Tuesday, April 29, 2008

پانی کی بڑھتی ہوئی آلودگی اور صحت کے مسائل

پانی ذندگی کی ضمانت ہے۔۔۔۔یہ وہ حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اب یہ الفاظ اپنی معنویت کھو رہے ہیں ۔ پانی جو زندگی کے لیے آب حیات کی حیثیت رکھتا ہے اب کہیں کہیں یہ انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بھی بن رہا ہے۔

  یہ سچ ہے کہ زندگی کا تصورپانی کے بغیر ممکن نہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ دریا سمندر اور جھیلوں کے کنارے ہی انسانی تہذیب پھلتی پھولتی اور نشوونما پاکر ترقی یافتہ معاشروں میں ڈھلتی رہی ہے۔گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ اگرچہ سمندر اور دریا اپنے راستے بدلتے رہتے ہیں   لیکن یہ ایک جغرافیائی اور ارتقائی عمل ہوتا ہے جو قدرتی نظام کے تابع ہوتا ہے اور سیکڑوں اور ہزاروں سال میں مکمل ہوتا ہے۔ لیکن آج اگر پانی اپنا کام بدل رہا اور انسانی جاں کے زیاں کا سبب بن رہا ہے تو یہ کسی قدرتی عمل کا حصہ نہیں ہے بلکہ انسان کی اپنی پروائی کا شاخسانہ ہے۔


 زمین پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت موسموں کو بے ترتیب کر رہا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر پانی کے وسائل پر پڑ رہا ہے۔کرہ ارض پر پانی کے وسائل کم سے کم ہورہے ہیں اورآلودگی حد سے بڑھ رہی ہے۔ یہ آلودہ پانی انسانی جانوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہورہا ہے۔پانی کے وسائل پر کام کرنے والے ایک ادارے کراچی واٹر پارٹنر شپ کی تحقیق کے مطابق  دنیا بھر میں سالانہ 10 ملین سے زائد لوگ پانی کی بیماریوں سے مر رہے ہیں اورترقی پذیر ملکوں میں پھیلی ہوئی 37 مہلک بیماریوں میں سے 21 کا تعلق گندے پانی اور سیوریج کے ناقص نظام سے ہے۔

ہمارے ملک میں تو صورت حال اور دگرگوں ہے  یوں تو یہاںکسی قدرتی وسیلے کی کوئی قدر ہے اورنہ اسے بچانے کی فکر اور آبی ذخائر کے ساتھ تو ہمارا سلوک انتہائی  شاندار ہے ، ہم اپنے ان قیمتی ذخائر یعنی سمندر، دریاؤں ، جھیلوں اور چشموںکو بطور  گٹر استعمال کرتے ہیں اور تمام گھریلو ، صنعتی اور زرعی کوڑا کرکٹ ، سیوریج اور فضلہ ان ہی میں بہا دیتے ہیں۔ اب ان ذخائر کے پانی کا کیا حال ہوگا اس کی وضاحت کے لیے نہ کسی پیچیدہ اعدادو شمار کی ضرورت ہے اور نہ بھاری بھرکم سائنسی اصطلاحات کی۔ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ پانی انسانی جانوں کے لیے کسی  واٹر بم  کا کام انجام دیتا ہے۔

  حکومت کے بلند وبانگ دعووں سے ایک عام آدمی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اسے تو پیٹ بھر روٹی اور دو گھونٹ صاف پانی کے درکار ہیں جس سے وہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ سکے۔ دو گھونٹ صاف پانی جو پاکستان میں جنس نایاب بنتا جا رہا ہے لوگوں تک پہنچانا یہ وہ کم از کم ذمے داری ہے جو حکومتوں پر عائد کی جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت کی ترجیحات کیا ہیں؟ ۔۔۔اس حوالے سے کچھ نہ کہنا ہی بہتر ہے۔
 پاکستان کے شہری کس قدر آلودہ پانی پیتے ہیں اس کا اندازہ درج ذیل رپورٹوں سے باآسانی ہوسکتا ہے۔

 PCSIR ہمارے ملک کا ایک معتبر سائنسی ادارہ ہے،روزنامہ جنگ میں اشاعت پذیر اس کی ایک رپورٹ پانی کی شدید آلودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس کے مطابق کراچی ، لاہور ،اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں جو پانی پینے کے لیے استعمال ہورہا ہے اس کا 75 فیصد حصہ پینے کے لیے مضر بلکہ ناقابل استعمال ہے۔مذکورہ ادارے نے پانی کے یہ نمونے ان شہروں کے مختلف اسکولوں کے نلکوں سے حاصل کیے تھے۔

 سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام کے ڈپارٹمنٹ آف انرجی اور انوائرنمنٹ کے ایک جائزے میں بھی تقریبا یہی نتائج حاصل ہوئے۔ اس جائزے میں پینے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے 295 نمونے نہروں کنووں   تالابوں  ہینڈ پمپوں اور ٹھٹھہ، بدین اور تھر پارکر میں سرکاری اداروں ( میونسپل کمیٹیوں) کی طرف سے فراہم کیے جانے والے ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے۔ نہروں اور نالوں سے حاصل کردہ تو تقریبا سو فیصد نمونوں کو تھرموٹالورینٹ کولیفورم سے آلودہ پایا گیا۔ہینڈ پمپوں  موٹر پمپوں  کنووں اور میونسپل اداروں کی طرف سے فراہم کیے جانے والے پانی کے 76 نمونوں کو تھرموٹالورینٹ کولیفورم سے آلودہ پایا گیا۔ان جائزوں سے یہ بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ پینے کے لیے استعمال ہونے والا آلودہ پانی اپنے مقام اجرا سے ہی آلودگی کا شکار ہوجاتا ہے۔

 پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جس کی حالیہ آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے اورشرح آبادی یہی رہی تو امید ہے کہ 2020 تک تین کروڑ ڈھائی لاکھ تک پہنچ جائے گی ۔کروڑوں کی آبادی والے اس شہر میں پانی کی نہ صرف قلت ہے بلکہ جو پانی میسر ہے وہ بھی انتہائی آلودہ اور صحت کے لیے مضر ہے۔ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے شہریوں کویومیہ695 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ پانی کی فراہمی کے دو بڑے ذرائع حب ڈیم اور دریائے سندھ ہیں ، حب ڈیم سے پانی کی فراہمی 30 سے 75ملین گیلن تک ہوتی ہے اور اس کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے جبکہ دریائے سندھ سے645 ملین گیلن پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔شہریوں کو پانی فراہم کرنے سے قبل صاف تو کیا جاتا ہے مگر صفائی کے ناقص انتظام کے سبب مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے پانی پھر آلودگی کا شکار ہوجاتا ہے۔اگرچہ فراہمی سے پہلے پانی کو کراچی واٹر اور سپلائی بورڈ کے سی او ڈی ہلز  پپری  گھارو اور سپر ہائی وے فلٹر پلانٹ سے گذارا جاتا ہے۔فلٹر اور ٹریٹمنٹ کے بعد یہاں پانی کا معیار بہتر ہوکر عالمی ادارہ صحت کے معیار کے قریب ہوجاتا ہے۔ پانی کو ٹریٹمنٹ کے عمل سے گذارنے کے لیے ایک خاص مدت کے لیے روکنا ضروری ہوتا ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے مقررہ مدت سے کم وقت میں پانی کو چھوڑ دیاجاتا ہے۔

