Friday, August 3, 2007

ماحول کے تحفظ کے ساٹھ سال


ایک احساس جو دھیرے دھیرے عالمی تحریک بنتا جارہا ہے

 روز و شب کی تسبیح کے دانے شمار ہوتے چلے جارہے ہیں،گنتی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ساٹھ سال ! عمر کی نقدی سمجھو کہ ختم ہونے کو ہے اور وقت کی ریت ہے کہ بند مٹھی سے دھیرے دھیرے بے آواز پھسلتی جارہی ہے۔۔۔ لیکن یہ ساٹھ سال اگر کسی ملک کی عمر کے ہوں تو شاید اتنے زیادہ نہ مانے جاتے ہوں بہرحال یہ ایک طویل عرصہ ضرور ہے ۔ وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے ساٹھ سال ہوچلے ہیں۔کھونے اور پانے کی ایک طویل کہانی ہے جو قوم کو ازبر ہوگی ۔2007 کا سال ایک سیاسی انتشار اور بے چینی کے ساتھ خاتمے کی طرف رواں دواں ہے لیکن کچھ اچھے واقعات بھی اس سال کے دامن پر نقش ہیں ان میں سر فہرست عدلیہ کی سربلندی ہے ۔پاکستان اور خصوصاکراچی کے وہ شہری جو آئے دن ماحولیاتی حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں اب اپنی فریاد لےکر عدالت میں جاسکتے ہیں اوریہ امید بھی بندھ چلی ہے کہ شاید اب انہیں انصاف مل سکے۔

 پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ماحول کے تحفظ کا احساس 70کی دہائی میں جاگا اور دنیا اس جانب سنجیدگی سے متوجہ ہوئی۔

 قیام پاکستان کے بعد اولین دنوں میں ماحول کے بارے میں معلومات کے حصول کا واحد ذریعہ صرف برطانوی گزیٹیر تھے۔ ان کے علاوہ شعبہ جنگلی حیات اور جنگلات کے کتب خانے سے بھی مدد مل سکتی تھی ۔ دیکھا جائے تواس وقت بھی بہت سے لوگ اس حوالے سے مصروف عمل تھے ان میں کچھ غیر ملکی اور کچھ پاکستانیوں کا کام بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ جارج شیلر کی کتاب ” اسٹونز آف سائلنس“کو آپ کسی صورت نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ یہ کتاب جنگلات اور جنگلی حیات کو ہماری بے پروائی سے پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں بتاتی ہے۔گائے ماؤنٹ فورٹ کی تحریریں پاکستان کے مختلف ماحولیاتی نظاموں کے بارے میں معلومات کاخزانہ ہیں ۔ فورٹ اور شیلردونوں کے کام نے پاکستان میں نیشنل پارکس کے قیام کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد ٹام رابرٹ ہیں جنہوں نے پاکستان کے ممالیہ اور پرندوں کے بارے میں درجہ بندی کرکے ان سے متعلق تمام معلومات کو یکجا کیا۔سمجھ لیجیے کہ یہ پاکستان میں ماحول کے حوالے سے پہلا تحقیقی کام تھا۔پاکستان میں موجود دنیا کی نایاب تتلیوں کے بارے میں بھی رابرٹ کاکام سند کی حیثیت رکھتا ہے ۔

اس حوالے سے کچھ پاکستانیوں کے نام بھی نمایاں ہیں۔ پاکستان میں جنگلی حیات سے متعلق پہلی قانون سازی صوبہ سندھ نے 1972 میں کی۔ اس عمل میں جناب ڈبلیو اے کرمانی پیش پیش تھے۔ کرمانی صاحب کی دور اندیشی نے جنگلی حیات کے لیے محفوظ علاقوں کا ایک سلسلہ قائم کرنے کے لیے بنیاد فراہم کی ۔ اس میں سمندری کچھووں کے تحفط کا منصوبہ بھی شامل ہے ۔ فہمیدہ اسرار کا نام بھی کچھووں کے تحفظ کے حوالے سے ملک بھر میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ فہمیدہ صاحبہ نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ کچھووں کے تحفط کے لیے ساحلوں پر گزارا ہے ۔ماحولیاتی تاریخ میں ان سب کا نام سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا ۔

 ماحول سے متعلق ہماری معلومات شاید صرف چرند پرند اور جنگلات کے تحفظ تک ہی محدود رہتیں اگر 1972 میں سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں کانفرنس برائے انسانی ترقی اور ماحول نہ منعقد ہوتی۔ اس کانفرنس نے ماحول کو سائنس دانوں کے خشک اور پیچیدہ زبان مقالوں سے نکال کر انسانی زندگی کے اہم ترین عنصر کے طور پر پیش کیا۔ اس کانفرنس ہی کا اثر تھا کہ 1980میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ، ڈبلیو ڈبلیو ایف اورآئی یو سی این کی مشترکہ کاوشوں سے تحفظ ماحول کی عالمی حکمت عملیWorld Conservation Strategy دنیا کے سامنے آئی اور یوں ماحول کا شعبہ پہلی بار چند سائنس دانوں کی اجارہ داری سے نکل کر نوع انسانی کی بھلائی سے منسلک ہوگیا۔اس عالمی حکمت عملی کے بعد دنیا کے تمام ممالک کو کہا گیا کہ وہ اپنے ملک کے لیے قومی حکمت عملی تیار کریں ، پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا۔ لہذا اگر ہم پاکستان میں ماحولیاتی تحریک کا جائزہ لیں تو پہلا سنگ میل یہی قومی حکمت عملی نظر آتی ہے۔پاکستان کی قومی حکمت عملی NCSکی تیاری میں چند ایسے اصولوں کو اپنایا گیا جو پاکستان کے لیے انوکھے تھے مثلا ترقی کے عمل کو بجائے شعبہ جاتی تقسیم کے ایک مربوط عمل کے طور پر سامنے لایا گیامثلا زراعت کو صرف محکمہ زراعت یا کسانوں کی ذمے داری نہیں بلکہ متعلقہ تمام شعبوں مثلا آبی وسائل ، زمین، صارفین وغیرہ کی ذمے داری کے طور پر پیش کیا گیا۔عوامی مشاورت کو پہلی بار ایک بھر پور انداز سے ترقی کے عمل کا اہم ترین جزو مانا گیا۔وفاقی کابینہ نے اس حکمت عملی کو 1992میں منظور کیا۔قومی حکمت عملی کے بعد اگلے قدم کے طور پر صوبائی اور ضلعی حکمت عملیوں کی تیاری کا کام جاری ہے ، سرحد اور بلوچستان کی حکمت عملیاں تیار ہوچکی ہیں جبکہ سندھ میں اس حوالے سے کام جاری ہے ۔

 اسی ماحولیاتی تحریک کا دوسرا اہم موڑ1997 میں آیا جب پاکستان میں ماحولیاتی قانون سازی اور اس کا نفاذ ہوا۔اس کے بعد1999میں پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ مجریہ1997کی دفعہ20 کے تحت ملک میں ماحولیاتی مقدمات اور مسائل کو نمٹانے کے لیے ابتدائی طور پر تین ماحولیاتی ٹریبونل قائم کیے گئے ، ان میں سے دو کراچی میں اور ایک لاہور میں قائم کیا گیا۔

 وفاقی کابینہ نے ملک کی پہلی قومی ماحولیاتی پالیسی کی2005 میں منظوری دی۔حکومتی بیان کے مطابق اس پالیسی کے نفاذ کے لیے 171رہنما خطوط وضع کیے گئے جن میں سے تقریبا چالیس فیصد رہنما خطوط پر پہلے ہی عمل درآمد ہوچکا ہے ۔

 پاکستان بہت سے عالمی معاہدوں میں بھی شامل ہے جن میں آب گاہوں کے تحفظ کا معاہدہ ”رامسر کنونشن“ ،جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کا معاہدہ ”سائٹیز“،حیاتیاتی تنوع کا میثاق، سمندروں اور صحراؤں سے متعلق معاہدہ اور بدلتے موسموں اور مضر گیسوں کی روک تھام کا معاہدہ قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں کے حوالے سے ڈھیروں دستاویزات بھی منظر عام پر آچکی ہیں جن میں بائیوڈائیورسٹی ایکشن پلان اور ویٹ لینڈ ایکشن پلان وغیرہ اہم ہیں ۔

