Tuesday, October 23, 2007

موسموں کی بے ترتیبی، کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟

کیوٹوپروٹوکول کے بعد نیا معاہدہ ، امریکا کا شمولیت سے انکار

آنے والے موسموں کے تغیرات ہمارے لیے مسائل کا ایک نیا در وا کررہے ہیں اور مسائل بھی ایسے کہ جن سے نمٹنا آسان نہیں ہے ۔گلوبل وارمنگ، گرین ہاؤس گیسی اثرات اورکلائمیٹ چینج جیسی اصطلاحات ماحول کے حوالے سے عام سنائی دے رہی ہیں ۔ابتدا میں ا ن مسائل کو عالمی مسائل سمجھا جاتا تھا لیکن تیزی سے بے ترتیب ہوتے موسموں نے ہمارے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔یہ طے ہے کہ کرہ ارض کے باسی ہونے کے باعث تمام مسائل ہم تک ضرور پہنچتے ہیں یا یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ قصور ہمارا ہو یا نہ ہو ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے سزا ہمیں ضرور بھگتنی ہوتی ہے خصوصا ایسی صورت میں جہاں ملک کے کرتا دھرتا لوگ صرف چین کی بانسری ہی بجانا جانتے ہیں ۔ ایک حکومت پانچ سال تک دودھ اور شہد کی نہریں( صرف زبانی دعووں کی حد تک) بہا کر رخصت ہوئی اور آئندہ حکومت بنانے کے لیے جبرکے اس موسم میں بھی سیاست داں الیکشن کی ریوڑیوں پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ان میں سے اکثر معزز لوگ شاید صرف نام کی حد تک موسموں کی بے ترتیبی(Climate change) اور بڑھتی ہوئی حدت (Global Warming) جیسے گمبھیر مسائل سے واقف ہوں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسائل اس وقت پوری دنیا میں ترجیہات کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔تمام ترقیاتی ممالک اس وقت Climate Change کے مسئلے پر انتہائی سنجیدگی سے سر جوڑے کام کررہے ہیں۔اور یہ بھی طے ہے کہ تمام شعبہ ہائے فکرکے ساتھ ساتھ جب تک سیاست داں اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے اس مسئلے کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوگی اور اس حوالے سے ہمیں اپنی کم مائیگی میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

 دسمبر کا پہلا عشرہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام Climate Change پرانڈونیشیا کے جزیرے بالی میں عالمی سطح کی ایک کانفرنس منعقد ہورہی ہے جہاں تقریبا190ممالک کے 10,000سے زائد وفود سر جوڑے بیٹھے ہیں۔اس کانفرنس کا اہم ترین ایجنڈاگلوبل وارمنگ ، اس کی وجوہات اور اس کے اثرات سے رونما ہونے والی موسموں کی بے ترتیبی کے ساتھ ساتھ کیوٹو پروٹوکول جیسے کسی نئے معاہدے کی تشکیل ہے۔ 1997 میں تشکیل دیا جانے والا معاہدہ کیوٹو پروٹوکول 2012 تک ختم ہوجائے گا۔

صنعتی ممالک کی چمنیوں سے خارج ہوتی خطرناک گیسوں کی روک تھام کے لئے جاپان کے شہر کیوٹو میں 1997 میں ایک معاہدہ کیوٹو پروٹوکول کا قیام عمل میں لایا گیاتھا۔ اس معاہدے کے تحت 2012 تک صنعتی ممالک کو ان گیسوں کے اخراج میں 5.2 فیصد تک کمی کرنا تھی۔ اس معاہدے پر سوائے امریکا کے سبھی ترقی یافتہ ملکوں نے دستخط کئے ہیں لیکن امریکا نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ امریکا کے اس اقدام سے یورپی ممالک اور ماہرین سخت نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا سب سے زیادہ ان گیسوں کی پیداوار کا ذمہ دار ہے لہٰذا تحفظ ماحول کے ا قدامات میں بھی اسے ہی سب سے زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔یوں بھی امریکا جیسے صنعتی ترقی یافتہ ملک کے تعاون کے بغیر ماحولیاتی مسائل پر قابو پانا ناممکن ہے۔حالیہ بالی کانفرنس کا ایک اہم ایجنڈا کیوٹو پروٹوکول کے بعد تشکیل دیے جانے والے معاہدے میں امریکا کو بھی شامل کرنا ہے۔

انڈونیشیا اس عالمی کانفرنس کا میزبان ہے جہاں لاکھوں افراد موجود ہوں گے اوراندازہ ہے کہ ان کی آمد و رفت سے 50,000 ہزار ٹن گرین ہاؤس گیسیس پیدا ہوں گی لہذا ان گیسوں کے انجذاب کے لیے لاکھوں پودے اور درخت لگائے گئے ہیں۔شاید وقت سے سبق سیکھنا اسی کو کہتے ہیں، یاد رہے کہ انڈونیشیا میں 2004دسمبرمیں سونامی نے تباہی مچائی تھی اور اس کا ایک سبب ماہرین ساحلی جنگلات کی کٹائی اور ہ فطری ماحولیاتی نظام میں حد سے زیادہ انسانی مداخلت قرار دے رہے تھے۔

ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق دنیا کی کل آمدنی کا 65% حصہ ان صنعتی ممالک کے پاس ہے ، جب کہ پوری دنیا میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا کل 45% حصہ ان ہی صنعتی ممالک کی چمنیوں سے خارج ہوتا ہے۔

 زمینی درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کے عمل کو Global Warming کہا جاتا ہے جو عموما گرین ہاؤس گیس اثرات کے باعث رونما ہوتا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات سے ہمارے موسم بے ترتیب ہورہے ہیں جس کے سبب پہاڑوں اور گلیشیر کی صورت میں صدیوں سے جمی برف پگھلنے لگے گی۔ سمندروں کی سطح بڑھ جائے گی۔ سیلاب اور سمندری طوفان رونما ہوں گے اور نشیبی سطح پر واقع ممالک اور جزیرے غرق آب ہوجائیں گے۔ موسموں کی ترتیب بگڑنے سے زراعت کی تباہی اور خوراک میں کمی واقع ہوگی۔ درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کے اضافے کے ساتھ حیاتی انواع کو اپنی بقا کے لیے قطبین کی طرف 90 کلو میٹر قریب ہونا پڑے گا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا اور حالات سے مطابقت نہ کرپانے کے سبب پودے اور بالآخر ان پر انحصار کرنے والی تمام انواع معدوم ہونا شروع ہو جائیں گی ، ماحولیاتی نظام اور فطری مساکن تباہی کے قریب ہوں گے۔

  اس سال کے آغاز پر ماہرین ماحولیات کی یہ رپورٹ یقینا دنیا بھر کے لیے غور طلب تھی کہ رواں سال گرم ترین سال ثابت ہوگا۔برطانیہ کے محکمہ مو سمیات اور ایسٹ اینجلیا یونیوسٹی کے تعاون سے کی گئی اس تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہورہا تھا کہ اس سال درجہ حرارت میں اور اضافہ ہوگا اور امکان ہے کہ یہ سال پچھلے کئی سالوں سے زیادہ گرم رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحر الکاہل میں بعض خاص تبدیلیوں(El- Nino)  کے سبب اس سال کرہ ارض پر درجہ حرارت بڑھے گا اور اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ اس برس 1998 سے بھی زیادہ گرمی پڑے گی۔ اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 2006 میں اوسطا برطانیہ میں پہلے سے کہیں زیادہ گرمی تھی اور 1914ء، جب سے درجہ حرارت کے ریکارڈ کا سلسلہ شروع ہوا ہے کبھی اتنی گرمی نہیں ہوئی تھی۔

 یہ موسم یک بیک اتنے بے ترتیب کیسے ہو چلے ؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حالات کو اس نہج تک پہنچنے میں ایک عرصہ لگا ہے۔ یہ طے ہے کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں ، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ سو یہ حادثہ بھی کئی دہائیوں کی بے پروائیوں اور غفلت سے رقم ہوا ہے ۔ حضرت انسان نے خود کو عقل کل سمجھ کرایک طرف تو فطرت کے قوانین میں دخل اندازی شروع کردی اور دوسری جانب نام نہاد ترقی سے اپنے موت کے پروانے پر خود دستخط کرنا شروع کردیا۔


 پچھلی صدی کی آخری تین دہائیوں سے ماہرین نے لوگوںکو خبردار کرنا شروع کر دیا تھا لیکن اس وقت شاید دنیا والوں کے لئے یہ نئی اور انہونی باتیں تھیں جنہیں وہ سمجھنے کے لئے تیار نہ تھے لیکن جب الگور کے ساتھ نوبل انعام یافتہ اقوام متحدہ کے انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) نے موسمیاتی تغیر (Climate Change) پر اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی تو جیسے دنیا کے ہر حصے میں ہلچل سی مچ گئی۔ اپریل 2007 میں جاری کردہ 1500 صفحات کی یہ ضخیم رپورٹ 100 ممالک کے 2000 سائنس دانوں کی شب و روز محنت کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر مناسب صنعتی سرگرمیوں سے فضا میں خطرناک گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تناسب بڑھ رہا ہے اور ا س کے نتیجے میں زمین کے درجہ ءحرارت میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔ 1990 سے جاری یہ اضافہ اگر 1.5 سے 2.5 سیلسیس تک جا پہنچا تو دنیا تباہی کے خوفناک منظر دیکھے گی۔ سیلاب، سمندری طوفان، خشک سالی اور قحط جیسے عذاب انسان کا مقدر بن جائیں گے اور زمین پر موجود 30 فیصد انواع صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ ”30 فیصد انواع کا معدوم ہونا“ کیا معنی رکھتا ہے کاش اس کی سنگینی کو ہم سمجھ سکتے۔ کسی ایک نوع کے بھی مٹنے سے فطرت کی اربوں سالہ محنت تو برباد ہوتی ہی ہے لیکن اس سے کہیں بڑا نقصان زندگی کی زنجیر میں سے ایک کڑی کا ٹوٹ جانا ٹھہرتا ہے۔ اب ذرا غور کیجئے کہ اس زنجیر کی 30فیصد کڑیوں کو باہر نکال کر پھینک دیا جائے تو اس زنجیر کا کیا حال ہو گا؟

