Thursday, September 18, 2008

ماحول اور قران کی گواہی

اہل مغرب اپنے آپ کو ماحول کے تحفظ کا علمبردار سمجھتے ہیں مگر وہ اس بات سے لا علم ہیں کہ تحفط ماحول اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔قران کریم اور احادیث نبوی ﷺ میں بار بار پاکیزگی اور صفائی کی تاکید کی گئی ہے۔حتی کہ اہل مغرب کی سوچوں سے بڑھ کر اسلام نے معاشرتی اور روحانی ماحول کے اصول بھی واضح کردیے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان اصولوں کو اپنائیں اور ان پر عمل کریں۔یہ بات بھی اکثر مشاہدے میں آئی ہے کہ علمائے کرام اپنے درس و تدریس اور خطبوں میں ماحول سے متعلق اسلامی تعلیمات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔نتیجتاً ایک طرف تو عوام الناس ماحول سے متعلق اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ رہتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے آفاقی مذہب اسلام کا پیغام بھی اہل مغرب یا دیگر غیر اسلامی ممالک تک نہیں پہنچ پاتا ہے ۔اس کمی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خدانخواستہ اسلام ماحولیاتی مسائل اور ماحول کے تحفط کی اہمیت کا احاطہ نہیں کرسکا اور یہ کہ یہ سب افکار و تعلیمات جدید سائنسی علوم کے مرہون منت ہے ۔



قران اللہ تعالی کا کلام ہے اور اس بات میں ہم مسلمانوں کو کوئی شک و شبہہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اسے آپ جوں جوں پڑھتے جاتے ہیں اس کے معنی نت نئے ڈھب سے آپ پر آشکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔قرآن کا عرصہ نزول 23 برس کے طویل عرصے پر محیط ہے۔اس طویل عرصے کے باوجود اس میں بلا کا ربط اور لسانی خوبصورتی ہے۔تمام تہذیبوں میں تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے اہم ذرائع میں ادب اور شاعری سر فہرست رہے ہیں۔دنیا کی تاریخ میں ایسے زمانے بھی گذرے ہیں جب شاعری اور ادب کو ویسا ہی اعلی مقام حاصل تھا جیسا کہ آج کے دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو حاصل ہے۔غیر مسلم ماہرین لسانیات تک کا اس پر اتفاق ہے کہ عربی ادب کا بلند پایہ نمونہ قران پاک ہی ہے ۔یعنی روئے زمین پر عربی ادب کی بہترین سے بھی بہترین مثال صرف قران پاک ہے۔نوع انسانی کو قران پاک کا چیلینج ہے کہ وہ آیات قرانی کے ہم پلہ کچھ بنا کر دکھائے ۔دیکھیے اللہ تعالی کتنے واشگاف الفاط میں کہتے ہیں کہ”اور اگر تمھیں اس امر میں شک ہو کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ،یہ ہماری ہے یا نہیں تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ،اپنے سارے ہم نواؤں کو بلالو ،ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو،اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر دکھاؤ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ،اور یقینا کر بھی نہیں سکتے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے پتھر اور انسان ۔جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لیے۔“ (سورہ 2 آیات نمبر 23 تا 24)۔یہ چیلینج قران پاک میں کئی مقامات پر دیا گیا ہے صرف ایک ایسی سورت بنانے کا جو اپنی خوبصورتی ،خوش بیانی ،معانی کی وسعت اور فکر کی گہرائی میں قران پاک کی برابری کرسکے ،اور آج تک یہ چیلنج پورا نہیں کیا جاسکا ہے۔

عربی دنیا کی وہ منفرد زبان ہے جو اپنے قواعد کے اعتبار اور تلفط اور ہجوں کے لحاط سے بھی ایک کامل و اکمل زبان ہے اور یہ اپنے ذخیرہ الفاظ کے لحاظ سے عدیم النظیر ہے۔ اس کی مشہور لغات مثلا لغت صحاح جوہری چالیس ہزار مادہ ہائے الفاظ پر مشتمل ہے جبکہ قاموس فیروز آبادی میں اسی ہزار مادے جمع ہیں اور تاج العروس سید مرتضی زبیدی کے مادہ ہائے الفاظ کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے۔مندرجہ بالا تعداد صرف مادہ ہائے الفاظ کی ہے جبکہ ان میں سے ہر ایک مادہ سے درجنوں مشتقات نکلتے ہیں ۔یعنی اگر مشتق الفاظ کو شامل کر لیا جائے تو ان کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے ۔عربی زبان میں ایک ایک چیز کے لیے درجنوں الفاظ موجود ہیں مثلا دن کے ہر گھنٹے کے لیے عربی میں جداگانہ نام ہے ،اسی طرح ہر چاندنی رات کا ایک خاص نام ہے ۔صرف پانی کے لیے 170الفاظ ،بارش کے لیے64اور ابر کے لیے 50الفاظ ہیں ۔قران کی زبان عربی دنیا کی تیسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے ۔اس سے پہلے کی قدیم زبانیں قصہ پارینہ بن چکی ہیں مثلا آریہ کی الہامی زبان سنسکرت ،یہودیوں کی مقدس زبان عبرانی ،عیسائیوں کی لاطینی زبان ،مجوسیوں کی ژندی زبان ،فراعنہ مصر کی قبطی زبان اور بابل و شام کی آشوری اور سریانی اور ہومر کی یونانی وغیرہ۔یہ شرف عربی ہی کو حاصل ہے کہ آج بھی اس آفتاب لا زوال کی تابندہ شعاعیں عالم پر محیط ہیں ۔عربی زبان زندہ ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ زندہ رہے گی۔

اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔قران اگرچہ 1400سال پہلے نازل ہوا لیکن اس کی حقانیت رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گی اور جب جب اس کا جائزہ لیا جائے گا یہ اس دور کے عین مطابق ثابت ہوگا ۔ قران متعدد تاریخی واقعات کا حوالہ دیتا ہے جو اس وقت کسی کے علم میں نہیں تھے۔لیکن وہ درست ثابت ہوئے۔ اس طرح قران کریم متعدد پیش گوئیاں بھی کرتا ہے اور یہ تمام پیش گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔اسی طرح بہت سے ایسے سائنسی حقائق کا ذکر بھی قران میں موجود ہے جو اس وقت لوگوں کے علم میں ہی نہیں تھے۔لیکن آج سائنس داں اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ہماری اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ قران کوئی سائنسی کتاب ہے لیکن اس کے باوجود اس میں کم از کم 1000ایسی مثالیں موجود ہیں جن کا براہ راست سائنس سے تعلق بنتا ہے۔ اگر ہم صرف ماحول کے حوالے سے ہی دیکھیں تو تحفظ ماحول اور ہر قدرتی وسیلے سے متعلق تفصیلی تذکرہ موجود ہے ۔ پانی ،اس کی اقسام ،پانی کے ذخائر کی تفصیل مثلا دریا ،سمندر ،جھیلیں،چشمے ،پانی کی صفائی و پاکیزگی،استعمال کے آداب وغیرہ۔ حیاتیاتی تنوع اور اس کی اہمیت ،درختوں کی اہمیت ،شجر کاری کے فوائد، نباتات پر اثر انداز عوامل ،پودوں کی اقسام بلحاظ ساخت،نباتات اور انسانی ساخت۔ زمین کی اہمیت اس کی حفاظت، سیاحت،پہاڑ، فضا اوراس کی اہمیت۔غرض یہ کہ ہرشعبے پر آپ کومطلوبہ تفصیل مل جائے گی۔ طوالت کے خوف سے ہم صرف ایک قدرتی وسیلے یعنی پانی کوموضوع بحث بنا رہے ہیں البتہ اس حوالے سے ہماری تحقیق جاری ہے جو ہم وقتا فوقتا آپ کے لیے پیش کرتے رہیں گے۔

آج یہ بات سب جانتے ہیں کہ پانی زندگی کے لیے لازم و ملزوم ہے، پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ دریا، سمندر اور جھیلوں کے کنارے ہی انسانی تہذیب پھلتی پھولتی اور نشوونما پاکر ترقی یافتہ معاشروں میں ڈھلتی رہی ہے۔حیات کی کسی بھی اکائی کا پانی کے بغیر تصور ممکن نہیں۔سائنس داں آج بھی دوسرے سیاروں پر کمند ڈالتے ہوئے سب سے پہلے پانی ہی کا امکان ڈھونڈتے ہیں۔ پانی کی اسی اہمیت کو قران ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی واضح کرچکا ہے۔دیکھیے سورہ الانبیاکی آیت نمبر 30 اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی اور سورہ نور میں ارشاد ہے  اور اللہ نے ہر جان دار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیے۔

 قران کی اس بات سے آج کے سائنس داںسو فیصد متفق ہیں۔

 Bernard Palac نامی سائنس داں نے 1580 میں water cycle یعنی آبی چکر بیان کیا تھا۔ لیکن اس انکشاف سے ایک ہزار سال پہلے قران نے متعدد مقامات پر آبی چکر کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔قران بتاتا ہے کہ پانی سمندروں کی سطح سے بخارات بن کر اٹھتا ہے ۔بادلوں میں تبدیل ہوتا ہے ،بادل بلآخر کثیف بن جاتے ہیں ،ان میں بجلیاں چمکتی ہیں اور ان سے بارش ہوتی ہے۔