 یہ تمام اقدامات ، دستاویزاور قوانین ہمارے ملک کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتے تھے اگر ان پر سنجیدگی اور ایمان داری سے عمل درآمد کیا جاتا ۔لیکن گھٹتے ہوئے وسائل اور آلودگی کی بڑھتی ہوئی صورت حال آج کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ اکنامک سروے آف پاکستان 2005-06کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق ماحول کی تباہی سے معیشت کوسالانہ 2.2 ارب ڈالر سالانہ نقصان پہنچ رہا ہے۔فضائی آلودگی سے ہر سال بائیس ہزار افراد موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور ہزاروں سیاہ پھیپھڑوں کے ساتھ زندگی کے نام پر ایک سزا کاٹتے ہیں ۔پینے کا صاف پانی جو انسانی کی بنیادی ضرورت اور اس کا آئینی حق ہے، کے نام پر لوگ خصوصا غریب افرادآلودہ اور گٹروں کا پانی پی کرجان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ PCSIR ہمارے ملک کا ایک معتبر سائنسی ادارہ ہے کی ایک رپورٹ پانی کی شدید آلودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس کے مطابق کراچی ، لاہور ،اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں جو پانی پینے کے لیے استعمال ہورہا ہے اس کا 75 فیصد حصہ پینے کے لیے مضر بلکہ ناقابل استعمال ہے۔مذکورہ ادارے نے پانی کے یہ نمونے ان شہروں کے مختلف اسکولوں سے حاصل کیے تھے۔

  مہنگائی کا وہ طوفان ہے کہ الامان الحفیظ !مہنگائی کے اس بڑھتے ہوئے طوفان میں اگر کوئی چیز سستی ہے تو وہ ہے انسانی جان بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ غریب کی جان۔ ٹریفک حادثات ہوں یا اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غفلت، ملاوٹ شدہ غذا ہو یا آلودہ پانی۔ وجہ کچھ بھی ہو اس سے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی یہ وہ تیر ہیں جن کا ہدف صرف اور صرف غریب انسان ہی بنتے ہیں۔ ان جانوں کی نہ کوئی اہمیت ہے اور نہ کوئی قدرو قیمت، اس کے لیے نہ کوئی ذمے دار ٹھہرتا ہے اور نہ ہی کوئی خوں بہا دینا پڑتا ہے، گویا۔۔۔۔۔

          یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

 آگہی شاید ایک عذاب ہی ہے ،اس ساری صورت حال میں انسان کتنا مایوس اور دل شکستہ ہوسکتا ہے اس کا تذکرہ غیر ضروری ہے لیکن چونکہ مایوسی گناہ ہے اس لیے کچھ امیدیں دل کے کسی کونے میں آج بھی سر اٹھاتی ہیں کہ شاید ہماری آج کی آزاد عدلیہ کا اگلا سوموٹو ایکشن ماحول کی تباہی کے خلاف ہو!
قوم کوساٹھ واں جشن آزادی مبارک ہو!


  

Friday, July 13, 2007

تاج محل بھی عجائبات عالم میں شامل

تاج محل کے مداحوں کے لیے یہ خبر خوشی کا باعث ہوگی کہ اس عظیم الشان محبت کی یادگار کو ایک بین الاقوامی مقابلے کے ذریعے طے پانے والے دور جدید کے سات عجائبات عالم میں شامل کرلیا گیاہے۔ دنیا کے نئے سات عجائبات کے انتخاب کے لیے سوئس تنظیم ” نیو سیون ونڈر فاؤنڈیشن “ نے جن اکیس شاہکاروں کی فہرست تیار کی تھی اس میں تاج محل بھی شامل تھا۔

پرتگال کے دار الحکومت لزبن میں ایک تقریب کے دوران ہالی ووڈ کے معروف اداکار بین کنگسلے اور بالی ووڈ کی اداکارہ بپاشا باسو نے ان عجائبات کے ناموں کا اعلان کیا۔آگرہ کی میئر انجولا نے اس کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

تاج محل کے علاوہ سات عجائبات کی اس فہرست میں اردن میں موجود پیٹرا شہر کی باقیات شامل ہیں ۔ روم میں موجود کلوسیم واحد یورپی عمارت ہے جسے اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔میکسیکو میں موجود چیچن اتزا کے کھنڈرات بھی شامل ہیں ،دیوار چین بھی جدید عجائبات عالم میں اپنی جگہ بناچکی ہے ۔ برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو میں حضرت عیسی علیہ اسلام کا مجسمہ لاطینی امریکا سے شامل ہے اس کے علاوہ آٹھ ہزار فٹ بلندی پر ایک پہاڑی کے ڈھلوان پر واقع پیرو کے ماچو پیچو نامی قدیم شہر کے کھنڈرات جن کا تعلق انکا تہذیب سے بتایا جاتا ہے اس فہرست میں شامل ہیں ۔


 تاج محل جو دراصل ہندوستان کے بادشاہ شاہ جہاں کی بیوی ملکہ ممتاز محل کا مقبرہ ہے، ساری دنیا میں اسے محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔تاج محل برصغیر کی تہذیب و ثقافت کا عکاس اورخصوصاہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا مظہر ہے۔ محبت کی یہ انتہا شاید دنیا اور خصوصا مغرب کے لیے حیرت کا باعث ہو سکتی ہے لیکن پاک و ہند کے رہنے والوں کے لیے نہیں کیونکہ اس زرخیز مٹی سے محبت کی ایسی بے شمار لازوال داستانیں جنم لیتی رہتی ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ بقول ساحر

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

 محبت کی اسی یادگار تاج محل کی تعمیر کو اب 353 سال ہوچکے ہیں ۔ چند سال پہلے اس کی تین سو پچاس ویں سالگرہ بہت دھوم دھام سے منائی گئی، اس موقع پر مورخین میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آخر تاج محل کی عمر کیا ہے؟ اکثر مورخین کا کہنا ہے کہ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی ملکہ ممتاز محل کی وفات کے دو برس بعد تاج محل کی تعمیر شروع ہوگئی تھی اور سترہ برس میں مکمل ہوئی، اس حساب سے تاج محل کو تعمیر ہوئے تین سو تریپن برس ہو چلے ہیں۔ مورخین کے مطابق بادشاہ نامے میں تاج محل کی تعمیر کے تمام منصوبوں کا تذکرہ موجود ہے اور تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ان تمام منصوبوں کو عملی جامہ بھی پہنایا گیا، بادشاہ نامے کے مطابق تاج محل 1651 میں مکمل ہوگیا تھا۔
شاہ جہاں کی محبوب بیوی ممتاز محل کے انتقال کے بعد شاہ جہاں نے اپنی محبت کے اظہار کے لیے اس کا ایک عالی شان مقبرہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور سترہ سال کی دن و رات محنت کے بعد سنگ مر مر کی ایک شان دار عمارت تعمیر ہوگئی، تقریبا بیس ہزار مزدوروں نے دن و رات اس پر کام کیا۔کہا جاتا ہے کہ عیسی شیرازی نامی ایک انجینئر نے اس کا نقشہ تیار کیا تھا لیکن بادشاہ نامے میں لکھا ہے کہ خود شاہ جہاں نے اس کا خاکہ تیار کیا تھا۔ عمارت کے زمین دوز حصے میں ممتاز محل کی قبر واقع ہے اور شاہ جہاں بھی اس پہلو میں محو خواب ہیں ۔

تاج محل مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثال عمارت ہے جو تعمیر کے بعد سے ہی دنیا بھر کے سیاحوں کا مرکز رہی ہے، محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں ، ادیبوں ، مصوروں اور فنکاروں کے لیے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک مقبرہ ہے،تاج محل ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا مظہر ہے اور پورے برصغیر کی تہذیب و ثقافت تاج محل پر نازاں ہے۔ ماہرین کے مطابق تاج محل ایک ایسا فن پارہ ہے جو موجودہ دور میں کمپوزٹ کلچر کی بھی عکاسی کرتا ہے، تاج محل دیکھنے والے کہتے ہیں کہ اسے دیکھ کر انسان کی جمالیاتی حس بیدار ہوتی ہے اور ایک انوکھی سی خوشی حا صل ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے عوام اور خواص دونوں ہندوستان پہنچتے ہی تاج محل کے دیدار کو پہنچ جاتے ہیں۔ سن1874 میں برطانوی سیاح ایڈورڈ لیئر نے کہا تھا کہ دنیا کے باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک وہ جنہوں نے تاج محل کا دیدار کیا ہے اور دوسرے وہ جو اس سے محروم رہے۔

