Thursday, May 1, 2008

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

غذائی بحران دنیا کے لیے ایک نیا خطرہ

 سنگین غذائی بحران دنیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔اس کا ثبوت عالمی بینک کا تازہ بیان ہے کہ اشیائے خورو نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دس کروڑ غریب افراد کو مزید غربت کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہیں۔ یہ بیان بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی اس تنبیہہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو لاکھوں لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوں گے۔ اور یہی نہیں بلکہ معاشرتی بے چینی بڑے تنازعات  (غالبا کوئی انقلاب وغیرہ) کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

 اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم ایف اے او نے بھی خبردار کیا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی ترقی پذیر ملکوں میں لاکھوں انسانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔ تنظیم کاکہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے جو بہت سے ملکوں کی برداشت سے با ہر ہے اور اگر کسانوں کو فوری طور پر مدد نہیں ملے گی تو بہت سے ملک غذائی بحران کا سامنا نہ کرسکیں گے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ غذائی بحران کی اہم وجہ37ممالک میں لڑائی ، بدلتی آب و ہوا اوروسیع پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں۔جس کے تحت پچھلے چند سالوں میں ترقی پذیر ممالک پر خشک سالی اور سیلابوں نے حملے کیے ہیں ۔ تیل کا بڑھتا ہوا بھاؤ اور ساتھ میں اناج سے بننے والے بناسپتی ایندھن کی مانگ بڑھی ہے جس کی وجہ سے یہ بحران اور بھی شدید ہوگیا ہے ۔

 مقام فکر ہے کہ عالمی بینک سے متعلقہ کئی ایجنسیوں کی حالیہ جاری کردہ ایک رپورٹ میں پاکستان بھی ان چھتیس ممالک میں شامل ہے جہاں خوراک کے شدید بحران کا خطرہ موجود ہے۔

 پاکستان میں اس حوالے سے اناج کی قلت ، بڑھتی ہوئی قیمتیں اور غریبوں کی خود کشیاں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ہمارے ہاں یہ بحران کس درجے کا ہے اور ہوسکتا ہے ۔ پچھلی حکومت کے پہلے یہ اعلانات کہ گندم بہت زیادہ ہے برآمد کی جاسکتی ہے اور پھر اس قدر کمی کہ لوگوں کو واقعی روٹیوں کے لالے پڑ گئے ، پھر گندم کی مہنگے داموں درآمد  یقینا یہ جادوئی کرتب ہماری حکومتیں ہی کرسکتی ہیں ۔زرعی ملک کی یہ زبوں حالی کہ لوگ دانے دانے کو محتاج ہوچلے ہیں۔عام طور پر قحط کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ کھانے کو کچھ نہ ملے لیکن آج کا بحران انوکھی نوعیت کا ہے کہ لوگوں کو کھانے کو روٹی تو ملے لیکن اس کی قیمت ان کی قوت خرید سے زیادہ ہو۔




 اس سال اناج کی مہنگائی نئے ریکارڈ پر پہنچ گئی ہے جس نے ہر طرح کی غذائی اشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آج متوسط طبقے کے لوگوں نے خوراک کے لیے اپنے علاج معالجے کو پس پشت ڈالنا شروع کردیا ہے ۔  پاکستان میں یہ نظارے عام ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 2 ڈالر یومیہ کی آمدنی والے افراد نے اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھانا شروع کر دیا ہے۔سبزیاں کھانا کم کردی ہیں اور خوراک میں چاول کا استعمال بڑھادیا ہے۔1ڈالر یومیہ آمدنی والے افراد نے سبزیاں اور گوشت کھانا چھوڑ دیا ہے اور دن میں ایک وقت کا کھانا کم کردیا ہے۔لیکن جن لوگوں کی یومیہ آمدنی نصف ڈالر سے کم ہے ان کے لیے حالات انتہائی سنگین ہوگئے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب افراد ایسے ہیں جن کی یومیہ آمدنی ایک ڈالر یومیہ سے کم ہے۔اس حوالے سے ہمارے ملک کے کروڑوں شہری اس فہرست میں شامل ہوں گے۔

 حالیہ مہینوں میں خوراک کی قیمتوں میں کم از کم 40% اضافہ ہوا ہے۔جبکہ کئی ممالک میں قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔تاہم خوراک کی قلت میں آئندہ دنوں میں اس سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے جب ایشیا میں مون سون کا موسم شروع ہو گا ۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گذشتہ کئی برسوں سے مون سون کے چکر میں تبدیلی آگئی ہے جس کی وجہ سے خطے کے کئی ممالک کی زراعت متاثر ہوئی ہے۔خصوصا ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں اناج کی پیداوار میں بیس فیصد کمی واقع ہوئی اور جس کی وجہ سے بھارتی ذخیروں میں 30 ملین میٹرک ٹن کی کمی واقع ہوئی۔اس سے پہلے 2002 میں جب بھارت کی فصل خراب ہوئی تھی تو اس وقت ملک میں اناج کے وافر ذخائر موجود تھے لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔

 اناج کی قلت کے اس طوفان میں صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ فلپائن اور بنگلہ دیش بھی موجود ہیں۔ویتنام میں فصلوںمیں بیماری پھیل سکتی ہے ۔چین کے دریائے یانگڑ میں 1990کی دہائی جیسا طوفان آگیا تو دنیا کے اناج کے ذخائر پر دباؤ اور بڑھ جائے گا۔
 عالمی بینک ، اقوام متحدہ کے بیشتر اداروں اور 60 ممالک نے علاقائی سطح پر خوراک کی قلت ، قیمتوں میں اضافے اور ماحولیاتی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کھیتی باڑی کے طریقوں میں تبدیلی کی حمایت کی ہے لیکن امریکا ،برطانیہ ،آسٹریلیا اور کنیڈا نے ابھی تک اس ضمن میں پیش کی جانے والی رپورٹ انٹر نیشنل اسسمنٹ اف ایگری کلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے امیر ممالک سے کہا ہے کہ وہ دنیا میں خوراک کی بڑھتی قلت اور قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر500ملین ڈالر کی امداد دیں واضح رہے کہ چند ممالک میں اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں 80% تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ 33ممالک میں اس کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کا خطرہ موجود ہے۔ 2500 صفحات کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں پیداوار زیادہ ہونے کے باوجود لوگ بھوکے رہ جاتے ہیں ، بڑھتی ہوئی آبادی اور آمدنیوں میں اضافے کے باعث خوراک کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے خاص طور پر گوشت اور دودھ کی ڈیمانڈ بہت بڑھ گئی ہے ۔ بائیو فیول ٹیکنالوجی کے فروغ، خوراک کی غیر مساوی تقسیم، اور قدرتی وسائل پر قابو پانے کے لیے مستقبل میں ملکوں کے مابین تنازعات بھی ہو سکتے ہیں،جبکہ2050 تک دنیا کی آبادی 9.2 ارب ہو جانے کی توقع ہے جو اس وقت 6.7 ارب ہے۔

 یہ اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ ہے جس کی تیاری کے لیے حکومتوں ، غیر سرکاری تنظیموں اور امیر و غریب ممالک کی صنعتوں نے 400سائنس دانوں کے ساتھ مل کر مسلسل 4 سال تک کام کیا، اس رپورٹ میں خوراک کی پیداواراور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لے کر دنیا بھر میں اس کی تجارت تک پر بحث کی گئی ہے۔

