Wednesday, October 29, 2008

خطرات میں گھرے جنگلات

 کیا کسی سیاسی منشور میں جنگلات کا تحفظ شامل ہے؟ 
      
کسی بھی ملک و قوم کی خوش بختی اور خوش حالی کا اندازہ اس کے زر مبادلہ کے ذخائر سے نہیں بلکہ اس کے قدرتی وسائل سے کیا جاتا ہے۔قدرتی وسائل ہی وہ اصل خزانہ ہیں جس سے اس ملک کے کھیت کھلیان سر سبز ، دریاؤں میں رواں دواں پانی اور لوگوں کے چہروں پر خوشی اور مسرت کے رنگ جھلملاتے ہیں۔زمین پر زندگی کے تمام رنگ ان ہی قدرتی وسائل کے مرہون منت ہیں۔ مالا مال سمندر دریا، دنیا کے بلند پہاڑ ان کے دامن میں جھومتے بارشوں کو کھینچتے سیکڑوں سالہ قدیم درخت ، زرخیز مٹی کے میدان ،سر سبز کھیت کھلیان اور رنگ برنگا حیاتی تنوع ہی ہماری اصل دولت ہے۔انسان دراصل دو گھروں کا مکین ہے ، ایک اس کا گھر اور دوسرا کرہ ارض ۔ ہمیں دونوں گھروںکا یکساں تحفظ کرنا ہے لیکن ہم نے اپنی عاقبت نا اندیشی سے اپنے ان دونوں گھروں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

 فطرت کی زبان سمجھنے والے بے آب و گیاہ دھول اڑاتے میدانوں اور خشک جھاڑیوں پر لکھی یہ تحریر پڑھ لیتے ہیں کہ کوئی تو ہے جس نے قدرت کے مکمل اور متوازن ماحول کو اس مقام تک پہنچایاہے۔ زمینی وسائل کے استعمال اور قدرتی ماحول کے درمیان ایک نہایت مضبوط تعلق موجود ہے اور انسانی سرگرمیاں جب قدرتی ماحول میں خلل ڈالتی ہیں تو ہرے بھرے مناظر کو صحراؤں میں تبدیل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ درخت یا جنگلات بظاہر ہمارے لیے ایک عام سے وسائل ہیں لیکن زمین کا تمام تر فطری ماحولیاتی نظام ان ہی کے گرد گھومتا ہے۔یہی موسموں کے جن کو قابو میں رکھتے ہیں۔ جنگلات کو اگر ماحول کا نگہبان کہیں تو زیادہ غلط نہ ہوگا۔یہ بڑے پیمانے پر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں ،درجہ حرارت اور بارش کو قابو میں رکھتے ہیں۔ان کی جڑیں زمین کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہےں۔ بے شمار جانور اور پرندوں کے لیے فطری مساکن اور لاکھوں افراد کے لیے وطن کا کام کرتے ہیں۔نباتات اور حیوانات کی یہ رنگا رنگی خوراک کی زبردست دولت اور انسانی صحت کے لیے بیش بہا دوائیں فراہم کرتی ہے۔جنگلات سے ایندھن اور تعمیرات کے لیے لکڑی، حیوانات کے لیے چارہ، پھل،شہد، ،حیوانی پروٹین ،دواؤں کے عروق اور دوسری بہت سی خام اشیا مثلا گوند ، موم اور سریش وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔ یہ جنگلات کروڑوں مویشیوں ، بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کے لیے چارے کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔


 ملک کے بڑے بڑے آب گیر علاقوں( واٹر شیڈز) میں اگنے والا یہ حفاظتی پردہ نہ صرف ماحولیاتی نظاموں کو برقرار رکھتا ہے بلکہ مٹی کو اپنی جگہ قائم رکھ کر سیلابوں کے مقابلے میں رکاوٹ کاکام بھی دیتا ہے۔ شجر کاری کے حوالے سے حضور اکرم ﷺ کی صاف اور صریح ہدایات موجود ہیں ۔ ان کے مطابق مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر شجر کاری کی ترغیب دی گئی ہے۔اسلام نے درخت لگانے اور نباتات کی حفاظت کرنے کو کار ثواب( صدقہ) قرار دے کر نہ صرف دنیاوی فوائد بلکہ آخرت کے لیے سعادت کا حصول قرار دیا ہے۔

لیکن ان جنگلات سے کیا سلوک کیا جاتا ہے ذرا دیکھیے تو:

 کہا جاتا ہے کہ 30 فٹ بال گراؤنڈ کے مساوی جنگل کا رقبہ ہر منٹ کاٹا جاتا ہے۔گذشتہ کئی سالوں سے جنگلات کا خاتمہ یعنی دیسی جنگلوں اور لکڑی کے ذخائر کی مستقل تباہی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔پہلے ہی قدیم اور خالص جنگلات کا ایک تہائی حصہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے اور اب دنیا کے قدیم جنگلوں کا صرف40%حصہ ہی باقی بچا ہے۔جنگلوں کادو تہائی حصہ بنیادی طور پر بدل چکا ہے۔اس ضمن میں زیادہ تر نقصان پچھلے 45 سال میں ہوا ہے۔ایشیا میں منطقہ کے 42% اصلی جنگل ختم ہوگئے ہیں۔ یورپ میں ابتدائی جنگلات کا صرف 1%حصہ باقی رہ گیا ہے۔ہمالیہ کے دامن میں جو کبھی صنوبر، شاہ بلوط اور کنیر کے درختوں سے بھرا ہوتا تھا، اب اصلی جنگلوں کا 4% حصہ رہ گیا ہے۔افریقہ کے براعظم میں سب سے بڑھ کر جنگلات کا خاتمہ عمل میں آیا ہے۔مرکزی افریقہ کے بارش والے جنگل کا آدھا حصہ صاف ہوچکا ہے۔ مغربی افریقہ جو کبھی منطقہ حارہ کی عمارتی لکڑی سے مالا مال ہوا کرتا تھا اور تقریبا خالی ہوچکا ہے۔امیزون کے بارانی جنگل بھی تیزی سے گھٹتے جارہے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق ان بارانی جنگلات کے رقبے میں کمی سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھے گی اور جنگل میں لگنے والی آگ کی شرح بھی بڑھے گی۔برازیل کے علاقے میں واقع امیزون جنگل کی خلائی سیارے کی مدد سے لی گئی تصاویر اور جائزوں سے پتا چلا ہے کہ یہاں تقریبا ساڑھے پندرہ سو مربع کلو میٹر پر واقع درختوں کوسالانہ کاٹ دیا جاتا ہے۔یوں دنیا کے گھنے ترین بارانی جنگل کا مستقبل خطرے سے دوچار ہے۔

 پاکستان میں اس قیمتی قدرتی وسیلے سے مزید بد تر سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

پاکستان کا شماران ممالک میں ہوتا جہاں دنیا میں سب سے کم جنگل پائے جاتے ہیں۔یعنی اس کی خشکی کے مجموعی رقبے کا صرف 4.8 فیصد ہے جو بہت کم ہے اور حکومت اسے 2011ءمیں بڑھا کر 5.7 فیصد تک پہنچانا چاہ رہی ہے۔یہ محدود وسیلہ بھی کئی سالوں سے دباؤکا شکار ہو رہا ہے۔

ہر سال حکومت سرکاری سطح پر شجر کاری مہم دھو دھام سے شروع تو کرتی ہے لیکن جتنا کثیر سرمایہ اس پر خرچ ہوتا ہے اس کے مقابلے میں نتائج چند فیصد بھی برآمد نہیں ہوتے ۔اور آئندہ سال جب یہ مہم ایک بار پھر شروع ہوتی ہے تو پچھلے سال کے نتائج قصہ پارینہ سمجھ کر بھلا دیے جاتے ہیں۔

   پاکستانی جنگلات کو تعریف کے لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔پیداواری جنگلات (Productive  Forest) اور محفوظ جنگل (Protected Forests)۔  پاکستان کے اہم جنگلات میں سندھ میں موجود ساحلی جنگلات،دریائی جنگلات، بلوچستان کے چلغوزے اور صنوبر کے جنگلات،شمالی علاقوں کے جنگلات اور آزاد کشمیر کے جنگلات شامل ہیں۔