لیکن آج جب اسے نئے عجائبات عالم میں شامل کر لیا گیا ہے تو ہم یہ بتاتے چلےں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے تاج محل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔اسکے مینار جھک رہے ہیں، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ تاج محل کے عقب میں دریائے جمنا میں ہونے والی تبدیلیوں کے سبب تاج محل کے مینار جھک رہے ہیں اگرچہ محکمہ آثار قدیمہ اس کی تردید کرتا ہے لیکن ایک اطاع کے مطابق ایک مینارچھ انچ تک جھک گیا ہے، ماضی میں بھی منیاروں کی جھکنے کی خبر آئی تھی جس کے بعد احتیاطا مینار لوگوں کے لیے بند کردیے گئے تھے۔

 میناروں کے جھکنے کا موجودہ تنازعہ آگرہ کے سرکردہ مورخ پروفیسر رام ناتھ کے ایک تحقیقی مقالے کے بعد پیدا ہوا ہے ۔ پروفیسر ناتھ کہتے ہیں کہ 1940 سے 1965 تک تاج محل کے میناروں میں مسلسل جھکاؤ آیا ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ آثار قدیمہ نے ہر سال اس کاسروے نہیں کروایا ۔ پروفیسر ناتھ کا کہنا ہے کہ دریائے جمنا تاج محل کے تحفظ کا ضامن ہے اور اگر تاج محل کو بچانا ہے تو اس کے پیچھے بہنے والی جمنا کے رخ میں کسی تبدیلی کے بغیر سال کے تین سو پینسٹھ دن پانی کے بہاؤکو برقرار رکھنا ہوگا ۔ پروفیسر رام ناتھ کا کہنا ہے کہ جمنا کا کچھ حصہ پہلے ہی سوکھا ہے اور وہاں ایک کوریڈور بنانے سے جمنا کے رخ میں تبدیلی آئی ہے اور اب پانی تاج محل کے پشتوں پر جانے کے بجائے سیدھا جانے لگا ہے ۔ اس سے تاج محل کا اصل ڈیزائن متاثر ہوا ہے اور بقول پروفیسر ناتھ کے کہ اس سے تاج محل کو زبردست نقصان پہنچے گا ۔

 مغلیہ فن تعمیر کے سر کردہ ماہر اور محکمہ آثار قدیمہ بھارت کے سابق سربراہ پروفیسر ایم سی جوشی کا کہنا تھا کہ تاج محل کی تعمیر میں جمنا کو بہت اچھی طرح استعمال کیا گیا ہے اور اگر پانی بیس پچیس فٹ اوپر تک بھی پہنچ جائے تو بھی تاج محل کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔ پروفیسر کا کہنا ہے کہ اگر دریا میں کوئی تبدیلی کی جائے گی اور بغیر سمجھے بوجھے عام انجینئروں سے کوئی کام کروایا جائے گا تو یقینا تاج کے میناروں میں جھکاؤ  پیدا ہوگا ۔ پروفیسر جوشی کا یہ بھی خیال ہے کہ تاج محل کو کسی بھی نقصان سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ دریا کی پرانی حالت بحال کی جائے اور اس کی گہرائی اور چوڑائی بھی برقرار رکھی جائے ورنہ محبت کی یہ عظیم یادگار وقت سے پہلے ختم ہوجائے گی ۔
اتر پردیش کی سابق مایا وتی حکومت نے تاج محل کے عقب میں دریائے جمنا کے کنارے ایک تجارتی کمپلیکس بنانے کا آغاز کیا تھالیکن سپریم کورٹ کی بروقت مداخلت سے تعمیر روک دی گئی ۔

تاج محل کے سفید چمکتے ہوئے سنگ مر مر کو تیز روشنیوں سے بھی خطرہ ہے اس کے تحفظ کے لیے پچھلے بیس سالوں سے یہ یادگار شام ہوتے ہی سیاحوں کے لیے بند کردی جاتی ہے ۔ بھارت کی حکومت نے 1984 میں یہ فیصلہ کیا تھا لیکن اب سیاحوں کے اصرار پر پروگرام بنایا جا رہا ہے کہ ایک ماہ میں پانچ راتوں یعنی پورے چاند کی رات اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی دور اتوں کو سیاحوں کے لیے تاج محل کے دروازے کھول دیے جائیں گے ۔ مگر ہر رات ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ تاج محل کے پاس یا ارد گرد تیز روشنی والی فلڈ لائٹس سے اسے نقصان پہنچ سکتاہے ۔تاج محل کا سنگ مر مر آس پاس کی آلودگی کے باعث بھی پیلا پڑتا جارہا ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔ تقریبا ایک عشرہ قبل سپریم کورٹ نے تاج محل کے تحفظ کے لیے آلودگی پھیلانے والی آس پاس کی سیکڑوں کمپنیوں کو بند کرنے اور انہیں دوسرے مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ عدالت نے تاج محل کے آس پاس موٹر گاڑیاں کے چلنے پر بھی پابندی لگادی تھی ۔ حالیہ تجزیوں سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں دھوئیں کی کمی سے سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروز میں تو کمی آئی ہے لیکن فضا میں ایسے اجزا بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں جن سے تاج محل کے سنگ مر مر کا رنگ پیلا پڑتا جارہا ہے ۔

نیو سیون ونڈر فاؤنڈیشن “ نے دنیا بھر سے جن اکیس شاہکاروں کی جو فہرست تیار کی تھی اس میں تاج محل کے ساتھ انکور واٹ مندر بھی شامل تھا ۔ ہندوستان کی ہندو نواز تنظیم آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے کمبوڈیا کے اس قدیم انکور مندر کو بھی ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تاج حق دار ہے تو اس مندر کو بھی ووٹ ڈالنا چاہیے۔ کمبوڈیا کا انکور مندر دنیا کا سب سے بڑا مندر مانا جاتا ہے۔جو تقریبا دوسو مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں مختلف سائز اور نقش و نگار کے تقریبا تین سو مندر شامل ہیں۔ عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں یہ سب سے بڑی عمارت ہے جسے سن گیارہ سو تیرہ اور گیارہ سو پچاس کے درمیان راجا سوریہ ورمن ثانی نے تعمیر کروایا تھا۔اس مندر کو فن تعمیر کا دلکش نمونہ کہا جاتا ہے۔دنیا کے نئے سات عجائبات کے انتخاب کے لیے سوئس تنظیم آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ انکور مندر ہندوستان کے شاندار کلچر کا عکاس ہے۔ افغانستان میں بامیان میں مہاتما بدھ کے مجسموں کی مسماری کے بعد ہندوستان سے باہر یہ مندر ہی واحد نشانی بچی ہے۔


ان عجائبات کے حوالے سے عوام آن لائن اور موبائل فون کے ذریعے اپنی رائے دے سکتے تھے۔ تاج محل کو ابتدائی طور پر بہت زیادہ ووٹ نہیں ملے تھے لیکن آخر میں صورت حال بدل گئی ۔ مشہور موسیقار اے آر رحمان نے اس کے لیے ایک خوبصورت نغمہ بھی تخلیق کیا تھا۔البتہ حکومتی سطح پر کوئی خاص سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔دوسری طرف برازیل کے صدر نے ریڈیو پر عوام کو ریوڈی جینرو میں واقع مسیحی مجسمے کو عجائبات میں شامل کروانے کے لیے ووٹنگ کا طریقہ کار بتایا تھا اور پیرو کی حکومت نے اپنے قدیم شہر ماچو پیچو کو اس فہرست میں شامل کروانے کے لیے عوامی مقامات پر کمپیوٹر لگوائے تھے تاکہ عوام آسانی سے ووٹنگ میں حصہ لے سکیں۔اس بین الاقوامی مقابلے میں ایک سو ملین سے زائد افراد نے انٹر نیٹ ، ٹیلی فون اور ایس ایم ایس کے ذریعے ووٹنگ کی۔