سورہ مومنون میں ارشاد ہوتا ہے:

اورآسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرا دیا ، ہم اسے جس طرح چاہے غائب کرسکتے ہیں۔ المومنون  18

سورہ روم میں وضاحت ہے:

اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں ، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے ۔پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں۔یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے برساتا ہے تو وہ یکایک خوش و خرم ہوجاتے ہیں۔الروم 78

اور دیکھیے:

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا پھر اس پانی سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں۔ ( سورہ الزمر 21 (

اپنی ایک یگانہ روز گار کتاب حیاتیاتی چیزوں کی انفرادیت میں معروف سائنس داں(بائیو کیمسٹ) پروفیسر نیڈہم نے لکھا ہے کہ زندگی کے وجود کے لیے سیال چیزیں بے حد ضروری ہیں کیونکہ ٹھوس چیزوں میں ایٹمی ذرے بہت قریب ہوتے ہیں۔اوروہ کبھی بھی حرکی قوت ،قوت عمل رکھنے والے سالماتی عمل اور رد عمل کی اجازت نہ دیتے جس کی زندہ رہنے والے ہر فرد کو عمل کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کی تحریک کے لیے فعال ہونا بے حد ضروری ہے۔آسان لفظوں میں یہ کہ زندگی کی فعالیت کے لیے سیالی ماحول بے حد ضروری ہے اور پانی اللہ تعالی کی تخلیق میں بے حد خوبصورت اور کار آمد چیزہے۔ پانی کے خواص کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ ہر دور میں سائنس دانوں کے لیے حیران کن رہی ہیں۔تمام موجودات میں جیسے جیسے ان کا درجہ حرارت نیچے آتا ہے سکڑتی چلی جاتی ہیں  حجم میں کمی کا مطلب ہے کہ چیزوں کی کثافت بڑھ جاتی ہے  ۔اس کے برعکس پانی سکڑتا ہے اور جب اس کا درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے تو اس حد تک پہنچنے کے بعد پانی پھیلتا ہے اور حجم میں بڑھتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ٹھوس حالت میں پانی کا حجم کم ہوتا ہے بہ نسبت مائع حالت کے۔اگراس کو دیکھا جائے تو اپنی منجمد حالت میں برف کو پانی میں ڈوبنا چاہیے مگر ہوتا اس کے برعکس ہے۔

اللہ تعالی کی حکمت دیکھیے کہ پانی کی یہ خصوصیت سمندروں کے لیے بے حد اہم ہے۔اگر پانی میں یہ صفت نہ ہوتی تو زمین پر پانی منجمد ہوجاتا اور جھیلوں ، سمندروں میں زندگی ممکن نہ ہوتی۔اگر اس حقیقت کو ہم تفصیل سے ملاحظہ کریں تو دنیا کے کئی خطوں میں موسم سرما میں جبکہ درجہ حرارت منفی سے بھی نیچے آجاتا ہے اور یہ حالت جھیلوں اور سمندروں پر بھی یکساں اثر انداز ہوتی ہے اور ان جگہوں کا بھی درجہ حرارت گر جاتا ہے۔پانی کی ٹھنڈی تہہ نیچے بیٹھ جاتی ہے اور گرم تہہ اوپر آجاتی ہے۔جہاں وہ بھی ہواؤں سے ٹھنڈی ہوجاتی اور دوبارہ نیچے بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے لیکن 4 ڈگری سینٹی گریڈ پر یہ سائیکل ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ یہاں پانی دوبارہ پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔جس کے سبب وہ پھر ہلکا ہوجا تا ہے اور نچلی تہہ میں چلا جاتا ہے۔اور جب مزید کم ہوکر درجہ حرارت تین یا چار ڈگری سینٹی گریڈ پر یا جب پانی کی سطح پر جب درجہ حرارت زیرو ہوجاتا ہے تو پانی جم جاتا ہے۔لیکن صرف سطح پر اور پانی کا چار ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت نیچے مچھلیوں اور دوسری سمندری حیات کے لیے حیات کا ضامن ہوتا ہے۔اگر پانی کی یہ خصوصیات نہ ہوتیں اور یہ ویسا ہی ہوتا جیسا کہ عام حالت میں ہوتا ہے یعنی اس کی کثافت بڑھتی تو برف کی شکل میں نیچے بیٹھ جاتا ۔اس پس منظر میں سمندر جھیلیں نیچے سے اوپر کی سطح تک سب منجمد ہوجاتیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ۔کیونکہ پانی کی سطح پر برف کا جو غلاف ہوتا ہے وہی نہ ہوتا جو اوپر کی تہہ کو نچلی تہہ سے جدا کرتا ہے۔یعنی سمندر کی سطح پر ہلکی سی برف کی تہہ کبھی نہ جمتی اور پھر ہوتا یہ کہ سمندروں ،جھیلوں،دریاؤں کی نچلی سطح پر چند میٹر پانی کی سطح ہوتی اور ہوا کا درجہ حرارت دوبارہ گرم ہونے کے باوجود سمندروں میں زندگی بحال نہیں کی جاسکتی اور ایسے ایکو سسٹم میں سمندر مردہ ہوتے اور نہ ہی زمین پر زندگی کے آثار پائے جاسکتے ۔پانی کی اس خاصیت کے لیے ہمیں اللہ تعالی کا حد درجہ شکر گذار ہونا چاہیے جس کے سبب سرد و گرم موسم میں پانی کا درجہ حرارت قائم رہتا ہے اوراس کے سبب ہی زندگی کی رنگا رنگی قائم ودائم ہے۔

پانی کا سطحی دباؤ بھی حیران کن ہے اور اس کا واضح اثر پودوں کی زندگی پر پڑتا ہے ۔کسی پمپ کے بغیر پانی کئی میٹر اونچے درختوں کی شاخوں اور چھوٹے چھوٹے شگوفوں تک پہنچ جاتا ہے۔لیکن اگر سطحی دباؤ ذرا بھی کم ہوتا تو یہ سارا عمل نا ممکن ہوجاتا۔

 اپنی فزیکل یا مادی خصوصیت کے علاوہ پانی بے حد عمدہ محلل ہے جس کے نتیجے میں ایک وسیع تعداد مفید کیمیائی اجزا کی دریاؤں سے پانی کے ساتھ بہتی ہوئی سمندر تک پہنچتی ہے ۔ اس سے سمندر کے کنارے ایک بہت منفرد ماحولیاتی نظام( ایکو سسٹم ) جنم لیتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلٹا کی لاکھوں ایکڑ زمین زرخیز ہوجاتی ہے۔تمام انسانوں اور حیوانوں کے لیے پانی کے سالماتی کشش (چپچپاہٹ) بہت ضروری ہے ۔کیونکہ اگر یہ ذرا بھی کم ہوتی تو دوران خون کا نظام اتنی کامیابی اور اکملیت کے ساتھ جاری و ساری نہیں رہ پاتا۔اور اگر پانی میں تھوڑا سا بھی گاڑھا پن بڑھ جاتا تو دنیا کا کوئی بھی قلب خون کو پمپ نہیں کرسکتا۔اسی طرح ہمارے جسم میں آکسیجن کے جذب ہونے کی صلاحیت صرف اس لیے ہے کہ پانی میں یہ خصوصیت موجود ہے ۔جب ہم سانس لیتے ہیں تو آکسیجن ہمارے پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے جو براہ راست فورا خون میں داخل ہوجاتی ۔ہمارے خون میں جو ہیمو گلوبن موجود ہوتی وہ آکسیجن کے لیے ٹرانسپورٹ کا کام کرتی ہے اور آکسیجن خلیات تک پہنچ جاتی ہے۔


غرض یہ کہ کائنات کا صرف ایک جز پانی ہی اللہ تعلی کا تخلیق کردہ سب سے بڑا معجزہ ہے اور دیکھنے والوں کے لیے اس میں کھلی نشانیاں موجود ہیں۔

Thursday, May 15, 2008

حلقہ فکر سے میدان عمل تک ۔۔۔ راہ دشوار سہی مگر نا ممکن نہیں

اپنے لیے ہم بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

 گرمیوں کی ڈھلتی سہہ پہر تھی ،دھوپ کی تمازت ختم ہوچکی تھی اورہوا میں ٹھنڈک گھل رہی تھی، میں ایک صاف ستھری گلی میں کھڑی چاروں جانب دیکھ رہی تھی۔میرے ساتھ جنگ میگزین کے ایڈیٹر اور انگریزی روزنامے سے وابستہ ایک خاتون بھی تھیں۔ہم اس تبدیلی کا خاموشی سے جائزہ لے رہے تھے جس نے بجا طور پر اس علاقے میں ایک خاموش انقلاب برپا کردیا تھا ۔یہ ایشیا کی سب سے بڑی ” کچی آبادی “ اورنگی ٹاؤن تھا۔اس صاف ستھرے علاقے کو اب کچی آبادی کہنا یقینا زیادتی تھا۔کیونکہ ہمارے لیے کچی آبادی کا تصور کچھ اور تھا۔اورنگی ٹاؤن کی تقریبا14لاکھ آبادی اپنے گھروں میں آسودگی سے زندگی گذار رہی ہے۔اسے جینے کا قرینہ آگیا ہے ۔ صاف ستھرے محلے ، پختہ گلیاں، ڈھکے ہوئے گٹر ایک صاف ستھری آبادی نکھر کر سامنے تھی جو ”پوش علاقوں“ سے بھی زیادہ چمک دمک رہی تھی۔بلاشبہ اس خاموش انقلاب کے بانی معروف سماجی سائنس داں مرحوم ڈاکٹر اختر حمید خاں تھے،اورنگی کا جائزہ لیتے ہوئے انہی کا ایک شعر مجھے یاد آگیا ۔شاید اسی علاقے کے لیے انہوں نے کہا ہوگا