پاکستان کے ہر شعبے کی طرح جنگلات کے شعبے کو بھی کرپشن کی دیمک چاٹ گئی ہے۔یہ قیمتی وسیلہ سیاسی اثر رسوخ اور مجرموں کی سر عام سرپرستی کے باعث ہمیشہ غیر محفوظ رہا ہے۔اس قیمتی دولت سے فائدہ نہ اٹھانے والے کو عرف عام میں بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔سندھ کے دریائی جنگلات جنہیں کچے کے جنگلات بھی کہا جاتا ہے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔یہ جنگلات دریائے سندھ کی گذر گاہ کے کنارے اور نواحی علاقوں میں واقع ہیں اور دریائے سندھ کے سیلابی پانی سے سیراب ہوتے ہیں۔یہ جنگلات ٹمبر مافیا کے لیے خزانہ ہیں۔فرنیچر اور ایندھن کے لیے یہاں سے بے دریغ درخت کاٹے جاتے ہیں۔ کچے کی لکڑی فرنیچر سازی کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔ان علاقوں میں ٹمبر نافیا کا بہت اثر رسوخ ہے اور بغیر کسی نئی شجر کاری کے درختوں کی کٹائی زور شور سے جاری ہے۔اس کا نتیجہ ہم سب بارشوں کی کمی اور خشک سالی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔حالیہ بارشوں سے قطع نظر سندھ کئی سالوں سے خشک سالی کا بد ترین عذاب بھگت رہا تھا خصوصا تھر اور بلوچستان کے علاقے۔دریائے سندھ میں پانی کی کمی سے زراعت کے لیے بھی پانی نا کافی تھا۔ٹیوب ویلوں سے پانی کا حصول نا ممکن ہوچلا تھا کیونکہ بارشوں کی کمی سے زیر زمین پانی بھی کم ہوگیا تھا۔آج کل سندھ کے یہ جنگلات ڈاکوں کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔گھنے جنگلات کے باعث ا ن ڈاکوؤں تک پہنچنا اور ان پر قابو پانا قانون کے محافظوں کے لیے مشکل تھا لہذا حکومت نے یہ ”بہترین“ حل ڈھونڈا کہ ان جنگلات کا ہی صفایا کردیا جائے تاکہ نہ جنگل ہوگا اور نہ ڈاکو ان میں چھپیں گے۔ایسے ”بہترین“ فیصلے ملک و قوم کے مفاد میں آئے دن کیے جاتے ہیں۔

سیاسی اثر رسوخ بھی ٹمبر مافیا کی حوصلہ افزائی کا ایک سبب ہے۔

بلوچستان کا صرف% 1.7رقبہ جنگلات کے زیر سایہ ہے تاہم یہاں کے صنوبر کے جنگلات اسے اہم مقام بخشتے ہیں۔دنیا بھر میں پائی جانی والی صنوبرکی 25 اقسام میں سے 4اقسام پاکستان اور بھارت میں ہمالیہ کے پہاڑوں پر پائی جاتی ہیں ۔ صنوبر کی کچھ اقسام دنیا بھر میں صرف بلوچستان میں پائی جاتی ہیں۔ان جنگلات کا شمار دنیا کے قدیم ترین جنگلات میں پوتا ہے اور ماہرین بلا مبالغہ ان درختوں کی عمروں کا تخمینہ ہڑاروں سال لگاتے ہیں۔لیکن شعور اور آگہی کی کمی اور اور متبادل سہولت نہ ہونے کے باعث یہ نایاب درخت بھی ایندھن کے لیے کاٹ لیے جاتے ہیں۔اگرچہ قانوناً ان درختوں کی کٹائی منع ہے لیکن ان پر چلتے تیز دھار کلہاڑے ان درختوں کے ساتھ ساتھ قانون کی بھی دھجیاں اڑاتے ہیں۔شمال میں پہاڑوں کے دامن میں موجود جنگلات ہمارے آبگیر علاقوں کے تحفظ کا سبب ہیں ۔ان جنگلات کے باعث بارش اور تیز رفتار سیلاب کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور مٹی بھی مضبوطی سے جمی رہتی ہے۔اگر یہ درخت نہ ہوں تو بارش کا پانی تیز رفتاری سے انسانی آبادیوں کو بہا لے جائے گا اور مٹی کے بہنے سے ہمارے ڈیم مٹی سے بھر کر اپنی کارکردگی کھو بیٹھیں گے۔منگلا اور تربیلا ڈیم اس کی مثال ہیں۔ 2005 کے زلزلے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ چٹانی اور مٹی کے تودوں کے گرنے سے ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ان علاقوں میں رہی جہاں جنگلات کا صفایا ہوچکا تھا۔

 فاریسٹری سیکٹر ماسٹر پلان کے مطابق ’شمالی پاکستان اور صوبہ سرحد میں ہر سال جنگلات کی کٹائی کے نتیجے میں ہونے والے ہوائی اور آبی کٹاؤ کے سبب کم از کم40 ملین ٹن مٹی سندھ طاس کے بہاؤ  میں شامل ہوجاتی ہے اور 11ملین ہیکٹر زمین متاثر ہوتی ہے۔‘خشک اور نیم بنجر ارضیاتی کیفیت اور دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی ہوئی صحرا زدگی کے باعث جنگلات میں ہونے والی یہ کمی نہایت تشویش ناک امر ہے۔
اگرچہ جنگلات کا شمار قابل تجدید وسائل میں کیا جاتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم انہیں کاٹے جائیں اوریہ ختم نہ ہوں۔اگر وہ اس رفتارسے کاٹے جائیں جو ان کی دوبارہ نشو و نما کی رفتار سے زیادہ ہو تو ہمارے جنگلات کے وسائل جلد ہی مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے۔جنگلات کے خاتمے کے اثرات مختصر المعیاد اور طویل المعیاد دونوں ہی ہوتے ہیں ۔جنگلات تمام ماحولیاتی نظاموں کو سہارا دیتے ہیں اورزمین پر زیادہ تر نباتاتی اور حیواناتی حیات کا فطری مسکن ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر ہم نہ صرف ان بیش بہا وسیلے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ اس خدمت سے بھی محروم ہوجائیں گے جو یہ جنگل ہم انسانوں کو فراہم کرتے ہیں۔یہ بات شو رکی آلودگی میں بھی اضافہ کردے گی کیونکہ درخت مصروف شاہراہوں اور انسانی آبادیوں سے آوازیں جذب کرکے صوتی اور صوری پردوں کا کام انجام دیتے ہیں۔مختصرا یہ کہ جنگلات کی بربادی پانی اور کاربن کی گردش کودرہم برہم کردے گی اور اس طرح عالمی آب و ہوا بدل جائے گی اور کرہ حیات پر حیات کے لالے پڑ جائیں گے۔یاد رہے کہ 2050 تک دنیا بھر کے تقریبا ایک ارب افراد موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بے گھر ہو سکتے ہیں جس سے عالمی نوعیت کے سنگین مسائل جنم لیں گے۔

  ہمارے قدرتی وسائل اہم قومی سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔مثلا آزاد کشمیر اور دیر کوہستان کے جنگلات کو قابل استعمال ہونے میں سیکڑوں سال لگتے ہیں۔بلوچستان میں پائے جانے والے صنوبر کے جنگلات کی عمریں ہزاروں سالوں پر محیط ہیں۔یہ اگر ایک دفعہ ہم سے رخصت ہوگئے تو یقین جانیے کہ ہماری کئی نسلیں انہیں دیکھ نہیں سکیں گی۔یہ جنگلات ہماری مٹی کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت کے بھی نگہبان ہیں۔زرخیز مٹی کا پانی یا ہوا سے ضائع ہوجانا بھی کسی بڑے نقصان سے کم نہیں ہے کیونکہ مٹی قدرتی طور پر مختلف ماحولیاتی اثرات کے تحت ایک طویل جغرافیائی عمل سے گذر کر صدیوں میں تشکیل پاتی ہے۔

  جنگلات میں ہی نشوو نما پانے والے ایک اور اہم قدرت وسیلے یعنی ادویاتی پودوں کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ پاکستان میں دو ہزار سے زائد ادویاتی پودے پائےجاتے ہیں لیکن فرسودہ طریقوں اور قدرتی ماحول میں انسان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس وسیلے سے خاطر خواہ استفادے سے محروم کر دیتی ہیں۔