Tuesday, July 3, 2007

اس کی باتیں بہار کی باتیں

جھلسادینے والی گرمی کا توڑ سر سبز چھتیں

 گرمی کے جھلستے ہوئے دن اور سلگتی راتوں میں ہری بھری سر سبز چھتوں کا تذکرہ خاصا بر محل ہے ، دنیا بھر میں ان کی تعمیر کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ یورپی ممالک اور امریکا تجربات کے بعد پچھلے چھ سالوں سے ان کی تعمیر پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی بھی مثبت اقدام پر عمل درآمد میں ہمارے ملک میں جتنا وقت لگتا ہے اس کے حساب سے تو ان چھتوں کی ہریالی ہمارے لیے’ہنوز دلی دور است‘ کے برابر ہے لیکن امید تو کی جاسکتی ہے نا!۔

 پورے ملک اور خصوصا کراچی میں بجلی کی کمی نے کیا تباہی مچائی ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور اب بارش نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے ، دودنوں کی بارش نے عوام پر وہ عذاب نازل کیا ہے کہ الامان الحفیظ۔حالانکہ سرکاری بیان بازوں کے بیانات کے مطابق تو ملک کے خزانے ان سات سالوں میں لبریز ہوکر چھلک رہے ہیں ، زرمبادلہ کے ذخائر بھی پٹے پڑے ہیں، دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ،راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے ۔لیکن اس ہفتے کے منظر نامے نے سچ اور جھوٹ کو دودھ اور پانی کی طرح الگ کردیا ہے۔اے کاش کہ ہمیں جھوٹ بولتے ہوئے تھوڑی سی شرم آجائے!

دو دن کی برسات نے کراچی میں جاری اربوں روپے کی لاگت کے میگا پروجیکٹ کو جس طرح الٹ کر رکھ دیا ،بقول ہمارے ایک کالم نویس کہ یہ میگا پروجیکٹ نہیں میگابلبلے تھے۔برسات کا یہ بہتا ہوا پانی جو پورے ملک میں تباہی پھیلا کر بالآخر سمندر میں گرجائے گا اس کی بوند بوند کتنی قیمتی ہے کاش ہمارے کرتا دھرتا یہ احساس کرسکتے۔ اگرتھوڑی سی بھی ذمے داری سے کام لیتے تو جگہ جگہ برساتی ندی نالوںاور دریاؤں پر چھوٹے چھوٹے ڈیم جو دراصل آبی ذخیرہ گاہ ہوتیں تعمیر کرچکے ہوتے تو آج اتنی تباہی نہ مچتی اور تمام پانی آنے والے دنوں کے لیے محفوظ بھی ہوجاتا۔اس کے لیے لاکھوں روپے کی کسی غیر ملکی کنسلٹینسی کی صرورت نہیں ہے اور نہ سالوں اس کے لیے نشستند گفتنداور برخاستند جیسی میٹنگوں کی۔ہمارے اپنے ملک میں بے شمار ایسے ماہرین موجود ہیں (دسیوں نام تو ہم بھی پیش کرسکتے ہیں) جنہوں نے اس شعبے پر بے پناہ کام کیا ہے ، اپنی عمریں تحقیق پر صرف کی ہیں ، ہم ان کے کام اور تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن اور بھی غم ہیں زمانے میں۔۔۔۔!

  لیکن اگر آپ کودنیا میں سر اٹھاکر جینا ہے، زمانے کے ساتھ چلنا ہے توخود کو بدلنا ہے۔ توانائی کے فرسودہ طریقوں کو ترک کرکے قدرتی ذرائع کو لازمی اختیار کرنا ہے ، آج نہیں تو کل سہی لیکن یہ وہ نوشتہ دیوار ہے جسے آپ کو پڑھ لینا چاہیے۔

 ماحول کی بڑھتی ہوئی تباہی اور گھٹتے ہوئے ذخائر نے دنیا کو توانائی کے قدرتی ذرائع کی طرف بھرپور طریقے سے متوجہ کر دیا ہے۔ ہوا ، سورج،اورپانی کی لہروں سے توانائی کا حصول یہ وہ خواب ہے جوآج ہر ایک آنکھ میں سجا ہوا ہے۔سب سے سستی ہوا اور سورج سے حاصل کردہ توانائی ہے۔توانائی کے حصول کے ساتھ ساتھ توانائی بچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے ۔ اسی خیال نے سر سبز چھتوں کے تصور کو جنم دیا ہے ۔ یہ کوئی نیا یا انوکھا طریقہ نہیں ہے بلکہ پرانی روایتی چھتوں ہی کی جدید شکل ہے۔وہ چھتیں خشک گھاس پھوس سے بنائی جاتی تھیں اور ان نئی چھتوں میں سر سبز گھاس اور پودے اگانے کا تصور پیش کیا گیا ہے ۔ یہ سرسبز چھتیں گرمی کی شدت کو کم کرتی ہیں جس سے بجلی کے آلات کا استعمال گھٹ جاتا ہے اور ان چھتوں کے ذریعے بارش کے پانی کا بہاؤ آہستہ کرکے اس پانی کا باآسانی ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

 یہ سر سبز چھتوں کی تیاری انتہائی آسان ہے ۔ چھت کو واٹر پروف ممبرین سے ڈھانپ دیا جاتا ہے پھر اس پر مٹی ڈال کر گھاس اور پودے اگائے جاتے ہیں۔ ایسی چھتیں ہماری ذہنی اختراع یا خیالی پلاؤ نہیں ہیں بلکہ امریکا میں چھ سال سے ان چھتوں کی تعمیر پر تجربات جاری ہیں اور اب یہ کئی شہروں میں اپنی بہار جانفزا دکھلا رہی ہیں اور عمارت کے درجہ حرارت کو کم کرکے شہریوں کے گرمی کے عذاب سے بچا رہی ہیں ۔ایک جائزے کے مطابق ایک عام سیمنٹ کی چھت والی عمارت کے مقابلے میں ان سرسبز چھتوں کے درجہ حرارت 31 فیصد کم ہوتا ہے یعنی یہ اکتیس فیصد زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں یہ بڑی بڑی چھتیں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے بھی کام آتی ہیں ۔ ان کی تعمیر ڈھلوانی سطح کے انداز میں کی جاتی ہے اور ایسا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے کہ بارش کا پانی تیزی سے بہنے کے بجائے دھیرے دھیرے بہہ کر نیچے نصب ٹنکیوں میں جمع ہوجائے ۔ یہ برسات کا پانی سال بھر انہی سبز چھتوں کی آب پاشی کے لیے کام آتا ہے۔

شکاگو کے میئررچرڈ ڈیلے جونیئر نے 1999میں یورپ کےاتھا۔ دورے سے واپسی پر شکاگو کی ایک اہم عمارت سٹی ہال کی چھت کو سبز چھت کی شکل دی۔ بقول رچرڈ ڈیلے کے یورپ میں انہوں نے ایک سبز چھت کو بیحد کامیابی سے کام کرتے ہوئے دیکھا ۔ یورپ میں یہ سبز چھت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔ رچرڈ ڈیلے نے حکومت سے مشاورت کے بعد سبز چھت کے لئے فنڈ مختص کرایااور اس طرح آج شکاگو میں سٹی ہال سمیت تین سو اہم عمارات پر سبز چھتیں قائم ہیں ۔ امریکا دیگر شہروں کے مقابلے میں کسی بھی شہر میں سب سے زیادہ چھتیں ہیں۔ ان تین سو چھتوں کا احاطہ تیس لاکھ مربع میٹر پر محیط ہے ۔یہ چھتیں زیادہ تر تجارتی عمارات پر مشتمل ہیں جبکہ کچھ چھتیں رہائشی اور کچھ گودام کی چھتیں بھی ہیں ۔

ٹوم لپٹن شکاگومیں ایک ماہر ماحولیات ہونے کے علاوہ سٹی بیورو آف انوائرنمٹل سروسز کے ایک اہم عہدے دار بھی ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ بیس سال قبل حکومت نے ایک قانون فلور ایریا ریشو( F A R )نافذ کیا جس کے تحت کو ئی بھی بلڈرحکومت کی اجازت سے اپنے پلاٹ سے زیادہ کچھ جگہ اپنے استعمال میں لاسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ اضافی تعمیر وہ صرف مقررہ پلاٹ کی چھت پر تعمیر کرسکتا ہے۔ اس رعایت کے تحت ٹوم لپٹن نے 1996 میں اپنے گیراج پر سبز چھت بنائی ۔

