Showing posts with label ماہر ماحولیات. Show all posts
Showing posts with label ماہر ماحولیات. Show all posts

Thursday, October 11, 2012

ملالہ یوسف زئی! یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی



ملالہ یوسف زئی اور ہمارے معاشرے کی تفریق !!! 

شاید دوبارہ اسکول نہ آسکوں !  یہ جملہ 16جنوری 2009 میں گل مکئی کی لکھی ہوئی ڈائری کے ایک ورق کا عنوان تھا۔
 اس جملے میں چھپے درد اور محرومی کے دکھ کومحسوس کرنے کے لیے لمحے بھر کے لیے چند سال پہلے کے سوات کو یاد کرلیجیے ۔ یہ جملہ عام حالات میں پروان چڑھتی کسی بچی نے نہیں بلکہ سوات کے حبس زدہ ماحول میں اسکول جاتی ساتویں کلاس کی دس سالہ بچی نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا۔ جسے یہ دکھ کھائے جارہا تھا کہ اب وہ کل سے اسکول نہیں جاسکے گی ، اس پر تعلیم کے دروازے بند کیے جارہے ہیں۔ اپنے دکھ اور ، محرومی کو بیان کرنے اور سوات کے لاکھوں بچوں کو زبان دینے والی یہ بچی ملالہ یوسف زئی تھی جو گل مکئی کے فرضی نام سے بی بی سی کی اردو ویب سائٹ پر ڈائری لکھا کرتی تھی۔ وہی ملالہ جو آج زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
 کل جب چھوٹی سی اور نہتی ملالہ یوسف زئی پر دہشت گردوں نے فائر کھولا تو یہ گولیاں صرف معصوم ملالہ  کے جسم کو ہی نہیں بلکہ پور ی قوم کا دل بھی چھلنی کرگئیں۔ 14سالہ ملالہ چھوٹی سی عمر میں ہزاروں لاکھوں بے زبانوں کی آواز بن کر گونجی تھی۔اسے اپنا اسکول بند ہونے کا بہت دکھ تھا جس کا وہ برملا اظہار کررہی تھی اور اسی حوالے سے اس نے انتہائی بے خوف لہجے میں کہا تھا کہ” وہ کسی سے نہیں ڈرتی“ اور شاید یہی اس کا جرم ناقابل برداشت ٹھہرا جس کی سزا اسے دی گئی۔
چند سال پہلے سوات کے علاقے مینگورہ شہر کی رہائشی ملالہ نے گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھ کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی تھی۔بعدازاں حکومت پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن ایوارڈ بھی دیا تھا۔ انہیں 2011 میں ” انٹرنیشنل پیس پرائز“ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔
ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہی ہے۔سوات میں دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے، علاقے میں لڑکیوں کے اسکولوں پر پابندی لگادی گئی تھی۔ عورتوں کا گھر سے باہر نکلنا ممنوع تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لوگ خوف کی وجہ سے میڈیا پر کوئی بات نہیں کرسکتے تھے۔ ان حالات میں ملالہ نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرات کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے گل مکئی کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کے لیے باقاعدگی سے ڈائری لکھنا شروع کی۔
اس ڈائری میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کرتیں۔ اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ان کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔ملالہ پر دو بین الاقوامی اداروں نے دستاویزی فلمیں بھی بنائی ہیں جن میں انہوں نے کھل کر تعلیم پر پابندیوں کی مخالفت کی تھی۔
ملالہ کا قصور کیا تھا ؟ یہی کہ وہ تعلیم اور خصوصا لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھاتی تھی ؟
ملالہ پر حملہ سراسر بزدلی اور اسلام کی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔ اسلام تو محبت اور رواداری کا مذہب ہے، برداشت کا درس دیتا ہے اور توازن کی راہ سجھاتا ہے ۔ وہ بوڑھوں اور بچوں پر حالت جنگ میں بھی ہاتھ اٹھانے سے روکتاہے۔ملالہ نے ہر گز ایسا کوئی کام نہیں کیا تھا جس کی اسلام میں یہ سزابنتی ہو۔ ایسے واقعات دنیا بھر میں اسلام اورمسلمانوںکا ایک انتہائی منفی عکس پیش کرتے ہیں ، شاید آج اسلام کو اصل خطرہ مسلمانوں سے ہی ہے۔ ہم نے اپنی گروہی لڑائی جھگڑوں کو جہاد کا نام دے کر لفظ جہاد پر بھی بہت سے سوالات اٹھادیے ہیں۔
ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ہر سطح پر مذمت کی جارہی ہے ، بین الاقوامی سطح پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔لیکن ہمارے نزدیک افسوس بلکہ انتہائی تشویش کی بات یہ ہے کہ ملک کے اندر اس پر دورائے جنم لے رہی ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے جو کھل کر اس درندگی اور بربریت کے خلاف بول رہا ہے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ دوسری جانب خوفناک سناٹے کا عالم ہے۔ دبی دبی زبان میں مذمت جاری ہے اور ساتھ ساتھ حملے کے جواز بھی گھڑے جارہے ہیں کہ” ملالہ پر حملہ ہوا تو سب تڑپ اٹھے جبکہ ڈرون حملوں میں مارے جانے والوں بچوں کے لیے کوئی نہیں بولتا۔“گمنام ایس ایم ایس اور ای میل پر تو یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ تمام لوگ جو ملالہ کے لیے افسوس کررہے ہیں وہ سب ”کافر “ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں یہ تفریق انتہائی خوفناک اور مزید انتشار کن ثابت ہوتی ہے۔ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں ڈرون حملوں میں مارے جانے والے بھی زیادہ تربے گناہ ہیں اور جنہیں مشکوک سمجھ کر مارا جارہا ہے یہ بھی انتہائی غیر قانونی اقدام اور انسانیت کے خلاف ہے۔ مشکوک افراد کو مارنے کا اختیار کسی مذہب اور کسی قانون میں نہیں۔انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ایسے مشکوک افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگر وہ مجرم ہیں تو قرار واقعی سزا دی جائے۔یقینا یہ ڈرون حملے بھی انتہائی قابل مذمت ہیں۔ لیکن کیا اس سے ملالہ جیسے بے گناہوں کو مارنے کا جواز پیدا ہوجاتا ہے؟ ایک جرم دوسرے جرم کا جوازبن سکتا ہے ؟
مشہور صحافی حامد میرجن کے پروگرام میں پہلی بار ملالہ کو بے خوفی سے لوگوں نے بولتے سنا تھا، ملالہ نے کئی بار ان کے ٹی وی پروگرام میں بھی شرکت کی تھی، وہ ملالہ کے خاندان سے بھی بات چیت کرتے رہے ہیں ،معاشرے کی اس تفریق پر ان کا کہنا تھا کہ” ہم جب تک امریکا کی جنگ لڑتے رہیں گے ، ایسے سانحات ہوتے رہیں گے۔ ہماری سوسائٹی اس دہشت گردی کی جنگ میں بٹ چکی ہے۔ ایک ہی خاندان کے لوگوں سے اگر بات کریں تو وہ بھی مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ ایک بھائی پاک فوج اور ریاست کی حمایت میں بول رہا ہوگا تو دوسرا اس کے خلاف۔ وہ لوگ جنہیں طالبان سے نقصان پہنچا ہے وہ طالبان کے خلاف ہیں اور حکومت و فوج کے سپورٹر جبکہ جن کے گھروالے فوجی آپریشن میں مارے گئے وہ فوج کے مخالف اور طالبان کی حمایت میں بولتے ہیں۔ غرض یہ سوسائٹی بٹ چکی ہے اور اس کی ذمے دار صرف اور صرف حکومت پاکستان کی پالیسی ہے۔ حکومت جب تک پیسے لے کر امریکا کی جنگ لڑتی رہے گی حالات یہی رہیں گے۔لوگ اسی طرح نفرت کی آگ میں جلتے رہیں گے۔