 یہ رپورٹ دو ٹوک انداز میں اس کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ فضا کو آلودہ کرنے میں سب سے زیادہ امریکا کا ہاتھ ہے۔ ان خطرناک گیسوں کا 38 فیصد حصہ امریکا ہی کی چمنیوں سے نکلتا ہے لیکن ایک طاقتور اور وسائل سے مالا مال ملک ہونے کے ناتے وہ ان خطرات کا با آسانی مقابلہ کر سکتا ہے۔اصل مسئلہ تو غریب ممالک کا ہے۔جن کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ تیکنیکی مہارت۔

آج آلودگی کو دنیا کا ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے ۔دنیا سے آلودگی کے خاتمے کے لیے ”پیسے “ کی ضرورت ہے جبکہ ہمارا یہ خیال ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ ”پیسہ“حاصل کرنے کی ہوس ہی ہے جس نے تمام آلودگی کو جنم دیا۔ایک ایسافطری طرز زندگی اپنانا جو کرہ ارض کے لیے نقصان دہ نہ ہو اتنا آسان نہیں ہے لیکن اب اس کے بنا چارہ بھی نہیں ہے۔

غیر محتاط صنعتی سرگرمیوں سے فضا گرین ہاؤس گیسوں سے کس قدر آلودہ ہے اس کے لیے امریکا ہی کی ایک ریسرچ کے نتائج دیکھیئے ۔ہوائی کے جزائر میں قائم ایک امریکی اسٹیشن نے جس کی پیمائش سب سے مستند سمجھی جاتی ہے، بتایا کہ گذشتہ50 برس میں کاربن ڈائی آکسائیڈکی مقدار میں 25 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور یہ متواتر بڑھ رہا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق اس گیس کی سطح کاحجم 378 حصہ فی ملین ہوچکا ہے، جو1750ءکی سطح کے مقابلے میں100حصہ زیادہ ہے۔کیوٹو پروٹوکول کی اکثر شقوں کو دیگر صنعتی ممالک ماننے کے لیے تیار تھے مگرامریکی صدر نے نہایت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ماننے سے انکار کردیا ۔امریکا اور چین جیسی بڑی طاقتوں کے تعاون کے بغیر ماحولیاتی مسائل پر قابو پانا نا ممکن ہے۔

فضا میں مضر گیسوں کے کم کرنے کے معاہدے کیوٹو پروٹوکول کا مقصد دراصل ایسے طریقہ ءکار کی تلاش ہے جس کی مدد سے گرین ہاؤس گیسوں کو قابو میں رکھا جائے۔ ان خطرناک گیسوں میں سرفہرست کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔

کیوٹو پروٹوکول کے تحت کاربن ڈائی آکسائیڈ گھٹانے کے لئے ایک طریقہ کار Clean Development Mechanism (CDM) وضع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایسے ترقی یافتہ ممالک جو خطرناک گیسوں میں کمی کے حوالے سے اپنے ملک میں کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھاسکے اور اپنے متعین کردہ اہداف تک نہیں پہنچ سکے وہ کسی بھی ترقی پذیر ملک میں ماحول دوست سرگرمیاں انجام دے کر نتائج کو اپنے اہداف میں شامل کر سکتے ہیں۔ گویا وہ تحفظ ماحول کے حوالے سے غریب ملکوں میں سرمایہ کاری بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بات تو اب طے شدہ ہے کہ ماحولیاتی بگاڑ کے ذمے دار صرف اور صرف ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ فضائی آلودگی، گرین ہاؤس گیس اثرات، موسموں کے بے ترتیبی اور اوزون کی تہہ میں شگاف جیسے سنگین جرائم میں پاکستان جیسے غریب ملک کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ عالمی موسموں کی ہر تبدیلی ہم تک ضرور پہنچے گی بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ ہم ان آفات سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوں گے کیوں کہ ان سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس وسائل ہیں اور نہ تکنیکی مہارت۔

درجہ ءحرارت کے بڑھنے سے پاکستان کے لے پہلا خطرہ ہمالیائی گلیشیئرز ثابت ہوں گے۔ ان گلیشیئرز سے دنیا کے کئی بڑے دریا مثلاً دریائے سندھ، گنگا، برہم پترا، سلوین، میکا ونگ، یانگ ژی اور زرد دریا نکلتے ہیں جن کا پانی پاکستان، بھارت، چین اور نیپال میں زندگی کو رواں دواں رکھنے کا باعث ہے۔ گرمی کے بڑھنے سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھلیں گے (اوسطاً 10 تا 15میٹر سالانہ) اور ان دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گی جس سے کناروں پر آباد لاکھوں افراد کو سیلاب کا سامنا ہو گا۔ کچھ عرصے بعد جب پانی کم ہو جائے گا تو یہی ممالک خشک سالی کا عذاب سہیں گے۔ زراعت تباہی سے دوچار ہو گی، قحط پھیلے گا اور ان غریب ممالک پر افلاس کے سائے اور گہرے ہو جائیں گے۔ یہ وہ کم از کم خطرات ہیں جو کسی ناکردہ جرم کی سزا کے طور پر پاکستان کو بھی بھگتنا ہوں گے۔کسی بھی ملک کا ماحول تباہ ہونے کا مطلب اس کی معیشت اور سماجیات کی بھی تباہی ہے۔ماہرین کے مطابق ایشیا اور افریقہ خصوصا اس کا شکار ہیں ۔خوراک کی کمی بالآخر قحط کی صورت اختیار کر لے گی۔زرعی ملک ہونے کے ناطے گرم موسم پاکستان کی زراعت کو متاثر کر رہے ہیں۔سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ہمارے ساحل متاثر ہوں گے جس سے ساحلوں پر آباد لاکھوں افراد بے گھر ہوں گے۔سمندری خوراک کی ایکسپورٹ متاثر ہوگی جس سے ہماری معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔بنگلہ دیش کا حالیہ طوفان اس کی مثال ہے ۔سینٹر فار ایڈوانس اسٹڈیز کے مظہرالاسلام کا کہنا ہے کہ حالیہ طوفان گلوبل وارمنگ ہی کا نتیجہ ہے جس کے نتیجے میں 3,400 لوگ ہلاک ، سیکڑوں لاپتا اور 350,000 بے گھر ہوئے۔اس وقت تمام ممالک کی ضرورت ہے کہ وہ تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے ان بدلتے موسموں سے خود کو ہم آہنگ کرلیں اور محفوظ کرلیں۔لیکن غریب ممالک کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہے اور نہ ہی وہ تکنیکی طور پر اتنے مضبوط ہوتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے بڑی بڑی کانفرنسوں میں رقوم مختص کی جاتی ہیں لیکن یہ مدد ایسی ہی ہوتی جیسے کے اونٹ کے منہ میں زیرہ۔ بین الاقوامی امدادی ایجنسی آکسفیم کا کہنا ہے کہ یہ امداد غریب ممالک کی توہین کے برابر ہے لہذا حالیہ بالی کانفرنس میں اس پر نظر ثانی کی جائے۔اس حوالے سے ایک مثبت قدم کے طور پرریاض میں منعقد  OPEC سمٹ میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے گلوبل وارمنگ کے مسائل سے نمٹنے اور تکنیکی مہارت کے حصول کے لیے 300 ملین ڈالرز کا فنڈ مختص کیا ہے۔ امید ہے کہ دیگر اسلامی ممالک جہاں قدرت نے تیل کے چشمے بہادیے ہیں اپنی کچھ دولت اس اہم مسئلے کے حل کے لیے بھی استعمال کریں گے۔

دنیا میں غربت اور عالمی سطح پر موجود عدم مساوات کو حل کیے بغیر ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ کیونکہ صنعتی ممالک کے اپنائے گئے ترقیاتی اہداف بہت سے ماحولیاتی وسائل پر بے پناہ بوجھ کا سبب بنتے ہیں۔آزاد تجارت میں تیزی کے باعث 10سال کے عرصے میں دنیا 10فیصد جنگلات سے محروم ہوئی اور امیر ممالک کی چمنیوں سے نکلتی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ نے فضا کو مزید33 فیصد آلودہ کیا۔22 امیر ممالک اپنی صنعتوں کو ہزار ملین ڈالرز سالانہ چھوٹ فراہم کرتے ہیں جس میں ماحول میں خطرناک گیسوں کا اضافہ کرنے والی صنعتوں کو57 بلین ڈالرز دیے جاتے ہیں۔یہ رقم حیرت انگیز طور پر اس رقم کے مساوی ہے جو عالمی سطح پر ان گیسوں کی مقدار پر قابو پانے کے لیے درکار ہے۔آزاد معاشی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر غربت اور ماحولیاتی تباہ کاری کاعمل تیز تر ہوگیا ہے۔عام طور پر تجارت کی آزادی کو ماحول کے لیے نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے۔اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ زیادہ بین الاقوامی تجارت کے معنی زیادہ ہوائی ، سمندری اور زمینی مواصلاتی ذرائع کا استعمال ہے۔

آزاد تجارت کے نظریات کے پیچھے بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں، عالمی اداروںاور معاشی و فوجی طور پر طاقتور سرمایہ دار ممالک کا ہاتھ ہے۔خاص طور پر امریکا ، اسی لیے گلوبلائزیشن کا دوسرا نام سامراجیت ہے۔بڑے مالیاتی ادارے اپنے قرضہ جات کا50 فیصد نجی کمپنیوں کو دیتہ ہیں جن کا تعلق G-8 کے ممالک سے ہے۔امریکا اوزون کو نقصان پہنچانے والی مجموعی گیسوں کا تیسرا حصہ پیدا کرتا ہے ۔وہ نہ صرف ان گیسوں میں مسلسل اضافہ کررہا ہے بلکہ کیوٹو پروٹوکول سے انکار کرکے پوری انسانیت کی بقا کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