 فلٹر پلانٹ میں ٹریٹمنٹ کے تمام مرحلوں سے گذارنے کے بعد پانی میں کلورین کی ایک خاص مقدار ڈالی جاتی ہے۔اس عمل کو کلورینیشن کہتے ہیں جس کے بعد پانی پینے کے لیے محفوظ ہوجاتا ہے لیکن عملا ایسا ہوتا نہیں ہے اورڈسٹری بیوشن سسٹم میں پانی دوبارہ آلودگی کا شکار ہو کر صارف تک پہنچتا ہے۔پانی کے آلودہ ہونے کی اہم وجوہات میں فراہمی آب کی بوسیدہ لائنیں ہیں۔  یہ لائنیں پرانی ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ سے رس رہی ہیں ۔ان چھوٹی اور بڑی پائپ لائنوں کی زندگی مکمل ہوچکی ہے لیکن وسائل کی کمی کے باعث پورے سسٹم کو یکسر تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ البتہ مختلف اوقات میں مختلف علاقوں مرمت کا کام ہوتا رہتا ہے۔ان پرانی پائپ لائنوں میں جگہ جگہ خصوصا جوڑوں میں سوراخ ہوگئے ہیں۔زمین کی نا ہمواری ، ہوا میں نمی اور زیر زمین پانی کی سطح بلند ہونے سے اس مسئلے نے مزید شدت اختیار کی ہے۔سیوریج کا پانی ان سوراخوں سے سے پائپ لائنوں میں چلا جاتا ہے۔اس کے علاوہ گھروں میں لوگوں نے پائپ لائنوں سے پانی کھینچنے کے لیے سکشن پمپ لگا رکھے ہیں لہذا جب لائنوں میں پانی نہیں ہوتا ہے تو ایک پریشر پیدا ہوتا ہے جو سیوریج کے پانی کو جو گٹر لائنیں بند ہونے کی وجہ سے پانی کی پائپ لائنوں کے ارد گرد جمع رہتا ہے کھینچ لیتا ہے ۔جب پائپ لائنوں میں پانی پریشر کے ساتھ سفر کرتا ہے تو ان سوراخوں سے رستا بھی رہتا ہے۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پانی کی کمی کاشکارکروڑوں کی آبادی والے اس شہر میں 40% ۔ جبکہ25% یہ انتہائی کمیاب پانی ٹپکتے نلکوں ، دھلتی کاروں اور وسیع و عریض لان میں پیڑوں پودوں کو دے کر ضائع کردیا جاتا ہے۔

کراچی کے شہری کس قدر قدر آلودہ پانی پیتے ہیں ، آئیے یہ بھی جان لیجیے ۔

  ڈاکٹر مبینہ آگبوٹ والاکی تحریر کردہ ایک رپورٹ Environmental Health in Sindh جو آئی یو سی این کی کتابSindh state of Environment & development میں شائع ہوئی تھی، کے مطابق  1997 میں کراچی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پینے کے پانی کے دو سو ترانوے نمونوں کو جب چیک کیا گیا تو ان میں صرف اڑتالیس یعنی تقریبا سولہ فیصد کو پینے کے لیے محفوظ پایا گیا۔پھر جن دو سو تینتیس پانی کے نمونوں کو جانچا گیا تھا ان میں سے تریسٹھ فیصدکو ایم پی این 507 سے آلودہ پایا گیا۔

 کراچی ہی میں 2000 میں کیے گئے ایک اور سروے کے مطابق گھریلو استعمال کے لیے جمع کیے جانے والے پانی میں سے کوئی 75فیصد تھرمو ٹالورینٹ کولیفورم سے متاثر تھے۔ایسے پانی میں ای کولی بھی متفرق شرح میں پائی گئی۔ای کولی کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ پینے کے پانی کہیں سے انسانی فضلہ بھی شامل ہورہا ہے۔عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پینے کے صاف پانی میں ای کولی ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔

 پانی میں اتنی زیادہ ملاوٹ( یا آلودگی) آنتوں کی متعدد بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

 1995 میں یونیسیف کے ملٹی پل انڈیکیٹرس کلسٹر سروے کے مطابق پاکستان میں شدید گرمی کے موسم میں پانچ سال کی عمر تک کے 26% بچوں کو دستوں ( ڈائریا) کی بیماری میں مبتلا پایا گیا ان میں سب سے زیادہ تعداد یعنی33% سندھ کے بچوں کی تھی۔1996 کے نیشنل ہیلتھ سروے آف پاکستان کے مطابق جن دنوں یہ سروے کیا جارہا تھا۔ ان دنوں صوبہ سندھ کے اندازہ% 35.9 بچوں کو ڈائریا کی شدید بیماری نے گھیر رکھا تھا۔

 1997 کراچی ہی میں میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق اس بات کا انکشاف ہوا کہ 39%بچوں کو ڈائریا کی بیماری بار بار ہوتی تھی۔ایک اور مطالعے میں جو 2000 اور2001 میں کیا گیا اور جس میں دو ہزار کے قریب بچوں کو مسلسل دو سال تک زیر مطالعہ رکھا گیا ، یہ بات سامنے آئی کہ ان زیر مشاہدہ ہر 100 میں سے1.51کی شرح سے بچے شدید ڈائریا سے متاثر ہوئے۔ماہرین متفق ہیں کہ بچوں میں ڈائریا کی پھیلتی بیماری کا ایک بڑا سبب گندا پانی اور صفائی کا ناقص نظام ہے۔

 معیادی بخار یا ٹائیفائیڈ عموما کسی مخصوص علاقے میں پیدا ہوتا ہے۔لیکن یہ رفتہ رفتہ متعدی بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور ایسا عموما موسم گرما میں ہوتا ہے۔ کیونکہ اس موسم میں کھانے پینے کی اشیا اور پانی میں سالمو نیلا ٹائی فائیفی (ہاضمے کو نقصان پہنچانے والے جرثومے ) پیدا ہوتے ہیں۔جون 1990اور دسمبر1994 کے درمیان آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل کراچی میں چار ہزار چار سو انتالیس (4439) مریضوں کے خون یا ہڈی کے گودے (بون میرو) سے سالمونیلا ٹائیفائی کے اجزا کو علیحدہ کیا گیا ۔ان مریضوں میں سے 1,441 یعنی 33% چھہ سال سے کم عمر کے بچے تھے ۔

کراچی ہی کے پی ان ایس شفا اسپتال میں جنوری 1994سے لے کر اپریل 1999تک 412ٹائیفائیڈ کے مریض آئے۔اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں1992سے1994کے درمیانی تین سال کے عرصے میں بلڈ کلچر(خون کے تفصیلی جائزے) کے جتنے نمونے بھی موصول ہوئے ان میں سے 7.1 فیصد فساد ہضم کی شکایت سے متاثر تھے۔ ٹائیفائیڈ دراصل ایسے علاقوں میں زور دکھاتا ہے جہاں صفائی کا نظام ناقص ہو۔خصوصا وہ شہری علاقے اس بیماری کا گڑھ بن جاتے ہیں جہاں پینے کے پانی اور سیوریج کی نالیاں باہم مل جاتی ہوں اور پانی آلودہ ہو جائے۔ای کولی کی آلودگی انسانی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پینے کے اس پانی میں کہیں نہ کہیں سے انسانی فضلہ شامل ہو رہا ہے۔ ناقص اور ٹوٹی پھوٹی سیوریج لائنوں سے رستے ہوئے سیوریج کا پینے کے پانی کی لائنوں سے مل جانا اب کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے بڑے شہروں اورخصوصا کراچی میں تو یہ عام بات ہے۔

 صنعتوں سے نکلنے والے آلودہ پانی کی ملاوٹ سے پینے کے پانی میں مضر دھاتوں خصوصا سیسہ کیڈ میم اورمرکری وغیرہ کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور پی سی ایس آئی آر کی 1999کی ایک رپورٹ جو آئی یو سی این کے میگزین جریدہ میں شائع ہوئی تھی کے تحت کورنگی کے صنعتی علاقے کا زیر زمین پانی صحت کے لیے انتہائی مہلک ہے۔اسی جریدے میں ای پی اے کے حوالے سے ایک اور رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ادارہ تحفظ ماحول ای پی اے نے کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں کنووں اور بورنگ کے پانی کے نمونوں کا کیمیائی تجزیہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ ملیر  کورنگی   ضلع جنوبی کراچی ، محمود آباد   اورنگی ٹاؤن   نارتھ کراچی  لیاری اور فیڈرل بی ایریا کے زیر زمین پانی کے نمونوں میں WHO کے مقرر کردہ معیار سے کئی گنا زیادہ دھاتیں اور زہریلے مواد موجود ہیں۔خصوصا کیڈمیم 16 ، گدلا پن یا مٹی 9 اور فضلاتی آلودگی 3گنا زیادہ پائی گئی۔