  شکاگو میں بلڈرز کو سبز چھت بنانے کے عیوض حکومت کی طرف سے بہت سی مراعات دی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ شکاگو کا شمار سب سے زیادہ گنجان سبز چھتوں والے شہر میں ہوتا ہے ۔ حکومت کی طرف سے مراعات کے بعد بہت سے بلڈرز اور غیرتجارتی بنیادوں پر کام کرنے والے گروپوں نے حکومت کے ساتھ مل کرسبز چھتیں بنانے میں دل چسپی ظاہر کی ہے۔ نیویارک میں قائم ایک تنظیم ارتھ پلیج نامی تنظیم نے برونیکس ‘بروکلین اور ہارلیم میں سات سبز چھتوں پر کام کیا ۔ لیزا ہوف ارتھ پلیج کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں وہ بتا تی ہیں کہ رہائشی عمارات پر سبز چھتوں کی تعمیر پر لوگ بہت دل چسپی لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سبز چھتوں کے ہمارے نصف سے زیادہ منصوبے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال فروری میں ہمیں اور گرین روفس فار ہیلدی سٹیزن نامی ایک این جی او کو مینا پولیس لاس اینجلس ‘ اٹلانٹا اور دیگر شہروں کے لئے تین لاکھ ڈالرکی گرانٹ دی گئی تاکہ ہم لوگوں میں سبز چھتوں کے شعور کو اجاگر کریں اور انہیں یہ سکھائیں کہ سبز چھتوں کے لئے کیا ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، کس طرح سبز چھتوں پر لگے سبزے کی آب پاشی کی جاتی ہے اور بارش کا پانی کس طرح سبز چھتوں کے کام آتا ہے ۔

 سبز چھتوں کی پالیسی کے حوالے سے ابھی تک امریکی حکومت نے مکمل اعداد وشمار اکٹھے نہیں کئے ہیں تاہم اپریل 2007ءگرین روفس فار ہیلدی سٹیزن کے نام سے ایک مہم شروع کی جس کے تحت علاقائی سطح پر اعداد وشمارجمع کئے جائے گے ۔

امریکی علاقے میناپولیس اس سلسلے میں ایک ادارے فلپس ایکوانٹرپرائزز نے ایک اہم قدم اٹھایا اور لوگوں میں سبز چھتوں کا شعور اجاگر کرنے اور سہولت کے لیے اپنے ادارے کے پلیٹ فارم سے مقامی پودے فراہم کررہے ہیں جو باآسانی چھتوں پر لگائے جاسکتے ہیں ۔فلپس ایکو انٹرپرائزز اپنے سینٹر پر آنے والوں کو سبز چھتوں کی اہمیت سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔


 کیا ہمارے بلڈرز ، این جی اوز اور متعلقہ ادارے اس جانب بھی تھوڑی سی توجہ مرکوز کریں گے؟

Friday, June 22, 2007

دشت امکاں کو ایک نقش پا ۔۔۔ پایا

پہاڑ کی چوٹی سے موبائل کال اور اب نیپالی جوڑے کے عہد و پیماں

اب کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی!

چاہے وہ دنیا کی بلند ترین چوٹی سے کی جانے والی فون کال کا ذکر ہو یا ہزاروں فٹ بلندی پر شادی رچانے کا تذکرہ ، اب کسی با ت پر حیرت نہیں ہوتی۔

پچھلے دنوں برطانوی کوہ پیما راڈ بابر نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے موبائل فون کال کرکے ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ اکیس مئی کی صبح راڈ نے چوٹی کی شمالی کگر سے دو کالیں کیں ۔ پہلی کال میں انہوں نے ایورسٹ کے موسم اور منظر کو بیان کیا اور بتایا کہ وہ بیس کیمپ پہنچ کر کیا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے دوسری کال اپنے اہل خانہ کو کی ۔ راڈ کا پہلی کال کو ان کی مہم کے اسپانسر نے ایک وائس میسیج پر ریکارڈ کیا تاکہ کال کا ثبوت باقی رہے ۔ ایورسٹ کی چوٹی سے کال یا موبائل کا استعمال اس وقت ممکن ہوسکا جب یہاں چین کی طرف سے ایک بیس اسٹیشن تعمیر کیا گیا جو ایورسٹ کی شمالی کگر کی حد میں ہے ۔ ہمالیہ میں ٹیلی فون کی سروس چینی فوج کی ایورسٹ میں موجودگی کی وجہ سے بہتر ہورہی ہے جو اولمپک کی مشعل چوٹی پر لے جانے کی تیاری کررہی ہے ۔

راڈ بابر وسط اپریل میں ایورسٹ کے بیس کیمپ پہنچے تھے اور اس کے بعد انہوں ن اپنے آپ کو بلندی کا عادی بنایا ۔ بابر اور ان کی ٹیم نے پندرہ مئی کو چوٹی کی جانب چڑھنا شروع کیا ۔آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر کی بلندی سے فون کال کرنے کے لیے بابر کو اپنا آکسیجن ماسک بھی اتارنا پڑا اور منفی تیس درجہ حرارت میں راڈ کے پاس یہ تاریخی کارنامہ سر انجام دینے کے لیے صرف پندرہ منٹ تھے ۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہے جو پہاڑ سر کرنے والے کوہ پیما چوٹی پر گذارتے ہیں ۔ تاہم راڈ نے نہ صرف دو کالیں کیں بلکہ وہ دنیا کے بلند ترین مقام سے ایس ایم ایس بھیجنے والے پہلے شخص بھی بن گئے ۔



اسی عرصے میں بہت سے دوسرے ریکارڈ بھی قائم ہوئے مثلا نیپال کے ایک شیر پا نے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، شیرپا اپا نے بارہویں دفعہ آٹھ ہزار آٹھ سو فٹ بلند پہاڑ کی چوٹی سر کی اور اس طرح انہوں نے اپنے ہی قائم کردہ ریکارڈ کو توڑ ڈالا۔اسی دن پچاس سے زائد دوسرے افراد بھی بلند ترین پہاڑ کی چوٹی تک پہنچے جن میں پہلی بار ایورسٹ سر کرنے والے ایک شخص کا پوتا بھی شامل ہے۔

نیپال کی وزارت سیاحت کے مطابق تینتالیس سالہ شیر پا اپا نے ماؤنٹ ایورسٹ پر متعدد بار چڑھنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ جنوبی راستے سے پہاڑ پر چڑھے، تریپن دوسرے افراد جو کہ دنیا بھر سے آئی ہوئی آٹھ مختلف ٹیموں میں بٹے ہوئے تھے ان کے پیچھے پہاڑ پر چڑھے ۔ ان کے ہمراہ تاشی وانگ چک تین ژنگ بھی تھا جو دنیا میں سب سے پہلے ایورسٹ سر کرنے والے نیوزی لینڈ کے ایڈمنڈ ہیلری کے ساتھی تین ژنگ نورگے کا پوتا ہے۔ ہیلری اور نورگے نے 1953 میں اکھٹے ایورسٹ کی چوٹی سر کی تھی۔

ایڈمنڈ ہیلری اور نورگے کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد سے اب تک تقریبا ایک ہزار افراد اسے سر کرچکے ہیں اور ساٹھ سے زیادہ بدقسمت افراد ایسے ہیں جو اسے سر کرنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔

مہم جوئی کے شوقین کوہ پیماؤں کواپنی مہمات کو یادگار بنانے کا جنون انہیں نت نئی سرگرمیوں پر اکساتا رہتا ہے، نیپال کے ایک جوڑے نے بھی اپنی مہم کو یادگار بنانے کے لیے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی رچائی۔یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی اور زندگی بھر ساتھ نبھانے کے عہد و پیماں کیے۔ دولہا اور دولہن نے اپنے ارادوں کو خفیہ رکھا تھا اور ان کے ساتھ چوٹی تک چڑھنے والے تیسرے فرد کو بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ چوٹی پر ایک دوسرے سے شادی کے عہد و پیماں کریں گے۔

