتھ گھر چلانے کے لیے بھی اسے ہی محنت کرنی پڑتی ہے لیکن ان سب ذمے داریوں کو اٹھانے کے باوجود وہ مرد کے مقابلے میں انتہائی کم تر وجود رکھتی ہے اور چند ایکڑ زمین بچانے کے لیے کہیں تا عمر اسے شادی اور ازدواجی زندگی کی خوشیوں سے محروم کردیا جاتا ہے اور کہیں نام نہاد غیرت کے نام پرکاری کردیا جاتا ہے۔ اسی کم تر حیثیت کی اس بے زبان عورت کا استحصال صرف گھر والے ہی نہیں کرتے بلکہ وہ جہاں بھی کام کرتی ہے اسے اسی سلوک اور رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ مرد مزدوروں مثلا کپاس پر اسپرے کرنے والے یا ٹریکٹرچلانے والوں کے مقابلے میں بہت کم اجرت پاتی ہے۔

 وہ پورا سال کپاس کی چنائی کے ان دنوں کا انتطار کرتی ہے کہ جب وہ کچھ روپے کما لے گی جس سے اپنے لیے ایک آدھ جوڑا اور بچے کے لیے کوئی کھلونا خرید لے گی ، بہت دن سے بیمار بچے کے لیے دوائی بھی آجائے گی لیکن یہاں بھی اس کے ساتھ ہیرا پھیری کی جاتی ہے ، کبھی پیسے کم دیے جاتے ہیں تو کبھی تول میں ڈنڈی ماری جاتی ہے۔کپاس کی چنائی انتہائی مشکل کام ہے ۔ تیز دھوپ میں انہیں سارا دن کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ ان خواتین کے کپڑے بھی پھٹ جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں ۔ کیڑے مکوڑے اور مختلف جانوروں سے ان بچوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

 تیز چنائی کرنے والی ایک خاتون اندازہ ایک من (چالیس کلو گرام) کپاس چن لیتی ہے۔ 1996/97کی ایک رپورٹ کے مطابق ان خواتین کی اجرت فی من 40 روپے تھی۔ جبکہ 2005/06میں یہ اجرت بڑھ کر50سے80روپے فی من تک پہنچ گئی۔جبکہ اس دوران کپاس کی قیمت کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور زمین داروں کا منافع کئی سو گنا بڑھ گیا۔لیکن اس غریب اورتعلیم سے بے بہرہ عورت کو نہ اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی کی خبر ہے اور نہ اپنے استحصال کا پتا ہے۔وہ یہ بھی نہیں جانتی کہ کنزیومر پرائزانڈکس میں اسی عرصے کے دوران 42% کا اضافہ ہوا۔یہ تو تھا مالی استحصال ، اس حوالے سے تو کبھی نہ کبھی صورت حال بدل سکتی ہے لیکن اس کام کے دوران اس کی صحت، زندگی اور اس کے بچوں کو جو خطرات لاحق ہیں وہ ناقابل تلافی ہیں۔

 پاکستان کے کھیتوں میں چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر کا80% کپاس کے کھتوں میں چھڑکا جاتا ہے ۔جس سے خواتین اور ان کے بچے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ان کھیتوں میں کام کرنے والی عورت مسلسل بیماریوں کی زد میں ہوتی ہے ۔تیز دھوپ اور ان زہر کے اثرات سے وہ جلدی امراض کا شکار ہوتی ہے۔ کیڑے مار زہرکا فصلوں پر کثرت سے اور بے سوچے سمجھے استعمال آج بھی پورے زور شور سے جاری ہے۔یہ زہر غیر نقصان دہ کیڑوں ،پرندوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور غذائی سلسلے کو بھی زہریلا بناتا ہے۔ یہ زہریلا مواد ان خوتین کے جسموں میں بھی ذخیرہ ہوتا ہے اور پھراس زہر کا کچھ حصہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے تک منتقل ہوجاتا ہے۔ اکثر اوقات بچے اپنی ولادت سے قبل ہی ان کیمیکل سے متاثر ہوجاتے ہیں اور یہ اثرات ان کی پیدائش کے وقت ظاہر بھی ہوجاتے ہیں۔ان میں کچھ کیمیکل تولیدی نظام کو متاثر کرتے ہیں ،کچھ ذہنی صلاحیت کو کم کرتے ہیں اور کئی بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کو کم زور بنادیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کیمیکل کا اثر رحم مادر میں ہی ہوجاتا ہے لیکن اس کے نمایاں اثرات بچوں پر نوجوانی میں ظاہر ہوتے ہیں ۔

 کھیتوں پر چھڑکے جانے والا یہ زہر صرف کپاس ہی نہیں بلکہ سبزیوں پر بھی وافر مقدار میں چھڑکا جاتا ہے جس سے یہ زہر باآسانی ہماری غذائی زنجیر میں شامل ہوجاتا ہے ، کھیتوں کا یہ زہر آلود پانی بہہ کر ندی نالوں اور دیگر آبی ذخائر میں شامل ہوجاتا ہے ۔ یہی آلودہ پانی زمین میں جذب ہوکر زیر زمین موجود پانی کے ذخائر میں بھی شامل ہوجاتا ہے ۔ دیہاتوں میں کنوؤں کے پانی کا استعمال بہت زیادہ ہے ۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کیڑے مار زہر سانسوں، غذا اور پانی کے ذریعے انسانی جسم میں باآسانی داخل ہوجاتا ہے ۔

 زراعت میں کیمیائی ادویات کا استعمال ترقیاتی منصوبوں کے تحت تیسری دنیا کے ممالک میں متعارف کرایا گیا۔پاکستان میں 1960 کی دہائی میں سبز انقلاب کے نام پر یہ کیمیائی کھادوں اور ان کیڑے مار زہروں کا استعمال شروع ہوا۔ سبز انقلاب میں استعمال ہونے والے کیمیائی کھاد اور زہریلی ادویات سے انسان سمیت دیگر جان داروں اور ماحول کو شدید جانی اور ماحولیاتی نقصان پہنچتا ہے۔ ان وجوہات کی بنیاد پر دنیا بھر میں کھیتی باڑی اور حق خود ارادیت برائے خوراک اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے۔روایتی طریقہ زراعت سبز انقلاب کے تحت ختم ہونے کے بعد ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کی زرعی و کیمیائی صنعت کی اجارہ داری قائم ہو کر رہ گئی ہے۔دراصل ترقیاتی منصوبوں کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کو پروان چڑھانے اور منافع کمانے کا جدید طریقہ تھا جس کے ذریعے بین الاقوامی زرعی کیمیائی صنعت نے بیج ،کھاد ،ادویات،ٹریکٹرز ،ٹیوب ویل اور دیگر اشیا کے کاروبار کو بھر پور فروغ دیا۔زراعت کے شعبے سے زرعی و کیمیائی صنعت کا منافع نچوڑنے کا بڑھتا ہوا رحجان عوام کو بھوک و افلاس کی طرف مزید دھکیل رہا ہے۔

صنعتی اور زرعی استعمال سے لے کر صحت کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی ایک طویل فہرست ہے۔اس صنعت کا دائرہ زراعت اور صحت سے لے کر خوراک کی صنعت تک پھیلا ہوا ہے۔اس کاروبار سے عالمی سطح پر بڑی بڑی کمپیاں منسلک ہیں جو دنیا کے ہر ملک میں ادویات کی تیاری ، فراہمی اور کاروبار سے کسی نہ کسی حوالے سے منسلک ہیں۔ اس طرح زرعی و کیمیائی کمپنیاں مضبوط ترین بین الاقوامی کمپنیوں کے صف میں شامل ہیں۔

کیمیائی کاروبار ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کا منافع کمانے والا ایک اہم بازو ہے۔جس کی وجہ سے اس کاروبار کے خلاف دنیا بھر جمع ہونے والی سائنسی تحقیقات عوامی خدشات اور تجاویز کو یکسر مسترد کیا جاتا ہے بلکہ زرعی و کیمیائی کاروبار کو فروغ دینے والی کمپنیوں کے دلائل کو ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔بین الاقوامی اداروں، عالمی اور مقامی حکومتوں کی طرف سے کیمیائی صنعت کی پشت پناہی نے کیمیائی ادویات میں کمی کے بجائے اس کے استعمال کو اور بڑھادیا ہے۔