 آلودہ پانی انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہورہا ہے ،کراچی واٹر پارٹنر شپ کے مطابق صرف  کراچی میں سالانہ  30,000اموات ریکارڈ کی گئی ہیںجن میں بچوں کی تعداد20 ہزار ہے۔

کراچی میں پانی کی کمی اور آلودگی دور کرنے اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے منصوبے زیر غور ہیں اور بہت سوں پر عمل بھی شروع ہوچکا ہے سر دست وہ ہمارا موضوع نہیں ہے اور نہ ہی ایک عام صارف کو اس سے کوئی دلچسپی ہے لیکن صورت حال میں بہتری کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے یہ سوال ہم سب کے لیے زیادہ اہم ہے۔

 کیا ایک عام آدمی کچھ کرسکتا ہے ؟ کیا وہ اپنے حالات میں تبدیلی لاسکتا ہے؟آئیے اس سوال کے جواب کی کھوج کرتے ہیں۔
 ہم کیا کرسکتے ہیں؟

 آلودہ پانی کے حوالے سے چند سادہ ،آسان اور آزمودہ طریقے جن کو اختیار کرنے سے صحت اور ماحول پر انتہائی خوشگوار اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔

ہم اپنی اور اپنوں کی صحت کے لیے کم از کم پانی ابال کر تو پی ہی سکتے ہیں اور اگر اتنا تردد بھی نہیں کرنا چاہتے تواس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ شیشے کی شفاف بوتلوں میں پانی بھر کر دھوپ میں چند گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔آپ ان بوتلوں کو چھت پر یاگیلری وغیرہ میں جہاں دھوپ اچھی آتی ہو رکھ سکتے ہیں۔سورج کی شعاعیں پانی کو آلودگی سے پاک کر دیں گی ۔اگر پانی بہت گدلا ہو تو پہلے پھٹکری سے صاف کر لیں کیونکہ سورج کی شعاعیں صرف 10cm تک ہی جراثیم کو مار سکتی ہیں۔

 ڈائریا سے بچنے کے لیے اپنے گھر میں اور خاص طور پر چھوٹے بچوں کو صابن کے استعمال کی ترغیب دیں خصوصابیت الخلا سے آکر صابن سے ہاتھ دھونا لازمی قرار دیجیے ، بچوں کو بھی یاد دلاتے رہیے اور ان کی نگرانی بھی کیجیے کہ وہ ایسا کر بھی رہے یا نہیں۔ یہ کوئی ٹوٹکا نہیں ہے بلکہ اس عمل کو باقاعدہ منصوبے کی صورت میں ایک آبادی پر آزمایا گیاتھا اور وہاں ڈائریا میں 30 فیصد کمی پائی گئی۔

 آلودہ پانی میں سے ڈائریا کے جراثیم کے خاتمے کے حوالے سے ہم اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا ایک تجربہ پیش کریں گے۔اگرچہ یہ بھی کوئی نیا طریقہ نہیں ہے لیکن اس کی آزمائش اور سائنسی بنیادوں پر چھان پھٹک کر نتائج مرتب کرنے کا سہراڈاکٹر انور حق کے سر ہے جو مائیکرو بائیولوجسٹ ہیں اور میری لینڈ بائیو ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ بالٹی مور میں میرین بائیو ٹیکنالوجی سے وابستہ رہے ہیں (ڈاکٹر انور حق جامعہ کراچی کے طالب علم رہ چکے ہیں اوراپنی استادمرحومہ ڈاکٹر نسیمہ ترمذی سے خاص عقیدت رکھتے ہیں۔) ڈاکٹر صاحب نے بنگلہ دیش میں پھیلتی ہوئی ہیضے کی بیماری پر قابو پانے کے لیے پرانی سوتی ساڑھی کا انتخاب کیا اوربرتن پر اس کی چار تہیں لگا کر اس سے پانی چھانا انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اس طریقے سے پانی ننانوے فیصد تک ہیضے کے جراثیم سے پاک ہوگیا ۔  ان کا کہنا ہے کہ پرانی سوتی ساڑھی کے ڈھیلے اور روئیں دار ریشوں میں ہیضے کے بیکٹیریا پھنس جاتے ہیں اور چھن کر برتن میں جانے والا پانی ان سے پاک ہوجاتا ہے۔ ان بیکٹیریا کی ساخت جھینگوں جیسی ہوتی ہے ۔اس ترکیب کی افادیت کو بین الاقوامی صحت کے اداروں نے نہ صرف مانا بلکہ اس کے عام استعمال کی بھی اجازت دی۔ابتدا میں تجرباتی طور پر یہ ترکیب بنگلہ دیش کے 65 دیہاتوں میں ایک لاکھ 33 ہزار افراد پر آزمائی گئی جس سے ان علاقوں میں اس سال صرف0.65 فیصد ہیضے کے کیس ریکارڈ ہوئے۔اب یہ ترکیب وہاں پانی صاف کر نے کے لیے عام ہوچکی ہے ۔ڈاکٹرانور حق کے اس پروجیکٹ میں ان کے ساتھ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن واشنگٹن کا ادارہ بھی شامل ہے۔

   مندجہ بالا تمام کم خرچ اورآسان لیکن بہت زیادہ مفید تراکیب سے ہم بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں،خصوصا پرانی ساڑھی سے پانی چھاننے کی ترکیب سے تو دیہی سطح پر پانی کی آلودگی کے حوالے سے انقلاب برپا ہو سکتا ہے ۔ساڑھی کی جگہ پرانے سوتی کپڑے سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔

 ان ترکیبوں پر خود بھی عمل کیجیے اور دوسروں کو بھی ان کی ترغیب دیجیے، اس سے نہ صرف آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی صحت بہتر ہوگی بلکہ کچھ کرنے کا ایک خوشگوار احساس بھی ہوگا ۔ ایک قیمتی خوشی اور ایک انمول طمانیت   خوشیوں کی ان خوبصورت تتلیوں اور سکون کے جگنووں کو مٹھی میں بند کر لیجیے کہیں دیر نہ ہو جائے۔اس موسم گرما میں اپنے اور دوسروں کے لیے بہار کا پیامبر بن جائیے۔ 


Monday, February 25, 2008

نہ وہ سورج نکلتا ہے نہ اپنے دن بدلتے ہیں

کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کوکیمیائی زہر سے خطرات
 ان کیمیکل کو کیڑے مار ادویات نہیں بلکہ صرف”زہر“ کہیے

 حد نظر تک لہراتے رنگ برنگے آنچل،دور دور تک پھیلے ہوئے چاندی جیسی کپاس کے کھیت اور ان کو چن کر سونا بناتے ہاتھ ، یہ ہاتھ ان ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کے ہیں کہ جنہوں نے اپنے نازک کاندھوں پر پاکستان کی پوری کاٹن ، ٹیکسٹائل اورکلوتھنگ انڈسٹری کا بوجھ سنبھالا ہوا ہے۔یہ صنعت اس زرعی ملک کے لیے خطیر زرمبادلہ فراہم کرنے کا سبب ہے اور پاکستان دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار کے حوالے سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔۔۔یہاں تک تو سب ٹھیک ہے ، ہم سب ان حقائق کو جانتے اور مانتے ہیں اور دنیا بھر میں”کاٹن ، ٹیکسٹائل اور کلوتھنگ انڈسٹری“ کی زنجیر کی اہم کڑی ہونے پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں لیکن ۔۔۔ اس کے بعد ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے،بے خبروں کا تو ذکر ہی کیا جو ہر طرح سے ”با خبر“ہیں وہ بھی چپ کا لبادہ اوڑھے کھڑے ہیں کیونکہ اسی میں ان کا فائدہ ہے۔

 دنیا بھر کے سروے اور تجزیوں کے نتائج چیخ چیخ کر اعلان کر رہے کہ پاکستان بھر میں کپاس کے کھیتوں میں کام کرتی اوراس چاندی سے سونا بناتی پاکستانی عورت شدید خطرات سے دوچار ہے ، پورے ملک کے کھیتوں پر چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر کا 80%کپاس کے کھیتوں پر چھڑکا جاتا ہے اور یہ زہر وہاں کام کرنے والی خواتین کی سانسوں میں رچ بس جاتا ہے۔دوسروں کو خوش حالی دینے والی ان خواتین کوان کھیتوں سے سر درد، جلدی بیماریوں اورمختلف اعضا کا کینسر تحفے میں ملتا ہے۔