ہزار شہر بسائے ہیں بادشاہوں نے
اب ایک شہر فقیروں کو بھی بسانے دو

  وقت کے ساتھ ساتھ یقینا تہذیبی ،تمدنی ، معاشرتی ،سماجی اور علمی قدروں میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ۔فکر ونظر کو نئے زاویے اور ارتقائی رویے اختیار کرنے پڑتے ہیں ۔زندگی اور اس کے مسائل کو سمجھنے ، پرکھنے اور بیان کرنے کی نئی راہیں کھلتی ہیں ۔دنیا بھر میں سماجی بہبود اب ایک باقاعدہ سائنس کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے ۔ اقوام متحدہ نے 1959 میں دانشوروں کی ایک جماعت کو قومی معاشرتی بہبود کے پروگراموں کی ترقی کے موضوع پر ایک رپورٹ مرتب کرنے کے لیے کہا تھا،اس جماعت نے یہ سفارش کی تھی کہ ہر حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کے مضر اثرات سے نمٹنے کے لیے انسانی فلاح و بہبود کے منصوبے بنائے ۔خود قران کریم نے بھی بار بار اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ حاکم کو رعایا کی فلاح کے لیے کوشاں رہنا چاہیے ۔خلافت راشدہ میں اس کی عملی مثالیں موجود ہیں۔
  آج دنیا بھر میں حکومت کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر فرد اور ادارے بھی تبدیلیوں کے نقیب بن رہے ہیں۔ سماجی خدمات کے حوالے سے اگرچہ ہمارے ہاں بھی بہت کام ہورہا ہے ۔حکومت کا ہاتھ بٹاتے بے شمار ادارے ہیں جو ہر شعبے میں فعال ہیں ، تبدیلی کا عمل اگرچہ بہت نمایاں نہیں ہے لیکن جاری و ساری ہے۔لیکن شاید ہم روایت پرستوں کو تبدیلیوں کو ماننے اور اسے کھلے دل سے تسلیم کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔یہی وجہ ہے کہ ابھی تک سماجی خدمات کوہمارے معاشرے میں وہ مقام نہیں مل سکا ہے جس کی وہ حق دار ہے ۔حکومت کو تمام کاموں کا ذمے دارسمجھنے کا تصور ہمارے ہاں عام ہے ۔



  کراچی ہی کی مثال دیکھ لیجیے ،یہ پاکستان کا سب سے بڑا شہرہے جس کی حالیہ آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے اورشرح آبادی یہی رہی تو امید ہے کہ 2020 تک تین کروڑ ڈھائی لاکھ تک پہنچ جائے گی ۔ ۔بے پناہ آبادی کا بوجھ برداشت کرتا یہ شہر بنیادی سہولیات سے محروم اور مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔صاف پانی کی کمی اورصفائی کا ناقص نظام شہریوں کی صحت کے لیے بگاڑ اور پھر علاج کی مد میں ہونے والے اخراجات شہریوں کے لیے ایک اضافی بوجھ بن گئے ہیں۔سیوریج کا ناقص نظام شہریوں کے لیے ایک ناقابل برداشت مسئلہ بنتا جارہا ہے۔

  شہر کے بیشتر حصوں میں نکاس کا نظام تیس سے چالیس سال پرانا ہوچکا ہے اور اپنی متعینہ مدت پوری کرچکا ہے۔یہ نظام نہایت خستہ حال ، زنگ آلود اور پرانا ہوچکا ہے۔اس لیے پائپ اور مین ہول جگہ جگہ سے تڑخ جاتے ہیں اور ان کے بیٹھ جانے سے گندا پانی رسنے لگتا ہے۔شہر کے16 ڈویژنوں میں سے14میں یہ مسائل آئے دن پیش آتے ہیں۔5 یا 8 ڈویژنوں میں یہ مسئلہ ہر مہینے پیش آتا ہے جس کے باعث اخراج کا رخ قدرتی نالوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔

  مین لائنیں بہت گہرائی میں یعنی 15سے25 فٹ نیچے واقع ہیں چنانچہ ان کی صفائی بحرانی حالات میں کی جانے والی مرمت کے سوا کبھی ممکن نہیں ہوتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پائپوں کی خستگی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے لائنوں کا سائز ضرورت سے بہت کم ہے ۔مین لائنوں اور سیکنڈری لائنوں کی سطحوں میں فرق ہے کیونکہ مناسب لیول کا خیال نہیں رکھا گیا تھا۔اس لیے یہ نظام گلیوں کی نالیوں سے مکمل طور پر جوڑا نہیں جاسکتا۔اور جہاں کہیں انہیں جوڑا گیا ہے اوور فلو کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔نتیجتاً ٹرنک لائن کچرے سے اٹ جاتی ہے۔کے ڈبلیو ایس بی کی ایک رپورٹ کے مطابق عملے کے بیشتر انجینئر لیولنگ مشین استعمال کرنے سے نابلد ہیں۔یہ صلاحیت نکاس کے پائپ زمین میں بچھانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ لہذا مین لائنیں اور سیکنڈری لائنیں پہلے سے موجود باقی نظام سے منسلک نہیں ہوپاتی ہیں ۔بعض جگہوں پرلائنوں کے اوپر تجاوزات قائم ہوگئی ہیں جس کے باعث ان کی دیکھ بھال اور مرمت کرنا ممکن نہیں رہا۔

  مندرجہ بالا صورت حال کے نتیجے میں گندے پانی کے اخراج کے لیے زیادہ تر قدرتی نالوں کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن ان نالوں کو اخراج کے ذریعے کے طور پر تسلیم نہ کرنے سے یہ سارا نظام بہتری سے بہت دور ہوجاتا ہے۔

  اس ساری صورت حال پر او پی پی کی روح رواں اور اپنے شعبے کی ماہر پر وین رحمان تفصیل سے روشنی ڈالتی ہیں ” اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ قدرتی نالے ہی سیوریج کی نکاسی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ان قدرتی نالوں کو مین ڈسپوزل کے طور پر تعمیر کیا جائے، یعنی صفائی کرکے باکس سیور بنائے جائیں۔جس جگہ نالے سمندر میں گرتے ہیں وہاں ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیے جائیں۔ یہاں یہ غلط فہمی دور کرنا بھی ضروری ہے کہ ڈرینیج اور سیوریج دو علیحدہ علیحدہ سسٹم ہیں۔ ڈرینیج لائن یا اسٹورم واٹر ڈرین کھلے ہوئے نالوں کو کہا جاتا ہے جو صرف برساتی پانی کی نکاسی کے لیے سڑکوں کے کنارے یا بیچ میں بنائے جاتے ہیں اور سیوریج لائن گندے پانی کی نکاسی کے لیے زمین کے نیچے بچھائی جاتی ہے۔ یہ دونوں الگ الگ سسٹم ہیں لیکن کراچی کے نظام میں یہ دونوں جس طرح خلط ملط ہو چکے ہیں اس پر کسی کو حیرانی نہیں ہو گی۔ہمارے اداروں کی شاندار کارکردگی کے باعث کہیں برساتی پانی کی نکاسی کا کام سیوریج لائن سے لیا جا رہا ہے اور کہیں گندے پانی کی نکاسی کھلے نالوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔

  پروین کا کہنا ہے کہ”جب تک ان برساتی ندی نالوں کو اہمیت نہیں دی جائے گی مسئلے کی نشان دہی نہیں ہو سکے گی۔ اس مسئلے کا گہرائی اور انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ ان تمام ندی نالوں کو نقشے میں اجاگر کیا جائے اور پھر باقاعدہ ایک پروگرام کے تحت ان کو ترقی دی جائے۔

  ناجائز تجاوزات کے حوالے سے پروین کا کہنا ہے کہ ”اس ضمن میں کوئی رو رعایت نہ برتی جائے۔ کوئی بھی بلڈنگ، بنگلہ یا عمارت کسی بھی نالے پر قائم ہو اور وہ پانی کی نکاسی میں رکاوٹ بن رہی تو اسے ڈھا دیا جائے۔ اس کے علاوہ لیاری اور ملیر ندی جو کراچی کے برساتی پانی کی قدرتی نکاسی کا ذریعہ ہیں یہاں سے بھی ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کر کے دونوں اطراف COVER DRAIN بنا دیے جائیں جو شہر کا سیوریج لے جائیں جبکہ درمیان میں برسات کے پانی کے لیے جگہ چھوڑ دی جائے۔ مثلاً ملیر ندی کی اصل چوڑائی 200 سے 300 فٹ ہے۔ اگر سیوریج کے لیے باکس ٹرنک 50 فٹ چوڑے بنائے جاتے ہیں تب بھی 250 فٹ زمین موجود ہو گی۔ لیکن خیال رہے کہ یہ سیوریج کے باکس ٹرنک ڈھکے ہوئے ہونا چاہئیں تاکہ صحت اور صفائی کے مسائل بھی ساتھ ہی حل ہوتے جائیں۔