کیمیائی ادویات کے خلاف عالمی سطح پر مہم چلائی جارہی ہے جس میں کئی ادارے ،تنظیمیں ، سیاسی پارٹیاں، کسان گروہ شامل ہیں۔اس مہم کی ایک وجہ ان کمپنیوں کی ادویات کا زہریلا پن ہے جو کہ نہ صرف انسانی صحت پر شدید منفی اثرات رکھتا ہے بلکہ ماحولیات کے نظام کو بھی یکسر تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔اگرچہ بین الاقوامی سطح پر سرگرم تنظیموں اور اداروں کی بھر پور کوششوں سے انسان اور ماحول کے لیے خطرناک کیمیائی ادویات کے استعمال کے خلاف متحدہ بنانا ممکن ہوسکا ہے اور چند ادویات پر مکمل پابندی بھی لگائی گئی ہے لیکن ان اقدامات سے صورت حال میں عموعی سطح پر بہتری پیدا نہیں ہوئی۔

جدید دور کو بین الاقوامی کمپینوں یا کارپوریشنوں کا دور کہنا بے جا نہ ہوگا۔ان کارپوریشنوں کے اعلی عہدیداران کا امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے حکمران طبقے سے گہرا تعلق ہے۔یہ کمپنیاں ان ممالک میں انتخابات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اس لیے ہر بر سر اقتدار حکومت کو ان کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا پڑتا ہے۔ یہ کمپنیاں امریکی صدر ، سینیٹ اور کانگریس کے اراکین کے انتخابی مہم پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے علاوہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انہیں نقد چندہ بھی دیتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ سبھی لوگ اس تحقیق سے متفق ہوں،خاص طور پر کیمیکل انڈسٹری کے لوگ کیونکہ ان کی اپنی سوچ ہے اور وہ ہمیشہ تصویر کا وہی رخ دیکھتے ہیں جو ان کے لیے منفعت بخش ہوتا ہے ۔حالانکہ یہ مسئلہ انتہائی گمبھیر ہوچکا ہے ۔کیونکہ کیمیکل انڈسٹری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کسی بھی پروڈکٹ کے لیے پہلے سائنسی تحقیق مکمل کرے لیکن اربوں ڈالر کا کاروبار کرنے والی یہ انڈسٹری اس کام کے لیے تیار نہیں ہوتی ہے۔اگرچہ کچھ کمپنیوں نے مشکوک کیمیکلز کا استعمال رضاکارانہ طور پر ترک کردیا ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر کمپنیوں نے اپنی نفع پسندی کے رحجان کو نہیں چھوڑا اور وہ یقینا اس وقت تک اس کام کو جاری رکھیں گی جب تک ان پر قانونی طور پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ہم پورے وثوق سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرہ ارض پر انسانیت کو بقا کا شدید خطرہ لاحق ہے کیونکہ ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنے جسم میں مصنوعی کیمیکل کی ایک خاص مقدار کے ساتھ اس دنیا میں جنم لے رہا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ انسانوں نے جس طرح ان ہزارہا کیمیائی مرکبات کا بے دریغ استعمال شروع کر رکھا ہے ، وہ فی الحقیقت ایک ایسا بڑا تجربہ ہے جو کسی بڑی لیبارٹری میں نہیں ہورہا ہے بلکہ حقیقی زندگی میں ہورہا ہے اور یہ کسی چوہے وغیرہ پر نہیں بلکہ کرہ ارض کے تمام انسان اس خطرناک تجربے کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں ۔
 پاکستان میں ان کیمیائی زہروں کی درآمد کا آغاز 1954میں ہوا ۔ ابتدا میں ان کا استعمال ٹڈی دل، مچھروں یعنی ملیریا کے خاتمے سمیت گنا، کپاس،چاول اور تمباکو کو لاحق بیماریوں اور انہیں فصلی کیڑوں سے بچانے کے لیے کیا جاتا تھا ۔ جبکہ کسانوں کو یہ کیمیائی زہر اور اسپرے امدادی قیمت پرفراہم کیا جاتا تھا ۔حکومت کی جانب سے کھیتوں پر مفت فضائی اسپرے بھی کیا جاتا تھا ۔ان کیمیائی زہروں کا 10%سبزیوں پر بھی کیا جاتا تھا ۔ ابتدا میں ان اقدمات کا مثبت نتیجہ نکلا اور پیداوار میں اضافہ ہوا لیکن یہ دراصل دھوکا تھا اور چند سال بعد ہی زمین کی پیداواری قوت گھٹنے لگی ۔ کیمیائی کھادوں اور کیمیائی زہروں کے اندھا دھند استعمال سے زمین کی قدرتی نمو کی طاقت گھٹتی چلی گئی اورآخری حدوں تک جا پہنچی۔

 پاکستان میں ان خطرناک کیڑے مارکیمیائی زہروں کی فروخت نجی شعبے میں ہونے اور اس کے آزادانہ استعمال کے باوجود سرکاری محکموں کا دعوی ہے کہ ان زہروں کا استعمال متعلقے محکموں کی نگرانی میں ہوتا ہے ، اگرچہ کہ حقائق کچھ اور ہیں ۔زائد المعیاد زہروں(Expired) کا استعمال بھی عام ہے ۔ایسے آؤٹ ڈیٹڈ کیمیکل زیادہ تر لوگ چین سے ڈرموں میں منگواتے ہیں پھر مقامی طور پر ان کی چھوٹی اور خوبصورت پیکنگ کرکے فروحت کے لیے مارکیٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔بیچنے والوں کو اس میں 50 تا 55 فیصد تک کمیشن ملتا ہے۔

 فصلوں پر اگر ان کیمیکل کو چھڑکنا نا گزیرہو تب بھی یہ ایک انتہائی اہم اورذمے دارانہ اور تیکنیکی کام ہے۔  ان کیمیکل کے انتخاب، وقت،استعمال اور مقدارتک سبھی کچھ ماہرین کی ذمے داری ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ بیچنے والا دکان دار ہی سارے فرائض انجام دیتا ہے ، سادہ لوح کسانوں کی وہی رہنمائی بھی کرتا ہے اور ان کے لیے ان زہروں کا انتخاب بھی خود ہی کرتا ہے۔صورت حال کی گمبھیرتا اور متعلقین کی ”ذمے داریوں“ کا حال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے صحت  WHOنے جن خطرناک کیمیائی زہروں پر پابندی لگائی ہے اور انہیں انسانی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے وہ پاکستان میں باآسانی مل جاتے ہیں اور استعمال بھی ہو رہے ہیں۔ڈی ڈی ٹی تو ہمارے گھروں تک بھی پہنچی ہوئی ہے اسے ہم فنس کے نام سے گھروں میں استعمال کر رہے ہیں ۔حتی کہ مچھر مار ادویات میں بھی یہ موجود ہے ۔

 دنیا بھر میں 12خطرناک کیمیائی زہروں کی درآمد برآمد پر پابندی ہے جنہیں ترقی یافتہ ممالک "Dirty Dozen"کے نام سے یاد کرتے ہیں ان میں سے اکثر ہمارے ملک میں باآسانی مل جاتے ہیں جس کا ثبوت ڈی ڈی ٹی ہے ۔

 ترقی یافتہ ممالک نے ان خطر ناک کیمیکل کو مسترد کردیا ہے اور اب وہ دوبارہ فطرت کے قریب ہونے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں اور ایسے تمام قدرتی طریقوں کو  Integrated pest managementکا نام دیا گیا ہے۔اس کے تحت تمام روایتی طریقہ کار کو دوبارہ رائج کرنا ہے اور ان کیمیکل کے بجائے قدرتی جراثیم کش مثلا نیم وغیرہ کی مصنوعات کا استعمال بڑھانا ہے ۔