 یہاں ہم اس بات کی صاف الفاط میں وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ کیڑے مار کیمیکل کو” ادویات“ کہنا لوگوں کو کھلا دھوکا دینا ہے ، یاد رکھیے کہ یہ کسی صورت دوا نہیں کہلا سکتے یہ تو صرف اورصرف زہر ہیں لہذا انہیں صرف ”زہر“ ہی کہا جائے ۔

 بدحال اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والی عورت کو تو ان خطرات کا ادراک ہی نہیں ہے لیکن جو لوگ اس بات کو جانتے ہیں وہ اپنی اپنی معاشی اور سماجی مجبوریوں کے باعث چپ ہیں۔ ان کی یہ خاموشی انتہائی مجرمانہ ہے۔

 حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کہ جس میں کھیتوں میں کام کرنے والی مختلف خواتین کے خون کے نمونوں کا جب تجزیہ کیا گیا تو 42%نمونے ان زہریلی ادویات سے آلودہ پائے گئے۔صرف10%خون کے نمونے نارمل پائے گئے۔

 پاکستان میں کپاس کی کاشت سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک موسمی سرگرمی کہلا ئی جا سکتی ہے لیکن اس سے وابستہ افراد کی تعداد اسے ایک اہم تجارتی سرگرمی میں شمار کرتی ہے۔کپاس چننے کا زیادہ تر کام خواتین ہی کرتی ہیں ۔ اندازہ اگست سے فروری تک 20لاکھ کپاس چننے والے افراد پاکستان کے اس ایکسپورٹ انجن کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔

 قدرتی وسائل کے ترقیاتی اور پیداواری عمل میں عورت کا کردار پورے معاشرے سے پیوست نظر آتا ہے۔اعداد و شمار کے بہی کھاتوں میں کہیں نظر نہ آنے والی یہ ہستی پاکستان کے شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے کام کو خاطرخواہ تسلیم کرنے میں ابھی بھی بہت سی رکاوٹیں باقی ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو کپاس کی پیداوارمیں بہترین سمجھے جاتے ہیں۔2004 کے اعداد و شمار کے مطابق کپاس کی تمام عالمی پیداوار کا 50% چین ،انڈیا اور پاکستان سے حاصل ہوا تھا ۔اور تقریبا ایک ارب لوگ دنیا بھر میں براہ راست اوربالواسطہ طور پر اس صنعت سے وابستہ ہیں ۔

  زرعی ملک ہونے کے ناتے ہماری زراعت کا زیادہ تر دارو مدار کپاس پر ہی ہے۔ہر سال کپاس کی پیداوار سے خطیر زرمبادلہ حاصل کیا جاتا ہے۔خصوصا سندھ کی آب و ہوا کپاس کی پیداوار کے لیے بہت زیادہ ساز گار ہے۔حیدرآباد، نوبشاہ،میرپور خاص ، سانگھڑ، سکرنڈ اور عمر کوٹ جیسے علاقے کپاس کی کاشت کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔سندھ میں کپاس کی چنائی کا عمل اکتوبر نومبر سے شروع ہوجاتا ہے۔اسے سندھی زبان میں چونڈو کہتے ہیں۔کپاس کی چنائی کا نوے فیصد کام خواتین انجام دیتی ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی تیز رفتاری ہے۔ وہ مردوں کے مقابلے میں کئی گنا تیزی ، مہارت اور بہت نرمی و نفاست سے یہ کام انجام دیتی ہیں۔مردوں کے کھردرے ہاتھ اوربھونڈا انداز اس نرم و نازک فصل کے لیے موزوں نہیں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کاشت کار اس کام کے لیے خواتین ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔کپاس چنتے ہوئے خواتین اپنے دوپٹے کو ایک خاص انداز سے اوڑھتی ہیں جسے کانبھو کہا جاتا ہے۔پشت پر اس دوپٹے کا تھیلا سا بن جاتا ہے جس میں وہ کپاس جمع کرتی جاتی ہیں۔انہیں کاٹن کے دوپٹے استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کیونکہ ریشمی کپڑے کا دوپٹہ کپاس کے معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 کپاس کا بیج جون میں بو دیا جاتا ہے اور اس کی پہلی چنائی نومبر سے شروع ہوتی ہے اور فروری تک جاری رہتی ہے۔اندازہ صرف سندھ اور جنوبی پنجاب میں کپاس چننے کے کام سے 20لاکھ سے زائد خواتین وابستہ ہیں۔

  عورت اپنی سماجی حیثیت میں خصوصا دیہی معاشرے میں مرد کے مقابلے میں ہر طرح سے کم تر تصور کی جاتی ہے ، اور اکثر جگہ تو گھر کے کام کاج ، بچے سنبھالنے کے ساتھ ساتھ گھر چلانے کے لیے بھی اسے ہی محنت کرنی پڑتی ہے لیکن ان سب ذمے داریوں کو اٹھانے کے باوجود وہ مرد کے مقابلے میں انتہائی کم تر وجود رکھتی ہے اور چند ایکڑ زمین بچانے کے لیے کہیں تا عمر اسے شادی اور ازدواجی زندگی کی خوشیوں سے محروم کردیا جاتا ہے اور کہیں نام نہاد غیرت کے نام پرکاری کردیا جاتا ہے۔ اسی کم تر حیثیت کی اس بے زبان عورت کا استحصال صرف گھر والے ہی نہیں کرتے بلکہ وہ جہاں بھی کام کرتی ہے اسے اسی سلوک اور رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ مرد مزدوروں مثلا کپاس پر اسپرے کرنے والے یا ٹریکٹرچلانے والوں کے مقابلے میں بہت کم اجرت پاتی ہے۔

 وہ پورا سال کپاس کی چنائی کے ان دنوں کا انتطار کرتی ہے کہ جب وہ کچھ روپے کما لے گی جس سے اپنے لیے ایک آدھ جوڑا اور بچے کے لیے کوئی کھلونا خرید لے گی ، بہت دن سے بیمار بچے کے لیے دوائی بھی آجائے گی لیکن یہاں بھی اس کے ساتھ ہیرا پھیری کی جاتی ہے ، کبھی پیسے کم دیے جاتے ہیں تو کبھی تول میں ڈنڈی ماری جاتی ہے۔کپاس کی چنائی انتہائی مشکل کام ہے ۔ تیز دھوپ میں انہیں سارا دن کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ ان خواتین کے کپڑے بھی پھٹ جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں ۔ کیڑے مکوڑے اور مختلف جانوروں سے ان بچوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

 تیز چنائی کرنے والی ایک خاتون اندازہ ایک من (چالیس کلو گرام) کپاس چن لیتی ہے۔ 1996/97کی ایک رپورٹ کے مطابق ان خواتین کی اجرت فی من 40 روپے تھی۔ جبکہ 2005/06میں یہ اجرت بڑھ کر50سے80روپے فی من تک پہنچ گئی۔جبکہ اس دوران کپاس کی قیمت کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور زمین داروں کا منافع کئی سو گنا بڑھ گیا۔لیکن اس غریب اورتعلیم سے بے بہرہ عورت کو نہ اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی کی خبر ہے اور نہ اپنے استحصال کا پتا ہے۔وہ یہ بھی نہیں جانتی کہ کنزیومر پرائزانڈکس میں اسی عرصے کے دوران 42% کا اضافہ ہوا۔یہ تو تھا مالی استحصال ، اس حوالے سے تو کبھی نہ کبھی صورت حال بدل سکتی ہے لیکن اس کام کے دوران اس کی صحت، زندگی اور اس کے بچوں کو جو خطرات لاحق ہیں وہ ناقابل تلافی ہیں۔

