Friday, June 22, 2007

دشت امکاں کو ایک نقش پا ۔۔۔ پایا

پہاڑ کی چوٹی سے موبائل کال اور اب نیپالی جوڑے کے عہد و پیماں

اب کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی!

چاہے وہ دنیا کی بلند ترین چوٹی سے کی جانے والی فون کال کا ذکر ہو یا ہزاروں فٹ بلندی پر شادی رچانے کا تذکرہ ، اب کسی با ت پر حیرت نہیں ہوتی۔

پچھلے دنوں برطانوی کوہ پیما راڈ بابر نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے موبائل فون کال کرکے ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ اکیس مئی کی صبح راڈ نے چوٹی کی شمالی کگر سے دو کالیں کیں ۔ پہلی کال میں انہوں نے ایورسٹ کے موسم اور منظر کو بیان کیا اور بتایا کہ وہ بیس کیمپ پہنچ کر کیا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے دوسری کال اپنے اہل خانہ کو کی ۔ راڈ کا پہلی کال کو ان کی مہم کے اسپانسر نے ایک وائس میسیج پر ریکارڈ کیا تاکہ کال کا ثبوت باقی رہے ۔ ایورسٹ کی چوٹی سے کال یا موبائل کا استعمال اس وقت ممکن ہوسکا جب یہاں چین کی طرف سے ایک بیس اسٹیشن تعمیر کیا گیا جو ایورسٹ کی شمالی کگر کی حد میں ہے ۔ ہمالیہ میں ٹیلی فون کی سروس چینی فوج کی ایورسٹ میں موجودگی کی وجہ سے بہتر ہورہی ہے جو اولمپک کی مشعل چوٹی پر لے جانے کی تیاری کررہی ہے ۔

راڈ بابر وسط اپریل میں ایورسٹ کے بیس کیمپ پہنچے تھے اور اس کے بعد انہوں ن اپنے آپ کو بلندی کا عادی بنایا ۔ بابر اور ان کی ٹیم نے پندرہ مئی کو چوٹی کی جانب چڑھنا شروع کیا ۔آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر کی بلندی سے فون کال کرنے کے لیے بابر کو اپنا آکسیجن ماسک بھی اتارنا پڑا اور منفی تیس درجہ حرارت میں راڈ کے پاس یہ تاریخی کارنامہ سر انجام دینے کے لیے صرف پندرہ منٹ تھے ۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہے جو پہاڑ سر کرنے والے کوہ پیما چوٹی پر گذارتے ہیں ۔ تاہم راڈ نے نہ صرف دو کالیں کیں بلکہ وہ دنیا کے بلند ترین مقام سے ایس ایم ایس بھیجنے والے پہلے شخص بھی بن گئے ۔



اسی عرصے میں بہت سے دوسرے ریکارڈ بھی قائم ہوئے مثلا نیپال کے ایک شیر پا نے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، شیرپا اپا نے بارہویں دفعہ آٹھ ہزار آٹھ سو فٹ بلند پہاڑ کی چوٹی سر کی اور اس طرح انہوں نے اپنے ہی قائم کردہ ریکارڈ کو توڑ ڈالا۔اسی دن پچاس سے زائد دوسرے افراد بھی بلند ترین پہاڑ کی چوٹی تک پہنچے جن میں پہلی بار ایورسٹ سر کرنے والے ایک شخص کا پوتا بھی شامل ہے۔

نیپال کی وزارت سیاحت کے مطابق تینتالیس سالہ شیر پا اپا نے ماؤنٹ ایورسٹ پر متعدد بار چڑھنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ جنوبی راستے سے پہاڑ پر چڑھے، تریپن دوسرے افراد جو کہ دنیا بھر سے آئی ہوئی آٹھ مختلف ٹیموں میں بٹے ہوئے تھے ان کے پیچھے پہاڑ پر چڑھے ۔ ان کے ہمراہ تاشی وانگ چک تین ژنگ بھی تھا جو دنیا میں سب سے پہلے ایورسٹ سر کرنے والے نیوزی لینڈ کے ایڈمنڈ ہیلری کے ساتھی تین ژنگ نورگے کا پوتا ہے۔ ہیلری اور نورگے نے 1953 میں اکھٹے ایورسٹ کی چوٹی سر کی تھی۔

ایڈمنڈ ہیلری اور نورگے کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد سے اب تک تقریبا ایک ہزار افراد اسے سر کرچکے ہیں اور ساٹھ سے زیادہ بدقسمت افراد ایسے ہیں جو اسے سر کرنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔

مہم جوئی کے شوقین کوہ پیماؤں کواپنی مہمات کو یادگار بنانے کا جنون انہیں نت نئی سرگرمیوں پر اکساتا رہتا ہے، نیپال کے ایک جوڑے نے بھی اپنی مہم کو یادگار بنانے کے لیے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی رچائی۔یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی اور زندگی بھر ساتھ نبھانے کے عہد و پیماں کیے۔ دولہا اور دولہن نے اپنے ارادوں کو خفیہ رکھا تھا اور ان کے ساتھ چوٹی تک چڑھنے والے تیسرے فرد کو بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ چوٹی پر ایک دوسرے سے شادی کے عہد و پیماں کریں گے۔

چوٹی پر پہنچ کر مونی مولے پتی اور پریم دورجی شرپا نے چند منٹ کے لیے اپنے آکسیجن ماسک اتارے اور ایک دوسرے سے شادی کے وعدے دہرائے ، ایک دوسرے کو پلاسٹک کے پھولوں کے ہار پہنائے اور پریم دورجی نے مونی کی مانگ میں سیندور بھرا۔کھٹمنڈو واپسی پر دلہن نے بتایا کہ شادی کی تمام رسومات تو چوٹی پر ممکن نہیں تھیں لہذا وہ اتنا ہی کرسکے بعد ازاں بہت جلد وہ اپنی شادی کی تمام تقریبات منعقد کریں گے۔دولہے پریم دورجی نے بتایا کہ ماضی میں کئی جوڑے ایورسٹ کی چوٹی پر شادی کرنے کا ارادہ کرتے رہے ہیں لیکن وہ چوٹی پر نہیں پہنچ سکے ، ان دونوں نے بھی ناکامی کے ڈر سے اپنا ارادہ کسی کو نہیں بتایا تھا اور ان کے خاندان والوں کو بھی اس کا علم نہیں تھا۔

اس کے علاوہ بھی اس سال ماؤنٹ ایورسٹ پر کئی نئے ریکارڈ قائم ہوئے ۔ دو ایرانی خواتین چوٹی پر پہنچ کر ا یورسٹ سر کرنے والی پہلی مسلمان خواتین بنیں جبکہ اپا شیرا نے چوٹی پندرہویں مرتبہ سر کرکے اپنا ہی ریکارڈ توڑا۔