چوٹی پر پہنچ کر مونی مولے پتی اور پریم دورجی شرپا نے چند منٹ کے لیے اپنے آکسیجن ماسک اتارے اور ایک دوسرے سے شادی کے وعدے دہرائے ، ایک دوسرے کو پلاسٹک کے پھولوں کے ہار پہنائے اور پریم دورجی نے مونی کی مانگ میں سیندور بھرا۔کھٹمنڈو واپسی پر دلہن نے بتایا کہ شادی کی تمام رسومات تو چوٹی پر ممکن نہیں تھیں لہذا وہ اتنا ہی کرسکے بعد ازاں بہت جلد وہ اپنی شادی کی تمام تقریبات منعقد کریں گے۔دولہے پریم دورجی نے بتایا کہ ماضی میں کئی جوڑے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی کرنے کا ارادہ کرتے رہے ہیں لیکن وہ چوٹی پر نہیں پہنچ سکے ، ان دونوں نے بھی ناکامی کے ڈر سے اپنا ارادہ کسی کو نہیں بتایا تھا اور ان کے خاندان والوں کو بھی اس کا علم نہیں تھا۔

اس کے علاوہ بھی اس سال ماؤنٹ ایورسٹ پر کئی نئے ریکارڈ قائم ہوئے ۔ دو ایرانی خواتین چوٹی پر پہنچ کر ا یورسٹ سر کرنے والی پہلی مسلمان خواتین بنیں جبکہ اپا شیرا نے چوٹی پندرہویں مرتبہ سر کرکے اپنا ہی ریکارڈ توڑا۔

  پاکستان دنیا کے عظیم سلسلہ کوہ ہمالیہ ، قراقرم ،ہندوکش اور پامیر کے سنگم پر واقع جغرافیائی اعتبار سے اک منفرد ملک ہے ۔ اس کے پہاڑی سلسلوں میں قطبی علاقوں کو چھوڑ کرسب سے زیادہ گلیشیئرز یہیں واقع ہیں ۔ یہ گلیشیئرز صف شفاف پانی کے ذخیرے ہیں جو سال بھر ہمارے دریاؤں کو رواں رکھتے ہیں۔ عالمی حدت میں اضافے کی وجہ ہمالیہ کے گلیشیئرز کی برف تیزی سے پگھلنا شروع ہوگئی ہے جس سے برصغیر پاک و ہند اور چین کے کروڑوں لوگوں کی زندگی خطرے ہیں ہے۔ یہ گلیشیئر اوسطا دس سے پندرہ میٹر ( تینتیں فٹ سالانہ ) کے حساب سے کم ہورہے ہیں۔موسموں کی بے ترتیبی کے علاوہ پہاڑی چوٹیوں خصوصا ماؤنٹ ایورسٹ کے لیے ایک اوربڑھتا ہوا خطرہ وہ کچرا ہے جو سیاح اپنی کوہ پیمائی کے دوران چھوڑ جاتے ہیں۔یہ کچرا ہر سال بڑھتا ہی جارہا ہے ۔اس حوالے سے رواں سال میں خاصی پیش رفت ہوئی کہ نیپال کے ساتھ مل کر جاپان کے کو پیماؤں نے اس بلند ترین چوٹی سے کچرا واپس لانے کی ٹھانی۔جاپان کے ایک کوہ پیما دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے کئی ٹن وزنی کچرا نیچے لانے میں کامیاب بھی ہوگئے، لین نو گوچی نامی یہ کوہ پیما جنہوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سے کچرا جمع کرنے والے جاپانی اور نیپالی کوہ پیماؤں پر مشتمل ایک ٹیم کی قیادت کی تھی دنیا کے اس بلند و بالا پہاڑ کی کوہ پیمائی سے واپسی پر 500 کلوگرام وزن کے پرانے خیمے، کھانے پینے کی اشیا، خالی ڈبے اور ادویات اپنے ساتھ لائے ہیں جو کئی عشروں سے وہاں پڑی تھیں جنہیں مختلف کوہ پیما پہاڑ کی چوٹی پر چھوڑ کر چلے آئے تھے۔ان کے اندازے کے مطابق انہوں نے ایورسٹ کی چوٹی سے اپنی پانچ مہموں کے دوران نو ہزار کلوگرام وزنی کچرا جمع کیا ہے۔ پہاڑ کی اس چوٹی کو عام طور پر دنیا کی سب سے بلند کچراگاہ تصور کیا جاتا ہے۔ مسٹر نوگوچی کا کہنا تھا کہ وہ ٹوکیو اور سیول میں اپنے ساتھ لائی کچھ اشیا کی نمائش بھی کریں گے تا کہ دنیا کی اس بلند ترین اورمقبول ترین چوٹی کو صاف رکھنے سے متعلق عوامی شعور بیدار کیا جاسکے۔

 اپنی پہلی ہی مہم کے بعدانہوں نے بتایا کہ اس سال کی صفائی مہم کے دوران انہوں نے یہ بات محسوس کی کہ وہاں پھینکی جانے والی اشیا کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ان کہنا تھا کہ 1953 میں ماؤنٹ ایورسٹ کو سب سے پہلے سر کرنے والے دو کوہ پیما ایڈ منڈ ہیلری اور شیر پا تین ژنگ کے بعد سے پچھلے چون برسوں میں پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے دوران اس کی چوٹی پر کوئی پچاس ٹن کچرا جمع ہوا ہے جو وہاں پڑا تھا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اس قدر بلندی، برف اور آکسیجن میں کمی کے باعث کوہ پیماؤں کے لیے کوڑا نیچے لانا انتہائی دشوار کام ہے لہذا مسٹر نوگوچی کے اس کام پر انہیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے۔

گذشتہ دہائیوں کے دوران نیپالی حکومت نے دنیا کے اس بلند ترین پہاڑ کو صاف کرنے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں، اور اس مقصد کے لیے پہاڑ کی چوٹی پر جانے والے مہم جوؤں سے کچھ اضافی رقم جمع کرانے کو کہا جاتا ہے جو انہیں اسی صورت میں واپس مل سکتی ہے جب وہ اپنے ساتھ لے جانے والا کچرا واپس لائیں۔

ایک جینیئس ریاضی داں

آئیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ کی بلند ترین چوٹی کے حوالے سے ایک ایسے شخص کو یاد کرتے ہیں جس کا تذکرہ کیے بغیر ایورسٹ کا ذکر ہمیشہ ادھورا سمجھا جائے گا۔بی بی سی ویب سائٹ کے مطابق ، یہ بات راج برطانیہ کے زمانے کی ہے سن 1852کی جب ہندوستان پر بر طانیہ کی حکومت تھی، ایک روز شمالی قصبے دہرہ دون کے ایک دفتر میں ایک نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور اپنے افسر کے سامنے جاکر چلایا” جناب میں نے دنیا کی سب سے اونچی پہاڑی چوٹی دریافت کرلی ہے۔ یہ نوجوان رادھا ناتھ سکدھر تھا۔

اعداد و شمار کو قابل فہم بنانے کے لیے تقریبا چار برس پر مشتمل محنت شاقہ میں مصروف رہنے کے بعد رادھا ناتھ سکدھر اس قابل ہوا تھاکہ سلسلہ کوہ ہمالیہ کی اس پندرہویں چوٹی کی اونچائی معلوم کر سکے، اسی بلند ترین پہاڑ کو بعد میں ماؤنٹ ایورسٹ کا نام دیا گیا جو دراصل اس وقت کے سروے ڈپارٹمنٹ کے اعلی ترین سرویئر جنرل سر جارج ایورسٹ سے منسوب کیا گیا تھا جنہوں نے اس پہاڑ کی انتیس ہزاردو فٹ یا آٹھ ہزار آٹھ سو چالیس میٹر اونچائی کو سر کیا۔ سکدھر کا یہ کارنامہ ، جس کے بارے میں بہت سے بھارتیوں کو علم ہی نہیں ہے لندن کے علاقے بروک لین میں ایک عظیم نمائش میں پیش کیا گیا، بھارتی حکومت کے تعاون سے یہ نمائش لندن میں برصغیر کی نقشہ بندی کے دو سو برس مکمل ہونے پر لگائی گئی تھی۔