 پاکستان کے کھیتوں میں چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر کا80% کپاس کے کھتوں میں چھڑکا جاتا ہے ۔جس سے خواتین اور ان کے بچے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ان کھیتوں میں کام کرنے والی عورت مسلسل بیماریوں کی زد میں ہوتی ہے ۔تیز دھوپ اور ان زہر کے اثرات سے وہ جلدی امراض کا شکار ہوتی ہے۔ کیڑے مار زہرکا فصلوں پر کثرت سے اور بے سوچے سمجھے استعمال آج بھی پورے زور شور سے جاری ہے۔یہ زہر غیر نقصان دہ کیڑوں ،پرندوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور غذائی سلسلے کو بھی زہریلا بناتا ہے۔ یہ زہریلا مواد ان خوتین کے جسموں میں بھی ذخیرہ ہوتا ہے اور پھراس زہر کا کچھ حصہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے تک منتقل ہوجاتا ہے۔ اکثر اوقات بچے اپنی ولادت سے قبل ہی ان کیمیکل سے متاثر ہوجاتے ہیں اور یہ اثرات ان کی پیدائش کے وقت ظاہر بھی ہوجاتے ہیں۔ان میں کچھ کیمیکل تولیدی نظام کو متاثر کرتے ہیں ،کچھ ذہنی صلاحیت کو کم کرتے ہیں اور کئی بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کو کم زور بنادیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کیمیکل کا اثر رحم مادر میں ہی ہوجاتا ہے لیکن اس کے نمایاں اثرات بچوں پر نوجوانی میں ظاہر ہوتے ہیں ۔

 کھیتوں پر چھڑکے جانے والا یہ زہر صرف کپاس ہی نہیں بلکہ سبزیوں پر بھی وافر مقدار میں چھڑکا جاتا ہے جس سے یہ زہر باآسانی ہماری غذائی زنجیر میں شامل ہوجاتا ہے ، کھیتوں کا یہ زہر آلود پانی بہہ کر ندی نالوں اور دیگر آبی ذخائر میں شامل ہوجاتا ہے ۔ یہی آلودہ پانی زمین میں جذب ہوکر زیر زمین موجود پانی کے ذخائر میں بھی شامل ہوجاتا ہے ۔ دیہاتوں میں کنوؤں کے پانی کا استعمال بہت زیادہ ہے ۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کیڑے مار زہر سانسوں، غذا اور پانی کے ذریعے انسانی جسم میں باآسانی داخل ہوجاتا ہے ۔

 زراعت میں کیمیائی ادویات کا استعمال ترقیاتی منصوبوں کے تحت تیسری دنیا کے ممالک میں متعارف کرایا گیا۔پاکستان میں 1960 کی دہائی میں سبز انقلاب کے نام پر یہ کیمیائی کھادوں اور ان کیڑے مار زہروں کا استعمال شروع ہوا۔ سبز انقلاب میں استعمال ہونے والے کیمیائی کھاد اور زہریلی ادویات سے انسان سمیت دیگر جان داروں اور ماحول کو شدید جانی اور ماحولیاتی نقصان پہنچتا ہے۔ ان وجوہات کی بنیاد پر دنیا بھر میں کھیتی باڑی اور حق خود ارادیت برائے خوراک اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے۔روایتی طریقہ زراعت سبز انقلاب کے تحت ختم ہونے کے بعد ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کی زرعی و کیمیائی صنعت کی اجارہ داری قائم ہو کر رہ گئی ہے۔دراصل ترقیاتی منصوبوں کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کو پروان چڑھانے اور منافع کمانے کا جدید طریقہ تھا جس کے ذریعے بین الاقوامی زرعی کیمیائی صنعت نے بیج ،کھاد ،ادویات،ٹریکٹرز ،ٹیوب ویل اور دیگر اشیا کے کاروبار کو بھر پور فروغ دیا۔زراعت کے شعبے سے زرعی و کیمیائی صنعت کا منافع نچوڑنے کا بڑھتا ہوا رحجان عوام کو بھوک و افلاس کی طرف مزید دھکیل رہا ہے۔

صنعتی اور زرعی استعمال سے لے کر صحت کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی ایک طویل فہرست ہے۔اس صنعت کا دائرہ زراعت اور صحت سے لے کر خوراک کی صنعت تک پھیلا ہوا ہے۔اس کاروبار سے عالمی سطح پر بڑی بڑی کمپیاں منسلک ہیں جو دنیا کے ہر ملک میں ادویات کی تیاری ، فراہمی اور کاروبار سے کسی نہ کسی حوالے سے منسلک ہیں۔ اس طرح زرعی و کیمیائی کمپنیاں مضبوط ترین بین الاقوامی کمپنیوں کے صف میں شامل ہیں۔

کیمیائی کاروبار ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کا منافع کمانے والا ایک اہم بازو ہے۔جس کی وجہ سے اس کاروبار کے خلاف دنیا بھر جمع ہونے والی سائنسی تحقیقات عوامی خدشات اور تجاویز کو یکسر مسترد کیا جاتا ہے بلکہ زرعی و کیمیائی کاروبار کو فروغ دینے والی کمپنیوں کے دلائل کو ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔بین الاقوامی اداروں، عالمی اور مقامی حکومتوں کی طرف سے کیمیائی صنعت کی پشت پناہی نے کیمیائی ادویات میں کمی کے بجائے اس کے استعمال کو اور بڑھادیا ہے۔

کیمیائی ادویات کے خلاف عالمی سطح پر مہم چلائی جارہی ہے جس میں کئی ادارے ،تنظیمیں ، سیاسی پارٹیاں، کسان گروہ شامل ہیں۔اس مہم کی ایک وجہ ان کمپنیوں کی ادویات کا زہریلا پن ہے جو کہ نہ صرف انسانی صحت پر شدید منفی اثرات رکھتا ہے بلکہ ماحولیات کے نظام کو بھی یکسر تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔اگرچہ بین الاقوامی سطح پر سرگرم تنظیموں اور اداروں کی بھر پور کوششوں سے انسان اور ماحول کے لیے خطرناک کیمیائی ادویات کے استعمال کے خلاف متحدہ بنانا ممکن ہوسکا ہے اور چند ادویات پر مکمل پابندی بھی لگائی گئی ہے لیکن ان اقدامات سے صورت حال میں عموعی سطح پر بہتری پیدا نہیں ہوئی۔

جدید دور کو بین الاقوامی کمپینوں یا کارپوریشنوں کا دور کہنا بے جا نہ ہوگا۔ان کارپوریشنوں کے اعلی عہدیداران کا امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے حکمران طبقے سے گہرا تعلق ہے۔یہ کمپنیاں ان ممالک میں انتخابات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اس لیے ہر بر سر اقتدار حکومت کو ان کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا پڑتا ہے۔ یہ کمپنیاں امریکی صدر ، سینیٹ اور کانگریس کے اراکین کے انتخابی مہم پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے علاوہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انہیں نقد چندہ بھی دیتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ سبھی لوگ اس تحقیق سے متفق ہوں،خاص طور پر کیمیکل انڈسٹری کے لوگ کیونکہ ان کی اپنی سوچ ہے اور وہ ہمیشہ تصویر کا وہی رخ دیکھتے ہیں جو ان کے لیے منفعت بخش ہوتا ہے ۔حالانکہ یہ مسئلہ انتہائی گمبھیر ہوچکا ہے ۔کیونکہ کیمیکل انڈسٹری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کسی بھی پروڈکٹ کے لیے پہلے سائنسی تحقیق مکمل کرے لیکن اربوں ڈالر کا کاروبار کرنے والی یہ انڈسٹری اس کام کے لیے تیار نہیں ہوتی ہے۔اگرچہ کچھ کمپنیوں نے مشکوک کیمیکلز کا استعمال رضاکارانہ طور پر ترک کردیا ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر کمپنیوں نے اپنی نفع پسندی کے رحجان کو نہیں چھوڑا اور وہ یقینا اس وقت تک اس کام کو جاری رکھیں گی جب تک ان پر قانونی طور پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ہم پورے وثوق سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرہ ارض پر انسانیت کو بقا کا شدید خطرہ لاحق ہے کیونکہ ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنے جسم میں مصنوعی کیمیکل کی ایک خاص مقدار کے ساتھ اس دنیا میں جنم لے رہا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ انسانوں نے جس طرح ان ہزارہا کیمیائی مرکبات کا بے دریغ استعمال شروع کر رکھا ہے ، وہ فی الحقیقت ایک ایسا بڑا تجربہ ہے جو کسی بڑی لیبارٹری میں نہیں ہورہا ہے بلکہ حقیقی زندگی میں ہورہا ہے اور یہ کسی چوہے وغیرہ پر نہیں بلکہ کرہ ارض کے تمام انسان اس خطرناک تجربے کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں ۔
 پاکستان میں ان کیمیائی زہروں کی درآمد کا آغاز 1954میں ہوا ۔ ابتدا میں ان کا استعمال ٹڈی دل، مچھروں یعنی ملیریا کے خاتمے سمیت گنا، کپاس،چاول اور تمباکو کو لاحق بیماریوں اور انہیں فصلی کیڑوں سے بچانے کے لیے کیا جاتا تھا ۔ جبکہ کسانوں کو یہ کیمیائی زہر اور اسپرے امدادی قیمت پرفراہم کیا جاتا تھا ۔حکومت کی جانب سے کھیتوں پر مفت فضائی اسپرے بھی کیا جاتا تھا ۔ان کیمیائی زہروں کا 10%سبزیوں پر بھی کیا جاتا تھا ۔ ابتدا میں ان اقدمات کا مثبت نتیجہ نکلا اور پیداوار میں اضافہ ہوا لیکن یہ دراصل دھوکا تھا اور چند سال بعد ہی زمین کی پیداواری قوت گھٹنے لگی ۔ کیمیائی کھادوں اور کیمیائی زہروں کے اندھا دھند استعمال سے زمین کی قدرتی نمو کی طاقت گھٹتی چلی گئی اورآخری حدوں تک جا پہنچی۔

