Wednesday, October 24, 2007

الگور صدر ہوتے تو دنیا کا نقشہ یہ نہ ہوتا !

آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم کے خالق کے لیے اب نوبل انعام بھی

صدر بش کی جنگجو فطرت نے دنیا کو جس طرح جنگی میدان میں بدل دیا ہے اس کانظارہ ہم عراق اور افغانستان میں تباہی اور تشدد کے بھڑکتے شعلوں ، اور پاکستان میں چنگاریوں کو ہوا دیتے ہوئے دیکھ کرکر سکتے ہیں اور اسے دیکھتے ہوئے یہ بات حسرت سے کہی جاسکتی ہے کہ کاش صدر بش کے بجائے الگور امریکا کے صدر ہوتے تو صورت حال شایدکچھ مختلف ہوتی۔امریکا کی پالیسیاں اپنی جگہ لیکن انسان کی فطرت و عادت اور اس کے گرد موجو د لوگ اس سے بہت کچھ کروا لیتے ہیں ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ اپنے ہی جیسے لوگ اپنے گرد جمع رکھتا ہے۔

امریکا کے سابقہ نائب صدر البرٹ آرنلڈ گور جنہیں عرف عام میں الگور کہا جاتاہے کو امریکا کے صدارتی انتخابات میں بش جونیئر کے مقابلے میں 537 ووٹوں سے شکست ہوئی تھی اور انہیں کس طرح شکست دی گئی تھی یہ کوئی اتنا ڈھکا چھپا راز نہیں ہے ۔الگور بل کلنٹن کے دور میں امریکا کے نائب صدر تھے۔

اپنے ملک میں جمہوریت ،آزاد عدلیہ اور انسانی حقوق کے محافظ اپنے دہرے معیارات کے تحت دنیا کے ان تمام ممالک میں منظر نامے کو یکسر مختلف رکھنا چاہتے ہیں جہاں جہاں ان کے مفادات وابستہ ہیں۔بد قسمتی سے پاکستان اپنی جغرافیائی محل وقوع کے باعث ہمیشہ عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کا کبھی براہ راست اور کبھی بالواسطہ شکار رہا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کی دلچسپی ، ضرورت اوردوستی و دشمنی بدلتی رہتی ہے اور اگرکبھی پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہوا کہ اس کی جغرافیائی لحاظ سے اتنی اہمیت نہ رہے تب بھی ہماری جاں بخشی نہ ہوسکے گی کیونکہ آنے والے وقتوں میں پاکستان اپنے آبی وسائل کے باعث مرکز نگاہ ہوگا۔پاکستان کے شمال میں اونچے پہاڑوں کے دامن میں موجود وسیع و عریض گلیشیئرپاکستان کی معیشت اور زراعت کو رواں دواں رکھنے کا باعث ہیں۔قطبین میں موجود گلیشیئر کے علاوہ سب سے زیادہ گلیشیئر یہیں پائے جاتے ہیں۔ان گلیشیئر سے دنیا کے کئی بڑے دریا نکلتے ہیں۔آنے والے دنوں میں ان آبی وسائل پر تسلط کی سیاست کی جائے گی۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں کم ہوتا میٹھا پانی آنے والے وقتوں میں نایاب بھی ہوسکتا اور تب یہ گلیشیئر کس قدر قیمتی ہوں گے اس کا اندازہ ہم کرسکتے ہیں، اور صرف گلیشیئر ہی کیا سمندر، ساحل، دریا، زرخیز مٹی، صحرا، نایاب پھول پودے اور جانور کون سی نعمت ہے جو اس خالق کائنات نے اس ملک اور قوم کو نہیں بخشی۔سورہ رحمن میں بتائی گئی تمام نعمتیں اس ملک و قوم کے دامن میں ڈال دی گئی ہیں۔۔۔لیکن کاش ہمارے ارباب اختیار و اقتدار ان نعمتوں کا ادراک کرسکتے۔



بش اور الگور میں فرق کے لیے ہم ان دونوں کے کام کا تجزیہ کرسکتے ہیں۔

صدر بش کے پسندیدہ کا م کون سے ہیں یہ سب جانتے ہیں جبکہ سابق امریکی نائب صدر الگور کے تحفظ ماحول کے حوالے سے کیے جانے والے کام کا عالمی سطح پر اعتراف کرتے ہوئے انہیں امن کا نوبل انعام  2007کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے۔اس سے قبل اسی سال الگور ہی کی تیار کردہ ایک دستاویزی فلم ” تکلیف دہ سچ “ (An    Inconvenient Truth)  پر انہیں آسکر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
1901 سے دیا جانے والا نوبل انعام کا حصول کسی بھی مرد و عورت کے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہے ، اسے دنیا کا سب سے بڑے انعام تصور کیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ فزکس ، کیمسٹری، طب ، ادب اور امن کے لیے منفرد کام کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔1895 میں الفریڈ نوبل نے اپنی آخری وصیت میں اس انعام کو جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی تمام دولت اس کام کے لیے وقف کردی تھی۔

سائنس داں ، موجد،مصنف، ادیب اور شاعر الفریڈ نوبل کی یقینا تمام دنیا احسان مند رہے گی۔

 12 اکتوبر2007 کے روز ناروے کی نوبل کمیٹی نے جو اعلامیہ جاری کیا اس کے مطابق الگور اورموسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹر گورنمنٹل پینل آف کلائمیٹ چینج(IPCC)  کو مشترکہ طور پر نوبل انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ ان دونوں کی کوششوں سے انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی منفی ماحولیاتی تبدیلیوں کے درست ڈیٹا کا حصول اور اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر کی توجہ کا حصول اور شعور و آگہی میں اضافہ ممکن ہوسکا ۔
ماحول کی تباہی اب کوئی نئی بات نہیں رہی ہے ۔اس صدی کی آخری تین دہائیاں اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہیں جب دنیا نے ان خطرات پر سنجیدگی سے کان دھرنا شروع کیا۔ابتدا میں دنیا کے لیے یہ باتیں انوکھی اور انہونی تھیں اور شاید وہ اسے سمجھنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن آج صورت حال مختلف ہے، اس سال کے اوائل میں جب IPCC نے موسمیاتی تغیر پر اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی تو گویا دنیا میں ہلچل مچ گئی۔1500صفحات کی یہ ضخیم رپورٹ     100ممالک کے 2000 سائنس دانوں کی شب و روز کاوش کا نتیجہ ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر متوازن صنعتی ترقی سے فضا میں خطرناک گیسوں خصوصا کاربن ٹائی آکسائیڈ کا تنا سب بڑھ رہا ہے۔اس کے نتیجے میں زمین کے درجہ حرارت میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔الگور کی دستاویزی فلم بھی اسی سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ اگر ترقی کے نام پر ماحولیاتی تباہی کو نہیں روکا گیا تو آئندہ برسوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے گا اور قطبین کی برف پگھلنے سے سمندروں کی سطح کئی میٹر بلند ہوسکتی ہے جس سے بہت سے جزیرے اور ساحلی شہر غرق ہوسکتے ہیں۔اس فلم میں الگور نے صدر بش پر کیوٹو پروٹوکول (مضر گیسوں میں کمی کا عالمی معاہدہ) کو تسلیم نہ کرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ” اگر کسی شخص کو بات نہ سمجھنے کی تنخواہ مل رہی ہو تو اسے بات سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

 الگور کی وجہ شہرت اب سے پہلے اگرچہ ان کی سیاست ہی رہی ہے ۔وہ بل کلنٹن کے نائب صدر اور 2000 کے صدارتی انتخا بات میں بش جونیئر کے مقابل صدارتی امید وار تھے۔ لیکن یہ بات بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ انہیں ماحولیات سے بھی خصوصی دلچسپی ہے۔ انہوں نے زمین کو پیش آنے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کو ابتدائی مرحلے پر ہی محسوس کر لیا تھااور نائب صدر کی حیثیت سے اپنے سیاسی کردار کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ماحول کے حوالے سے بہت کام کیا۔انہوں نے ان مسائل کو اپنے لیکچروں ، کتابوں، اور دستاویزی فلموں کے ذریعے اجاگر کیا ۔ان کے اس پر خلوص کام کو دنیا بھر میں سراہا گیا اور دو بڑے اعزازات (نوبل اور آسکر) سے ان کے کام کا اعتراف کیا گیا۔