کیا اپنی مدد آپ کے تحت نکاسی آب کے نظام میں بہتری آسکتی ہے اور کیا او رنگی کی طرح دیگر علاقوں میں بھی لوگ کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں؟ "کیوں نہیں" پروین کا جواب تھا ہم پچھلی تین دہائیوں سے اورنگی میں ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں۔ اورنگی کی حالیہ آبادی تقریبا 16لاکھ ہے۔ ہمارے ادارے او پی پی کے کام کا بنیادی تصور کمیونٹی کی تنظیم اور افراد کی انتظامی صلاحیتوں اور اجتماعی کوششوں کے فروغ کے لیے ہر قسم کی سوشل اور تکنیکی امداد پیش کرنا ہے۔

  اورنگی پائلیٹ پروجیکٹ (اوپی پی) کے خالق ڈاکٹر اختر حمید خان تھے۔ ڈاکٹر صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جو انسانی تاریخ کی سب سے ہنگامہ خیز اور ہر لحظہ ایک نئی صورت حال سے لبریز بیسویں صدی کے منظر نامے پر ابھری اور ”عوامی ترقی ، عوام کے لیے ، عوام کے ذریعے“ کے فلسفے کا عملی نمونہ پیش کرکے دنیا کے اسٹیج پر ایک دیرپا تاثر چھوڑ کر آسودہ خاک ہوگئی۔جنوبی ایشیا میں عوامی ترقی کے کارکنوں، حامیوں اور علمبرداروں کے لیے ان کا نظریاتی اور عملی کام آج اور آنے والے وقتوں میں مشعل راہ ثابت ہوگا۔ان کی نظریاتی اساس کی بنیاد اگرچہ مسلمان فاتحین کے کارناموں کی داستانوں اور صوفیانہ اقدار کے باہمی تعامل سے تشکیل پائی تھی مگر اپنی ماہیت میں ایک کیمیائی مرکب کی طرح بالکل نئے خواص رکھتی تھی۔۔وہ نہ تو حصول طاقت کو تریاق کل سمجھتے تھے اور نہ ہی خانقاہی بے عملی کے پرچارک تھے بلکہ وہ عام لوگوں میں رہ کر ان کے مسائل کی جڑ تک پہنچنے اور پھر اس کی بیخ کنی کرنے کے قائل تھے۔ان کا ادارہ ان کے نظریات کا عملی ثبوت ہے۔

  اوپی پی نے کم لاگت کے سیوریج پروگرام کے ذریعے اورنگی جیسی کچی آبادی میں انقلاب برپا کردیا۔ اس پروگرام کے تحت کم آمدنی والے افراد کے لیے بھی اپنے گھروں میں جدید سینی ٹیشن کا نظام تعمیر کرنا ممکن ہوگیا۔ (جدید سینی ٹیشن سے مراد فلش لیٹرین اور گلی میں زیر زمین پائپ لائن ہے)  مسائل ہر مرحلے پر موجود ہوتے ہیں۔نہ ہی حکومت تن تنہا تمام مسائل حل کرسکتی ہے اور نہ ہی لوگ تمام مسائل کے حل کی استطاعت رکھتے ہیں ۔مثال کے طور پر سینی ٹیشن کے کام کے دو مراحل ہیں۔پہلا مرحلہ گلی کے اندر کا کام ہے جسے اندرونی ترقی کا نام دیا گیا ہے۔اس مرحلے پر کام کا انتظام اور مالی انتظام گلی کے افراد خود کرتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ وہ ہے جسے بیرونی ترقی کا نام دیا گیا ہے یعنی گلی کے باہر سیوریج کا نظام اور یہ بہرحال لوگوں کے اختیار میں نہیں ہوتا ہے یہ حکومت کی ذمے داری بن جاتا ہے۔اسی اصول کو اپناتے ہوئے او پی پی نے اپنا طریقہ کار وضع کیا ہے۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ اندرونی ترقی یعنی گھروں میں فلش لیٹرین کی تعمیر سے گلی میں پائپ لائن بچھانے تک ان کاموں کے لیے نہ تو حکومت کو زحمت دی گئی اور نہ ہی کہیں سے فنڈز اکھٹے کیے گئے ، لوگوں نے تمام لاگت خود برداشت کی اور کام بھی خود انجام دیا۔ اوپی پی کے مطابق اورنگی کی 6,775 گلیوں میں 1,00244 گھروں نے گھر کے اندر پختہ لیٹرین اور گلیاں تعمیر کی ہیں۔اس سارے کام پر مقامی افراد نے اپنے وسائل سے 1.68ملین ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ اندازہ ہے کہ اگر یہ سارا کام حکومت کرتی تو کم از کم تخمینہ 10 ملین ڈالر تک پہنچ جاتا۔

 اوپی پی کے کام کو وہاں کے لوگ کس طرح دیکھتے ہیں ،محمد سعید صاحب آفریدی کالونی اورنگی کے رہائشی ہیں ان کا کہنا تھا کہ گٹر لائن کے مسئلے پر ہم نے او پی پی سے رجوع کیا ،اوپی پی نے ہم سے تعاون کیا جس سے ہمارا مسئلہ حل ہوگیا، فی گھر گٹر لائن ڈالنے پر 400 روپیہ خرچ آیا (یہ ذکر1996کا ہے) ۔لوگ کس طرح راضی ہوئے؟ سعید صاحب کا جواب تھا ” لوگ تو آسانی سے راضی ہوگئے کیونکہ وہ خود اس گندگی اور آئے دن کی بیماریوں سے پریشان تھے لہذا انہوں نے فوری طور پر پیسے ادا کیے۔اس طرح ایک گلی میں ہونے والے کام کو دیکھ کر دوسری گلی کے لوگوں کو بھی یقین آتا گیا اور پھر ۔۔۔۔ لوگ ساتھ آتے گئے اور کاررواں بنتا گیا۔

 اوپی پی کے ساتھ لوگوں کے کام اور اپنی مدد آپ کے جذبے نے یقینا حکومت کو بھی متاثر کیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت اورنگی کے 80%ندی نالے شہری حکومت کے تحت تعمیر کیے جاچکے ہیں اور وہ بھی صرف 5سالوں میں۔اس کے ساتھ ساتھ بلدیہ ٹاؤن، کورنگی میں چکرا گوٹھ کے علاقوں میں بھی اوپی پی اور شہری حکومت مل جل کر کام کررہی ہیں۔اپنی مدد آپ کے تحت کیے جانے والے کاموں میں ایک اور بہت اچھی بات یہ نظر آئی کہ تمام تر منصوبوں یعنی کاغذ پر منصوبہ بندی سے عمل درآمد تک تمام مراحل میں ان غریب افراد ہی کا فائدہ نظر آتا ہے مثلا عام طور پر حکومتوں کے زیر نگرانی جب کوئی منصوبہ تیار ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس جگہ سے غریبوں کی بے دخلی ہی عمل میں آتی ہے یعنی وہ بے چارے سر چھپانے کے آسرے ہی محروم ہوجاتے ہیں۔ لیکن اوپی پی کے طریقہ کار میں ایسا کچھ نہیں ہوتا اور منصوبہ بندی کے عمل میں سب سے پہلے مقامی آبادی کا تحفط پیش نظر ہوتا ہے۔کراچی میں سیوریج اور سینی ٹیشن کے ذمے دار ادارے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی پچھلے چند سالوں سے او پی پی کے مجوزہ نقشے پر ہی کا م کر رہا ہے اور اس منصوبے پر کام کرنے والے ماہرین بھی اپنے ہیں اور کسی غیر ملکی ادارے سے قرض لینے کے بجائے پیسہ بھی وفاقی حکومت نے فراہم کیا ہے۔ یہ مقامی افراد ، اداروں اور حکومت کے اشتراک کی بہترین مثال ہے۔

اوپی پی کے کام کو بیرون ملک بھی سراہا گیا ہے اور بے شمار انعامات اور اعزازات دیے گئے ۔اوپی پی کے کام کے نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے نہ صرف اندرون ملک بلکہ کئی دیگر ممالک بھی رو بہ عمل ہیں۔کیا یہ نتائج ہمیں یہ قائل کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں کہ ایک فرد بھی اپنی سطح پر بہت کچھ کرسکتا ہے اور16کروڑ افراد تو یقینا انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اب وقت کا تقاضا بھی یہی ہے۔

یہ بھی آرائش ہستی کا تقاضا تھا کہ ہم

          حلقہ فکر سے میدان عمل میں آئے

Thursday, May 1, 2008

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

غذائی بحران دنیا کے لیے ایک نیا خطرہ

 سنگین غذائی بحران دنیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔اس کا ثبوت عالمی بینک کا تازہ بیان ہے کہ اشیائے خورو نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دس کروڑ غریب افراد کو مزید غربت کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہیں۔ یہ بیان بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی اس تنبیہہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو لاکھوں لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوں گے۔ اور یہی نہیں بلکہ معاشرتی بے چینی بڑے تنازعات  (غالبا کوئی انقلاب وغیرہ) کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

 اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم ایف اے او نے بھی خبردار کیا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی ترقی پذیر ملکوں میں لاکھوں انسانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔ تنظیم کاکہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے جو بہت سے ملکوں کی برداشت سے با ہر ہے اور اگر کسانوں کو فوری طور پر مدد نہیں ملے گی تو بہت سے ملک غذائی بحران کا سامنا نہ کرسکیں گے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ غذائی بحران کی اہم وجہ37ممالک میں لڑائی ، بدلتی آب و ہوا اوروسیع پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں۔جس کے تحت پچھلے چند سالوں میں ترقی پذیر ممالک پر خشک سالی اور سیلابوں نے حملے کیے ہیں ۔ تیل کا بڑھتا ہوا بھاؤ اور ساتھ میں اناج سے بننے والے بناسپتی ایندھن کی مانگ بڑھی ہے جس کی وجہ سے یہ بحران اور بھی شدید ہوگیا ہے ۔

 مقام فکر ہے کہ عالمی بینک سے متعلقہ کئی ایجنسیوں کی حالیہ جاری کردہ ایک رپورٹ میں پاکستان بھی ان چھتیس ممالک میں شامل ہے جہاں خوراک کے شدید بحران کا خطرہ موجود ہے۔

 پاکستان میں اس حوالے سے اناج کی قلت ، بڑھتی ہوئی قیمتیں اور غریبوں کی خود کشیاں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ہمارے ہاں یہ بحران کس درجے کا ہے اور ہوسکتا ہے ۔ پچھلی حکومت کے پہلے یہ اعلانات کہ گندم بہت زیادہ ہے برآمد کی جاسکتی ہے اور پھر اس قدر کمی کہ لوگوں کو واقعی روٹیوں کے لالے پڑ گئے ، پھر گندم کی مہنگے داموں درآمد  یقینا یہ جادوئی کرتب ہماری حکومتیں ہی کرسکتی ہیں ۔زرعی ملک کی یہ زبوں حالی کہ لوگ دانے دانے کو محتاج ہوچلے ہیں۔عام طور پر قحط کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ کھانے کو کچھ نہ ملے لیکن آج کا بحران انوکھی نوعیت کا ہے کہ لوگوں کو کھانے کو روٹی تو ملے لیکن اس کی قیمت ان کی قوت خرید سے زیادہ ہو۔




 اس سال اناج کی مہنگائی نئے ریکارڈ پر پہنچ گئی ہے جس نے ہر طرح کی غذائی اشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آج متوسط طبقے کے لوگوں نے خوراک کے لیے اپنے علاج معالجے کو پس پشت ڈالنا شروع کردیا ہے ۔  پاکستان میں یہ نظارے عام ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 2 ڈالر یومیہ کی آمدنی والے افراد نے اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھانا شروع کر دیا ہے۔سبزیاں کھانا کم کردی ہیں اور خوراک میں چاول کا استعمال بڑھادیا ہے۔1ڈالر یومیہ آمدنی والے افراد نے سبزیاں اور گوشت کھانا چھوڑ دیا ہے اور دن میں ایک وقت کا کھانا کم کردیا ہے۔لیکن جن لوگوں کی یومیہ آمدنی نصف ڈالر سے کم ہے ان کے لیے حالات انتہائی سنگین ہوگئے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب افراد ایسے ہیں جن کی یومیہ آمدنی ایک ڈالر یومیہ سے کم ہے۔اس حوالے سے ہمارے ملک کے کروڑوں شہری اس فہرست میں شامل ہوں گے۔

 حالیہ مہینوں میں خوراک کی قیمتوں میں کم از کم 40% اضافہ ہوا ہے۔جبکہ کئی ممالک میں قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔تاہم خوراک کی قلت میں آئندہ دنوں میں اس سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے جب ایشیا میں مون سون کا موسم شروع ہو گا ۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گذشتہ کئی برسوں سے مون سون کے چکر میں تبدیلی آگئی ہے جس کی وجہ سے خطے کے کئی ممالک کی زراعت متاثر ہوئی ہے۔خصوصا ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں اناج کی پیداوار میں بیس فیصد کمی واقع ہوئی اور جس کی وجہ سے بھارتی ذخیروں میں 30 ملین میٹرک ٹن کی کمی واقع ہوئی۔اس سے پہلے 2002 میں جب بھارت کی فصل خراب ہوئی تھی تو اس وقت ملک میں اناج کے وافر ذخائر موجود تھے لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔

 اناج کی قلت کے اس طوفان میں صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ فلپائن اور بنگلہ دیش بھی موجود ہیں۔ویتنام میں فصلوںمیں بیماری پھیل سکتی ہے ۔چین کے دریائے یانگڑ میں 1990کی دہائی جیسا طوفان آگیا تو دنیا کے اناج کے ذخائر پر دباؤ اور بڑھ جائے گا۔
 عالمی بینک ، اقوام متحدہ کے بیشتر اداروں اور 60 ممالک نے علاقائی سطح پر خوراک کی قلت ، قیمتوں میں اضافے اور ماحولیاتی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کھیتی باڑی کے طریقوں میں تبدیلی کی حمایت کی ہے لیکن امریکا ،برطانیہ ،آسٹریلیا اور کنیڈا نے ابھی تک اس ضمن میں پیش کی جانے والی رپورٹ انٹر نیشنل اسسمنٹ اف ایگری کلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے امیر ممالک سے کہا ہے کہ وہ دنیا میں خوراک کی بڑھتی قلت اور قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر500ملین ڈالر کی امداد دیں واضح رہے کہ چند ممالک میں اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں 80% تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ 33ممالک میں اس کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کا خطرہ موجود ہے۔ 2500 صفحات کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں پیداوار زیادہ ہونے کے باوجود لوگ بھوکے رہ جاتے ہیں ، بڑھتی ہوئی آبادی اور آمدنیوں میں اضافے کے باعث خوراک کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے خاص طور پر گوشت اور دودھ کی ڈیمانڈ بہت بڑھ گئی ہے ۔ بائیو فیول ٹیکنالوجی کے فروغ، خوراک کی غیر مساوی تقسیم، اور قدرتی وسائل پر قابو پانے کے لیے مستقبل میں ملکوں کے مابین تنازعات بھی ہو سکتے ہیں،جبکہ2050 تک دنیا کی آبادی 9.2 ارب ہو جانے کی توقع ہے جو اس وقت 6.7 ارب ہے۔

 یہ اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ ہے جس کی تیاری کے لیے حکومتوں ، غیر سرکاری تنظیموں اور امیر و غریب ممالک کی صنعتوں نے 400سائنس دانوں کے ساتھ مل کر مسلسل 4 سال تک کام کیا، اس رپورٹ میں خوراک کی پیداواراور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لے کر دنیا بھر میں اس کی تجارت تک پر بحث کی گئی ہے۔

 ہماری نئی حکومت جو ابھی بہت نئی ہے با آسانی یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا سکتی ہے کہ اسے یہ بد حالی ورثے میں ملی ہے اور یہ پچھلے آٹھ سالوں کی بد اعمالیاں ہیں جو پھل پھول رہی ہیں۔ اس کا یہ کہنا درست بھی ہوگا یقینا جمعہ جمعہ آٹھ دن کی حکومت سے آپ یہ توقع نہیں لگا سکتے کہ وہ چراغ کے الہ دین کی طرح پلک جھپکتے میں سب ٹھیک کردے۔لیکن اگر یہ جواز کسی سیاست داں کا ہے تو بالکل ٹھیک ہے لیکن اگر آپ سیاست داں کے بجائے خود کو قوم کا رہنما سمجھتے ہیں تو پھر یقینا یہ عذر لنگ ہے ۔ رہنما وہ ہوتا ہے جو اپنے عزم و حوصلے سے سب کچھ بدل سکتا ہے اور اسے اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی سچی دعائیں حاصل ہوتی ہیں ۔16کروڑ افرادی قوت اورایٹمی طاقت کا حامل یہ ملک وسائل سے بھی مالا مال ہے ۔کمی صرف عزم ، حوصلے اور اس نظر کی ہے جو بہت آگے تک دیکھتی ہے۔کیا ہم جنوبی کوریا سے بھی گئے گذرے ہیں کہ جب اسے پندرہ اگست 1945میں جاپانی چنگل سے نجات ملی تو اس وقت تک عالمی جنگ نے ملک کو ایک بڑے کھنڈرمیں تبدیل کردیا تھا، پھر پچاس سے تریپن تک کی جنگ کوریا نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، اس ملک کے پاس کوئی خاص معدنی دولت بھی نہیں تھی،بس ایک بہتر سا تعلیمی نظام تھا جس نے سیاسی اور فوجی آمریت کے لمبے سائے تلے بھی نہایت تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرلی ۔نتیجہ یہ ہے کہ جب کوریا ساٹھ سال کا ہوا تو وہ دنیا کی دس بڑی صنعتی قوتوں میں شامل تھا اوراس کی فی کس آمدنی اٹھارہ ہزار سالانہ سے زائد تھی۔