 پاکستان میں ان خطرناک کیڑے مارکیمیائی زہروں کی فروخت نجی شعبے میں ہونے اور اس کے آزادانہ استعمال کے باوجود سرکاری محکموں کا دعوی ہے کہ ان زہروں کا استعمال متعلقے محکموں کی نگرانی میں ہوتا ہے ، اگرچہ کہ حقائق کچھ اور ہیں ۔زائد المعیاد زہروں(Expired) کا استعمال بھی عام ہے ۔ایسے آؤٹ ڈیٹڈ کیمیکل زیادہ تر لوگ چین سے ڈرموں میں منگواتے ہیں پھر مقامی طور پر ان کی چھوٹی اور خوبصورت پیکنگ کرکے فروحت کے لیے مارکیٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔بیچنے والوں کو اس میں 50 تا 55 فیصد تک کمیشن ملتا ہے۔

 فصلوں پر اگر ان کیمیکل کو چھڑکنا نا گزیرہو تب بھی یہ ایک انتہائی اہم اورذمے دارانہ اور تیکنیکی کام ہے۔  ان کیمیکل کے انتخاب، وقت،استعمال اور مقدارتک سبھی کچھ ماہرین کی ذمے داری ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ بیچنے والا دکان دار ہی سارے فرائض انجام دیتا ہے ، سادہ لوح کسانوں کی وہی رہنمائی بھی کرتا ہے اور ان کے لیے ان زہروں کا انتخاب بھی خود ہی کرتا ہے۔صورت حال کی گمبھیرتا اور متعلقین کی ”ذمے داریوں“ کا حال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے صحت  WHOنے جن خطرناک کیمیائی زہروں پر پابندی لگائی ہے اور انہیں انسانی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے وہ پاکستان میں باآسانی مل جاتے ہیں اور استعمال بھی ہو رہے ہیں۔ڈی ڈی ٹی تو ہمارے گھروں تک بھی پہنچی ہوئی ہے اسے ہم فنس کے نام سے گھروں میں استعمال کر رہے ہیں ۔حتی کہ مچھر مار ادویات میں بھی یہ موجود ہے ۔

 دنیا بھر میں 12خطرناک کیمیائی زہروں کی درآمد برآمد پر پابندی ہے جنہیں ترقی یافتہ ممالک "Dirty Dozen"کے نام سے یاد کرتے ہیں ان میں سے اکثر ہمارے ملک میں باآسانی مل جاتے ہیں جس کا ثبوت ڈی ڈی ٹی ہے ۔

 ترقی یافتہ ممالک نے ان خطر ناک کیمیکل کو مسترد کردیا ہے اور اب وہ دوبارہ فطرت کے قریب ہونے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں اور ایسے تمام قدرتی طریقوں کو  Integrated pest managementکا نام دیا گیا ہے۔اس کے تحت تمام روایتی طریقہ کار کو دوبارہ رائج کرنا ہے اور ان کیمیکل کے بجائے قدرتی جراثیم کش مثلا نیم وغیرہ کی مصنوعات کا استعمال بڑھانا ہے ۔

 ہم کبھی بھی ایسے معاشرے کو تشکیل نہیں دے سکتے جو خطرات سے بالکل پاک ہو تاہم کم از کم سطح پر عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ وہ کون سی کیمیائی زہر ہیں جو انہیں اور ان کے بچوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔نیز وہ اس چیز کو بھی جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اب تک سائنس کی تحقیقات کہاں پہنچ چکی ہیں ۔

1973 کے کیڑے مار ادویات کے قوانین اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک و زراعت کے بین الاقوامی ضابطہ اخلاق کے تحت کیڑے مار ادویات کے پھیلا اور استعمال کے قوانین اور 2005 کی قومی ماحولیاتی پالیسی کے تحت Integrated Pest Management (IPM)  کو ترجیح دینی چاہیے یعنی زیادہ سے زیادہ قدرتی طریقوں کا فروع اور کیمیائی زہر سے اجتناب۔

کیمیائی زہروں سے مسموم اس فضا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب 1962میں سائنس داں ریچل کارسن کی کتاب خاموش بہار Silent Spring منظر عام پر آئی ۔ اس کتاب نے پہلی مرتبہ سر سبز انقلاب کا قصیدہ پڑھنے والوں کی سوچ کو جھنجوڑا اور فصلوں پر چھڑکے جانے والے کیڑے مار زہر کے نقصان دہ اثرات کو سائنسی حقائق کی روشنی میں پیش کیا۔ان اثرات میں جنگلی حیات کی تباہی، قدرتی توامن میں بگاڑ اور انسان کے ارد گرد کے ماحول کا زہر آلودہ ہوجانا شامل ہیں۔ کارسن کا موقف تھا کہ جب کیڑے مار دوا سے غیر نقصان دہ کیڑے بھی ختم ہوجائیں گے تو نتیجے کے طور پر وہ کیڑے بھی مر جائیں گے جن کی خوراک کا دارو مدار ان کیڑوں پر ہے۔اور یوں بہار اجڑ جائے گی۔جب یہ حقائق سامنے آئے تو لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔جس نے ایک تحریک کو جنم دیا۔ریچل میرین بائیولوجسٹ تھی اورامریکی ادارے فش اینڈ وائلڈ لائف سے وابستہ تھی۔اس کی کتاب نے امریکی سماجی زندگی میں ایک خاموش انقلاب کی بنیادرکھی۔ریچل کا انتقال 56 کی عمر میں ہوا۔

 ریچل کی یہ کتاب 1962 میں لکھی گئی تھی اور46 سال گذرنے کے باوجود پاکستان کے تناظر میں اس کتاب کی سچائی برقرار ہے۔
 کارسنکی کتاب سائیلنٹ اسپرنگ جس کے اب تک 30 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اس میں اس نے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کے جوابات ہمیں لازمی تلاش کرنا چاہیے۔یہ کتاب دراصل انسان کی بنائی ہوئی حشرات کش ادویات کے نتیجے میں ابھرنے والے خطرات کے متعلق ایک جامع اور ہنگامی نوعیت کی تنبیہہ تھی۔انسانیت ہمیشہ ریچل کارسن کی شکر گذار رہے گی۔