 ہم کبھی بھی ایسے معاشرے کو تشکیل نہیں دے سکتے جو خطرات سے بالکل پاک ہو تاہم کم از کم سطح پر عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ وہ کون سی کیمیائی زہر ہیں جو انہیں اور ان کے بچوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔نیز وہ اس چیز کو بھی جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اب تک سائنس کی تحقیقات کہاں پہنچ چکی ہیں ۔

1973 کے کیڑے مار ادویات کے قوانین اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک و زراعت کے بین الاقوامی ضابطہ اخلاق کے تحت کیڑے مار ادویات کے پھیلا اور استعمال کے قوانین اور 2005 کی قومی ماحولیاتی پالیسی کے تحت Integrated Pest Management (IPM)  کو ترجیح دینی چاہیے یعنی زیادہ سے زیادہ قدرتی طریقوں کا فروع اور کیمیائی زہر سے اجتناب۔

کیمیائی زہروں سے مسموم اس فضا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب 1962میں سائنس داں ریچل کارسن کی کتاب خاموش بہار Silent Spring منظر عام پر آئی ۔ اس کتاب نے پہلی مرتبہ سر سبز انقلاب کا قصیدہ پڑھنے والوں کی سوچ کو جھنجوڑا اور فصلوں پر چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر کے نقصان دہ اثرات کو سائنسی حقائق کی روشنی میں پیش کیا۔ان اثرات میں جنگلی حیات کی تباہی، قدرتی توامن میں بگاڑ اور انسان کے ارد گرد کے ماحول کا زہر آلودہ ہوجانا شامل ہیں۔ کارسن کا موقف تھا کہ جب کیڑے مار دوا سے غیر نقصان دہ کیڑے بھی ختم ہوجائیں گے تو نتیجے کے طور پر وہ کیڑے بھی مر جائیں گے جن کی خوراک کا دارو مدار ان کیڑوں پر ہے۔اور یوں بہار اجڑ جائے گی۔جب یہ حقائق سامنے آئے تو لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔جس نے ایک تحریک کو جنم دیا۔ریچل میرین بائیولوجسٹ تھی اورامریکی ادارے فش اینڈ وائلڈ لائف سے وابستہ تھی۔اس کی کتاب نے امریکی سماجی زندگی میں ایک خاموش انقلاب کی بنیادرکھی۔ریچل کا انتقال 56 کی عمر میں ہوا۔

 ریچل کی یہ کتاب 1962 میں لکھی گئی تھی اور46 سال گذرنے کے باوجود پاکستان کے تناظر میں اس کتاب کی سچائی برقرار ہے۔
 کارسنکی کتاب سائیلنٹ اسپرنگ جس کے اب تک 30 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اس میں اس نے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کے جوابات ہمیں لازمی تلاش کرنا چاہیے۔یہ کتاب دراصل انسان کی بنائی ہوئی حشرات کش ادویات کے نتیجے میں ابھرنے والے خطرات کے متعلق ایک جامع اور ہنگامی نوعیت کی تنبیہہ تھی۔انسانیت ہمیشہ ریچل کارسن کی شکر گذار رہے گی۔


Wednesday, January 16, 2008

ایک دن آب گاہوں کے نام

حیات کے تمام رنگ بکھیرتی آب گاہیں
انسان اور فطرت کا ٹوٹا ہوا رشتہ مضبوط کیجیے

 آئیے ایک دن اپنی مصروف زندگی سے چرا کر اپنے گھر کے قریب موجود فطری نظاروں کے بیچ کسی جھیل، پارک، ساحل یا جنگل میں گذاریئے اور پھر اس دن کے کرشماتی اثرات کو محسوس کیجیے۔ یہ جسمانی سرگرمی آپ کو نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی چاق و چو بند اور توانا کردے گی۔صدیوں سے انسان اس کا تجربہ کرتا آیا ہے اور اب سائنسی تحقیقات بھی اس کی تصدیق کررہی ہیں۔  تازہ ترین تحقیقات کے مطابق فطری ماحول کے قریب انجام دی گئی اس قسم کی کوئی بھی سرگرمی آپ کے کام کرنے کی استعداد کو بڑھاتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے۔ دنیا بھر میں ایسی سرگرمیوں کو  Green Exercise کہا جاتا ہے ، ہم اسے ہری بھری تفریح یا سر سبز مشق بھی کہہ سکتے ہیں۔ان ہری بھری مشقوں میں سبزہ زاروں میں چہل قدمی،سائیکل چلانا،دریا یا جھیلوں میں کشتی رانی ، ماہی گیری، کھلے علاقوں میں پرندوں کے لیے دانہ پانی وغیرہ مہیا کرنا اور فطرت کی حفاظت کے اور بہت سے کام شامل ہیں۔سرسبز جگہوں پر گذارا ہوا یہ وقت آپ کی کیلوریز گھٹائے گا ، بلڈ پریشر اور اعصابی دباؤ کم ہوگا اورایک بے نام سی خوشی اور فرحت و مسرت کا احساس آپ کو تمام دن ہشاش بشاس رکھے گا بلکہ آنے والا پورا ہفتہ اسی سرشاری میں گذرے گا، آزمائش شرط ہے۔



 2 فروری کو دنیا بھر میں آب گاہوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے  کم از کم اس ایک دن کو کسی آب گاہ کے کنارے فطرت اور انسان کے کمزور رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے مخصوص کیجیے۔اس سال یہ دن آب گاہیں اور جنگلات(wetlands and forests)  کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے۔ یہ دونوں عناصر ہی زمین پر حیات کی رنگا رنگی کا سبب ہے۔ ان کی حفاظت کیجیے اور ان کے قریب رہیے۔ جب تا یہ آپ کے قریب نہیں ہوں گے آپ بھی ان کے قریب نہیں ہوں گے۔ یہ ہرا بھرا شوق آپ کی صحت کے لیے کتنا ضروری ہے اس کا      اندازہ ماہرین کی رپورٹوں سے بھی لگا سکتے ہیں۔

صحت کے لیے کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں خصوصا  WHO خبردار کر رہی ہے کہ مصروف ترین مشینی زندگی نے ہم سے ہماری تفریحات چھین لی ہیں اورخصوصا فطری مناظرسے ہمیں بہت دور کردیا ہے۔آسائشات نے ہمیں حد درجہ کاہل کردیا ہے اور جسمانی محنت کم سے کم ہوکر رہ گئی ہے ، جس کا نتیجہ تباہ کن امراض کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔شہروں میں یہ صورت حال بد سے بد ترین ہوکر رہ گئی ہے۔پچھلے 25 سالوں میں دنیا کی آبادی کا تیز ترین بہاؤ شہروں کی طرف رہا ہے۔ عالمی آبادی کا 37%سے49% شہروں کا رخ کرچکا ہے۔اس سے زرعی زمینیں شہری استعمال مثلا رہائشی اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگیں۔جنگل فالتو چیز سمجھ کر کاٹے جانے لگے اور ہرے بھرے علاقے کم سے کم ہوتے چلے گئے۔

شہری سرگرمیوں نے لوگوں کوکاہل بنایا اور جسمانی مشقت کی کمی نے انسانی صحت کو گھن لگادیا۔کھانے کی زیادتی اورکاہلی نے موٹاپے کو بڑھ کر دعوت دی اورذیابیطس ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں نے انسانوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ اور اب تازہ رپورٹ بتا رہی ہیں کہ موٹاپا صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا بھی سبب ہے۔تخمینہ ہے کہ دنیا بھر میں 1.9ملین اموات کا سبب موٹاپا اور اس سے متعلقہ بیماریاں ہیں۔صرف یورپی ممالک میں 2سے8%افراد کی بیماریوں اور10سے13%اموات کا سبب کم بخت یہی موٹاپا ہے۔ WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر موٹاپے پر قابو نہ پایا گیاتو 2020 تک یہ ہر طرف تباہی مچا رہا ہوگا۔صرف یو کے میں اگر چھ میں سے ایک شہری بھی بیمار ہوا تو نیشنل ہیلتھ سروسز کا قومی سطح پر خرچہ 12.5بلین پاؤنڈاور معیشت پر اس کے اثرات 13.1بلین پاؤنڈ ہوگا۔ ہم ترقی پذیر لوگوں کا تو ذکر ہی کیا؟