  پاکستان دنیا کے عظیم سلسلہ کوہ ہمالیہ ، قراقرم ،ہندوکش اور پامیر کے سنگم پر واقع جغرافیائی اعتبار سے اک منفرد ملک ہے ۔ اس کے پہاڑی سلسلوں میں قطبی علاقوں کو چھوڑ کرسب سے زیادہ گلیشیئرز یہیں واقع ہیں ۔ یہ گلیشیئرز صف شفاف پانی کے ذخیرے ہیں جو سال بھر ہمارے دریاؤں کو رواں رکھتے ہیں۔ عالمی حدت میں اضافے کی وجہ ہمالیہ کے گلیشیئرز کی برف تیزی سے پگھلنا شروع ہوگئی ہے جس سے برصغیر پاک و ہند اور چین کے کروڑوں لوگوں کی زندگی خطرے ہیں ہے۔ یہ گلیشیئر اوسطا دس سے پندرہ میٹر ( تینتیں فٹ سالانہ ) کے حساب سے کم ہورہے ہیں۔موسموں کی بے ترتیبی کے علاوہ پہاڑی چوٹیوں خصوصا ماؤنٹ ایورسٹ کے لیے ایک اوربڑھتا ہوا خطرہ وہ کچرا ہے جو سیاح اپنی کوہ پیمائی کے دوران چھوڑ جاتے ہیں۔یہ کچرا ہر سال بڑھتا ہی جارہا ہے ۔اس حوالے سے رواں سال میں خاصی پیش رفت ہوئی کہ نیپال کے ساتھ مل کر جاپان کے کو پیماؤں نے اس بلند ترین چوٹی سے کچرا واپس لانے کی ٹھانی۔جاپان کے ایک کوہ پیما دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے کئی ٹن وزنی کچرا نیچے لانے میں کامیاب بھی ہوگئے، لین نو گوچی نامی یہ کوہ پیما جنہوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سے کچرا جمع کرنے والے جاپانی اور نیپالی کوہ پیماؤں پر مشتمل ایک ٹیم کی قیادت کی تھی دنیا کے اس بلند و بالا پہاڑ کی کوہ پیمائی سے واپسی پر 500 کلوگرام وزن کے پرانے خیمے، کھانے پینے کی اشیا، خالی ڈبے اور ادویات اپنے ساتھ لائے ہیں جو کئی عشروں سے وہاں پڑی تھیں جنہیں مختلف کوہ پیما پہاڑ کی چوٹی پر چھوڑ کر چلے آئے تھے۔ان کے اندازے کے مطابق انہوں نے ایورسٹ کی چوٹی سے اپنی پانچ مہموں کے دوران نو ہزار کلوگرام وزنی کچرا جمع کیا ہے۔ پہاڑ کی اس چوٹی کو عام طور پر دنیا کی سب سے بلند کچراگاہ تصور کیا جاتا ہے۔ مسٹر نوگوچی کا کہنا تھا کہ وہ ٹوکیو اور سیول میں اپنے ساتھ لائی کچھ اشیا کی نمائش بھی کریں گے تا کہ دنیا کی اس بلند ترین اورمقبول ترین چوٹی کو صاف رکھنے سے متعلق عوامی شعور بیدار کیا جاسکے۔

 اپنی پہلی ہی مہم کے بعدانہوں نے بتایا کہ اس سال کی صفائی مہم کے دوران انہوں نے یہ بات محسوس کی کہ وہاں پھینکی جانے والی اشیا کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ان کہنا تھا کہ 1953 میں ماؤنٹ ایورسٹ کو سب سے پہلے سر کرنے والے دو کوہ پیما ایڈ منڈ ہیلری اور شیر پا تین ژنگ کے بعد سے پچھلے چون برسوں میں پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے دوران اس کی چوٹی پر کوئی پچاس ٹن کچرا جمع ہوا ہے جو وہاں پڑا تھا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اس قدر بلندی، برف اور آکسیجن میں کمی کے باعث کوہ پیماؤں کے لیے کوڑا نیچے لانا انتہائی دشوار کام ہے لہذا مسٹر نوگوچی کے اس کام پر انہیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے۔

گذشتہ دہائیوں کے دوران نیپالی حکومت نے دنیا کے اس بلند ترین پہاڑ کو صاف کرنے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں، اور اس مقصد کے لیے پہاڑ کی چوٹی پر جانے والے مہم جوؤں سے کچھ اضافی رقم جمع کرانے کو کہا جاتا ہے جو انہیں اسی صورت میں واپس مل سکتی ہے جب وہ اپنے ساتھ لے جانے والا کچرا واپس لائیں۔

ایک جینیئس ریاضی داں

آئیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ کی بلند ترین چوٹی کے حوالے سے ایک ایسے شخص کو یاد کرتے ہیں جس کا تذکرہ کیے بغیر ایورسٹ کا ذکر ہمیشہ ادھورا سمجھا جائے گا۔بی بی سی ویب سائٹ کے مطابق ، یہ بات راج برطانیہ کے زمانے کی ہے سن 1852کی جب ہندوستان پر بر طانیہ کی حکومت تھی، ایک روز شمالی قصبے دہرہ دون کے ایک دفتر میں ایک نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور اپنے افسر کے سامنے جاکر چلایا” جناب میں نے دنیا کی سب سے اونچی پہاڑی چوٹی دریافت کرلی ہے۔ یہ نوجوان رادھا ناتھ سکدھر تھا۔

اعداد و شمار کو قابل فہم بنانے کے لیے تقریبا چار برس پر مشتمل محنت شاقہ میں مصروف رہنے کے بعد رادھا ناتھ سکدھر اس قابل ہوا تھاکہ سلسلہ کوہ ہمالیہ کی اس پندرہویں چوٹی کی اونچائی معلوم کر سکے، اسی بلند ترین پہاڑ کو بعد میں ماؤنٹ ایورسٹ کا نام دیا گیا جو دراصل اس وقت کے سروے ڈپارٹمنٹ کے اعلی ترین سرویئر جنرل سر جارج ایورسٹ سے منسوب کیا گیا تھا جنہوں نے اس پہاڑ کی انتیس ہزاردو فٹ یا آٹھ ہزار آٹھ سو چالیس میٹر اونچائی کو سر کیا۔ سکدھر کا یہ کارنامہ ، جس کے بارے میں بہت سے بھارتیوں کو علم ہی نہیں ہے لندن کے علاقے بروک لین میں ایک عظیم نمائش میں پیش کیا گیا، بھارتی حکومت کے تعاون سے یہ نمائش لندن میں برصغیر کی نقشہ بندی کے دو سو برس مکمل ہونے پر لگائی گئی تھی۔

برصغیر کی نقشہ بندی کے اس کام کا آغاز جسے ”علمی تاریخ “کا سب سے عظیم ترین اور حیران کن کارنامہ قرار دیا گیا سن اٹھارہ سو دو میں مدراس میں تعینات برطانوی فوج کے ایک افسر ولیم لیمبٹن نے کیا تھا۔ اس سروے میں بعد میں ہزاروں ہندوستانیوں نے حصہ لیا اور سن اٹھارہ سو انیس میں سروے کے اس کام کو عظیم مثلثیاتی ( علم ریاضی یا حساب دانی کا وہ شعبہ جو تکون زاویوں سے متعلق ہو)  کا نام دیا گیا۔ اس کام کے ذریعے سولہ سو میل رقبے کے نقشے بنائے گئے جن کی تکمیل کے دوران بے شمار لوگ لقمہ اجل بنے ، زیادہ تر ہلاکتیں چیتوں یا ملیریا کے مرض کی وجہ سے ہوئیں۔