اپنی دستاویزی فلم ”تکلیف دہ سچ” An Inconvenient Truth کے نام سے انہوں نے ایک کتاب بھی شائع کی ہے۔59 سالہ الگور نے ایک ذاتی تنظیم اتحاد برائے تحفظ ماحول (الائنس فار کلائمیٹ پروٹیکشن) بھی قائم کر رکھی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ نوبل انعام برائے امن کی رقم بھی وہ اسی تنظیم پر خرچ کریں گے۔آئی پی سی سی پانچ سالہ بنیادوں پر جامع ماحولیاتی رپورٹ تیار کرتی ہے ۔ آج کل ہندوستانی نژاد ماہر ماحولیات،راجندرا پیچوری اس کے چیئر مین ہیں۔الگور کے لیے نوبل انعام کے اعلان پر انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے اور ان کی تنظیم کے لیے بہت فخر کی بات ہے۔”مجھے امید ہے کہ نوبل کمیٹی کے اس اعلان کے بعد عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا احساس اجاگر ہوگا اور عوام عالمی تپش میں اضافے کو روکنے کے لیے ماحولیاتی تنظیموں کا ساتھ دیں گے۔

 افریقہ کی ونگاری ماتھائی کو2005 کا نوبل انعام تحفظ ماحول ہی کے لیے دیا گیا تھا۔اس کے بعد2006 میں بنگلہ دیش کے محمد یونس کو غربت کے خاتمے اور اب 2007 میں الگور کو دیا جانے والا نوبل انعام یہ بتا رہا ہے کہ اب تحفظ ماحول کا مسئلہ دنیا بھر میں سر فہرست آچکا ہے۔ ماحول کی بقا ہی میں دراصل ہم سب کی بقا ہے۔ امن کے لیے جانے والا یہ انعام جنگ سے محبت کرنے والوں کے لیے یقینا لمحہ فکریہ ہے ۔

Tuesday, October 23, 2007

خطرات میں گھرے جنگلات

کیا کسی سیاسی منشور میں جنگلات کا تحفظ شامل ہے؟                 
  
کسی بھی ملک و قوم کی خوش بختی اور خوش حالی کا اندازہ اس کے زر مبادلہ کے ذخائر سے نہیں بلکہ اس کے قدرتی وسائل سے کیا جاتا ہے۔قدرتی وسائل ہی وہ اصل خزانہ ہیں جس سے اس ملک کے کھیت کھلیان سر سبز ، دریاؤں میں رواں دواں پانی اور لوگوں کے چہروں پر خوشی اور مسرت کے رنگ جھلملاتے ہیں۔زمین پر زندگی کے تمام رنگ ان ہی قدرتی وسائل کے مرہون منت ہیں۔ مالا مال سمندر دریا، دنیا کے بلند پہاڑ ان کے دامن میں جھومتے بارشوں کو کھینچتے سیکڑوں سالہ قدیم درخت ، زرخیز مٹی کے میدان ،سر سبز کھیت کھلیان اور رنگ برنگا حیاتی تنوع ہی ہماری اصل دولت ہے۔انسان دراصل دو گھروں کا مکین ہے ، ایک اس کا گھر اور دوسرا کرہ ارض ۔ ہمیں دونوں گھروں کا یکساں تحفظ کرنا ہے لیکن ہم نے اپنی عاقبت نا اندیشی سے اپنے ان دونوں گھروں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

 فطرت کی زبان سمجھنے والے بے آب و گیاہ دھول اڑاتے میدانوں اور خشک جھاڑیوں پر لکھی یہ تحریر پڑھ لیتے ہیں کہ کوئی تو ہے جس نے قدرت کے مکمل اور متوازن ماحول کو اس مقام تک پہنچایاہے۔ زمینی وسائل کے استعمال اور قدرتی ماحول کے درمیان ایک نہایت مضبوط تعلق موجود ہے اور انسانی سرگرمیاں جب قدرتی ماحول میں خلل ڈالتی ہیں تو ہرے بھرے مناظر کو صحراں میں تبدیل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔



درخت یا جنگلات بظاہر ہمارے لیے ایک عام سے وسائل ہیں لیکن زمین کا تمام تر فطری ماحولیاتی نظام ان ہی کے گرد گھومتا ہے۔یہی موسموں کے جن کو قابو میں رکھتے ہیں۔ جنگلات کو اگر ماحول کا نگہبان کہیں تو زیادہ غلط نہ ہوگا۔ یہ بڑے پیمانے پر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں ،درجہ حرارت اور بارش کو قابو میں رکھتے ہیں۔ان کی جڑیں زمین کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہےں۔ بے شمار جانور اور پرندوں کے لیے فطری مساکن اور لاکھوں افراد کے لیے وطن کا کام کرتے ہیں۔نباتات اور حیوانات کی یہ رنگا رنگی خوراک کی زبردست دولت اور انسانی صحت کے لیے بیش بہا دوائیں فراہم کرتی ہے۔جنگلات سے ایندھن اور تعمیرات کے لیے لکڑی، حیوانات کے لیے چارہ، پھل،شہد، ،حیوانی پروٹین ،دواؤں کے عروق اور دوسری بہت سی خام اشیا مثلا گوند ، موم اور سریش وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔ یہ جنگلات کروڑوں مویشیوں ، بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کے لیے چارے کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔

 ملک کے بڑے بڑے آب گیر علاقوں( واٹر شیڈز) میں اگنے والا یہ حفاظتی پردہ نہ صرف ماحولیاتی نظاموں کو برقرار رکھتا ہے بلکہ مٹی کو اپنی جگہ قائم رکھ کر سیلابوں کے مقابلے میں رکاوٹ کاکام بھی دیتا ہے۔

شجر کاری کے حوالے سے حضور اکرم ﷺ کی صاف اور صریح ہدایات موجود ہیں ۔ ان کے مطابق مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر شجر کاری کی ترغیب دی گئی ہے۔اسلام نے درخت لگانے اور نباتات کی حفاظت کرنے کو کار ثواب( صدقہ) قرار دے کر نہ صرف دنیاوی فوائد بلکہ آخرت کے لیے سعادت کا حصول قرار دیا ہے۔

لیکن ان جنگلات سے کیا سلوک کیا جاتا ہے ذرا دیکھیے تو :

 کہا جاتا ہے کہ 30 فٹ بال گراؤنڈ کے مساوی جنگل کا رقبہ ہر منٹ کاٹا جاتا ہے۔گذشتہ کئی سالوں سے جنگلات کا خاتمہ یعنی دیسی جنگلوں اور لکڑی کے ذخائر کی مستقل تباہی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔پہلے ہی قدیم اور خالص جنگلات کا ایک تہائی حصہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے اور اب دنیا کے قدیم جنگلوں کا صرف40%حصہ ہی باقی بچا ہے۔جنگلوں کادو تہائی حصہ بنیادی طور پر بدل چکا ہے۔اس ضمن میں زیادہ تر نقصان پچھلے 45 سال میں ہوا ہے۔ایشیا میں منطقہ کے 42% اصلی جنگل ختم ہوگئے ہیں۔ یورپ میں ابتدائی جنگلات کا صرف 1%حصہ باقی رہ گیا ہے۔ہمالیہ کے دامن میں جو کبھی صنوبر، شاہ بلوط اور کنیر کے درختوں سے بھرا ہوتا تھا، اب اصلی جنگلوں کا 4% حصہ رہ گیا ہے۔افریقہ کے براعظم میں سب سے بڑھ کر جنگلات کا خاتمہ عمل میں آیا ہے۔مرکزی افریقہ کے بارش والے جنگل کا آدھا حصہ صاف ہوچکا ہے۔ مغربی افریقہ جو کبھی منطقہ حارہ کی عمارتی لکڑی سے مالا مال ہوا کرتا تھا اور تقریبا خالی ہوچکا ہے۔امیزون کے بارانی جنگل بھی تیزی سے گھٹتے جارہے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق ان بارانی جنگلات کے رقبے میں کمی سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھے گی اور جنگل میں لگنے والی آگ کی شرح بھی بڑھے گی۔برازیل کے علاقے میں واقع امیزون جنگل کی خلائی سیارے کی مدد سے لی گئی تصاویر اور جائزوں سے پتا چلا ہے کہ یہاں تقریبا ساڑھے پندرہ سو مربع کلو میٹر پر واقع درختوں کوسالانہ کاٹ دیا جاتا ہے۔یوں دنیا کے گھنے ترین بارانی جنگل کا مستقبل خطرے سے دوچار ہے۔

 پاکستان میں اس قیمتی قدرتی وسیلے سے مزید بد تر سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