 اس سا ل آب گاہوں اور انسانی صحت کے مابین گہرے فطری تعلق کو اجاگر کیا جارہاہے۔دیگر قدرتی وسائل کی طرح ہمارا ملک اس وسیلے سے بھی مالا مال ہے۔ آب گاہیں(Wetlands) دراصل قدرتی  سپر مارکیٹ  ہیں جہاں انسانوں، جانوروں اور پرندوں کے لیے وافر پانی اور خوراک کا عظیم ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔آب گاہوں کی اصطلاح بہت وسیع معنوں کی حامل ہے۔ اس میں جھیلیں، دلدل، ساحلی علاقے، جوہڑ،قدرتی ندی نالے ، دریا اور ڈیلٹا شامل ہیں۔ان آب گاہوں کا ایک اپنا مکمل ماحولیاتی نظام ہوتا ہے جس میں مختلف اقسام کے جان دار زندہ رہنے کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔جان داروں کی ان مختلف اقسام کو زنجیر کی کڑیوں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جو آپس میں مل کر زندگی کے سلسلے کو قائم رکھتی ہیں۔ اور انسان ان سب پر انحصار کرتا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ آب گاہیں دراصل زندگی کی پناہ گاہیں ہیں۔زندگی کی مالا کے موتی بکھرنے سے بچانے کے لیے ان کا تحفظ بہت ضروری ہے۔

آب گاہوں کے حوالے سے پاکستان عالمی سطح پر اس وقت پہچانا گیا جب 1976 میں پاکستان نے رامسر کنونشن پر دستخط کیے۔یہ کنونشن ایران کے شہر رامسر میں1971میں تشکیل پایا۔یہ ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جس کے تحت آب گاہوں کے تحفظ کے لیے کوششیں اور وسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔

رامسر کنونش کے تحت عالمی سطح پر ایسی آب گاہوں کی فہرست تیار کی گئی ہے جو متعینہ معیار کے مطابق عالمی اہمیت کی حامل ہیں تاکہ ان آب گاہوں کی حفاظت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر منصوبے بنائے جائیں۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کو تین عہد ایفا کرنے ہوتے ہیں۔

 (1)  عالمی اہمیت کی آب گاہوں کو رامسر فہرست میں شامل کروانا
(2)  تمام آب گاہوں کے دانش مندانہ استعمال کے لیے منصوبہ بندی کرنا
(3)  انواع اور پانی کے مشترکہ نظاموں کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون کرنا۔

  اس کنونشن میں ابتدائی طور پر138 ممالک شریک تھے ۔جب پاکستان نے اس پر دستخط کیے تو ہمارے ملک کی مجموعی آب گاہوں کا مجموعی رقبہ تقریبا 7,800کلو میٹر تھا۔ اور یہاں عالمی معیار کی آٹھ آب گاہیں تھیں۔2003ءتک ان آبی ٹھکانوں کی تعداد 16 ہوگئی تھی۔اقوام متحدہ نے جب 2003ءکے سال کو"میٹھے پانی کا سال"  کے طور پر منایا تو اس سال کی نسبت سے 3نئی آب گاہیں رامسر سائٹ میں شامل کی گئیں ۔یہ تینوں آب گاہیں یعنی’انڈس ڈیلٹا  472,800ہیکٹر،رن آف کچھ(566,375) ہیکٹراور دیہہ اکڑو (20,500) ہیکٹر سندھ میں واقع ہیں۔ ان تین نئی آب گاہوں کے اضافے سے پاکستان میں بین الاقوامی اہمیت کی حامل آب گاہوں یعنی رامسر سائٹ کی تعداد 19ہوگئی۔ ان آب گاہوں کے نام درج ذیل ہیں

استولا آئی لینڈ  بلو چستان
چشمہ بیراج ’ پنجاب
 دیہہ اکڑو ، سندھ
ڈرگ جھیل، سندھ
ہالیجی جھیل سندھ
حب ڈیم ، سندھ بلوچستان
انڈس ڈیلٹا سندھ
انڈس ڈولفن ریزرو ،سندھ
جیوانی کوسٹل آب گاہ ، بلوچستان
 جبھو لگون ، سندھ
کینجھر جھیل سندھ
 میانی ھور، بلوچستان
نرڑی لگون ، سندھ
اومارہ ٹرٹل بیچ ، بلوچستان
رن آف کچھ سندھ
ٹانڈا ڈیم، سرحد
تونسہ بیراج ، پنجاب
تھانے دار والا، سرحد
اچالی کمپلیکس (کھبیکی، اچالی اور جھلر جھیل) ،پنجاب

پاکستان مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اس لیے بہت سے پرندے جو وسطی اور شمالی ایشیا میں پیدا ہوتے اور پرورش پاتے ہیں وہ افغانستان کے راستے وادی سندھ کا رخ کرتے ہیں اور خصوصا سندھ کی آب گاہوں پر قیام کرتے ہیں۔یہ آب گاہیں ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی سرمائی رہائش گاہ کا درجہ رکھتی ہیں۔

ساحلی علاقوں اور دریاؤں کے دہانوں پر واقع یہ آبی ٹھکانے طری طرح کی آبی حیات یعنی مچھلیوں، جھینگوں اور کیکڑوں وغیرہ کے انڈے بچے دینے اور ان کی پرورش کے لیے بہترین جگہ تصور کی جاتی ہیں۔موسم سرما میں نقل مکانی کرکے آنے والے ہزاروں اقسام کے آبی پرندے لاکھوں کی تعداد میں ان آب گاہوں پر قیام کرتے ہیں۔

 آئیے اب رامسر سائٹ کی فہرست میں شامل 19آب گاہوں میں سے ایک آب گاہ کا قریب سے جائزہ لیتے ہیں جس کے ماتھے پر وقت کے تغیرات نے نہیں بلکہ دست انساں نے تباہی کی مہر لگائی ہے۔

ماضی کی یہ خوبصورت جھیل  نرڑی  ضلع بدین کی تحصیل بدین میں ہزاروں ایکڑوں کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ایک زمانہ تھا جب یہ جھیل اپنے قدرتی حُسن کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھی۔ارد گرد کے گاؤں دیہات آباد تھے اور تقریبا5000مقامی افراد کا انحصار اسی جھیل پر تھا۔ گھاس کی بہت ساری اقسام اس وسیع جھیل کے کناروں اور جھیل اندر ننھے ننھے جزیروں پراگتیں۔ جس سے جھیل کی مچھلیوں کے لیے چارہ میسر آتا اور اس کی جڑیں مچھلی کے لیے محفوظ ہیچریز کا کام دیتیں۔ مقامی پرندے اس گھاس پر اپنے گھونسلے بناتے جس سے ان مقامی پرندوں کو تحفظ ملتا اور وہ ایک قدرتی ماحول میں نشو و نما پاتے۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ گھاس بڑی اہمیت کی حامل ہوتی، ایک تو بکریوں، بھیڑوں کے لیے چارہ فراہم ہوتا۔علاوہ ازیں لوگ اپنے گھر اسی گھاس سے بناتے اور یہ گھاس زمین پر ایک بچھونے کی طرح بھی کام بھی آتی۔ اس کے علاوہ یہاں کی لمبی گھاس جسے مقامی زبان میں  پن کہا جاتا ہے کے سوکھنے کے بعد اس سے  پنکھے  بنائے جاتے جن کی شہروں میں بڑی مانگ ہوتی اوریہ آمدنی ان غریب ماہی گیروںکو معاشی پریشانیوں سے بچاتی۔