انتالیس سالہ سکدھر اس وقت سروے کرنے والے مختلف دستوں کے جمع کیے ہوئے اعداد و شمار کا حساب کتاب لگایا کرتا تھا۔ اس موضوع پر دو کتابیں تخلیق کرنے والے برطانوی مورخ جان کے نے بتایا کہ سکدھر جس کام میں مصروف تھا اسے انجام دینے کے لیے علم ریاضی یا حساب دانی پر دسترس بہت ضرورت تھی جو اس میں تھی ، سر جارج ایورسٹ نے سکدھر کو غیر معمولی قابلیت کا حامل جینیئس ریاضی داں قرار دیا تھا۔برطانوی مورخ جان کے کا کہنا ہے کہ سر جارج ایورسٹ کی طرح ممکن ہے کہ سکدھر نے بھی کبھی خود پہاڑ کی یہ چوٹی نہ دیکھی ہو۔1847 میں جب سروے کرنے والوں نے پہلی بار دارجلنگ کے مقام سے اس چوٹی کا نظارہ کیا ہو تب شاید اسے ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے اونچے مقام کے برابر اونچائی یا چوٹی قرار دیا گیا ہو، تاہم 1856تک جب تک ان اعداد و شمار و معلومات کا حساب کئی بار پھر نہ کر لیا گیا اس کا باقاعدہ سرکاری اعلان نہیں کیا گیا کہ یہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔

سکدھر ، کلکتہ کے قدیم شہر جوروسانکو کے ایک بنگالی برہمن کے گھر اکتوبر 1813 میں پیدا ہوا ،اس نے شہر کے مشہور ہندو کالج سے علم ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔ تھوڑی بہت شدھ بدھ انگریزی زبان کی بھی تھی، کام میں جٹے رہنے والے سکدھر نے زندگی بھر شادی نہیں کی، ان کے افسر سر جارج نے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا تھا۔

انیس سو پچپن میں ماؤنٹ ایورسٹ چوٹی کی اونچائی میں چھبیس فٹ کا اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر انتیس ہزار اٹھائیس فٹ ہوگئی، انیس سو ننانوے میں اس کی اونچائی مزید سات فٹ اونچی ناپی گئی ، آج دنیا کی بلند ترین چوٹی انتیس ہزار پینتیس فٹ اونچی ہے۔کوہ پیمائی کی تاریخ ہمیشہ سکدھر اور اس جیسے بہت سے دوسرے جینیئس افراد کی احسان مند رہے گی

Friday, May 25, 2007

عالمی یوم ماحول 2007

"یوم شجر کاری" کا آغاز وقت کی ضرورت ہے

   موسموں کے جن کو صرف درختوں سے قابو میں رکھا جاسکتا ہے

   ستاروں پر کمند ڈالتا، خلاؤں کو مسخر کرتا اورجدید ٹیکنالوجی سے دنیا کو سمیٹ کرکمپیوٹر کے بٹن میں مقیدکرتا شاداں و فرحاں انسا ن
جب 21 ویں صدی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اس کے رنگ میں بھنگ پڑ جاتا ہے ۔اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ ترقی جو اس نے دن رات محنت کرکے حاصل کی تھی آج اسی کی تباہی کا باعث بن رہی ہے۔ دھواں اگلتی صنعتیں خود اس کی سانسوں کے درپے ہیں۔فطرت کو تسخیر کرنے کا دعوی آج کرہ ارض کی تباہی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔وہ اس شکستہ آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے۔
 تو ایسے میں اب یہ حضرت انساں کرے تو کیا کرے؟
   بس ایک ہی صورت ہے بچاؤکی ، ایک ہی جائے امان ہے اور وہ ہے صرف اور صرف فطرت کے تشکیل کردہ اصولوں کے تحت زندگی بسر کرنا۔ اگرچہ یہ آج کے دور میں اتنا آسان نہیں رہا ہے لیکن کوشش تو کی جاسکتی ہے نا! جلد یا بدیر ہم حالات کو پھر اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔
   عالمی یوم ماحول اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا بھر میں 5 جون کونہایت تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا فیصلہ پہلی بار 1972میں اسٹاک ہوم میں منعقد ایک کانفرنس میں کیا گیاتھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں اور خصوصا حکومتوں کی توجہ ماحولیاتی مسائل پر مبذول کرانا ہے (اس وقت جو ملکی حالات ہیں اس میں حکومت کتنی توجہ ماحول کو دے سکے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے لیکن پھر بھی امید تو کی جاسکتی ہے)

  ہر سال یہ دن ایک خاص عنوان کے تحت منعقد کیا جاتا ہے ، 2007 میں اسے Melting Ice, A hot topic کے تحت منایا جارہا ہے۔اس سال کے آغاز سے ہی ہم اپنے ہر مضمون میں یہ بات مسلسل دہرارہے ہیں کہ دنیا کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت کرہ ارض پر موجود ہر قسم کے ماحولیاتی نظاموں کو خطرے میں ڈال دے گا۔ بڑھتی ہوئی حدت براہ راست گلیشیئرز پر اثر انداز ہوگی جس سے سیلاب اور طغیانی کے خطرات بڑھیں گے اور پھر پانی کی کمی خشک سالی کو دعوت دے گی۔یہ دو مظاہر دنیا کو ہلا کر رکھ دیں گے ۔ زمین پر موجود ہر قسم کی حیات خطرے میں پڑجائے گی چاہے وہ انسان ہو یا کوئی اور جاندار۔
      بڑھتی ہوئی حرارت اور برف کے اسی تعلق کے پیش نظر 2007تا 2008 کو بین الاقوامی قطبی سال(Polar Year) بھی قرار دیا گیا ہے۔

  قطبی علاقے اس کرہ ارض کی آب و ہوا پر بھی خاصا اثر ڈالتے ہیں۔استوائی خطے سال میں قطبین کے مقابلے میں تقریبا پانچ گنا زیادہ حرارت حاصل کرتے ہیں اور ہماری فضا اور سمندر اس حرارت کو قطبین تک پہنچانے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔لہذا یہ دونوں قطبی علاقے کرہ ارض کے آب و ہوا کے نظام سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔حدت کے بڑھنے سے مستقل طور پر منجمند علاقوں کے پگھلنے سے نہ صرف وسیع علاقے زیر آب آئیں گے بلکہ برف پگھلنے سے میتھین کا بھی اخراج ہوگا جو گرین ہاؤس گیسوں میں سے ایک ہے۔

  اس تمام صورت حال میں بہتری لانے کے لیے دنیا بھر کے سائنس داں دن و رات محنت کررہے ہیں اور آئے دن ان کے تجربات اور تجاویز سامنے آتی رہتی ہیں لیکن سر دست ہم کسی سائنسی تجربے یا اعدادو شمار کے گورکھ دھندوں پر بات نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی کسی سرکاری حکمت عملی کے جھمیلوں میں الجھنا چاہتے ہیں بلکہ ان سب کے بجائے صرف ایک آسان بات پر زور دیں گے اور یہ کہ ہمیں صرف اور صرف درخت لگانے چاہئیں اور اگر ہمارے پاس جگہ نہیں ہے تو ہم پودوں سے بھی کام چلا سکتے ہیں۔ اس سے ہم موسم کے بے قابو ہوتے جن کو خاصی حد تک قابو میں لا سکتے ہیں۔

   ہمارے ملک میں جنگلات کا رقبہ صرف 4.8 فیصد ہے جو بہت کم ہے اور حکومت اسے 2011ءمیں بڑھا کر 5.7 فیصد تک پہنچانا چاہ رہی ہے۔ہر سال حکومت سرکاری سطح پر شجر کاری مہم دھو دھام سے شروع تو کرتی ہے لیکن جتنا کثیر سرمایہ اس پر خرچ ہوتا ہے اس کے مقابلے میں نتائج چند فیصد بھی برآمد نہیں ہوتے ۔اور آئندہ سال جب یہ مہم ایک بار پھر شروع ہوتی ہے تو پچھلے سال کے نتائج قصہ پارینہ سمجھ کر بھلا دیے جاتے ہیں اور ان کاکوئی تذکرہ نہیں ہوتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اس سال ایسا نہ ہو اور حکومت اپنے ارادوں میں کامیاب ہولیکن صرف حکومت پر تکیہ کیوں؟ یہ کام ہمیں خود بھی کرنا چاہیے۔