پاکستان کا شماران ممالک میں ہوتا جہاں دنیا میں سب سے کم جنگل پائے جاتے ہیں۔یعنی اس کی خشکی کے مجموعی رقبے کا صرف 4.8 فیصد ہے جو بہت کم ہے اور حکومت اسے 2011ءمیں بڑھا کر 5.7 فیصد تک پہنچانا چاہ رہی ہے۔یہ محدود وسیلہ بھی کئی سالوں سے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔

ہر سال حکومت سرکاری سطح پر شجر کاری مہم دھو دھام سے شروع تو کرتی ہے لیکن جتنا کثیر سرمایہ اس پر خرچ ہوتا ہے اس کے مقابلے میں نتائج چند فیصد بھی برآمد نہیں ہوتے ۔اور آئندہ سال جب یہ مہم ایک بار پھر شروع ہوتی ہے تو پچھلے سال کے نتائج قصہ پارینہ سمجھ کر بھلا دیے جاتے ہیں۔

   پاکستانی جنگلات کو تعریف کے لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔پیداواری جنگلات (Productive Forest)اور محفوظ جنگل (Protected Forests)  پاکستان کے اہم جنگلات میں سندھ میں موجود ساحلی جنگلات، دریائی جنگلات، بلوچستان کے چلغوزے اور صنوبر کے جنگلات،شمالی علاقوں کے جنگلات اور آزاد کشمیر کے جنگلات شامل ہیں۔

پاکستان کے ہر شعبے کی طرح جنگلات کے شعبے کو بھی کرپشن کی دیمک چاٹ گئی ہے۔یہ قیمتی وسیلہ سیاسی اثر رسوخ اور مجرموں کی سر عام سرپرستی کے باعث ہمیشہ غیر محفوظ رہا ہے۔اس قیمتی دولت سے فائدہ نہ اٹھانے والے کو عرف عام میں بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔سندھ کے دریائی جنگلات جنہیں کچے کے جنگلات بھی کہا جاتا ہے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔یہ جنگلات دریائے سندھ کی گذر گاہ کے کنارے اور نواحی علاقوں میں واقع ہیں اور دریائے سندھ کے سیلابی پانی سے سیراب ہوتے ہیں۔یہ جنگلات ٹمبر مافیا کے لیے خزانہ ہیں۔فرنیچر اور ایندھن کے لیے یہاں سے بے دریغ درخت کاٹے جاتے ہیں۔ کچے کی لکڑی فرنیچر سازی کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔ان علاقوں میں ٹمبر مافیا کا بہت اثر رسوخ ہے اور بغیر کسی نئی شجر کاری کے درختوں کی کٹائی زور شور سے جاری ہے۔اس کا نتیجہ ہم سب بارشوں کی کمی اور خشک سالی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔حالیہ بارشوں سے قطع نظر سندھ کئی سالوں سے خشک سالی کا بد ترین عذاب بھگت رہا تھا خصوصا تھر اور بلوچستان کے علاقے۔دریائے سندھ میں پانی کی کمی سے زراعت کے لیے بھی پانی نا کافی تھا۔ٹیوب ویلوں سے پانی کا حصول نا ممکن ہوچلا تھا کیونکہ بارشوں کی کمی سے زیر زمین پانی بھی کم ہوگیا تھا۔آج کل سندھ کے یہ جنگلات ڈاکوؤں کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔گھنے جنگلات کے باعث ا ن ڈاکوؤں تک پہنچنا اور ان پر قابو پانا قانون کے محافظوں کے لیے مشکل تھا لہذا حکومت نے یہ ”بہترین“ حل ڈھونڈا کہ ان جنگلات کا ہی صفایا کردیا جائے تاکہ نہ جنگل ہوگا اور نہ ڈاکو ان میں چھپیں گے۔ایسے ”بہترین“ فیصلے ملک و قوم کے مفاد میں آئے دن کیے جاتے ہیں۔

سیاسی اثر رسوخ بھی ٹمبر مافیا کی حوصلہ افزائی کا ایک سبب ہے۔

بلوچستان کا صرف% 1.7رقبہ جنگلات کے زیر سایہ ہے تاہم یہاں کے صنوبر کے جنگلات اسے اہم مقام بخشتے ہیں۔دنیا بھر میں پائی جانی والی صنوبرکی 25 اقسام میں سے 4اقسام پاکستان اور بھارت میں ہمالیہ کے پہاڑوں پر پائی جاتی ہیں ۔ صنوبر کی کچھ اقسام دنیا بھر میں صرف بلوچستان میں پائی جاتی ہیں۔ان جنگلات کا شمار دنیا کے قدیم ترین جنگلات میں پوتا ہے اور ماہرین بلا مبالغہ ان درختوں کی عمروں کا تخمینہ ہڑاروں سال لگاتے ہیں۔لیکن شعور اور آگہی کی کمی اور اور متابادل سہولت نہ ہونے کے باعث یہ نایاب درخت بھی ایندھن کے لیے کاٹ لیے جاتے ہیں۔اگرچہ قانونا ان درختوںکی کٹائی منع ہے لیکن ان پر چلتے تیز دھار کلہاڑے ان درختوں کے ساتھ ساتھ قانون کی بھی دھجیاں اڑاتے ہیں۔شمال میں پہاڑوں کے دامن میں موجود جنگلات ہمارے آبگیر علاقوں کے تحفظ کا سبب ہیں ۔ان جنگلات کے باعث بارش اور تیز رفتار سیلاب کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور مٹی بھی مضبوطی سے جمی رہتی ہے۔اگر یہ درخت نہ ہوں تو بارش کا پانی تیز رفتاری سے انسانی آبادیوں کو بہا لے جائے گا اور مٹی کے بہنے سے ہمارے ڈیم مٹی سے بھر کر اپنی کارکردگی کھو بیٹھیں گے۔منگلا اور تربیلا ڈیم اس کی مثال ہیں۔ 2005 کے زلزلے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ چٹانی اور مٹی کے تودوں کے گرنے سے ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ان علاقوں میں رہی جہاں جنگلات کا صفایا ہوچکا تھا۔

 فاریسٹری سیکٹر ماسٹر پلان کے مطابق شمالی پاکستان اور صوبہ سرحد میں ہر سال جنگلات کی کٹائی کے نتیجے میں ہونے والے ہوائی اور آبی کٹاؤ کے سبب کم از کم40 ملین ٹن مٹی سندھ طاس کے بہاؤ میں شامل ہوجاتی ہے اور 11ملین ہیکٹر زمین متاثر ہوتی ہے۔‘خشک اور نیم بنجر ارضیاتی کیفیت اور دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی ہوئی صحرا زدگی کے باعث جنگلات میں ہونے والی یہ کمی نہایت تشویش ناک امر ہے۔

اگرچہ جنگلات کا شمار قابل تجدید وسائل میں کیا جاتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم انہیں کاٹے جائیں اوریہ ختم نہ ہوں۔اگر وہ اس رفتارسے کاٹے جائیں جو ان کی دوبارہ نشو و نما کی رفتار سے زیادہ ہو تو ہمارے جنگلات کے وسائل جلد ہی مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے۔جنگلات کے خاتمے کے اثرات مختصر المعیاد اور طویل المعیاد دونوں ہی ہوتے ہیں ۔جنگلات تمام ماحولیاتی نظاموں کو سہارا دیتے ہیں اورزمین پر زیادہ تر نباتاتی اور حیواناتی حیات کا فطری مسکن ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر ہم نہ صرف ان بیش بہا وسیلے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ اس خدمت سے بھی محروم ہوجائیں گے جو یہ جنگل ہم انسانوں کو فراہم کرتے ہیں۔یہ بات شو رکی آلودگی میں بھی اضافہ کردے گی کیونکہ درخت مصروف شاہراہوں اور انسانی آبادیوں سے آوازیں جذب کرکے صوتی اور صوری پردوں کا کام انجام دیتے ہیں۔مختصرا یہ کہ جنگلات کی بربادی پانی اور کاربن کی گردش کودرہم برہم کردے گی اور اس طرح عالمی آب و ہوا بدل جائے گی اور کرہ حیات پر حیات کے لالے پڑ جائیں گے۔یاد رہے کہ 2050 تک دنیا بھر کے تقریبا ایک ارب افراد موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بے گھر ہو سکتے ہیں جس سے عالمی نوعیت کے سنگین مسائل جنم لیں گے۔