چند اصلاحات کی عام فہم تشریح:

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ  ( Global Warming)

زمینی درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کے عمل کو Global Warming کہا جاتا ہے جو عموما گرین ہاؤس گیس اثرات کے باعث رونما ہوتا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت دنیا کو مشکل میں ڈا ل رہا ہے۔اس سے پہاڑوں اور گلیشیر کی صورت جمی برف پگھلنے لگی گی۔ سمندروں کی سطح بڑھ جائے گی۔ سیلاب اور سمندری طوفان رونما ہوں گے اور نشیبی سطح پر واقع ممالک اور جزیرے غرق آب ہوجائیں گے۔ موسموں کی ترتیب سب گڑ بڑ ہوجائے گی۔ زراعت کی تباہی سے خوراک میں کمی ہوگی۔ درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کے اضافے کے ساتھ حیاتی انواع کو اپنی بقا کے لیے قطبین کی طرف 90 کلو میٹر قریب ہونا پڑے گا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا اور حالات سے مطابقت نہ کرپانے کے سبب پودے اور بالآخر ان پر انحصار کرنے والی تمام انواع معدوم ہونا شروع ہو جائیں گی ، ماحولیاتی نظام اور فطری مساکن تباہی کے قریب ہوں گے۔

 گرین ہاؤس اثرات اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ

 زمین دن میں سورج سے حرارت جذب کرتی ہے اور رات میں اس حرارت کا کچھ حصہ خلا میں واپس چھوڑ کر ٹھنڈی ہوجاتی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے یہ حرارت آزاد نہ ہوسکے تو زمینی درجہ حرارت بتدریج بڑھ جائے گا۔ 1972 میں تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری گیسیں مثلا میتھین ، کلوروفلورو کاربنز ،  نائٹرس آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ حرارت کو روک لیتی ہیں اور اسے خلا میں واپس نہیں جانے دیتیں۔ یہ گیسیں اس طرح کام کرتی ہیں جیسے کسی گرین ہاؤس میں شیشہ کام کرتا ہے کہ وہ حرارت کو داخل تو ہونے دیتا ہے لیکن تھوڑی حرارت کو روک لیتا ہے اور گرین ہاؤس سے باہر نکلنے نہیں دیتا۔ یہ گیسیں زمین پر زندگی کے لیے مطلوبہ حرارت کو باقی رکھنے میں ایک حیات بخش کردار انجام دیتی ہیں۔لیکن اب کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کوئلے اور کنجوری ایندھن کے بے تحاشہ جلانے کی وجہ سے فضامیں داخل ہورہی ہے۔جنگلوں کا تیزی سے گھٹتا ہوا حفاظتی پردہ کرہ ارض میں اس صورت حال کو مزیدخراب کر رہا ہے۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن کو ریلیز کرتے ہیں۔ درختوں کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی خاصی مقدار جذب نہیں ہوسکے گی اور فضا میں موجود رہے گی ۔ یہ گرین ہاؤس گیسیں جو ایک دبیز کمبل کی طرح فضا کو ڈھانپے ہوئے ہیں اس عمل کی ذمے دار ہیں جو گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے۔

تیزابی بارش

 تیزابی بارش اس وقت ہوتی ہے جب جلتے ہوئے کنجوری ایندھن سے (Fossil Fuel)  سے خارج شدہ سلفر اور نائٹروجن ، سورج کی روشنی  ماحول میں موجود آکسیجن اور پانی کے بخارات کے ساتھ مل کر بارش بناتی ہے ۔ ماہیت کے اعتبارے یہ بارش تیزابی ہوتی ہے۔یوں سمجھ لیجیے کہ سلفیورک اور نائٹرک ایسڈ کا پتلا شوربہ ہوتا ہے۔کچھ گنجان صنعتی یافتہ علاقوں میں ، فضا کے اندر ہائیڈروجن گیسیں ہائیڈروکلورک ایسڈ پیدا کرتی ہیں جو تیزابی بارش کاجزو ترکیبی بھی بن سکتی ہیں۔فضا کے ذریعے یہ آمیزہ بارش ، برف یا خشک ذرات کی شکل میں میٹھے پانی اور زراعتی زمین کی تیزابیت میں اضافہ کردیتا ہے۔

تیزابی بارش جھیلوں ، چشموں اور آبی ذخائر کی تیزابیت میں اضافہ کرتی ہے اور آبی حیات کے لیے شدید خطرے کا باعث ہے۔
تیزابی بارش بنیادوں میں دراڑیں ڈال کر عمارت کو کم زور اور غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ قدیم تاریخی یادگاریں اور عمارات جو تیزابی بارش کی زد میں آجاتے ہیں شکستہ ہوجاتے ہیں انڈیا میں تاج محل اس کی مثال ہے۔جس کا خوبصورت سنگ مر مر اب پیلا پڑ چکا ہے۔
تیزابی بارش بچوں اور بوڑھے افراد کے لیے تنفس کے مسائل اور فضا میں گندھک کی بہت زیادہ مقدار آنکھوں ، دانتوں اور جلد کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

اوزون کی تہہ

ہمارا فضائی ماحول مختلف اور متعدد سطحوں پر منقسم ہے ۔ زمین کی بالائی فضا میں ان ہی مختلف تہوں کے مابین 10سے 50 کلو میٹر کے درمیانی فاصلے پر اوزون گیس پر مشتمل تہہ واقع ہے۔ درحقیقت اوزون مالیکیول آکسیجن کے تین ایٹموں کے باہم ملنے سے بنتے ہیں جبکہ ہماری سانس لینے والی آکسیجن مخصوص دو ایٹموں کا مرکب ہے۔

آکسیجن کے مخصوص فارمولے سے تخلیق پانے والی یہ فضائی چھتری اپنے اہم کردار کے باعث کرہ ارض پر آباد ہر ذی حیات کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام انجام دیتی ہے۔ اس کے منفرد اجزائے ترکیبی میں یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ سورج سے خارج ہونے والی مضر صحت شعاعوں خصوصا الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی جذب کرکے غیر موثر بنادیں۔ سورج جہاں ہمارے لیے روشنی اور حرارت کا ایک بے پناہ وسیلہ ہے وہیں اس کی ضرر رساں شعاعیں جان دار مخلوق کے لیے انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہےں۔ ان شعاعوں سے بہت سی بیماریاں ، جلدی سرطان ، بینائی کا زیاں وغیرہ ہوتا ہے۔ یہ شعاعیں DNA کو تہہ و بالا کرتی ہیں۔


صنعتی ترقی نے جہاں آسانیاں پیدا کیں وہیں بے شمار ماحولیاتی مسائل نے جنم لیا۔ صنعتوں میں استعمال ہونے والی کلورو فلورو کاربنزیعنی  CFCs جن سے کلورین مونو آکسائیڈ پر مشتمل گیس خارج ہوتی ہے جو اوزون کے لیے انتہائی مہلک ہے۔ کلورین کے سالمے بہت زیادہ متعامل ہوتے ہیں اور بہت جلد تین ایٹموں پر مشتمل اوزون کو علیحدہ کرکے دوایٹمی آکسیجن کی شکل دے دیتے ہیں۔لہذا اب ایسی اشیا کو فروغ دیا جارہا ہے جس میں CFCs کا استعمال نہ ہو۔ اوون کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک معاہدہ ”مانٹریال پروٹوکول “ تشکیل دیا گیا۔

Friday, August 3, 2007

ماحول کے تحفظ کے ساٹھ سال


ایک احساس جو دھیرے دھیرے عالمی تحریک بنتا جارہا ہے

 روز و شب کی تسبیح کے دانے شمار ہوتے چلے جارہے ہیں،گنتی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ساٹھ سال ! عمر کی نقدی سمجھو کہ ختم ہونے کو ہے اور وقت کی ریت ہے کہ بند مٹھی سے دھیرے دھیرے بے آواز پھسلتی جارہی ہے۔۔۔ لیکن یہ ساٹھ سال اگر کسی ملک کی عمر کے ہوں تو شاید اتنے زیادہ نہ مانے جاتے ہوں بہرحال یہ ایک طویل عرصہ ضرور ہے ۔ وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے ساٹھ سال ہوچلے ہیں۔کھونے اور پانے کی ایک طویل کہانی ہے جو قوم کو ازبر ہوگی ۔2007 کا سال ایک سیاسی انتشار اور بے چینی کے ساتھ خاتمے کی طرف رواں دواں ہے لیکن کچھ اچھے واقعات بھی اس سال کے دامن پر نقش ہیں ان میں سر فہرست عدلیہ کی سربلندی ہے ۔پاکستان اور خصوصاکراچی کے وہ شہری جو آئے دن ماحولیاتی حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں اب اپنی فریاد لےکر عدالت میں جاسکتے ہیں اوریہ امید بھی بندھ چلی ہے کہ شاید اب انہیں انصاف مل سکے۔

 پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ماحول کے تحفظ کا احساس 70کی دہائی میں جاگا اور دنیا اس جانب سنجیدگی سے متوجہ ہوئی۔

 قیام پاکستان کے بعد اولین دنوں میں ماحول کے بارے میں معلومات کے حصول کا واحد ذریعہ صرف برطانوی گزیٹیر تھے۔ ان کے علاوہ شعبہ جنگلی حیات اور جنگلات کے کتب خانے سے بھی مدد مل سکتی تھی ۔ دیکھا جائے تواس وقت بھی بہت سے لوگ اس حوالے سے مصروف عمل تھے ان میں کچھ غیر ملکی اور کچھ پاکستانیوں کا کام بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ جارج شیلر کی کتاب ” اسٹونز آف سائلنس“کو آپ کسی صورت نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ یہ کتاب جنگلات اور جنگلی حیات کو ہماری بے پروائی سے پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں بتاتی ہے۔گائے ماؤنٹ فورٹ کی تحریریں پاکستان کے مختلف ماحولیاتی نظاموں کے بارے میں معلومات کاخزانہ ہیں ۔ فورٹ اور شیلردونوں کے کام نے پاکستان میں نیشنل پارکس کے قیام کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد ٹام رابرٹ ہیں جنہوں نے پاکستان کے ممالیہ اور پرندوں کے بارے میں درجہ بندی کرکے ان سے متعلق تمام معلومات کو یکجا کیا۔سمجھ لیجیے کہ یہ پاکستان میں ماحول کے حوالے سے پہلا تحقیقی کام تھا۔پاکستان میں موجود دنیا کی نایاب تتلیوں کے بارے میں بھی رابرٹ کاکام سند کی حیثیت رکھتا ہے ۔