  شجر کاری اگرچہ ہمارا مذہبی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے لیکن ایک عام مشاہدہ ہے کہ ہم مذہب اور اخلاق سے زیادہ اپنے ثقافتی رسم و رواج سے زیادہ متاثر رہتے ہیں ۔ بے انتہا فضولیات اور خرافات میں پیسہ اور وقت دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ پیدائش ، موت ، شادی بیاہ ہر موقع پر ہم مذہب اور اخلاقیات سے ہٹ کر صرف ثقافتی رسوم ورواج کو اہمیت دے رہے ہوتے ہیں لہذا اس حوالے سے ہم واضح طور پر یہ بات کہہ رہے کہ جب تک شجر کاری کو ہم اپنے رسم ورواج اور روز مرہ کی عادات میں شامل نہیں کر لیں گے اس کے نتائج خاطر خواہ برآمد نہیں ہوں گے۔

  ذیل میں ہم شجرکاری اور جنگلات کے فروغ کی لمبی چوڑی حکمت عملیوں سے ہٹ کر یہاں کچھ ”عام اور عوامی“ سی تجاویز پیش کررہے ہیں، اجتماعی اور زیادہ تر انفرادی سطح پر چھوٹے چھوٹے سے کام جو سب بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔اور اگر ہم انہیں اپنے معاشرے میں رائج کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے ایک خاموش انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔

  شجرکاری کے فروغ کے لیے کچھ تجاویز

·       ہم اقوام متحدہ کے تحت بہت سے ایسے دن بھی مناتے کہ جن سے ہمارے ملک کا اتنا براہ راست تعلق نہیں ہوتا ہے تو کیوں نہ ایک دن ایسا بھی منایا جائے جس کی ابتدا ہمارے ملک سے ہواور جو ہماری ضرورت بھی ہو۔ جنگلات کی کمی ہمارا ایک تشویش ناک معاملہ ہے اور بہت زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود ہم من پسند نتائج اب تک نہیں حاصل کر پائے ہیں لہذا ہم وقت برباد کیے بغیر اسی سال سے قومی یا صوبائی سطح پر یوم شجر کاری منانے کاآغاز کرسکتے ہےں یا کم از کم شہری حکومت تجرباتی طور پر شہر کی سطح پر ”یوم شجر کاری“ منا سکتی ہے ۔ مثبت نتائج کے بعد ہم اسے بڑھا کر ہفتہ شجر کاری بھی منا سکتے ہیں۔
·       اسکولوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے اور ان کے درمیان مقابلوں کا اہتمام کیا جائے۔
·       ٹاؤن ناظمین کو شجر کاری کے ٹاسک دیے جائیں۔ناظمین محلوں کی سطح پر اس کام کو آگے بڑھا سکتے ہیں خصوصا خواتین اور بچوں کی شمولیت سے یہ کام ممکن ہو سکتا ہے۔
·       جامعات بوٹینیکل گارڈن لگائیں تاکہ ہم ادویاتی پودوں میں بھی خود کفیل ہوسکیں۔اس کے علاوہ اسکول اور کالج کے طالب علموں کے لیے ان گارڈن کے مطالعاتی دوروں کا بھی اہتمام کیا جائے تاکہ اس حوالے سے ان پودوں کی قدر وقیمت کا شعور پروان چڑھ سکے۔
·       بلڈرز کو پابند کیا جائے کہ وہ ہاؤسنگ اسکیموں میں درختوں کے لیے جگہ ضرور رکھیں اور جب وہ اسکیم کا اعلان کریں تو اسی وقت درخت لگا دیے جائیں تا کہ جب لوگ آباد ہوں تو درخت خاصے بڑے ہوچکے ہوں۔
·       ہاؤسنگ اسکیموں کے نقشوں میں شجر کاری منصوبہ بھی لازمی قرار دیا جائے
·       ایک دوسرے کو تحفے میں پودے دینے کی رسم قائم کریں خصوصا مشہور شخصیات تاکہ لوگوں کو ترغیب حاصل ہو ۔ (اسی سال 5 جون سے اس کا آغاز کیا جائے تو کیا اچھا ہو!)
·       صحت مند ہونے والے مریضوں کو اسپتال پودوںکا تحفہ دیں خصوصا میٹرنٹی اسپتال والے ماں بننے والی ہر عورت کو یہ تحفہ ضرور دیں۔
·       پارکوں کے لیے خالی پڑی ہوئی جگہوں پر ناظمین علاقے کے لوگوں کے ساتھ مل کر پودے لگا سکتے ہیں ۔
·       نالے اور ندیوں کے پشتوں پر درخت لگائیں۔
·       اور سب سے اہم بات کہ خواتین کو کچن گارڈن کی ترغیب دی جائے۔ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ پر معلوماتی پروگرام دکھائے جائیں خصوصا وہ تمام چینل یہ کام باآسانی کرسکتے ہیں جو گھنٹا گھنٹا بھر کے روزانہ کوکنگ پروگرام چلاتے ہیں ۔ 15سے20منٹ اس حوالے سے بھی مخصوص کیے جاسکتے ہیں۔کم جگہوں مثلا فلیٹوں میں رہنے والی خواتین بھی باآسانی بڑے گملوں میں دھنیا، پودینہ، ٹماٹر،مرچیں اور کریلے وعیرہ کی بیلیں لگا سکتی ہیں۔ اس سے سبزیوں کی قیمتیں بھی اعتدال میں رہیں گی۔
·       متعلقہ سرکاری محکمے ابتدائی طور پر مختلف پودے اور سبزیوں کے بیج مفت فراہم کرسکتے ہیں۔
·       شہری حکومت کا محکمہ لوگوں کی رہنمائی کرسکتا ہے کہ وہ کن جگہوں پر کون سے پودے یا درخت لگا سکتے ہیں۔
·       مختلف ہارٹیکلچر سوسائیٹیز اور ایسوسی ایشن عام لوگوں کے لیے تربیتی کورس کا اہتمام کریں۔
·       زیادہ سے زیادہ فلاورز شو منعقد کیے جائیں۔
·       درخت کاٹنے پر سختی سے پابندی عائد ہو اور اس جرم کے ارتکاب پر ابتدائی طور پر جرمانہ اور بعد ازاں سزا ہو۔

 اگلے سال جب یوم شجر کاری منایا جائے تو پچھلے سال کے نتائج بھی دیکھ لیے جائیں اور اچھی کارکردگی کے اعتراف میں انعامات اور اعزازات دیے جائیں ۔متعلقہ شعبے ہماری ان تجاویز پر ضرور غور کریں گے کیونکہ اگر یہ سب کچھ ہونے لگے تو اس سے نہ صرف یہ کہ ہمارا شہر اور ملک سرسبز ہوگا بلکہ اس کے اثرات کم ہی سہی لیکن ماحول پر ضرور رونما ہوں گے۔ہمارا گھر اور ارد گرد کی فضاکتنی خوشگوار ہوجائے گی۔ خوبصورت پرندے اور رنگ برنگ تتلیوں کی آمد و رفت بڑھنے لگے گی اور سوچئیے ذرا زندگی کتنی حسین لگنے لگے گی!
      رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

      درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے

Thursday, February 15, 2007

بگلہیار ڈیم کا تنازع

بگلہیار ڈیم کی تعمیر پر صدائے احتجاج ایسا ہی ہے جیسا ”لکیر پیٹنا“۔ 1999 میں ہزاروں مربع میٹر سے زائد رقبے پر تعمیر ہونے والا یہ ڈیم کیا اتنا ہی چھوٹا تھا کہ 2002 تک ہمیں اس کی تعمیر ہی نظر نہ آسکی اور آج جب غیر جانبدار ثالثی ماہرین نے ہمارا ایک آدھ اعتراض مان لیا ہے تو ہم خوشی سے پھولے نہیں سمارہے ہیں اور امید کررہے ہیں کہ بھارت اپنے کروڑوں ڈالر کے پروجیکٹ کو تکمیل کے آخری مراحل میں لا کراسے توڑ پھوڑ کر ہماری مرضی کے مطابق ڈھال دے گا۔

اگر ماضی کے کچھ صفحات پلٹ کر دیکھیں تو اس حوالے سے ہماری بے پروائیوں کے چند تلخ حقائق سامنے آتے ہیں۔ بگلہیار ڈیم کی منصوبہ بندی وولر بیراج سے بھی پہلے کی گئی تھی (وولر بیراج کو کشمیری مجاہدین نے اڑا دیا تھا اور اس سے بھارت کو تقریبا دو ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔) 1992 میں پہلی دفعہ بھارت نے پاکستان کو اپنے اس منصوبے سے آگاہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس منصوبے کا ڈیزائن کسی بھی طرح سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔   1960میں کیے گئے سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریائے چناب کے تمام تر پانی پر پاکستان کا حق ہے اور اس کے تحت مغربی دریاں پر تعمیر کیے جانے والے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے ڈیزائن اور آپریشن، پانی ذخیرہ کرنے والی جھیلوں کی گنجائش اور دریا پر کیے جانے والے دیگر کاموں کے معیار مقرر کیے گئے ہیں اور چند پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا اس کا بھی پابند ہے کہ وہ ایسے کسی بھی منصوبے کے آغاز سے کم از کم چھ ماہ پہلے پاکستان کو تکنیکی معلومات فراہم کرے تاکہ پاکستان اپنا اطمینان کرسکے۔سندھ طاس معاہدہ دونوں فریقوں کو ایسے منصوبوں کے معائنے کے حق دیتا ہے اور اسی کے مطابق جب جب پاکستان نے معائنے کی بات کی تواسے مسلسل چار برسوں تک ٹالا گیا اور یہ معائنہ بالآخر اکتوبر 2003 میں ہواجب ڈیم خاصا تعمیر ہوچکا تھا۔ڈیم کے معائنے کے بعد پاکستانی کمشنر برائے انڈس واٹرز نے کہا تھا کہ ڈیم کی تفصیلات ان نقشوں کے مطابق نہیں پائی گئیں جو انڈیا نے انہیں فراہم کیے تھے۔معائنہ ٹیم کی اس رپورٹ نے پاکستان کا یہ اعتراض درست ثابت کردیا کہ بگلہیار ڈیم کی تعمیر میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ایسی صورت حال میں ہمیں فوری طور پرعالمی بینک سے رجوع کرنا چاہیے تھا لیکن ”بوجوہ“ اس اقدام میں تاخیر ہوتی گئی اور جب یہ قدم اٹھایا گیا تو مذکورہ ڈیم کی تعمیر خاصی آگے بڑھ چکی تھی۔

خدا کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ دریائے سندھ کا پانی مکمل طور پر بھارت کی دست برد سے محفوظ ہے ۔تبت سے نکلنے والا یہ پاکستان کا سب سے بڑا دریا جسے ہم بجا طور پر پاکستان کی شہ رگ بھی کہہ سکتے ہیں لداخ کے مقام سے آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس دریا کے راستے میں کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں دریائے سندھ پر کوئی ڈیم بھی بنایا جاسکے۔دیگر ذیلی دریا ؤ  ں کا پانی آزاد کشمیر میں دریائے سندھ میں آکر واپس مل جاتا ہے لہذا دریائے سندھ کا پانی جوں کا توں پاکستان کو مل جاتا ہے۔

چناب دریائے سندھ کا ذیلی دریا ہے جو کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع متنازع وادی کشمیر سے شروع ہوتا ہے اور یہی وہ دریا ہے جو بھارت کی دست برد کا سب سے زیادہ شکار ہوسکتا ہے۔یہ دریا دریائے راوی  سے صرف پچاس میل کے فاصلے سے بہتا ہے اور راوی پر سندھ طاس معاہدے کی رو سے بھارت کا حق ہے۔ بھارت اگر ہٹ دھرمی اور شرارت پر اتر آئے تو ایک نہر تعمیر کرکے چناب کا پانی راوی میں کھینچ سکتا ہے۔ اس طرح وہ چناب سے ملنے والے پانی کو کھینچ کر راجھستان تک لے جاسکتا ہے۔

 مذکورہ بگلہیار ڈیم مقبوضہ کشمیر کے ضلع ڈوڈا میں دریائے چناب پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ اس جگہ کم و بیش 3 دریا ؤ  ں کا پانی جمع ہوتا ہے جو پاکستان کی طرف بہہ کر اس کی زراعت کو نئی سانسیں فراہم کرتے ہیں۔پاکستان نے کہا تھا کہ بگلہیار ڈیم کی تعمیر سے اس کی زراعت پر برا اثر پڑے گا اور اس کی 60 فیصد زمین پیاسی رہ جائے گی۔جبکہ بھارت کے پاس لفاظی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، وہ دعوی کر رہا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر کا مقصد پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچانا نہیں ہے بلکہ اپنے عوام کے لیے 9 سو میگا واٹ کی بجلی حاصل کرنا ہے لیکن ماہرین اس دعوے کو رد کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بھارت کا توانائی والا موقف درست نہیں ہے کیونکہ اس نے حال ہی میں امریکا سے سول ٹیکنالوجی کا جو بین الاقوامی معاہدہ کیا ہے اس کے بعد اسے توانائی کا کوئی بحران درپیش نہیں رہے گا ۔ یہ ڈیم پاکستان کے تربیلا ڈیم سے بلند ہو گا جو کہ دنیا میں مٹی سے بننے والا دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہے۔اس ڈیم کی تعمیر سے دریائے چناب کے راستے پاکستان آنے والے پانی میں 8 ہزار کیوسک کی یومیہ کمی ہو جائے گی اور یوں 28 دن کی کمی سے ہماری زراعت پر کیا گذرے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔بالخصوص دسمبر سے فروری کے مہینوں میں جب پہاڑوں پر برف باری سے دریا کا پانی منجمد ہو جاتا ہے اور نیچے پاکستان میں ربیع کی فصل کی تیاری اور آبیاری کا یہی موسم ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے ایک اندازے کے مطابق 3لاکھ21 ہزار ایکڑ اراضی ناقابل کاشت ہوجائے گی اور یہ رقبہ بڑھ بھی سکتا ہے۔اس ڈیم کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ بھارت اس ڈیم کے ذریعے جب چاہے گا پاکستان میں پانی کی قلت پیدا کردے گا اور جب چاہے گا اس ڈیم کے دروازے کھول کر پاکستان پر سیلاب مسلط کردے گا۔
یاد رہے کہ بھارتی ذرائع واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ بھارت ساڑھے چار ہزار کروڑ کے پروجیکٹ کو تکمیل کے آخری مراحل میں لا کر ختم کردے۔