پچھلے سال ہمیں بھی سوات جانے کا اتفاق ہوا تھا اور اپنے ایک ہفتے کے قیام میں سوات کے سفر میں ہم جن جن افراد سے ملے تھے ، ان کی باتیں یاد کرتے ہیں تو حامد میر کی باتوں کی تائید ہوتی ہے۔ سوات میں لوگ اسی طرح بٹی ہوئی سوچ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔اب بھی جب ہم نے ملالہ پر حملے کے بعدسوات کے لوگوں کی آرا جاننے کی کوشش کی تو بہت سے لوگوں نے تو بے بسی سے یہ بھی کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی ہم کیا کریں، کون صحیح ہے اور کون غلط ؟ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں غلط ہیں۔اکثریت کی رائے یہ تھی کہ ایک اور آپریشن کا جواز پیدا کیا جارہا ہے۔ حکومت اور ریاست پر انتہائی عدم اعتماد کا اظہار کیا جارہا تھا۔ کسی کو حکومت پر بھروسہ نہ تھا۔
اٹھارہ لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل وادی سوات پچھلے چند سال پہلے دہشت گردی کی آگ میں جل رہی تھی۔ بموں سے اسکولوں کو اڑایاجارہا تھا۔ خواتین اور بچوں کا گھر سے نکلنا بند تھا۔ سی ڈیز اورنائیوں کی دکانیں تباہ کی جارہی تھیں۔ برقعے کے بغیر کسی عورت کے گھر سے باہرنکلنے پر زندگی کی کوئی ضمانت نہ تھی۔سر عام لوگوں کو مارا پیٹا اور قتل کیا جاتا، ہر قسم کا کاروبار تباہ ہوچکا تھا۔ لوگ واقعتا فاقے کررہے تھے ۔
 سوات میں مجھے عام لوگوں سے بات چیت کرنے اور ملنے جلنے کا موقع ملاتھا ، ان سے بات کرو تو وہ انتہائی متضاد رویے کا شکار نظر آتے ۔ وہ مایوس بھی تھے اور ان لوگوں کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب بھی روشن تھے۔وہ چند سال پہلے کی دہشت گردی کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتے لیکن ذکر کیے بغیر بھی نہیں رہتے۔ ملالہ کے شہر مینگورہ کے لوگوں کا کہنا تھا کہ اب وہ اس ”خونی چوک“ کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتے تھے ( پھر تفصیل بھی بتادیتے)  جہاں مذہب کے نام پر لوگوں کو ذبح کیا جارہا تھا۔ ایک صاحب ، کی آواز یہ بتاتے ہوئے کپکپارہی تھی”اسی چوک پر ایک نوجوان گلوکارہ کو ذبح کرکے اس کی لاش عبرت کے لیے لٹکا دی گئی تھی۔ میرے کانوں میں آج بھی اس کی آواز گونج رہی ہے ، وہ روروکر یہی کہہ رہی تھی کہ مجھے گولی ماردو مگر ذبح نہ کرو۔“ اس گلوکارہ کا جرم اس کی گلوکاری تھی۔
سوات کے ہر گلی کوچے اور سڑک پر جا بجا آرمی کی چوکیاں اور ناکے بنے ہوئے تھے جو چیکنگ کے بغیر کسی کو آگے نہیں جانے دے رہے تھے اور خصوصا غیر ملکیوں کوتو بغیر سیکیورٹی گھومنے کی اجازت نہیں تھی۔
ایک اور اہم بات جو ہمارے مشاہدے میں آئی تھی وہ یہ تھی کہ اگرچہ قیام امن کے لیے لوگ پاک فوج کے شکر گزار تھے لیکن کچھ انفرادی واقعات کے سبب سوات کے لوگ شاکی بھی تھے۔ یہ لوگ اب دبی زبان سے پاک فوج کی چوکیوں اور ناکوں کے حوالے سے آواز اٹھانے لگے تھے۔ ہم نے مختلف لوگوں سے بات چیت کی تو ایک ہی بات سامنے آئی کہ ان چیک پوسٹوں پر مقامی لوگوں سے توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔ انہیں بدتمیزی سے پکارا جاتا ہے۔ بعض اوقات ان کی خواتین بھی ان کے ساتھ ہوتی ہیں جس سے وہ بہت زیادہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ کہیں کہیں تو انہیں گاڑی سے اتار کر کھڑا بھی کردیا جاتا ہے۔ انفرادی سطح پر ہونے والے یہ واقعات لوگوں میں غم و غصہ اور مایوسی کو جنم دے رہے تھے۔ ایک اور بات جو ہم نے یہاں نوٹ کی تھی وہ مختلف علاقوں میں گھروں کے درودیوار اور دکانوں کے شٹر کے رنگ تھے۔ کہیں سبز تو کہیں پیلا، کہیں سرخی مائل اور کہیں نارنجی۔ لوگ اس حوالے سے بھی بہت شاکی تھے کہ کبھی کوئی رنگ کرنے کا آرڈر ملتا ہے تو کبھی کسی اور رنگ کا۔ شاید رنگوں کی یہ تبدیلی کسی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہو مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان غریب لوگوں کو رنگ کرنے کے لیے کچھ مالی امداد بھی کردی جاتی۔ بہرحال یہ چیکنگ اور ناکے اس بات کی واضح علامت تھے کہ حالات بہتر نہیں تھے۔ پاک فوج کے کنٹرول کے باوجودمقامی لوگوں کی رائے یہ تھی کہ پہاڑوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود تھے۔
معاشرے کو اس تفریق سے نکالنے اور قومی سطح پر اتنے بڑے مسائل پر مکمل ہم آہنگی اوریکسوئی کیسے اختیارکی جائے، یہ سوال آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ امریکا جس طرح اپنی جنگ کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا نام دے کر اس خطے میں اپنے مقاصد پورے کررہا ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے اور اس سے زیادہ افسوس ناک کردار ہماری ریاست کا ہے جو کمال ڈھٹائی سے اس جنگ کو اپنی جنگ قرار دیتی ہے، اور عوام ایک مخمصے میں پھنس کر رہ گئی ہے۔اس حوالے سے حامد میر صاحب کی تجویز تھی کہ” حکومت اور ریاست کو سب سے پہلے اپنی پالیسی بدلنی ہوگی۔ امریکا سے پیسے لینا بند کریں اور امریکا کی جنگ سے دوری اختیار کرلیں۔ اس کے بعد ان علاقوں میں جو بھی شورش ہے یا دہشت گردی ہے اس کے لیے خود کارروائی کریں۔ جن علاقوں میں دہشت گرد موجود ہیں وہاں کے لوگوں کو اعتماد میں لیں،اپنے ساتھ ملائیں۔ اگر لوگوں کا ریاست اور حکومت پر اعتماد بحال ہو تو پھر وہ خود امن و امان کے قیام میں حکومت کی مدد کریں گے۔ یہی آخری راستہ ہے پاکستان میں امن کے قیام کا۔
ملالہ جیسی ننھی بچی نے اپنے حق اور تعلیم کی اہمیت کے لیے آواز اٹھا کر سناٹے کو توڑنے کی جسارت کی تھی جو اس کا جرم ٹھہرا۔ آج وہ زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے یہ جنگ بھی جیت لے گی (آمین)۔ ملالہ یوسف زئی پر دہشت گردی کا یہ واقعہ حکومت کے لیے نوشتہ ءیوار ہے کہ وہ دہشت گردی کی اس جنگ کے حوالے سے جلد از جلد اپنی ایک ایک علیحدہ پالیسی تشکیل دے اور ڈرون حملوں کے خلاف پارلیمینٹ کی قرارداد پر عمل کرے۔