Wednesday, January 16, 2008

ایک دن آب گاہوں کے نام

حیات کے تمام رنگ بکھیرتی آب گاہیں
انسان اور فطرت کا ٹوٹا ہوا رشتہ مضبوط کیجیے

 آئیے ایک دن اپنی مصروف زندگی سے چرا کر اپنے گھر کے قریب موجود فطری نظاروں کے بیچ کسی جھیل، پارک، ساحل یا جنگل میں گذاریئے اور پھر اس دن کے کرشماتی اثرات کو محسوس کیجیے۔ یہ جسمانی سرگرمی آپ کو نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی چاق و چو بند اور توانا کردے گی۔صدیوں سے انسان اس کا تجربہ کرتا آیا ہے اور اب سائنسی تحقیقات بھی اس کی تصدیق کررہی ہیں۔  تازہ ترین تحقیقات کے مطابق فطری ماحول کے قریب انجام دی گئی اس قسم کی کوئی بھی سرگرمی آپ کے کام کرنے کی استعداد کو بڑھاتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے۔ دنیا بھر میں ایسی سرگرمیوں کو  Green Exercise کہا جاتا ہے ، ہم اسے ہری بھری تفریح یا سر سبز مشق بھی کہہ سکتے ہیں۔ان ہری بھری مشقوں میں سبزہ زاروں میں چہل قدمی،سائیکل چلانا،دریا یا جھیلوں میں کشتی رانی ، ماہی گیری، کھلے علاقوں میں پرندوں کے لیے دانہ پانی وغیرہ مہیا کرنا اور فطرت کی حفاظت کے اور بہت سے کام شامل ہیں۔سرسبز جگہوں پر گذارا ہوا یہ وقت آپ کی کیلوریز گھٹائے گا ، بلڈ پریشر اور اعصابی دباؤ کم ہوگا اورایک بے نام سی خوشی اور فرحت و مسرت کا احساس آپ کو تمام دن ہشاش بشاس رکھے گا بلکہ آنے والا پورا ہفتہ اسی سرشاری میں گذرے گا، آزمائش شرط ہے۔



 2 فروری کو دنیا بھر میں آب گاہوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے  کم از کم اس ایک دن کو کسی آب گاہ کے کنارے فطرت اور انسان کے کمزور رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے مخصوص کیجیے۔اس سال یہ دن آب گاہیں اور جنگلات(wetlands and forests)  کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے۔ یہ دونوں عناصر ہی زمین پر حیات کی رنگا رنگی کا سبب ہے۔ ان کی حفاظت کیجیے اور ان کے قریب رہیے۔ جب تا یہ آپ کے قریب نہیں ہوں گے آپ بھی ان کے قریب نہیں ہوں گے۔ یہ ہرا بھرا شوق آپ کی صحت کے لیے کتنا ضروری ہے اس کا      اندازہ ماہرین کی رپورٹوں سے بھی لگا سکتے ہیں۔

صحت کے لیے کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں خصوصا  WHO خبردار کر رہی ہے کہ مصروف ترین مشینی زندگی نے ہم سے ہماری تفریحات چھین لی ہیں اورخصوصا فطری مناظرسے ہمیں بہت دور کردیا ہے۔آسائشات نے ہمیں حد درجہ کاہل کردیا ہے اور جسمانی محنت کم سے کم ہوکر رہ گئی ہے ، جس کا نتیجہ تباہ کن امراض کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔شہروں میں یہ صورت حال بد سے بد ترین ہوکر رہ گئی ہے۔پچھلے 25 سالوں میں دنیا کی آبادی کا تیز ترین بہاؤ شہروں کی طرف رہا ہے۔ عالمی آبادی کا 37%سے49% شہروں کا رخ کرچکا ہے۔اس سے زرعی زمینیں شہری استعمال مثلا رہائشی اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگیں۔جنگل فالتو چیز سمجھ کر کاٹے جانے لگے اور ہرے بھرے علاقے کم سے کم ہوتے چلے گئے۔

شہری سرگرمیوں نے لوگوں کوکاہل بنایا اور جسمانی مشقت کی کمی نے انسانی صحت کو گھن لگادیا۔کھانے کی زیادتی اورکاہلی نے موٹاپے کو بڑھ کر دعوت دی اورذیابیطس ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں نے انسانوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ اور اب تازہ رپورٹ بتا رہی ہیں کہ موٹاپا صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا بھی سبب ہے۔تخمینہ ہے کہ دنیا بھر میں 1.9ملین اموات کا سبب موٹاپا اور اس سے متعلقہ بیماریاں ہیں۔صرف یورپی ممالک میں 2سے8%افراد کی بیماریوں اور10سے13%اموات کا سبب کم بخت یہی موٹاپا ہے۔ WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر موٹاپے پر قابو نہ پایا گیاتو 2020 تک یہ ہر طرف تباہی مچا رہا ہوگا۔صرف یو کے میں اگر چھ میں سے ایک شہری بھی بیمار ہوا تو نیشنل ہیلتھ سروسز کا قومی سطح پر خرچہ 12.5بلین پاؤنڈاور معیشت پر اس کے اثرات 13.1بلین پاؤنڈ ہوگا۔ ہم ترقی پذیر لوگوں کا تو ذکر ہی کیا؟

 اس سا ل آب گاہوں اور انسانی صحت کے مابین گہرے فطری تعلق کو اجاگر کیا جارہاہے۔دیگر قدرتی وسائل کی طرح ہمارا ملک اس وسیلے سے بھی مالا مال ہے۔ آب گاہیں(Wetlands) دراصل قدرتی  سپر مارکیٹ  ہیں جہاں انسانوں، جانوروں اور پرندوں کے لیے وافر پانی اور خوراک کا عظیم ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔آب گاہوں کی اصطلاح بہت وسیع معنوں کی حامل ہے۔ اس میں جھیلیں، دلدل، ساحلی علاقے، جوہڑ،قدرتی ندی نالے ، دریا اور ڈیلٹا شامل ہیں۔ان آب گاہوں کا ایک اپنا مکمل ماحولیاتی نظام ہوتا ہے جس میں مختلف اقسام کے جان دار زندہ رہنے کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔جان داروں کی ان مختلف اقسام کو زنجیر کی کڑیوں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جو آپس میں مل کر زندگی کے سلسلے کو قائم رکھتی ہیں۔ اور انسان ان سب پر انحصار کرتا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ آب گاہیں دراصل زندگی کی پناہ گاہیں ہیں۔زندگی کی مالا کے موتی بکھرنے سے بچانے کے لیے ان کا تحفظ بہت ضروری ہے۔

آب گاہوں کے حوالے سے پاکستان عالمی سطح پر اس وقت پہچانا گیا جب 1976 میں پاکستان نے رامسر کنونشن پر دستخط کیے۔یہ کنونشن ایران کے شہر رامسر میں1971میں تشکیل پایا۔یہ ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جس کے تحت آب گاہوں کے تحفظ کے لیے کوششیں اور وسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔

رامسر کنونش کے تحت عالمی سطح پر ایسی آب گاہوں کی فہرست تیار کی گئی ہے جو متعینہ معیار کے مطابق عالمی اہمیت کی حامل ہیں تاکہ ان آب گاہوں کی حفاظت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر منصوبے بنائے جائیں۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کو تین عہد ایفا کرنے ہوتے ہیں۔

 (1)  عالمی اہمیت کی آب گاہوں کو رامسر فہرست میں شامل کروانا
(2)  تمام آب گاہوں کے دانش مندانہ استعمال کے لیے منصوبہ بندی کرنا
(3)  انواع اور پانی کے مشترکہ نظاموں کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون کرنا۔

  اس کنونشن میں ابتدائی طور پر138 ممالک شریک تھے ۔جب پاکستان نے اس پر دستخط کیے تو ہمارے ملک کی مجموعی آب گاہوں کا مجموعی رقبہ تقریبا 7,800کلو میٹر تھا۔ اور یہاں عالمی معیار کی آٹھ آب گاہیں تھیں۔2003ءتک ان آبی ٹھکانوں کی تعداد 16 ہوگئی تھی۔اقوام متحدہ نے جب 2003ءکے سال کو"میٹھے پانی کا سال"  کے طور پر منایا تو اس سال کی نسبت سے 3نئی آب گاہیں رامسر سائٹ میں شامل کی گئیں ۔یہ تینوں آب گاہیں یعنی’انڈس ڈیلٹا  472,800ہیکٹر،رن آف کچھ(566,375) ہیکٹراور دیہہ اکڑو (20,500) ہیکٹر سندھ میں واقع ہیں۔ ان تین نئی آب گاہوں کے اضافے سے پاکستان میں بین الاقوامی اہمیت کی حامل آب گاہوں یعنی رامسر سائٹ کی تعداد 19ہوگئی۔ ان آب گاہوں کے نام درج ذیل ہیں