 ہماری نئی حکومت جو ابھی بہت نئی ہے با آسانی یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا سکتی ہے کہ اسے یہ بد حالی ورثے میں ملی ہے اور یہ پچھلے آٹھ سالوں کی بد اعمالیاں ہیں جو پھل پھول رہی ہیں۔ اس کا یہ کہنا درست بھی ہوگا یقینا جمعہ جمعہ آٹھ دن کی حکومت سے آپ یہ توقع نہیں لگا سکتے کہ وہ چراغ کے الہ دین کی طرح پلک جھپکتے میں سب ٹھیک کردے۔لیکن اگر یہ جواز کسی سیاست داں کا ہے تو بالکل ٹھیک ہے لیکن اگر آپ سیاست داں کے بجائے خود کو قوم کا رہنما سمجھتے ہیں تو پھر یقینا یہ عذر لنگ ہے ۔ رہنما وہ ہوتا ہے جو اپنے عزم و حوصلے سے سب کچھ بدل سکتا ہے اور اسے اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی سچی دعائیں حاصل ہوتی ہیں ۔16کروڑ افرادی قوت اورایٹمی طاقت کا حامل یہ ملک وسائل سے بھی مالا مال ہے ۔کمی صرف عزم ، حوصلے اور اس نظر کی ہے جو بہت آگے تک دیکھتی ہے۔کیا ہم جنوبی کوریا سے بھی گئے گذرے ہیں کہ جب اسے پندرہ اگست 1945میں جاپانی چنگل سے نجات ملی تو اس وقت تک عالمی جنگ نے ملک کو ایک بڑے کھنڈرمیں تبدیل کردیا تھا، پھر پچاس سے تریپن تک کی جنگ کوریا نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، اس ملک کے پاس کوئی خاص معدنی دولت بھی نہیں تھی،بس ایک بہتر سا تعلیمی نظام تھا جس نے سیاسی اور فوجی آمریت کے لمبے سائے تلے بھی نہایت تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرلی ۔نتیجہ یہ ہے کہ جب کوریا ساٹھ سال کا ہوا تو وہ دنیا کی دس بڑی صنعتی قوتوں میں شامل تھا اوراس کی فی کس آمدنی اٹھارہ ہزار سالانہ سے زائد تھی۔

 انڈونیشیا کی مثال دیکھ لیجیے ،اگرچہ اس عرصے میں انڈونیشیا تیل سے مالا مال ہونے کے باوجود اتنی ترقی نہ کرسکا جتنی اس کے ہمسایوں نے کی لیکن پھر بھی جب اس نے آزادی کی ساٹھویں سالگرہ منائی تو ملک کم از کم جمہوریت کی راہ پر پوری طرح گامزن ہوچکا تھا۔
 سری لنکا ساٹھ برس کا ہوا تو تامل سنہالہ تنازعے نے ملک کی چولیں ہلادیں تھیں لیکن ان حالات میں بھی اس کی فی کس آمدنی بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں ستر فیصد سے زائد رہی اور جمہوریت بھی پٹڑی سے نہیں اتری، اور نوے فیصد تعلیمی خواندگی کے نتیجے میں سری لنکا کو جنوبی ایشیا کا سب سے پڑھا لکھا ملک ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

 چین کمیونسٹ انقلاب کے وقت بھارت سے بھی زیادہ پسماندہ تھا لیکن آج ساٹھ سال کی عمر میں چین دنیا کی سب سے بڑی صنعتی اور تیسری بڑی اقتصادی قوت ہے، جو ڈیڑھ ارب آبادی والے اس ملک کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

 ملائشیا ابھی صرف پچاس برس کا ہے، آزادی کے وقت ملائیشا کی شناخت صرف ٹن کی معدنیات اور پام آئل تھی اور اس کا شمار پاکستان سے بھی زیادہ غریب ملک میں ہوتا تھا لیکن پچاس برس بعد ملائیشا جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے۔
 جاپانی جسے ایٹم بم نے راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا اور جہاں اب بھی اس کیمائی آلودگی کے باعث معذور بچے پیدا ہوتے ہیں آج ترقی اور خوشحالی کے عروج پر کھڑا ہے۔ بین الاقوامی اداروں سے قرض لینے کے بجائے ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا۔ یہ بڑے بڑے قرضے ذلت اور غلامی کا وہ طوق ہیں جو کسی بھی قوم کو دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لائق نہیں چھوڑتے۔ قرض کا ہر ڈالر سوددر سود ہماری آئندہ نسلوں سے بھی وصول کی جائے گا۔ یہ قرضے وہ مکڑی کے جالے ہیں جس میں غریب ممالک مکھی کی طرح پھنس جاتے ہیں۔ افریقہ کا حال ہمارے سامنے ہے۔

 ایڈز کے ہر ایک سو میں سے ستر مریض افریقہ میں ہیں ۔ روزانہ چھ ہزار مریض مر رہے ہیں اور گیارہ ہزارنئے بن رہے ہیں۔بوٹسوانا اورزیمبیا جیسے ممالک کی چالیس فیصد آبادی اس مرض کی لپیٹ میں ہے جسے ملیریا کہتے ہیں جس کا علاج باقی دنیا میں دس سے بیس روپے میں ہوجاتا ہے اور اس ملیریا سے افریقہ میں ماہانہ ڈیڑھ لاکھ بچے مر رہے ہیں۔کسے فرصت کہ یہ معلوم کرتا پھرے کہ پچھلے چالیس برسوں میں نائیجیریا ، سیرالیون اور انگولا کے معدنی ذخائر خانہ جنگی کا منحوس طوق کیسے بن گئے،کانگو میں گذشتہ چھ برس میں کیسے خانہ جنگی اور امداد کی عدم فراہمی نے اڑتیس لاکھ افراد کو مار ڈالا۔اور اس وقت بھی روزانہ ایک ہزار افراد کیوں مر رہے ہیں۔ جبکہ اسی کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے سولہ ہزار سپاہی گھوم رہے ہیں اور دنیا کے کسی ایک علاقے میں یہ اقوام متحدہ کی سب سے بڑی فوج ہے۔سوڈان کا علاقہ دار فور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور میڈیا کی توجہ کا مسلسل مرکز ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ پچھلے چالیس برسوں کے دوران بیس افریقی ملک کس لیے خانہ جنگی کے خونی تجربے سے گذرے اور اس آگ سے کن کن ترقی یافتہ ممالک اور ان کی کمپنیوں نے اپنے اقتصادی ہاتھ تاپے۔  یہ بھی ایک رونے کا مقام ہے کہ جس برآعظم کا عالمی تجارت میں حصہ محض دو فیصد ہے اور امداد کے لیے ملنے والے ہر دو ڈالر میں سے ایک ڈالر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔اس بر اعظم پر تین سو بلین کا ڈالر کا قرضہ کس نے لادا۔ حالانکہ اس براعظم میں سالانہ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کرپشن اور بد انتظامی میں ضائع ہوجاتے ہیں۔یقین نہیں آتا کہ یہ وہی افریقہ ہے جہاں سب سے پہلے انسان نے اوزار بنائے اور آگ کا استعمال سیکھا۔ اور یہیں سے نسل انسانی باقی دنیا میں پھیلی۔

 اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جب اس نئے پاکستان کی باشعور عوام سیاست داں اور رہنما میں فرق جان جائے۔

 قافلے دلدلوں میں جاٹھہرے                  -------رہنما پھر بھی رہنما ٹھہرے-----

Tuesday, April 29, 2008

پانی کی بڑھتی ہوئی آلودگی اور صحت کے مسائل

پانی ذندگی کی ضمانت ہے۔۔۔۔یہ وہ حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اب یہ الفاظ اپنی معنویت کھو رہے ہیں ۔ پانی جو زندگی کے لیے آب حیات کی حیثیت رکھتا ہے اب کہیں کہیں یہ انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بھی بن رہا ہے۔

  یہ سچ ہے کہ زندگی کا تصورپانی کے بغیر ممکن نہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ دریا سمندر اور جھیلوں کے کنارے ہی انسانی تہذیب پھلتی پھولتی اور نشوونما پاکر ترقی یافتہ معاشروں میں ڈھلتی رہی ہے۔گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ اگرچہ سمندر اور دریا اپنے راستے بدلتے رہتے ہیں   لیکن یہ ایک جغرافیائی اور ارتقائی عمل ہوتا ہے جو قدرتی نظام کے تابع ہوتا ہے اور سیکڑوں اور ہزاروں سال میں مکمل ہوتا ہے۔ لیکن آج اگر پانی اپنا کام بدل رہا اور انسانی جاں کے زیاں کا سبب بن رہا ہے تو یہ کسی قدرتی عمل کا حصہ نہیں ہے بلکہ انسان کی اپنی پروائی کا شاخسانہ ہے۔