 سوات اور ارد گرد کے علاقوں میں جو فضا بدل رہی ہے وہ یقینالمحہ ءفکریہ ہے

Saturday, October 27, 2007

قدرتی آفات اور ماحولیاتی مہاجرین


ہم کتنے بے  خبر ہیں!

سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں، دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات پر ایک شور برپا ہے۔تمام عالمی لیڈر اس حوالے سے عوام میں شعور و آگہی بڑھا رہے ہیں اور تمام حکومتیں ہروہ ممکنہ اقدام اٹھا رہی ہیں جس سے کرہ ارض کومزید تباہی سےبچانے کی کوئی صورت نکل سکے لیکن ہمارے ملک میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے گویا ہم کسی اور کرے کے باسی ہیں اور یہ سارے مسائل ہمارے نہیں ہیں۔اور صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ سکون اور اطمینان کی یہ فضا وائٹ ہاؤس میں بھی ہے۔وائٹ ہاؤس سے باہر کیا ہورہا ہے ، لوگ کیا سوچ رہے ہیں اس سے وائٹ ہاؤس کے مکینوں کو کوئی دلچسپی نہیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہماری حکومت اور رہنماؤں کو کسی بات کی پروا نہیں۔نہ ملک کی اور نہ عوام کی۔ کتنی خوش آئند بات ہے کہ دنیا کی ’سپر پاور‘ اور ’ہمارے‘ بیچ کتنی ہم آہنگی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی اس بے حسی میں بھی اس کا اپنا مفاد پوشیدہ ہے۔امریکا جانتا ہے کہ اگر وہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا اعتراف کر لے تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عالمی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور جب یہ مانے گا تو پھر اسے کیوٹو پروٹوکول جیسے معاہدے پر بھی دستخط کرنے پڑیں گے جو اس کی صنعتوں اور معیشت کے لیے کمر توڑ جھٹکا ثابت ہوگا۔ کیونکہ مضر گیسوں کی جس آلودگی سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ان گیسوں کا 42% امریکا کی صنعتوں کی چمنیوں سے ہی خارج ہوتا ہے جو اس معاہدے کے بعد پابندیوں سے گھر جائیں گی ۔گویا وائٹ ہاؤس کی بے نیازی میں بھی اس کی ملک اور قوم کا فائدہ پوشیدہ ہے ، یہ اور بات ہے کہ اس کے اس فائدے کے لیے دنیا یا غریب ممالک کیا قیمت چکا رہے ہیں۔


  لیکن ہماری حکومت ، ہمارے سیاسی رہنما کس فصل کی آس میں غلطیاں بو رہے ہیں؟

آج کل آپ ان لیڈرز کی تقریریں سن رہے ہوں گے ۔ کیا ان میں سے کسی نے پاکستان کے وسائل بچانے کی بات کی؟ کسی کے ایجنڈے میں پانی کے ذخیرے کے لیے چھوٹے ڈیم بنا نے کا ذکر ہے سوائے ایک کالا باغ ڈیم کا مسئلہ جسے لوگ صرف اور صرف سیاست چمکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔کیا سندھ سے تعلق رکھنے والے کسی لیڈر نے ہزاروں ایکڑ پر پھیلے زرخیز انڈس ڈیلٹا کی تباہ حالی پر روشنی ڈالی اور بے گھر ہوجانے والے لاکھوں غریبوں سے ہمدردی کی۔عالمی سطح پرپہچانے جانے والا یہ مسئلہ اپنے ملک میں کتنا اجنبی ہے۔بلٹ پروف گاڑیوں میں گھومنے والے یہ لیڈر بے چارے اس سر سبز شاداب انڈس ڈیلٹا کو کیا جانیں؟ جسے پانی کی کمی نے تباہ کردیا۔ لاکھوں لوگ ہجرت کر گئے اور مچھلیوں کی کئی نسلیں نایاب ہوگئیں۔

 پاکستان میں پانچ بڑے اور پندرہ چھوٹے دریا ہیں مگر 70%آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، تو کیا کسی لیڈر نے اس بارے میں بات کی۔لاکھوں لوگوں کو ڈاکٹر اور اسپتال کی سہولت میسر نہیں اور جنہیں خدا نے یہ توفیق دی تو وہ جعلی دواؤں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ سب مسائل انسان کی بنیادی ضروریات میں شمار ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ سہولیات آسائشات میں شمار ہوتی ہیں، ابھی ہم ان ہی میں الجھ رہے ہیں اور زمانہ قیامت کی چال چل چکا ہے۔