اس حوالے سے کچھ پاکستانیوں کے نام بھی نمایاں ہیں۔ پاکستان میں جنگلی حیات سے متعلق پہلی قانون سازی صوبہ سندھ نے 1972 میں کی۔ اس عمل میں جناب ڈبلیو اے کرمانی پیش پیش تھے۔ کرمانی صاحب کی دور اندیشی نے جنگلی حیات کے لیے محفوظ علاقوں کا ایک سلسلہ قائم کرنے کے لیے بنیاد فراہم کی ۔ اس میں سمندری کچھووں کے تحفط کا منصوبہ بھی شامل ہے ۔ فہمیدہ اسرار کا نام بھی کچھووں کے تحفظ کے حوالے سے ملک بھر میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ فہمیدہ صاحبہ نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ کچھووں کے تحفط کے لیے ساحلوں پر گزارا ہے ۔ماحولیاتی تاریخ میں ان سب کا نام سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا ۔

 ماحول سے متعلق ہماری معلومات شاید صرف چرند پرند اور جنگلات کے تحفظ تک ہی محدود رہتیں اگر 1972 میں سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں کانفرنس برائے انسانی ترقی اور ماحول نہ منعقد ہوتی۔ اس کانفرنس نے ماحول کو سائنس دانوں کے خشک اور پیچیدہ زبان مقالوں سے نکال کر انسانی زندگی کے اہم ترین عنصر کے طور پر پیش کیا۔ اس کانفرنس ہی کا اثر تھا کہ 1980میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ، ڈبلیو ڈبلیو ایف اورآئی یو سی این کی مشترکہ کاوشوں سے تحفظ ماحول کی عالمی حکمت عملیWorld Conservation Strategy دنیا کے سامنے آئی اور یوں ماحول کا شعبہ پہلی بار چند سائنس دانوں کی اجارہ داری سے نکل کر نوع انسانی کی بھلائی سے منسلک ہوگیا۔اس عالمی حکمت عملی کے بعد دنیا کے تمام ممالک کو کہا گیا کہ وہ اپنے ملک کے لیے قومی حکمت عملی تیار کریں ، پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا۔ لہذا اگر ہم پاکستان میں ماحولیاتی تحریک کا جائزہ لیں تو پہلا سنگ میل یہی قومی حکمت عملی نظر آتی ہے۔پاکستان کی قومی حکمت عملی NCSکی تیاری میں چند ایسے اصولوں کو اپنایا گیا جو پاکستان کے لیے انوکھے تھے مثلا ترقی کے عمل کو بجائے شعبہ جاتی تقسیم کے ایک مربوط عمل کے طور پر سامنے لایا گیامثلا زراعت کو صرف محکمہ زراعت یا کسانوں کی ذمے داری نہیں بلکہ متعلقہ تمام شعبوں مثلا آبی وسائل ، زمین، صارفین وغیرہ کی ذمے داری کے طور پر پیش کیا گیا۔عوامی مشاورت کو پہلی بار ایک بھر پور انداز سے ترقی کے عمل کا اہم ترین جزو مانا گیا۔وفاقی کابینہ نے اس حکمت عملی کو 1992میں منظور کیا۔قومی حکمت عملی کے بعد اگلے قدم کے طور پر صوبائی اور ضلعی حکمت عملیوں کی تیاری کا کام جاری ہے ، سرحد اور بلوچستان کی حکمت عملیاں تیار ہوچکی ہیں جبکہ سندھ میں اس حوالے سے کام جاری ہے ۔

 اسی ماحولیاتی تحریک کا دوسرا اہم موڑ1997 میں آیا جب پاکستان میں ماحولیاتی قانون سازی اور اس کا نفاذ ہوا۔اس کے بعد1999میں پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ مجریہ1997کی دفعہ20 کے تحت ملک میں ماحولیاتی مقدمات اور مسائل کو نمٹانے کے لیے ابتدائی طور پر تین ماحولیاتی ٹریبونل قائم کیے گئے ، ان میں سے دو کراچی میں اور ایک لاہور میں قائم کیا گیا۔

 وفاقی کابینہ نے ملک کی پہلی قومی ماحولیاتی پالیسی کی2005 میں منظوری دی۔حکومتی بیان کے مطابق اس پالیسی کے نفاذ کے لیے 171رہنما خطوط وضع کیے گئے جن میں سے تقریبا چالیس فیصد رہنما خطوط پر پہلے ہی عمل درآمد ہوچکا ہے ۔

 پاکستان بہت سے عالمی معاہدوں میں بھی شامل ہے جن میں آب گاہوں کے تحفظ کا معاہدہ ”رامسر کنونشن“ ،جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کا معاہدہ ”سائٹیز“،حیاتیاتی تنوع کا میثاق، سمندروں اور صحراؤں سے متعلق معاہدہ اور بدلتے موسموں اور مضر گیسوں کی روک تھام کا معاہدہ قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں کے حوالے سے ڈھیروں دستاویزات بھی منظر عام پر آچکی ہیں جن میں بائیوڈائیورسٹی ایکشن پلان اور ویٹ لینڈ ایکشن پلان وغیرہ اہم ہیں ۔

 یہ تمام اقدامات ، دستاویزاور قوانین ہمارے ملک کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتے تھے اگر ان پر سنجیدگی اور ایمان داری سے عمل درآمد کیا جاتا ۔لیکن گھٹتے ہوئے وسائل اور آلودگی کی بڑھتی ہوئی صورت حال آج کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ اکنامک سروے آف پاکستان 2005-06کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق ماحول کی تباہی سے معیشت کوسالانہ 2.2 ارب ڈالر سالانہ نقصان پہنچ رہا ہے۔فضائی آلودگی سے ہر سال بائیس ہزار افراد موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور ہزاروں سیاہ پھیپھڑوں کے ساتھ زندگی کے نام پر ایک سزا کاٹتے ہیں ۔پینے کا صاف پانی جو انسانی کی بنیادی ضرورت اور اس کا آئینی حق ہے، کے نام پر لوگ خصوصا غریب افرادآلودہ اور گٹروں کا پانی پی کرجان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ PCSIR ہمارے ملک کا ایک معتبر سائنسی ادارہ ہے کی ایک رپورٹ پانی کی شدید آلودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس کے مطابق کراچی ، لاہور ،اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں جو پانی پینے کے لیے استعمال ہورہا ہے اس کا 75 فیصد حصہ پینے کے لیے مضر بلکہ ناقابل استعمال ہے۔مذکورہ ادارے نے پانی کے یہ نمونے ان شہروں کے مختلف اسکولوں سے حاصل کیے تھے۔

  مہنگائی کا وہ طوفان ہے کہ الامان الحفیظ !مہنگائی کے اس بڑھتے ہوئے طوفان میں اگر کوئی چیز سستی ہے تو وہ ہے انسانی جان بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ غریب کی جان۔ ٹریفک حادثات ہوں یا اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غفلت، ملاوٹ شدہ غذا ہو یا آلودہ پانی۔ وجہ کچھ بھی ہو اس سے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی یہ وہ تیر ہیں جن کا ہدف صرف اور صرف غریب انسان ہی بنتے ہیں۔ ان جانوں کی نہ کوئی اہمیت ہے اور نہ کوئی قدرو قیمت، اس کے لیے نہ کوئی ذمے دار ٹھہرتا ہے اور نہ ہی کوئی خوں بہا دینا پڑتا ہے، گویا۔۔۔۔۔

          یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

 آگہی شاید ایک عذاب ہی ہے ،اس ساری صورت حال میں انسان کتنا مایوس اور دل شکستہ ہوسکتا ہے اس کا تذکرہ غیر ضروری ہے لیکن چونکہ مایوسی گناہ ہے اس لیے کچھ امیدیں دل کے کسی کونے میں آج بھی سر اٹھاتی ہیں کہ شاید ہماری آج کی آزاد عدلیہ کا اگلا سوموٹو ایکشن ماحول کی تباہی کے خلاف ہو!
قوم کوساٹھ واں جشن آزادی مبارک ہو!