 زمین پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت موسموں کو بے ترتیب کر رہا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر پانی کے وسائل پر پڑ رہا ہے۔کرہ ارض پر پانی کے وسائل کم سے کم ہورہے ہیں اورآلودگی حد سے بڑھ رہی ہے۔ یہ آلودہ پانی انسانی جانوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہورہا ہے۔پانی کے وسائل پر کام کرنے والے ایک ادارے کراچی واٹر پارٹنر شپ کی تحقیق کے مطابق  دنیا بھر میں سالانہ 10 ملین سے زائد لوگ پانی کی بیماریوں سے مر رہے ہیں اورترقی پذیر ملکوں میں پھیلی ہوئی 37 مہلک بیماریوں میں سے 21 کا تعلق گندے پانی اور سیوریج کے ناقص نظام سے ہے۔

ہمارے ملک میں تو صورت حال اور دگرگوں ہے  یوں تو یہاںکسی قدرتی وسیلے کی کوئی قدر ہے اورنہ اسے بچانے کی فکر اور آبی ذخائر کے ساتھ تو ہمارا سلوک انتہائی  شاندار ہے ، ہم اپنے ان قیمتی ذخائر یعنی سمندر، دریاؤں ، جھیلوں اور چشموںکو بطور  گٹر استعمال کرتے ہیں اور تمام گھریلو ، صنعتی اور زرعی کوڑا کرکٹ ، سیوریج اور فضلہ ان ہی میں بہا دیتے ہیں۔ اب ان ذخائر کے پانی کا کیا حال ہوگا اس کی وضاحت کے لیے نہ کسی پیچیدہ اعدادو شمار کی ضرورت ہے اور نہ بھاری بھرکم سائنسی اصطلاحات کی۔ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ پانی انسانی جانوں کے لیے کسی  واٹر بم  کا کام انجام دیتا ہے۔

  حکومت کے بلند وبانگ دعووں سے ایک عام آدمی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اسے تو پیٹ بھر روٹی اور دو گھونٹ صاف پانی کے درکار ہیں جس سے وہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ سکے۔ دو گھونٹ صاف پانی جو پاکستان میں جنس نایاب بنتا جا رہا ہے لوگوں تک پہنچانا یہ وہ کم از کم ذمے داری ہے جو حکومتوں پر عائد کی جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت کی ترجیحات کیا ہیں؟ ۔۔۔اس حوالے سے کچھ نہ کہنا ہی بہتر ہے۔
 پاکستان کے شہری کس قدر آلودہ پانی پیتے ہیں اس کا اندازہ درج ذیل رپورٹوں سے باآسانی ہوسکتا ہے۔

 PCSIR ہمارے ملک کا ایک معتبر سائنسی ادارہ ہے،روزنامہ جنگ میں اشاعت پذیر اس کی ایک رپورٹ پانی کی شدید آلودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس کے مطابق کراچی ، لاہور ،اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں جو پانی پینے کے لیے استعمال ہورہا ہے اس کا 75 فیصد حصہ پینے کے لیے مضر بلکہ ناقابل استعمال ہے۔مذکورہ ادارے نے پانی کے یہ نمونے ان شہروں کے مختلف اسکولوں کے نلکوں سے حاصل کیے تھے۔

 سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام کے ڈپارٹمنٹ آف انرجی اور انوائرنمنٹ کے ایک جائزے میں بھی تقریبا یہی نتائج حاصل ہوئے۔ اس جائزے میں پینے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے 295 نمونے نہروں کنووں   تالابوں  ہینڈ پمپوں اور ٹھٹھہ، بدین اور تھر پارکر میں سرکاری اداروں ( میونسپل کمیٹیوں) کی طرف سے فراہم کیے جانے والے ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے۔ نہروں اور نالوں سے حاصل کردہ تو تقریبا سو فیصد نمونوں کو تھرموٹالورینٹ کولیفورم سے آلودہ پایا گیا۔ہینڈ پمپوں  موٹر پمپوں  کنووں اور میونسپل اداروں کی طرف سے فراہم کیے جانے والے پانی کے 76 نمونوں کو تھرموٹالورینٹ کولیفورم سے آلودہ پایا گیا۔ان جائزوں سے یہ بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ پینے کے لیے استعمال ہونے والا آلودہ پانی اپنے مقام اجرا سے ہی آلودگی کا شکار ہوجاتا ہے۔

 پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جس کی حالیہ آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے اورشرح آبادی یہی رہی تو امید ہے کہ 2020 تک تین کروڑ ڈھائی لاکھ تک پہنچ جائے گی ۔کروڑوں کی آبادی والے اس شہر میں پانی کی نہ صرف قلت ہے بلکہ جو پانی میسر ہے وہ بھی انتہائی آلودہ اور صحت کے لیے مضر ہے۔ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے شہریوں کویومیہ695 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ پانی کی فراہمی کے دو بڑے ذرائع حب ڈیم اور دریائے سندھ ہیں ، حب ڈیم سے پانی کی فراہمی 30 سے 75ملین گیلن تک ہوتی ہے اور اس کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے جبکہ دریائے سندھ سے645 ملین گیلن پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔شہریوں کو پانی فراہم کرنے سے قبل صاف تو کیا جاتا ہے مگر صفائی کے ناقص انتظام کے سبب مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے پانی پھر آلودگی کا شکار ہوجاتا ہے۔اگرچہ فراہمی سے پہلے پانی کو کراچی واٹر اور سپلائی بورڈ کے سی او ڈی ہلز  پپری  گھارو اور سپر ہائی وے فلٹر پلانٹ سے گذارا جاتا ہے۔فلٹر اور ٹریٹمنٹ کے بعد یہاں پانی کا معیار بہتر ہوکر عالمی ادارہ صحت کے معیار کے قریب ہوجاتا ہے۔ پانی کو ٹریٹمنٹ کے عمل سے گذارنے کے لیے ایک خاص مدت کے لیے روکنا ضروری ہوتا ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے مقررہ مدت سے کم وقت میں پانی کو چھوڑ دیاجاتا ہے۔

 فلٹر پلانٹ میں ٹریٹمنٹ کے تمام مرحلوں سے گذارنے کے بعد پانی میں کلورین کی ایک خاص مقدار ڈالی جاتی ہے۔اس عمل کو کلورینیشن کہتے ہیں جس کے بعد پانی پینے کے لیے محفوظ ہوجاتا ہے لیکن عملا ایسا ہوتا نہیں ہے اورڈسٹری بیوشن سسٹم میں پانی دوبارہ آلودگی کا شکار ہو کر صارف تک پہنچتا ہے۔پانی کے آلودہ ہونے کی اہم وجوہات میں فراہمی آب کی بوسیدہ لائنیں ہیں۔  یہ لائنیں پرانی ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ سے رس رہی ہیں ۔ان چھوٹی اور بڑی پائپ لائنوں کی زندگی مکمل ہوچکی ہے لیکن وسائل کی کمی کے باعث پورے سسٹم کو یکسر تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ البتہ مختلف اوقات میں مختلف علاقوں مرمت کا کام ہوتا رہتا ہے۔ان پرانی پائپ لائنوں میں جگہ جگہ خصوصا جوڑوں میں سوراخ ہوگئے ہیں۔زمین کی نا ہمواری ، ہوا میں نمی اور زیر زمین پانی کی سطح بلند ہونے سے اس مسئلے نے مزید شدت اختیار کی ہے۔سیوریج کا پانی ان سوراخوں سے سے پائپ لائنوں میں چلا جاتا ہے۔اس کے علاوہ گھروں میں لوگوں نے پائپ لائنوں سے پانی کھینچنے کے لیے سکشن پمپ لگا رکھے ہیں لہذا جب لائنوں میں پانی نہیں ہوتا ہے تو ایک پریشر پیدا ہوتا ہے جو سیوریج کے پانی کو جو گٹر لائنیں بند ہونے کی وجہ سے پانی کی پائپ لائنوں کے ارد گرد جمع رہتا ہے کھینچ لیتا ہے ۔جب پائپ لائنوں میں پانی پریشر کے ساتھ سفر کرتا ہے تو ان سوراخوں سے رستا بھی رہتا ہے۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پانی کی کمی کاشکارکروڑوں کی آبادی والے اس شہر میں 40% ۔ جبکہ25% یہ انتہائی کمیاب پانی ٹپکتے نلکوں ، دھلتی کاروں اور وسیع و عریض لان میں پیڑوں پودوں کو دے کر ضائع کردیا جاتا ہے۔