  ہمارے قدرتی وسائل اہم قومی سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔مثلا آزاد کشمیر اور دیر کوہستان کے جنگلات کو قابل استعمال ہونے میں سیکڑوں سال لگتے ہیں۔بلوچستان میں پائے جانے والے صنوبر کے جنگلات کی عمریں ہزاروں سالوں پر محیط ہیں۔یہ اگر ایک دفعہ ہم سے رخصت ہوگئے تو یقین جانیے کہ ہماری کئی نسلیں انہیں دیکھ نہیں سکیں گی۔یہ جنگلات ہماری مٹی کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت کے بھی نگہبان ہیں۔زرخیز مٹی کا پانی یا ہوا سے ضائع ہوجانا بھی کسی بڑے نقصان سے کم نہیں ہے کیونکہ مٹی قدرتی طور پر مختلف ماحولیاتی اثرات کے تحت ایک طویل جغرافیائی عمل سے گذر کر صدیوں میں تشکیل پاتی ہے۔

  جنگلات میں ہی نشوو نما پانے والے ایک اور اہم قدرت وسیلے یعنی ادویاتی پودوں کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ پاکستان میں دو ہزار سے زائد ادویاتی پودے پائےجاتے ہیں لیکن فرسودہ طریقوں اور قدرتی ماحول میں انسان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس وسیلے سے خاطر خواہ استفادے سے محروم کر دیتی ہیں۔

 ہمارے ملک میں الیکشن کا موسم ہے۔ آئے دن کسی نہ کسی پارٹی کا منشور منظر عام پر آرہا ہے لیکن ہمیں حیرت ہے کہ کسی کی بھی ترجیحات میں ماحول کا تحفظ یا کسی قدرتی وسیلے کی بحالی شامل نہیں ہے۔ شاید ان معزز لوگوں کے نزدیک یہ گھٹیا مسائل صرف غریبوں تک محدود ہیں۔لیکن شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ایک کرہ ارض کے باسی ہونے کے سبب ہر مسئلہ ان تک ضرور پہنچے گا اور متاثر کرے گا ، یہ الگ بات ہے کہ یہ ’بڑے لوگ‘ اپنی رہائش کے لیے کسی اور سیارے کا انتخاب کرلیں۔اگر واقعی کوئی لیڈر ہوتااور اس کے دل میں ملک و قوم کا درد ہوتا تووہ ضرور اس طرف توجہ دیتا۔ 2004 کا نوبل انعام حاصل کرنے والی افریقی ماہرماحولیات ونگاری ماتھائی ان سب کے لیے روشن مثال بن سکتی ہے۔1977 سے کام کا آغاز کرنے والی ماتھائی افریقہ کی پہلی پی ایچ ڈی خاتون بھی ہیں۔انہوں نے بے دریغ کٹائی کے خلاف اور تیزی سے کم ہوتے جنگلات کے تحفظ کے لیے ایک ’سبز تحریک‘(Green Movement)کا آغاز کیا۔ونگاری نے تیس سال کے عرصے میں کینیا میں تیس کروڑ درخت لگائے۔شاید پاکستان کو بھی ایک ونگاری ماتھائی کی ضرورت ہے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ کے حوالے سے کام کرنے والی ایک ویب سائٹ نے اپنا تجزیہ(CO2 foot print) پیش کیا ہے کہ ایک فرد جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے اسے 5 درخت لگا کر جذب کیا جسکتا ہے ، گویا ہر فرد پانچ درخت لگا کر فضا سے اپنے حصے کی کاربن ڈائی آکسائیڈ صاف کرسکتا ہے۔چلیے پانچ نہ سہی لیکن 16 کروڑ عوام ایک ایک درخت تو لگا ہی سکتے ہیں ۔۔۔


توآئیے کسی لیڈر کسی حکومت کا انتظار کیے بغیر ہم اپنے حصے کا کام کرجائیں۔

موسموں کی بے ترتیبی، کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟

کیوٹوپروٹوکول کے بعد نیا معاہدہ ، امریکا کا شمولیت سے انکار

آنے والے موسموں کے تغیرات ہمارے لیے مسائل کا ایک نیا در وا کررہے ہیں اور مسائل بھی ایسے کہ جن سے نمٹنا آسان نہیں ہے ۔گلوبل وارمنگ، گرین ہاؤس گیسی اثرات اورکلائمیٹ چینج جیسی اصطلاحات ماحول کے حوالے سے عام سنائی دے رہی ہیں ۔ابتدا میں ا ن مسائل کو عالمی مسائل سمجھا جاتا تھا لیکن تیزی سے بے ترتیب ہوتے موسموں نے ہمارے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔یہ طے ہے کہ کرہ ارض کے باسی ہونے کے باعث تمام مسائل ہم تک ضرور پہنچتے ہیں یا یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ قصور ہمارا ہو یا نہ ہو ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے سزا ہمیں ضرور بھگتنی ہوتی ہے خصوصا ایسی صورت میں جہاں ملک کے کرتا دھرتا لوگ صرف چین کی بانسری ہی بجانا جانتے ہیں ۔ ایک حکومت پانچ سال تک دودھ اور شہد کی نہریں( صرف زبانی دعووں کی حد تک) بہا کر رخصت ہوئی اور آئندہ حکومت بنانے کے لیے جبرکے اس موسم میں بھی سیاست داں الیکشن کی ریوڑیوں پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ان میں سے اکثر معزز لوگ شاید صرف نام کی حد تک موسموں کی بے ترتیبی(Climate change) اور بڑھتی ہوئی حدت (Global Warming) جیسے گمبھیر مسائل سے واقف ہوں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسائل اس وقت پوری دنیا میں ترجیہات کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔تمام ترقیاتی ممالک اس وقت Climate Change کے مسئلے پر انتہائی سنجیدگی سے سر جوڑے کام کررہے ہیں۔اور یہ بھی طے ہے کہ تمام شعبہ ہائے فکرکے ساتھ ساتھ جب تک سیاست داں اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے اس مسئلے کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوگی اور اس حوالے سے ہمیں اپنی کم مائیگی میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

 دسمبر کا پہلا عشرہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام Climate Change پرانڈونیشیا کے جزیرے بالی میں عالمی سطح کی ایک کانفرنس منعقد ہورہی ہے جہاں تقریبا190ممالک کے 10,000سے زائد وفود سر جوڑے بیٹھے ہیں۔اس کانفرنس کا اہم ترین ایجنڈاگلوبل وارمنگ ، اس کی وجوہات اور اس کے اثرات سے رونما ہونے والی موسموں کی بے ترتیبی کے ساتھ ساتھ کیوٹو پروٹوکول جیسے کسی نئے معاہدے کی تشکیل ہے۔ 1997 میں تشکیل دیا جانے والا معاہدہ کیوٹو پروٹوکول 2012 تک ختم ہوجائے گا۔

صنعتی ممالک کی چمنیوں سے خارج ہوتی خطرناک گیسوں کی روک تھام کے لئے جاپان کے شہر کیوٹو میں 1997 میں ایک معاہدہ کیوٹو پروٹوکول کا قیام عمل میں لایا گیاتھا۔ اس معاہدے کے تحت 2012 تک صنعتی ممالک کو ان گیسوں کے اخراج میں 5.2 فیصد تک کمی کرنا تھی۔ اس معاہدے پر سوائے امریکا کے سبھی ترقی یافتہ ملکوں نے دستخط کئے ہیں لیکن امریکا نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ امریکا کے اس اقدام سے یورپی ممالک اور ماہرین سخت نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا سب سے زیادہ ان گیسوں کی پیداوار کا ذمہ دار ہے لہٰذا تحفظ ماحول کے ا قدامات میں بھی اسے ہی سب سے زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔یوں بھی امریکا جیسے صنعتی ترقی یافتہ ملک کے تعاون کے بغیر ماحولیاتی مسائل پر قابو پانا ناممکن ہے۔حالیہ بالی کانفرنس کا ایک اہم ایجنڈا کیوٹو پروٹوکول کے بعد تشکیل دیے جانے والے معاہدے میں امریکا کو بھی شامل کرنا ہے۔

انڈونیشیا اس عالمی کانفرنس کا میزبان ہے جہاں لاکھوں افراد موجود ہوں گے اوراندازہ ہے کہ ان کی آمد و رفت سے 50,000 ہزار ٹن گرین ہاؤس گیسیس پیدا ہوں گی لہذا ان گیسوں کے انجذاب کے لیے لاکھوں پودے اور درخت لگائے گئے ہیں۔شاید وقت سے سبق سیکھنا اسی کو کہتے ہیں، یاد رہے کہ انڈونیشیا میں 2004دسمبرمیں سونامی نے تباہی مچائی تھی اور اس کا ایک سبب ماہرین ساحلی جنگلات کی کٹائی اور ہ فطری ماحولیاتی نظام میں حد سے زیادہ انسانی مداخلت قرار دے رہے تھے۔

ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق دنیا کی کل آمدنی کا 65% حصہ ان صنعتی ممالک کے پاس ہے ، جب کہ پوری دنیا میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا کل 45% حصہ ان ہی صنعتی ممالک کی چمنیوں سے خارج ہوتا ہے۔

 زمینی درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کے عمل کو Global Warming کہا جاتا ہے جو عموما گرین ہاؤس گیس اثرات کے باعث رونما ہوتا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات سے ہمارے موسم بے ترتیب ہورہے ہیں جس کے سبب پہاڑوں اور گلیشیر کی صورت میں صدیوں سے جمی برف پگھلنے لگے گی۔ سمندروں کی سطح بڑھ جائے گی۔ سیلاب اور سمندری طوفان رونما ہوں گے اور نشیبی سطح پر واقع ممالک اور جزیرے غرق آب ہوجائیں گے۔ موسموں کی ترتیب بگڑنے سے زراعت کی تباہی اور خوراک میں کمی واقع ہوگی۔ درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کے اضافے کے ساتھ حیاتی انواع کو اپنی بقا کے لیے قطبین کی طرف 90 کلو میٹر قریب ہونا پڑے گا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا اور حالات سے مطابقت نہ کرپانے کے سبب پودے اور بالآخر ان پر انحصار کرنے والی تمام انواع معدوم ہونا شروع ہو جائیں گی ، ماحولیاتی نظام اور فطری مساکن تباہی کے قریب ہوں گے۔

  اس سال کے آغاز پر ماہرین ماحولیات کی یہ رپورٹ یقینا دنیا بھر کے لیے غور طلب تھی کہ رواں سال گرم ترین سال ثابت ہوگا۔برطانیہ کے محکمہ مو سمیات اور ایسٹ اینجلیا یونیوسٹی کے تعاون سے کی گئی اس تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہورہا تھا کہ اس سال درجہ حرارت میں اور اضافہ ہوگا اور امکان ہے کہ یہ سال پچھلے کئی سالوں سے زیادہ گرم رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحر الکاہل میں بعض خاص تبدیلیوں(El- Nino)  کے سبب اس سال کرہ ارض پر درجہ حرارت بڑھے گا اور اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ اس برس 1998 سے بھی زیادہ گرمی پڑے گی۔ اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 2006 میں اوسطا برطانیہ میں پہلے سے کہیں زیادہ گرمی تھی اور 1914ء، جب سے درجہ حرارت کے ریکارڈ کا سلسلہ شروع ہوا ہے کبھی اتنی گرمی نہیں ہوئی تھی۔

 یہ موسم یک بیک اتنے بے ترتیب کیسے ہو چلے ؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حالات کو اس نہج تک پہنچنے میں ایک عرصہ لگا ہے۔ یہ طے ہے کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں ، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ سو یہ حادثہ بھی کئی دہائیوں کی بے پروائیوں اور غفلت سے رقم ہوا ہے ۔ حضرت انسان نے خود کو عقل کل سمجھ کرایک طرف تو فطرت کے قوانین میں دخل اندازی شروع کردی اور دوسری جانب نام نہاد ترقی سے اپنے موت کے پروانے پر خود دستخط کرنا شروع کردیا۔


 پچھلی صدی کی آخری تین دہائیوں سے ماہرین نے لوگوںکو خبردار کرنا شروع کر دیا تھا لیکن اس وقت شاید دنیا والوں کے لئے یہ نئی اور انہونی باتیں تھیں جنہیں وہ سمجھنے کے لئے تیار نہ تھے لیکن جب الگور کے ساتھ نوبل انعام یافتہ اقوام متحدہ کے انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) نے موسمیاتی تغیر (Climate Change) پر اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی تو جیسے دنیا کے ہر حصے میں ہلچل سی مچ گئی۔ اپریل 2007 میں جاری کردہ 1500 صفحات کی یہ ضخیم رپورٹ 100 ممالک کے 2000 سائنس دانوں کی شب و روز محنت کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر مناسب صنعتی سرگرمیوں سے فضا میں خطرناک گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تناسب بڑھ رہا ہے اور ا س کے نتیجے میں زمین کے درجہ ءحرارت میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔ 1990 سے جاری یہ اضافہ اگر 1.5 سے 2.5 سیلسیس تک جا پہنچا تو دنیا تباہی کے خوفناک منظر دیکھے گی۔ سیلاب، سمندری طوفان، خشک سالی اور قحط جیسے عذاب انسان کا مقدر بن جائیں گے اور زمین پر موجود 30 فیصد انواع صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ ”30 فیصد انواع کا معدوم ہونا“ کیا معنی رکھتا ہے کاش اس کی سنگینی کو ہم سمجھ سکتے۔ کسی ایک نوع کے بھی مٹنے سے فطرت کی اربوں سالہ محنت تو برباد ہوتی ہی ہے لیکن اس سے کہیں بڑا نقصان زندگی کی زنجیر میں سے ایک کڑی کا ٹوٹ جانا ٹھہرتا ہے۔ اب ذرا غور کیجئے کہ اس زنجیر کی 30فیصد کڑیوں کو باہر نکال کر پھینک دیا جائے تو اس زنجیر کا کیا حال ہو گا؟

 یہ رپورٹ دو ٹوک انداز میں اس کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ فضا کو آلودہ کرنے میں سب سے زیادہ امریکا کا ہاتھ ہے۔ ان خطرناک گیسوں کا 38 فیصد حصہ امریکا ہی کی چمنیوں سے نکلتا ہے لیکن ایک طاقتور اور وسائل سے مالا مال ملک ہونے کے ناتے وہ ان خطرات کا با آسانی مقابلہ کر سکتا ہے۔اصل مسئلہ تو غریب ممالک کا ہے۔جن کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ تیکنیکی مہارت۔

آج آلودگی کو دنیا کا ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے ۔دنیا سے آلودگی کے خاتمے کے لیے ”پیسے “ کی ضرورت ہے جبکہ ہمارا یہ خیال ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ ”پیسہ“حاصل کرنے کی ہوس ہی ہے جس نے تمام آلودگی کو جنم دیا۔ایک ایسافطری طرز زندگی اپنانا جو کرہ ارض کے لیے نقصان دہ نہ ہو اتنا آسان نہیں ہے لیکن اب اس کے بنا چارہ بھی نہیں ہے۔

غیر محتاط صنعتی سرگرمیوں سے فضا گرین ہاؤس گیسوں سے کس قدر آلودہ ہے اس کے لیے امریکا ہی کی ایک ریسرچ کے نتائج دیکھیئے ۔ہوائی کے جزائر میں قائم ایک امریکی اسٹیشن نے جس کی پیمائش سب سے مستند سمجھی جاتی ہے، بتایا کہ گذشتہ50 برس میں کاربن ڈائی آکسائیڈکی مقدار میں 25 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور یہ متواتر بڑھ رہا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق اس گیس کی سطح کاحجم 378 حصہ فی ملین ہوچکا ہے، جو1750ءکی سطح کے مقابلے میں100حصہ زیادہ ہے۔کیوٹو پروٹوکول کی اکثر شقوں کو دیگر صنعتی ممالک ماننے کے لیے تیار تھے مگرامریکی صدر نے نہایت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ماننے سے انکار کردیا ۔امریکا اور چین جیسی بڑی طاقتوں کے تعاون کے بغیر ماحولیاتی مسائل پر قابو پانا نا ممکن ہے۔

فضا میں مضر گیسوں کے کم کرنے کے معاہدے کیوٹو پروٹوکول کا مقصد دراصل ایسے طریقہ ءکار کی تلاش ہے جس کی مدد سے گرین ہاؤس گیسوں کو قابو میں رکھا جائے۔ ان خطرناک گیسوں میں سرفہرست کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔

کیوٹو پروٹوکول کے تحت کاربن ڈائی آکسائیڈ گھٹانے کے لئے ایک طریقہ کار Clean Development Mechanism (CDM) وضع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایسے ترقی یافتہ ممالک جو خطرناک گیسوں میں کمی کے حوالے سے اپنے ملک میں کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھاسکے اور اپنے متعین کردہ اہداف تک نہیں پہنچ سکے وہ کسی بھی ترقی پذیر ملک میں ماحول دوست سرگرمیاں انجام دے کر نتائج کو اپنے اہداف میں شامل کر سکتے ہیں۔ گویا وہ تحفظ ماحول کے حوالے سے غریب ملکوں میں سرمایہ کاری بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بات تو اب طے شدہ ہے کہ ماحولیاتی بگاڑ کے ذمے دار صرف اور صرف ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ فضائی آلودگی، گرین ہاؤس گیس اثرات، موسموں کے بے ترتیبی اور اوزون کی تہہ میں شگاف جیسے سنگین جرائم میں پاکستان جیسے غریب ملک کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ عالمی موسموں کی ہر تبدیلی ہم تک ضرور پہنچے گی بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ ہم ان آفات سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوں گے کیوں کہ ان سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس وسائل ہیں اور نہ تکنیکی مہارت۔

درجہ ءحرارت کے بڑھنے سے پاکستان کے لے پہلا خطرہ ہمالیائی گلیشیئرز ثابت ہوں گے۔ ان گلیشیئرز سے دنیا کے کئی بڑے دریا مثلاً دریائے سندھ، گنگا، برہم پترا، سلوین، میکا ونگ، یانگ ژی اور زرد دریا نکلتے ہیں جن کا پانی پاکستان، بھارت، چین اور نیپال میں زندگی کو رواں دواں رکھنے کا باعث ہے۔ گرمی کے بڑھنے سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھلیں گے (اوسطاً 10 تا 15میٹر سالانہ) اور ان دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گی جس سے کناروں پر آباد لاکھوں افراد کو سیلاب کا سامنا ہو گا۔ کچھ عرصے بعد جب پانی کم ہو جائے گا تو یہی ممالک خشک سالی کا عذاب سہیں گے۔ زراعت تباہی سے دوچار ہو گی، قحط پھیلے گا اور ان غریب ممالک پر افلاس کے سائے اور گہرے ہو جائیں گے۔ یہ وہ کم از کم خطرات ہیں جو کسی ناکردہ جرم کی سزا کے طور پر پاکستان کو بھی بھگتنا ہوں گے۔کسی بھی ملک کا ماحول تباہ ہونے کا مطلب اس کی معیشت اور سماجیات کی بھی تباہی ہے۔ماہرین کے مطابق ایشیا اور افریقہ خصوصا اس کا شکار ہیں ۔خوراک کی کمی بالآخر قحط کی صورت اختیار کر لے گی۔زرعی ملک ہونے کے ناطے گرم موسم پاکستان کی زراعت کو متاثر کر رہے ہیں۔سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ہمارے ساحل متاثر ہوں گے جس سے ساحلوں پر آباد لاکھوں افراد بے گھر ہوں گے۔سمندری خوراک کی ایکسپورٹ متاثر ہوگی جس سے ہماری معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔بنگلہ دیش کا حالیہ طوفان اس کی مثال ہے ۔سینٹر فار ایڈوانس اسٹڈیز کے مظہرالاسلام کا کہنا ہے کہ حالیہ طوفان گلوبل وارمنگ ہی کا نتیجہ ہے جس کے نتیجے میں 3,400 لوگ ہلاک ، سیکڑوں لاپتا اور 350,000 بے گھر ہوئے۔اس وقت تمام ممالک کی ضرورت ہے کہ وہ تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے ان بدلتے موسموں سے خود کو ہم آہنگ کرلیں اور محفوظ کرلیں۔لیکن غریب ممالک کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہے اور نہ ہی وہ تکنیکی طور پر اتنے مضبوط ہوتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے بڑی بڑی کانفرنسوں میں رقوم مختص کی جاتی ہیں لیکن یہ مدد ایسی ہی ہوتی جیسے کے اونٹ کے منہ میں زیرہ۔ بین الاقوامی امدادی ایجنسی آکسفیم کا کہنا ہے کہ یہ امداد غریب ممالک کی توہین کے برابر ہے لہذا حالیہ بالی کانفرنس میں اس پر نظر ثانی کی جائے۔اس حوالے سے ایک مثبت قدم کے طور پرریاض میں منعقد  OPEC سمٹ میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے گلوبل وارمنگ کے مسائل سے نمٹنے اور تکنیکی مہارت کے حصول کے لیے 300 ملین ڈالرز کا فنڈ مختص کیا ہے۔ امید ہے کہ دیگر اسلامی ممالک جہاں قدرت نے تیل کے چشمے بہادیے ہیں اپنی کچھ دولت اس اہم مسئلے کے حل کے لیے بھی استعمال کریں گے۔

دنیا میں غربت اور عالمی سطح پر موجود عدم مساوات کو حل کیے بغیر ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ کیونکہ صنعتی ممالک کے اپنائے گئے ترقیاتی اہداف بہت سے ماحولیاتی وسائل پر بے پناہ بوجھ کا سبب بنتے ہیں۔آزاد تجارت میں تیزی کے باعث 10سال کے عرصے میں دنیا 10فیصد جنگلات سے محروم ہوئی اور امیر ممالک کی چمنیوں سے نکلتی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ نے فضا کو مزید33 فیصد آلودہ کیا۔22 امیر ممالک اپنی صنعتوں کو ہزار ملین ڈالرز سالانہ چھوٹ فراہم کرتے ہیں جس میں ماحول میں خطرناک گیسوں کا اضافہ کرنے والی صنعتوں کو57 بلین ڈالرز دیے جاتے ہیں۔یہ رقم حیرت انگیز طور پر اس رقم کے مساوی ہے جو عالمی سطح پر ان گیسوں کی مقدار پر قابو پانے کے لیے درکار ہے۔آزاد معاشی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر غربت اور ماحولیاتی تباہ کاری کاعمل تیز تر ہوگیا ہے۔عام طور پر تجارت کی آزادی کو ماحول کے لیے نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے۔اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ زیادہ بین الاقوامی تجارت کے معنی زیادہ ہوائی ، سمندری اور زمینی مواصلاتی ذرائع کا استعمال ہے۔

آزاد تجارت کے نظریات کے پیچھے بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں، عالمی اداروںاور معاشی و فوجی طور پر طاقتور سرمایہ دار ممالک کا ہاتھ ہے۔خاص طور پر امریکا ، اسی لیے گلوبلائزیشن کا دوسرا نام سامراجیت ہے۔بڑے مالیاتی ادارے اپنے قرضہ جات کا50 فیصد نجی کمپنیوں کو دیتہ ہیں جن کا تعلق G-8 کے ممالک سے ہے۔امریکا اوزون کو نقصان پہنچانے والی مجموعی گیسوں کا تیسرا حصہ پیدا کرتا ہے ۔وہ نہ صرف ان گیسوں میں مسلسل اضافہ کررہا ہے بلکہ کیوٹو پروٹوکول سے انکار کرکے پوری انسانیت کی بقا کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

چند اصلاحات کی عام فہم تشریح:

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ  ( Global Warming)

زمینی درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کے عمل کو Global Warming کہا جاتا ہے جو عموما گرین ہاؤس گیس اثرات کے باعث رونما ہوتا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت دنیا کو مشکل میں ڈا ل رہا ہے۔اس سے پہاڑوں اور گلیشیر کی صورت جمی برف پگھلنے لگی گی۔ سمندروں کی سطح بڑھ جائے گی۔ سیلاب اور سمندری طوفان رونما ہوں گے اور نشیبی سطح پر واقع ممالک اور جزیرے غرق آب ہوجائیں گے۔ موسموں کی ترتیب سب گڑ بڑ ہوجائے گی۔ زراعت کی تباہی سے خوراک میں کمی ہوگی۔ درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کے اضافے کے ساتھ حیاتی انواع کو اپنی بقا کے لیے قطبین کی طرف 90 کلو میٹر قریب ہونا پڑے گا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا اور حالات سے مطابقت نہ کرپانے کے سبب پودے اور بالآخر ان پر انحصار کرنے والی تمام انواع معدوم ہونا شروع ہو جائیں گی ، ماحولیاتی نظام اور فطری مساکن تباہی کے قریب ہوں گے۔