 ہمارے ملک میں الیکشن کا موسم ہے۔ آئے دن کسی نہ کسی پارٹی کا منشور منظر عام پر آرہا ہے لیکن ہمیں حیرت ہے کہ کسی کی بھی ترجیحات میں ماحول کا تحفظ یا کسی قدرتی وسیلے کی بحالی شامل نہیں ہے۔ شاید ان معزز لوگوں کے نزدیک یہ گھٹیا مسائل صرف غریبوں تک محدود ہیں۔لیکن شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ایک کرہ ارض کے باسی ہونے کے سبب ہر مسئلہ ان تک ضرور پہنچے گا اور متاثر کرے گا ، یہ الگ بات ہے کہ یہ ’بڑے لوگ‘ اپنی رہائش کے لیے کسی اور سیارے کا انتخاب کرلیں۔اگر واقعی کوئی لیڈر ہوتااور اس کے دل میں ملک و قوم کا درد ہوتا تووہ ضرور اس طرف توجہ دیتا۔ 2004 کا نوبل انعام حاصل کرنے والی افریقی ماہرماحولیات ونگاری ماتھائی ان سب کے لیے روشن مثال بن سکتی ہے۔1977 سے کام کا آغاز کرنے والی ماتھائی افریقہ کی پہلی پی ایچ ڈی خاتون بھی ہیں۔انہوں نے بے دریغ کٹائی کے خلاف اور تیزی سے کم ہوتے جنگلات کے تحفظ کے لیے ایک ’سبز تحریک‘(Green Movement)کا آغاز کیا۔ونگاری نے تیس سال کے عرصے میں کینیا میں تیس کروڑ درخت لگائے۔شاید پاکستان کو بھی ایک ونگاری ماتھائی کی ضرورت ہے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ کے حوالے سے کام کرنے والی ایک ویب سائٹ نے اپنا تجزیہ(CO2 foot print) پیش کیا ہے کہ ایک فرد جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے اسے 5 درخت لگا کر جذب کیا جاسکتا ہے ، گویا ہر فرد پانچ درخت لگا کر فضا سے اپنے حصے کی کاربن ڈائی آکسائیڈ صاف کرسکتا ہے۔چلیے پانچ نہ سہی لیکن18 کروڑ عوام ایک ایک درخت تو لگا ہی سکتے ہیں ۔۔۔


توآئیے کسی لیڈر کسی حکومت کا انتظار کیے بغیر ہم اپنے حصے کا کام کرجائیں۔

Thursday, September 18, 2008

ماحول اور قران کی گواہی

اہل مغرب اپنے آپ کو ماحول کے تحفظ کا علمبردار سمجھتے ہیں مگر وہ اس بات سے لا علم ہیں کہ تحفط ماحول اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔قران کریم اور احادیث نبوی ﷺ میں بار بار پاکیزگی اور صفائی کی تاکید کی گئی ہے۔حتی کہ اہل مغرب کی سوچوں سے بڑھ کر اسلام نے معاشرتی اور روحانی ماحول کے اصول بھی واضح کردیے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان اصولوں کو اپنائیں اور ان پر عمل کریں۔یہ بات بھی اکثر مشاہدے میں آئی ہے کہ علمائے کرام اپنے درس و تدریس اور خطبوں میں ماحول سے متعلق اسلامی تعلیمات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔نتیجتاً ایک طرف تو عوام الناس ماحول سے متعلق اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ رہتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے آفاقی مذہب اسلام کا پیغام بھی اہل مغرب یا دیگر غیر اسلامی ممالک تک نہیں پہنچ پاتا ہے ۔اس کمی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خدانخواستہ اسلام ماحولیاتی مسائل اور ماحول کے تحفط کی اہمیت کا احاطہ نہیں کرسکا اور یہ کہ یہ سب افکار و تعلیمات جدید سائنسی علوم کے مرہون منت ہے ۔



قران اللہ تعالی کا کلام ہے اور اس بات میں ہم مسلمانوں کو کوئی شک و شبہہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اسے آپ جوں جوں پڑھتے جاتے ہیں اس کے معنی نت نئے ڈھب سے آپ پر آشکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔قرآن کا عرصہ نزول 23 برس کے طویل عرصے پر محیط ہے۔اس طویل عرصے کے باوجود اس میں بلا کا ربط اور لسانی خوبصورتی ہے۔تمام تہذیبوں میں تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے اہم ذرائع میں ادب اور شاعری سر فہرست رہے ہیں۔دنیا کی تاریخ میں ایسے زمانے بھی گذرے ہیں جب شاعری اور ادب کو ویسا ہی اعلی مقام حاصل تھا جیسا کہ آج کے دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو حاصل ہے۔غیر مسلم ماہرین لسانیات تک کا اس پر اتفاق ہے کہ عربی ادب کا بلند پایہ نمونہ قران پاک ہی ہے ۔یعنی روئے زمین پر عربی ادب کی بہترین سے بھی بہترین مثال صرف قران پاک ہے۔نوع انسانی کو قران پاک کا چیلینج ہے کہ وہ آیات قرانی کے ہم پلہ کچھ بنا کر دکھائے ۔دیکھیے اللہ تعالی کتنے واشگاف الفاط میں کہتے ہیں کہ”اور اگر تمھیں اس امر میں شک ہو کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ،یہ ہماری ہے یا نہیں تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ،اپنے سارے ہم نواؤں کو بلالو ،ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو،اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر دکھاؤ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ،اور یقینا کر بھی نہیں سکتے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے پتھر اور انسان ۔جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لیے۔“ (سورہ 2 آیات نمبر 23 تا 24)۔یہ چیلینج قران پاک میں کئی مقامات پر دیا گیا ہے صرف ایک ایسی سورت بنانے کا جو اپنی خوبصورتی ،خوش بیانی ،معانی کی وسعت اور فکر کی گہرائی میں قران پاک کی برابری کرسکے ،اور آج تک یہ چیلنج پورا نہیں کیا جاسکا ہے۔

عربی دنیا کی وہ منفرد زبان ہے جو اپنے قواعد کے اعتبار اور تلفط اور ہجوں کے لحاط سے بھی ایک کامل و اکمل زبان ہے اور یہ اپنے ذخیرہ الفاظ کے لحاظ سے عدیم النظیر ہے۔ اس کی مشہور لغات مثلا لغت صحاح جوہری چالیس ہزار مادہ ہائے الفاظ پر مشتمل ہے جبکہ قاموس فیروز آبادی میں اسی ہزار مادے جمع ہیں اور تاج العروس سید مرتضی زبیدی کے مادہ ہائے الفاظ کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے۔مندرجہ بالا تعداد صرف مادہ ہائے الفاظ کی ہے جبکہ ان میں سے ہر ایک مادہ سے درجنوں مشتقات نکلتے ہیں ۔یعنی اگر مشتق الفاظ کو شامل کر لیا جائے تو ان کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے ۔عربی زبان میں ایک ایک چیز کے لیے درجنوں الفاظ موجود ہیں مثلا دن کے ہر گھنٹے کے لیے عربی میں جداگانہ نام ہے ،اسی طرح ہر چاندنی رات کا ایک خاص نام ہے ۔صرف پانی کے لیے 170الفاظ ،بارش کے لیے64اور ابر کے لیے 50الفاظ ہیں ۔قران کی زبان عربی دنیا کی تیسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے ۔اس سے پہلے کی قدیم زبانیں قصہ پارینہ بن چکی ہیں مثلا آریہ کی الہامی زبان سنسکرت ،یہودیوں کی مقدس زبان عبرانی ،عیسائیوں کی لاطینی زبان ،مجوسیوں کی ژندی زبان ،فراعنہ مصر کی قبطی زبان اور بابل و شام کی آشوری اور سریانی اور ہومر کی یونانی وغیرہ۔یہ شرف عربی ہی کو حاصل ہے کہ آج بھی اس آفتاب لا زوال کی تابندہ شعاعیں عالم پر محیط ہیں ۔عربی زبان زندہ ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ زندہ رہے گی۔

اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔قران اگرچہ 1400سال پہلے نازل ہوا لیکن اس کی حقانیت رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گی اور جب جب اس کا جائزہ لیا جائے گا یہ اس دور کے عین مطابق ثابت ہوگا ۔ قران متعدد تاریخی واقعات کا حوالہ دیتا ہے جو اس وقت کسی کے علم میں نہیں تھے۔لیکن وہ درست ثابت ہوئے۔ اس طرح قران کریم متعدد پیش گوئیاں بھی کرتا ہے اور یہ تمام پیش گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔اسی طرح بہت سے ایسے سائنسی حقائق کا ذکر بھی قران میں موجود ہے جو اس وقت لوگوں کے علم میں ہی نہیں تھے۔لیکن آج سائنس داں اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ہماری اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ قران کوئی سائنسی کتاب ہے لیکن اس کے باوجود اس میں کم از کم 1000ایسی مثالیں موجود ہیں جن کا براہ راست سائنس سے تعلق بنتا ہے۔ اگر ہم صرف ماحول کے حوالے سے ہی دیکھیں تو تحفظ ماحول اور ہر قدرتی وسیلے سے متعلق تفصیلی تذکرہ موجود ہے ۔ پانی ،اس کی اقسام ،پانی کے ذخائر کی تفصیل مثلا دریا ،سمندر ،جھیلیں،چشمے ،پانی کی صفائی و پاکیزگی،استعمال کے آداب وغیرہ۔ حیاتیاتی تنوع اور اس کی اہمیت ،درختوں کی اہمیت ،شجر کاری کے فوائد، نباتات پر اثر انداز عوامل ،پودوں کی اقسام بلحاظ ساخت،نباتات اور انسانی ساخت۔ زمین کی اہمیت اس کی حفاظت، سیاحت،پہاڑ، فضا اوراس کی اہمیت۔غرض یہ کہ ہرشعبے پر آپ کومطلوبہ تفصیل مل جائے گی۔ طوالت کے خوف سے ہم صرف ایک قدرتی وسیلے یعنی پانی کوموضوع بحث بنا رہے ہیں البتہ اس حوالے سے ہماری تحقیق جاری ہے جو ہم وقتا فوقتا آپ کے لیے پیش کرتے رہیں گے۔

آج یہ بات سب جانتے ہیں کہ پانی زندگی کے لیے لازم و ملزوم ہے، پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ دریا، سمندر اور جھیلوں کے کنارے ہی انسانی تہذیب پھلتی پھولتی اور نشوونما پاکر ترقی یافتہ معاشروں میں ڈھلتی رہی ہے۔حیات کی کسی بھی اکائی کا پانی کے بغیر تصور ممکن نہیں۔سائنس داں آج بھی دوسرے سیاروں پر کمند ڈالتے ہوئے سب سے پہلے پانی ہی کا امکان ڈھونڈتے ہیں۔ پانی کی اسی اہمیت کو قران ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی واضح کرچکا ہے۔دیکھیے سورہ الانبیاکی آیت نمبر 30 اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی اور سورہ نور میں ارشاد ہے  اور اللہ نے ہر جان دار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیے۔

 قران کی اس بات سے آج کے سائنس داںسو فیصد متفق ہیں۔

 Bernard Palac نامی سائنس داں نے 1580 میں water cycle یعنی آبی چکر بیان کیا تھا۔ لیکن اس انکشاف سے ایک ہزار سال پہلے قران نے متعدد مقامات پر آبی چکر کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔قران بتاتا ہے کہ پانی سمندروں کی سطح سے بخارات بن کر اٹھتا ہے ۔بادلوں میں تبدیل ہوتا ہے ،بادل بلآخر کثیف بن جاتے ہیں ،ان میں بجلیاں چمکتی ہیں اور ان سے بارش ہوتی ہے۔

سورہ مومنون میں ارشاد ہوتا ہے:

اورآسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرا دیا ، ہم اسے جس طرح چاہے غائب کرسکتے ہیں۔ المومنون  18

سورہ روم میں وضاحت ہے:

اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں ، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے ۔پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں۔یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے برساتا ہے تو وہ یکایک خوش و خرم ہوجاتے ہیں۔الروم 78

اور دیکھیے:

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا پھر اس پانی سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں۔ ( سورہ الزمر 21 (

اپنی ایک یگانہ روز گار کتاب حیاتیاتی چیزوں کی انفرادیت میں معروف سائنس داں(بائیو کیمسٹ) پروفیسر نیڈہم نے لکھا ہے کہ زندگی کے وجود کے لیے سیال چیزیں بے حد ضروری ہیں کیونکہ ٹھوس چیزوں میں ایٹمی ذرے بہت قریب ہوتے ہیں۔اوروہ کبھی بھی حرکی قوت ،قوت عمل رکھنے والے سالماتی عمل اور رد عمل کی اجازت نہ دیتے جس کی زندہ رہنے والے ہر فرد کو عمل کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کی تحریک کے لیے فعال ہونا بے حد ضروری ہے۔آسان لفظوں میں یہ کہ زندگی کی فعالیت کے لیے سیالی ماحول بے حد ضروری ہے اور پانی اللہ تعالی کی تخلیق میں بے حد خوبصورت اور کار آمد چیزہے۔ پانی کے خواص کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ ہر دور میں سائنس دانوں کے لیے حیران کن رہی ہیں۔تمام موجودات میں جیسے جیسے ان کا درجہ حرارت نیچے آتا ہے سکڑتی چلی جاتی ہیں  حجم میں کمی کا مطلب ہے کہ چیزوں کی کثافت بڑھ جاتی ہے  ۔اس کے برعکس پانی سکڑتا ہے اور جب اس کا درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے تو اس حد تک پہنچنے کے بعد پانی پھیلتا ہے اور حجم میں بڑھتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ٹھوس حالت میں پانی کا حجم کم ہوتا ہے بہ نسبت مائع حالت کے۔اگراس کو دیکھا جائے تو اپنی منجمد حالت میں برف کو پانی میں ڈوبنا چاہیے مگر ہوتا اس کے برعکس ہے۔

اللہ تعالی کی حکمت دیکھیے کہ پانی کی یہ خصوصیت سمندروں کے لیے بے حد اہم ہے۔اگر پانی میں یہ صفت نہ ہوتی تو زمین پر پانی منجمد ہوجاتا اور جھیلوں ، سمندروں میں زندگی ممکن نہ ہوتی۔اگر اس حقیقت کو ہم تفصیل سے ملاحظہ کریں تو دنیا کے کئی خطوں میں موسم سرما میں جبکہ درجہ حرارت منفی سے بھی نیچے آجاتا ہے اور یہ حالت جھیلوں اور سمندروں پر بھی یکساں اثر انداز ہوتی ہے اور ان جگہوں کا بھی درجہ حرارت گر جاتا ہے۔پانی کی ٹھنڈی تہہ نیچے بیٹھ جاتی ہے اور گرم تہہ اوپر آجاتی ہے۔جہاں وہ بھی ہواؤں سے ٹھنڈی ہوجاتی اور دوبارہ نیچے بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے لیکن 4 ڈگری سینٹی گریڈ پر یہ سائیکل ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ یہاں پانی دوبارہ پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔جس کے سبب وہ پھر ہلکا ہوجا تا ہے اور نچلی تہہ میں چلا جاتا ہے۔اور جب مزید کم ہوکر درجہ حرارت تین یا چار ڈگری سینٹی گریڈ پر یا جب پانی کی سطح پر جب درجہ حرارت زیرو ہوجاتا ہے تو پانی جم جاتا ہے۔لیکن صرف سطح پر اور پانی کا چار ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت نیچے مچھلیوں اور دوسری سمندری حیات کے لیے حیات کا ضامن ہوتا ہے۔اگر پانی کی یہ خصوصیات نہ ہوتیں اور یہ ویسا ہی ہوتا جیسا کہ عام حالت میں ہوتا ہے یعنی اس کی کثافت بڑھتی تو برف کی شکل میں نیچے بیٹھ جاتا ۔اس پس منظر میں سمندر جھیلیں نیچے سے اوپر کی سطح تک سب منجمد ہوجاتیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ۔کیونکہ پانی کی سطح پر برف کا جو غلاف ہوتا ہے وہی نہ ہوتا جو اوپر کی تہہ کو نچلی تہہ سے جدا کرتا ہے۔یعنی سمندر کی سطح پر ہلکی سی برف کی تہہ کبھی نہ جمتی اور پھر ہوتا یہ کہ سمندروں ،جھیلوں،دریاؤں کی نچلی سطح پر چند میٹر پانی کی سطح ہوتی اور ہوا کا درجہ حرارت دوبارہ گرم ہونے کے باوجود سمندروں میں زندگی بحال نہیں کی جاسکتی اور ایسے ایکو سسٹم میں سمندر مردہ ہوتے اور نہ ہی زمین پر زندگی کے آثار پائے جاسکتے ۔پانی کی اس خاصیت کے لیے ہمیں اللہ تعالی کا حد درجہ شکر گذار ہونا چاہیے جس کے سبب سرد و گرم موسم میں پانی کا درجہ حرارت قائم رہتا ہے اوراس کے سبب ہی زندگی کی رنگا رنگی قائم ودائم ہے۔

پانی کا سطحی دباؤ بھی حیران کن ہے اور اس کا واضح اثر پودوں کی زندگی پر پڑتا ہے ۔کسی پمپ کے بغیر پانی کئی میٹر اونچے درختوں کی شاخوں اور چھوٹے چھوٹے شگوفوں تک پہنچ جاتا ہے۔لیکن اگر سطحی دباؤ ذرا بھی کم ہوتا تو یہ سارا عمل نا ممکن ہوجاتا۔

 اپنی فزیکل یا مادی خصوصیت کے علاوہ پانی بے حد عمدہ محلل ہے جس کے نتیجے میں ایک وسیع تعداد مفید کیمیائی اجزا کی دریاؤں سے پانی کے ساتھ بہتی ہوئی سمندر تک پہنچتی ہے ۔ اس سے سمندر کے کنارے ایک بہت منفرد ماحولیاتی نظام( ایکو سسٹم ) جنم لیتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلٹا کی لاکھوں ایکڑ زمین زرخیز ہوجاتی ہے۔تمام انسانوں اور حیوانوں کے لیے پانی کے سالماتی کشش (چپچپاہٹ) بہت ضروری ہے ۔کیونکہ اگر یہ ذرا بھی کم ہوتی تو دوران خون کا نظام اتنی کامیابی اور اکملیت کے ساتھ جاری و ساری نہیں رہ پاتا۔اور اگر پانی میں تھوڑا سا بھی گاڑھا پن بڑھ جاتا تو دنیا کا کوئی بھی قلب خون کو پمپ نہیں کرسکتا۔اسی طرح ہمارے جسم میں آکسیجن کے جذب ہونے کی صلاحیت صرف اس لیے ہے کہ پانی میں یہ خصوصیت موجود ہے ۔جب ہم سانس لیتے ہیں تو آکسیجن ہمارے پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے جو براہ راست فورا خون میں داخل ہوجاتی ۔ہمارے خون میں جو ہیمو گلوبن موجود ہوتی وہ آکسیجن کے لیے ٹرانسپورٹ کا کام کرتی ہے اور آکسیجن خلیات تک پہنچ جاتی ہے۔


غرض یہ کہ کائنات کا صرف ایک جز پانی ہی اللہ تعلی کا تخلیق کردہ سب سے بڑا معجزہ ہے اور دیکھنے والوں کے لیے اس میں کھلی نشانیاں موجود ہیں۔

Thursday, May 15, 2008

حلقہ فکر سے میدان عمل تک ۔۔۔ راہ دشوار سہی مگر نا ممکن نہیں

اپنے لیے ہم بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

 گرمیوں کی ڈھلتی سہہ پہر تھی ،دھوپ کی تمازت ختم ہوچکی تھی اورہوا میں ٹھنڈک گھل رہی تھی، میں ایک صاف ستھری گلی میں کھڑی چاروں جانب دیکھ رہی تھی۔میرے ساتھ جنگ میگزین کے ایڈیٹر اور انگریزی روزنامے سے وابستہ ایک خاتون بھی تھیں۔ہم اس تبدیلی کا خاموشی سے جائزہ لے رہے تھے جس نے بجا طور پر اس علاقے میں ایک خاموش انقلاب برپا کردیا تھا ۔یہ ایشیا کی سب سے بڑی ” کچی آبادی “ اورنگی ٹاؤن تھا۔اس صاف ستھرے علاقے کو اب کچی آبادی کہنا یقینا زیادتی تھا۔کیونکہ ہمارے لیے کچی آبادی کا تصور کچھ اور تھا۔اورنگی ٹاؤن کی تقریبا14لاکھ آبادی اپنے گھروں میں آسودگی سے زندگی گذار رہی ہے۔اسے جینے کا قرینہ آگیا ہے ۔ صاف ستھرے محلے ، پختہ گلیاں، ڈھکے ہوئے گٹر ایک صاف ستھری آبادی نکھر کر سامنے تھی جو ”پوش علاقوں“ سے بھی زیادہ چمک دمک رہی تھی۔بلاشبہ اس خاموش انقلاب کے بانی معروف سماجی سائنس داں مرحوم ڈاکٹر اختر حمید خاں تھے،اورنگی کا جائزہ لیتے ہوئے انہی کا ایک شعر مجھے یاد آگیا ۔شاید اسی علاقے کے لیے انہوں نے کہا ہوگا

ہزار شہر بسائے ہیں بادشاہوں نے
اب ایک شہر فقیروں کو بھی بسانے دو

  وقت کے ساتھ ساتھ یقینا تہذیبی ،تمدنی ، معاشرتی ،سماجی اور علمی قدروں میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ۔فکر ونظر کو نئے زاویے اور ارتقائی رویے اختیار کرنے پڑتے ہیں ۔زندگی اور اس کے مسائل کو سمجھنے ، پرکھنے اور بیان کرنے کی نئی راہیں کھلتی ہیں ۔دنیا بھر میں سماجی بہبود اب ایک باقاعدہ سائنس کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے ۔ اقوام متحدہ نے 1959 میں دانشوروں کی ایک جماعت کو قومی معاشرتی بہبود کے پروگراموں کی ترقی کے موضوع پر ایک رپورٹ مرتب کرنے کے لیے کہا تھا،اس جماعت نے یہ سفارش کی تھی کہ ہر حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کے مضر اثرات سے نمٹنے کے لیے انسانی فلاح و بہبود کے منصوبے بنائے ۔خود قران کریم نے بھی بار بار اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ حاکم کو رعایا کی فلاح کے لیے کوشاں رہنا چاہیے ۔خلافت راشدہ میں اس کی عملی مثالیں موجود ہیں۔
  آج دنیا بھر میں حکومت کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر فرد اور ادارے بھی تبدیلیوں کے نقیب بن رہے ہیں۔ سماجی خدمات کے حوالے سے اگرچہ ہمارے ہاں بھی بہت کام ہورہا ہے ۔حکومت کا ہاتھ بٹاتے بے شمار ادارے ہیں جو ہر شعبے میں فعال ہیں ، تبدیلی کا عمل اگرچہ بہت نمایاں نہیں ہے لیکن جاری و ساری ہے۔لیکن شاید ہم روایت پرستوں کو تبدیلیوں کو ماننے اور اسے کھلے دل سے تسلیم کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔یہی وجہ ہے کہ ابھی تک سماجی خدمات کوہمارے معاشرے میں وہ مقام نہیں مل سکا ہے جس کی وہ حق دار ہے ۔حکومت کو تمام کاموں کا ذمے دارسمجھنے کا تصور ہمارے ہاں عام ہے ۔



  کراچی ہی کی مثال دیکھ لیجیے ،یہ پاکستان کا سب سے بڑا شہرہے جس کی حالیہ آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے اورشرح آبادی یہی رہی تو امید ہے کہ 2020 تک تین کروڑ ڈھائی لاکھ تک پہنچ جائے گی ۔ ۔بے پناہ آبادی کا بوجھ برداشت کرتا یہ شہر بنیادی سہولیات سے محروم اور مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔صاف پانی کی کمی اورصفائی کا ناقص نظام شہریوں کی صحت کے لیے بگاڑ اور پھر علاج کی مد میں ہونے والے اخراجات شہریوں کے لیے ایک اضافی بوجھ بن گئے ہیں۔سیوریج کا ناقص نظام شہریوں کے لیے ایک ناقابل برداشت مسئلہ بنتا جارہا ہے۔

  شہر کے بیشتر حصوں میں نکاس کا نظام تیس سے چالیس سال پرانا ہوچکا ہے اور اپنی متعینہ مدت پوری کرچکا ہے۔یہ نظام نہایت خستہ حال ، زنگ آلود اور پرانا ہوچکا ہے۔اس لیے پائپ اور مین ہول جگہ جگہ سے تڑخ جاتے ہیں اور ان کے بیٹھ جانے سے گندا پانی رسنے لگتا ہے۔شہر کے16 ڈویژنوں میں سے14میں یہ مسائل آئے دن پیش آتے ہیں۔5 یا 8 ڈویژنوں میں یہ مسئلہ ہر مہینے پیش آتا ہے جس کے باعث اخراج کا رخ قدرتی نالوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔

  مین لائنیں بہت گہرائی میں یعنی 15سے25 فٹ نیچے واقع ہیں چنانچہ ان کی صفائی بحرانی حالات میں کی جانے والی مرمت کے سوا کبھی ممکن نہیں ہوتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پائپوں کی خستگی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے لائنوں کا سائز ضرورت سے بہت کم ہے ۔مین لائنوں اور سیکنڈری لائنوں کی سطحوں میں فرق ہے کیونکہ مناسب لیول کا خیال نہیں رکھا گیا تھا۔اس لیے یہ نظام گلیوں کی نالیوں سے مکمل طور پر جوڑا نہیں جاسکتا۔اور جہاں کہیں انہیں جوڑا گیا ہے اوور فلو کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔نتیجتاً ٹرنک لائن کچرے سے اٹ جاتی ہے۔کے ڈبلیو ایس بی کی ایک رپورٹ کے مطابق عملے کے بیشتر انجینئر لیولنگ مشین استعمال کرنے سے نابلد ہیں۔یہ صلاحیت نکاس کے پائپ زمین میں بچھانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ لہذا مین لائنیں اور سیکنڈری لائنیں پہلے سے موجود باقی نظام سے منسلک نہیں ہوپاتی ہیں ۔بعض جگہوں پرلائنوں کے اوپر تجاوزات قائم ہوگئی ہیں جس کے باعث ان کی دیکھ بھال اور مرمت کرنا ممکن نہیں رہا۔

  مندرجہ بالا صورت حال کے نتیجے میں گندے پانی کے اخراج کے لیے زیادہ تر قدرتی نالوں کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن ان نالوں کو اخراج کے ذریعے کے طور پر تسلیم نہ کرنے سے یہ سارا نظام بہتری سے بہت دور ہوجاتا ہے۔

  اس ساری صورت حال پر او پی پی کی روح رواں اور اپنے شعبے کی ماہر پر وین رحمان تفصیل سے روشنی ڈالتی ہیں ” اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ قدرتی نالے ہی سیوریج کی نکاسی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ان قدرتی نالوں کو مین ڈسپوزل کے طور پر تعمیر کیا جائے، یعنی صفائی کرکے باکس سیور بنائے جائیں۔جس جگہ نالے سمندر میں گرتے ہیں وہاں ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیے جائیں۔ یہاں یہ غلط فہمی دور کرنا بھی ضروری ہے کہ ڈرینیج اور سیوریج دو علیحدہ علیحدہ سسٹم ہیں۔ ڈرینیج لائن یا اسٹورم واٹر ڈرین کھلے ہوئے نالوں کو کہا جاتا ہے جو صرف برساتی پانی کی نکاسی کے لیے سڑکوں کے کنارے یا بیچ میں بنائے جاتے ہیں اور سیوریج لائن گندے پانی کی نکاسی کے لیے زمین کے نیچے بچھائی جاتی ہے۔ یہ دونوں الگ الگ سسٹم ہیں لیکن کراچی کے نظام میں یہ دونوں جس طرح خلط ملط ہو چکے ہیں اس پر کسی کو حیرانی نہیں ہو گی۔ہمارے اداروں کی شاندار کارکردگی کے باعث کہیں برساتی پانی کی نکاسی کا کام سیوریج لائن سے لیا جا رہا ہے اور کہیں گندے پانی کی نکاسی کھلے نالوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔

  پروین کا کہنا ہے کہ”جب تک ان برساتی ندی نالوں کو اہمیت نہیں دی جائے گی مسئلے کی نشان دہی نہیں ہو سکے گی۔ اس مسئلے کا گہرائی اور انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ ان تمام ندی نالوں کو نقشے میں اجاگر کیا جائے اور پھر باقاعدہ ایک پروگرام کے تحت ان کو ترقی دی جائے۔

  ناجائز تجاوزات کے حوالے سے پروین کا کہنا ہے کہ ”اس ضمن میں کوئی رو رعایت نہ برتی جائے۔ کوئی بھی بلڈنگ، بنگلہ یا عمارت کسی بھی نالے پر قائم ہو اور وہ پانی کی نکاسی میں رکاوٹ بن رہی تو اسے ڈھا دیا جائے۔ اس کے علاوہ لیاری اور ملیر ندی جو کراچی کے برساتی پانی کی قدرتی نکاسی کا ذریعہ ہیں یہاں سے بھی ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کر کے دونوں اطراف COVER DRAIN بنا دیے جائیں جو شہر کا سیوریج لے جائیں جبکہ درمیان میں برسات کے پانی کے لیے جگہ چھوڑ دی جائے۔ مثلاً ملیر ندی کی اصل چوڑائی 200 سے 300 فٹ ہے۔ اگر سیوریج کے لیے باکس ٹرنک 50 فٹ چوڑے بنائے جاتے ہیں تب بھی 250 فٹ زمین موجود ہو گی۔ لیکن خیال رہے کہ یہ سیوریج کے باکس ٹرنک ڈھکے ہوئے ہونا چاہئیں تاکہ صحت اور صفائی کے مسائل بھی ساتھ ہی حل ہوتے جائیں۔

کیا اپنی مدد آپ کے تحت نکاسی آب کے نظام میں بہتری آسکتی ہے اور کیا او رنگی کی طرح دیگر علاقوں میں بھی لوگ کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں؟ "کیوں نہیں" پروین کا جواب تھا ہم پچھلی تین دہائیوں سے اورنگی میں ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں۔ اورنگی کی حالیہ آبادی تقریبا 16لاکھ ہے۔ ہمارے ادارے او پی پی کے کام کا بنیادی تصور کمیونٹی کی تنظیم اور افراد کی انتظامی صلاحیتوں اور اجتماعی کوششوں کے فروغ کے لیے ہر قسم کی سوشل اور تکنیکی امداد پیش کرنا ہے۔

  اورنگی پائلیٹ پروجیکٹ (اوپی پی) کے خالق ڈاکٹر اختر حمید خان تھے۔ ڈاکٹر صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جو انسانی تاریخ کی سب سے ہنگامہ خیز اور ہر لحظہ ایک نئی صورت حال سے لبریز بیسویں صدی کے منظر نامے پر ابھری اور ”عوامی ترقی ، عوام کے لیے ، عوام کے ذریعے“ کے فلسفے کا عملی نمونہ پیش کرکے دنیا کے اسٹیج پر ایک دیرپا تاثر چھوڑ کر آسودہ خاک ہوگئی۔جنوبی ایشیا میں عوامی ترقی کے کارکنوں، حامیوں اور علمبرداروں کے لیے ان کا نظریاتی اور عملی کام آج اور آنے والے وقتوں میں مشعل راہ ثابت ہوگا۔ان کی نظریاتی اساس کی بنیاد اگرچہ مسلمان فاتحین کے کارناموں کی داستانوں اور صوفیانہ اقدار کے باہمی تعامل سے تشکیل پائی تھی مگر اپنی ماہیت میں ایک کیمیائی مرکب کی طرح بالکل نئے خواص رکھتی تھی۔۔وہ نہ تو حصول طاقت کو تریاق کل سمجھتے تھے اور نہ ہی خانقاہی بے عملی کے پرچارک تھے بلکہ وہ عام لوگوں میں رہ کر ان کے مسائل کی جڑ تک پہنچنے اور پھر اس کی بیخ کنی کرنے کے قائل تھے۔ان کا ادارہ ان کے نظریات کا عملی ثبوت ہے۔

  اوپی پی نے کم لاگت کے سیوریج پروگرام کے ذریعے اورنگی جیسی کچی آبادی میں انقلاب برپا کردیا۔ اس پروگرام کے تحت کم آمدنی والے افراد کے لیے بھی اپنے گھروں میں جدید سینی ٹیشن کا نظام تعمیر کرنا ممکن ہوگیا۔ (جدید سینی ٹیشن سے مراد فلش لیٹرین اور گلی میں زیر زمین پائپ لائن ہے)  مسائل ہر مرحلے پر موجود ہوتے ہیں۔نہ ہی حکومت تن تنہا تمام مسائل حل کرسکتی ہے اور نہ ہی لوگ تمام مسائل کے حل کی استطاعت رکھتے ہیں ۔مثال کے طور پر سینی ٹیشن کے کام کے دو مراحل ہیں۔پہلا مرحلہ گلی کے اندر کا کام ہے جسے اندرونی ترقی کا نام دیا گیا ہے۔اس مرحلے پر کام کا انتظام اور مالی انتظام گلی کے افراد خود کرتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ وہ ہے جسے بیرونی ترقی کا نام دیا گیا ہے یعنی گلی کے باہر سیوریج کا نظام اور یہ بہرحال لوگوں کے اختیار میں نہیں ہوتا ہے یہ حکومت کی ذمے داری بن جاتا ہے۔اسی اصول کو اپناتے ہوئے او پی پی نے اپنا طریقہ کار وضع کیا ہے۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ اندرونی ترقی یعنی گھروں میں فلش لیٹرین کی تعمیر سے گلی میں پائپ لائن بچھانے تک ان کاموں کے لیے نہ تو حکومت کو زحمت دی گئی اور نہ ہی کہیں سے فنڈز اکھٹے کیے گئے ، لوگوں نے تمام لاگت خود برداشت کی اور کام بھی خود انجام دیا۔ اوپی پی کے مطابق اورنگی کی 6,775 گلیوں میں 1,00244 گھروں نے گھر کے اندر پختہ لیٹرین اور گلیاں تعمیر کی ہیں۔اس سارے کام پر مقامی افراد نے اپنے وسائل سے 1.68ملین ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ اندازہ ہے کہ اگر یہ سارا کام حکومت کرتی تو کم از کم تخمینہ 10 ملین ڈالر تک پہنچ جاتا۔

 اوپی پی کے کام کو وہاں کے لوگ کس طرح دیکھتے ہیں ،محمد سعید صاحب آفریدی کالونی اورنگی کے رہائشی ہیں ان کا کہنا تھا کہ گٹر لائن کے مسئلے پر ہم نے او پی پی سے رجوع کیا ،اوپی پی نے ہم سے تعاون کیا جس سے ہمارا مسئلہ حل ہوگیا، فی گھر گٹر لائن ڈالنے پر 400 روپیہ خرچ آیا (یہ ذکر1996کا ہے) ۔لوگ کس طرح راضی ہوئے؟ سعید صاحب کا جواب تھا ” لوگ تو آسانی سے راضی ہوگئے کیونکہ وہ خود اس گندگی اور آئے دن کی بیماریوں سے پریشان تھے لہذا انہوں نے فوری طور پر پیسے ادا کیے۔اس طرح ایک گلی میں ہونے والے کام کو دیکھ کر دوسری گلی کے لوگوں کو بھی یقین آتا گیا اور پھر ۔۔۔۔ لوگ ساتھ آتے گئے اور کاررواں بنتا گیا۔

 اوپی پی کے ساتھ لوگوں کے کام اور اپنی مدد آپ کے جذبے نے یقینا حکومت کو بھی متاثر کیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت اورنگی کے 80%ندی نالے شہری حکومت کے تحت تعمیر کیے جاچکے ہیں اور وہ بھی صرف 5سالوں میں۔اس کے ساتھ ساتھ بلدیہ ٹاؤن، کورنگی میں چکرا گوٹھ کے علاقوں میں بھی اوپی پی اور شہری حکومت مل جل کر کام کررہی ہیں۔اپنی مدد آپ کے تحت کیے جانے والے کاموں میں ایک اور بہت اچھی بات یہ نظر آئی کہ تمام تر منصوبوں یعنی کاغذ پر منصوبہ بندی سے عمل درآمد تک تمام مراحل میں ان غریب افراد ہی کا فائدہ نظر آتا ہے مثلا عام طور پر حکومتوں کے زیر نگرانی جب کوئی منصوبہ تیار ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس جگہ سے غریبوں کی بے دخلی ہی عمل میں آتی ہے یعنی وہ بے چارے سر چھپانے کے آسرے ہی محروم ہوجاتے ہیں۔ لیکن اوپی پی کے طریقہ کار میں ایسا کچھ نہیں ہوتا اور منصوبہ بندی کے عمل میں سب سے پہلے مقامی آبادی کا تحفط پیش نظر ہوتا ہے۔کراچی میں سیوریج اور سینی ٹیشن کے ذمے دار ادارے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی پچھلے چند سالوں سے او پی پی کے مجوزہ نقشے پر ہی کا م کر رہا ہے اور اس منصوبے پر کام کرنے والے ماہرین بھی اپنے ہیں اور کسی غیر ملکی ادارے سے قرض لینے کے بجائے پیسہ بھی وفاقی حکومت نے فراہم کیا ہے۔ یہ مقامی افراد ، اداروں اور حکومت کے اشتراک کی بہترین مثال ہے۔

اوپی پی کے کام کو بیرون ملک بھی سراہا گیا ہے اور بے شمار انعامات اور اعزازات دیے گئے ۔اوپی پی کے کام کے نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے نہ صرف اندرون ملک بلکہ کئی دیگر ممالک بھی رو بہ عمل ہیں۔کیا یہ نتائج ہمیں یہ قائل کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں کہ ایک فرد بھی اپنی سطح پر بہت کچھ کرسکتا ہے اور16کروڑ افراد تو یقینا انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اب وقت کا تقاضا بھی یہی ہے۔

یہ بھی آرائش ہستی کا تقاضا تھا کہ ہم

          حلقہ فکر سے میدان عمل میں آئے

Thursday, May 1, 2008

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

غذائی بحران دنیا کے لیے ایک نیا خطرہ

 سنگین غذائی بحران دنیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔اس کا ثبوت عالمی بینک کا تازہ بیان ہے کہ اشیائے خورو نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دس کروڑ غریب افراد کو مزید غربت کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہیں۔ یہ بیان بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی اس تنبیہہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو لاکھوں لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوں گے۔ اور یہی نہیں بلکہ معاشرتی بے چینی بڑے تنازعات  (غالبا کوئی انقلاب وغیرہ) کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

 اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم ایف اے او نے بھی خبردار کیا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی ترقی پذیر ملکوں میں لاکھوں انسانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔ تنظیم کاکہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے جو بہت سے ملکوں کی برداشت سے با ہر ہے اور اگر کسانوں کو فوری طور پر مدد نہیں ملے گی تو بہت سے ملک غذائی بحران کا سامنا نہ کرسکیں گے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ غذائی بحران کی اہم وجہ37ممالک میں لڑائی ، بدلتی آب و ہوا اوروسیع پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں۔جس کے تحت پچھلے چند سالوں میں ترقی پذیر ممالک پر خشک سالی اور سیلابوں نے حملے کیے ہیں ۔ تیل کا بڑھتا ہوا بھاؤ اور ساتھ میں اناج سے بننے والے بناسپتی ایندھن کی مانگ بڑھی ہے جس کی وجہ سے یہ بحران اور بھی شدید ہوگیا ہے ۔

 مقام فکر ہے کہ عالمی بینک سے متعلقہ کئی ایجنسیوں کی حالیہ جاری کردہ ایک رپورٹ میں پاکستان بھی ان چھتیس ممالک میں شامل ہے جہاں خوراک کے شدید بحران کا خطرہ موجود ہے۔

 پاکستان میں اس حوالے سے اناج کی قلت ، بڑھتی ہوئی قیمتیں اور غریبوں کی خود کشیاں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ہمارے ہاں یہ بحران کس درجے کا ہے اور ہوسکتا ہے ۔ پچھلی حکومت کے پہلے یہ اعلانات کہ گندم بہت زیادہ ہے برآمد کی جاسکتی ہے اور پھر اس قدر کمی کہ لوگوں کو واقعی روٹیوں کے لالے پڑ گئے ، پھر گندم کی مہنگے داموں درآمد  یقینا یہ جادوئی کرتب ہماری حکومتیں ہی کرسکتی ہیں ۔زرعی ملک کی یہ زبوں حالی کہ لوگ دانے دانے کو محتاج ہوچلے ہیں۔عام طور پر قحط کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ کھانے کو کچھ نہ ملے لیکن آج کا بحران انوکھی نوعیت کا ہے کہ لوگوں کو کھانے کو روٹی تو ملے لیکن اس کی قیمت ان کی قوت خرید سے زیادہ ہو۔




 اس سال اناج کی مہنگائی نئے ریکارڈ پر پہنچ گئی ہے جس نے ہر طرح کی غذائی اشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آج متوسط طبقے کے لوگوں نے خوراک کے لیے اپنے علاج معالجے کو پس پشت ڈالنا شروع کردیا ہے ۔  پاکستان میں یہ نظارے عام ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 2 ڈالر یومیہ کی آمدنی والے افراد نے اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھانا شروع کر دیا ہے۔سبزیاں کھانا کم کردی ہیں اور خوراک میں چاول کا استعمال بڑھادیا ہے۔1ڈالر یومیہ آمدنی والے افراد نے سبزیاں اور گوشت کھانا چھوڑ دیا ہے اور دن میں ایک وقت کا کھانا کم کردیا ہے۔لیکن جن لوگوں کی یومیہ آمدنی نصف ڈالر سے کم ہے ان کے لیے حالات انتہائی سنگین ہوگئے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب افراد ایسے ہیں جن کی یومیہ آمدنی ایک ڈالر یومیہ سے کم ہے۔اس حوالے سے ہمارے ملک کے کروڑوں شہری اس فہرست میں شامل ہوں گے۔

 حالیہ مہینوں میں خوراک کی قیمتوں میں کم از کم 40% اضافہ ہوا ہے۔جبکہ کئی ممالک میں قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔تاہم خوراک کی قلت میں آئندہ دنوں میں اس سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے جب ایشیا میں مون سون کا موسم شروع ہو گا ۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گذشتہ کئی برسوں سے مون سون کے چکر میں تبدیلی آگئی ہے جس کی وجہ سے خطے کے کئی ممالک کی زراعت متاثر ہوئی ہے۔خصوصا ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں اناج کی پیداوار میں بیس فیصد کمی واقع ہوئی اور جس کی وجہ سے بھارتی ذخیروں میں 30 ملین میٹرک ٹن کی کمی واقع ہوئی۔اس سے پہلے 2002 میں جب بھارت کی فصل خراب ہوئی تھی تو اس وقت ملک میں اناج کے وافر ذخائر موجود تھے لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔

 اناج کی قلت کے اس طوفان میں صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ فلپائن اور بنگلہ دیش بھی موجود ہیں۔ویتنام میں فصلوںمیں بیماری پھیل سکتی ہے ۔چین کے دریائے یانگڑ میں 1990کی دہائی جیسا طوفان آگیا تو دنیا کے اناج کے ذخائر پر دباؤ اور بڑھ جائے گا۔
 عالمی بینک ، اقوام متحدہ کے بیشتر اداروں اور 60 ممالک نے علاقائی سطح پر خوراک کی قلت ، قیمتوں میں اضافے اور ماحولیاتی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کھیتی باڑی کے طریقوں میں تبدیلی کی حمایت کی ہے لیکن امریکا ،برطانیہ ،آسٹریلیا اور کنیڈا نے ابھی تک اس ضمن میں پیش کی جانے والی رپورٹ انٹر نیشنل اسسمنٹ اف ایگری کلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے امیر ممالک سے کہا ہے کہ وہ دنیا میں خوراک کی بڑھتی قلت اور قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر500ملین ڈالر کی امداد دیں واضح رہے کہ چند ممالک میں اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں 80% تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ 33ممالک میں اس کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کا خطرہ موجود ہے۔ 2500 صفحات کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں پیداوار زیادہ ہونے کے باوجود لوگ بھوکے رہ جاتے ہیں ، بڑھتی ہوئی آبادی اور آمدنیوں میں اضافے کے باعث خوراک کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے خاص طور پر گوشت اور دودھ کی ڈیمانڈ بہت بڑھ گئی ہے ۔ بائیو فیول ٹیکنالوجی کے فروغ، خوراک کی غیر مساوی تقسیم، اور قدرتی وسائل پر قابو پانے کے لیے مستقبل میں ملکوں کے مابین تنازعات بھی ہو سکتے ہیں،جبکہ2050 تک دنیا کی آبادی 9.2 ارب ہو جانے کی توقع ہے جو اس وقت 6.7 ارب ہے۔

 یہ اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ ہے جس کی تیاری کے لیے حکومتوں ، غیر سرکاری تنظیموں اور امیر و غریب ممالک کی صنعتوں نے 400سائنس دانوں کے ساتھ مل کر مسلسل 4 سال تک کام کیا، اس رپورٹ میں خوراک کی پیداواراور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لے کر دنیا بھر میں اس کی تجارت تک پر بحث کی گئی ہے۔

 ہماری نئی حکومت جو ابھی بہت نئی ہے با آسانی یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا سکتی ہے کہ اسے یہ بد حالی ورثے میں ملی ہے اور یہ پچھلے آٹھ سالوں کی بد اعمالیاں ہیں جو پھل پھول رہی ہیں۔ اس کا یہ کہنا درست بھی ہوگا یقینا جمعہ جمعہ آٹھ دن کی حکومت سے آپ یہ توقع نہیں لگا سکتے کہ وہ چراغ کے الہ دین کی طرح پلک جھپکتے میں سب ٹھیک کردے۔لیکن اگر یہ جواز کسی سیاست داں کا ہے تو بالکل ٹھیک ہے لیکن اگر آپ سیاست داں کے بجائے خود کو قوم کا رہنما سمجھتے ہیں تو پھر یقینا یہ عذر لنگ ہے ۔ رہنما وہ ہوتا ہے جو اپنے عزم و حوصلے سے سب کچھ بدل سکتا ہے اور اسے اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی سچی دعائیں حاصل ہوتی ہیں ۔16کروڑ افرادی قوت اورایٹمی طاقت کا حامل یہ ملک وسائل سے بھی مالا مال ہے ۔کمی صرف عزم ، حوصلے اور اس نظر کی ہے جو بہت آگے تک دیکھتی ہے۔کیا ہم جنوبی کوریا سے بھی گئے گذرے ہیں کہ جب اسے پندرہ اگست 1945میں جاپانی چنگل سے نجات ملی تو اس وقت تک عالمی جنگ نے ملک کو ایک بڑے کھنڈرمیں تبدیل کردیا تھا، پھر پچاس سے تریپن تک کی جنگ کوریا نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، اس ملک کے پاس کوئی خاص معدنی دولت بھی نہیں تھی،بس ایک بہتر سا تعلیمی نظام تھا جس نے سیاسی اور فوجی آمریت کے لمبے سائے تلے بھی نہایت تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرلی ۔نتیجہ یہ ہے کہ جب کوریا ساٹھ سال کا ہوا تو وہ دنیا کی دس بڑی صنعتی قوتوں میں شامل تھا اوراس کی فی کس آمدنی اٹھارہ ہزار سالانہ سے زائد تھی۔

 انڈونیشیا کی مثال دیکھ لیجیے ،اگرچہ اس عرصے میں انڈونیشیا تیل سے مالا مال ہونے کے باوجود اتنی ترقی نہ کرسکا جتنی اس کے ہمسایوں نے کی لیکن پھر بھی جب اس نے آزادی کی ساٹھویں سالگرہ منائی تو ملک کم از کم جمہوریت کی راہ پر پوری طرح گامزن ہوچکا تھا۔
 سری لنکا ساٹھ برس کا ہوا تو تامل سنہالہ تنازعے نے ملک کی چولیں ہلادیں تھیں لیکن ان حالات میں بھی اس کی فی کس آمدنی بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں ستر فیصد سے زائد رہی اور جمہوریت بھی پٹڑی سے نہیں اتری، اور نوے فیصد تعلیمی خواندگی کے نتیجے میں سری لنکا کو جنوبی ایشیا کا سب سے پڑھا لکھا ملک ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

 چین کمیونسٹ انقلاب کے وقت بھارت سے بھی زیادہ پسماندہ تھا لیکن آج ساٹھ سال کی عمر میں چین دنیا کی سب سے بڑی صنعتی اور تیسری بڑی اقتصادی قوت ہے، جو ڈیڑھ ارب آبادی والے اس ملک کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

 ملائشیا ابھی صرف پچاس برس کا ہے، آزادی کے وقت ملائیشا کی شناخت صرف ٹن کی معدنیات اور پام آئل تھی اور اس کا شمار پاکستان سے بھی زیادہ غریب ملک میں ہوتا تھا لیکن پچاس برس بعد ملائیشا جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے۔
 جاپانی جسے ایٹم بم نے راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا اور جہاں اب بھی اس کیمائی آلودگی کے باعث معذور بچے پیدا ہوتے ہیں آج ترقی اور خوشحالی کے عروج پر کھڑا ہے۔ بین الاقوامی اداروں سے قرض لینے کے بجائے ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا۔ یہ بڑے بڑے قرضے ذلت اور غلامی کا وہ طوق ہیں جو کسی بھی قوم کو دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لائق نہیں چھوڑتے۔ قرض کا ہر ڈالر سوددر سود ہماری آئندہ نسلوں سے بھی وصول کی جائے گا۔ یہ قرضے وہ مکڑی کے جالے ہیں جس میں غریب ممالک مکھی کی طرح پھنس جاتے ہیں۔ افریقہ کا حال ہمارے سامنے ہے۔

 ایڈز کے ہر ایک سو میں سے ستر مریض افریقہ میں ہیں ۔ روزانہ چھ ہزار مریض مر رہے ہیں اور گیارہ ہزارنئے بن رہے ہیں۔بوٹسوانا اورزیمبیا جیسے ممالک کی چالیس فیصد آبادی اس مرض کی لپیٹ میں ہے جسے ملیریا کہتے ہیں جس کا علاج باقی دنیا میں دس سے بیس روپے میں ہوجاتا ہے اور اس ملیریا سے افریقہ میں ماہانہ ڈیڑھ لاکھ بچے مر رہے ہیں۔کسے فرصت کہ یہ معلوم کرتا پھرے کہ پچھلے چالیس برسوں میں نائیجیریا ، سیرالیون اور انگولا کے معدنی ذخائر خانہ جنگی کا منحوس طوق کیسے بن گئے،کانگو میں گذشتہ چھ برس میں کیسے خانہ جنگی اور امداد کی عدم فراہمی نے اڑتیس لاکھ افراد کو مار ڈالا۔اور اس وقت بھی روزانہ ایک ہزار افراد کیوں مر رہے ہیں۔ جبکہ اسی کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے سولہ ہزار سپاہی گھوم رہے ہیں اور دنیا کے کسی ایک علاقے میں یہ اقوام متحدہ کی سب سے بڑی فوج ہے۔سوڈان کا علاقہ دار فور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور میڈیا کی توجہ کا مسلسل مرکز ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ پچھلے چالیس برسوں کے دوران بیس افریقی ملک کس لیے خانہ جنگی کے خونی تجربے سے گذرے اور اس آگ سے کن کن ترقی یافتہ ممالک اور ان کی کمپنیوں نے اپنے اقتصادی ہاتھ تاپے۔  یہ بھی ایک رونے کا مقام ہے کہ جس برآعظم کا عالمی تجارت میں حصہ محض دو فیصد ہے اور امداد کے لیے ملنے والے ہر دو ڈالر میں سے ایک ڈالر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔اس بر اعظم پر تین سو بلین کا ڈالر کا قرضہ کس نے لادا۔ حالانکہ اس براعظم میں سالانہ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کرپشن اور بد انتظامی میں ضائع ہوجاتے ہیں۔یقین نہیں آتا کہ یہ وہی افریقہ ہے جہاں سب سے پہلے انسان نے اوزار بنائے اور آگ کا استعمال سیکھا۔ اور یہیں سے نسل انسانی باقی دنیا میں پھیلی۔

 اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جب اس نئے پاکستان کی باشعور عوام سیاست داں اور رہنما میں فرق جان جائے۔

 قافلے دلدلوں میں جاٹھہرے                  -------رہنما پھر بھی رہنما ٹھہرے-----