 انڈونیشیا کی مثال دیکھ لیجیے ،اگرچہ اس عرصے میں انڈونیشیا تیل سے مالا مال ہونے کے باوجود اتنی ترقی نہ کرسکا جتنی اس کے ہمسایوں نے کی لیکن پھر بھی جب اس نے آزادی کی ساٹھویں سالگرہ منائی تو ملک کم از کم جمہوریت کی راہ پر پوری طرح گامزن ہوچکا تھا۔
 سری لنکا ساٹھ برس کا ہوا تو تامل سنہالہ تنازعے نے ملک کی چولیں ہلادیں تھیں لیکن ان حالات میں بھی اس کی فی کس آمدنی بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں ستر فیصد سے زائد رہی اور جمہوریت بھی پٹڑی سے نہیں اتری، اور نوے فیصد تعلیمی خواندگی کے نتیجے میں سری لنکا کو جنوبی ایشیا کا سب سے پڑھا لکھا ملک ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

 چین کمیونسٹ انقلاب کے وقت بھارت سے بھی زیادہ پسماندہ تھا لیکن آج ساٹھ سال کی عمر میں چین دنیا کی سب سے بڑی صنعتی اور تیسری بڑی اقتصادی قوت ہے، جو ڈیڑھ ارب آبادی والے اس ملک کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

 ملائشیا ابھی صرف پچاس برس کا ہے، آزادی کے وقت ملائیشا کی شناخت صرف ٹن کی معدنیات اور پام آئل تھی اور اس کا شمار پاکستان سے بھی زیادہ غریب ملک میں ہوتا تھا لیکن پچاس برس بعد ملائیشا جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے۔
 جاپانی جسے ایٹم بم نے راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا اور جہاں اب بھی اس کیمائی آلودگی کے باعث معذور بچے پیدا ہوتے ہیں آج ترقی اور خوشحالی کے عروج پر کھڑا ہے۔ بین الاقوامی اداروں سے قرض لینے کے بجائے ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا۔ یہ بڑے بڑے قرضے ذلت اور غلامی کا وہ طوق ہیں جو کسی بھی قوم کو دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لائق نہیں چھوڑتے۔ قرض کا ہر ڈالر سوددر سود ہماری آئندہ نسلوں سے بھی وصول کی جائے گا۔ یہ قرضے وہ مکڑی کے جالے ہیں جس میں غریب ممالک مکھی کی طرح پھنس جاتے ہیں۔ افریقہ کا حال ہمارے سامنے ہے۔

 ایڈز کے ہر ایک سو میں سے ستر مریض افریقہ میں ہیں ۔ روزانہ چھ ہزار مریض مر رہے ہیں اور گیارہ ہزارنئے بن رہے ہیں۔بوٹسوانا اورزیمبیا جیسے ممالک کی چالیس فیصد آبادی اس مرض کی لپیٹ میں ہے جسے ملیریا کہتے ہیں جس کا علاج باقی دنیا میں دس سے بیس روپے میں ہوجاتا ہے اور اس ملیریا سے افریقہ میں ماہانہ ڈیڑھ لاکھ بچے مر رہے ہیں۔کسے فرصت کہ یہ معلوم کرتا پھرے کہ پچھلے چالیس برسوں میں نائیجیریا ، سیرالیون اور انگولا کے معدنی ذخائر خانہ جنگی کا منحوس طوق کیسے بن گئے،کانگو میں گذشتہ چھ برس میں کیسے خانہ جنگی اور امداد کی عدم فراہمی نے اڑتیس لاکھ افراد کو مار ڈالا۔اور اس وقت بھی روزانہ ایک ہزار افراد کیوں مر رہے ہیں۔ جبکہ اسی کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے سولہ ہزار سپاہی گھوم رہے ہیں اور دنیا کے کسی ایک علاقے میں یہ اقوام متحدہ کی سب سے بڑی فوج ہے۔سوڈان کا علاقہ دار فور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور میڈیا کی توجہ کا مسلسل مرکز ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ پچھلے چالیس برسوں کے دوران بیس افریقی ملک کس لیے خانہ جنگی کے خونی تجربے سے گذرے اور اس آگ سے کن کن ترقی یافتہ ممالک اور ان کی کمپنیوں نے اپنے اقتصادی ہاتھ تاپے۔  یہ بھی ایک رونے کا مقام ہے کہ جس برآعظم کا عالمی تجارت میں حصہ محض دو فیصد ہے اور امداد کے لیے ملنے والے ہر دو ڈالر میں سے ایک ڈالر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔اس بر اعظم پر تین سو بلین کا ڈالر کا قرضہ کس نے لادا۔ حالانکہ اس براعظم میں سالانہ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کرپشن اور بد انتظامی میں ضائع ہوجاتے ہیں۔یقین نہیں آتا کہ یہ وہی افریقہ ہے جہاں سب سے پہلے انسان نے اوزار بنائے اور آگ کا استعمال سیکھا۔ اور یہیں سے نسل انسانی باقی دنیا میں پھیلی۔

 اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جب اس نئے پاکستان کی باشعور عوام سیاست داں اور رہنما میں فرق جان جائے۔

 قافلے دلدلوں میں جاٹھہرے                  -------رہنما پھر بھی رہنما ٹھہرے-----

Tuesday, April 29, 2008

پانی کی بڑھتی ہوئی آلودگی اور صحت کے مسائل

پانی ذندگی کی ضمانت ہے۔۔۔۔یہ وہ حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اب یہ الفاظ اپنی معنویت کھو رہے ہیں ۔ پانی جو زندگی کے لیے آب حیات کی حیثیت رکھتا ہے اب کہیں کہیں یہ انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بھی بن رہا ہے۔

  یہ سچ ہے کہ زندگی کا تصورپانی کے بغیر ممکن نہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ دریا سمندر اور جھیلوں کے کنارے ہی انسانی تہذیب پھلتی پھولتی اور نشوونما پاکر ترقی یافتہ معاشروں میں ڈھلتی رہی ہے۔گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ اگرچہ سمندر اور دریا اپنے راستے بدلتے رہتے ہیں   لیکن یہ ایک جغرافیائی اور ارتقائی عمل ہوتا ہے جو قدرتی نظام کے تابع ہوتا ہے اور سیکڑوں اور ہزاروں سال میں مکمل ہوتا ہے۔ لیکن آج اگر پانی اپنا کام بدل رہا اور انسانی جاں کے زیاں کا سبب بن رہا ہے تو یہ کسی قدرتی عمل کا حصہ نہیں ہے بلکہ انسان کی اپنی پروائی کا شاخسانہ ہے۔


 زمین پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت موسموں کو بے ترتیب کر رہا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر پانی کے وسائل پر پڑ رہا ہے۔کرہ ارض پر پانی کے وسائل کم سے کم ہورہے ہیں اورآلودگی حد سے بڑھ رہی ہے۔ یہ آلودہ پانی انسانی جانوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہورہا ہے۔پانی کے وسائل پر کام کرنے والے ایک ادارے کراچی واٹر پارٹنر شپ کی تحقیق کے مطابق  دنیا بھر میں سالانہ 10 ملین سے زائد لوگ پانی کی بیماریوں سے مر رہے ہیں اورترقی پذیر ملکوں میں پھیلی ہوئی 37 مہلک بیماریوں میں سے 21 کا تعلق گندے پانی اور سیوریج کے ناقص نظام سے ہے۔

ہمارے ملک میں تو صورت حال اور دگرگوں ہے  یوں تو یہاںکسی قدرتی وسیلے کی کوئی قدر ہے اورنہ اسے بچانے کی فکر اور آبی ذخائر کے ساتھ تو ہمارا سلوک انتہائی  شاندار ہے ، ہم اپنے ان قیمتی ذخائر یعنی سمندر، دریاؤں ، جھیلوں اور چشموںکو بطور  گٹر استعمال کرتے ہیں اور تمام گھریلو ، صنعتی اور زرعی کوڑا کرکٹ ، سیوریج اور فضلہ ان ہی میں بہا دیتے ہیں۔ اب ان ذخائر کے پانی کا کیا حال ہوگا اس کی وضاحت کے لیے نہ کسی پیچیدہ اعدادو شمار کی ضرورت ہے اور نہ بھاری بھرکم سائنسی اصطلاحات کی۔ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ پانی انسانی جانوں کے لیے کسی  واٹر بم  کا کام انجام دیتا ہے۔

  حکومت کے بلند وبانگ دعووں سے ایک عام آدمی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اسے تو پیٹ بھر روٹی اور دو گھونٹ صاف پانی کے درکار ہیں جس سے وہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ سکے۔ دو گھونٹ صاف پانی جو پاکستان میں جنس نایاب بنتا جا رہا ہے لوگوں تک پہنچانا یہ وہ کم از کم ذمے داری ہے جو حکومتوں پر عائد کی جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت کی ترجیحات کیا ہیں؟ ۔۔۔اس حوالے سے کچھ نہ کہنا ہی بہتر ہے۔
 پاکستان کے شہری کس قدر آلودہ پانی پیتے ہیں اس کا اندازہ درج ذیل رپورٹوں سے باآسانی ہوسکتا ہے۔