نریڑی جھیل کے اطراف میں زیادہ تر ماہی گیرآباد ہیں جوماہی گیری کے سوا کچھ نہیں جانتے حتی کہ وہ زراعت سے بھی ناواقف ہیں۔ ان کا ذریعہ معاش صرف اور صرف ان جھیلوں اور سمندر سے مچھلی پکڑنا ہی ہے۔ موسم سرما میں یہ جھیل سائیبیریا سے آئے ہوئے پرندوں سے بھر جاتی۔ اس جھیل سے وافر مقدار میں مچھلی اور جھینگا پکڑا جاتا تھا۔یعنی یہ جھیل ہزاروں لوگوں کا ذریعہ معاش تھی اور بلا مبالغہ کئی گاؤں اس جھیل کی گھاس، مچھلی اور پرندوں پر آباد تھے۔ جھیل پرموسم سرما میں آنے والے پرندوںکی تعداد 1990 میں 71,335۔ 2001 میں 43,115 اور 2002 میں 50,997 ریکارڈ کی گئی۔

 نوے کی دہائے کا آخر تھا کہ جب سائیکلون 2A آیا۔ جس میں ’چولری ویئر‘ جو ایل۔بی۔او۔ڈی، کا انتہائی اہم حصہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ جس کی وجہ سے دن میں دو بار ، مدو جزر کے وقت سمندر کا پانی اس جھیل میں، چولری ویئر کے راستے اندر داخل ہوتا اور جب Low tide ہوتی تو اپنے ساتھ جھیل کا میٹھا پانی بھی بہا کر لے جاتا۔جس سے نرڑی جھیل میں شوریدہ پانی کی مقدار بڑھتی گئی۔اسی سبب کی وجہ سے مقامی گھاس جو سیکڑوں ہیکٹروں میں پھیلی ہوئی تھی برباد ہوگئی۔ مقامی جنگلی حیات خواب و خیال ہوکر رہ گئی۔پرندے، گیدڑ، جنگلی بلیوں کی چار اقسام بڑی حد تک متاثر ہوئیں۔مچھلی کا نام و نشان تک ختم ہوگیا۔وہ ماہی گیروں کے خاندان جو نرڑی کے گرد و پیش میں بستے تھے۔ وہ اس جھیل کے برباد ہونے کے بعد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ ایک شدید دھچکا تھا۔ لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی، کیونکہ ضلع بدین کی ساحلی پٹی میں، ایل بی او ڈی کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے زرعی زمینیں برباد ہوکر رہ گئی ہیں۔

 اس علاقے کے لوگ خصوصا وہ جو اس جھیل پر انحصار کرتے تھے اب غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گذار رہے ہیں ۔
لیکن افلاس اور غربت کا شکار یہ بہادر لوگ اب بھی حوصلہ مند اور پر امید ہیں کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت اس جھیل کی بحالی کا کام انجام دے ہی لیں گے ۔دور دور تک پھیلی تباہ حال نرڑی جھیل کو دیکھ کر جب میں نے ان غریب ماہی گیروں کو دیکھا تو مجھے لگا کہ شاید یہ نا ممکن کام ہوگا ، کیسے، کس طرح ؟ میرا سوال تھا۔جواب میں انہوں نے جو تفصیل بتائی اگرچہ کہ وہ تمام کام ممکن ہیں لیکن اس کے لیے ان مٹھی بھر لوگوں کے حوصلے کے ساتھ ساتھ بہت سا سرمایہ بھی درکار ہے ۔ یہاں متعلقہ سرکاری اداروں کو اپنا فرض انجام دینا ہوگا اوریہ جھیل چونکہ بین الاقوامی اہمیت کی آب گاہوں کی فہرست یعنی رامسر سائٹ میں شامل ہے لہذا حکومت اس جھیل کی بحالی کے لیے رامسر کے بین الاقوامی ادارے سے مالی مدد اورمہارت طلب کرسکتی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اس جھیل کی بحالی سے اور بہت سی تاریک راہوں میں روشنی پھیلے گی ۔ اسے مثال بنا کر بہت سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت میدان میں اتر آئیں گے۔ہماری آنے والی نسلوں کی جسمانی اورذہنی صحت کے لیے ان آب گاہوں کی بقا بہت ضروری ہے۔


Saturday, October 27, 2007

قدرتی آفات اور ماحولیاتی مہاجرین


ہم کتنے بے  خبر ہیں!

سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں، دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات پر ایک شور برپا ہے۔تمام عالمی لیڈر اس حوالے سے عوام میں شعور و آگہی بڑھا رہے ہیں اور تمام حکومتیں ہروہ ممکنہ اقدام اٹھا رہی ہیں جس سے کرہ ارض کومزید تباہی سےبچانے کی کوئی صورت نکل سکے لیکن ہمارے ملک میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے گویا ہم کسی اور کرے کے باسی ہیں اور یہ سارے مسائل ہمارے نہیں ہیں۔اور صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ سکون اور اطمینان کی یہ فضا وائٹ ہاؤس میں بھی ہے۔وائٹ ہاؤس سے باہر کیا ہورہا ہے ، لوگ کیا سوچ رہے ہیں اس سے وائٹ ہاؤس کے مکینوں کو کوئی دلچسپی نہیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہماری حکومت اور رہنماؤں کو کسی بات کی پروا نہیں۔نہ ملک کی اور نہ عوام کی۔ کتنی خوش آئند بات ہے کہ دنیا کی ’سپر پاور‘ اور ’ہمارے‘ بیچ کتنی ہم آہنگی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی اس بے حسی میں بھی اس کا اپنا مفاد پوشیدہ ہے۔امریکا جانتا ہے کہ اگر وہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا اعتراف کر لے تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عالمی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور جب یہ مانے گا تو پھر اسے کیوٹو پروٹوکول جیسے معاہدے پر بھی دستخط کرنے پڑیں گے جو اس کی صنعتوں اور معیشت کے لیے کمر توڑ جھٹکا ثابت ہوگا۔ کیونکہ مضر گیسوں کی جس آلودگی سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ان گیسوں کا 42% امریکا کی صنعتوں کی چمنیوں سے ہی خارج ہوتا ہے جو اس معاہدے کے بعد پابندیوں سے گھر جائیں گی ۔گویا وائٹ ہاؤس کی بے نیازی میں بھی اس کی ملک اور قوم کا فائدہ پوشیدہ ہے ، یہ اور بات ہے کہ اس کے اس فائدے کے لیے دنیا یا غریب ممالک کیا قیمت چکا رہے ہیں۔


  لیکن ہماری حکومت ، ہمارے سیاسی رہنما کس فصل کی آس میں غلطیاں بو رہے ہیں؟

آج کل آپ ان لیڈرز کی تقریریں سن رہے ہوں گے ۔ کیا ان میں سے کسی نے پاکستان کے وسائل بچانے کی بات کی؟ کسی کے ایجنڈے میں پانی کے ذخیرے کے لیے چھوٹے ڈیم بنا نے کا ذکر ہے سوائے ایک کالا باغ ڈیم کا مسئلہ جسے لوگ صرف اور صرف سیاست چمکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔کیا سندھ سے تعلق رکھنے والے کسی لیڈر نے ہزاروں ایکڑ پر پھیلے زرخیز انڈس ڈیلٹا کی تباہ حالی پر روشنی ڈالی اور بے گھر ہوجانے والے لاکھوں غریبوں سے ہمدردی کی۔عالمی سطح پرپہچانے جانے والا یہ مسئلہ اپنے ملک میں کتنا اجنبی ہے۔بلٹ پروف گاڑیوں میں گھومنے والے یہ لیڈر بے چارے اس سر سبز شاداب انڈس ڈیلٹا کو کیا جانیں؟ جسے پانی کی کمی نے تباہ کردیا۔ لاکھوں لوگ ہجرت کر گئے اور مچھلیوں کی کئی نسلیں نایاب ہوگئیں۔