کراچی کے شہری کس قدر قدر آلودہ پانی پیتے ہیں ، آئیے یہ بھی جان لیجیے ۔

  ڈاکٹر مبینہ آگبوٹ والاکی تحریر کردہ ایک رپورٹ Environmental Health in Sindh جو آئی یو سی این کی کتابSindh state of Environment & development میں شائع ہوئی تھی، کے مطابق  1997 میں کراچی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پینے کے پانی کے دو سو ترانوے نمونوں کو جب چیک کیا گیا تو ان میں صرف اڑتالیس یعنی تقریبا سولہ فیصد کو پینے کے لیے محفوظ پایا گیا۔پھر جن دو سو تینتیس پانی کے نمونوں کو جانچا گیا تھا ان میں سے تریسٹھ فیصدکو ایم پی این 507 سے آلودہ پایا گیا۔

 کراچی ہی میں 2000 میں کیے گئے ایک اور سروے کے مطابق گھریلو استعمال کے لیے جمع کیے جانے والے پانی میں سے کوئی 75فیصد تھرمو ٹالورینٹ کولیفورم سے متاثر تھے۔ایسے پانی میں ای کولی بھی متفرق شرح میں پائی گئی۔ای کولی کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ پینے کے پانی کہیں سے انسانی فضلہ بھی شامل ہورہا ہے۔عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پینے کے صاف پانی میں ای کولی ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔

 پانی میں اتنی زیادہ ملاوٹ( یا آلودگی) آنتوں کی متعدد بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

 1995 میں یونیسیف کے ملٹی پل انڈیکیٹرس کلسٹر سروے کے مطابق پاکستان میں شدید گرمی کے موسم میں پانچ سال کی عمر تک کے 26% بچوں کو دستوں ( ڈائریا) کی بیماری میں مبتلا پایا گیا ان میں سب سے زیادہ تعداد یعنی33% سندھ کے بچوں کی تھی۔1996 کے نیشنل ہیلتھ سروے آف پاکستان کے مطابق جن دنوں یہ سروے کیا جارہا تھا۔ ان دنوں صوبہ سندھ کے اندازہ% 35.9 بچوں کو ڈائریا کی شدید بیماری نے گھیر رکھا تھا۔

 1997 کراچی ہی میں میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق اس بات کا انکشاف ہوا کہ 39%بچوں کو ڈائریا کی بیماری بار بار ہوتی تھی۔ایک اور مطالعے میں جو 2000 اور2001 میں کیا گیا اور جس میں دو ہزار کے قریب بچوں کو مسلسل دو سال تک زیر مطالعہ رکھا گیا ، یہ بات سامنے آئی کہ ان زیر مشاہدہ ہر 100 میں سے1.51کی شرح سے بچے شدید ڈائریا سے متاثر ہوئے۔ماہرین متفق ہیں کہ بچوں میں ڈائریا کی پھیلتی بیماری کا ایک بڑا سبب گندا پانی اور صفائی کا ناقص نظام ہے۔

 معیادی بخار یا ٹائیفائیڈ عموما کسی مخصوص علاقے میں پیدا ہوتا ہے۔لیکن یہ رفتہ رفتہ متعدی بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور ایسا عموما موسم گرما میں ہوتا ہے۔ کیونکہ اس موسم میں کھانے پینے کی اشیا اور پانی میں سالمو نیلا ٹائی فائیفی (ہاضمے کو نقصان پہنچانے والے جرثومے ) پیدا ہوتے ہیں۔جون 1990اور دسمبر1994 کے درمیان آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل کراچی میں چار ہزار چار سو انتالیس (4439) مریضوں کے خون یا ہڈی کے گودے (بون میرو) سے سالمونیلا ٹائیفائی کے اجزا کو علیحدہ کیا گیا ۔ان مریضوں میں سے 1,441 یعنی 33% چھہ سال سے کم عمر کے بچے تھے ۔

کراچی ہی کے پی ان ایس شفا اسپتال میں جنوری 1994سے لے کر اپریل 1999تک 412ٹائیفائیڈ کے مریض آئے۔اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں1992سے1994کے درمیانی تین سال کے عرصے میں بلڈ کلچر(خون کے تفصیلی جائزے) کے جتنے نمونے بھی موصول ہوئے ان میں سے 7.1 فیصد فساد ہضم کی شکایت سے متاثر تھے۔ ٹائیفائیڈ دراصل ایسے علاقوں میں زور دکھاتا ہے جہاں صفائی کا نظام ناقص ہو۔خصوصا وہ شہری علاقے اس بیماری کا گڑھ بن جاتے ہیں جہاں پینے کے پانی اور سیوریج کی نالیاں باہم مل جاتی ہوں اور پانی آلودہ ہو جائے۔ای کولی کی آلودگی انسانی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پینے کے اس پانی میں کہیں نہ کہیں سے انسانی فضلہ شامل ہو رہا ہے۔ ناقص اور ٹوٹی پھوٹی سیوریج لائنوں سے رستے ہوئے سیوریج کا پینے کے پانی کی لائنوں سے مل جانا اب کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے بڑے شہروں اورخصوصا کراچی میں تو یہ عام بات ہے۔

 صنعتوں سے نکلنے والے آلودہ پانی کی ملاوٹ سے پینے کے پانی میں مضر دھاتوں خصوصا سیسہ کیڈ میم اورمرکری وغیرہ کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور پی سی ایس آئی آر کی 1999کی ایک رپورٹ جو آئی یو سی این کے میگزین جریدہ میں شائع ہوئی تھی کے تحت کورنگی کے صنعتی علاقے کا زیر زمین پانی صحت کے لیے انتہائی مہلک ہے۔اسی جریدے میں ای پی اے کے حوالے سے ایک اور رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ادارہ تحفظ ماحول ای پی اے نے کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں کنووں اور بورنگ کے پانی کے نمونوں کا کیمیائی تجزیہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ ملیر  کورنگی   ضلع جنوبی کراچی ، محمود آباد   اورنگی ٹاؤن   نارتھ کراچی  لیاری اور فیڈرل بی ایریا کے زیر زمین پانی کے نمونوں میں WHO کے مقرر کردہ معیار سے کئی گنا زیادہ دھاتیں اور زہریلے مواد موجود ہیں۔خصوصا کیڈمیم 16 ، گدلا پن یا مٹی 9 اور فضلاتی آلودگی 3گنا زیادہ پائی گئی۔

 آلودہ پانی انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہورہا ہے ،کراچی واٹر پارٹنر شپ کے مطابق صرف  کراچی میں سالانہ  30,000اموات ریکارڈ کی گئی ہیںجن میں بچوں کی تعداد20 ہزار ہے۔

کراچی میں پانی کی کمی اور آلودگی دور کرنے اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے منصوبے زیر غور ہیں اور بہت سوں پر عمل بھی شروع ہوچکا ہے سر دست وہ ہمارا موضوع نہیں ہے اور نہ ہی ایک عام صارف کو اس سے کوئی دلچسپی ہے لیکن صورت حال میں بہتری کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے یہ سوال ہم سب کے لیے زیادہ اہم ہے۔