استولا آئی لینڈ  بلو چستان
چشمہ بیراج ’ پنجاب
 دیہہ اکڑو ، سندھ
ڈرگ جھیل، سندھ
ہالیجی جھیل سندھ
حب ڈیم ، سندھ بلوچستان
انڈس ڈیلٹا سندھ
انڈس ڈولفن ریزرو ،سندھ
جیوانی کوسٹل آب گاہ ، بلوچستان
 جبھو لگون ، سندھ
کینجھر جھیل سندھ
 میانی ھور، بلوچستان
نرڑی لگون ، سندھ
اومارہ ٹرٹل بیچ ، بلوچستان
رن آف کچھ سندھ
ٹانڈا ڈیم، سرحد
تونسہ بیراج ، پنجاب
تھانے دار والا، سرحد
اچالی کمپلیکس (کھبیکی، اچالی اور جھلر جھیل) ،پنجاب

پاکستان مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اس لیے بہت سے پرندے جو وسطی اور شمالی ایشیا میں پیدا ہوتے اور پرورش پاتے ہیں وہ افغانستان کے راستے وادی سندھ کا رخ کرتے ہیں اور خصوصا سندھ کی آب گاہوں پر قیام کرتے ہیں۔یہ آب گاہیں ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی سرمائی رہائش گاہ کا درجہ رکھتی ہیں۔

ساحلی علاقوں اور دریاؤں کے دہانوں پر واقع یہ آبی ٹھکانے طری طرح کی آبی حیات یعنی مچھلیوں، جھینگوں اور کیکڑوں وغیرہ کے انڈے بچے دینے اور ان کی پرورش کے لیے بہترین جگہ تصور کی جاتی ہیں۔موسم سرما میں نقل مکانی کرکے آنے والے ہزاروں اقسام کے آبی پرندے لاکھوں کی تعداد میں ان آب گاہوں پر قیام کرتے ہیں۔

 آئیے اب رامسر سائٹ کی فہرست میں شامل 19آب گاہوں میں سے ایک آب گاہ کا قریب سے جائزہ لیتے ہیں جس کے ماتھے پر وقت کے تغیرات نے نہیں بلکہ دست انساں نے تباہی کی مہر لگائی ہے۔

ماضی کی یہ خوبصورت جھیل  نرڑی  ضلع بدین کی تحصیل بدین میں ہزاروں ایکڑوں کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ایک زمانہ تھا جب یہ جھیل اپنے قدرتی حُسن کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھی۔ارد گرد کے گاؤں دیہات آباد تھے اور تقریبا5000مقامی افراد کا انحصار اسی جھیل پر تھا۔ گھاس کی بہت ساری اقسام اس وسیع جھیل کے کناروں اور جھیل اندر ننھے ننھے جزیروں پراگتیں۔ جس سے جھیل کی مچھلیوں کے لیے چارہ میسر آتا اور اس کی جڑیں مچھلی کے لیے محفوظ ہیچریز کا کام دیتیں۔ مقامی پرندے اس گھاس پر اپنے گھونسلے بناتے جس سے ان مقامی پرندوں کو تحفظ ملتا اور وہ ایک قدرتی ماحول میں نشو و نما پاتے۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ گھاس بڑی اہمیت کی حامل ہوتی، ایک تو بکریوں، بھیڑوں کے لیے چارہ فراہم ہوتا۔علاوہ ازیں لوگ اپنے گھر اسی گھاس سے بناتے اور یہ گھاس زمین پر ایک بچھونے کی طرح بھی کام بھی آتی۔ اس کے علاوہ یہاں کی لمبی گھاس جسے مقامی زبان میں  پن کہا جاتا ہے کے سوکھنے کے بعد اس سے  پنکھے  بنائے جاتے جن کی شہروں میں بڑی مانگ ہوتی اوریہ آمدنی ان غریب ماہی گیروںکو معاشی پریشانیوں سے بچاتی۔

نریڑی جھیل کے اطراف میں زیادہ تر ماہی گیرآباد ہیں جوماہی گیری کے سوا کچھ نہیں جانتے حتی کہ وہ زراعت سے بھی ناواقف ہیں۔ ان کا ذریعہ معاش صرف اور صرف ان جھیلوں اور سمندر سے مچھلی پکڑنا ہی ہے۔ موسم سرما میں یہ جھیل سائیبیریا سے آئے ہوئے پرندوں سے بھر جاتی۔ اس جھیل سے وافر مقدار میں مچھلی اور جھینگا پکڑا جاتا تھا۔یعنی یہ جھیل ہزاروں لوگوں کا ذریعہ معاش تھی اور بلا مبالغہ کئی گاؤں اس جھیل کی گھاس، مچھلی اور پرندوں پر آباد تھے۔ جھیل پرموسم سرما میں آنے والے پرندوںکی تعداد 1990 میں 71,335۔ 2001 میں 43,115 اور 2002 میں 50,997 ریکارڈ کی گئی۔

 نوے کی دہائے کا آخر تھا کہ جب سائیکلون 2A آیا۔ جس میں ’چولری ویئر‘ جو ایل۔بی۔او۔ڈی، کا انتہائی اہم حصہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ جس کی وجہ سے دن میں دو بار ، مدو جزر کے وقت سمندر کا پانی اس جھیل میں، چولری ویئر کے راستے اندر داخل ہوتا اور جب Low tide ہوتی تو اپنے ساتھ جھیل کا میٹھا پانی بھی بہا کر لے جاتا۔جس سے نرڑی جھیل میں شوریدہ پانی کی مقدار بڑھتی گئی۔اسی سبب کی وجہ سے مقامی گھاس جو سیکڑوں ہیکٹروں میں پھیلی ہوئی تھی برباد ہوگئی۔ مقامی جنگلی حیات خواب و خیال ہوکر رہ گئی۔پرندے، گیدڑ، جنگلی بلیوں کی چار اقسام بڑی حد تک متاثر ہوئیں۔مچھلی کا نام و نشان تک ختم ہوگیا۔وہ ماہی گیروں کے خاندان جو نرڑی کے گرد و پیش میں بستے تھے۔ وہ اس جھیل کے برباد ہونے کے بعد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ ایک شدید دھچکا تھا۔ لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی، کیونکہ ضلع بدین کی ساحلی پٹی میں، ایل بی او ڈی کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے زرعی زمینیں برباد ہوکر رہ گئی ہیں۔

 اس علاقے کے لوگ خصوصا وہ جو اس جھیل پر انحصار کرتے تھے اب غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گذار رہے ہیں ۔
لیکن افلاس اور غربت کا شکار یہ بہادر لوگ اب بھی حوصلہ مند اور پر امید ہیں کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت اس جھیل کی بحالی کا کام انجام دے ہی لیں گے ۔دور دور تک پھیلی تباہ حال نرڑی جھیل کو دیکھ کر جب میں نے ان غریب ماہی گیروں کو دیکھا تو مجھے لگا کہ شاید یہ نا ممکن کام ہوگا ، کیسے، کس طرح ؟ میرا سوال تھا۔جواب میں انہوں نے جو تفصیل بتائی اگرچہ کہ وہ تمام کام ممکن ہیں لیکن اس کے لیے ان مٹھی بھر لوگوں کے حوصلے کے ساتھ ساتھ بہت سا سرمایہ بھی درکار ہے ۔ یہاں متعلقہ سرکاری اداروں کو اپنا فرض انجام دینا ہوگا اوریہ جھیل چونکہ بین الاقوامی اہمیت کی آب گاہوں کی فہرست یعنی رامسر سائٹ میں شامل ہے لہذا حکومت اس جھیل کی بحالی کے لیے رامسر کے بین الاقوامی ادارے سے مالی مدد اورمہارت طلب کرسکتی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اس جھیل کی بحالی سے اور بہت سی تاریک راہوں میں روشنی پھیلے گی ۔ اسے مثال بنا کر بہت سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت میدان میں اتر آئیں گے۔ہماری آنے والی نسلوں کی جسمانی اورذہنی صحت کے لیے ان آب گاہوں کی بقا بہت ضروری ہے۔