 پاکستان میں پانچ بڑے اور پندرہ چھوٹے دریا ہیں مگر 70%آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، تو کیا کسی لیڈر نے اس بارے میں بات کی۔لاکھوں لوگوں کو ڈاکٹر اور اسپتال کی سہولت میسر نہیں اور جنہیں خدا نے یہ توفیق دی تو وہ جعلی دواؤں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ سب مسائل انسان کی بنیادی ضروریات میں شمار ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ سہولیات آسائشات میں شمار ہوتی ہیں، ابھی ہم ان ہی میں الجھ رہے ہیں اور زمانہ قیامت کی چال چل چکا ہے۔

 پڑھیے اور سر دھنیے کہ سائنس دانوں کی نئی تحقیق کے مطابق اگر درجہ حرارت میں اضافہ اندازوں کی نسبت آدھا بھی ہوا تو کرہ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اس نے 65ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈائنو سارز کا خاتمہ ہوا تھا۔
ماحولیاتی تبدیلیاں اور موسمی تغیرات بنی نوع انسان کے لیے ایک نیا عذاب  لوگوں کی بے گھری کی صورت لا رہی ہیں۔ نظام قدرت میں دخل اندازی کے نتیجے میں پچھلے دس سالوں کے دوران دنیا میں قدرتی آفات کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ برطانیہ میں مقیم بنگلہ دیشی ماحولیاتی سائنس داں سلیم الحق کہتے ہیں کہ ان واقعات کی سائنسی وضاحت ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کی صورت میں ہی کی جاسکتی ہے۔

سلیم الحق انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج ((IPCCکے ان سائنس دانوں میں شامل ہیں جن کی تیار کردہ رپورٹ کو اس سال نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ آئندہ بیس سال کے لیے دنیا وقت کے ایک ایسے دورانیے میں قید ہوگئی ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی قدرتی آفات کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔چاہے مضر گیسوں کا اخراج فی الفور صفر کر لیا جائے۔سلیم الحق کی تحقیق کے سائنسی اعدادو شمار کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ پچھلے ایک سو سال کے دوران جتنی بھی قدرت آفات آئی ہیں ان کی شدت میں حالیہ دس سالوں کے دوران تیزی آئی ہے۔ جو سیلاب پہلے بیس سالوں میں ایک دفعہ آتے تھے اب ہر پانچ سال بعد آنے لگے ہیں۔درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیرز پگھل رہے ہیں۔سطح سمندر میں اضافہ ہورہا ہے اور خدشہ ہے کہ ہمالیہ کے وہ گلیشیرز آئندہ بیس سالوں میں اپنا وجود کھو بیٹھیں گے۔

حال اور ماضی کی ماحولیاتی تبدیلیوں میں فرق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ صدیوں پر محیط غیر محسوس قدرتی جغرافیائی عمل کے نتیجے میں رونما ہوتی تھیں جبکہ اب تیزی سے صورت حال بدل رہی ہے۔اس صورت حال کی ذمے داری دنیا کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے یہ اور بات ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے اس کے زیادہ ذمے دار ہیں۔سلیم الحق کے مطابق کسی ایک بین الابراعظمی پرواز کے نتیجے میں خارج ہونے والی کاربن کی فی کس مقدار کسی غیر ترقی یافتہ ملک کے ایک کنبے کے سالانہ کیروسین آئل ( مٹی کا تیل) کے استعمال سے خارج ہونے والی کاربن کی مقدار سے زیادہ ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امیر ممالک میں رہنے والوں کو احساس ہونا چاہیے کہ ان کے لائف اسٹائل کی وجہ سے غریب ممالک کے لوگوں پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت کا ماہرین کے مطابق پہلا شکار بنگلہ دیش ہی ہوگا۔درجہ حرارت میں اضافے اور اس کے نتیجے میں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے سبب خیال کیا جاتا ہے کہ سال2030 تک بنگلہ دیش کے ایک کروڑ ستر لاکھ لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔اور اگر عالمی ماحولیاتی آلودگی پر قابو نہیں پایا گیا تو رواں صدی کے آخر تک موجودہ بنگلہ دیش کا ایک چو تھائی حصہ سمندر کی نذر ہو جائے گا۔

لیکن یہ بھی ایک المیہ ہے کہ اس صورت حال کے ذمے دار صدیوں سے دریاں اور سیلابوں کی سختیاں جھیلنے والے نہیں اس خطے کے باسی نہیں بلکہ وہ ممالک ہیں جو ترقی کی دوڑ میں کاربن اور دوسری مضر گیسوں کے اخراج کا سبب ہیں۔اس حوالے سے بی بی سی کی ایک مہم کاتذکرہ بے جا نہ ہوگا ۔یہ مہم ماحولیاتی تبدیلیوں کو اجاگر کرنے کی غرض سے بی بی سی کی عالمی سروس نے بی بی سی بنگالی سروس کی مدد سے شروع کی ہے جس کا نام بنگالی میں ’ نودی پوتھے بنگلہ دیش ‘ہے جس کا مطلب ہے کہ بنگلہ دیش کا سفر دریاؤں کے ذریعے۔

بنگلہ دیش کے دریاؤںکا یہ سفر ایک ماہ تک کشتی پر جاری رہے گا ۔ کشتی پر بی بی سی کے لیے مختلف زبانوں میں کام کرنے والے صحافی سوار ہیں۔اور وہ اپنے شب و روز اسی پر گذاریں گے تاکہ دریاؤں کے کناروں پر بسنے والوں کے مسائل کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرسکیں۔
کشتی میں وقتا فوقتا ماحولیات کے ماہرین بھی سوار ہوتے رہےں گے۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج یعنی آئی پی سی سی(نوبل پرائز یافتہ 2007 ) کے سربراہ نے بھی اس حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

بنگلہ دیش کو دریاؤں کی سرزمین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔تقریبا پندرہ کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں چھوٹے بڑے کم و بیش سات سو دریابہتے ہیں۔اور ان سب کے اپنے اپنے نام بھی ہیں تاہم بڑے اور مشہور دریا میگھنا، پدما، برہم پترا اور گنگا ہیں۔بنگلہ دیش کے بڑے دریا مل کر سترہ کروڑ پچاس لاکھ ہیکٹر رقبے پر بہتے ہیں ۔ دریاؤں کے پانی ہی سے زمین سیراب ہوتی ہےاور اسی سے ماہی گیروں کا روز گار وابستہ ہے لیکن ہر سال سیلابوں کی شکل میں یہ دریا انسانی جانوں کااور معاشی وسائل کا خراج بھی لیتے رہتے ہیں۔

آئی پی سی سی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہا تو بنگلہ دیش کے دریاؤں میں آنے والے سالانہ سیلابوں کی شدت میں بیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ سیلابوں اور سطح سمندر میں اضافے سے ماہرین کے مطابق جن بحرانوں کا سامنا ہوگا ان میں پینے کے پانی کی کمی ، جنگلات اور جنگلی حیات کو خطرہ، بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت اور صحت کے مسائل شامل ہیں۔

 اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی حدت سے عالمح سطح پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے جس کے نتیجے میں افریقہ اور ایشیا کے بعض علاقوں میں جنگیں چھڑ سکتی ہیں اور علاقائی شورش پیدا ہوسکتی ہے۔جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان کا خصوصی ذکر ہے جہاں درجہ حرارت سے گلیشیر پگھل رہے ہیں اور لوگوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔سوئس اور جرمن ماہرین کی ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا میں بڑھتی ہوئی گرمی سے جنوبی ایشیا اور افریقہ میں خطرناک جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔ان علاقوں کے غیر مستحکم ممالک نہ صرف انتشار کا شکار ہوسکتے ہیں۔ آبی اور ارضی وسائل پر کھینچ تان جنگوں کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔اوراس سے بڑے پیمانے پر لوگ اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسنے پر مجبور ہوں گے۔اگر گرمی میں صرف پانچ ڈگری سلیسیس کا اضافہ ہوگیا تو عالمی خانہ جنگی کی سی کیفیات پیدا ہوسکتی ہیں۔