 کیا ایک عام آدمی کچھ کرسکتا ہے ؟ کیا وہ اپنے حالات میں تبدیلی لاسکتا ہے؟آئیے اس سوال کے جواب کی کھوج کرتے ہیں۔
 ہم کیا کرسکتے ہیں؟

 آلودہ پانی کے حوالے سے چند سادہ ،آسان اور آزمودہ طریقے جن کو اختیار کرنے سے صحت اور ماحول پر انتہائی خوشگوار اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔

ہم اپنی اور اپنوں کی صحت کے لیے کم از کم پانی ابال کر تو پی ہی سکتے ہیں اور اگر اتنا تردد بھی نہیں کرنا چاہتے تواس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ شیشے کی شفاف بوتلوں میں پانی بھر کر دھوپ میں چند گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔آپ ان بوتلوں کو چھت پر یاگیلری وغیرہ میں جہاں دھوپ اچھی آتی ہو رکھ سکتے ہیں۔سورج کی شعاعیں پانی کو آلودگی سے پاک کر دیں گی ۔اگر پانی بہت گدلا ہو تو پہلے پھٹکری سے صاف کر لیں کیونکہ سورج کی شعاعیں صرف 10cm تک ہی جراثیم کو مار سکتی ہیں۔

 ڈائریا سے بچنے کے لیے اپنے گھر میں اور خاص طور پر چھوٹے بچوں کو صابن کے استعمال کی ترغیب دیں خصوصابیت الخلا سے آکر صابن سے ہاتھ دھونا لازمی قرار دیجیے ، بچوں کو بھی یاد دلاتے رہیے اور ان کی نگرانی بھی کیجیے کہ وہ ایسا کر بھی رہے یا نہیں۔ یہ کوئی ٹوٹکا نہیں ہے بلکہ اس عمل کو باقاعدہ منصوبے کی صورت میں ایک آبادی پر آزمایا گیاتھا اور وہاں ڈائریا میں 30 فیصد کمی پائی گئی۔

 آلودہ پانی میں سے ڈائریا کے جراثیم کے خاتمے کے حوالے سے ہم اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا ایک تجربہ پیش کریں گے۔اگرچہ یہ بھی کوئی نیا طریقہ نہیں ہے لیکن اس کی آزمائش اور سائنسی بنیادوں پر چھان پھٹک کر نتائج مرتب کرنے کا سہراڈاکٹر انور حق کے سر ہے جو مائیکرو بائیولوجسٹ ہیں اور میری لینڈ بائیو ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ بالٹی مور میں میرین بائیو ٹیکنالوجی سے وابستہ رہے ہیں (ڈاکٹر انور حق جامعہ کراچی کے طالب علم رہ چکے ہیں اوراپنی استادمرحومہ ڈاکٹر نسیمہ ترمذی سے خاص عقیدت رکھتے ہیں۔) ڈاکٹر صاحب نے بنگلہ دیش میں پھیلتی ہوئی ہیضے کی بیماری پر قابو پانے کے لیے پرانی سوتی ساڑھی کا انتخاب کیا اوربرتن پر اس کی چار تہیں لگا کر اس سے پانی چھانا انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اس طریقے سے پانی ننانوے فیصد تک ہیضے کے جراثیم سے پاک ہوگیا ۔  ان کا کہنا ہے کہ پرانی سوتی ساڑھی کے ڈھیلے اور روئیں دار ریشوں میں ہیضے کے بیکٹیریا پھنس جاتے ہیں اور چھن کر برتن میں جانے والا پانی ان سے پاک ہوجاتا ہے۔ ان بیکٹیریا کی ساخت جھینگوں جیسی ہوتی ہے ۔اس ترکیب کی افادیت کو بین الاقوامی صحت کے اداروں نے نہ صرف مانا بلکہ اس کے عام استعمال کی بھی اجازت دی۔ابتدا میں تجرباتی طور پر یہ ترکیب بنگلہ دیش کے 65 دیہاتوں میں ایک لاکھ 33 ہزار افراد پر آزمائی گئی جس سے ان علاقوں میں اس سال صرف0.65 فیصد ہیضے کے کیس ریکارڈ ہوئے۔اب یہ ترکیب وہاں پانی صاف کر نے کے لیے عام ہوچکی ہے ۔ڈاکٹرانور حق کے اس پروجیکٹ میں ان کے ساتھ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن واشنگٹن کا ادارہ بھی شامل ہے۔

   مندجہ بالا تمام کم خرچ اورآسان لیکن بہت زیادہ مفید تراکیب سے ہم بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں،خصوصا پرانی ساڑھی سے پانی چھاننے کی ترکیب سے تو دیہی سطح پر پانی کی آلودگی کے حوالے سے انقلاب برپا ہو سکتا ہے ۔ساڑھی کی جگہ پرانے سوتی کپڑے سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔

 ان ترکیبوں پر خود بھی عمل کیجیے اور دوسروں کو بھی ان کی ترغیب دیجیے، اس سے نہ صرف آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی صحت بہتر ہوگی بلکہ کچھ کرنے کا ایک خوشگوار احساس بھی ہوگا ۔ ایک قیمتی خوشی اور ایک انمول طمانیت   خوشیوں کی ان خوبصورت تتلیوں اور سکون کے جگنووں کو مٹھی میں بند کر لیجیے کہیں دیر نہ ہو جائے۔اس موسم گرما میں اپنے اور دوسروں کے لیے بہار کا پیامبر بن جائیے۔ 


Monday, February 25, 2008

نہ وہ سورج نکلتا ہے نہ اپنے دن بدلتے ہیں

کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کوکیمیائی زہر سے خطرات
 ان کیمیکل کو کیڑے مار ادویات نہیں بلکہ صرف”زہر“ کہیے

 حد نظر تک لہراتے رنگ برنگے آنچل،دور دور تک پھیلے ہوئے چاندی جیسی کپاس کے کھیت اور ان کو چن کر سونا بناتے ہاتھ ، یہ ہاتھ ان ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کے ہیں کہ جنہوں نے اپنے نازک کاندھوں پر پاکستان کی پوری کاٹن ، ٹیکسٹائل اورکلوتھنگ انڈسٹری کا بوجھ سنبھالا ہوا ہے۔یہ صنعت اس زرعی ملک کے لیے خطیر زرمبادلہ فراہم کرنے کا سبب ہے اور پاکستان دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار کے حوالے سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔۔۔یہاں تک تو سب ٹھیک ہے ، ہم سب ان حقائق کو جانتے اور مانتے ہیں اور دنیا بھر میں”کاٹن ، ٹیکسٹائل اور کلوتھنگ انڈسٹری“ کی زنجیر کی اہم کڑی ہونے پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں لیکن ۔۔۔ اس کے بعد ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے،بے خبروں کا تو ذکر ہی کیا جو ہر طرح سے ”با خبر“ہیں وہ بھی چپ کا لبادہ اوڑھے کھڑے ہیں کیونکہ اسی میں ان کا فائدہ ہے۔

 دنیا بھر کے سروے اور تجزیوں کے نتائج چیخ چیخ کر اعلان کر رہے کہ پاکستان بھر میں کپاس کے کھیتوں میں کام کرتی اوراس چاندی سے سونا بناتی پاکستانی عورت شدید خطرات سے دوچار ہے ، پورے ملک کے کھیتوں پر چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر کا 80%کپاس کے کھیتوں پر چھڑکا جاتا ہے اور یہ زہر وہاں کام کرنے والی خواتین کی سانسوں میں رچ بس جاتا ہے۔دوسروں کو خوش حالی دینے والی ان خواتین کوان کھیتوں سے سر درد، جلدی بیماریوں اورمختلف اعضا کا کینسر تحفے میں ملتا ہے۔