 پڑھیے اور سر دھنیے کہ سائنس دانوں کی نئی تحقیق کے مطابق اگر درجہ حرارت میں اضافہ اندازوں کی نسبت آدھا بھی ہوا تو کرہ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اس نے 65ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈائنو سارز کا خاتمہ ہوا تھا۔
ماحولیاتی تبدیلیاں اور موسمی تغیرات بنی نوع انسان کے لیے ایک نیا عذاب  لوگوں کی بے گھری کی صورت لا رہی ہیں۔ نظام قدرت میں دخل اندازی کے نتیجے میں پچھلے دس سالوں کے دوران دنیا میں قدرتی آفات کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ برطانیہ میں مقیم بنگلہ دیشی ماحولیاتی سائنس داں سلیم الحق کہتے ہیں کہ ان واقعات کی سائنسی وضاحت ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کی صورت میں ہی کی جاسکتی ہے۔

سلیم الحق انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج ((IPCCکے ان سائنس دانوں میں شامل ہیں جن کی تیار کردہ رپورٹ کو اس سال نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ آئندہ بیس سال کے لیے دنیا وقت کے ایک ایسے دورانیے میں قید ہوگئی ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی قدرتی آفات کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔چاہے مضر گیسوں کا اخراج فی الفور صفر کر لیا جائے۔سلیم الحق کی تحقیق کے سائنسی اعدادو شمار کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ پچھلے ایک سو سال کے دوران جتنی بھی قدرت آفات آئی ہیں ان کی شدت میں حالیہ دس سالوں کے دوران تیزی آئی ہے۔ جو سیلاب پہلے بیس سالوں میں ایک دفعہ آتے تھے اب ہر پانچ سال بعد آنے لگے ہیں۔درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیرز پگھل رہے ہیں۔سطح سمندر میں اضافہ ہورہا ہے اور خدشہ ہے کہ ہمالیہ کے وہ گلیشیرز آئندہ بیس سالوں میں اپنا وجود کھو بیٹھیں گے۔

حال اور ماضی کی ماحولیاتی تبدیلیوں میں فرق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ صدیوں پر محیط غیر محسوس قدرتی جغرافیائی عمل کے نتیجے میں رونما ہوتی تھیں جبکہ اب تیزی سے صورت حال بدل رہی ہے۔اس صورت حال کی ذمے داری دنیا کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے یہ اور بات ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے اس کے زیادہ ذمے دار ہیں۔سلیم الحق کے مطابق کسی ایک بین الابراعظمی پرواز کے نتیجے میں خارج ہونے والی کاربن کی فی کس مقدار کسی غیر ترقی یافتہ ملک کے ایک کنبے کے سالانہ کیروسین آئل ( مٹی کا تیل) کے استعمال سے خارج ہونے والی کاربن کی مقدار سے زیادہ ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امیر ممالک میں رہنے والوں کو احساس ہونا چاہیے کہ ان کے لائف اسٹائل کی وجہ سے غریب ممالک کے لوگوں پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت کا ماہرین کے مطابق پہلا شکار بنگلہ دیش ہی ہوگا۔درجہ حرارت میں اضافے اور اس کے نتیجے میں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے سبب خیال کیا جاتا ہے کہ سال2030 تک بنگلہ دیش کے ایک کروڑ ستر لاکھ لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔اور اگر عالمی ماحولیاتی آلودگی پر قابو نہیں پایا گیا تو رواں صدی کے آخر تک موجودہ بنگلہ دیش کا ایک چو تھائی حصہ سمندر کی نذر ہو جائے گا۔

لیکن یہ بھی ایک المیہ ہے کہ اس صورت حال کے ذمے دار صدیوں سے دریاں اور سیلابوں کی سختیاں جھیلنے والے نہیں اس خطے کے باسی نہیں بلکہ وہ ممالک ہیں جو ترقی کی دوڑ میں کاربن اور دوسری مضر گیسوں کے اخراج کا سبب ہیں۔اس حوالے سے بی بی سی کی ایک مہم کاتذکرہ بے جا نہ ہوگا ۔یہ مہم ماحولیاتی تبدیلیوں کو اجاگر کرنے کی غرض سے بی بی سی کی عالمی سروس نے بی بی سی بنگالی سروس کی مدد سے شروع کی ہے جس کا نام بنگالی میں ’ نودی پوتھے بنگلہ دیش ‘ہے جس کا مطلب ہے کہ بنگلہ دیش کا سفر دریاؤں کے ذریعے۔

بنگلہ دیش کے دریاؤںکا یہ سفر ایک ماہ تک کشتی پر جاری رہے گا ۔ کشتی پر بی بی سی کے لیے مختلف زبانوں میں کام کرنے والے صحافی سوار ہیں۔اور وہ اپنے شب و روز اسی پر گذاریں گے تاکہ دریاؤں کے کناروں پر بسنے والوں کے مسائل کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرسکیں۔
کشتی میں وقتا فوقتا ماحولیات کے ماہرین بھی سوار ہوتے رہےں گے۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج یعنی آئی پی سی سی(نوبل پرائز یافتہ 2007 ) کے سربراہ نے بھی اس حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

بنگلہ دیش کو دریاؤں کی سرزمین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔تقریبا پندرہ کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں چھوٹے بڑے کم و بیش سات سو دریابہتے ہیں۔اور ان سب کے اپنے اپنے نام بھی ہیں تاہم بڑے اور مشہور دریا میگھنا، پدما، برہم پترا اور گنگا ہیں۔بنگلہ دیش کے بڑے دریا مل کر سترہ کروڑ پچاس لاکھ ہیکٹر رقبے پر بہتے ہیں ۔ دریاؤں کے پانی ہی سے زمین سیراب ہوتی ہےاور اسی سے ماہی گیروں کا روز گار وابستہ ہے لیکن ہر سال سیلابوں کی شکل میں یہ دریا انسانی جانوں کااور معاشی وسائل کا خراج بھی لیتے رہتے ہیں۔

آئی پی سی سی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہا تو بنگلہ دیش کے دریاؤں میں آنے والے سالانہ سیلابوں کی شدت میں بیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ سیلابوں اور سطح سمندر میں اضافے سے ماہرین کے مطابق جن بحرانوں کا سامنا ہوگا ان میں پینے کے پانی کی کمی ، جنگلات اور جنگلی حیات کو خطرہ، بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت اور صحت کے مسائل شامل ہیں۔

 اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی حدت سے عالمح سطح پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے جس کے نتیجے میں افریقہ اور ایشیا کے بعض علاقوں میں جنگیں چھڑ سکتی ہیں اور علاقائی شورش پیدا ہوسکتی ہے۔جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان کا خصوصی ذکر ہے جہاں درجہ حرارت سے گلیشیر پگھل رہے ہیں اور لوگوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔سوئس اور جرمن ماہرین کی ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا میں بڑھتی ہوئی گرمی سے جنوبی ایشیا اور افریقہ میں خطرناک جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔ان علاقوں کے غیر مستحکم ممالک نہ صرف انتشار کا شکار ہوسکتے ہیں۔ آبی اور ارضی وسائل پر کھینچ تان جنگوں کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔اوراس سے بڑے پیمانے پر لوگ اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسنے پر مجبور ہوں گے۔اگر گرمی میں صرف پانچ ڈگری سلیسیس کا اضافہ ہوگیا تو عالمی خانہ جنگی کی سی کیفیات پیدا ہوسکتی ہیں۔