 PCSIR ہمارے ملک کا ایک معتبر سائنسی ادارہ ہے،روزنامہ جنگ میں اشاعت پذیر اس کی ایک رپورٹ پانی کی شدید آلودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس کے مطابق کراچی ، لاہور ،اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں جو پانی پینے کے لیے استعمال ہورہا ہے اس کا 75 فیصد حصہ پینے کے لیے مضر بلکہ ناقابل استعمال ہے۔مذکورہ ادارے نے پانی کے یہ نمونے ان شہروں کے مختلف اسکولوں کے نلکوں سے حاصل کیے تھے۔

 سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام کے ڈپارٹمنٹ آف انرجی اور انوائرنمنٹ کے ایک جائزے میں بھی تقریبا یہی نتائج حاصل ہوئے۔ اس جائزے میں پینے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے 295 نمونے نہروں کنووں   تالابوں  ہینڈ پمپوں اور ٹھٹھہ، بدین اور تھر پارکر میں سرکاری اداروں ( میونسپل کمیٹیوں) کی طرف سے فراہم کیے جانے والے ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے۔ نہروں اور نالوں سے حاصل کردہ تو تقریبا سو فیصد نمونوں کو تھرموٹالورینٹ کولیفورم سے آلودہ پایا گیا۔ہینڈ پمپوں  موٹر پمپوں  کنووں اور میونسپل اداروں کی طرف سے فراہم کیے جانے والے پانی کے 76 نمونوں کو تھرموٹالورینٹ کولیفورم سے آلودہ پایا گیا۔ان جائزوں سے یہ بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ پینے کے لیے استعمال ہونے والا آلودہ پانی اپنے مقام اجرا سے ہی آلودگی کا شکار ہوجاتا ہے۔

 پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جس کی حالیہ آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے اورشرح آبادی یہی رہی تو امید ہے کہ 2020 تک تین کروڑ ڈھائی لاکھ تک پہنچ جائے گی ۔کروڑوں کی آبادی والے اس شہر میں پانی کی نہ صرف قلت ہے بلکہ جو پانی میسر ہے وہ بھی انتہائی آلودہ اور صحت کے لیے مضر ہے۔ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے شہریوں کویومیہ695 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ پانی کی فراہمی کے دو بڑے ذرائع حب ڈیم اور دریائے سندھ ہیں ، حب ڈیم سے پانی کی فراہمی 30 سے 75ملین گیلن تک ہوتی ہے اور اس کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے جبکہ دریائے سندھ سے645 ملین گیلن پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔شہریوں کو پانی فراہم کرنے سے قبل صاف تو کیا جاتا ہے مگر صفائی کے ناقص انتظام کے سبب مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے پانی پھر آلودگی کا شکار ہوجاتا ہے۔اگرچہ فراہمی سے پہلے پانی کو کراچی واٹر اور سپلائی بورڈ کے سی او ڈی ہلز  پپری  گھارو اور سپر ہائی وے فلٹر پلانٹ سے گذارا جاتا ہے۔فلٹر اور ٹریٹمنٹ کے بعد یہاں پانی کا معیار بہتر ہوکر عالمی ادارہ صحت کے معیار کے قریب ہوجاتا ہے۔ پانی کو ٹریٹمنٹ کے عمل سے گذارنے کے لیے ایک خاص مدت کے لیے روکنا ضروری ہوتا ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے مقررہ مدت سے کم وقت میں پانی کو چھوڑ دیاجاتا ہے۔

 فلٹر پلانٹ میں ٹریٹمنٹ کے تمام مرحلوں سے گذارنے کے بعد پانی میں کلورین کی ایک خاص مقدار ڈالی جاتی ہے۔اس عمل کو کلورینیشن کہتے ہیں جس کے بعد پانی پینے کے لیے محفوظ ہوجاتا ہے لیکن عملا ایسا ہوتا نہیں ہے اورڈسٹری بیوشن سسٹم میں پانی دوبارہ آلودگی کا شکار ہو کر صارف تک پہنچتا ہے۔پانی کے آلودہ ہونے کی اہم وجوہات میں فراہمی آب کی بوسیدہ لائنیں ہیں۔  یہ لائنیں پرانی ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ سے رس رہی ہیں ۔ان چھوٹی اور بڑی پائپ لائنوں کی زندگی مکمل ہوچکی ہے لیکن وسائل کی کمی کے باعث پورے سسٹم کو یکسر تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ البتہ مختلف اوقات میں مختلف علاقوں مرمت کا کام ہوتا رہتا ہے۔ان پرانی پائپ لائنوں میں جگہ جگہ خصوصا جوڑوں میں سوراخ ہوگئے ہیں۔زمین کی نا ہمواری ، ہوا میں نمی اور زیر زمین پانی کی سطح بلند ہونے سے اس مسئلے نے مزید شدت اختیار کی ہے۔سیوریج کا پانی ان سوراخوں سے سے پائپ لائنوں میں چلا جاتا ہے۔اس کے علاوہ گھروں میں لوگوں نے پائپ لائنوں سے پانی کھینچنے کے لیے سکشن پمپ لگا رکھے ہیں لہذا جب لائنوں میں پانی نہیں ہوتا ہے تو ایک پریشر پیدا ہوتا ہے جو سیوریج کے پانی کو جو گٹر لائنیں بند ہونے کی وجہ سے پانی کی پائپ لائنوں کے ارد گرد جمع رہتا ہے کھینچ لیتا ہے ۔جب پائپ لائنوں میں پانی پریشر کے ساتھ سفر کرتا ہے تو ان سوراخوں سے رستا بھی رہتا ہے۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پانی کی کمی کاشکارکروڑوں کی آبادی والے اس شہر میں 40% ۔ جبکہ25% یہ انتہائی کمیاب پانی ٹپکتے نلکوں ، دھلتی کاروں اور وسیع و عریض لان میں پیڑوں پودوں کو دے کر ضائع کردیا جاتا ہے۔

کراچی کے شہری کس قدر قدر آلودہ پانی پیتے ہیں ، آئیے یہ بھی جان لیجیے ۔

  ڈاکٹر مبینہ آگبوٹ والاکی تحریر کردہ ایک رپورٹ Environmental Health in Sindh جو آئی یو سی این کی کتابSindh state of Environment & development میں شائع ہوئی تھی، کے مطابق  1997 میں کراچی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پینے کے پانی کے دو سو ترانوے نمونوں کو جب چیک کیا گیا تو ان میں صرف اڑتالیس یعنی تقریبا سولہ فیصد کو پینے کے لیے محفوظ پایا گیا۔پھر جن دو سو تینتیس پانی کے نمونوں کو جانچا گیا تھا ان میں سے تریسٹھ فیصدکو ایم پی این 507 سے آلودہ پایا گیا۔

 کراچی ہی میں 2000 میں کیے گئے ایک اور سروے کے مطابق گھریلو استعمال کے لیے جمع کیے جانے والے پانی میں سے کوئی 75فیصد تھرمو ٹالورینٹ کولیفورم سے متاثر تھے۔ایسے پانی میں ای کولی بھی متفرق شرح میں پائی گئی۔ای کولی کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ پینے کے پانی کہیں سے انسانی فضلہ بھی شامل ہورہا ہے۔عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پینے کے صاف پانی میں ای کولی ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔

 پانی میں اتنی زیادہ ملاوٹ( یا آلودگی) آنتوں کی متعدد بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

 1995 میں یونیسیف کے ملٹی پل انڈیکیٹرس کلسٹر سروے کے مطابق پاکستان میں شدید گرمی کے موسم میں پانچ سال کی عمر تک کے 26% بچوں کو دستوں ( ڈائریا) کی بیماری میں مبتلا پایا گیا ان میں سب سے زیادہ تعداد یعنی33% سندھ کے بچوں کی تھی۔1996 کے نیشنل ہیلتھ سروے آف پاکستان کے مطابق جن دنوں یہ سروے کیا جارہا تھا۔ ان دنوں صوبہ سندھ کے اندازہ% 35.9 بچوں کو ڈائریا کی شدید بیماری نے گھیر رکھا تھا۔

 1997 کراچی ہی میں میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق اس بات کا انکشاف ہوا کہ 39%بچوں کو ڈائریا کی بیماری بار بار ہوتی تھی۔ایک اور مطالعے میں جو 2000 اور2001 میں کیا گیا اور جس میں دو ہزار کے قریب بچوں کو مسلسل دو سال تک زیر مطالعہ رکھا گیا ، یہ بات سامنے آئی کہ ان زیر مشاہدہ ہر 100 میں سے1.51کی شرح سے بچے شدید ڈائریا سے متاثر ہوئے۔ماہرین متفق ہیں کہ بچوں میں ڈائریا کی پھیلتی بیماری کا ایک بڑا سبب گندا پانی اور صفائی کا ناقص نظام ہے۔