 یہاں ہم اس بات کی صاف الفاط میں وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ کیڑے مار کیمیکل کو” ادویات“ کہنا لوگوں کو کھلا دھوکا دینا ہے ، یاد رکھیے کہ یہ کسی صورت دوا نہیں کہلا سکتے یہ تو صرف اورصرف زہر ہیں لہذا انہیں صرف ”زہر“ ہی کہا جائے ۔

 بدحال اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والی عورت کو تو ان خطرات کا ادراک ہی نہیں ہے لیکن جو لوگ اس بات کو جانتے ہیں وہ اپنی اپنی معاشی اور سماجی مجبوریوں کے باعث چپ ہیں۔ ان کی یہ خاموشی انتہائی مجرمانہ ہے۔

 حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کہ جس میں کھیتوں میں کام کرنے والی مختلف خواتین کے خون کے نمونوں کا جب تجزیہ کیا گیا تو 42%نمونے ان زہریلی ادویات سے آلودہ پائے گئے۔صرف10%خون کے نمونے نارمل پائے گئے۔

 پاکستان میں کپاس کی کاشت سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک موسمی سرگرمی کہلا ئی جا سکتی ہے لیکن اس سے وابستہ افراد کی تعداد اسے ایک اہم تجارتی سرگرمی میں شمار کرتی ہے۔کپاس چننے کا زیادہ تر کام خواتین ہی کرتی ہیں ۔ اندازہ اگست سے فروری تک 20لاکھ کپاس چننے والے افراد پاکستان کے اس ایکسپورٹ انجن کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔

 قدرتی وسائل کے ترقیاتی اور پیداواری عمل میں عورت کا کردار پورے معاشرے سے پیوست نظر آتا ہے۔اعداد و شمار کے بہی کھاتوں میں کہیں نظر نہ آنے والی یہ ہستی پاکستان کے شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے کام کو خاطرخواہ تسلیم کرنے میں ابھی بھی بہت سی رکاوٹیں باقی ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو کپاس کی پیداوارمیں بہترین سمجھے جاتے ہیں۔2004 کے اعداد و شمار کے مطابق کپاس کی تمام عالمی پیداوار کا 50% چین ،انڈیا اور پاکستان سے حاصل ہوا تھا ۔اور تقریبا ایک ارب لوگ دنیا بھر میں براہ راست اوربالواسطہ طور پر اس صنعت سے وابستہ ہیں ۔

  زرعی ملک ہونے کے ناتے ہماری زراعت کا زیادہ تر دارو مدار کپاس پر ہی ہے۔ہر سال کپاس کی پیداوار سے خطیر زرمبادلہ حاصل کیا جاتا ہے۔خصوصا سندھ کی آب و ہوا کپاس کی پیداوار کے لیے بہت زیادہ ساز گار ہے۔حیدرآباد، نوبشاہ،میرپور خاص ، سانگھڑ، سکرنڈ اور عمر کوٹ جیسے علاقے کپاس کی کاشت کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔سندھ میں کپاس کی چنائی کا عمل اکتوبر نومبر سے شروع ہوجاتا ہے۔اسے سندھی زبان میں چونڈو کہتے ہیں۔کپاس کی چنائی کا نوے فیصد کام خواتین انجام دیتی ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی تیز رفتاری ہے۔ وہ مردوں کے مقابلے میں کئی گنا تیزی ، مہارت اور بہت نرمی و نفاست سے یہ کام انجام دیتی ہیں۔مردوں کے کھردرے ہاتھ اوربھونڈا انداز اس نرم و نازک فصل کے لیے موزوں نہیں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کاشت کار اس کام کے لیے خواتین ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔کپاس چنتے ہوئے خواتین اپنے دوپٹے کو ایک خاص انداز سے اوڑھتی ہیں جسے کانبھو کہا جاتا ہے۔پشت پر اس دوپٹے کا تھیلا سا بن جاتا ہے جس میں وہ کپاس جمع کرتی جاتی ہیں۔انہیں کاٹن کے دوپٹے استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کیونکہ ریشمی کپڑے کا دوپٹہ کپاس کے معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 کپاس کا بیج جون میں بو دیا جاتا ہے اور اس کی پہلی چنائی نومبر سے شروع ہوتی ہے اور فروری تک جاری رہتی ہے۔اندازہ صرف سندھ اور جنوبی پنجاب میں کپاس چننے کے کام سے 20لاکھ سے زائد خواتین وابستہ ہیں۔

  عورت اپنی سماجی حیثیت میں خصوصا دیہی معاشرے میں مرد کے مقابلے میں ہر طرح سے کم تر تصور کی جاتی ہے ، اور اکثر جگہ تو گھر کے کام کاج ، بچے سنبھالنے کے ساتھ ساتھ گھر چلانے کے لیے بھی اسے ہی محنت کرنی پڑتی ہے لیکن ان سب ذمے داریوں کو اٹھانے کے باوجود وہ مرد کے مقابلے میں انتہائی کم تر وجود رکھتی ہے اور چند ایکڑ زمین بچانے کے لیے کہیں تا عمر اسے شادی اور ازدواجی زندگی کی خوشیوں سے محروم کردیا جاتا ہے اور کہیں نام نہاد غیرت کے نام پرکاری کردیا جاتا ہے۔ اسی کم تر حیثیت کی اس بے زبان عورت کا استحصال صرف گھر والے ہی نہیں کرتے بلکہ وہ جہاں بھی کام کرتی ہے اسے اسی سلوک اور رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ مرد مزدوروں مثلا کپاس پر اسپرے کرنے والے یا ٹریکٹرچلانے والوں کے مقابلے میں بہت کم اجرت پاتی ہے۔

 وہ پورا سال کپاس کی چنائی کے ان دنوں کا انتطار کرتی ہے کہ جب وہ کچھ روپے کما لے گی جس سے اپنے لیے ایک آدھ جوڑا اور بچے کے لیے کوئی کھلونا خرید لے گی ، بہت دن سے بیمار بچے کے لیے دوائی بھی آجائے گی لیکن یہاں بھی اس کے ساتھ ہیرا پھیری کی جاتی ہے ، کبھی پیسے کم دیے جاتے ہیں تو کبھی تول میں ڈنڈی ماری جاتی ہے۔کپاس کی چنائی انتہائی مشکل کام ہے ۔ تیز دھوپ میں انہیں سارا دن کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ ان خواتین کے کپڑے بھی پھٹ جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں ۔ کیڑے مکوڑے اور مختلف جانوروں سے ان بچوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

 تیز چنائی کرنے والی ایک خاتون اندازہ ایک من (چالیس کلو گرام) کپاس چن لیتی ہے۔ 1996/97کی ایک رپورٹ کے مطابق ان خواتین کی اجرت فی من 40 روپے تھی۔ جبکہ 2005/06میں یہ اجرت بڑھ کر50سے80روپے فی من تک پہنچ گئی۔جبکہ اس دوران کپاس کی قیمت کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور زمین داروں کا منافع کئی سو گنا بڑھ گیا۔لیکن اس غریب اورتعلیم سے بے بہرہ عورت کو نہ اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی کی خبر ہے اور نہ اپنے استحصال کا پتا ہے۔وہ یہ بھی نہیں جانتی کہ کنزیومر پرائزانڈکس میں اسی عرصے کے دوران 42% کا اضافہ ہوا۔یہ تو تھا مالی استحصال ، اس حوالے سے تو کبھی نہ کبھی صورت حال بدل سکتی ہے لیکن اس کام کے دوران اس کی صحت، زندگی اور اس کے بچوں کو جو خطرات لاحق ہیں وہ ناقابل تلافی ہیں۔