برصغیر کی نقشہ بندی کے اس کام کا آغاز جسے ”علمی تاریخ “کا سب سے عظیم ترین اور حیران کن کارنامہ قرار دیا گیا سن اٹھارہ سو دو میں مدراس میں تعینات برطانوی فوج کے ایک افسر ولیم لیمبٹن نے کیا تھا۔ اس سروے میں بعد میں ہزاروں ہندوستانیوں نے حصہ لیا اور سن اٹھارہ سو انیس میں سروے کے اس کام کو عظیم مثلثیاتی ( علم ریاضی یا حساب دانی کا وہ شعبہ جو تکون زاویوں سے متعلق ہو)  کا نام دیا گیا۔ اس کام کے ذریعے سولہ سو میل رقبے کے نقشے بنائے گئے جن کی تکمیل کے دوران بے شمار لوگ لقمہ اجل بنے ، زیادہ تر ہلاکتیں چیتوں یا ملیریا کے مرض کی وجہ سے ہوئیں۔

انتالیس سالہ سکدھر اس وقت سروے کرنے والے مختلف دستوں کے جمع کیے ہوئے اعداد و شمار کا حساب کتاب لگایا کرتا تھا۔ اس موضوع پر دو کتابیں تخلیق کرنے والے برطانوی مورخ جان کے نے بتایا کہ سکدھر جس کام میں مصروف تھا اسے انجام دینے کے لیے علم ریاضی یا حساب دانی پر دسترس بہت ضرورت تھی جو اس میں تھی ، سر جارج ایورسٹ نے سکدھر کو غیر معمولی قابلیت کا حامل جینیئس ریاضی داں قرار دیا تھا۔برطانوی مورخ جان کے کا کہنا ہے کہ سر جارج ایورسٹ کی طرح ممکن ہے کہ سکدھر نے بھی کبھی خود پہاڑ کی یہ چوٹی نہ دیکھی ہو۔1847 میں جب سروے کرنے والوں نے پہلی بار دارجلنگ کے مقام سے اس چوٹی کا نظارہ کیا ہو تب شاید اسے ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے اونچے مقام کے برابر اونچائی یا چوٹی قرار دیا گیا ہو، تاہم 1856تک جب تک ان اعداد و شمار و معلومات کا حساب کئی بار پھر نہ کر لیا گیا اس کا باقاعدہ سرکاری اعلان نہیں کیا گیا کہ یہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔

سکدھر ، کلکتہ کے قدیم شہر جوروسانکو کے ایک بنگالی برہمن کے گھر اکتوبر 1813 میں پیدا ہوا ،اس نے شہر کے مشہور ہندو کالج سے علم ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔ تھوڑی بہت شدھ بدھ انگریزی زبان کی بھی تھی، کام میں جٹے رہنے والے سکدھر نے زندگی بھر شادی نہیں کی، ان کے افسر سر جارج نے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا تھا۔

انیس سو پچپن میں ماؤنٹ ایورسٹ چوٹی کی اونچائی میں چھبیس فٹ کا اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر انتیس ہزار اٹھائیس فٹ ہوگئی، انیس سو ننانوے میں اس کی اونچائی مزید سات فٹ اونچی ناپی گئی ، آج دنیا کی بلند ترین چوٹی انتیس ہزار پینتیس فٹ اونچی ہے۔کوہ پیمائی کی تاریخ ہمیشہ سکدھر اور اس جیسے بہت سے دوسرے جینیئس افراد کی احسان مند رہے گی

Friday, May 25, 2007

عالمی یوم ماحول 2007

"یوم شجر کاری" کا آغاز وقت کی ضرورت ہے

   موسموں کے جن کو صرف درختوں سے قابو میں رکھا جاسکتا ہے

   ستاروں پر کمند ڈالتا، خلاؤں کو مسخر کرتا اورجدید ٹیکنالوجی سے دنیا کو سمیٹ کرکمپیوٹر کے بٹن میں مقیدکرتا شاداں و فرحاں انسا ن
جب 21 ویں صدی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اس کے رنگ میں بھنگ پڑ جاتا ہے ۔اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ ترقی جو اس نے دن رات محنت کرکے حاصل کی تھی آج اسی کی تباہی کا باعث بن رہی ہے۔ دھواں اگلتی صنعتیں خود اس کی سانسوں کے درپے ہیں۔فطرت کو تسخیر کرنے کا دعوی آج کرہ ارض کی تباہی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔وہ اس شکستہ آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے۔
 تو ایسے میں اب یہ حضرت انساں کرے تو کیا کرے؟
   بس ایک ہی صورت ہے بچاؤکی ، ایک ہی جائے امان ہے اور وہ ہے صرف اور صرف فطرت کے تشکیل کردہ اصولوں کے تحت زندگی بسر کرنا۔ اگرچہ یہ آج کے دور میں اتنا آسان نہیں رہا ہے لیکن کوشش تو کی جاسکتی ہے نا! جلد یا بدیر ہم حالات کو پھر اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔
   عالمی یوم ماحول اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا بھر میں 5 جون کونہایت تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا فیصلہ پہلی بار 1972میں اسٹاک ہوم میں منعقد ایک کانفرنس میں کیا گیاتھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں اور خصوصا حکومتوں کی توجہ ماحولیاتی مسائل پر مبذول کرانا ہے (اس وقت جو ملکی حالات ہیں اس میں حکومت کتنی توجہ ماحول کو دے سکے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے لیکن پھر بھی امید تو کی جاسکتی ہے)

  ہر سال یہ دن ایک خاص عنوان کے تحت منعقد کیا جاتا ہے ، 2007 میں اسے Melting Ice, A hot topic کے تحت منایا جارہا ہے۔اس سال کے آغاز سے ہی ہم اپنے ہر مضمون میں یہ بات مسلسل دہرارہے ہیں کہ دنیا کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت کرہ ارض پر موجود ہر قسم کے ماحولیاتی نظاموں کو خطرے میں ڈال دے گا۔ بڑھتی ہوئی حدت براہ راست گلیشیئرز پر اثر انداز ہوگی جس سے سیلاب اور طغیانی کے خطرات بڑھیں گے اور پھر پانی کی کمی خشک سالی کو دعوت دے گی۔یہ دو مظاہر دنیا کو ہلا کر رکھ دیں گے ۔ زمین پر موجود ہر قسم کی حیات خطرے میں پڑجائے گی چاہے وہ انسان ہو یا کوئی اور جاندار۔
      بڑھتی ہوئی حرارت اور برف کے اسی تعلق کے پیش نظر 2007تا 2008 کو بین الاقوامی قطبی سال(Polar Year) بھی قرار دیا گیا ہے۔

  قطبی علاقے اس کرہ ارض کی آب و ہوا پر بھی خاصا اثر ڈالتے ہیں۔استوائی خطے سال میں قطبین کے مقابلے میں تقریبا پانچ گنا زیادہ حرارت حاصل کرتے ہیں اور ہماری فضا اور سمندر اس حرارت کو قطبین تک پہنچانے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔لہذا یہ دونوں قطبی علاقے کرہ ارض کے آب و ہوا کے نظام سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔حدت کے بڑھنے سے مستقل طور پر منجمند علاقوں کے پگھلنے سے نہ صرف وسیع علاقے زیر آب آئیں گے بلکہ برف پگھلنے سے میتھین کا بھی اخراج ہوگا جو گرین ہاؤس گیسوں میں سے ایک ہے۔

  اس تمام صورت حال میں بہتری لانے کے لیے دنیا بھر کے سائنس داں دن و رات محنت کررہے ہیں اور آئے دن ان کے تجربات اور تجاویز سامنے آتی رہتی ہیں لیکن سر دست ہم کسی سائنسی تجربے یا اعدادو شمار کے گورکھ دھندوں پر بات نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی کسی سرکاری حکمت عملی کے جھمیلوں میں الجھنا چاہتے ہیں بلکہ ان سب کے بجائے صرف ایک آسان بات پر زور دیں گے اور یہ کہ ہمیں صرف اور صرف درخت لگانے چاہئیں اور اگر ہمارے پاس جگہ نہیں ہے تو ہم پودوں سے بھی کام چلا سکتے ہیں۔ اس سے ہم موسم کے بے قابو ہوتے جن کو خاصی حد تک قابو میں لا سکتے ہیں۔