 معیادی بخار یا ٹائیفائیڈ عموما کسی مخصوص علاقے میں پیدا ہوتا ہے۔لیکن یہ رفتہ رفتہ متعدی بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور ایسا عموما موسم گرما میں ہوتا ہے۔ کیونکہ اس موسم میں کھانے پینے کی اشیا اور پانی میں سالمو نیلا ٹائی فائیفی (ہاضمے کو نقصان پہنچانے والے جرثومے ) پیدا ہوتے ہیں۔جون 1990اور دسمبر1994 کے درمیان آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل کراچی میں چار ہزار چار سو انتالیس (4439) مریضوں کے خون یا ہڈی کے گودے (بون میرو) سے سالمونیلا ٹائیفائی کے اجزا کو علیحدہ کیا گیا ۔ان مریضوں میں سے 1,441 یعنی 33% چھہ سال سے کم عمر کے بچے تھے ۔

کراچی ہی کے پی ان ایس شفا اسپتال میں جنوری 1994سے لے کر اپریل 1999تک 412ٹائیفائیڈ کے مریض آئے۔اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں1992سے1994کے درمیانی تین سال کے عرصے میں بلڈ کلچر(خون کے تفصیلی جائزے) کے جتنے نمونے بھی موصول ہوئے ان میں سے 7.1 فیصد فساد ہضم کی شکایت سے متاثر تھے۔ ٹائیفائیڈ دراصل ایسے علاقوں میں زور دکھاتا ہے جہاں صفائی کا نظام ناقص ہو۔خصوصا وہ شہری علاقے اس بیماری کا گڑھ بن جاتے ہیں جہاں پینے کے پانی اور سیوریج کی نالیاں باہم مل جاتی ہوں اور پانی آلودہ ہو جائے۔ای کولی کی آلودگی انسانی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پینے کے اس پانی میں کہیں نہ کہیں سے انسانی فضلہ شامل ہو رہا ہے۔ ناقص اور ٹوٹی پھوٹی سیوریج لائنوں سے رستے ہوئے سیوریج کا پینے کے پانی کی لائنوں سے مل جانا اب کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے بڑے شہروں اورخصوصا کراچی میں تو یہ عام بات ہے۔

 صنعتوں سے نکلنے والے آلودہ پانی کی ملاوٹ سے پینے کے پانی میں مضر دھاتوں خصوصا سیسہ کیڈ میم اورمرکری وغیرہ کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور پی سی ایس آئی آر کی 1999کی ایک رپورٹ جو آئی یو سی این کے میگزین جریدہ میں شائع ہوئی تھی کے تحت کورنگی کے صنعتی علاقے کا زیر زمین پانی صحت کے لیے انتہائی مہلک ہے۔اسی جریدے میں ای پی اے کے حوالے سے ایک اور رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ادارہ تحفظ ماحول ای پی اے نے کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں کنووں اور بورنگ کے پانی کے نمونوں کا کیمیائی تجزیہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ ملیر  کورنگی   ضلع جنوبی کراچی ، محمود آباد   اورنگی ٹاؤن   نارتھ کراچی  لیاری اور فیڈرل بی ایریا کے زیر زمین پانی کے نمونوں میں WHO کے مقرر کردہ معیار سے کئی گنا زیادہ دھاتیں اور زہریلے مواد موجود ہیں۔خصوصا کیڈمیم 16 ، گدلا پن یا مٹی 9 اور فضلاتی آلودگی 3گنا زیادہ پائی گئی۔

 آلودہ پانی انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہورہا ہے ،کراچی واٹر پارٹنر شپ کے مطابق صرف  کراچی میں سالانہ  30,000اموات ریکارڈ کی گئی ہیںجن میں بچوں کی تعداد20 ہزار ہے۔

کراچی میں پانی کی کمی اور آلودگی دور کرنے اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے منصوبے زیر غور ہیں اور بہت سوں پر عمل بھی شروع ہوچکا ہے سر دست وہ ہمارا موضوع نہیں ہے اور نہ ہی ایک عام صارف کو اس سے کوئی دلچسپی ہے لیکن صورت حال میں بہتری کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے یہ سوال ہم سب کے لیے زیادہ اہم ہے۔

 کیا ایک عام آدمی کچھ کرسکتا ہے ؟ کیا وہ اپنے حالات میں تبدیلی لاسکتا ہے؟آئیے اس سوال کے جواب کی کھوج کرتے ہیں۔
 ہم کیا کرسکتے ہیں؟

 آلودہ پانی کے حوالے سے چند سادہ ،آسان اور آزمودہ طریقے جن کو اختیار کرنے سے صحت اور ماحول پر انتہائی خوشگوار اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔

ہم اپنی اور اپنوں کی صحت کے لیے کم از کم پانی ابال کر تو پی ہی سکتے ہیں اور اگر اتنا تردد بھی نہیں کرنا چاہتے تواس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ شیشے کی شفاف بوتلوں میں پانی بھر کر دھوپ میں چند گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔آپ ان بوتلوں کو چھت پر یاگیلری وغیرہ میں جہاں دھوپ اچھی آتی ہو رکھ سکتے ہیں۔سورج کی شعاعیں پانی کو آلودگی سے پاک کر دیں گی ۔اگر پانی بہت گدلا ہو تو پہلے پھٹکری سے صاف کر لیں کیونکہ سورج کی شعاعیں صرف 10cm تک ہی جراثیم کو مار سکتی ہیں۔

 ڈائریا سے بچنے کے لیے اپنے گھر میں اور خاص طور پر چھوٹے بچوں کو صابن کے استعمال کی ترغیب دیں خصوصابیت الخلا سے آکر صابن سے ہاتھ دھونا لازمی قرار دیجیے ، بچوں کو بھی یاد دلاتے رہیے اور ان کی نگرانی بھی کیجیے کہ وہ ایسا کر بھی رہے یا نہیں۔ یہ کوئی ٹوٹکا نہیں ہے بلکہ اس عمل کو باقاعدہ منصوبے کی صورت میں ایک آبادی پر آزمایا گیاتھا اور وہاں ڈائریا میں 30 فیصد کمی پائی گئی۔

 آلودہ پانی میں سے ڈائریا کے جراثیم کے خاتمے کے حوالے سے ہم اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا ایک تجربہ پیش کریں گے۔اگرچہ یہ بھی کوئی نیا طریقہ نہیں ہے لیکن اس کی آزمائش اور سائنسی بنیادوں پر چھان پھٹک کر نتائج مرتب کرنے کا سہراڈاکٹر انور حق کے سر ہے جو مائیکرو بائیولوجسٹ ہیں اور میری لینڈ بائیو ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ بالٹی مور میں میرین بائیو ٹیکنالوجی سے وابستہ رہے ہیں (ڈاکٹر انور حق جامعہ کراچی کے طالب علم رہ چکے ہیں اوراپنی استادمرحومہ ڈاکٹر نسیمہ ترمذی سے خاص عقیدت رکھتے ہیں۔) ڈاکٹر صاحب نے بنگلہ دیش میں پھیلتی ہوئی ہیضے کی بیماری پر قابو پانے کے لیے پرانی سوتی ساڑھی کا انتخاب کیا اوربرتن پر اس کی چار تہیں لگا کر اس سے پانی چھانا انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اس طریقے سے پانی ننانوے فیصد تک ہیضے کے جراثیم سے پاک ہوگیا ۔  ان کا کہنا ہے کہ پرانی سوتی ساڑھی کے ڈھیلے اور روئیں دار ریشوں میں ہیضے کے بیکٹیریا پھنس جاتے ہیں اور چھن کر برتن میں جانے والا پانی ان سے پاک ہوجاتا ہے۔ ان بیکٹیریا کی ساخت جھینگوں جیسی ہوتی ہے ۔اس ترکیب کی افادیت کو بین الاقوامی صحت کے اداروں نے نہ صرف مانا بلکہ اس کے عام استعمال کی بھی اجازت دی۔ابتدا میں تجرباتی طور پر یہ ترکیب بنگلہ دیش کے 65 دیہاتوں میں ایک لاکھ 33 ہزار افراد پر آزمائی گئی جس سے ان علاقوں میں اس سال صرف0.65 فیصد ہیضے کے کیس ریکارڈ ہوئے۔اب یہ ترکیب وہاں پانی صاف کر نے کے لیے عام ہوچکی ہے ۔ڈاکٹرانور حق کے اس پروجیکٹ میں ان کے ساتھ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن واشنگٹن کا ادارہ بھی شامل ہے۔

   مندجہ بالا تمام کم خرچ اورآسان لیکن بہت زیادہ مفید تراکیب سے ہم بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں،خصوصا پرانی ساڑھی سے پانی چھاننے کی ترکیب سے تو دیہی سطح پر پانی کی آلودگی کے حوالے سے انقلاب برپا ہو سکتا ہے ۔ساڑھی کی جگہ پرانے سوتی کپڑے سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔

 ان ترکیبوں پر خود بھی عمل کیجیے اور دوسروں کو بھی ان کی ترغیب دیجیے، اس سے نہ صرف آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی صحت بہتر ہوگی بلکہ کچھ کرنے کا ایک خوشگوار احساس بھی ہوگا ۔ ایک قیمتی خوشی اور ایک انمول طمانیت   خوشیوں کی ان خوبصورت تتلیوں اور سکون کے جگنووں کو مٹھی میں بند کر لیجیے کہیں دیر نہ ہو جائے۔اس موسم گرما میں اپنے اور دوسروں کے لیے بہار کا پیامبر بن جائیے۔