 پاکستان کے کھیتوں میں چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر کا80% کپاس کے کھتوں میں چھڑکا جاتا ہے ۔جس سے خواتین اور ان کے بچے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ان کھیتوں میں کام کرنے والی عورت مسلسل بیماریوں کی زد میں ہوتی ہے ۔تیز دھوپ اور ان زہر کے اثرات سے وہ جلدی امراض کا شکار ہوتی ہے۔ کیڑے مار زہرکا فصلوں پر کثرت سے اور بے سوچے سمجھے استعمال آج بھی پورے زور شور سے جاری ہے۔یہ زہر غیر نقصان دہ کیڑوں ،پرندوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور غذائی سلسلے کو بھی زہریلا بناتا ہے۔ یہ زہریلا مواد ان خوتین کے جسموں میں بھی ذخیرہ ہوتا ہے اور پھراس زہر کا کچھ حصہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے تک منتقل ہوجاتا ہے۔ اکثر اوقات بچے اپنی ولادت سے قبل ہی ان کیمیکل سے متاثر ہوجاتے ہیں اور یہ اثرات ان کی پیدائش کے وقت ظاہر بھی ہوجاتے ہیں۔ان میں کچھ کیمیکل تولیدی نظام کو متاثر کرتے ہیں ،کچھ ذہنی صلاحیت کو کم کرتے ہیں اور کئی بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کو کم زور بنادیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کیمیکل کا اثر رحم مادر میں ہی ہوجاتا ہے لیکن اس کے نمایاں اثرات بچوں پر نوجوانی میں ظاہر ہوتے ہیں ۔

 کھیتوں پر چھڑکے جانے والا یہ زہر صرف کپاس ہی نہیں بلکہ سبزیوں پر بھی وافر مقدار میں چھڑکا جاتا ہے جس سے یہ زہر باآسانی ہماری غذائی زنجیر میں شامل ہوجاتا ہے ، کھیتوں کا یہ زہر آلود پانی بہہ کر ندی نالوں اور دیگر آبی ذخائر میں شامل ہوجاتا ہے ۔ یہی آلودہ پانی زمین میں جذب ہوکر زیر زمین موجود پانی کے ذخائر میں بھی شامل ہوجاتا ہے ۔ دیہاتوں میں کنوؤں کے پانی کا استعمال بہت زیادہ ہے ۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کیڑے مار زہر سانسوں، غذا اور پانی کے ذریعے انسانی جسم میں باآسانی داخل ہوجاتا ہے ۔

 زراعت میں کیمیائی ادویات کا استعمال ترقیاتی منصوبوں کے تحت تیسری دنیا کے ممالک میں متعارف کرایا گیا۔پاکستان میں 1960 کی دہائی میں سبز انقلاب کے نام پر یہ کیمیائی کھادوں اور ان کیڑے مار زہروں کا استعمال شروع ہوا۔ سبز انقلاب میں استعمال ہونے والے کیمیائی کھاد اور زہریلی ادویات سے انسان سمیت دیگر جان داروں اور ماحول کو شدید جانی اور ماحولیاتی نقصان پہنچتا ہے۔ ان وجوہات کی بنیاد پر دنیا بھر میں کھیتی باڑی اور حق خود ارادیت برائے خوراک اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے۔روایتی طریقہ زراعت سبز انقلاب کے تحت ختم ہونے کے بعد ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کی زرعی و کیمیائی صنعت کی اجارہ داری قائم ہو کر رہ گئی ہے۔دراصل ترقیاتی منصوبوں کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کو پروان چڑھانے اور منافع کمانے کا جدید طریقہ تھا جس کے ذریعے بین الاقوامی زرعی کیمیائی صنعت نے بیج ،کھاد ،ادویات،ٹریکٹرز ،ٹیوب ویل اور دیگر اشیا کے کاروبار کو بھر پور فروغ دیا۔زراعت کے شعبے سے زرعی و کیمیائی صنعت کا منافع نچوڑنے کا بڑھتا ہوا رحجان عوام کو بھوک و افلاس کی طرف مزید دھکیل رہا ہے۔

صنعتی اور زرعی استعمال سے لے کر صحت کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی ایک طویل فہرست ہے۔اس صنعت کا دائرہ زراعت اور صحت سے لے کر خوراک کی صنعت تک پھیلا ہوا ہے۔اس کاروبار سے عالمی سطح پر بڑی بڑی کمپیاں منسلک ہیں جو دنیا کے ہر ملک میں ادویات کی تیاری ، فراہمی اور کاروبار سے کسی نہ کسی حوالے سے منسلک ہیں۔ اس طرح زرعی و کیمیائی کمپنیاں مضبوط ترین بین الاقوامی کمپنیوں کے صف میں شامل ہیں۔

کیمیائی کاروبار ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کا منافع کمانے والا ایک اہم بازو ہے۔جس کی وجہ سے اس کاروبار کے خلاف دنیا بھر جمع ہونے والی سائنسی تحقیقات عوامی خدشات اور تجاویز کو یکسر مسترد کیا جاتا ہے بلکہ زرعی و کیمیائی کاروبار کو فروغ دینے والی کمپنیوں کے دلائل کو ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔بین الاقوامی اداروں، عالمی اور مقامی حکومتوں کی طرف سے کیمیائی صنعت کی پشت پناہی نے کیمیائی ادویات میں کمی کے بجائے اس کے استعمال کو اور بڑھادیا ہے۔

کیمیائی ادویات کے خلاف عالمی سطح پر مہم چلائی جارہی ہے جس میں کئی ادارے ،تنظیمیں ، سیاسی پارٹیاں، کسان گروہ شامل ہیں۔اس مہم کی ایک وجہ ان کمپنیوں کی ادویات کا زہریلا پن ہے جو کہ نہ صرف انسانی صحت پر شدید منفی اثرات رکھتا ہے بلکہ ماحولیات کے نظام کو بھی یکسر تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔اگرچہ بین الاقوامی سطح پر سرگرم تنظیموں اور اداروں کی بھر پور کوششوں سے انسان اور ماحول کے لیے خطرناک کیمیائی ادویات کے استعمال کے خلاف متحدہ بنانا ممکن ہوسکا ہے اور چند ادویات پر مکمل پابندی بھی لگائی گئی ہے لیکن ان اقدامات سے صورت حال میں عموعی سطح پر بہتری پیدا نہیں ہوئی۔

جدید دور کو بین الاقوامی کمپینوں یا کارپوریشنوں کا دور کہنا بے جا نہ ہوگا۔ان کارپوریشنوں کے اعلی عہدیداران کا امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے حکمران طبقے سے گہرا تعلق ہے۔یہ کمپنیاں ان ممالک میں انتخابات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اس لیے ہر بر سر اقتدار حکومت کو ان کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا پڑتا ہے۔ یہ کمپنیاں امریکی صدر ، سینیٹ اور کانگریس کے اراکین کے انتخابی مہم پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے علاوہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انہیں نقد چندہ بھی دیتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ سبھی لوگ اس تحقیق سے متفق ہوں،خاص طور پر کیمیکل انڈسٹری کے لوگ کیونکہ ان کی اپنی سوچ ہے اور وہ ہمیشہ تصویر کا وہی رخ دیکھتے ہیں جو ان کے لیے منفعت بخش ہوتا ہے ۔حالانکہ یہ مسئلہ انتہائی گمبھیر ہوچکا ہے ۔کیونکہ کیمیکل انڈسٹری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کسی بھی پروڈکٹ کے لیے پہلے سائنسی تحقیق مکمل کرے لیکن اربوں ڈالر کا کاروبار کرنے والی یہ انڈسٹری اس کام کے لیے تیار نہیں ہوتی ہے۔اگرچہ کچھ کمپنیوں نے مشکوک کیمیکلز کا استعمال رضاکارانہ طور پر ترک کردیا ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر کمپنیوں نے اپنی نفع پسندی کے رحجان کو نہیں چھوڑا اور وہ یقینا اس وقت تک اس کام کو جاری رکھیں گی جب تک ان پر قانونی طور پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ہم پورے وثوق سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرہ ارض پر انسانیت کو بقا کا شدید خطرہ لاحق ہے کیونکہ ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنے جسم میں مصنوعی کیمیکل کی ایک خاص مقدار کے ساتھ اس دنیا میں جنم لے رہا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ انسانوں نے جس طرح ان ہزارہا کیمیائی مرکبات کا بے دریغ استعمال شروع کر رکھا ہے ، وہ فی الحقیقت ایک ایسا بڑا تجربہ ہے جو کسی بڑی لیبارٹری میں نہیں ہورہا ہے بلکہ حقیقی زندگی میں ہورہا ہے اور یہ کسی چوہے وغیرہ پر نہیں بلکہ کرہ ارض کے تمام انسان اس خطرناک تجربے کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں ۔
 پاکستان میں ان کیمیائی زہروں کی درآمد کا آغاز 1954میں ہوا ۔ ابتدا میں ان کا استعمال ٹڈی دل، مچھروں یعنی ملیریا کے خاتمے سمیت گنا، کپاس،چاول اور تمباکو کو لاحق بیماریوں اور انہیں فصلی کیڑوں سے بچانے کے لیے کیا جاتا تھا ۔ جبکہ کسانوں کو یہ کیمیائی زہر اور اسپرے امدادی قیمت پرفراہم کیا جاتا تھا ۔حکومت کی جانب سے کھیتوں پر مفت فضائی اسپرے بھی کیا جاتا تھا ۔ان کیمیائی زہروں کا 10%سبزیوں پر بھی کیا جاتا تھا ۔ ابتدا میں ان اقدمات کا مثبت نتیجہ نکلا اور پیداوار میں اضافہ ہوا لیکن یہ دراصل دھوکا تھا اور چند سال بعد ہی زمین کی پیداواری قوت گھٹنے لگی ۔ کیمیائی کھادوں اور کیمیائی زہروں کے اندھا دھند استعمال سے زمین کی قدرتی نمو کی طاقت گھٹتی چلی گئی اورآخری حدوں تک جا پہنچی۔