 آئیے سندھ طاس معاہدے پر ایک نظر ٹالتے ہیں : برصغیر کی تقسیم کے بعد دونوں ملکوں کے مابین 18 دسمبر 1947 کو ایک معاہدہ کیا گیا جس کی رو سے دونوںممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کی صورت حال، تقسیم سے قبل والی ہی رکھنی تھی لیکن 8 ماہ سے بھی کم مدت کے اندر اندر مصالحتی ٹریبونل کے توڑے جانے کے بعد بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے آب پاشی کے لئے مخصوص ہر اس نہر کو بند کر دیا جو فیروز پور اور گورداسپور سے نکل کر دونوں ملکوں کی سرحد عبور کر رہی تھیں۔ بھارت کی اس کارروائی کے باعث پاکستانی کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔

انڈیا کا مطالبہ تھا کہ بھارتی پنجاب سے گزرنے والے تمام دریاؤں پر پاکستان، بھارت کا حق تسلیم کرے اور ان دریاؤں کے پانی پر پاکستان پنجاب کے باشندوں کے حق اور حصے کا مطالبہ نہیں کرے۔ اس کے برعکس پاکستان کے اس مطالبے کو وقت نے درست ثابت کیا کہ پانی کے ا ستعمال یا کھپت کی موجودہ صورت حال جوں کی توں رہنے دی جائے البتہ زائد پانی کو دونوں ممالک کے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے اس مطالبے کو متعدد معاہدوں اور ملکوں کی حمایت حاصل تھی۔


اس مطالبے کے جواب میں بھارت نے وہ اصول پیش کیا جو اگرچہ کئی بین الاقوامی مذاکرات میں پیش تو کیا گیا تھا لیکن اس معاہدے کی پذیرائی کسی ملک نے نہیں کی تھی۔ اس اصول کے مطابق دریاؤںکے بالائی بہاؤ پر واقع ملک کو دریا کے پانی پر مکمل حق حاصل ہوتا جب کہ زیریں بہاؤ پر قائم ملک کو پانی صرف اس صورت میں مل سکتا جب دونوں ممالک آپس میں کوئی معاہدہ کر لیتے۔

یکم اپریل 1948 کو اٹھایا گیا یک طرفہ بھارتی اقدام، دو ممالک سے ہو کر گزرنے والے دریاؤں کے متعلق بین الاقوامی قانون کی روح کے منافی تھا۔ 1921 کا بارسلونا کنونشن، بھارت نے جس پر دستخط کئے تھے، کسی بھی ملک کو ایسے دریاؤں کا پانی روکنے یا ان کا رخ تبدیل کر دینے کی قطعی اجازت نہیں دیتا جو کسی ملک کی سرحد عبور کر کے پڑوسی ملک میں داخل ہوتے ہیں۔ مذکورہ کنونشن کے مطاق کسی ملک کو دریاؤں کے پانی کی اس حد تک اور اس طریقے سے استعمال کی اجازت بھی حاصل نہیں کہ اس کے پڑوسی ملک کی زمینیں سیراب نہ ہو سکیں یا وہ پانی کو درست طور سے استعمال نہ کر سکے۔ دریاؤں کے بالائی بہاؤ پر واقع متعصب بھارت نے اپنی حیثیت اور طاقت کا غیر قانونی مظاہرہ کرتے ہوئے اپریل 1948 میں پاکستان کو دریاؤں کے پانی کی فراہمی روک دی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان کے ایک وزارتی وفد کو نئی دہلی کا ہنگامی دورہ کرنا پڑا اور پانی کی بحالی کے لئے بات چیت کرنی پڑی۔ لیکن ان مذاکرات میں بھارت نے اصرار کیا کہ مشرقی جانب سے آنے والے تمام دریاؤں پر پاکستان، بھارت کا ملکیتی حق تسلیم کرے۔ 4 مئی 1948 کو ہوئے مذاکرات میں بھارت نے پاکستان وفد کو ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جس کے تحت اسے ریزرو بینک آف انڈیا میں، بھارتی وزیر اعظم کی مقرر کردہ رقم جمع کروانا پاکستان کے لئے ضروری تھا اور اس کے بعد ہی پاکستان کو پانی کی فراہم بحال کی جانی تھی۔

سندھ طاس میں واقع دریائی نظام، دریائے سندھ اور اس کے پانچ ذیلی دریاؤں جہلم، بیاس، چناب، راوی اور ستلج پر مشتمل ہے۔ یہ تمام دریا پاکستان میں مٹھن کوٹ کے مقام پر دریائے سندھ سے مل جاتے ہیں۔ جس کے بعد کراچی کے جنوب میں واقع بحر ہند میں جا گرتے ہیں۔ سندھ طاس کا کل رقبہ لگ بھگ 365,000 مربع میل پر مشتمل ہے جو زیادہ تر پاکستان میں شامل ہے جب کہ اس کا بقیہ معمولی حصہ مقبوضہ کشمیر، بھارت، چین اور افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ آزادی کے وقت پاکستان کو میسر 37 ملین ایکڑ میں سے 31 ملین ایکڑ رقبے پر آب پاشی ہوتی تھی۔ دونوں ممالک کے مابین سرحدوں کا تعین کرتے وقت برصغیر پاک وہند میں قائم نہری نظام پر توجہ نہیں دی گئی تھی البتہ باؤنڈری کمیشن نے یہ تنازع تسلیم کیا تھا۔ متاثرہ علاقوں کے نمائندوں نے ثالثی کمیشن کے سامنے البتہ اقرار کیا تھا کہ پانی کی سپلائی پر دونوں ممالک کا حق ہے۔ پھر آزادی کے ا بتدائی برسوں کے دوران 4 مئی 1948 کو دونوں ممالک نے ایک معاہدہ کیا جس کی رو سے خطے کے دریاؤں سے پانی کے حصول کی خاطر پاکستان کو مقررہ رقم بھارتی حکومت کو ادا کرنی تھی۔ واضح رہے یہ محض عارضی معاہدہ تھا جو پانی کی سپلائی بحال رکھنے کی غرض سے کیا گیا تھا اور پانی کی تقسیم کے مستقل حل کی تلاش کے لئے دونوں ممالک کے مابین مذاکرات جاری رہنے تھے۔

چونکہ دونوں ممالک کی حکومتیں اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھیں لہٰذا مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ اس معاملے کو پاکستان نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے جانے کی دھمکی دی جس پر بھارت نے یقین دہانی کروائی کہ پانی کی تقسیم کا یہ مسئلہ باہمی بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔ یہ بہانہ بھارت ہمیشہ سے ہی بناتا آ رہا ہے اور برسوں کے تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی مسئلے کے حل میں تعطل پیدا کر دینے کا یہ وہ بہترین ہتھکنڈا ہے جسے بھارت مہارت سے استعمال کرتا ہے۔

مئی 1948 کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان سے بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ 1951 تک بھارت کے غیر سنجیدہ رویہ کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ بھارت کی جانب سے سمجھوتہ نہ کرنے کی خواہش کے باوجود دونوں ممالک اس مسئلے کا حل چاہتے تھے کیوں کہ انہیں علم تھا دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کا معاملہ اگر حل نہیں ہوا تو مستقبل میں بے شمار تنازعات کو جنم دے گا۔

اس دوران بھارت نے دریائے بیاس اور ستلج کے بالائی حصے میں، فیروز پور سے آگے ہریک کے مقام پر بیراج کی تعمیر شروع کر دی تھی اور بھاگرا کی ڈیم سائٹ پر بھی کام شروع تھا لہٰذا پاکستان کی ہر کوشش اور ہر اعتراض کو اس نے مسترد کر دیا۔