   ہمارے ملک میں جنگلات کا رقبہ صرف 4.8 فیصد ہے جو بہت کم ہے اور حکومت اسے 2011ءمیں بڑھا کر 5.7 فیصد تک پہنچانا چاہ رہی ہے۔ہر سال حکومت سرکاری سطح پر شجر کاری مہم دھو دھام سے شروع تو کرتی ہے لیکن جتنا کثیر سرمایہ اس پر خرچ ہوتا ہے اس کے مقابلے میں نتائج چند فیصد بھی برآمد نہیں ہوتے ۔اور آئندہ سال جب یہ مہم ایک بار پھر شروع ہوتی ہے تو پچھلے سال کے نتائج قصہ پارینہ سمجھ کر بھلا دیے جاتے ہیں اور ان کاکوئی تذکرہ نہیں ہوتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اس سال ایسا نہ ہو اور حکومت اپنے ارادوں میں کامیاب ہولیکن صرف حکومت پر تکیہ کیوں؟ یہ کام ہمیں خود بھی کرنا چاہیے۔

  شجر کاری اگرچہ ہمارا مذہبی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے لیکن ایک عام مشاہدہ ہے کہ ہم مذہب اور اخلاق سے زیادہ اپنے ثقافتی رسم و رواج سے زیادہ متاثر رہتے ہیں ۔ بے انتہا فضولیات اور خرافات میں پیسہ اور وقت دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ پیدائش ، موت ، شادی بیاہ ہر موقع پر ہم مذہب اور اخلاقیات سے ہٹ کر صرف ثقافتی رسوم ورواج کو اہمیت دے رہے ہوتے ہیں لہذا اس حوالے سے ہم واضح طور پر یہ بات کہہ رہے کہ جب تک شجر کاری کو ہم اپنے رسم ورواج اور روز مرہ کی عادات میں شامل نہیں کر لیں گے اس کے نتائج خاطر خواہ برآمد نہیں ہوں گے۔

  ذیل میں ہم شجرکاری اور جنگلات کے فروغ کی لمبی چوڑی حکمت عملیوں سے ہٹ کر یہاں کچھ ”عام اور عوامی“ سی تجاویز پیش کررہے ہیں، اجتماعی اور زیادہ تر انفرادی سطح پر چھوٹے چھوٹے سے کام جو سب بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔اور اگر ہم انہیں اپنے معاشرے میں رائج کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے ایک خاموش انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔

  شجرکاری کے فروغ کے لیے کچھ تجاویز

·       ہم اقوام متحدہ کے تحت بہت سے ایسے دن بھی مناتے کہ جن سے ہمارے ملک کا اتنا براہ راست تعلق نہیں ہوتا ہے تو کیوں نہ ایک دن ایسا بھی منایا جائے جس کی ابتدا ہمارے ملک سے ہواور جو ہماری ضرورت بھی ہو۔ جنگلات کی کمی ہمارا ایک تشویش ناک معاملہ ہے اور بہت زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود ہم من پسند نتائج اب تک نہیں حاصل کر پائے ہیں لہذا ہم وقت برباد کیے بغیر اسی سال سے قومی یا صوبائی سطح پر یوم شجر کاری منانے کاآغاز کرسکتے ہےں یا کم از کم شہری حکومت تجرباتی طور پر شہر کی سطح پر ”یوم شجر کاری“ منا سکتی ہے ۔ مثبت نتائج کے بعد ہم اسے بڑھا کر ہفتہ شجر کاری بھی منا سکتے ہیں۔
·       اسکولوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے اور ان کے درمیان مقابلوں کا اہتمام کیا جائے۔
·       ٹاؤن ناظمین کو شجر کاری کے ٹاسک دیے جائیں۔ناظمین محلوں کی سطح پر اس کام کو آگے بڑھا سکتے ہیں خصوصا خواتین اور بچوں کی شمولیت سے یہ کام ممکن ہو سکتا ہے۔
·       جامعات بوٹینیکل گارڈن لگائیں تاکہ ہم ادویاتی پودوں میں بھی خود کفیل ہوسکیں۔اس کے علاوہ اسکول اور کالج کے طالب علموں کے لیے ان گارڈن کے مطالعاتی دوروں کا بھی اہتمام کیا جائے تاکہ اس حوالے سے ان پودوں کی قدر وقیمت کا شعور پروان چڑھ سکے۔
·       بلڈرز کو پابند کیا جائے کہ وہ ہاؤسنگ اسکیموں میں درختوں کے لیے جگہ ضرور رکھیں اور جب وہ اسکیم کا اعلان کریں تو اسی وقت درخت لگا دیے جائیں تا کہ جب لوگ آباد ہوں تو درخت خاصے بڑے ہوچکے ہوں۔
·       ہاؤسنگ اسکیموں کے نقشوں میں شجر کاری منصوبہ بھی لازمی قرار دیا جائے
·       ایک دوسرے کو تحفے میں پودے دینے کی رسم قائم کریں خصوصا مشہور شخصیات تاکہ لوگوں کو ترغیب حاصل ہو ۔ (اسی سال 5 جون سے اس کا آغاز کیا جائے تو کیا اچھا ہو!)
·       صحت مند ہونے والے مریضوں کو اسپتال پودوںکا تحفہ دیں خصوصا میٹرنٹی اسپتال والے ماں بننے والی ہر عورت کو یہ تحفہ ضرور دیں۔
·       پارکوں کے لیے خالی پڑی ہوئی جگہوں پر ناظمین علاقے کے لوگوں کے ساتھ مل کر پودے لگا سکتے ہیں ۔
·       نالے اور ندیوں کے پشتوں پر درخت لگائیں۔
·       اور سب سے اہم بات کہ خواتین کو کچن گارڈن کی ترغیب دی جائے۔ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ پر معلوماتی پروگرام دکھائے جائیں خصوصا وہ تمام چینل یہ کام باآسانی کرسکتے ہیں جو گھنٹا گھنٹا بھر کے روزانہ کوکنگ پروگرام چلاتے ہیں ۔ 15سے20منٹ اس حوالے سے بھی مخصوص کیے جاسکتے ہیں۔کم جگہوں مثلا فلیٹوں میں رہنے والی خواتین بھی باآسانی بڑے گملوں میں دھنیا، پودینہ، ٹماٹر،مرچیں اور کریلے وعیرہ کی بیلیں لگا سکتی ہیں۔ اس سے سبزیوں کی قیمتیں بھی اعتدال میں رہیں گی۔
·       متعلقہ سرکاری محکمے ابتدائی طور پر مختلف پودے اور سبزیوں کے بیج مفت فراہم کرسکتے ہیں۔
·       شہری حکومت کا محکمہ لوگوں کی رہنمائی کرسکتا ہے کہ وہ کن جگہوں پر کون سے پودے یا درخت لگا سکتے ہیں۔
·       مختلف ہارٹیکلچر سوسائیٹیز اور ایسوسی ایشن عام لوگوں کے لیے تربیتی کورس کا اہتمام کریں۔
·       زیادہ سے زیادہ فلاورز شو منعقد کیے جائیں۔
·       درخت کاٹنے پر سختی سے پابندی عائد ہو اور اس جرم کے ارتکاب پر ابتدائی طور پر جرمانہ اور بعد ازاں سزا ہو۔

 اگلے سال جب یوم شجر کاری منایا جائے تو پچھلے سال کے نتائج بھی دیکھ لیے جائیں اور اچھی کارکردگی کے اعتراف میں انعامات اور اعزازات دیے جائیں ۔متعلقہ شعبے ہماری ان تجاویز پر ضرور غور کریں گے کیونکہ اگر یہ سب کچھ ہونے لگے تو اس سے نہ صرف یہ کہ ہمارا شہر اور ملک سرسبز ہوگا بلکہ اس کے اثرات کم ہی سہی لیکن ماحول پر ضرور رونما ہوں گے۔ہمارا گھر اور ارد گرد کی فضاکتنی خوشگوار ہوجائے گی۔ خوبصورت پرندے اور رنگ برنگ تتلیوں کی آمد و رفت بڑھنے لگے گی اور سوچئیے ذرا زندگی کتنی حسین لگنے لگے گی!
      رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

      درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے