Sunday, February 2, 2014

پرندوں سے خالی آب گاہوں کی آلودگی کا نوحہ !!!

اچالی کے کنارے سفید سر مرغابی کے منتظر۔۔۔اور کینجھرکا آلودہ پانی ۔۔۔ کیا ہم کسی سانحے کے منتظر ہیں !!!
آب گاہوں کے عالمی دن کے حوالے سے دو اہم آب گاہوں کا جائزہ !

یہ اک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا ۔۔۔کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کرجانا!

جنگل، پیڑ، پودے، رنگارنگ پھول، ہلکورے لیتی اور رنگ بکھیرتی آب گاہیں اور ان کے کناروں پر اترتے ،چہچہاتے پرندے اور ان میں ہنستا بستا انسان ، کوئی بھی ماحول فطرت کے تمام رنگوں سے مل کر ہی تشکیل پاتا ہے۔ مصور فطرت کی بے عیب تصویر میں سے اگر ایک رنگ مٹ جائے تو ساری تصویر عیب دار ہوجاتی ہے۔ پرندے اور دیگر جان دار کسی بھی ماحول کی صحت کی علامت ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی خاص پرندے کی نوع وہاں آنا چھوڑ دے تو جان لیجیے کہ یہ وہاں بسنے والوں کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہماری زندگی کی فطری زنجیر کی کڑیوں میں سے ایک کڑی پرندے بھی ہیں اور اگرزنجیر کے درمیان سے کوئی کڑی ٹوٹ جائے تو پھر زنجیر کی مضبوطی کیسی !

دوفروری کو دنیا بھر میں آب گاہوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔اس سال یہ دن آب گاہیں اورزراعت ؛ ترقی کے شراکت دار(Wetlands and Agriculture: Partners for Growth) کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے۔




آب گاہوں کے حوالے سے پاکستان عالمی سطح پر اس وقت پہچانا گیا جب 1976 میں پاکستان نے رامسر کنونشن پر دستخط کیے۔یہ کنونشن ایران کے شہر رامسر میں1971میں تشکیل پایا۔یہ ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جس کے تحت آب گاہوں کے تحفظ کے لیے کوششیں اور وسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔

رامسر کنونش کے تحت عالمی سطح پر ایسی آب گاہوں کی فہرست تیار کی گئی ہے جو متعینہ معیار کے مطابق عالمی اہمیت کی حامل ہیں تاکہ ان آب گاہوں کی حفاظت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر منصوبے بنائے جائیں۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کو تین عہد ایفا کرنے ہوتے ہیں۔
 (1)  عالمی اہمیت کی آب گاہوں کو رامسر فہرست میں شامل کروانا
 (2)  تمام آب گاہوں کے دانش مندانہ استعمال کے لیے منصوبہ بندی کرنا
(3)   انواع اور پانی کے مشترکہ نظاموں کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون کرنا۔

اس کنونشن میں ابتدائی طور پر138 ممالک شریک تھے ۔جب پاکستان نے اس پر دستخط کیے تو ہمارے ملک کی مجموعی آب گاہوں کا مجموعی رقبہ تقریبا 7,800کلو میٹر تھا۔ اور یہاں عالمی معیار کی آٹھ آب گاہیں تھیں۔2003ءتک ان آبی ٹھکانوں کی تعداد 16 ہوگئی تھی۔اقوام متحدہ نے جب 2003ءکے سال کو ”میٹھے پانی کا سال“کے طور پر منایا تو اس سال کی نسبت سے 3نئی آب گاہیں رامسر سائٹ میں شامل کی گئیں ۔یہ تینوں آب گاہیں یعنی، انڈس ڈیلٹا، رن آف کچھ اور دیہہ اکڑوسندھ میں واقع ہیں۔  ان تین نئی آب گاہوں کے اضافے سے پاکستان میں بین الاقوامی اہمیت کی حامل آب گاہوں یعنی رامسر سائٹ کی تعداد 19ہوگئی۔  ان آب گاہوں کے نام درج ذیل ہیں۔

سندھ میں موجود9 آب گاہوں کے نام کینجھر جھیل، دیہہ اکڑو ، ڈرگ جھیل، ہالیجی جھیل ،انڈس ڈیلٹا ،انڈس ڈولفن ریزرو ، جبھو لگون ، نرڑی لگون اوررن آف کچھ ، جبکہ صوبہ پنجاب میں تونسہ بیراج ، اچالی کمپلیکس (کھبیکی، اچالی اور جھلر جھیل) ،چشمہ بیراج ، بلوچستان کی آب گاہوں میں استولا آئی لینڈ،جیوانی کوسٹل آب گاہ ، حب ڈیم ، میانی ھور، اومارہ ٹرٹل بیچ ، جبکہ سرحد میں دو آب گاہیں ٹانڈا ڈیم اورتھانے دار والاپائی جاتی ہیں۔

پاکستان مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اس لیے بہت سے پرندے جو وسطی اور شمالی ایشیا میں پیدا ہوتے اور پرورش پاتے ہیں وہ افغانستان کے راستے وادی سندھ کا رخ کرتے ہیں اور خصوصا سندھ کی آب گاہوں پر قیام کرتے ہیں۔یہ آب گاہیں ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی سرمائی رہائش گاہ کا درجہ رکھتی ہیں۔

ساحلی علاقوں اور دریاؤں کے دہانوں پر واقع یہ آبی ٹھکانے طری طرح کی آبی حیات یعنی مچھلیوں، جھینگوں اور کیکڑوں وغیرہ کے انڈے بچے دینے اور ان کی پرورش کے لیے بہترین جگہ تصور کی جاتی ہیں۔موسم سرما میں نقل مکانی کرکے آنے والے ہزاروں اقسام کے آبی پرندے لاکھوں کی تعداد میں ان آب گاہوں پر قیام کرتے ہیں۔

آج ہم پنجاب میں موجود تین جھیلوں ( رامسر سائٹ) کے ایک کمپلیکس اچالی کا ذکر کریں گے جو تین مختلف قدرتی آب گاہوں پر مشتمل ہے۔کچھ عرصہ پہلے ہمیں نہایت قریب سے اس آب گاہ کو دیکھنے کا موقع ملا۔

سطح مرتفع پوٹھوہار کے جنوبی کنارے کی حد بندی پاکستان کا معروف سلسلہ کوہ نمک کرتا ہے جو مغرب میں میانوالی سے لے کر مشرق میں جہلم تک پھیلا ہوا ہے۔ اسے کوہ نمک اس لیے کہا جاتا ہے کہ کیونکہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے نمک کے ذخائر یہاں دریافت ہوئے تھے۔ نمک کے یہ ذخائر 50 ملین سال قبل انڈین پلیٹ کے ایشین پلیٹ کے ساتھ ٹکرانے کے نتیجے میں بحیرہ ءٹیتھس کی تبخیر اور دریائے سندھ کے میدانوں کے قیام کا نتیجہ تھے۔

کوہ نمک کا مغربی کنارہ ایک نیم دائرہ تشکیل دیتا ہے جو وادی سون کو تخلیق کررہا ہے۔  وادی کے وسط میں بلندی سطح سمندر سے 2,000 فٹ ہے۔ یہاں واقع پانی کی نمکین جھیلیں بین الاقوامی اہمیت کی حامل ہیں اور سائبیریا سے آنے والے مہمان پرندوں کا گھر ہیں جن میں بقا کے خطرے سے دوچار مرغابیوں کی چند انواع سر فہرست ہیں۔

کوہ نمک کی آب گاہوں کا کمپلیکس کلر کہار جھیل ، کھبیکی، اچھالی، جھلر اور نمل جھیلوں پر مشتمل ہے۔ یہ علاقہ مقامی بھیڑوں کی ایک قسم پنجاب اڑیال کا مسکن بھی ہے۔

کھبیکی کا علاقہ نمکین اور کیچڑ زدہ ہے اور سردیوں میں پرندوں کے کئی اقسام کے لیے انتہائی پرکشش ہے جن میں خطرے سے دوچار سفید سر والی بطخیں بھی شامل ہےں۔ گذشتہ چند سالوں سے جھیل پر آنے والی مرغابیوں کی تعدادمیں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ کیونکہ اس آبی علاقے کے کمزور حیاتیاتی تنوع کو پرندوں اور مچھلیوں کے بے جا شکار اور جھیلوں میں پانی کی کمی سے زبردست نقصان پہنچا ہے۔ اچھالی جھیل بھی نمکین پانی رکھتی ہے اور ہجرت کرنے والے لم ڈھینگوں کے لیے مثالی علاقہ ہے۔ ہر سال یہ پرندے 3 سے 4 مہینوں کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں اور اپنے طویل سفر کو جاری رکھنے کے لیے یہاں توانائی اکھٹا کرتے ہیں۔ کھبیکی ، اچھالی اور جھلر کو اچھالی کمپلیکس کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور 1996 میں اسے رامسر سائٹ تسلیم کیا گیا۔

اچھالی کمپلیکس کو 1966میں جنگلی حیات کے لیے محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ دس سال بعد جب پاکستان نے 1976میں رامسر کنونشن میں شمولیت اختیار کی تو نایاب پرندوں کی آمد کے باعث ان جھیلوں کو رامسر سائٹ یعنی بین الاقوامی اہمیت کی حامل آب گاہ کا درجہ دیا گیا ۔ رامسر سائٹس میں ان جھیلوں کا نمبر 818 ہے۔ رامسر کنونشن میں ان آب گاہوں کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے جہاں معدومی کے خطرے سے دوچار جانور، پرندے اور پودے پائے جاتے ہیں۔

سائیبیریا کے سرد علاقوں سے آنے والے مہمان پرندوں میں سب سے اہم سفید سر والی بظحیں ہیں جن کی نسل کو اب بقا کا خطرہ لاحق ہے۔ اس کے علاوہ لم ڈھینگ، سارس ، چتکبرا سارس، قاز ، سفید آنکھوں والی مرغابی، خاکستری رنگ کے گدھ اور شاہی عقاب بھی اس علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ ان جھیلوں میں مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔  بدلتے موسموں کی تبدیلی سے جھیلوں میں پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ علاقے سے بڑے پیمانے پر جنگلات کا صفایا بھی پرندوں کے لیے بہت بڑے خطرے کی صورت سامنے آیا ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب وادی سون کے پہاڑ گھنے جنگلات سے ڈھکے ہوئے تھے۔ اس بات کی سچائی کا یقین کوہ نمک کی بلند ترین چوٹی سکیسر (1524میٹر) کو دیکھ کر ہوتا ہے جہاں آج بھی گھنے جنگلات موجود ہیں ۔ یہ جنگلات پاک فضائیہ کی ملکیت ہیں اورصد شکر کہ کسی بھی قسم کی مداخلت سے محفوظ ہیں۔

اس دوردراز علاقے میں چونکہ گیس کی فراہمی نہیں اس لیے مقامی لوگ سالہا سال سے اپنی ضرورت کے لیے لکڑی جنگلات کاٹ کر حاصل کرتے ہیں۔ علاقے میں کان کنی کی سرگرمیوں کے باعث جنگلاتی آگ نے بھی بے شمار درخت راکھ کا ڈھیر کردیے۔ وادی سون کے جنگلات بچانے کے لیے بہت سی تنظیمیں یہاں کام کررہی ہیں جن میں سب سے اہم اقدام جنگلات بچانے اور لکڑی کے متبادل کے طور پر علاقے میں 2008 سے اب تک درجن بھر بائیو گیس یونٹ کی کامیابی سے تنصیب ہے۔ بائیو گیس کے یہ پلانٹ بہت موثر اور چلانے میں بہت آسان ہیں۔ ابتدائی اخراجات کے بعد اسے چلانے کے لیے صرف جانوروں کے فضلے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کسی بھی فرد کے پاس چار بڑے جانور یعنی گائے، بھینس اور بیل وغیرہ ہوں تو ان کا فضلہ اس پلانٹ کو چلانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر علاقے کے تمام فارموں میں یہ بائیو گیس پلانٹ نصب کردیے جائیں تو صرف دو تین سالوں میں ارد گرد کے جنگلات پھر سے ہرے بھرے ہوجائیں گے۔

 جنگلات کا پھر سے ان زمینوں پر موجود ہونا علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح کو بھی بڑھا دے گا۔ آبی ذخائر اور جھیلیں پھر سے آباد ہوجائیں گی۔ پرندے پھر سے ان علاقوں کا رخ کریں گے اور ہماری زندگی کی ٹوٹی ہوئی زنجیر پھر سے مکمل ہوجائے گی۔

کینجھر جھیل۔۔۔کراچی کے پانی کاذخیرہ آلودہ تر ہوتا جارہاہے !

میلوں دور تک نیلگوں پانی کا ذخیرہ ، کینجھرجھیل لاکھوںماہی گیروں کا ذریعہءمعاش ، پرندوں کی پناہ گاہ اور کراچی اورٹھٹھہ کے باسیوں کے لیے پینے کے پانی کا وسیلہ بھی ہے۔۔۔ لیکن اب اس پانی پر آلودگی کے مہیب سائے ڈول رہے تھے۔

کلری یا کینجھر جھیل کراچی سے 122 کلومیٹر دور ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے، جس کی لمبائی تقریبا 32 کلومیٹر اور چوڑائی ساڑھے چھ کلو میٹر سے زائد ہے ۔اسے بین الاقوامی اہمیت کی آب گاہ یعنی ” رامسرسائٹ“ کا درجہ بھی حاصل ہے ۔ دریائے سندھ سے نکلنے والی نہر کلری بگھار فیڈر یا کے بی فیڈرکے ذریعے اس جھیل کومسلسل میٹھا پانی فراہم کیا جاتا ہے تاکہ یہاں پرندوں کی آمدورفت اور لاکھوں افراد کا ذریعہء معاش یعنی ماہی گیری کی سرگرمیاں جاری رہیں اور یہی پانی بعد ازاں کراچی اور ٹھٹھہ کے باسیوں تک پینے کے لیے پہنچادیاجاتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی کی 70% آبادی کو پینے کے لیے یہی پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ کینجھر جھیل کے پانی کی آلودگی سے صرف نظر کرنا لاکھوں زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔گذشتہ سال سے کینجھرجھیل کے پانی کی بڑھتی ہوئی آلودگی کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی جا رہی ہےں۔ جھیل کے پانی کی آلودگی کا ذریعہ دریائے سندھ سے نکلنے والی نہر کے بی فیڈر ہے جو دریائے سندھ کا پانی کینجھر جھیل تک پہنچاتی ہے ۔ اس نہرکے ذریعے کوٹری اور نوری آباد کی صنعتوں سے نکلنے والا کیمیائی آلودہ فضلہ چلیا بند اور کوٹری کے قریب اس پانی میں شامل ہورہا ہے ۔ کروڑوں کی آبادی والے شہر کراچی کے ذخیرہ آب کا آلودہ ہونا کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔ دس سال پہلے منچھر جھیل کے آلودہ پانی سے ایسی ہی صورت حال نے جنم لیا تھا اور مئی 2004 میں حیدرآباد کے 60 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ پاکستان کے ماحولیاتی قوانین برائے 1997 کے تحت تمام صنعتی ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنے کیمیائی فضلے کو اخراج سے پہلے صاف کریں گے۔ لیکن ہم اپنے آبی ذخائر کو بطور گٹر سمجھتے ہوئے ایک محتاط اندازے کے مطابق تیس لاکھ ایکڑ فٹ استعمال شدہ پانی آبی ذخائر میں انڈیل دیتے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ اپنے آبی وسائل کے حوالے سے عام ہے۔

کے بی فیڈر نہر میں متعلقہ صنعتیں اپنا فضلہ براہ راست نہر میں انڈیل دیتی ہیں اور اس آلودہ پانی کو صاف کرنے کا کوئی روایتی یا جدید طریقہ استعمال نہیں کیا جاتا ۔اس حوالے سے متعلقہ تمام ادارے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

آبی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا، ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان دنیا کے کم آبی وسائل کے حامل ممالک میں شامل ہے اور اگر ہم نے آبی انتظامات کی صلاحیت کو بہتر نہیں کیا تو بہت جلد ہم انتہا ئی آبی قلت والے ملکوں میں شامل ہوجائیں گے ۔ ہمارے وسائل دن بدن کم اور بے دریغ ضائع ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ 1947 میں پاکستان میں دستیاب پانی کی فراہمی فی فرد 5000 کیوبک میٹر تھی جبکہ اب یہ مقدار گھٹ کر 1000کیوبک  میٹر فی فرد رہ گئی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آبی وسائل کے تحفظ کے لیے زمین کا جنگلات سے زیادہ سے زیادہ ڈھکا ہونا بہت ضروری ہے لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے یہ وسیلہ 5% سے زیادہ نہیں ہے ( یہ اعدادو شمار بھی بہت متنازعہ ہیں)  جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں یہ 23% تک ہے،دیگر پڑوسی ممالک بھی جنگلات میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کررہے ہیں جوکہ آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ آبی وسائل کے تمام ذرائع کے تحفظ کے لیے زمین پر سبزے کی چادر کا موجود ہونابہت ضروری ہے۔ یہ درخت ، پودے اور سبزہ ہی ہوتاہے جو پانی کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے اور اسے کسی قیمتی امانت کی طرح زمین کی گود میں ڈال دیتا ہے۔ پانی کا ہر قطرہ کتنا اہم ہے اس کا اندازہ اس جملے سے لگائیے جو اب کسی کہاوت کے طور پر ہی رائج ہوچکا ہے   Catch water where it fallsکہ” پانی کے ہر قطرے کو وہیں محفوظ کرلیا جائے جہاں یہ گرتا ہے“۔ 

دنیا پانی کے ہر قطرے کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے جبکہ ہم کینجھر جھیل جیسے پانی کے وسیع اور قدیم ذخیرے کو آلودہ تر کیے جارہے ہیں۔ ایک بار پھر یاد دلاتے چلیں کہ اس حوالے سے غفلت اور بے پرواہی کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ ہمیں اس سے پہلے اقدامات کرنے ہوں گے۔

Sunday, January 19, 2014

نیلم جہلم منصوبے پر عالمی عدالت میں پاکستان کی فتح

کیا حکومت اور مقدمہ لڑنے والے اس فتح کی وضاحت نہیں کریں گے ؟

حال ہی میں دریائے نیلم پر پاکستا ن کے نیلم جہلم پاور پروجیکٹ اور دوسری جانب اسی دریا پر بھارتی منصوبے کشن گنگا ڈیم پاور پروجیکٹ پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ آچکا ہے اور ہم نے اپنے ایک محترم وزیر کا بیان بھی پڑھ اور سن لیا ہوگا کہ"یہ فیصلہ پاکستان کے موقف کی فتح ہے۔

تو آئیے ذرا اس فتحکا جائزہ لتے ہیں

نیلم جہلم منصوبے کے حوالے سے مکمل فیصلہ اس سال فروری میں آگیا تھا جس کے تحت عالمی عدالت نے بھارت کو دریا کے بہاؤ کا رخ موڑتے ہوئے اس کا پانی وولر بیراج میں ڈالنے کی اجازت دی تھی ۔ ہمارے آبی ماہرین کے مطابق یہ پاکستان کے موقف کی کھلی شکست تھی اوراس طرح پاکستان ” نیلم جہلم ہائڈرو پاور پروجیکٹ“ کا کیس ہارچکا تھا۔ عالمی عدالت کے فیصلے جس میں بھارت کو دریا ئے جہلم کا پانی وولر بیراج میں ڈالنے کی اجازت دی گئی ، اس پانی سے بھارت کے کشن گنگا ڈیم کا منصوبہ تکمیل پائے گا جبکہ دریائے جہلم پر ہمارے منصوبے  نیلم جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ کی کارکردگی شدید متاثر ہوگی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ہم بگلیہار ڈیم پر اپنا کیس اسی فراخ دلی سے ہار چکے ہیں۔

 آبی ذخائر کے شعبے کے ماہرین کا واضح موقف ہے کہ بھارت کا کشن گنگا منصوبہ پاکستان کے  نیلم ،جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو تباہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ بھارت کو اس منصوبے کے حوالے سے یہ تحفظات بھی ہیں کہ چین اس منصوبے میں پاکستان کا مددگار ہے۔ نیلم جہلم منصوبہ جس سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے، کشن گنگا ڈیم بننے سے اس کی کارکردگی پر یقینا منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
عالمی ثالثی عدالت میں پاکستان کا موقف تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت دریا کا رخ نہیں موڑ سکتا۔ لیکن وکلا کی عدم دلچسپی سے پاکستان کا موقف عالمی عدالت میں واضح ہی نہیں سکا اور فیصلہ بھارت کے حق میں دے دیا گیا۔

اب حال ہی میں دریائے نیلم میں پانی کے بہاؤ اور مقدارکے حوالے سے آنے والا فیصلہ بھی اسی فیصلے کا تسلسل یعنی پاکستانی موقف کی شکست ہے لیکن ہماری قانونی ٹیم اور نئی منتخب حکومت بھی اپنی پیش رو حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کامیابی کا راگ الاپ رہی ہے۔ اگر صرف فیصلے کو غور سے پڑھ لیا جائے تو یہی ایک مکمل چارج شیٹ ہے جو مقدمہ لڑنے والوں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے خلاف ثابت ہوتی ہے ۔