ماحول اور قدرتی وسائل پر گہری نظر رکھنے والے پی سی ایس آئی آر کے سابقہ ڈائریکٹر مرزا ارشد علی بیگ کی ایک رپورٹ کے مطابق چونکہ اس مسئلے سے لاکھوں لوگوں کی قسمت وابستہ تھی اور پرامن مذاکرات کے ذریعے اس کا حل بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا لہٰذا امریکہ کے ایک مشہور رسالے کولیئر (جو1957 میں بند ہوا) نے ٹینیسی ویلی اتھارٹی کے سابق چیئرمین اور امریکی اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈیوڈ ای کو حقائق تلاش کرنے کی غرض سے بھارت اور پاکستان کے دورے پر بھیجا۔ اس کا کام اس مسئلے پر ایک رپورٹ تیار کرنا تھا جس کی مدد سے یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا۔

وطن واپسی پر ڈیوڈ نے سلسلے وار آرٹیکلز کی صورت میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس سلسلے کا پہلا آرٹیکل ”کولیئر“ کے 4 اگست 1951 کے شمارے میں شائع ہوا۔ اس نے اس میں لکھا تھا۔ ”ابتدائی نکتہ، جس سے شروعات کی جائے یہ ہو کہ پاکستان کو پانی سے محرومی اور اسے صحرا بنا دیئے جانے کے خدشات ختم کئے جائیں۔ اس کے پانی کے حالیہ استعمال کے حجم کی بھارت تصدیق کرے اور اسے (پاکستان کو) پابند کیا جائے کہ وہ اور بھارت صحیح معنوں میں دریا کے بین الاقوامی طاس میں مل کر کام کریں انجینئرنگ کی بنیادوں پر جو بھارت کے مستقبل کے پانی کے استعمال کی بھی یقین دہانی کروائے گا۔ علیحدہ علیحدہ کام کرنے کی صورت میں مذکورہ دونوں ممالک یہ مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے کیوں کہ دریا (سندھ) دونوں ممالک کی سرحد کو خاطر میں نہیں لاتا اور کشمیر، بھارت اور پاکستان سے گزرنے والے اپنے قدرتی راستے پر گامزن رہتا ہے۔ اس پورے نظام کو بطور ایک اکائی ترقی دی جانی چاہئے اور امریکہ کے سات ریاستوں کےٹی  وی اے سسٹم کی طرح بطور ایک اکائی ہی اسے چلایا جانا بھی چاہئے۔

اس وقت کے عالمی بینک کے صدر یوجین بلیک نے ڈیوڈ کے تحریر کردہ آرٹیکلز پڑھے اور اس سے رابطہ کر کے اس سے پوچھا کہ بھارت اور پاکستان کے لئے اس کی تجاویز کی طرح قابل قبول ہو سکتی ہیں۔ ڈیوڈ سے مشاورت کے بعد بلیک نے دونوں ممالک کے وزرا کے نام خطوط لکھے اور دریائے سندھ کے پانی کے تنازع کے حل کے لئے مذاکرات کے لئے اپنے دفتر کی خدمات پیش کر دیں۔ بلیک دونوں ممالک کو اپنے دفتر میں مذاکرات کرنے کے لیے راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا اور یہ مذاکرات مئی 1952 میں عالمی بینک کی نگرانی میں شروع ہوئے۔ یہ مذاکرات وقفے وقفے کے ساتھ نو طویل برسوں تک جاری رہے اور ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ اس تنازع کے حل کے لئے آخر عالمی بینک کو اپنا کردار ادا کرنا پڑا اور تنازع ختم کرنے کے لئے اس نے تین مغربی دریاؤں کے پانی پر پاکستان کو حقدار ٹھہرایا اور دیگر تین مشرقی دریا، بھارت کے حوالے کر دیئے۔ اس کے بعد پاکستان نے نکتہ اٹھایا کہ بھارت کی جانب سے بھاکرا ڈیم بنائے جانے کے باعث مغربی دریا ؤ  ں کا بہاؤمتاثر ہو گا اور فصلوں کی بوائی کے موسم میں ملنے والا پانی اس کے لئے ناکافی ثابت ہو گا۔

عالمی بینک کے اس استفسارپر کہ بھارت اپنے مشرقی دریاؤں کے پانی کو کس طرح کام میں لائے گا؟ بھارت نے ایک اسکیم پیش کی جس کے مطابق وہ 8 ملین ایکڑ فٹ پانی راجھستان کو فراہم کرے گا۔ 7.2 ملین ایکڑ فٹ پانی پنجاب کو اور 0.5 ملین ایکڑ فٹ پانی کشمیر کو۔ پانی کی تقسیم کا یہ فیصلہ اس وقت کے یونین منسٹر گلزاری لال نندرا کی بلائی گئی ایک ہنگامی میٹنگ میں کیا گیا تھا۔ اس میٹنگ کے فیصلے کے مطابق راجھستان کو دیا گیا پانی، دونوں جانب کے پنجاب کو دیئے گئے پانی کی کل مقدار سے بھی زیادہ تھا حالانکہ مشرقی پنجاب کے دریا ؤ  ں سے راجھستان کا کوئی تعلق نہ بنتا تھا۔ شاید اس میٹنگ میں شامل سیاستدان اور ٹیکنوکریٹ کچھ دیر کے لئے شیخ چلی بن گئے تھے اور راجھستان کے صحرا کو نخلستان بنانے کا خواب دیکھنے لگے تھے۔

کوئی حل برآمد ہوتا نہ دیکھ کر آخر عالمی بینک نے مغربی ممالک سے، پاکستان اور بھارت کے لئے اس معاہدے کی شرائط طے کرنے اور ایک ارب ڈالر کی رقم کی ضمانت دینے کے علاوہ پاکستان میں پانی کے تعمیراتی منصوبوں کے لئے بھی 200 ملین ڈالر کی رقم دینے کو کہا۔ اس کے بعد انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدہ) پر 19 ستمبر 1960 کو بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور اس وقت کے پاکستانی حکومت کے سربراہ صدر ایوب خان نے کراچی میں دستخط کئے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت، پاکستان کو مدھو پور اور فیروز پور ہیڈ ورکس اور وہاں سے نکلنے والی نہروں کی دیکھ بھال اور آپریشن پر اٹھنے والے اخراجات کی ادائیگی کے بعد پانی فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ اس کے علاوہ اس نے مذکورہ ہیڈ ورکس کی نعم البدل پاکستان میں تعمیر کرنے کے لئے 100 کروڑ کی رقم بھی دینے کا وعدہ کر لیا۔ سندھ طاس معاہدے پر کراچی میں اس وقت کے پاکستانی صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور اس وقت کے صدر عالمی بینک ڈبلیو اے بی الیف نے 19 ستمبر 1960 کو کئے۔ اس معاہدے کا مقصد 365,000 مربع میل کے علاقے کو سندھ طاس میں واقع دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کرنا اور دونوں ممالک کو اپنی اپنی سرحدوں کے اندر پانی کو قدرتی وسیلے کو محفوظ کرنا اور اس کا انتظام کرنا ہے۔ یہ معاہدہ یکم اپریل 1960 سے موثر ہوا۔ اس معاہدے کے اہم نکات یہ تھے۔
 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں ہوئے سندھ طاس معاہدے کی چیدہ چیدہ شقات یہ ہیں۔