 گرین ہاؤس اثرات اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ

 زمین دن میں سورج سے حرارت جذب کرتی ہے اور رات میں اس حرارت کا کچھ حصہ خلا میں واپس چھوڑ کر ٹھنڈی ہوجاتی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے یہ حرارت آزاد نہ ہوسکے تو زمینی درجہ حرارت بتدریج بڑھ جائے گا۔ 1972 میں تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری گیسیں مثلا میتھین ، کلوروفلورو کاربنز ،  نائٹرس آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ حرارت کو روک لیتی ہیں اور اسے خلا میں واپس نہیں جانے دیتیں۔ یہ گیسیں اس طرح کام کرتی ہیں جیسے کسی گرین ہاؤس میں شیشہ کام کرتا ہے کہ وہ حرارت کو داخل تو ہونے دیتا ہے لیکن تھوڑی حرارت کو روک لیتا ہے اور گرین ہاؤس سے باہر نکلنے نہیں دیتا۔ یہ گیسیں زمین پر زندگی کے لیے مطلوبہ حرارت کو باقی رکھنے میں ایک حیات بخش کردار انجام دیتی ہیں۔لیکن اب کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کوئلے اور کنجوری ایندھن کے بے تحاشہ جلانے کی وجہ سے فضامیں داخل ہورہی ہے۔جنگلوں کا تیزی سے گھٹتا ہوا حفاظتی پردہ کرہ ارض میں اس صورت حال کو مزیدخراب کر رہا ہے۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن کو ریلیز کرتے ہیں۔ درختوں کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی خاصی مقدار جذب نہیں ہوسکے گی اور فضا میں موجود رہے گی ۔ یہ گرین ہاؤس گیسیں جو ایک دبیز کمبل کی طرح فضا کو ڈھانپے ہوئے ہیں اس عمل کی ذمے دار ہیں جو گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے۔

تیزابی بارش

 تیزابی بارش اس وقت ہوتی ہے جب جلتے ہوئے کنجوری ایندھن سے (Fossil Fuel)  سے خارج شدہ سلفر اور نائٹروجن ، سورج کی روشنی  ماحول میں موجود آکسیجن اور پانی کے بخارات کے ساتھ مل کر بارش بناتی ہے ۔ ماہیت کے اعتبارے یہ بارش تیزابی ہوتی ہے۔یوں سمجھ لیجیے کہ سلفیورک اور نائٹرک ایسڈ کا پتلا شوربہ ہوتا ہے۔کچھ گنجان صنعتی یافتہ علاقوں میں ، فضا کے اندر ہائیڈروجن گیسیں ہائیڈروکلورک ایسڈ پیدا کرتی ہیں جو تیزابی بارش کاجزو ترکیبی بھی بن سکتی ہیں۔فضا کے ذریعے یہ آمیزہ بارش ، برف یا خشک ذرات کی شکل میں میٹھے پانی اور زراعتی زمین کی تیزابیت میں اضافہ کردیتا ہے۔

تیزابی بارش جھیلوں ، چشموں اور آبی ذخائر کی تیزابیت میں اضافہ کرتی ہے اور آبی حیات کے لیے شدید خطرے کا باعث ہے۔
تیزابی بارش بنیادوں میں دراڑیں ڈال کر عمارت کو کم زور اور غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ قدیم تاریخی یادگاریں اور عمارات جو تیزابی بارش کی زد میں آجاتے ہیں شکستہ ہوجاتے ہیں انڈیا میں تاج محل اس کی مثال ہے۔جس کا خوبصورت سنگ مر مر اب پیلا پڑ چکا ہے۔
تیزابی بارش بچوں اور بوڑھے افراد کے لیے تنفس کے مسائل اور فضا میں گندھک کی بہت زیادہ مقدار آنکھوں ، دانتوں اور جلد کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

اوزون کی تہہ

ہمارا فضائی ماحول مختلف اور متعدد سطحوں پر منقسم ہے ۔ زمین کی بالائی فضا میں ان ہی مختلف تہوں کے مابین 10سے 50 کلو میٹر کے درمیانی فاصلے پر اوزون گیس پر مشتمل تہہ واقع ہے۔ درحقیقت اوزون مالیکیول آکسیجن کے تین ایٹموں کے باہم ملنے سے بنتے ہیں جبکہ ہماری سانس لینے والی آکسیجن مخصوص دو ایٹموں کا مرکب ہے۔

آکسیجن کے مخصوص فارمولے سے تخلیق پانے والی یہ فضائی چھتری اپنے اہم کردار کے باعث کرہ ارض پر آباد ہر ذی حیات کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام انجام دیتی ہے۔ اس کے منفرد اجزائے ترکیبی میں یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ سورج سے خارج ہونے والی مضر صحت شعاعوں خصوصا الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی جذب کرکے غیر موثر بنادیں۔ سورج جہاں ہمارے لیے روشنی اور حرارت کا ایک بے پناہ وسیلہ ہے وہیں اس کی ضرر رساں شعاعیں جان دار مخلوق کے لیے انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہےں۔ ان شعاعوں سے بہت سی بیماریاں ، جلدی سرطان ، بینائی کا زیاں وغیرہ ہوتا ہے۔ یہ شعاعیں DNA کو تہہ و بالا کرتی ہیں۔


صنعتی ترقی نے جہاں آسانیاں پیدا کیں وہیں بے شمار ماحولیاتی مسائل نے جنم لیا۔ صنعتوں میں استعمال ہونے والی کلورو فلورو کاربنزیعنی  CFCs جن سے کلورین مونو آکسائیڈ پر مشتمل گیس خارج ہوتی ہے جو اوزون کے لیے انتہائی مہلک ہے۔ کلورین کے سالمے بہت زیادہ متعامل ہوتے ہیں اور بہت جلد تین ایٹموں پر مشتمل اوزون کو علیحدہ کرکے دوایٹمی آکسیجن کی شکل دے دیتے ہیں۔لہذا اب ایسی اشیا کو فروغ دیا جارہا ہے جس میں CFCs کا استعمال نہ ہو۔ اوون کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک معاہدہ ”مانٹریال پروٹوکول “ تشکیل دیا گیا۔

Friday, August 3, 2007

ماحول کے تحفظ کے ساٹھ سال


ایک احساس جو دھیرے دھیرے عالمی تحریک بنتا جارہا ہے

 روز و شب کی تسبیح کے دانے شمار ہوتے چلے جارہے ہیں،گنتی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ساٹھ سال ! عمر کی نقدی سمجھو کہ ختم ہونے کو ہے اور وقت کی ریت ہے کہ بند مٹھی سے دھیرے دھیرے بے آواز پھسلتی جارہی ہے۔۔۔ لیکن یہ ساٹھ سال اگر کسی ملک کی عمر کے ہوں تو شاید اتنے زیادہ نہ مانے جاتے ہوں بہرحال یہ ایک طویل عرصہ ضرور ہے ۔ وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے ساٹھ سال ہوچلے ہیں۔کھونے اور پانے کی ایک طویل کہانی ہے جو قوم کو ازبر ہوگی ۔2007 کا سال ایک سیاسی انتشار اور بے چینی کے ساتھ خاتمے کی طرف رواں دواں ہے لیکن کچھ اچھے واقعات بھی اس سال کے دامن پر نقش ہیں ان میں سر فہرست عدلیہ کی سربلندی ہے ۔پاکستان اور خصوصاکراچی کے وہ شہری جو آئے دن ماحولیاتی حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں اب اپنی فریاد لےکر عدالت میں جاسکتے ہیں اوریہ امید بھی بندھ چلی ہے کہ شاید اب انہیں انصاف مل سکے۔

 پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ماحول کے تحفظ کا احساس 70کی دہائی میں جاگا اور دنیا اس جانب سنجیدگی سے متوجہ ہوئی۔

 قیام پاکستان کے بعد اولین دنوں میں ماحول کے بارے میں معلومات کے حصول کا واحد ذریعہ صرف برطانوی گزیٹیر تھے۔ ان کے علاوہ شعبہ جنگلی حیات اور جنگلات کے کتب خانے سے بھی مدد مل سکتی تھی ۔ دیکھا جائے تواس وقت بھی بہت سے لوگ اس حوالے سے مصروف عمل تھے ان میں کچھ غیر ملکی اور کچھ پاکستانیوں کا کام بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ جارج شیلر کی کتاب ” اسٹونز آف سائلنس“کو آپ کسی صورت نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ یہ کتاب جنگلات اور جنگلی حیات کو ہماری بے پروائی سے پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں بتاتی ہے۔گائے ماؤنٹ فورٹ کی تحریریں پاکستان کے مختلف ماحولیاتی نظاموں کے بارے میں معلومات کاخزانہ ہیں ۔ فورٹ اور شیلردونوں کے کام نے پاکستان میں نیشنل پارکس کے قیام کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد ٹام رابرٹ ہیں جنہوں نے پاکستان کے ممالیہ اور پرندوں کے بارے میں درجہ بندی کرکے ان سے متعلق تمام معلومات کو یکجا کیا۔سمجھ لیجیے کہ یہ پاکستان میں ماحول کے حوالے سے پہلا تحقیقی کام تھا۔پاکستان میں موجود دنیا کی نایاب تتلیوں کے بارے میں بھی رابرٹ کاکام سند کی حیثیت رکھتا ہے ۔