 پاکستان میں ان خطرناک کیڑے مارکیمیائی زہروں کی فروخت نجی شعبے میں ہونے اور اس کے آزادانہ استعمال کے باوجود سرکاری محکموں کا دعوی ہے کہ ان زہروں کا استعمال متعلقے محکموں کی نگرانی میں ہوتا ہے ، اگرچہ کہ حقائق کچھ اور ہیں ۔زائد المعیاد زہروں(Expired) کا استعمال بھی عام ہے ۔ایسے آؤٹ ڈیٹڈ کیمیکل زیادہ تر لوگ چین سے ڈرموں میں منگواتے ہیں پھر مقامی طور پر ان کی چھوٹی اور خوبصورت پیکنگ کرکے فروحت کے لیے مارکیٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔بیچنے والوں کو اس میں 50 تا 55 فیصد تک کمیشن ملتا ہے۔

 فصلوں پر اگر ان کیمیکل کو چھڑکنا نا گزیرہو تب بھی یہ ایک انتہائی اہم اورذمے دارانہ اور تیکنیکی کام ہے۔  ان کیمیکل کے انتخاب، وقت،استعمال اور مقدارتک سبھی کچھ ماہرین کی ذمے داری ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ بیچنے والا دکان دار ہی سارے فرائض انجام دیتا ہے ، سادہ لوح کسانوں کی وہی رہنمائی بھی کرتا ہے اور ان کے لیے ان زہروں کا انتخاب بھی خود ہی کرتا ہے۔صورت حال کی گمبھیرتا اور متعلقین کی ”ذمے داریوں“ کا حال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے صحت  WHOنے جن خطرناک کیمیائی زہروں پر پابندی لگائی ہے اور انہیں انسانی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے وہ پاکستان میں باآسانی مل جاتے ہیں اور استعمال بھی ہو رہے ہیں۔ڈی ڈی ٹی تو ہمارے گھروں تک بھی پہنچی ہوئی ہے اسے ہم فنس کے نام سے گھروں میں استعمال کر رہے ہیں ۔حتی کہ مچھر مار ادویات میں بھی یہ موجود ہے ۔

 دنیا بھر میں 12خطرناک کیمیائی زہروں کی درآمد برآمد پر پابندی ہے جنہیں ترقی یافتہ ممالک "Dirty Dozen"کے نام سے یاد کرتے ہیں ان میں سے اکثر ہمارے ملک میں باآسانی مل جاتے ہیں جس کا ثبوت ڈی ڈی ٹی ہے ۔

 ترقی یافتہ ممالک نے ان خطر ناک کیمیکل کو مسترد کردیا ہے اور اب وہ دوبارہ فطرت کے قریب ہونے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں اور ایسے تمام قدرتی طریقوں کو  Integrated pest managementکا نام دیا گیا ہے۔اس کے تحت تمام روایتی طریقہ کار کو دوبارہ رائج کرنا ہے اور ان کیمیکل کے بجائے قدرتی جراثیم کش مثلا نیم وغیرہ کی مصنوعات کا استعمال بڑھانا ہے ۔

 ہم کبھی بھی ایسے معاشرے کو تشکیل نہیں دے سکتے جو خطرات سے بالکل پاک ہو تاہم کم از کم سطح پر عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ وہ کون سی کیمیائی زہر ہیں جو انہیں اور ان کے بچوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔نیز وہ اس چیز کو بھی جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اب تک سائنس کی تحقیقات کہاں پہنچ چکی ہیں ۔

1973 کے کیڑے مار ادویات کے قوانین اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک و زراعت کے بین الاقوامی ضابطہ اخلاق کے تحت کیڑے مار ادویات کے پھیلا اور استعمال کے قوانین اور 2005 کی قومی ماحولیاتی پالیسی کے تحت Integrated Pest Management (IPM)  کو ترجیح دینی چاہیے یعنی زیادہ سے زیادہ قدرتی طریقوں کا فروع اور کیمیائی زہر سے اجتناب۔

کیمیائی زہروں سے مسموم اس فضا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب 1962میں سائنس داں ریچل کارسن کی کتاب خاموش بہار Silent Spring منظر عام پر آئی ۔ اس کتاب نے پہلی مرتبہ سر سبز انقلاب کا قصیدہ پڑھنے والوں کی سوچ کو جھنجوڑا اور فصلوں پر چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر کے نقصان دہ اثرات کو سائنسی حقائق کی روشنی میں پیش کیا۔ان اثرات میں جنگلی حیات کی تباہی، قدرتی توامن میں بگاڑ اور انسان کے ارد گرد کے ماحول کا زہر آلودہ ہوجانا شامل ہیں۔ کارسن کا موقف تھا کہ جب کیڑے مار دوا سے غیر نقصان دہ کیڑے بھی ختم ہوجائیں گے تو نتیجے کے طور پر وہ کیڑے بھی مر جائیں گے جن کی خوراک کا دارو مدار ان کیڑوں پر ہے۔اور یوں بہار اجڑ جائے گی۔جب یہ حقائق سامنے آئے تو لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔جس نے ایک تحریک کو جنم دیا۔ریچل میرین بائیولوجسٹ تھی اورامریکی ادارے فش اینڈ وائلڈ لائف سے وابستہ تھی۔اس کی کتاب نے امریکی سماجی زندگی میں ایک خاموش انقلاب کی بنیادرکھی۔ریچل کا انتقال 56 کی عمر میں ہوا۔

 ریچل کی یہ کتاب 1962 میں لکھی گئی تھی اور46 سال گذرنے کے باوجود پاکستان کے تناظر میں اس کتاب کی سچائی برقرار ہے۔
 کارسنکی کتاب سائیلنٹ اسپرنگ جس کے اب تک 30 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اس میں اس نے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کے جوابات ہمیں لازمی تلاش کرنا چاہیے۔یہ کتاب دراصل انسان کی بنائی ہوئی حشرات کش ادویات کے نتیجے میں ابھرنے والے خطرات کے متعلق ایک جامع اور ہنگامی نوعیت کی تنبیہہ تھی۔انسانیت ہمیشہ ریچل کارسن کی شکر گذار رہے گی۔