مشرقی دریاؤں کے متعلق تصریحات

الف۔ مشرقی دریاؤں کا تمام تر پانی بھارت کے مکمل استعمال کے لئے مہیا ہو گا۔

                    ب۔ صرف گھریلو استعمال اور ایسے استعمال کے ضمن میں کہ پانی کی مقدار کم نہ ہو، دریاؤں کا بہاؤرکھنے کی ذمہ داری پاکستان کی ہے اور وہ مرکزی ستلج اور مرکزی راوی پر ان مقامات سے پہلے، جہاں سے یہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ہیں، پانی کے بہاؤمیں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ج۔ پاکستان میں داخل ہونے والے تمام دریاں کے پانی پر اور ان ذیلی دریاؤں کے پانی پر، جو اپنی قدرتی گزرگاہ سے ہوتے ہوئے مرکزی ستلج اور مرکزی راوی میں ضم ہو جاتے ہیں، پاکستان میں داخل ہونے کے بعد پاکستان کا حق ہو گا۔

مغربی دریاؤں کے متعلق

الف- مغربی دریاؤں کے تمام تر پانی پر پاکستان کا کلی حق ہوگا۔
           ب- مغربی دریاؤں کے تمام پانی پاکستان میں بہہ کر آنے کی ذمے داری بھارت کی ہوگی اور وہ پانی کے بہاؤکو روکنے کا مجاز نہیں ہے۔سندھ طاس  معاہدے کے تحت یہ مکمل طور پر واضح ہے کہ بھارت کو دریائے چناب کے پانی کا ذخیرہ کرکے اسے روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے لیکن بھارت کی تاریخ ایسی عہد شکنی کے واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔

اب جبکہ ریاست جموں اور کشمیر میں بھارت کی طرف سے بنائے جانے والے بگلیہار ڈیم اور پن بجلی گھر کا فیصلہ ورلڈ بینک کے غیر جانبدار ماہرین نے پیر کے روز کر دیا ہے تب بھی پاکستان کے خدشات جوں کے توں برقرار ہیں اور وہ ہر حوالے تحفظات کا شکار ہے۔
ورلڈ بینک کے غیر جانبدار ماہر نے پاکستان کی طرف سے بگلیہار ڈیم اور پن بجلی گھر کے ڈیزائن پر چار اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان میں سے تین اعتراض پر تنقید کی گئی جب کہ ایک اعتراض کو درست مانا گیا۔

بھارت نے دعویٰ کیا کہ 5 کروڑ مکعب میٹر پانی کا ذخیرہ سندھ طاس معاہدے کی رو سے متفقہ ہے اور پاکستان کے اعتراض کو رد کر دیا گیا کہ وہ اس پانی کو آبپاشی کے لئے استعمال کرے گا۔ بھارت نے کہا کہ اگر ڈیم کی بلندی پاکستان شرائط کے مطابق رکھی جائے تو بجلی کی پیداوار صرف 50 میگا واٹ رہ جائے گی۔ سردیوں میں ڈیموں میں پانی کی قلت ہو جانے کی بنا پر کشمیر میں بجلی کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

 پاکستان نے ڈیم پر چھ فنی اعتراض کئے جو منصوبے کی ہیئت کے بارے میں تھے۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 1960 میں سندھ طاس معاہدے میں اپنی پوزیشن کو طویل مذاکرات کے نتیجے میں کمزور کر لیا اور آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی پر مضبوط اعتراض نہ کیا حالانکہ اس شق میں درج ہے کہ اگر کوئی بھی پارٹی کوئی بھی ایسا تعمیری کام کرنا چاہتی ہے جو پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے تو دوسری پارٹی کو اس کا تمام تعمیری نقشہ اس کی لبائی چوڑائی بتانا ہو گی۔
یاد رہے کہ پاکستان نے ڈیم کی تعمیر پر اعتراض کرنے کے بجائے اس کے ڈیزائن پر اعتراض کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کی تعمیر سے ہماری طرف آنے والے پانی کے بہاؤمیں کمی واقع نہ ہونے پائے۔

بھارت نے یقین دلایا کہ پانی کے بہاؤ میں فرق نہ آنے پائے گا تاہم پاکستان نے پانی کے ذخیرہ، پانی کی ڈیم کی سطح سے بلندی، پانی کے اخراج پر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا تھا۔

پاکستان کا اعتراض یہ بھی تھا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی وسیع جگہ کی موجودگی کی بنا پر بھارت جب چاہے گا پانی کے ذخیرے میں اضافہ کرے گا۔ لہٰذا ڈیم کی بلندی کم کی جائے۔ غیر جانبدار ماہر نے بھی رپورٹ میں لکھا تھا کہ بھارتی اعداد وشمار غلط ہیں لہٰذا اس نے بھارت کو متنبہ کیا کہ وہ پانی کی سطح سے اوپر ڈیم کی بلندی کو 4.5 میٹر سے کم کرے اور یوں خالی جگہ کے رقبے میں 33 فیصد کمی کا فیصلہ دیکر بھارت کو خوش کر دیا۔

 بھارت ڈیم کی بلندی میں 1.5 میٹر کی کمی کرنے کی تجویز پر کتنا عمل کرتا ہے اس کا ماضی دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
پاکستان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ بجلی پیدا کرنے کے لئے جمع کیا جانے والا پانی سندھ طاس معاہدے کے مطابق کیا جائے۔ غیر جانبدار ماہر نے کہا کہ بھارت نے اس کی بلندی کم رکھی ہے لہٰذا اس نے فیصلہ دیا کہ پانی کو گرانے کے لئے موجودہ بلندی 818 میٹر کو بڑھا کر 821 میٹر یعنی 3 میٹر زیادہ کیا جائے۔

پاکستان نے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی کا مطالبہ کیا۔  ماہر نے بھارت کو ہدایت کی کہ پانی جمع کرنے کے استعداد 37,722,000 مکعب میٹر سے کم کر کے 32,560,000 مکعب میٹر کی جائے تاہم اس میں اس بات کی ضمانت کا کہیں ذکر نہیں کہ دسمبر سے فروری تک کے مہینوں میں پاکستان کو روزانہ 8000 کیوسک پانی کی کمی نہ ہو گی۔

اضافی پانی کے اخراج اور دروازوں کی بناوٹ پر پاکستان تحفظات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا تاہم بھارتی وزیر کا کہنا ہے کہ بہت سے ٹیکنیکل اور قانونی معالات پر پاکستان کے ساتھ مستقبل میں بھی گفتگو ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق ”اگر موقع پر اضافی پانی کے اخراج کے لئے دروازے بنانا ضروری ہوا تو دروازہ بند ہونے کی صورت میں اس کا معائنہ کیا جائے گا جس میں اس کی مضبوطی، مناسب ڈیزائن ا ور تسلی بخش تعمیر کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔“ پاکستان کا اعتراض یہ تھا کہ اضافی پانی کے اخراجی دروازے اسپل وے کے ڈیڈ اسٹوریج لیول (ایسا مقام جس سے نیچے پانی صرف ہنگامی مواقع پر ہی لایا جا سکتا ہے) غیر ضروری ہے۔ غیر جانبدار ماہر نے پاکستان کی بات نہ مانی اور اصرار کیا کہ اسپل وے کے دروازے بین الاقوامی معیار اور قانون کے عین مطابق ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان 1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے مطابق غیر جانبدار ماہر کو قائل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ کیا اس کے بعد بھارت سے یہ توقع رکھنا عبث نہیں کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق ڈیم میں رد و بدل کرے گا۔