اس حوالے سے کچھ پاکستانیوں کے نام بھی نمایاں ہیں۔ پاکستان میں جنگلی حیات سے متعلق پہلی قانون سازی صوبہ سندھ نے 1972 میں کی۔ اس عمل میں جناب ڈبلیو اے کرمانی پیش پیش تھے۔ کرمانی صاحب کی دور اندیشی نے جنگلی حیات کے لیے محفوظ علاقوں کا ایک سلسلہ قائم کرنے کے لیے بنیاد فراہم کی ۔ اس میں سمندری کچھووں کے تحفط کا منصوبہ بھی شامل ہے ۔ فہمیدہ اسرار کا نام بھی کچھووں کے تحفظ کے حوالے سے ملک بھر میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ فہمیدہ صاحبہ نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ کچھووں کے تحفط کے لیے ساحلوں پر گزارا ہے ۔ماحولیاتی تاریخ میں ان سب کا نام سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا ۔

 ماحول سے متعلق ہماری معلومات شاید صرف چرند پرند اور جنگلات کے تحفظ تک ہی محدود رہتیں اگر 1972 میں سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں کانفرنس برائے انسانی ترقی اور ماحول نہ منعقد ہوتی۔ اس کانفرنس نے ماحول کو سائنس دانوں کے خشک اور پیچیدہ زبان مقالوں سے نکال کر انسانی زندگی کے اہم ترین عنصر کے طور پر پیش کیا۔ اس کانفرنس ہی کا اثر تھا کہ 1980میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ، ڈبلیو ڈبلیو ایف اورآئی یو سی این کی مشترکہ کاوشوں سے تحفظ ماحول کی عالمی حکمت عملیWorld Conservation Strategy دنیا کے سامنے آئی اور یوں ماحول کا شعبہ پہلی بار چند سائنس دانوں کی اجارہ داری سے نکل کر نوع انسانی کی بھلائی سے منسلک ہوگیا۔اس عالمی حکمت عملی کے بعد دنیا کے تمام ممالک کو کہا گیا کہ وہ اپنے ملک کے لیے قومی حکمت عملی تیار کریں ، پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا۔ لہذا اگر ہم پاکستان میں ماحولیاتی تحریک کا جائزہ لیں تو پہلا سنگ میل یہی قومی حکمت عملی نظر آتی ہے۔پاکستان کی قومی حکمت عملی NCSکی تیاری میں چند ایسے اصولوں کو اپنایا گیا جو پاکستان کے لیے انوکھے تھے مثلا ترقی کے عمل کو بجائے شعبہ جاتی تقسیم کے ایک مربوط عمل کے طور پر سامنے لایا گیامثلا زراعت کو صرف محکمہ زراعت یا کسانوں کی ذمے داری نہیں بلکہ متعلقہ تمام شعبوں مثلا آبی وسائل ، زمین، صارفین وغیرہ کی ذمے داری کے طور پر پیش کیا گیا۔عوامی مشاورت کو پہلی بار ایک بھر پور انداز سے ترقی کے عمل کا اہم ترین جزو مانا گیا۔وفاقی کابینہ نے اس حکمت عملی کو 1992میں منظور کیا۔قومی حکمت عملی کے بعد اگلے قدم کے طور پر صوبائی اور ضلعی حکمت عملیوں کی تیاری کا کام جاری ہے ، سرحد اور بلوچستان کی حکمت عملیاں تیار ہوچکی ہیں جبکہ سندھ میں اس حوالے سے کام جاری ہے ۔

 اسی ماحولیاتی تحریک کا دوسرا اہم موڑ1997 میں آیا جب پاکستان میں ماحولیاتی قانون سازی اور اس کا نفاذ ہوا۔اس کے بعد1999میں پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ مجریہ1997کی دفعہ20 کے تحت ملک میں ماحولیاتی مقدمات اور مسائل کو نمٹانے کے لیے ابتدائی طور پر تین ماحولیاتی ٹریبونل قائم کیے گئے ، ان میں سے دو کراچی میں اور ایک لاہور میں قائم کیا گیا۔

 وفاقی کابینہ نے ملک کی پہلی قومی ماحولیاتی پالیسی کی2005 میں منظوری دی۔حکومتی بیان کے مطابق اس پالیسی کے نفاذ کے لیے 171رہنما خطوط وضع کیے گئے جن میں سے تقریبا چالیس فیصد رہنما خطوط پر پہلے ہی عمل درآمد ہوچکا ہے ۔

 پاکستان بہت سے عالمی معاہدوں میں بھی شامل ہے جن میں آب گاہوں کے تحفظ کا معاہدہ ”رامسر کنونشن“ ،جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کا معاہدہ ”سائٹیز“،حیاتیاتی تنوع کا میثاق، سمندروں اور صحراؤں سے متعلق معاہدہ اور بدلتے موسموں اور مضر گیسوں کی روک تھام کا معاہدہ قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں کے حوالے سے ڈھیروں دستاویزات بھی منظر عام پر آچکی ہیں جن میں بائیوڈائیورسٹی ایکشن پلان اور ویٹ لینڈ ایکشن پلان وغیرہ اہم ہیں ۔

 یہ تمام اقدامات ، دستاویزاور قوانین ہمارے ملک کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتے تھے اگر ان پر سنجیدگی اور ایمان داری سے عمل درآمد کیا جاتا ۔لیکن گھٹتے ہوئے وسائل اور آلودگی کی بڑھتی ہوئی صورت حال آج کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ اکنامک سروے آف پاکستان 2005-06کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق ماحول کی تباہی سے معیشت کوسالانہ 2.2 ارب ڈالر سالانہ نقصان پہنچ رہا ہے۔فضائی آلودگی سے ہر سال بائیس ہزار افراد موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور ہزاروں سیاہ پھیپھڑوں کے ساتھ زندگی کے نام پر ایک سزا کاٹتے ہیں ۔پینے کا صاف پانی جو انسانی کی بنیادی ضرورت اور اس کا آئینی حق ہے، کے نام پر لوگ خصوصا غریب افرادآلودہ اور گٹروں کا پانی پی کرجان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ PCSIR ہمارے ملک کا ایک معتبر سائنسی ادارہ ہے کی ایک رپورٹ پانی کی شدید آلودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس کے مطابق کراچی ، لاہور ،اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں جو پانی پینے کے لیے استعمال ہورہا ہے اس کا 75 فیصد حصہ پینے کے لیے مضر بلکہ ناقابل استعمال ہے۔مذکورہ ادارے نے پانی کے یہ نمونے ان شہروں کے مختلف اسکولوں سے حاصل کیے تھے۔

  مہنگائی کا وہ طوفان ہے کہ الامان الحفیظ !مہنگائی کے اس بڑھتے ہوئے طوفان میں اگر کوئی چیز سستی ہے تو وہ ہے انسانی جان بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ غریب کی جان۔ ٹریفک حادثات ہوں یا اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غفلت، ملاوٹ شدہ غذا ہو یا آلودہ پانی۔ وجہ کچھ بھی ہو اس سے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی یہ وہ تیر ہیں جن کا ہدف صرف اور صرف غریب انسان ہی بنتے ہیں۔ ان جانوں کی نہ کوئی اہمیت ہے اور نہ کوئی قدرو قیمت، اس کے لیے نہ کوئی ذمے دار ٹھہرتا ہے اور نہ ہی کوئی خوں بہا دینا پڑتا ہے، گویا۔۔۔۔۔

          یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

 آگہی شاید ایک عذاب ہی ہے ،اس ساری صورت حال میں انسان کتنا مایوس اور دل شکستہ ہوسکتا ہے اس کا تذکرہ غیر ضروری ہے لیکن چونکہ مایوسی گناہ ہے اس لیے کچھ امیدیں دل کے کسی کونے میں آج بھی سر اٹھاتی ہیں کہ شاید ہماری آج کی آزاد عدلیہ کا اگلا سوموٹو ایکشن ماحول کی تباہی کے خلاف ہو!
قوم کوساٹھ واں جشن آزادی مبارک ہو!