  

Friday, July 13, 2007

تاج محل بھی عجائبات عالم میں شامل

تاج محل کے مداحوں کے لیے یہ خبر خوشی کا باعث ہوگی کہ اس عظیم الشان محبت کی یادگار کو ایک بین الاقوامی مقابلے کے ذریعے طے پانے والے دور جدید کے سات عجائبات عالم میں شامل کرلیا گیاہے۔ دنیا کے نئے سات عجائبات کے انتخاب کے لیے سوئس تنظیم ” نیو سیون ونڈر فاؤنڈیشن “ نے جن اکیس شاہکاروں کی فہرست تیار کی تھی اس میں تاج محل بھی شامل تھا۔

پرتگال کے دار الحکومت لزبن میں ایک تقریب کے دوران ہالی ووڈ کے معروف اداکار بین کنگسلے اور بالی ووڈ کی اداکارہ بپاشا باسو نے ان عجائبات کے ناموں کا اعلان کیا۔آگرہ کی میئر انجولا نے اس کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

تاج محل کے علاوہ سات عجائبات کی اس فہرست میں اردن میں موجود پیٹرا شہر کی باقیات شامل ہیں ۔ روم میں موجود کلوسیم واحد یورپی عمارت ہے جسے اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔میکسیکو میں موجود چیچن اتزا کے کھنڈرات بھی شامل ہیں ،دیوار چین بھی جدید عجائبات عالم میں اپنی جگہ بناچکی ہے ۔ برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو میں حضرت عیسی علیہ اسلام کا مجسمہ لاطینی امریکا سے شامل ہے اس کے علاوہ آٹھ ہزار فٹ بلندی پر ایک پہاڑی کے ڈھلوان پر واقع پیرو کے ماچو پیچو نامی قدیم شہر کے کھنڈرات جن کا تعلق انکا تہذیب سے بتایا جاتا ہے اس فہرست میں شامل ہیں ۔


 تاج محل جو دراصل ہندوستان کے بادشاہ شاہ جہاں کی بیوی ملکہ ممتاز محل کا مقبرہ ہے، ساری دنیا میں اسے محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔تاج محل برصغیر کی تہذیب و ثقافت کا عکاس اورخصوصاہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا مظہر ہے۔ محبت کی یہ انتہا شاید دنیا اور خصوصا مغرب کے لیے حیرت کا باعث ہو سکتی ہے لیکن پاک و ہند کے رہنے والوں کے لیے نہیں کیونکہ اس زرخیز مٹی سے محبت کی ایسی بے شمار لازوال داستانیں جنم لیتی رہتی ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ بقول ساحر

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

 محبت کی اسی یادگار تاج محل کی تعمیر کو اب 353 سال ہوچکے ہیں ۔ چند سال پہلے اس کی تین سو پچاس ویں سالگرہ بہت دھوم دھام سے منائی گئی، اس موقع پر مورخین میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آخر تاج محل کی عمر کیا ہے؟ اکثر مورخین کا کہنا ہے کہ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی ملکہ ممتاز محل کی وفات کے دو برس بعد تاج محل کی تعمیر شروع ہوگئی تھی اور سترہ برس میں مکمل ہوئی، اس حساب سے تاج محل کو تعمیر ہوئے تین سو تریپن برس ہو چلے ہیں۔ مورخین کے مطابق بادشاہ نامے میں تاج محل کی تعمیر کے تمام منصوبوں کا تذکرہ موجود ہے اور تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ان تمام منصوبوں کو عملی جامہ بھی پہنایا گیا، بادشاہ نامے کے مطابق تاج محل 1651 میں مکمل ہوگیا تھا۔
شاہ جہاں کی محبوب بیوی ممتاز محل کے انتقال کے بعد شاہ جہاں نے اپنی محبت کے اظہار کے لیے اس کا ایک عالی شان مقبرہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور سترہ سال کی دن و رات محنت کے بعد سنگ مر مر کی ایک شان دار عمارت تعمیر ہوگئی، تقریبا بیس ہزار مزدوروں نے دن و رات اس پر کام کیا۔کہا جاتا ہے کہ عیسی شیرازی نامی ایک انجینئر نے اس کا نقشہ تیار کیا تھا لیکن بادشاہ نامے میں لکھا ہے کہ خود شاہ جہاں نے اس کا خاکہ تیار کیا تھا۔ عمارت کے زمین دوز حصے میں ممتاز محل کی قبر واقع ہے اور شاہ جہاں بھی اس پہلو میں محو خواب ہیں ۔

تاج محل مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثال عمارت ہے جو تعمیر کے بعد سے ہی دنیا بھر کے سیاحوں کا مرکز رہی ہے، محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں ، ادیبوں ، مصوروں اور فنکاروں کے لیے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک مقبرہ ہے،تاج محل ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا مظہر ہے اور پورے برصغیر کی تہذیب و ثقافت تاج محل پر نازاں ہے۔ ماہرین کے مطابق تاج محل ایک ایسا فن پارہ ہے جو موجودہ دور میں کمپوزٹ کلچر کی بھی عکاسی کرتا ہے، تاج محل دیکھنے والے کہتے ہیں کہ اسے دیکھ کر انسان کی جمالیاتی حس بیدار ہوتی ہے اور ایک انوکھی سی خوشی حا صل ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے عوام اور خواص دونوں ہندوستان پہنچتے ہی تاج محل کے دیدار کو پہنچ جاتے ہیں۔ سن1874 میں برطانوی سیاح ایڈورڈ لیئر نے کہا تھا کہ دنیا کے باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک وہ جنہوں نے تاج محل کا دیدار کیا ہے اور دوسرے وہ جو اس سے محروم رہے۔

لیکن آج جب اسے نئے عجائبات عالم میں شامل کر لیا گیا ہے تو ہم یہ بتاتے چلےں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے تاج محل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔اسکے مینار جھک رہے ہیں، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ تاج محل کے عقب میں دریائے جمنا میں ہونے والی تبدیلیوں کے سبب تاج محل کے مینار جھک رہے ہیں اگرچہ محکمہ آثار قدیمہ اس کی تردید کرتا ہے لیکن ایک اطاع کے مطابق ایک مینارچھ انچ تک جھک گیا ہے، ماضی میں بھی منیاروں کی جھکنے کی خبر آئی تھی جس کے بعد احتیاطا مینار لوگوں کے لیے بند کردیے گئے تھے۔

 میناروں کے جھکنے کا موجودہ تنازعہ آگرہ کے سرکردہ مورخ پروفیسر رام ناتھ کے ایک تحقیقی مقالے کے بعد پیدا ہوا ہے ۔ پروفیسر ناتھ کہتے ہیں کہ 1940 سے 1965 تک تاج محل کے میناروں میں مسلسل جھکاؤ آیا ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ آثار قدیمہ نے ہر سال اس کاسروے نہیں کروایا ۔ پروفیسر ناتھ کا کہنا ہے کہ دریائے جمنا تاج محل کے تحفظ کا ضامن ہے اور اگر تاج محل کو بچانا ہے تو اس کے پیچھے بہنے والی جمنا کے رخ میں کسی تبدیلی کے بغیر سال کے تین سو پینسٹھ دن پانی کے بہاؤکو برقرار رکھنا ہوگا ۔ پروفیسر رام ناتھ کا کہنا ہے کہ جمنا کا کچھ حصہ پہلے ہی سوکھا ہے اور وہاں ایک کوریڈور بنانے سے جمنا کے رخ میں تبدیلی آئی ہے اور اب پانی تاج محل کے پشتوں پر جانے کے بجائے سیدھا جانے لگا ہے ۔ اس سے تاج محل کا اصل ڈیزائن متاثر ہوا ہے اور بقول پروفیسر ناتھ کے کہ اس سے تاج محل کو زبردست نقصان پہنچے گا ۔

 مغلیہ فن تعمیر کے سر کردہ ماہر اور محکمہ آثار قدیمہ بھارت کے سابق سربراہ پروفیسر ایم سی جوشی کا کہنا تھا کہ تاج محل کی تعمیر میں جمنا کو بہت اچھی طرح استعمال کیا گیا ہے اور اگر پانی بیس پچیس فٹ اوپر تک بھی پہنچ جائے تو بھی تاج محل کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔ پروفیسر کا کہنا ہے کہ اگر دریا میں کوئی تبدیلی کی جائے گی اور بغیر سمجھے بوجھے عام انجینئروں سے کوئی کام کروایا جائے گا تو یقینا تاج کے میناروں میں جھکاؤ  پیدا ہوگا ۔ پروفیسر جوشی کا یہ بھی خیال ہے کہ تاج محل کو کسی بھی نقصان سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ دریا کی پرانی حالت بحال کی جائے اور اس کی گہرائی اور چوڑائی بھی برقرار رکھی جائے ورنہ محبت کی یہ عظیم یادگار وقت سے پہلے ختم ہوجائے گی ۔
اتر پردیش کی سابق مایا وتی حکومت نے تاج محل کے عقب میں دریائے جمنا کے کنارے ایک تجارتی کمپلیکس بنانے کا آغاز کیا تھالیکن سپریم کورٹ کی بروقت مداخلت سے تعمیر روک دی گئی ۔

تاج محل کے سفید چمکتے ہوئے سنگ مر مر کو تیز روشنیوں سے بھی خطرہ ہے اس کے تحفظ کے لیے پچھلے بیس سالوں سے یہ یادگار شام ہوتے ہی سیاحوں کے لیے بند کردی جاتی ہے ۔ بھارت کی حکومت نے 1984 میں یہ فیصلہ کیا تھا لیکن اب سیاحوں کے اصرار پر پروگرام بنایا جا رہا ہے کہ ایک ماہ میں پانچ راتوں یعنی پورے چاند کی رات اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی دور اتوں کو سیاحوں کے لیے تاج محل کے دروازے کھول دیے جائیں گے ۔ مگر ہر رات ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ تاج محل کے پاس یا ارد گرد تیز روشنی والی فلڈ لائٹس سے اسے نقصان پہنچ سکتاہے ۔تاج محل کا سنگ مر مر آس پاس کی آلودگی کے باعث بھی پیلا پڑتا جارہا ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔ تقریبا ایک عشرہ قبل سپریم کورٹ نے تاج محل کے تحفظ کے لیے آلودگی پھیلانے والی آس پاس کی سیکڑوں کمپنیوں کو بند کرنے اور انہیں دوسرے مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ عدالت نے تاج محل کے آس پاس موٹر گاڑیاں کے چلنے پر بھی پابندی لگادی تھی ۔ حالیہ تجزیوں سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں دھوئیں کی کمی سے سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروز میں تو کمی آئی ہے لیکن فضا میں ایسے اجزا بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں جن سے تاج محل کے سنگ مر مر کا رنگ پیلا پڑتا جارہا ہے ۔

نیو سیون ونڈر فاؤنڈیشن “ نے دنیا بھر سے جن اکیس شاہکاروں کی جو فہرست تیار کی تھی اس میں تاج محل کے ساتھ انکور واٹ مندر بھی شامل تھا ۔ ہندوستان کی ہندو نواز تنظیم آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے کمبوڈیا کے اس قدیم انکور مندر کو بھی ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تاج حق دار ہے تو اس مندر کو بھی ووٹ ڈالنا چاہیے۔ کمبوڈیا کا انکور مندر دنیا کا سب سے بڑا مندر مانا جاتا ہے۔جو تقریبا دوسو مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں مختلف سائز اور نقش و نگار کے تقریبا تین سو مندر شامل ہیں۔ عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں یہ سب سے بڑی عمارت ہے جسے سن گیارہ سو تیرہ اور گیارہ سو پچاس کے درمیان راجا سوریہ ورمن ثانی نے تعمیر کروایا تھا۔اس مندر کو فن تعمیر کا دلکش نمونہ کہا جاتا ہے۔دنیا کے نئے سات عجائبات کے انتخاب کے لیے سوئس تنظیم آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ انکور مندر ہندوستان کے شاندار کلچر کا عکاس ہے۔ افغانستان میں بامیان میں مہاتما بدھ کے مجسموں کی مسماری کے بعد ہندوستان سے باہر یہ مندر ہی واحد نشانی بچی ہے۔


ان عجائبات کے حوالے سے عوام آن لائن اور موبائل فون کے ذریعے اپنی رائے دے سکتے تھے۔ تاج محل کو ابتدائی طور پر بہت زیادہ ووٹ نہیں ملے تھے لیکن آخر میں صورت حال بدل گئی ۔ مشہور موسیقار اے آر رحمان نے اس کے لیے ایک خوبصورت نغمہ بھی تخلیق کیا تھا۔البتہ حکومتی سطح پر کوئی خاص سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔دوسری طرف برازیل کے صدر نے ریڈیو پر عوام کو ریوڈی جینرو میں واقع مسیحی مجسمے کو عجائبات میں شامل کروانے کے لیے ووٹنگ کا طریقہ کار بتایا تھا اور پیرو کی حکومت نے اپنے قدیم شہر ماچو پیچو کو اس فہرست میں شامل کروانے کے لیے عوامی مقامات پر کمپیوٹر لگوائے تھے تاکہ عوام آسانی سے ووٹنگ میں حصہ لے سکیں۔اس بین الاقوامی مقابلے میں ایک سو ملین سے زائد افراد نے انٹر نیٹ ، ٹیلی فون اور ایس ایم ایس کے ذریعے ووٹنگ کی۔

Tuesday, July 3, 2007

اس کی باتیں بہار کی باتیں

جھلسادینے والی گرمی کا توڑ سر سبز چھتیں

 گرمی کے جھلستے ہوئے دن اور سلگتی راتوں میں ہری بھری سر سبز چھتوں کا تذکرہ خاصا بر محل ہے ، دنیا بھر میں ان کی تعمیر کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ یورپی ممالک اور امریکا تجربات کے بعد پچھلے چھ سالوں سے ان کی تعمیر پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی بھی مثبت اقدام پر عمل درآمد میں ہمارے ملک میں جتنا وقت لگتا ہے اس کے حساب سے تو ان چھتوں کی ہریالی ہمارے لیے’ہنوز دلی دور است‘ کے برابر ہے لیکن امید تو کی جاسکتی ہے نا!۔

 پورے ملک اور خصوصا کراچی میں بجلی کی کمی نے کیا تباہی مچائی ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور اب بارش نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے ، دودنوں کی بارش نے عوام پر وہ عذاب نازل کیا ہے کہ الامان الحفیظ۔حالانکہ سرکاری بیان بازوں کے بیانات کے مطابق تو ملک کے خزانے ان سات سالوں میں لبریز ہوکر چھلک رہے ہیں ، زرمبادلہ کے ذخائر بھی پٹے پڑے ہیں، دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ،راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے ۔لیکن اس ہفتے کے منظر نامے نے سچ اور جھوٹ کو دودھ اور پانی کی طرح الگ کردیا ہے۔اے کاش کہ ہمیں جھوٹ بولتے ہوئے تھوڑی سی شرم آجائے!

دو دن کی برسات نے کراچی میں جاری اربوں روپے کی لاگت کے میگا پروجیکٹ کو جس طرح الٹ کر رکھ دیا ،بقول ہمارے ایک کالم نویس کہ یہ میگا پروجیکٹ نہیں میگابلبلے تھے۔برسات کا یہ بہتا ہوا پانی جو پورے ملک میں تباہی پھیلا کر بالآخر سمندر میں گرجائے گا اس کی بوند بوند کتنی قیمتی ہے کاش ہمارے کرتا دھرتا یہ احساس کرسکتے۔ اگرتھوڑی سی بھی ذمے داری سے کام لیتے تو جگہ جگہ برساتی ندی نالوںاور دریاؤں پر چھوٹے چھوٹے ڈیم جو دراصل آبی ذخیرہ گاہ ہوتیں تعمیر کرچکے ہوتے تو آج اتنی تباہی نہ مچتی اور تمام پانی آنے والے دنوں کے لیے محفوظ بھی ہوجاتا۔اس کے لیے لاکھوں روپے کی کسی غیر ملکی کنسلٹینسی کی صرورت نہیں ہے اور نہ سالوں اس کے لیے نشستند گفتنداور برخاستند جیسی میٹنگوں کی۔ہمارے اپنے ملک میں بے شمار ایسے ماہرین موجود ہیں (دسیوں نام تو ہم بھی پیش کرسکتے ہیں) جنہوں نے اس شعبے پر بے پناہ کام کیا ہے ، اپنی عمریں تحقیق پر صرف کی ہیں ، ہم ان کے کام اور تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن اور بھی غم ہیں زمانے میں۔۔۔۔!

  لیکن اگر آپ کودنیا میں سر اٹھاکر جینا ہے، زمانے کے ساتھ چلنا ہے توخود کو بدلنا ہے۔ توانائی کے فرسودہ طریقوں کو ترک کرکے قدرتی ذرائع کو لازمی اختیار کرنا ہے ، آج نہیں تو کل سہی لیکن یہ وہ نوشتہ دیوار ہے جسے آپ کو پڑھ لینا چاہیے۔

 ماحول کی بڑھتی ہوئی تباہی اور گھٹتے ہوئے ذخائر نے دنیا کو توانائی کے قدرتی ذرائع کی طرف بھرپور طریقے سے متوجہ کر دیا ہے۔ ہوا ، سورج،اورپانی کی لہروں سے توانائی کا حصول یہ وہ خواب ہے جوآج ہر ایک آنکھ میں سجا ہوا ہے۔سب سے سستی ہوا اور سورج سے حاصل کردہ توانائی ہے۔توانائی کے حصول کے ساتھ ساتھ توانائی بچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے ۔ اسی خیال نے سر سبز چھتوں کے تصور کو جنم دیا ہے ۔ یہ کوئی نیا یا انوکھا طریقہ نہیں ہے بلکہ پرانی روایتی چھتوں ہی کی جدید شکل ہے۔وہ چھتیں خشک گھاس پھوس سے بنائی جاتی تھیں اور ان نئی چھتوں میں سر سبز گھاس اور پودے اگانے کا تصور پیش کیا گیا ہے ۔ یہ سرسبز چھتیں گرمی کی شدت کو کم کرتی ہیں جس سے بجلی کے آلات کا استعمال گھٹ جاتا ہے اور ان چھتوں کے ذریعے بارش کے پانی کا بہاؤ آہستہ کرکے اس پانی کا باآسانی ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

 یہ سر سبز چھتوں کی تیاری انتہائی آسان ہے ۔ چھت کو واٹر پروف ممبرین سے ڈھانپ دیا جاتا ہے پھر اس پر مٹی ڈال کر گھاس اور پودے اگائے جاتے ہیں۔ ایسی چھتیں ہماری ذہنی اختراع یا خیالی پلاؤ نہیں ہیں بلکہ امریکا میں چھ سال سے ان چھتوں کی تعمیر پر تجربات جاری ہیں اور اب یہ کئی شہروں میں اپنی بہار جانفزا دکھلا رہی ہیں اور عمارت کے درجہ حرارت کو کم کرکے شہریوں کے گرمی کے عذاب سے بچا رہی ہیں ۔ایک جائزے کے مطابق ایک عام سیمنٹ کی چھت والی عمارت کے مقابلے میں ان سرسبز چھتوں کے درجہ حرارت 31 فیصد کم ہوتا ہے یعنی یہ اکتیس فیصد زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں یہ بڑی بڑی چھتیں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بھی کام آتی ہیں ۔ ان کی تعمیر ڈھلوانی سطح کے انداز میں کی جاتی ہے اور ایسا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے کہ بارش کا پانی تیزی سے بہنے کے بجائے دھیرے دھیرے بہہ کر نیچے نصب ٹنکیوں میں جمع ہوجائے ۔ یہ برسات کا پانی سال بھر انہی سبز چھتوں کی آب پاشی کے لیے کام آتا ہے۔

شکاگو کے میئررچرڈ ڈیلے جونیئر نے 1999میں یورپ کےاتھا۔ دورے سے واپسی پر شکاگو کی ایک اہم عمارت سٹی ہال کی چھت کو سبز چھت کی شکل دی۔ بقول رچرڈ ڈیلے کے یورپ میں انہوں نے ایک سبز چھت کو بیحد کامیابی سے کام کرتے ہوئے دیکھا ۔ یورپ میں یہ سبز چھت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔ رچرڈ ڈیلے نے حکومت سے مشاورت کے بعد سبز چھت کے لئے فنڈ مختص کرایااور اس طرح آج شکاگو میں سٹی ہال سمیت تین سو اہم عمارات پر سبز چھتیں قائم ہیں ۔ امریکا دیگر شہروں کے مقابلے میں کسی بھی شہر میں سب سے زیادہ چھتیں ہیں۔ ان تین سو چھتوں کا احاطہ تیس لاکھ مربع میٹر پر محیط ہے ۔یہ چھتیں زیادہ تر تجارتی عمارات پر مشتمل ہیں جبکہ کچھ چھتیں رہائشی اور کچھ گودام کی چھتیں بھی ہیں ۔