ہمارے ایک اور پڑوسی افغانستان بھی خشک سالی کی بدترین صورت حال سے دوچار ہے۔موسم سرما کی برف باری کے باوجود دریاؤں کے کنارے خشک پڑے ہیں اور فصلوں کی تعداد کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ کنوؤں میں پانی ضرورت سے بہت کم ہے اور اس کا سبب بھی بارشوں کی کمی ہے ، بارشوں کا پانی زمین میں رسنے سے کنوئیں سیراب ہوتے ہیں۔مویشی بھی پیاسے مر رہے ہیں۔افغانستان سات سال سے جاری قحط سے ابھی نکل ہی پایا تھا کہ نئی خشک سالی نے صورت حال کو بدتر بنادیا۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سال کی خشک سالی کی وجہ سے 2.5ملین افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ اس سے قبل ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اندازہ 6.5افراد پہلے ہی موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ خشک سالی کا شکار علاقے زیادہ تر ملک کے جنوبی حصے میں ہیں۔ ان علاقوں سے ہزاروں لوگ گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔واضح رہے کہ جنوبی علاقے پر تشدد کرروائیوں کا گڑھ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ سانسوں کی ڈور برقرار رکھنے کے لیے زیادہ تر پوست کی کاشت کر رہے ہیں۔کیونکہ خشک سالی میں پوست بہترین کاشت ہوتی ہے۔غریب بے چارے اورکربھی کیا سکتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں بسنے والوں کے نزدیک اپنا علاقہ چھوڑنا ہی سب سے بہتر حکمت عملی ہے۔دریائی اور ساحلی علاقوں سے نقل مکانی کے باعث ڈھاکہ اس وقت آبادی میں اضافے کی شرح کی اعتبار سے دنیا کے بڑے شہروں میں سر فہرست ہے۔

عالمی سطح پر پناہ گزینوں کی تعداد میں پانچ سال بعد پہلی مرتبہ اضافہ ہوا ہے۔اور اقوام متحدہ کے نزدیک اس کی وجہ عراق پر تشدد صوری حال ہے۔اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس چودہ فیصد اضافے کے ساتھ پناہ گزینوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی تعداد بھی ایک کروڑ تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو خود ایک ریکارڈ ہے۔ پناہ گزینوں میں اضافہ عراق کے علاوہ لبنان ، مشرقی تیمور،سوڈان اور سری لنکا میں جاری شورش ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے اعدادو شمار میں وہ چالیس لاکھ فلسطینی شامل نہیں ہیں جو اسرائیل کی وجہ سے بے گھر ہوچکے ہیں۔تقریبا پندرہ لاکھ عراقی پناہ گزینوں کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔اور ان میں زیادہ تر اردن اور شام میں مقیم ہیں۔قومیت کے حساب سے پناہ گزینوں کی یہ دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔سر فہرست افغان ہیں جو اکیس لاکھ کی تعداد میں ہیں۔

غذائی بحران وارننگ

اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی ترقی پذیر ملکوں میں لاکھوں انسانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔ ایف اے او نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے جو بہت سے ملکوں کی برداشت سے با ہر ہوگا۔

ایف اے او کا کہنا ہے کہ ایسی مہنگائی کی پہلے نظیر نہیں ملتی اور اگر کسانوں کو فوری طور پر مدد نہیں ملے گی تو بہت سے ملک غذائی بحران کا سامنا نہ کرسکیں گے۔ ادارے نے کہا کہ37ممالک میں لڑائی اور قدرتی آفات کی وجہ سے غذائی بحران پیدا ہوا ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک پر خشک سالی اور سیلابوں نے حملے کیے ہیں ۔اس کے علاوہ تیل کا بھاؤ اونچا چلا گیا اور ساتھ میں اناج سے بننے والے بناسپتی ایندھن کی مانگ بڑھی ہے جس کی وجہ سے اور بھی شدید ہوگیا ہے کہ دنیا میں خوراک کے ذخیرے بہت گھٹ گئے ہیں اور امداد کے لیے بھی کھانے پینے کی اشیا کم ہوگئی ہے۔

اس سال اناج کی مہنگائی نئے ریکارڈ پر پہنچ گئی ہے جس نے ہر طرح کی غذائی اشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

اقوام متحدہ ہی کے عالمی ادارہ صحت نے فیصلہ کیا ہے کہ سری لنکا میں خوراک میں کمی کے شکار دسیوں ہزار بچوں کو مفت خوراک فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ بچے سری لنکا میں جنگ سے متاثرہ علاقے میں بستے ہیں۔سری لنکا میں یہ اپنی نوعیت کا واحد پروگرام ہے۔اسی ادارے کے ایک سروے میں علم ہوا ہے کہ ملک کے شمالی اور مشرقی حصوں میں اسکول جانے والے ایک چوتھائی بچے خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔یہ صورت حال علاقے میں جاری رہنے والی طویل خانہ جنگی کا نتیجہ ہے۔جرمنی کی ایک تنظیم کے سروے کے مطابق ایک تہائی بچے خوراک کی عدم دستیابی کے باعث ناشتہ کیے بغیر اسکول جاتے ہیں۔خصوصی طور پر چار سے پانچ سالہ بچے خطرناک حد تک خوراک کی کما کا شکار ہیں۔خوراک پروگرام کے تحت سو سے زائد اسکول جانے والے تینتیس ہزار بچوں کو خوراک فراہم کی جائے گی۔ جبکہ اگلے برس تک ایک لاکھ ستر ہزار بچے مناسب خوراک حاصل کر سکیں گے۔ان بچوں کو دوپہرکے کھانے میں دال اور چاول مفت فراہم کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس وقت 25لاکھ سے زائد افغان مہاجرین آباد ہیں۔اور تا حال اٹھائیس لاکھ چالیس ہزار سے زائد افغان باشندے وطن جاچکے ہیں۔ اور اقوام متحدے کی چھپن سالہ تاریخ میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا یہ سب سے بڑا پروگرام ہے جو 2000 میں شروع ہوا۔ 

پاکستان اور ایران دنیا میں سب سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کو پناہ دینے والے ملک ہیں ۔

خشک سالی ، بھوک اور افلاس کا تذکرہ ہو تو افریقہ کا ذکر کیسے نہ ہو۔ایڈز کے ہر ایک سو میں سے ستر مریض افریقہ میں ہیں ۔ روزانہ چھ ہزار مریض مر رہے ہیں اور گیارہ ہزارنئے بن رہے ہیں۔بوٹسوانا اورزیمبیا جیسے ممالک کی چالیس فیصد آبادی اس مرض کی لپیٹ میں ہے جسے ملیریا کہتے ہیں جس کا علاج باقی دنیا میں دس سے بیس روپے میں ہوجاتا ہے اور اس ملیریا سے ارققہ میں ماہانہ ڈیڑھ لکھ بچے مر رہے ہیں۔کسے فرصت کہ یہ معلوم کرتا پھرےے کہ پچھلے چالیس برسوں میں نائیجیریا ، سیرالیون اور انگولا کے معدنی ذخائر خانہ جنگی کا منحوس طوق کیسے بن گئے،کانگو میں گذشتہ چھ برس میں کیسے خانہ جنگی اور امداد کی عدم فراہمی نے اڑتیس لاکھ افراد کو مار ڈالا۔اور اس وقت بھی روزانہ ایک ہزار افراد کیوں مر رہے ہیں۔ جبکہ اسی کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے سولہ ہزار سپاہی گھوم رہے ہیں اور دنیا کے کسی ایک علاقے میں یہ اقوام متحدہ کی سب سے بڑی فوج ہے۔سوڈان کا علاقہ دار فور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور میڈیا کی توجہ کا مسلسل مرکز ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ پچھلے چالیس برسوں کے دوران بیس افریقی ملک کس لیے خانہ جنگی کے خونی تجربے سے گذرے اور اس آگ سے کن کن ممالک کی ترقی یافتہ ممالک اور کمپنیوں نے اپنے اقتصادی ہاتھ تاپے۔ یہ بھی ایک رونے کا مقام ہے کہ جس براعظم کا عالمی تجارت میں حصہ محض دو فیصد ہے اور امداد کے لیے ملنے والے ہر دو ڈالر میں سے ایک ڈالر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔اس بر اعظم پر تین سو بلین کا ڈالر کا قرضہ کس نے لادا۔ حالانکہ اس براعظم میں سالانہ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کرپشن اور بد انتظامی میں ضائع ہوجاتے ہیں۔یقین نہیں آتا کہ یہ وہی افریقہ ہے جہاں سب سے پہلے انسان نے اوزار بنائے اور آگ کا استعمال سیکھا۔ اور یہیں سے نسل انسانی باقی دنیا میں پھیلی۔