 عالمی ثالثی عدالت تک نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے حصے کے پانی پراپنا دعوی ظاہر کرنے کے لیے اہم ترین معلومات فراہم نہیں کیں۔ فیصلے کے مندرجات کے مطابق  پاکستان نے اپنے موجودہ اور متوقع زرعی استعمال کے لیے کشن گنگا سے پانی کے حصول کی معلومات فراہم نہیں کیں اور یہ کہ پاکستان نے یہ تک نہیں بتایاکہ اس طرح کی تعمیرات کے نتیجے میں کیا ہوگااور ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے جن پر عدالت انحصار کرسکے، عدالت اس کے ممکنہ انحصار کے حوالے سے معلومات حاصل نہیں کرسکی اور عدالت صرف ہائیڈروالیکٹرک اور ماحولیاتی پہلوؤں کی بنیاد پر کم از کم بہاؤ کے اپنے فیصلے پر پہنچی ہے۔

ایک طرف جب اک سرکاری وزیر یہ سمجھ رہے ہیں کہ بین الاقوامی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی جیت ہے ، جبکہ عالمی عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان نے متعلقہ معلومات فراہم نہیں کیں جس سے کیس کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آسکتا۔ مزید دیکھیے کہ عدالت کے فیصلے کے پیرا نمبر 93 میں لکھا ہے کہ

  پاکستان کے زرعی استعمالات

 پاکستان نے کشن گنگا یا نیلم دریا سے پانی کے اپنے موجودہ اور متوقع استعمال کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔تاہم  پاکستان نے یہ ضرور بتایا ہے کہ مستقبل میں وادی نیلم میں کسی بھی ترقیاتی کام کا انحصار گزارے کے لیے کی جانے والی زراعت سے ہٹ کر دریا سے لفٹ اری گیشن کے ذریعے پانی کے استعمال پر ہوگا۔

پیرا نمبر 94 میں عالمی عدالت لکھتی ہے کہ ”کم از کم بہاؤ کا پیمانہ طے کرتے ہوئے  عدالت کے مشاہدے میں زرعی مقاصد کے لیے متوقع پانی کو عمومی حیثیت سے دیکھا جائے گا۔تاہم چونکہ پاکستان نے ممکنہ ترقیاتی کام کا اندازہ بھی پیش نہیں کیا ، تو ایسے شواہد بھی بہت کم ہیں جن پر عدالت انحصار کرسکے۔لہذا عدالت ممکنہ استعمال کے حوالے سے معلومات حاصل نہیں کرسکی اور عدالت صر ف ہائیڈرو الیکٹرک اور ماحولیاتی پہلوؤں کی بنیاد پر کم از کم بہاؤکے اپنے فیصلے پر پہنچی ہے۔لیکن اس کے باوجود عدالت کو اس بات کا یقین ہے کہ جو کم از کم بہاؤ عدالت نے طے کیا ہے اس کی بنیاد پر مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قدر پانی دستیاب ہوسکے گا جس سے وادی نیلم میں زرعی ترقیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے پانی کا حصہ کم نہیں ہوگا۔

فریقین کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل اعدادوشماراکھٹا کرنے کے طریقہ ءکار کے پہلوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے عدالت نے لکھا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے شائع شدہ معیاری اعدادوشمار کا تبادلہ کرنے کی تھوڑی سی بھی کوشش نہیں کی۔لہذا عدالت اس تجویز سے مطمئن نہیں ہے کہ بھارت فیس کے لیے ، پاکستان کی ہائیڈرولوجیکل کی سالانہ کتب میں شائع شدہ اعدادوشمار سے اصلاح کرے۔عدالت فریقین سے سفارش کرتی ہے کہ وہ دریائے سندھ کی شاخوں سے حاصل ہونے والے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کے حوالے سے معیار کی ضمانت حاصل کرتے رہیں اور حاصل ہونے والے اعدادوشمار کو مستقل سندھ کمیشن کے میکنزم کے ذریعے ایک دوسرے کو فراہم کرتے رہیں۔

اپنے حصے کے پانی کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے بے حسی کے مظاہرے کے حوالے سے بین الاقوامی عدالت کے فیصلے میں لکھا ہے کہ 2004 سے 2006 کے درمیان ہونے والے رابطوں اور اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مقاصد اور اقدامات کی روشنی میں بھارت کا کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹ کے حوالے سے دعوی بہت مضبوط ہے۔اور یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا پاکستان نے نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ کے لیے دعوی کیا تھا۔جس سے یہ طے ہوتا ہے کہ کشن گنگا یا نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پاور جنریشن کے حوالے سے اول الذکر کا حق ترجیحی بنیادوں پر آخر الذکر سے زیادہ ہے۔

آبی امور کے ماہر ارشد عباسی کے مطابق پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں بھارت کے خلاف کشن گنگا ڈیم پر مقدمے میں شکست کے بعداسے پانی کے بہاؤ میں بڑی حد تک کمی کے باعث نیلم جہلم منصوبے میں بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامناکرنا ہوگا۔جس سے ملک کو ہر سال 14 کروڑ 50 لاکھ ڈالر زکا نقصان ہوگا۔ پاکستان کو 2001 کی خشک سالی کی طرح ہر سال 54 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کی معیشت کو نا قابل عمل نقصان پہنچے گا۔

 ارشد عباسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کا مقدمہ لڑنے والی قانونی اور تکنیکی ماہرین کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے۔کیونکہ وہ اچھے انداز میں پاکستان کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہے۔ عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے لیے تباہ کن ہے۔جس سے نہ صرف نیلم جہلم پاور پروجیکٹ کی بجلی پیدا کرنے کی استعداد میں کمی آئے گی بلکہ اس سے وادی نیلم کی خوبصورتی میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے پاکستان کی قانونی اور تکنیکی ماہرین کی ٹیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی ٹیم کی نااہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جس میں واضح طور پر یہ کہہ دیا ہے کہ پاکستان نے نیلم جہلم یا کشن گنگا ڈیم کے فی الحال اور مستقبل میں زراعت کے لیے استعمال کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ثبوت مقدمے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی قانونی اورتکنیکی ٹیم کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرنے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔ اور اگر ان کا جرم ثابت ہوجائے تو ان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔کیونکہ انہوں نے پاکستان کے نہایت اہم مفادات پر سمجھوتا کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ہر سال اوسط 24 لاکھ اکڑ فٹ پانی ملتا ہے۔ اور اگر پچھلے تیس سالوں میں پانی کے اخراج کے اوسط کو مد نظر رکھا جائے تو پاکستان اپنے پانی کے 45 فیصد حصے سے محروم ہوجائے گا۔واضح رہے کہ پاکستان کو آزد کشمیر میں دریائے نیلم پر 278 ارب روپے کی مالیت سے 969 واٹ بجلی کی پیداواری استعدادکے حامل کے منصوبے کو 2015 تک مکمل کرلینا ہے۔جس کا مطلب ہے کہ اس منصوبے سے 5 ارب17کروڑ80 لاکھ یونٹ بجلی پیدا ہوگی۔ لیکن بھارت کی جانب سے اگر کشن گنگا ڈیم پر کام جاری رکھا گیا تو اس سے اس منصوبے کو ملنے والے پانی میں فی سیکنڈ 58.4 مکعب میٹر کمی آئے گی۔ ارشد عباسی کا کہنا ہے کہ نئی منتخب حکومت بھی اس قانونی اور تکنیکی جال مں پھنس گئی جس نے یہ کیس خراب کردیا۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ارشد عباسی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں اپنی جگہ کوئی خرابی نہیں ہے۔ معاہدے کی رو سے دونوں ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ دریائی پانی کو ہائیڈروپاور کے لیے استعال کرسکتے ہیں۔ معاہدے کی رو سے کسی بھی ڈیم کی تعمیر سے پہلے اس کے ڈیزائن پر دونوں ممالک کا متفق ہونا بہت ضروری ہے ۔ بگلیہار پر بھی ہم نے نہ ہندوستان سے ڈیزائن مانگا اور نہ ہی اس پروجیکٹ کے ای آئی اے کا مطالبہ کیا۔اس کیس کو بھی عالمی فورم پر ہم جب لے گئے جب ڈیم کا تقرباً کام مکمل ہوچکا تھا۔ یہاں ایک اور بات آپ کو بتاتا چلوں کہ بگلیہار کے فیصلے میں عالمی بینک نے ثالثی کی تھی اور جج نے اپنے فیصلے میں یہ وضاحت ضروری سمجھی کہ پاکستانی وفد کی فرمائش پر ہی میٹنگز پیرس، واشنگٹن، جنیوا اور پھر لندن میں منعقد ہوئی تھیں۔ شکر ہے کہ اس وفد کی تیارکردہ تفریحی لسٹ ان ہی شہروں پر ختم ہوگئی !

 ہمارا دریائے نیلم پر تعمیر ہونے والا ہائیڈرو پاور کا منصوبہ نیلم جہلم پروجیکٹ کا ڈیزائن 1996میں مکمل ہوگیا تھا لیکن ہم نے تعمیر شروع نہیں کی بلکہ اس وقت کا انتظار کیا کہ جب ہندوستان اسی دریا پر کشن گنگا پروجیکٹ پر کام شروع کردے۔ سندھ طاس معاہدے کی رو سے جو پہلے تعمیر کرے گا اسی کا حق مانا جائے گا۔لہذا ہندوستان کو پورا موقع دیا گیا کہ وہ اپنے منصوبے کا آغاز ہم سے پہلے کرلے تاکہ اسے حق اولیت مل جائے۔ اسی طرح کے تاخیری حربے اب نیموبازگو ڈیم کے حوالے سے کیے جارہے ہیں تاکہ ہندوستان اپنا کام مکمل کرلے پھر ہم صرف کاغذی کارروائی کے لیے لکیر پیٹنے کا ڈراما کریں۔

پاکستان اور بھارت اگرچہ دو پڑوسی ملک ہیں لیکن اگر ان کی 65 سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو تنازعات سے بھری ہوئی ہے۔ دونوں کے درمیان باقاعدہ جنگیں ہوچکی ہیں اور کشمیر، سیاچن ، سرکریک سمیت بہت سے مسائل حل طلب ہیں۔ سرحدی جھڑپیں تو اک عام سی بات ہے۔ پڑوسی ہونے کے ناتے دونوں ممالک کے آبی وسائل بھی مشترکہ ہیں اور دریا کے بالائی حصے پر ہونے کے باعث بھارت کو ہم پر برتری بھی حاصل ہے، لیکن اس جغرافیائی برتری کے باوجود دنیاکا کوئی قاعدہ یا قانون کسی بھی ملک کو مشترکہ وسائل پر مکمل تسلط کا اختیار نہیں دیتا۔