ٹوم لپٹن شکاگومیں ایک ماہر ماحولیات ہونے کے علاوہ سٹی بیورو آف انوائرنمٹل سروسز کے ایک اہم عہدے دار بھی ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ بیس سال قبل حکومت نے ایک قانون فلور ایریا ریشو( F A R )نافذ کیا جس کے تحت کو ئی بھی بلڈرحکومت کی اجازت سے اپنے پلاٹ سے زیادہ کچھ جگہ اپنے استعمال میں لاسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ اضافی تعمیر وہ صرف مقررہ پلاٹ کی چھت پر تعمیر کرسکتا ہے۔ اس رعایت کے تحت ٹوم لپٹن نے 1996 میں اپنے گیراج پر سبز چھت بنائی ۔

  شکاگو میں بلڈرز کو سبز چھت بنانے کے عیوض حکومت کی طرف سے بہت سی مراعات دی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ شکاگو کا شمار سب سے زیادہ گنجان سبز چھتوں والے شہر میں ہوتا ہے ۔ حکومت کی طرف سے مراعات کے بعد بہت سے بلڈرز اور غیرتجارتی بنیادوں پر کام کرنے والے گروپوں نے حکومت کے ساتھ مل کرسبز چھتیں بنانے میں دل چسپی ظاہر کی ہے۔ نیویارک میں قائم ایک تنظیم ارتھ پلیج نامی تنظیم نے برونیکس ‘بروکلین اور ہارلیم میں سات سبز چھتوں پر کام کیا ۔ لیزا ہوف ارتھ پلیج کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں وہ بتا تی ہیں کہ رہائشی عمارات پر سبز چھتوں کی تعمیر پر لوگ بہت دل چسپی لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سبز چھتوں کے ہمارے نصف سے زیادہ منصوبے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال فروری میں ہمیں اور گرین روفس فار ہیلدی سٹیزن نامی ایک این جی او کو مینا پولیس لاس اینجلس ‘ اٹلانٹا اور دیگر شہروں کے لئے تین لاکھ ڈالرکی گرانٹ دی گئی تاکہ ہم لوگوں میں سبز چھتوں کے شعور کو اجاگر کریں اور انہیں یہ سکھائیں کہ سبز چھتوں کے لئے کیا ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، کس طرح سبز چھتوں پر لگے سبزے کی آب پاشی کی جاتی ہے اور بارش کا پانی کس طرح سبز چھتوں کے کام آتا ہے ۔

 سبز چھتوں کی پالیسی کے حوالے سے ابھی تک امریکی حکومت نے مکمل اعداد وشمار اکٹھے نہیں کئے ہیں تاہم اپریل 2007ءگرین روفس فار ہیلدی سٹیزن کے نام سے ایک مہم شروع کی جس کے تحت علاقائی سطح پر اعداد وشمارجمع کئے جائے گے ۔

امریکی علاقے میناپولیس اس سلسلے میں ایک ادارے فلپس ایکوانٹرپرائزز نے ایک اہم قدم اٹھایا اور لوگوں میں سبز چھتوں کا شعور اجاگر کرنے اور سہولت کے لیے اپنے ادارے کے پلیٹ فارم سے مقامی پودے فراہم کررہے ہیں جو باآسانی چھتوں پر لگائے جاسکتے ہیں ۔فلپس ایکو انٹرپرائزز اپنے سینٹر پر آنے والوں کو سبز چھتوں کی اہمیت سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔


 کیا ہمارے بلڈرز ، این جی اوز اور متعلقہ ادارے اس جانب بھی تھوڑی سی توجہ مرکوز کریں گے؟

Friday, June 22, 2007

دشت امکاں کو ایک نقش پا ۔۔۔ پایا

پہاڑ کی چوٹی سے موبائل کال اور اب نیپالی جوڑے کے عہد و پیماں

اب کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی!

چاہے وہ دنیا کی بلند ترین چوٹی سے کی جانے والی فون کال کا ذکر ہو یا ہزاروں فٹ بلندی پر شادی رچانے کا تذکرہ ، اب کسی با ت پر حیرت نہیں ہوتی۔

پچھلے دنوں برطانوی کوہ پیما راڈ بابر نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے موبائل فون کال کرکے ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ اکیس مئی کی صبح راڈ نے چوٹی کی شمالی کگر سے دو کالیں کیں ۔ پہلی کال میں انہوں نے ایورسٹ کے موسم اور منظر کو بیان کیا اور بتایا کہ وہ بیس کیمپ پہنچ کر کیا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے دوسری کال اپنے اہل خانہ کو کی ۔ راڈ کا پہلی کال کو ان کی مہم کے اسپانسر نے ایک وائس میسیج پر ریکارڈ کیا تاکہ کال کا ثبوت باقی رہے ۔ ایورسٹ کی چوٹی سے کال یا موبائل کا استعمال اس وقت ممکن ہوسکا جب یہاں چین کی طرف سے ایک بیس اسٹیشن تعمیر کیا گیا جو ایورسٹ کی شمالی کگر کی حد میں ہے ۔ ہمالیہ میں ٹیلی فون کی سروس چینی فوج کی ایورسٹ میں موجودگی کی وجہ سے بہتر ہورہی ہے جو اولمپک کی مشعل چوٹی پر لے جانے کی تیاری کررہی ہے ۔

راڈ بابر وسط اپریل میں ایورسٹ کے بیس کیمپ پہنچے تھے اور اس کے بعد انہوں ن اپنے آپ کو بلندی کا عادی بنایا ۔ بابر اور ان کی ٹیم نے پندرہ مئی کو چوٹی کی جانب چڑھنا شروع کیا ۔آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر کی بلندی سے فون کال کرنے کے لیے بابر کو اپنا آکسیجن ماسک بھی اتارنا پڑا اور منفی تیس درجہ حرارت میں راڈ کے پاس یہ تاریخی کارنامہ سر انجام دینے کے لیے صرف پندرہ منٹ تھے ۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہے جو پہاڑ سر کرنے والے کوہ پیما چوٹی پر گذارتے ہیں ۔ تاہم راڈ نے نہ صرف دو کالیں کیں بلکہ وہ دنیا کے بلند ترین مقام سے ایس ایم ایس بھیجنے والے پہلے شخص بھی بن گئے ۔



اسی عرصے میں بہت سے دوسرے ریکارڈ بھی قائم ہوئے مثلا نیپال کے ایک شیر پا نے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، شیرپا اپا نے بارہویں دفعہ آٹھ ہزار آٹھ سو فٹ بلند پہاڑ کی چوٹی سر کی اور اس طرح انہوں نے اپنے ہی قائم کردہ ریکارڈ کو توڑ ڈالا۔اسی دن پچاس سے زائد دوسرے افراد بھی بلند ترین پہاڑ کی چوٹی تک پہنچے جن میں پہلی بار ایورسٹ سر کرنے والے ایک شخص کا پوتا بھی شامل ہے۔

نیپال کی وزارت سیاحت کے مطابق تینتالیس سالہ شیر پا اپا نے ماؤنٹ ایورسٹ پر متعدد بار چڑھنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ جنوبی راستے سے پہاڑ پر چڑھے، تریپن دوسرے افراد جو کہ دنیا بھر سے آئی ہوئی آٹھ مختلف ٹیموں میں بٹے ہوئے تھے ان کے پیچھے پہاڑ پر چڑھے ۔ ان کے ہمراہ تاشی وانگ چک تین ژنگ بھی تھا جو دنیا میں سب سے پہلے ایورسٹ سر کرنے والے نیوزی لینڈ کے ایڈمنڈ ہیلری کے ساتھی تین ژنگ نورگے کا پوتا ہے۔ ہیلری اور نورگے نے 1953 میں اکھٹے ایورسٹ کی چوٹی سر کی تھی۔

ایڈمنڈ ہیلری اور نورگے کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد سے اب تک تقریبا ایک ہزار افراد اسے سر کرچکے ہیں اور ساٹھ سے زیادہ بدقسمت افراد ایسے ہیں جو اسے سر کرنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔

مہم جوئی کے شوقین کوہ پیماؤں کواپنی مہمات کو یادگار بنانے کا جنون انہیں نت نئی سرگرمیوں پر اکساتا رہتا ہے، نیپال کے ایک جوڑے نے بھی اپنی مہم کو یادگار بنانے کے لیے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی رچائی۔یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی اور زندگی بھر ساتھ نبھانے کے عہد و پیماں کیے۔ دولہا اور دولہن نے اپنے ارادوں کو خفیہ رکھا تھا اور ان کے ساتھ چوٹی تک چڑھنے والے تیسرے فرد کو بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ چوٹی پر ایک دوسرے سے شادی کے عہد و پیماں کریں گے۔

چوٹی پر پہنچ کر مونی مولے پتی اور پریم دورجی شرپا نے چند منٹ کے لیے اپنے آکسیجن ماسک اتارے اور ایک دوسرے سے شادی کے وعدے دہرائے ، ایک دوسرے کو پلاسٹک کے پھولوں کے ہار پہنائے اور پریم دورجی نے مونی کی مانگ میں سیندور بھرا۔کھٹمنڈو واپسی پر دلہن نے بتایا کہ شادی کی تمام رسومات تو چوٹی پر ممکن نہیں تھیں لہذا وہ اتنا ہی کرسکے بعد ازاں بہت جلد وہ اپنی شادی کی تمام تقریبات منعقد کریں گے۔دولہے پریم دورجی نے بتایا کہ ماضی میں کئی جوڑے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی کرنے کا ارادہ کرتے رہے ہیں لیکن وہ چوٹی پر نہیں پہنچ سکے ، ان دونوں نے بھی ناکامی کے ڈر سے اپنا ارادہ کسی کو نہیں بتایا تھا اور ان کے خاندان والوں کو بھی اس کا علم نہیں تھا۔

اس کے علاوہ بھی اس سال ماؤنٹ ایورسٹ پر کئی نئے ریکارڈ قائم ہوئے ۔ دو ایرانی خواتین چوٹی پر پہنچ کر ا یورسٹ سر کرنے والی پہلی مسلمان خواتین بنیں جبکہ اپا شیرا نے چوٹی پندرہویں مرتبہ سر کرکے اپنا ہی ریکارڈ توڑا۔