ہمارے ایک اور پڑوسی افغانستان بھی خشک سالی کی بدترین صورت حال سے دوچار ہے۔موسم سرما کی برف باری کے باوجود دریاؤں کے کنارے خشک پڑے ہیں اور فصلوں کی تعداد کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ کنوؤں میں پانی ضرورت سے بہت کم ہے اور اس کا سبب بھی بارشوں کی کمی ہے ، بارشوں کا پانی زمین میں رسنے سے کنوئیں سیراب ہوتے ہیں۔مویشی بھی پیاسے مر رہے ہیں۔افغانستان سات سال سے جاری قحط سے ابھی نکل ہی پایا تھا کہ نئی خشک سالی نے صورت حال کو بدتر بنادیا۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سال کی خشک سالی کی وجہ سے 2.5ملین افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ اس سے قبل ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اندازہ 6.5افراد پہلے ہی موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ خشک سالی کا شکار علاقے زیادہ تر ملک کے جنوبی حصے میں ہیں۔ ان علاقوں سے ہزاروں لوگ گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔واضح رہے کہ جنوبی علاقے پر تشدد کرروائیوں کا گڑھ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ سانسوں کی ڈور برقرار رکھنے کے لیے زیادہ تر پوست کی کاشت کر رہے ہیں۔کیونکہ خشک سالی میں پوست بہترین کاشت ہوتی ہے۔غریب بے چارے اورکربھی کیا سکتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں بسنے والوں کے نزدیک اپنا علاقہ چھوڑنا ہی سب سے بہتر حکمت عملی ہے۔دریائی اور ساحلی علاقوں سے نقل مکانی کے باعث ڈھاکہ اس وقت آبادی میں اضافے کی شرح کی اعتبار سے دنیا کے بڑے شہروں میں سر فہرست ہے۔

عالمی سطح پر پناہ گزینوں کی تعداد میں پانچ سال بعد پہلی مرتبہ اضافہ ہوا ہے۔اور اقوام متحدہ کے نزدیک اس کی وجہ عراق پر تشدد صوری حال ہے۔اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس چودہ فیصد اضافے کے ساتھ پناہ گزینوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی تعداد بھی ایک کروڑ تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو خود ایک ریکارڈ ہے۔ پناہ گزینوں میں اضافہ عراق کے علاوہ لبنان ، مشرقی تیمور،سوڈان اور سری لنکا میں جاری شورش ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے اعدادو شمار میں وہ چالیس لاکھ فلسطینی شامل نہیں ہیں جو اسرائیل کی وجہ سے بے گھر ہوچکے ہیں۔تقریبا پندرہ لاکھ عراقی پناہ گزینوں کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔اور ان میں زیادہ تر اردن اور شام میں مقیم ہیں۔قومیت کے حساب سے پناہ گزینوں کی یہ دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔سر فہرست افغان ہیں جو اکیس لاکھ کی تعداد میں ہیں۔

غذائی بحران وارننگ

اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی ترقی پذیر ملکوں میں لاکھوں انسانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔ ایف اے او نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے جو بہت سے ملکوں کی برداشت سے با ہر ہوگا۔

ایف اے او کا کہنا ہے کہ ایسی مہنگائی کی پہلے نظیر نہیں ملتی اور اگر کسانوں کو فوری طور پر مدد نہیں ملے گی تو بہت سے ملک غذائی بحران کا سامنا نہ کرسکیں گے۔ ادارے نے کہا کہ37ممالک میں لڑائی اور قدرتی آفات کی وجہ سے غذائی بحران پیدا ہوا ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک پر خشک سالی اور سیلابوں نے حملے کیے ہیں ۔اس کے علاوہ تیل کا بھاؤ اونچا چلا گیا اور ساتھ میں اناج سے بننے والے بناسپتی ایندھن کی مانگ بڑھی ہے جس کی وجہ سے اور بھی شدید ہوگیا ہے کہ دنیا میں خوراک کے ذخیرے بہت گھٹ گئے ہیں اور امداد کے لیے بھی کھانے پینے کی اشیا کم ہوگئی ہے۔

اس سال اناج کی مہنگائی نئے ریکارڈ پر پہنچ گئی ہے جس نے ہر طرح کی غذائی اشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

اقوام متحدہ ہی کے عالمی ادارہ صحت نے فیصلہ کیا ہے کہ سری لنکا میں خوراک میں کمی کے شکار دسیوں ہزار بچوں کو مفت خوراک فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ بچے سری لنکا میں جنگ سے متاثرہ علاقے میں بستے ہیں۔سری لنکا میں یہ اپنی نوعیت کا واحد پروگرام ہے۔اسی ادارے کے ایک سروے میں علم ہوا ہے کہ ملک کے شمالی اور مشرقی حصوں میں اسکول جانے والے ایک چوتھائی بچے خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔یہ صورت حال علاقے میں جاری رہنے والی طویل خانہ جنگی کا نتیجہ ہے۔جرمنی کی ایک تنظیم کے سروے کے مطابق ایک تہائی بچے خوراک کی عدم دستیابی کے باعث ناشتہ کیے بغیر اسکول جاتے ہیں۔خصوصی طور پر چار سے پانچ سالہ بچے خطرناک حد تک خوراک کی کما کا شکار ہیں۔خوراک پروگرام کے تحت سو سے زائد اسکول جانے والے تینتیس ہزار بچوں کو خوراک فراہم کی جائے گی۔ جبکہ اگلے برس تک ایک لاکھ ستر ہزار بچے مناسب خوراک حاصل کر سکیں گے۔ان بچوں کو دوپہرکے کھانے میں دال اور چاول مفت فراہم کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس وقت 25لاکھ سے زائد افغان مہاجرین آباد ہیں۔اور تا حال اٹھائیس لاکھ چالیس ہزار سے زائد افغان باشندے وطن جاچکے ہیں۔ اور اقوام متحدے کی چھپن سالہ تاریخ میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا یہ سب سے بڑا پروگرام ہے جو 2000 میں شروع ہوا۔ 

پاکستان اور ایران دنیا میں سب سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کو پناہ دینے والے ملک ہیں ۔