 دونوں ممالک کے درمیان دریائی پانی پر ابتدا ہی سے تنازعات اٹھتے رہے جس کے حل کے لیے مذاکرات کی غرض سے عالمی بینک نے اپنی خدمات پیش کی تھیں، یہ مذاکرات مئی 1952 میں عالمی بینک کی نگرانی میں شروع ہوئے جو وقفے وقفے کے ساتھ طویل نو برسوں تک جاری رہے اور بالآخراس تنازع کے حل کے لیے عالمی بینک نے عالمی طاقتوں کی حمایت سے دونوں ممالک کو ایک معاہدے کے لیے رضامند کرلیا جسے سندھ طاس معاہدہ کہتے ہیں۔

شاید اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک بھارت سے دونوں ممالک کے درمیان موجود اس آبی معاہدے  سندھ طاس کا از سرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کرے۔ یہ معاہدہ 1960میں پاکستان کے ایک باوردی حکمرن کے ہاتھوں تشکیل پایا تھا جس کے تحت پاکستان کے تین دریا بھارت کے حوالے کردیے گئے تھے۔ معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) کے پانی پر پاکستان کو حق دار ٹھہرایا گیا اور دیگر تین مشرقی دریا (راوی ، ستلج اور بیاس) بھارت کے حوالے کر دیے گئے۔ یہ معاہدہ جسے انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدہ) کا نام دیا گیا اس پر 19 ستمبر 1960 کو بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو، پاکستان کے صدر ایوب خان اور اس وقت کے صدر عالمی بینک نے دستخط کیے۔

 ووڈروولسن انٹرنیشنل سینٹر فار اسکالرز 2009 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پانی کی دستیابی فی فرد 70% کم ہوچکی ہے۔1947 میں پانی کی یہ دستیابی 5000 کیوبک میٹر فی فرد تھی جو اب صرف 1000 کیوبک میٹر فی فرد ہوچکی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق پاکستان کو 55,000 کیوسک پانی ملنا چاہیے تھا لیکن2008 اور 2009 میں پاکستان کو سردیوں یعنی ربیع کے سیزن میں صرف 13,000کیوسک ملا اور گرمیوں میں خریف کے سیزن میں صرف 29,000 کیوسک ملا۔ بھارت کے پاس ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے اعلی تکنیکی صلاحیت موجود ہے۔ اور وہ اپنے 4079 ڈیموں کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔

 جبکہ ہمارے ہاں صورت حال اس کے برعکس ہے اوراگر صاف بات کی جائے تورسوائی ،غفلت اور عاقبت نااندیشی کی یہ کہانی نئی نہیں ہے پچھلے 65 سالوں سے ہمارا یہی رویہ ہے۔ اپنے وسائل کو غیر اہم جان کر اپنے ہاتھوں نقصان پہنچانے کی یہ روایت بہت پرانی ہے۔ پاکستان اور پاکستانی قوم کے لیے جو زندگی اور موت کا مسئلہ ٹھہرتاہے وہ ارباب اختیار کے لیے انتہائی غیر سنجیدہ ہوتا ہے۔نیلم جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ کیس کا فیصلہ بھارت کے حق میں آنے کے بعدہمارے ارباب اقتدار نے پارلیمنٹ میں رسمی طور پر شور مچایا جارہا ہے وہ بالآخر خانہ پری ہی ٹھہرے گا اور پھر یہی کہنا پڑے گا کہ


قومے فروختند چہ ارزاں فروختند !

Thursday, October 11, 2012

ملالہ یوسف زئی! یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی



ملالہ یوسف زئی اور ہمارے معاشرے کی تفریق !!! 