  پاکستان دنیا کے عظیم سلسلہ کوہ ہمالیہ ، قراقرم ،ہندوکش اور پامیر کے سنگم پر واقع جغرافیائی اعتبار سے اک منفرد ملک ہے ۔ اس کے پہاڑی سلسلوں میں قطبی علاقوں کو چھوڑ کرسب سے زیادہ گلیشیئرز یہیں واقع ہیں ۔ یہ گلیشیئرز صف شفاف پانی کے ذخیرے ہیں جو سال بھر ہمارے دریاؤں کو رواں رکھتے ہیں۔ عالمی حدت میں اضافے کی وجہ ہمالیہ کے گلیشیئرز کی برف تیزی سے پگھلنا شروع ہوگئی ہے جس سے برصغیر پاک و ہند اور چین کے کروڑوں لوگوں کی زندگی خطرے ہیں ہے۔ یہ گلیشیئر اوسطا دس سے پندرہ میٹر ( تینتیں فٹ سالانہ ) کے حساب سے کم ہورہے ہیں۔موسموں کی بے ترتیبی کے علاوہ پہاڑی چوٹیوں خصوصا ماؤنٹ ایورسٹ کے لیے ایک اوربڑھتا ہوا خطرہ وہ کچرا ہے جو سیاح اپنی کوہ پیمائی کے دوران چھوڑ جاتے ہیں۔یہ کچرا ہر سال بڑھتا ہی جارہا ہے ۔اس حوالے سے رواں سال میں خاصی پیش رفت ہوئی کہ نیپال کے ساتھ مل کر جاپان کے کو پیماؤں نے اس بلند ترین چوٹی سے کچرا واپس لانے کی ٹھانی۔جاپان کے ایک کوہ پیما دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے کئی ٹن وزنی کچرا نیچے لانے میں کامیاب بھی ہوگئے، لین نو گوچی نامی یہ کوہ پیما جنہوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سے کچرا جمع کرنے والے جاپانی اور نیپالی کوہ پیماؤں پر مشتمل ایک ٹیم کی قیادت کی تھی دنیا کے اس بلند و بالا پہاڑ کی کوہ پیمائی سے واپسی پر 500 کلوگرام وزن کے پرانے خیمے، کھانے پینے کی اشیا، خالی ڈبے اور ادویات اپنے ساتھ لائے ہیں جو کئی عشروں سے وہاں پڑی تھیں جنہیں مختلف کوہ پیما پہاڑ کی چوٹی پر چھوڑ کر چلے آئے تھے۔ان کے اندازے کے مطابق انہوں نے ایورسٹ کی چوٹی سے اپنی پانچ مہموں کے دوران نو ہزار کلوگرام وزنی کچرا جمع کیا ہے۔ پہاڑ کی اس چوٹی کو عام طور پر دنیا کی سب سے بلند کچراگاہ تصور کیا جاتا ہے۔ مسٹر نوگوچی کا کہنا تھا کہ وہ ٹوکیو اور سیول میں اپنے ساتھ لائی کچھ اشیا کی نمائش بھی کریں گے تا کہ دنیا کی اس بلند ترین اورمقبول ترین چوٹی کو صاف رکھنے سے متعلق عوامی شعور بیدار کیا جاسکے۔

 اپنی پہلی ہی مہم کے بعدانہوں نے بتایا کہ اس سال کی صفائی مہم کے دوران انہوں نے یہ بات محسوس کی کہ وہاں پھینکی جانے والی اشیا کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ان کہنا تھا کہ 1953 میں ماؤنٹ ایورسٹ کو سب سے پہلے سر کرنے والے دو کوہ پیما ایڈ منڈ ہیلری اور شیر پا تین ژنگ کے بعد سے پچھلے چون برسوں میں پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے دوران اس کی چوٹی پر کوئی پچاس ٹن کچرا جمع ہوا ہے جو وہاں پڑا تھا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اس قدر بلندی، برف اور آکسیجن میں کمی کے باعث کوہ پیماؤں کے لیے کوڑا نیچے لانا انتہائی دشوار کام ہے لہذا مسٹر نوگوچی کے اس کام پر انہیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے۔

گذشتہ دہائیوں کے دوران نیپالی حکومت نے دنیا کے اس بلند ترین پہاڑ کو صاف کرنے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں، اور اس مقصد کے لیے پہاڑ کی چوٹی پر جانے والے مہم جوؤں سے کچھ اضافی رقم جمع کرانے کو کہا جاتا ہے جو انہیں اسی صورت میں واپس مل سکتی ہے جب وہ اپنے ساتھ لے جانے والا کچرا واپس لائیں۔

ایک جینیئس ریاضی داں

آئیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ کی بلند ترین چوٹی کے حوالے سے ایک ایسے شخص کو یاد کرتے ہیں جس کا تذکرہ کیے بغیر ایورسٹ کا ذکر ہمیشہ ادھورا سمجھا جائے گا۔بی بی سی ویب سائٹ کے مطابق ، یہ بات راج برطانیہ کے زمانے کی ہے سن 1852کی جب ہندوستان پر بر طانیہ کی حکومت تھی، ایک روز شمالی قصبے دہرہ دون کے ایک دفتر میں ایک نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور اپنے افسر کے سامنے جاکر چلایا” جناب میں نے دنیا کی سب سے اونچی پہاڑی چوٹی دریافت کرلی ہے۔ یہ نوجوان رادھا ناتھ سکدھر تھا۔

اعداد و شمار کو قابل فہم بنانے کے لیے تقریبا چار برس پر مشتمل محنت شاقہ میں مصروف رہنے کے بعد رادھا ناتھ سکدھر اس قابل ہوا تھاکہ سلسلہ کوہ ہمالیہ کی اس پندرہویں چوٹی کی اونچائی معلوم کر سکے، اسی بلند ترین پہاڑ کو بعد میں ماؤنٹ ایورسٹ کا نام دیا گیا جو دراصل اس وقت کے سروے ڈپارٹمنٹ کے اعلی ترین سرویئر جنرل سر جارج ایورسٹ سے منسوب کیا گیا تھا جنہوں نے اس پہاڑ کی انتیس ہزاردو فٹ یا آٹھ ہزار آٹھ سو چالیس میٹر اونچائی کو سر کیا۔ سکدھر کا یہ کارنامہ ، جس کے بارے میں بہت سے بھارتیوں کو علم ہی نہیں ہے لندن کے علاقے بروک لین میں ایک عظیم نمائش میں پیش کیا گیا، بھارتی حکومت کے تعاون سے یہ نمائش لندن میں برصغیر کی نقشہ بندی کے دو سو برس مکمل ہونے پر لگائی گئی تھی۔

برصغیر کی نقشہ بندی کے اس کام کا آغاز جسے ”علمی تاریخ “کا سب سے عظیم ترین اور حیران کن کارنامہ قرار دیا گیا سن اٹھارہ سو دو میں مدراس میں تعینات برطانوی فوج کے ایک افسر ولیم لیمبٹن نے کیا تھا۔ اس سروے میں بعد میں ہزاروں ہندوستانیوں نے حصہ لیا اور سن اٹھارہ سو انیس میں سروے کے اس کام کو عظیم مثلثیاتی ( علم ریاضی یا حساب دانی کا وہ شعبہ جو تکون زاویوں سے متعلق ہو)  کا نام دیا گیا۔ اس کام کے ذریعے سولہ سو میل رقبے کے نقشے بنائے گئے جن کی تکمیل کے دوران بے شمار لوگ لقمہ اجل بنے ، زیادہ تر ہلاکتیں چیتوں یا ملیریا کے مرض کی وجہ سے ہوئیں۔

انتالیس سالہ سکدھر اس وقت سروے کرنے والے مختلف دستوں کے جمع کیے ہوئے اعداد و شمار کا حساب کتاب لگایا کرتا تھا۔ اس موضوع پر دو کتابیں تخلیق کرنے والے برطانوی مورخ جان کے نے بتایا کہ سکدھر جس کام میں مصروف تھا اسے انجام دینے کے لیے علم ریاضی یا حساب دانی پر دسترس بہت ضرورت تھی جو اس میں تھی ، سر جارج ایورسٹ نے سکدھر کو غیر معمولی قابلیت کا حامل جینیئس ریاضی داں قرار دیا تھا۔برطانوی مورخ جان کے کا کہنا ہے کہ سر جارج ایورسٹ کی طرح ممکن ہے کہ سکدھر نے بھی کبھی خود پہاڑ کی یہ چوٹی نہ دیکھی ہو۔1847 میں جب سروے کرنے والوں نے پہلی بار دارجلنگ کے مقام سے اس چوٹی کا نظارہ کیا ہو تب شاید اسے ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے اونچے مقام کے برابر اونچائی یا چوٹی قرار دیا گیا ہو، تاہم 1856تک جب تک ان اعداد و شمار و معلومات کا حساب کئی بار پھر نہ کر لیا گیا اس کا باقاعدہ سرکاری اعلان نہیں کیا گیا کہ یہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔

سکدھر ، کلکتہ کے قدیم شہر جوروسانکو کے ایک بنگالی برہمن کے گھر اکتوبر 1813 میں پیدا ہوا ،اس نے شہر کے مشہور ہندو کالج سے علم ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔ تھوڑی بہت شدھ بدھ انگریزی زبان کی بھی تھی، کام میں جٹے رہنے والے سکدھر نے زندگی بھر شادی نہیں کی، ان کے افسر سر جارج نے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا تھا۔

انیس سو پچپن میں ماؤنٹ ایورسٹ چوٹی کی اونچائی میں چھبیس فٹ کا اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر انتیس ہزار اٹھائیس فٹ ہوگئی، انیس سو ننانوے میں اس کی اونچائی مزید سات فٹ اونچی ناپی گئی ، آج دنیا کی بلند ترین چوٹی انتیس ہزار پینتیس فٹ اونچی ہے۔کوہ پیمائی کی تاریخ ہمیشہ سکدھر اور اس جیسے بہت سے دوسرے جینیئس افراد کی احسان مند رہے گی