خشک سالی ، بھوک اور افلاس کا تذکرہ ہو تو افریقہ کا ذکر کیسے نہ ہو۔ایڈز کے ہر ایک سو میں سے ستر مریض افریقہ میں ہیں ۔ روزانہ چھ ہزار مریض مر رہے ہیں اور گیارہ ہزارنئے بن رہے ہیں۔بوٹسوانا اورزیمبیا جیسے ممالک کی چالیس فیصد آبادی اس مرض کی لپیٹ میں ہے جسے ملیریا کہتے ہیں جس کا علاج باقی دنیا میں دس سے بیس روپے میں ہوجاتا ہے اور اس ملیریا سے ارققہ میں ماہانہ ڈیڑھ لکھ بچے مر رہے ہیں۔کسے فرصت کہ یہ معلوم کرتا پھرےے کہ پچھلے چالیس برسوں میں نائیجیریا ، سیرالیون اور انگولا کے معدنی ذخائر خانہ جنگی کا منحوس طوق کیسے بن گئے،کانگو میں گذشتہ چھ برس میں کیسے خانہ جنگی اور امداد کی عدم فراہمی نے اڑتیس لاکھ افراد کو مار ڈالا۔اور اس وقت بھی روزانہ ایک ہزار افراد کیوں مر رہے ہیں۔ جبکہ اسی کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے سولہ ہزار سپاہی گھوم رہے ہیں اور دنیا کے کسی ایک علاقے میں یہ اقوام متحدہ کی سب سے بڑی فوج ہے۔سوڈان کا علاقہ دار فور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور میڈیا کی توجہ کا مسلسل مرکز ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ پچھلے چالیس برسوں کے دوران بیس افریقی ملک کس لیے خانہ جنگی کے خونی تجربے سے گذرے اور اس آگ سے کن کن ممالک کی ترقی یافتہ ممالک اور کمپنیوں نے اپنے اقتصادی ہاتھ تاپے۔ یہ بھی ایک رونے کا مقام ہے کہ جس براعظم کا عالمی تجارت میں حصہ محض دو فیصد ہے اور امداد کے لیے ملنے والے ہر دو ڈالر میں سے ایک ڈالر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔اس بر اعظم پر تین سو بلین کا ڈالر کا قرضہ کس نے لادا۔ حالانکہ اس براعظم میں سالانہ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کرپشن اور بد انتظامی میں ضائع ہوجاتے ہیں۔یقین نہیں آتا کہ یہ وہی افریقہ ہے جہاں سب سے پہلے انسان نے اوزار بنائے اور آگ کا استعمال سیکھا۔ اور یہیں سے نسل انسانی باقی دنیا میں پھیلی۔

جنگوں اور دیگر سیاسی تنازعات کے سبب نقل مکانی کرنے والے فورًا عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں لیکن چونکہ ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے لوگوں کی ہجرت بہت زیادہ تعداد میں نہیں ہوتی ہے اس لیے لوگوں کی توجہ ان کی طرف بہت کم مبذول ہوتی ہے لہذا ان کے مسائل پر بھی بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔تا وقتیکہ سونامی یا زلزلے جیسی کوئی بڑی قدرتی آفت نہ آئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ماحولیاتی مہاجرین موجود ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ 2010 تک ایسے افراد کی تعداد 50ملین تک پہنچ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے 1951کے چارٹر میں ”مہاجرین” کی طے شدہ تعریف اور ا ن کی بحالی کا طریقہ کار موجود ہے لیکن ماحولیاتی مہاجرین اس تعریف پر پورا نہیں اترتے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فورا یہ طے کرنا ہوگا کہ کس طرح انہیں امداد فراہم کی جاسکتی ہے اور کس طرح انہیں بسایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحفظ ماحول کے بین الاقوامی معاہدے’ کیوٹو پروٹوکول‘ اور آئی پی سی سی کی تجاویز پر عمل درآمد میں امریکا کی موجودہ بش انتظامیہ ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔لیکن ان پر عمل درآمد کے حتمی سال دوہزار نو تک وائٹ ہاؤس میں تبدیلی آچکی ہوگی۔امریکی طرز عمل کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب دوسرے بڑے ممالک چین اور بھارت بھی کیوٹو پروٹوکول کے ےوالے سے تعاون نہیں کر رہے لیکن سلیم کا کہنا ہے کہ جب امریکا تعاون پر آمادہ ہوجاوئے گا تو چین اور بھارت بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

جس دنیا میں ہر سال پینتیس ارب ڈالر کا بوتل بند پانی پیا جاتا ہے ،اس دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں جبکہ انہیں صرف دس ارب ڈالر خرچ کرکے یہ سہولت مہیا کی جاسکتی ہے، یورپ سالانہ گیارہ ارب ڈالر کی آئس کریم کھا جاتا ہے لیکن دنیا کا ہر بچہ صرف ڈیڑھ بلین ڈالر کے ٹیکوں سے پانچ خطرناک بیماریوں سے محفوظ ہوسکتا ہے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیتا،پالتو جانوروں کی خوراک پر شمالی امریکا اور یورپ میں سالانہ سترہ ارب ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں،اور اس دنیا میں ناکافی غذائیت اور بھوک مری ختم کرنے کے لیے سالانہ انیس ارب ڈالر خرچ کرنے پر آمادہ نہیں،میک اپ اور پرفیومز پر ہم جولوگ ہر برس تینتیس ارب ڈالر صرف کردیتے ہیں جبکہ افریقہ کو ایڈز ، قحط اور خانہ جنگوں کے شکار بے گھروں کی آباد کاری کے لیے ہر برس صرف پچیس ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن افریقہ کو بہت ہی ایڑیاں رگڑنے کے بعد سالانہ اوسطا وارہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہی میر آتے ہیں۔

آپ اس موازنے سے بیزار ہوکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آخر ان اعدادو شمار کا مطلب کیا ہے ؟ کیا ہم بوتل بند منرل واٹر نہ پیئیں، اپنے بچوں کو آئس کریم نہ کھلائیں، پرفیوم نہ لگائیں، پالتو جانوروں کو کھانا نہ کھلائیں، ان کا علاج نہ کروائیں،اور یہ سب اگر ہم افورڈ کر سکتے ہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہے، آپ حکومتوں کو یہ وعظ کیوں نہیں دیتے کہ وہ اس دنیا کے غریب ملکوں کا خیال کریں،تو جناب حکومتوں کا یہ حال ہے کہ 1970میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد میں امیر ملکوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ زیادہ نہیں صرف اپنی سالانہ قومی آمدنی کا اعشاریہ سات فیصد یعنی نصف فیصد سے کچھ زائد غریب ملکوں کے لیے وقف کردیں تو دنیا پر سکون ہو جائے گی ،آج اڑتیس برس گذر چلے ہیںاور صرف چار ممالک یعنی سوئیڈن،ناروے ، ہالینڈ اور لکسمبرگ کو ہی یہ توفیق ہو سکی کہ وہ اقوام متحدہ کے اس امدادی ہدف پر پورا اتر سکیں۔

دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکا جو اس دنیا کے 25 سے 30فیصد تک وسائل سالانہ استعمال کرتا ہے، اپنی کل قومی آمدنی کے ایک فیصد کا بھی محض دسواں حصہ ترقی پذیر ملکوں کو بطور امداد دیتا ہے،اور وہ بھی اپنی شرائط پر یوں سمجھ لیں کہ اگر امریکا دفاع پر اگر اڑتیس ڈالر خرچ کرتا ہے تو اس کے مقابلے میں غریب ملکوں کو صرف ایک ڈالر دیتا ہے ، جنوبی کوریا کو جب پندرہ اگست 1945میں جاپانی چنگل سے نجات ملی تو اس وقت تک عالمی جنگ نے ملک کو ایک بڑے کھنڈرمیں تبدیل کردیا تھا، پھر پچاس سے تریپن تک کی جنگ کوریا نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، اس ملک کے پاس کوئی خاص معدنی دولت بھی نہیں تھی،بس ایک بہتر سا تعلیمی نظام تھا جس نے سیاسی اور فوجی آمریت کے لمبے سائے تلے بھی نہایت تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرلی، نتیجہ یہ ہے کہ جب کوریا دو برس پہلے ساٹھ سال کا ہوا تو وہ دنیا کی دس بڑی صنعتی قوتوں میں شامل تھا، اور فی کس آمدنی اٹھارہ ہزار سالانہ سے زائد تھی،

اگرچہ اس عرصے میں انڈونیشیا تیل سے مالا مال ہونے کے باوجود اتنی ترقی نہ کرسکا جتنی اس کے ہمسایوں نے کی لیکن پھر بھی جب اس نے دو برس پہلے آزادی کی آٹھویں سالگرہ منائی تو ملک کم از کم آئینی جمہوریت کی راہ پر پوری طرح گامزن ہوچکا تھا، سری لنکا ساٹھ برس کا ہوا تو تامل سنہالہ تنازعے نے ملک کی چولیں ہلادیں لیکن ان حالات میں بھی اس کی فی کس آمدنی بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں ستر فیصد سے زائد رہی، اور جمہوریت بھی پٹڑی سے نہیں اتری، اور نوے فیصد تعلیمی خواندگی کے نتیجے میں سری لنکا جنوبی ایشیا کا سب سے پڑھا لکھا ملک بھی ہے۔

چین دو برس بعد ساٹھ سال کا ہوگا ، کمیونسٹ انقلاب کے وقت وہ بھارت سے بھی زیادہ پسماندہ تھا لیکن آج ساٹھ سال کی عمر میں چین دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری اور تیسری بڑی اقتصادی قوت ہے، جو ڈیڑھ ارب آبادی والے اس ملک کے لیے کسی معجزے سے کم

ملائشیا ابھی صرف پچاس برس کا ہے، آزادی کے وقت ملائیشا کی شناخت صرف ٹن کی معدنیات اور پام آئل تھی اور اس کا شمار پاکستان سے بھی زیادہ غریب ملک میں ہوتا ہے لیکن پچاس برس بعد ملائیشا جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقت ہیں۔

Wednesday, October 24, 2007

الگور صدر ہوتے تو دنیا کا نقشہ یہ نہ ہوتا !

آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم کے خالق کے لیے اب نوبل انعام بھی

صدر بش کی جنگجو فطرت نے دنیا کو جس طرح جنگی میدان میں بدل دیا ہے اس کانظارہ ہم عراق اور افغانستان میں تباہی اور تشدد کے بھڑکتے شعلوں ، اور پاکستان میں چنگاریوں کو ہوا دیتے ہوئے دیکھ کرکر سکتے ہیں اور اسے دیکھتے ہوئے یہ بات حسرت سے کہی جاسکتی ہے کہ کاش صدر بش کے بجائے الگور امریکا کے صدر ہوتے تو صورت حال شایدکچھ مختلف ہوتی۔امریکا کی پالیسیاں اپنی جگہ لیکن انسان کی فطرت و عادت اور اس کے گرد موجو د لوگ اس سے بہت کچھ کروا لیتے ہیں ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ اپنے ہی جیسے لوگ اپنے گرد جمع رکھتا ہے۔

امریکا کے سابقہ نائب صدر البرٹ آرنلڈ گور جنہیں عرف عام میں الگور کہا جاتاہے کو امریکا کے صدارتی انتخابات میں بش جونیئر کے مقابلے میں 537 ووٹوں سے شکست ہوئی تھی اور انہیں کس طرح شکست دی گئی تھی یہ کوئی اتنا ڈھکا چھپا راز نہیں ہے ۔الگور بل کلنٹن کے دور میں امریکا کے نائب صدر تھے۔

اپنے ملک میں جمہوریت ،آزاد عدلیہ اور انسانی حقوق کے محافظ اپنے دہرے معیارات کے تحت دنیا کے ان تمام ممالک میں منظر نامے کو یکسر مختلف رکھنا چاہتے ہیں جہاں جہاں ان کے مفادات وابستہ ہیں۔بد قسمتی سے پاکستان اپنی جغرافیائی محل وقوع کے باعث ہمیشہ عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کا کبھی براہ راست اور کبھی بالواسطہ شکار رہا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کی دلچسپی ، ضرورت اوردوستی و دشمنی بدلتی رہتی ہے اور اگرکبھی پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہوا کہ اس کی جغرافیائی لحاظ سے اتنی اہمیت نہ رہے تب بھی ہماری جاں بخشی نہ ہوسکے گی کیونکہ آنے والے وقتوں میں پاکستان اپنے آبی وسائل کے باعث مرکز نگاہ ہوگا۔پاکستان کے شمال میں اونچے پہاڑوں کے دامن میں موجود وسیع و عریض گلیشیئرپاکستان کی معیشت اور زراعت کو رواں دواں رکھنے کا باعث ہیں۔قطبین میں موجود گلیشیئر کے علاوہ سب سے زیادہ گلیشیئر یہیں پائے جاتے ہیں۔ان گلیشیئر سے دنیا کے کئی بڑے دریا نکلتے ہیں۔آنے والے دنوں میں ان آبی وسائل پر تسلط کی سیاست کی جائے گی۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں کم ہوتا میٹھا پانی آنے والے وقتوں میں نایاب بھی ہوسکتا اور تب یہ گلیشیئر کس قدر قیمتی ہوں گے اس کا اندازہ ہم کرسکتے ہیں، اور صرف گلیشیئر ہی کیا سمندر، ساحل، دریا، زرخیز مٹی، صحرا، نایاب پھول پودے اور جانور کون سی نعمت ہے جو اس خالق کائنات نے اس ملک اور قوم کو نہیں بخشی۔سورہ رحمن میں بتائی گئی تمام نعمتیں اس ملک و قوم کے دامن میں ڈال دی گئی ہیں۔۔۔لیکن کاش ہمارے ارباب اختیار و اقتدار ان نعمتوں کا ادراک کرسکتے۔