شاید دوبارہ اسکول نہ آسکوں !  یہ جملہ 16جنوری 2009 میں گل مکئی کی لکھی ہوئی ڈائری کے ایک ورق کا عنوان تھا۔
 اس جملے میں چھپے درد اور محرومی کے دکھ کومحسوس کرنے کے لیے لمحے بھر کے لیے چند سال پہلے کے سوات کو یاد کرلیجیے ۔ یہ جملہ عام حالات میں پروان چڑھتی کسی بچی نے نہیں بلکہ سوات کے حبس زدہ ماحول میں اسکول جاتی ساتویں کلاس کی دس سالہ بچی نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا۔ جسے یہ دکھ کھائے جارہا تھا کہ اب وہ کل سے اسکول نہیں جاسکے گی ، اس پر تعلیم کے دروازے بند کیے جارہے ہیں۔ اپنے دکھ اور ، محرومی کو بیان کرنے اور سوات کے لاکھوں بچوں کو زبان دینے والی یہ بچی ملالہ یوسف زئی تھی جو گل مکئی کے فرضی نام سے بی بی سی کی اردو ویب سائٹ پر ڈائری لکھا کرتی تھی۔ وہی ملالہ جو آج زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
 کل جب چھوٹی سی اور نہتی ملالہ یوسف زئی پر دہشت گردوں نے فائر کھولا تو یہ گولیاں صرف معصوم ملالہ  کے جسم کو ہی نہیں بلکہ پور ی قوم کا دل بھی چھلنی کرگئیں۔ 14سالہ ملالہ چھوٹی سی عمر میں ہزاروں لاکھوں بے زبانوں کی آواز بن کر گونجی تھی۔اسے اپنا اسکول بند ہونے کا بہت دکھ تھا جس کا وہ برملا اظہار کررہی تھی اور اسی حوالے سے اس نے انتہائی بے خوف لہجے میں کہا تھا کہ” وہ کسی سے نہیں ڈرتی“ اور شاید یہی اس کا جرم ناقابل برداشت ٹھہرا جس کی سزا اسے دی گئی۔
چند سال پہلے سوات کے علاقے مینگورہ شہر کی رہائشی ملالہ نے گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھ کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی تھی۔بعدازاں حکومت پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن ایوارڈ بھی دیا تھا۔ انہیں 2011 میں ” انٹرنیشنل پیس پرائز“ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔
ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہی ہے۔سوات میں دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے، علاقے میں لڑکیوں کے اسکولوں پر پابندی لگادی گئی تھی۔ عورتوں کا گھر سے باہر نکلنا ممنوع تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لوگ خوف کی وجہ سے میڈیا پر کوئی بات نہیں کرسکتے تھے۔ ان حالات میں ملالہ نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرات کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے گل مکئی کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کے لیے باقاعدگی سے ڈائری لکھنا شروع کی۔
اس ڈائری میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کرتیں۔ اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ان کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔ملالہ پر دو بین الاقوامی اداروں نے دستاویزی فلمیں بھی بنائی ہیں جن میں انہوں نے کھل کر تعلیم پر پابندیوں کی مخالفت کی تھی۔
ملالہ کا قصور کیا تھا ؟ یہی کہ وہ تعلیم اور خصوصا لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھاتی تھی ؟
ملالہ پر حملہ سراسر بزدلی اور اسلام کی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔ اسلام تو محبت اور رواداری کا مذہب ہے، برداشت کا درس دیتا ہے اور توازن کی راہ سجھاتا ہے ۔ وہ بوڑھوں اور بچوں پر حالت جنگ میں بھی ہاتھ اٹھانے سے روکتاہے۔ملالہ نے ہر گز ایسا کوئی کام نہیں کیا تھا جس کی اسلام میں یہ سزابنتی ہو۔ ایسے واقعات دنیا بھر میں اسلام اورمسلمانوںکا ایک انتہائی منفی عکس پیش کرتے ہیں ، شاید آج اسلام کو اصل خطرہ مسلمانوں سے ہی ہے۔ ہم نے اپنی گروہی لڑائی جھگڑوں کو جہاد کا نام دے کر لفظ جہاد پر بھی بہت سے سوالات اٹھادیے ہیں۔
ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ہر سطح پر مذمت کی جارہی ہے ، بین الاقوامی سطح پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔لیکن ہمارے نزدیک افسوس بلکہ انتہائی تشویش کی بات یہ ہے کہ ملک کے اندر اس پر دورائے جنم لے رہی ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے جو کھل کر اس درندگی اور بربریت کے خلاف بول رہا ہے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ دوسری جانب خوفناک سناٹے کا عالم ہے۔ دبی دبی زبان میں مذمت جاری ہے اور ساتھ ساتھ حملے کے جواز بھی گھڑے جارہے ہیں کہ” ملالہ پر حملہ ہوا تو سب تڑپ اٹھے جبکہ ڈرون حملوں میں مارے جانے والوں بچوں کے لیے کوئی نہیں بولتا۔“گمنام ایس ایم ایس اور ای میل پر تو یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ تمام لوگ جو ملالہ کے لیے افسوس کررہے ہیں وہ سب ”کافر “ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں یہ تفریق انتہائی خوفناک اور مزید انتشار کن ثابت ہوتی ہے۔ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں ڈرون حملوں میں مارے جانے والے بھی زیادہ تربے گناہ ہیں اور جنہیں مشکوک سمجھ کر مارا جارہا ہے یہ بھی انتہائی غیر قانونی اقدام اور انسانیت کے خلاف ہے۔ مشکوک افراد کو مارنے کا اختیار کسی مذہب اور کسی قانون میں نہیں۔انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ایسے مشکوک افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگر وہ مجرم ہیں تو قرار واقعی سزا دی جائے۔یقینا یہ ڈرون حملے بھی انتہائی قابل مذمت ہیں۔ لیکن کیا اس سے ملالہ جیسے بے گناہوں کو مارنے کا جواز پیدا ہوجاتا ہے؟ ایک جرم دوسرے جرم کا جوازبن سکتا ہے ؟
مشہور صحافی حامد میرجن کے پروگرام میں پہلی بار ملالہ کو بے خوفی سے لوگوں نے بولتے سنا تھا، ملالہ نے کئی بار ان کے ٹی وی پروگرام میں بھی شرکت کی تھی، وہ ملالہ کے خاندان سے بھی بات چیت کرتے رہے ہیں ،معاشرے کی اس تفریق پر ان کا کہنا تھا کہ” ہم جب تک امریکا کی جنگ لڑتے رہیں گے ، ایسے سانحات ہوتے رہیں گے۔ ہماری سوسائٹی اس دہشت گردی کی جنگ میں بٹ چکی ہے۔ ایک ہی خاندان کے لوگوں سے اگر بات کریں تو وہ بھی مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ ایک بھائی پاک فوج اور ریاست کی حمایت میں بول رہا ہوگا تو دوسرا اس کے خلاف۔ وہ لوگ جنہیں طالبان سے نقصان پہنچا ہے وہ طالبان کے خلاف ہیں اور حکومت و فوج کے سپورٹر جبکہ جن کے گھروالے فوجی آپریشن میں مارے گئے وہ فوج کے مخالف اور طالبان کی حمایت میں بولتے ہیں۔ غرض یہ سوسائٹی بٹ چکی ہے اور اس کی ذمے دار صرف اور صرف حکومت پاکستان کی پالیسی ہے۔ حکومت جب تک پیسے لے کر امریکا کی جنگ لڑتی رہے گی حالات یہی رہیں گے۔لوگ اسی طرح نفرت کی آگ میں جلتے رہیں گے۔
پچھلے سال ہمیں بھی سوات جانے کا اتفاق ہوا تھا اور اپنے ایک ہفتے کے قیام میں سوات کے سفر میں ہم جن جن افراد سے ملے تھے ، ان کی باتیں یاد کرتے ہیں تو حامد میر کی باتوں کی تائید ہوتی ہے۔ سوات میں لوگ اسی طرح بٹی ہوئی سوچ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔اب بھی جب ہم نے ملالہ پر حملے کے بعدسوات کے لوگوں کی آرا جاننے کی کوشش کی تو بہت سے لوگوں نے تو بے بسی سے یہ بھی کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی ہم کیا کریں، کون صحیح ہے اور کون غلط ؟ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں غلط ہیں۔اکثریت کی رائے یہ تھی کہ ایک اور آپریشن کا جواز پیدا کیا جارہا ہے۔ حکومت اور ریاست پر انتہائی عدم اعتماد کا اظہار کیا جارہا تھا۔ کسی کو حکومت پر بھروسہ نہ تھا۔
اٹھارہ لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل وادی سوات پچھلے چند سال پہلے دہشت گردی کی آگ میں جل رہی تھی۔ بموں سے اسکولوں کو اڑایاجارہا تھا۔ خواتین اور بچوں کا گھر سے نکلنا بند تھا۔ سی ڈیز اورنائیوں کی دکانیں تباہ کی جارہی تھیں۔ برقعے کے بغیر کسی عورت کے گھر سے باہرنکلنے پر زندگی کی کوئی ضمانت نہ تھی۔سر عام لوگوں کو مارا پیٹا اور قتل کیا جاتا، ہر قسم کا کاروبار تباہ ہوچکا تھا۔ لوگ واقعتا فاقے کررہے تھے ۔
 سوات میں مجھے عام لوگوں سے بات چیت کرنے اور ملنے جلنے کا موقع ملاتھا ، ان سے بات کرو تو وہ انتہائی متضاد رویے کا شکار نظر آتے ۔ وہ مایوس بھی تھے اور ان لوگوں کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب بھی روشن تھے۔وہ چند سال پہلے کی دہشت گردی کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتے لیکن ذکر کیے بغیر بھی نہیں رہتے۔ ملالہ کے شہر مینگورہ کے لوگوں کا کہنا تھا کہ اب وہ اس ”خونی چوک“ کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتے تھے ( پھر تفصیل بھی بتادیتے)  جہاں مذہب کے نام پر لوگوں کو ذبح کیا جارہا تھا۔ ایک صاحب ، کی آواز یہ بتاتے ہوئے کپکپارہی تھی”اسی چوک پر ایک نوجوان گلوکارہ کو ذبح کرکے اس کی لاش عبرت کے لیے لٹکا دی گئی تھی۔ میرے کانوں میں آج بھی اس کی آواز گونج رہی ہے ، وہ روروکر یہی کہہ رہی تھی کہ مجھے گولی ماردو مگر ذبح نہ کرو۔“ اس گلوکارہ کا جرم اس کی گلوکاری تھی۔
سوات کے ہر گلی کوچے اور سڑک پر جا بجا آرمی کی چوکیاں اور ناکے بنے ہوئے تھے جو چیکنگ کے بغیر کسی کو آگے نہیں جانے دے رہے تھے اور خصوصا غیر ملکیوں کوتو بغیر سیکیورٹی گھومنے کی اجازت نہیں تھی۔
ایک اور اہم بات جو ہمارے مشاہدے میں آئی تھی وہ یہ تھی کہ اگرچہ قیام امن کے لیے لوگ پاک فوج کے شکر گزار تھے لیکن کچھ انفرادی واقعات کے سبب سوات کے لوگ شاکی بھی تھے۔ یہ لوگ اب دبی زبان سے پاک فوج کی چوکیوں اور ناکوں کے حوالے سے آواز اٹھانے لگے تھے۔ ہم نے مختلف لوگوں سے بات چیت کی تو ایک ہی بات سامنے آئی کہ ان چیک پوسٹوں پر مقامی لوگوں سے توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔ انہیں بدتمیزی سے پکارا جاتا ہے۔ بعض اوقات ان کی خواتین بھی ان کے ساتھ ہوتی ہیں جس سے وہ بہت زیادہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ کہیں کہیں تو انہیں گاڑی سے اتار کر کھڑا بھی کردیا جاتا ہے۔ انفرادی سطح پر ہونے والے یہ واقعات لوگوں میں غم و غصہ اور مایوسی کو جنم دے رہے تھے۔ ایک اور بات جو ہم نے یہاں نوٹ کی تھی وہ مختلف علاقوں میں گھروں کے درودیوار اور دکانوں کے شٹر کے رنگ تھے۔ کہیں سبز تو کہیں پیلا، کہیں سرخی مائل اور کہیں نارنجی۔ لوگ اس حوالے سے بھی بہت شاکی تھے کہ کبھی کوئی رنگ کرنے کا آرڈر ملتا ہے تو کبھی کسی اور رنگ کا۔ شاید رنگوں کی یہ تبدیلی کسی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہو مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان غریب لوگوں کو رنگ کرنے کے لیے کچھ مالی امداد بھی کردی جاتی۔ بہرحال یہ چیکنگ اور ناکے اس بات کی واضح علامت تھے کہ حالات بہتر نہیں تھے۔ پاک فوج کے کنٹرول کے باوجودمقامی لوگوں کی رائے یہ تھی کہ پہاڑوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود تھے۔
معاشرے کو اس تفریق سے نکالنے اور قومی سطح پر اتنے بڑے مسائل پر مکمل ہم آہنگی اوریکسوئی کیسے اختیارکی جائے، یہ سوال آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ امریکا جس طرح اپنی جنگ کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا نام دے کر اس خطے میں اپنے مقاصد پورے کررہا ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے اور اس سے زیادہ افسوس ناک کردار ہماری ریاست کا ہے جو کمال ڈھٹائی سے اس جنگ کو اپنی جنگ قرار دیتی ہے، اور عوام ایک مخمصے میں پھنس کر رہ گئی ہے۔اس حوالے سے حامد میر صاحب کی تجویز تھی کہ” حکومت اور ریاست کو سب سے پہلے اپنی پالیسی بدلنی ہوگی۔ امریکا سے پیسے لینا بند کریں اور امریکا کی جنگ سے دوری اختیار کرلیں۔ اس کے بعد ان علاقوں میں جو بھی شورش ہے یا دہشت گردی ہے اس کے لیے خود کارروائی کریں۔ جن علاقوں میں دہشت گرد موجود ہیں وہاں کے لوگوں کو اعتماد میں لیں،اپنے ساتھ ملائیں۔ اگر لوگوں کا ریاست اور حکومت پر اعتماد بحال ہو تو پھر وہ خود امن و امان کے قیام میں حکومت کی مدد کریں گے۔ یہی آخری راستہ ہے پاکستان میں امن کے قیام کا۔
ملالہ جیسی ننھی بچی نے اپنے حق اور تعلیم کی اہمیت کے لیے آواز اٹھا کر سناٹے کو توڑنے کی جسارت کی تھی جو اس کا جرم ٹھہرا۔ آج وہ زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے یہ جنگ بھی جیت لے گی (آمین)۔ ملالہ یوسف زئی پر دہشت گردی کا یہ واقعہ حکومت کے لیے نوشتہ ءیوار ہے کہ وہ دہشت گردی کی اس جنگ کے حوالے سے جلد از جلد اپنی ایک ایک علیحدہ پالیسی تشکیل دے اور ڈرون حملوں کے خلاف پارلیمینٹ کی قرارداد پر عمل کرے۔

 سوات اور ارد گرد کے علاقوں میں جو فضا بدل رہی ہے وہ یقینالمحہ ءفکریہ ہے

Tuesday, April 12, 2011

پچیس سال بعد ایک اور چرنوبل حادثہ۔۔۔۔۔؟

 کیا دنیا اب بھی توانائی کے محفوظ ذرائع پر توجہ نہیں دے گی۔

پچیس برس قبل اسی ماہ یعنی اپریل 1986کو دنیا کی حادثاتی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جب یوکرائن میں چرنوبل کے ایٹمی پلانٹ کا ری ایکٹر نمبر چار ایک دھماکے سے پھٹ گیا تھا جس کے بعد نصف شمالی کرے کے تقریبا تمام ممالک میں تابکاری کے اثرات پھیل گئے تھے۔ یہ 2011 کا اپریل ہے اور چوتھائی صدی بعد جاپان میں آنے والے زلزلے اور سونامی نے چرنوبل کے حادثے کو پھر سے تازہ کردیا ہے کیونکہ جاپان میں فوکوشیما ری ایکٹر پھٹنے کے بعد دنیا کو ایک بار پھر تابکاری کا خطرہ لاحق ہے۔

اب سے 40 سال پہلے تعمیر ہونے والے فوکوشیما کے ایٹمی بجلی گھر کے بارے میں کسی نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ یہ آنے والے زمانے میں انسانی زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جائے گا۔ وہ ایٹمی بجلی گھر جو چالیس سال تک جاپان کی توانائی کی ضروریات پوری کرتا رہا اس وقت دنیا بھر کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ بحرالکاہل سے تابکاری سے آلودہ لہریں کتنے دنوں یا ہفتوں میں امریکا، برطانیہ اور دوسرے ممالک کے ساحل سے ٹکرائیں گی۔ ماہرین موسمیات ہواؤں کے رخ سے اندازہ لگارہے ہیں کہ تابکاری کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے بادل کب دنیا کے کس حصے کا رخ کریں گے۔ روس نے بحرالکاہل میں پائی جانے والی مچھلیوں ، کیکڑوں اور جھینگوں میں تابکاری اثرات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے کہ کہیں تابکاری کا خطرہ خطرناک حدود سے تجاوز تو نہیں کرگیا ہے۔ خود جاپانی حکومت نے یہ اعلان کردیا ہے کہ فوکوشیما کے قریبی علاقوں میں دودھ ، پالک کے پتوں اور دوسری سبزیوں میں تابکار ذرات خطرے کی حد سے زیادہ پائے گئے ہیں۔ جاپانی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ جلد ہی خوراک کے نمونوں کا ایک بار پھر تجزیہ کیا جائے گا اور اگر ان میں تابکاری حد سے بڑھی ہوگی تو ایٹمی بجلی گھر سے 150 کلو میٹر کے دائرے میں پیدا ہونے والی ہر چیز پر پابندی لگادی جائے گی۔