جنگوں اور دیگر سیاسی تنازعات کے سبب نقل مکانی کرنے والے فورًا عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں لیکن چونکہ ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے لوگوں کی ہجرت بہت زیادہ تعداد میں نہیں ہوتی ہے اس لیے لوگوں کی توجہ ان کی طرف بہت کم مبذول ہوتی ہے لہذا ان کے مسائل پر بھی بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔تا وقتیکہ سونامی یا زلزلے جیسی کوئی بڑی قدرتی آفت نہ آئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ماحولیاتی مہاجرین موجود ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ 2010 تک ایسے افراد کی تعداد 50ملین تک پہنچ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے 1951کے چارٹر میں ”مہاجرین” کی طے شدہ تعریف اور ا ن کی بحالی کا طریقہ کار موجود ہے لیکن ماحولیاتی مہاجرین اس تعریف پر پورا نہیں اترتے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فورا یہ طے کرنا ہوگا کہ کس طرح انہیں امداد فراہم کی جاسکتی ہے اور کس طرح انہیں بسایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحفظ ماحول کے بین الاقوامی معاہدے’ کیوٹو پروٹوکول‘ اور آئی پی سی سی کی تجاویز پر عمل درآمد میں امریکا کی موجودہ بش انتظامیہ ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔لیکن ان پر عمل درآمد کے حتمی سال دوہزار نو تک وائٹ ہاؤس میں تبدیلی آچکی ہوگی۔امریکی طرز عمل کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب دوسرے بڑے ممالک چین اور بھارت بھی کیوٹو پروٹوکول کے ےوالے سے تعاون نہیں کر رہے لیکن سلیم کا کہنا ہے کہ جب امریکا تعاون پر آمادہ ہوجاوئے گا تو چین اور بھارت بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

جس دنیا میں ہر سال پینتیس ارب ڈالر کا بوتل بند پانی پیا جاتا ہے ،اس دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں جبکہ انہیں صرف دس ارب ڈالر خرچ کرکے یہ سہولت مہیا کی جاسکتی ہے، یورپ سالانہ گیارہ ارب ڈالر کی آئس کریم کھا جاتا ہے لیکن دنیا کا ہر بچہ صرف ڈیڑھ بلین ڈالر کے ٹیکوں سے پانچ خطرناک بیماریوں سے محفوظ ہوسکتا ہے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیتا،پالتو جانوروں کی خوراک پر شمالی امریکا اور یورپ میں سالانہ سترہ ارب ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں،اور اس دنیا میں ناکافی غذائیت اور بھوک مری ختم کرنے کے لیے سالانہ انیس ارب ڈالر خرچ کرنے پر آمادہ نہیں،میک اپ اور پرفیومز پر ہم جولوگ ہر برس تینتیس ارب ڈالر صرف کردیتے ہیں جبکہ افریقہ کو ایڈز ، قحط اور خانہ جنگوں کے شکار بے گھروں کی آباد کاری کے لیے ہر برس صرف پچیس ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن افریقہ کو بہت ہی ایڑیاں رگڑنے کے بعد سالانہ اوسطا وارہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہی میر آتے ہیں۔

آپ اس موازنے سے بیزار ہوکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آخر ان اعدادو شمار کا مطلب کیا ہے ؟ کیا ہم بوتل بند منرل واٹر نہ پیئیں، اپنے بچوں کو آئس کریم نہ کھلائیں، پرفیوم نہ لگائیں، پالتو جانوروں کو کھانا نہ کھلائیں، ان کا علاج نہ کروائیں،اور یہ سب اگر ہم افورڈ کر سکتے ہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہے، آپ حکومتوں کو یہ وعظ کیوں نہیں دیتے کہ وہ اس دنیا کے غریب ملکوں کا خیال کریں،تو جناب حکومتوں کا یہ حال ہے کہ 1970میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد میں امیر ملکوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ زیادہ نہیں صرف اپنی سالانہ قومی آمدنی کا اعشاریہ سات فیصد یعنی نصف فیصد سے کچھ زائد غریب ملکوں کے لیے وقف کردیں تو دنیا پر سکون ہو جائے گی ،آج اڑتیس برس گذر چلے ہیںاور صرف چار ممالک یعنی سوئیڈن،ناروے ، ہالینڈ اور لکسمبرگ کو ہی یہ توفیق ہو سکی کہ وہ اقوام متحدہ کے اس امدادی ہدف پر پورا اتر سکیں۔

دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکا جو اس دنیا کے 25 سے 30فیصد تک وسائل سالانہ استعمال کرتا ہے، اپنی کل قومی آمدنی کے ایک فیصد کا بھی محض دسواں حصہ ترقی پذیر ملکوں کو بطور امداد دیتا ہے،اور وہ بھی اپنی شرائط پر یوں سمجھ لیں کہ اگر امریکا دفاع پر اگر اڑتیس ڈالر خرچ کرتا ہے تو اس کے مقابلے میں غریب ملکوں کو صرف ایک ڈالر دیتا ہے ، جنوبی کوریا کو جب پندرہ اگست 1945میں جاپانی چنگل سے نجات ملی تو اس وقت تک عالمی جنگ نے ملک کو ایک بڑے کھنڈرمیں تبدیل کردیا تھا، پھر پچاس سے تریپن تک کی جنگ کوریا نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، اس ملک کے پاس کوئی خاص معدنی دولت بھی نہیں تھی،بس ایک بہتر سا تعلیمی نظام تھا جس نے سیاسی اور فوجی آمریت کے لمبے سائے تلے بھی نہایت تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرلی، نتیجہ یہ ہے کہ جب کوریا دو برس پہلے ساٹھ سال کا ہوا تو وہ دنیا کی دس بڑی صنعتی قوتوں میں شامل تھا، اور فی کس آمدنی اٹھارہ ہزار سالانہ سے زائد تھی،

اگرچہ اس عرصے میں انڈونیشیا تیل سے مالا مال ہونے کے باوجود اتنی ترقی نہ کرسکا جتنی اس کے ہمسایوں نے کی لیکن پھر بھی جب اس نے دو برس پہلے آزادی کی آٹھویں سالگرہ منائی تو ملک کم از کم آئینی جمہوریت کی راہ پر پوری طرح گامزن ہوچکا تھا، سری لنکا ساٹھ برس کا ہوا تو تامل سنہالہ تنازعے نے ملک کی چولیں ہلادیں لیکن ان حالات میں بھی اس کی فی کس آمدنی بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں ستر فیصد سے زائد رہی، اور جمہوریت بھی پٹڑی سے نہیں اتری، اور نوے فیصد تعلیمی خواندگی کے نتیجے میں سری لنکا جنوبی ایشیا کا سب سے پڑھا لکھا ملک بھی ہے۔

چین دو برس بعد ساٹھ سال کا ہوگا ، کمیونسٹ انقلاب کے وقت وہ بھارت سے بھی زیادہ پسماندہ تھا لیکن آج ساٹھ سال کی عمر میں چین دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری اور تیسری بڑی اقتصادی قوت ہے، جو ڈیڑھ ارب آبادی والے اس ملک کے لیے کسی معجزے سے کم

ملائشیا ابھی صرف پچاس برس کا ہے، آزادی کے وقت ملائیشا کی شناخت صرف ٹن کی معدنیات اور پام آئل تھی اور اس کا شمار پاکستان سے بھی زیادہ غریب ملک میں ہوتا ہے لیکن پچاس برس بعد ملائیشا جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقت ہیں۔