بش اور الگور میں فرق کے لیے ہم ان دونوں کے کام کا تجزیہ کرسکتے ہیں۔

صدر بش کے پسندیدہ کا م کون سے ہیں یہ سب جانتے ہیں جبکہ سابق امریکی نائب صدر الگور کے تحفظ ماحول کے حوالے سے کیے جانے والے کام کا عالمی سطح پر اعتراف کرتے ہوئے انہیں امن کا نوبل انعام  2007کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے۔اس سے قبل اسی سال الگور ہی کی تیار کردہ ایک دستاویزی فلم ” تکلیف دہ سچ “ (An    Inconvenient Truth)  پر انہیں آسکر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
1901 سے دیا جانے والا نوبل انعام کا حصول کسی بھی مرد و عورت کے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہے ، اسے دنیا کا سب سے بڑے انعام تصور کیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ فزکس ، کیمسٹری، طب ، ادب اور امن کے لیے منفرد کام کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔1895 میں الفریڈ نوبل نے اپنی آخری وصیت میں اس انعام کو جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی تمام دولت اس کام کے لیے وقف کردی تھی۔

سائنس داں ، موجد،مصنف، ادیب اور شاعر الفریڈ نوبل کی یقینا تمام دنیا احسان مند رہے گی۔

 12 اکتوبر2007 کے روز ناروے کی نوبل کمیٹی نے جو اعلامیہ جاری کیا اس کے مطابق الگور اورموسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹر گورنمنٹل پینل آف کلائمیٹ چینج(IPCC)  کو مشترکہ طور پر نوبل انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ ان دونوں کی کوششوں سے انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی منفی ماحولیاتی تبدیلیوں کے درست ڈیٹا کا حصول اور اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر کی توجہ کا حصول اور شعور و آگہی میں اضافہ ممکن ہوسکا ۔
ماحول کی تباہی اب کوئی نئی بات نہیں رہی ہے ۔اس صدی کی آخری تین دہائیاں اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہیں جب دنیا نے ان خطرات پر سنجیدگی سے کان دھرنا شروع کیا۔ابتدا میں دنیا کے لیے یہ باتیں انوکھی اور انہونی تھیں اور شاید وہ اسے سمجھنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن آج صورت حال مختلف ہے، اس سال کے اوائل میں جب IPCC نے موسمیاتی تغیر پر اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی تو گویا دنیا میں ہلچل مچ گئی۔1500صفحات کی یہ ضخیم رپورٹ     100ممالک کے 2000 سائنس دانوں کی شب و روز کاوش کا نتیجہ ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر متوازن صنعتی ترقی سے فضا میں خطرناک گیسوں خصوصا کاربن ٹائی آکسائیڈ کا تنا سب بڑھ رہا ہے۔اس کے نتیجے میں زمین کے درجہ حرارت میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔الگور کی دستاویزی فلم بھی اسی سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ اگر ترقی کے نام پر ماحولیاتی تباہی کو نہیں روکا گیا تو آئندہ برسوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے گا اور قطبین کی برف پگھلنے سے سمندروں کی سطح کئی میٹر بلند ہوسکتی ہے جس سے بہت سے جزیرے اور ساحلی شہر غرق ہوسکتے ہیں۔اس فلم میں الگور نے صدر بش پر کیوٹو پروٹوکول (مضر گیسوں میں کمی کا عالمی معاہدہ) کو تسلیم نہ کرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ” اگر کسی شخص کو بات نہ سمجھنے کی تنخواہ مل رہی ہو تو اسے بات سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

 الگور کی وجہ شہرت اب سے پہلے اگرچہ ان کی سیاست ہی رہی ہے ۔وہ بل کلنٹن کے نائب صدر اور 2000 کے صدارتی انتخا بات میں بش جونیئر کے مقابل صدارتی امید وار تھے۔ لیکن یہ بات بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ انہیں ماحولیات سے بھی خصوصی دلچسپی ہے۔ انہوں نے زمین کو پیش آنے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کو ابتدائی مرحلے پر ہی محسوس کر لیا تھااور نائب صدر کی حیثیت سے اپنے سیاسی کردار کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ماحول کے حوالے سے بہت کام کیا۔انہوں نے ان مسائل کو اپنے لیکچروں ، کتابوں، اور دستاویزی فلموں کے ذریعے اجاگر کیا ۔ان کے اس پر خلوص کام کو دنیا بھر میں سراہا گیا اور دو بڑے اعزازات (نوبل اور آسکر) سے ان کے کام کا اعتراف کیا گیا۔

اپنی دستاویزی فلم ”تکلیف دہ سچ” An Inconvenient Truth کے نام سے انہوں نے ایک کتاب بھی شائع کی ہے۔59 سالہ الگور نے ایک ذاتی تنظیم اتحاد برائے تحفظ ماحول (الائنس فار کلائمیٹ پروٹیکشن) بھی قائم کر رکھی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ نوبل انعام برائے امن کی رقم بھی وہ اسی تنظیم پر خرچ کریں گے۔آئی پی سی سی پانچ سالہ بنیادوں پر جامع ماحولیاتی رپورٹ تیار کرتی ہے ۔ آج کل ہندوستانی نژاد ماہر ماحولیات،راجندرا پیچوری اس کے چیئر مین ہیں۔الگور کے لیے نوبل انعام کے اعلان پر انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے اور ان کی تنظیم کے لیے بہت فخر کی بات ہے۔”مجھے امید ہے کہ نوبل کمیٹی کے اس اعلان کے بعد عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا احساس اجاگر ہوگا اور عوام عالمی تپش میں اضافے کو روکنے کے لیے ماحولیاتی تنظیموں کا ساتھ دیں گے۔

 افریقہ کی ونگاری ماتھائی کو2005 کا نوبل انعام تحفظ ماحول ہی کے لیے دیا گیا تھا۔اس کے بعد2006 میں بنگلہ دیش کے محمد یونس کو غربت کے خاتمے اور اب 2007 میں الگور کو دیا جانے والا نوبل انعام یہ بتا رہا ہے کہ اب تحفظ ماحول کا مسئلہ دنیا بھر میں سر فہرست آچکا ہے۔ ماحول کی بقا ہی میں دراصل ہم سب کی بقا ہے۔ امن کے لیے جانے والا یہ انعام جنگ سے محبت کرنے والوں کے لیے یقینا لمحہ فکریہ ہے ۔