فوکوشیما کے ایٹمی بجلی گھر میں جو تباہی آئی اور آگ لگی اس نے پوری دنیا کو خوف زدہ کردیا ہے۔ جاپانیوں نے اس بجلی گھر کو تعمیر کرتے ہوئے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔اسے زلزلے سے محفوظ رکھنے کا بھی انتظام کیا تھا۔ لیکن یہ کون جانتا تھا کہ مستقبل میں آنے والا زلزلہ 9 درجے کی شدت کا ہوگا۔ اس بجلی گھر کو سونامی سے محفوظ رکھنے کے لیے بہت اونچی دیوار بھی تعمیر کی گئی تھی لیکن سمندر کی لہریں اس دیوار سے بھی بلند تھیں جو باآسانی اسے پھلانگ کر پلانٹ کے اندر گھس گئیں اور وہ تباہی پھیلائی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کی بھی تحقیقات ہورہی ہیں کہ زلزلے اور سونامی کے علاوہ اندازے کی کون سی ایسی غلطیاں تھیں جن کی وجہ سے ایٹمی پلانٹ پھٹا اور تابکاری کا عذاب نازل ہوا۔

 یوکرائن میں چرنوبل کے سانحے میں تابکاری کا علم ہونے کے بعد علاقے بھر کے ایک لاکھ پینتیں ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا۔ بعد میں مزید دو لاکھ تیس ہزار افرادکو محفوظ مقامات پر پہنچادیا گیا۔ ماحول کے لیے کام کرنے والی تنظیم گرین پیس کے مطابق اس حادثے میں تابکاری سے ابتدائی طور پرمتاثر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہوسکتی ہے اور متاثرہ علاقوں میں اب تک بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح اس تعداد کو اور بڑھادے گی۔

اس سانحے کی بیس ویں سالگرہ (2006)کے موقع پر گرین پیس کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 1986 سے2056 یعنی ستر برس میں یوکرائن، بیلارس اور روس کے اندر تابکاری کا شکار ہونے والے مزید 93 ہزار افراد ہلاک ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ بیلارس میں خون کے کینسر سے لگ بھگ تین ہزار افراد اور تھائرائیڈ گلینڈ کینسر سے 14ہزار افراد مزید ہلاک ہوجائیں گے۔ ایٹمی ری ایکٹر سے نکلنے والی تابکاری کس حد تک مہلک ہوسکتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی جسمانی اور ذہنی طور پر معذور بچے پیدا ہورہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثرات ابھی کئی دہائیوں تک جائیں گے اور اس سانحے سے متاثر ہونے والے بچے کسی نہ کسی بیماری کا شکار رہیں گے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب تک دنیا بھر میں سیکڑوں ایٹمی حادثات رونما ہوچکے ہیں اور بیشتر رازوں کو قومی راز بنا کر قومی مفاد میں دفن کردیا گیا ہے۔ یہ ایٹمی تابکاری کی تباہ کاریوں کا خطرہ ہی تھا کہ سونامی اور زلزلے سے زیادہ جاپانی حکام کو جوہری بحران کی طرف توجہ دینی پڑی۔ فوکوشیما بجلی گھر میں کئی ہفتوں سے جاپانی حکام اس بحران پر قابو پانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک کارنیگی اینڈاؤمنٹ سے وابستہ جوہری توانائی کے ماہر مارک کا کہنا ہے کہ اگرچہ جاپان کا جوہری بجلی پروگرام دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ مانا جاتا ہے لیکن فوکوشیما کا بحران جاپان کے لیے نئے چیلنج لے کر سامنے آیا ہے۔ مارک کا کہنا ہے کہ ” جاپان میں پچاس جوہری بجلی گھروں کو کئی سالوں سے چلایا جارہا ہے ۔ جاپان کے جوہری توانائی پیدا کرنے والے اداروں کا ڈھانچا انتہائی ترقی یافتہ ، بہترین منصوبہ بندی کا نمونہ اور مستقبل کی ضروریات اور خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے ۔ پاکستان اور دوسرے ممالک کو اس معیار سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔“ لیکن جاپان میں جوہری حادثے کے بعد دنیا بھر میں جوہری توانائی کے فوائد اور نقصانات کے حوالے سے بحث شروع ہوچکی ہے۔ جرمنی نے اپنے کئی ری ایکٹر بند کردیے ہیں۔ امریکی جوہری ریگولیٹری اتھارٹی اپنے بجلی گھروں کا جائزہ لے رہی ہے۔ برطانیہ کے نائب وزیر اعظم کا بیان بھی آچکا ہے کہ اس سونامی کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ جوہری بجلی گھروں کے حفاظتی انتظامات پر اٹھنے والے بہت زیادہ اخراجات کی وجہ سے نئے جوہری بجلی گھروں کا مستقبل خطرے میں ہے۔

 جاپان کے زلزلے اور سونامی کے بعد پاکستان میں بھی یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ جوہری تونائی سے بجلی کا حصول اس سے وابستہ خطرات کے مقابلے میں کتنا فائدہ مند ہے ؟ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق سربراہ اور پاکستان کے مایہ ناز سائنس داں ڈاکٹر ثمرمبارک مند کے ایک انٹرویو جو انہوں نے وائس آف امریکا کی اردو سروس کو دیا تھا کے مطابق ، ان کا کہنا ہے کہ صرف کراچی کی جوہری تنصیب ساحلی علاقے کے قریب ہے جو چالیس سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔۔ اگر بحر ہند میں جاپان طرز کے سونامی سے کسی ایٹمی ری ایکٹر کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے تو وہ 137میگا واٹ کا کراچی کا نیو کلیئر پاور پلانٹ ہے۔ یہ ری ایکٹر چالیس سال پرانا ہے اور بجلی بھی صرف ساٹھ فیصد دے رہا ہے۔ تو اگر بحر ہند میں کوئی شدید زلزلہ آئے تو سونامی اس سے تو ٹکرا سکتا ہے لیکن دیگر ری ایکٹر محفوظ ہیں وہ چشمہ کے مقام پر ہیں۔ انہیں باقاعدہ تحقیق کے بعد وہاں تعمیر کیا گیا ہے وہ زلزلے کے زون میں نہیں ہیں۔ ان کے ڈیزائن میں یہ چیز شامل ہے کہ وہ شدید زلزلوں میں بھی خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

جاپان میں تباہ کن زلزلے سے متاثرہ نیو کلیئر ری ایکٹر کے آس پاس کے علاقوں سے اگرچہ کئی لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے تاہم جاپانی قیادت کا کہنا ہے کہ متاثرہ ری ایکٹرز سے خارج ہونے والی تابکاری ایسی سطح پر پہنچ چکی ہے جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ فوکو شیما نیوکلیئر پلانٹ سے 20 سے 30 کلو میٹر کے علاقے میں موجود افراد کو گھروں کے اندر رہنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ جاپان میں زلزلے کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر میں یہ بحث بھی ہورہی ہے کہ ایٹمی توانائی اور ایٹمی بجلی گھروں کی فول پروف حفاظت کے لیے مزید کیا اقدامات کرنے ہوں گے۔ دو ہفتوں قبل ڈائی چی کی ایٹمی بجلی گھر میں ہونے والے دو ہائیڈروجن دھماکوں میں پلانٹ کے کئی کارکنوں کے زخمی ہونے اور ڈیڑھ سو سے زائد افراد میں تابکاری کے اثرات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ جوہری ماہرین اس صورت حال کو بڑی تشویش سے دیکھ رہے ہیں۔ جاپانی حکومت کا اصرار ہے کہ تابکاری کی سطح ابھی خطرناک حد تک نہیں پہنچی لیکن تمام جوہری ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ شاید دنیا کو ایک اور بڑے ایٹمی حادثے کا سامنا ہے۔ ہے۔جاپان کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایٹمی ری ایکٹر کا ڈھانچا انتہائی مضبوط ہوتا ہے ۔ جاپان میں یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا امریکا میں ہے ، اور چرنوبل جیسا بالکل نہیں ہے۔ جس کا کوئی حفاظتی ڈھانچا ہی نہیں تھا۔ اس لیے جب ری ایکٹر پھٹا تو تابکاری کے اثرات تمام یورپ تک پھیلے تھے ۔ جاپان اور امریکا میں ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن اب امریکا ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے بحث چھڑ چکی ہے۔ امریکا میں جاپان کے طرز کے 23 ایٹمی ری ایکٹرز جبکہ کل 104ایٹمی ری ایکٹرز کام کررہے ہیں۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا ایمانو نے کہا ہے کہ جاپان میں متاثرہ ری ایکٹر بند کردیے گئے ہیں اس لیے کسی چین ری ایکشن کا خطرہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن کے کچھ دھماکے ہوئے ضرور ہیں لیکن یہ کوئی ایٹمی رد عمل نہیں ہے بلکہ کیمیائی عمل ہے۔ باوجود ان دھماکوں کے ری ایکٹر کا بنیادی ڈھانچا، جسے کسی بڑی تابکاری کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اپنی جگہ قائم ہے اور تابکاری کا اخراج بے حد محدود ہے۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ایٹمی ری ایکٹرز کے حوالے سے تمام ضروری معلومات فراہم کی جائیں گی لیکن ماہرین کا یہ کہناہے کہ جاپان میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کے نقصانات کا مکمل اندازہ اسی وقت ہوسکے گا جب جاپان کے ایٹمی ری ایکٹرز کو پہنچنے والے نقصان کے ماحولیاتی اثرات کا حتمی تخمینہ سامنے آئے گا۔ اب تک کے اندازوں کے مطابق جاپان سے ہواؤں کا رخ امریکا کی جانب ہوگا لیکن اگر ہواں کا رخ بدل گیا تو پھر تابکاری کے اثرات بڑی آسانی سے جنوبی ایشیا تک پہنچ جائیں گے۔ جاپان میں جوہری بحران کو اگر صرف جاپان کا بحران سمجھا جارہا ہے تو یہ ایک بہت بھیانک غلطی ہوگی۔ فوری طور پر اگر دیکھا جائے تو بحرالکاہل میں بھی تابکار آئیوڈین کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں کی سمندری مخلوق تابکاری کے اثرات کا شکار ہوگئی ہے اور اس خوراک کو کھانے والے بھی ان اثرات کا شکار ہوجائیں گے۔ فوری طور پر تو شاید کوئی نہ مرے لیکن یہ اثرات نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ پیدا ہونے والے معذور بچوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ کینسر اور کئی دوسرے امراض کا خطرہ بڑھ جائے، اسی خطرے کے پیش نظ چین نے فوری طور پر جاپان سے غذائی اور زرعی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔

پچیس سال قبل چرنوبل کے ایٹمی ری ایکٹر میں دھماکا ایک الم ناک انسانی سانحے سے کم نہیں۔ دھماکے کے بعد پورے علاقے کو خالی کرالیا گیا تھا، لوگ صرف ضرورت کی چند اشیا ساتھ لے جاسکے تھے۔ انہیں امید تھی کے وہ اپنے گھر بہت جلد لوٹ آئیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔ پچیس سال گذر جانے کے بعد بھی ابھی تک یہ علاقہ اجڑا ہوا اور آسیب زدہ منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں کوئی نہیں رہتا البتہ سیاح دنیا بھر سے تباہی کے یہ نقوش دیکھنے ضرورآتے ہیں۔ چرنوبل کو دیکھنے کی فیس بہت معمولی ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد ہزاروں میں ہے شاید لوگ اپنی آنکھوں سے ترقی کا ہولناک نتیجہ دیکھ کر یقین کرنا چاہتے ہیں۔ چرنوبل کے ایٹمی پلانٹ سے کچھ فاصلے پر وہ شہر پری پیات موجود ہے جسے چرنوبل پلانٹ میں کام کرنے والوں کے لیے بسایا گیا تھا۔ اس شہر کو 36 گھنٹے بعد خالی کروالیا گیا تھا اور اس شہر کے گھر اور درودیوار آج بھی مکینوں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان دیواروں پر وہاں کے فنکاروں نے گم شدہ افراد کی تصاویر بنادی ہیں۔پری پیات کو ایک مثالی قصبہ سمجھا جاتا تھا جہاں رہائشی عمارات کے گرد گلاب کے پھول اور درخت لگائے گئے تھے۔ یہ نوجوان افراد اور بڑھتے خاندانوں کا قصبہ تھا۔ اب اس شہر میں رہنے والا تو کوئی نہیں۔ راتوں کو گلیوں میں جنگلی سور گھومتے پھرتے ہیں اور تو اور درختوں نے رہائشی عمارتوں کے اندر اگنا شروع کردیا ہے۔

پری پیات کی گلیوں میں گھومنے والی ایک نوجوان طالبہ کی بات دنیا کو یاد رکھنی ہوگی۔ آنا ستاسیا کا کہنا تھا کہ ” میں اب تک ایٹمی توانائی کو کامیاب سمجھتی تھی اور اس میں مزید ترقی کی امید رکھتی تھی لیکن اب میری رائے تبدیل ہوچکی ہے۔“ ہمارا بھی یہ خیال ہے کہ اب دنیا کو توانائی کے محفوظ طریقوں پر کام کی رفتار تیز کردینی چاہیئے۔

بین الاقوامی سطح پر نیو کلیئر اینڈ ریڈیولوجیکل واقعات کی شدت ناپنے کا اسکیل INES کہلاتا ہے جو صفر سے شروع ہوکر سات تک جاتا ہے۔ صفر کا مطلب ” قابل نظر انداز“ اور سات کے معنی ”بڑا حادثہ “ ہوتا ہے۔ جوہری حادثوں کی تاریخ میں چرنوبل کا سانحہ وہ واحد واقعہ ہے کہ جب اسے سات کا درجہ دیا گیا تھا۔جاپان میں ایٹمی ری ایکٹر سے تابکاری کے حادثے کو اب تک پانچ درجہ قرار دیا جارہا ہے۔ اس اسکیل میں پانچ کا مطلب ایسا حادثہ جس کے ب بڑے پیمانے پر بڑے نتائج رونما ہوسکتے ہیں۔ جوہری ماہرین کے مطابق جاپان میں پیش آنے والے واقعے کو ممکنہ طور پر ” نیا چرنوبل“ قرار دینا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جوہری سلامتی کے حوالے سے دنیا بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ جاپانی جوہری سلامتی ایجنسی کی طرف سے لیول پانچ کا اطلاق خصوصی طور پر جوہری ری ایکٹرز کی عمارت دو اور تین پر کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق 1979 میں امریکی جزیرے تھری ماڈل میں پیش آنے والے جوہری حادثے کو بھی پانچ کا درجہ دیا گیا ہے۔

Monday, May 3, 2010

غیر محفوظ ابارشن، دو کروڑ اور بیس لاکھ ڈالرزکامعیشت پر اضافی بوجھ

بس باجی کیا بتاؤں ، میں تو مرتے مرتے بچی ہوں۔  حمیدہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ دائی کے ہاتھوں غیر محفوظ ابارشن نے اسے موت کے منہ تک پہنچادیا تھا لیکن شاید اس کی خوش نصیبی نے اسے بچالیا یا پھر قدرت کو اس کے سات چھوٹے چھوٹے بچوں پر رحم آگیا جن کی عمریں تیرہ سے ڈھائی سال تک ہیں۔

ابراہیم حیدری کی رہائشی حمیدہ گھروں میں جھاڑو پونچھے کا کام کرتی ہے۔ اس کی دونوں بڑی بیٹیاں جو 13اور 11 سال کی ہیں اس کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔اس کے پہلے ہی سات بچے ہیں اور اب وہ مزید بچے نہیں چاہتی تھی لہذا حسب روایت جب وہ ساتویں بچے کی پیدائش کے سال بھر بعد ہی امید سے ہوگئی تو اس بار یہ بچہ اسے نہیں چاہیے تھا، یہ اس کا حتمی فیصلہ تھااور اس کا شوہر بھی اس کا ہم خیال تھا۔ ضرورت اسے محلے کی ایک دائی تک لے گئی۔ جہاں اس کا کیس اس حد تک بگڑا کہ لینے کے دینے پڑ گئے بہرحال سرکاری اسپتال میں پورے ایک مہینے علاج کے بعد وہ اس قابل ہوگئی تھی کہ جیسے تیسے کام پر آ گئی تھی۔ اس بیماری پر اس کے شوہر کو پندرہ ہزار کا قرض لینا پڑا اورایک مہینہ کام سے غیر حاضری پر دو تین گھروں کا کام بھی چھوٹ گیا۔

اب اسما سے ملیے! گلشن اقبال میں رہائش پذیرتیس سال کی پڑھی لکھی خاتون ، دو بچوں کی ماں، جب تیسری مرتبہ امید سے ہوئی تو اسے بھی یہ بچہ نہیں چاہیے تھا۔ اپنے سسرال والوں سے چھپ کر لیکن شوہر کی مرضی سے اس نے بھی محلے کے ایک چھوٹے کلینک کا رخ کیا اور غیر تربیت یافتہ مسیحا سے مسیحائی کی بھیک مانگی۔ اس کی بھی حالت بگڑ گئی۔ میں جب اس سے ملی تو چہرہ زرد ہورہا تھا ، خون کی شدید کمی اور نقاہت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

تم تو اچھی خاصی پڑھی لکھی خاتون ہو، تمھاری عقل کو کیا ہوا تھا، اگر جانا ہی تھا تو کسی مستند ڈاکٹر کے پاس جاتیں۔
میں نے حیرت سے پوچھا۔

جب ڈاکٹر منع کردیں تو بھلا پھر مریض کہاں جائے؟ اس نے الٹا مجھ سے سوال کردیا۔
کیا مطلب، ڈاکٹرز کیوں منع کریں گے؟

میں کئی ڈاکٹرز کے پاس گئی لیکن سب نے منع کردیا کہ ہم یہ غیر قانونی کام نہیں کرتے۔ پھر میرے پاس اور کیا راستہ تھا!
یہ دو الگ سماجی پس منظر کی حامل خواتین ہیں۔ دونوں کا تعلیمی پس منظر ، معاشی حیثیت سبھی مختلف ہے لیکن حالات بالکل ایک جیسے ہیں۔ حمیدہ معاشی وسائل کی کمی کے باعث کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس نہں جاسکی ( یہ اور بات ہے کہ بعد میں جب اس کی حالت بگڑی تو بات ہزاروں تک جاپہنچی۔) اور اگر شاید چلی جاتی تو اسے بھی ڈاکٹر منع کردیتے۔جبکہ اسما ڈاکٹر کے علاج کی حیثیت رکھتی تھی لیکن ڈاکٹروں نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔ گویا ہر صورت میں دونوں خواتین محفوظ طبی امداد سے محروم رہیں حتی کہ ایمرجنسی کی صورت آپہنچی۔
اسقاط حمل ،ایک انتہائی اہم مسئلہ جس میں عورت کی زندگی داؤپر لگی ہوتی ہے تو ایسے میں ڈاکٹر وں کا یہ رویہ سمجھ میں نہیں آتا ہے؟ مسئلہ ہے کیا؟ ہمارے اس سوال کا جواب ڈاکٹر نگہت شاہ نے تفصیل سے دیا۔

ڈاکٹر نگہت شاہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال سے بطور آبسٹیٹریشن اور گائناکولوجسٹ وابستہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہمارے مذہبی اور ملکی قوانین کچھ مخصوص صورتوں میں ابارشن کی اجازت دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ڈاکٹرز ایسی خواتین کی مدد نہیں کرتے۔ وہ آج بھی ابارشن کو غیر قانونی اور غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔ایسے تمام ڈاکٹرز جو ایسی خواتین کی مدد کرنے سے انکار کردیتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ انکار کرکے اس عورت کی جان سے کھیل رہے ہیں۔ اگر آپ اسے مایوس کردیں گے تویقینا وہ کسی دائی یا کسی مڈوائف یاکچی آبادیوں میں کھلے ہوئے ”زچہ بچہ کلینک“ میں ہی جائے گی اور یوں اس خاتون کی زندگی کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔
اصل میں اسقاط یا ابارشن کی اجازت یا اختیار مذہبی، قانونی ، سماجی اور روایتی اعتبار سے ہے یا نہیں؟ اوراگر اجازت ہے تو کن حالات میں ہے ؟یہ سوالات ہمیشہ ہر معاشرے میں بحث طلب رہے ہےں۔ اس حوالے سے ہمیشہ دو نکتے نظر سامنے آتے رہے ہیں کہ کس کا زندگی پر حق زیادہ ہے ماں کا یا اس بچے کا جو ابھی اس دنیا میں آیا ہی نہیں ہے یا یوں کہہ لیں کہ ابھی اس میں زندگی کے واضح آثار ہی نمودار نہیں ہوئےہیں۔

یہاں لفظ ابارشن اور مس کیرج کے حوالے سے بھی بڑی کنفیوزن پھیلی ہوئی ہے۔ڈاکٹر نگہت شاہ نے بتایا کہ  عموما حادثاتی طور پر حمل کے ضائع ہونے کو مس کیرج اور ارادی طور پر حمل ضائع کروانے کو ابارشن کہا جاتا ہے ، جبکہ میڈیکل کی اصطلاح کے مطابق 24 ہفتوں سے پہلے حمل کا ضائع ہونا چاہے یہ عمل ارادی ہو یا حادثاتی مس کیرج کہلاتا ہے۔ یہ اصطلاح میڈیکل اور کلینیکل پریکٹس میں استعمال کی جاتی ہے۔

ابارشن کے حوالے سے دستیاب اعدادوشمار انتہائی تشویشناک ہیں۔ 2002میں تقریبا 24 لاکھ پاکستانی خواتین حاملہ ہوگئی تھیں لیکن یہ بچہ انہیں نہیں چاہیے تھا لہذاان میں سے 9 لاکھ نے اسقاط حمل کا سہارا لیا۔ قوانین صرف مخصوص حالات میں اسقاط حمل کی اجازت دیتے ہیں لہذا جو عورتیں یہ کام کرنا چاہتی ہیں وہ چوری چھپے غیر محفوظ طریقوں سے کرواتی ہیں۔ غریب خواتین حالات سے مجبور ہوکر غیر تربیت یافتہ کارکنوں سے یہ خدمات حاصل کرتی ہیں۔ اس کا نتیجہ ایسی پیچیدگیوں کی صورت میں نکلتا ہے جو عمر بھر کی معذوری یا موت بھی ہوسکتی ہیں۔ غیر محفوظ اسقاط حمل سے مرنے والی خواتین کی شرح ماؤں کی کل اموات کا 5.6 فیصد ہے۔ جہاں ایک طرف معذوری یا موت کا اثر خاندانوں پر پڑتا ہے۔ وہیں دوسری طرف ان پیچیدگیوں کے علاج معالجے کا بہت بڑا بوجھ صحت کے سسٹم اور اداروں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی معیشت پر غیر محفوظ ابارشن کے مد میں 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
واحد دستیاب قومی سطح کے ایک سروے کے مطابق 2002 میںاندازا 890,000 حمل ضائع ہوئے یعنی 1000تولیدی عمر کی عورتوں میں اسقاط کی شرح 29 تھی۔ ہر 100حمل میں سے 14ضائع ہوئے۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اسقاط حمل کی شرح نسبتا زیادہ یعنی ہر ہزار عورتوں میں 37,38 کے درمیان تھی۔ اس کے مقابلے میں سندھ اور پنجاب میں یہ شرح بتدریج 31 اور 25 تھی۔

پاکستان میں ایک چوتھائی بچوں کی پیدائش بغیر منصوبے کے ہوتی ہے گو اسقاط حمل سے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ واضح ہے کہ حمل ختم کرنے کا عمل ہر علاقے میں عام ہے۔

پاکستان میں چونکہ یہ ایک معیوب عمل سمجھا جاتا ہے لہذا عورتوں سے اس موضوع پر بات کرنا بہت مشکل ہے، وہ اپنے تجربات بیان کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔ اس لیے معلومات کے دوسرے طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔

1997-98میں کراچی کے ایک اسپتال کے سروے سے جو معلومات حاصل ہوئیں ان کے مطابق اسقاط حمل کی پیچیدگیوں کے ساتھ داخل ہونے والی خواتین میں سے صرف 7 فیصد نے یہ قبول کیا کہ انہوں نے حمل ضائع کروایا تھا۔

یہ بھی ایک غور طلب بات ہے کہ پاکستان میں جن خواتین کا اسقاط حمل کی پیچیدگیوں کا علاج کیا جاتا ہے وہ اوسطا 4 بچوں کی مائیں ہوتی ہیں۔ پاکستانی عورت عام طور پر 3 بچوں کی خواہاں ہوتی ہے، تین بچوں کے بعدچونکہ ان کی خواہش پوری ہوچکی ہوتی ہے اس لیے وہ مزید بچے نہیں چاہتیں۔ اگرعورتوں سے بات کی جائے توابارشن کی جو سب سے اہم وجہ سامنے آتی ہے کہ ایک تو یہ کہ وہ غریب ہیں اور یہ کہ انہیں ”مزید بچے نہیں چاہئیں۔“ 2002 میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق تین صوبوں میں 55% عورتوں نے کہا کہ ان کے ” کافی بچے “ ہیں۔ 54% نے غربت وجہ بتائی اور 25% نے کہا کہ بچوں کے درمیان وقفہ بہت کم تھا۔

پاکستان میں اسقاط کے حوالے سے مدد فراہم کرنے والوں میں ڈاکٹروں سے لے کر روایتی معالج مثلا دائیاں وغیرہ شامل ہیں۔ جن کی اکثر خدمات غیر محفوظ ہوتی ہیں۔علاج کے لیے آنے والی خواتین میں سے 30% نے ڈاکٹروں سے ،36% نے مڈوائفوں، نرسوں یا ہیلتھ وزیٹروں سے اور32% نے دائیوں اور 2% نے الٹی سیدھی دوائیں کھا کر، چھلانگیں لگاکر اور وزن اٹھا کرخود سے یہ کوشش کی۔

2002 میں نرس مڈوائف کی مدد سے ہونے والے اسقاط پر ایک غریب دیہاتی عورت کے 1700روپے خرچ ہوئے جبکہ باحیثیت دیہاتی عورت کے 2500 روپے خرچ ہوئے۔ جبکہ باحیثیت شہری عورت کے 3850 روپے خرچ ہوئے۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسقاط حمل کے اخراجات یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ عورت یہ خدمات کہاں اورکس سے حاصل کرتی ہے یعنی غریب عورت کے لیے اس بات کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ غیر تربیت یافتہ لیکن سستی مدد فراہم کرنے والوں کے پاس جائے۔

قوانین کیا کہتے ہیں؟

ڈاکٹر عذرا احسان، ایسوسی ایشن آف مدر اور نیوبورن کی سیکریٹری جنرل ، نیشنیل کمیٹی فار میٹرنل ہیلتھ اور نیونینٹل ہیلتھ سے بطور ٹیکنیکل کنسلٹنٹ اورآبسٹیٹریشن اور گائناکولوجسٹ ، اسقاط حمل کے حوالے سے اپنی ایک تفصیلی پریزنٹیشن میں بتاتی ہیں کہ”اسقاط حمل کے حوالے سے دنیا کے ہر ملک میں قوانین موجود ہیں اور زیادہ تر ممالک میں کچھ شرائط کے ساتھ اس کی اجازت ہے۔ اگر ہم دنیا کے 57 اسلامی ممالک میں قوانین کا جائزہ لیں تو ان میں بڑا تنوع نظر آتا ہے۔ تنزانیہ اور ترکی میں اس عمل کی کھلے عام اور ہر صورت میں اجازت ہے وہاں اسے عورت کا ذاتی معاملہ اور حقوق نسواں کا حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ سوڈان ، سعودی عرب اور ایران میں ان قوانین کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر رکھی گئی ہے۔ جبکہ دیگر اسلامی ممالک میں برٹش دور کے قوانین موجود ہیں۔ اگر عورت کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو تو دنیاکے ہر ملک میں اس کی اجازت ہے جبکہ اگر عورت کی جسمانی صحت کو خطرہ ہوتو اردن، کویت، مراکو ، قطر اور سعودی عرب میں اس کی اجازت ہے۔ عورت کی جسمانی اور ذہنی صحت داؤ پرلگی ہو تو الجیریہ میں اجازت ہے۔ کویت اور قطر میں اس کا دارومدار جنین کی نشوونما پر ہے۔ سوڈان میں اگر معاملہ ریپ کا ہو تو اس کی اجازت ہے۔ پاکستان میں اسقاط کی اجازت کچھ مخصوص حالات میں دی گئی ہے۔ ابتدا میں تو برطانوی قوانین موجود تھے لیکن 1989میں سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا کہ وہ ان قوانین کا ازسرنو جائزہ لے اور ضروری ترامیم کرے۔ اس کے بعد ان قوانین میں قران و سنت کی روشنی میں ترامیم کی گئیں جن کے تحت 1990 میں حکومت پاکستان نے انگریزوں کے زمانے کے اسقاط حمل کے قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تبدیل کیا۔

1990 کے نئے قوانین میں قانونی اسقاط کا انحصار جنین کے دورانیے یعنی ماں کی کوکھ میں اس کی عمر پر ہے۔

ماں کی زندگی بچانے کے لیے اور ”ضرورت کے مطابق“ علاج کے لیے قانون اسقاط حمل کی اجازت دیتا ہے۔

غیر قانونی اسقاط حمل کرنے والے کی سزا کا انحصار اسقاط کے وقت جنین کی نشونما کے مراحل پر ہے۔ اعضا کی ساخت بننے سے پہلے کی سزا 3 سے 10کی قید ہے۔اعضا بننے کے بعد اس سے ہرجانہ بھی لیا جاسکتا ہے اور اس کے علاوہ اسے قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

مذہبی دانشوروں کی رائے میں اعضا کی ساخت حمل کے چوتھے مہینے تک ہوجاتی ہے۔

غیر محفوظ اسقاط حمل سے عورت کی زندگی کو لاحق خطرات اور معیشت پر اربوں روپے کے اضافی بوجھ سے بچا جاسکتا ہے اور بھی بہت آسانی سے ، متعلقہ ڈاکٹروں کے مشورے سے کوئی بھی مانع حمل احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہے۔ بہت سے محفوظ اور سستے طریقے موجود ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں خواتین اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں مگر احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتیں۔ اس حوالے سے جب ڈاکٹر نگہت سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ” یہ غلط فہمی عام ہے کہ مانع حمل احتیاطی تدابیر غیر اسلامی اور صحت کے لیے نقصان دہ ہیں ، اس لیے خواتین اس پر دھیان نہیں دیتی ہیں۔“ اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ ” ایک سروے کے مطابق فیملی پلاننگ کے حوالے سے کام کرنے والی خواتین مثلا مڈوائف ایل ایچ وی اور ایل ایچ ڈبلیو وغیرہ بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا پائی جاتی ہیں اور جب تک وہ خود ذہنی طور پر یکسو نہیں ہوں گی دیگر خواتین کو کیسے اس پر قائل کرپائیں گی۔“ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان ابھی تک تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو نہیں پاسکی ہے اگرچہ ہمارے پاس فیملی پلاننگ کے حوالے سے ایک علیحدہ وزارت تک موجود ہے ۔ ورلڈ پاپولیشن پراسپیکٹس (2008) کے مطابق پاکستان اپنی 18کروڑآبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹاملک ہے اور 2050 تک اس کی آبادی45 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ بدلتے ہوئے تیز رفتار وقت سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمیں اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو اپنے وسائل سے ہم آہنگ کرنا ہوگا تبھی اکیس ویں صدی میں ہم ایک خوش حال پاکستان اور تندرست ماں اور بچے کے خواب کی تعبیر پاسکیں گے۔
یاد رہے کہ اگر عورت کی زندگی اور صحت کو خطرہ لاحق ہے تو ایسی صورت میں ابارشن غیر قانونی ہرگزنہیں ہے