Tuesday, April 13, 2010

پانی کی کفایت اور شجرکاری

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ۔۔۔۔۔

پانی کی کفایت اور شجرکاری ، منزل کی جانب یہی راستہ جاتا ہے

ہمارا ”گھر“ اب خطرے کی زد میں ہے! اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے گھر کو بچانے کے لیے تیزی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔انسان دراصل دو گھروں کا مکین ہے ، ایک اس کا گھر اور دوسرا کرہ ارض ۔ ہمیں دونوں گھروں کا یکساں تحفظ کرنا ہے لیکن ہم نے اپنی عاقبت نا اندیشی سے اپنے ان دونوں گھروں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

 زمینی وسائل کے استعمال اور قدرتی ماحول کے درمیان ایک نہایت مضبوط تعلق موجود ہے اور انسانی سرگرمیاں جب قدرتی ماحول میں خلل ڈالتی ہیں تو ہرے بھرے مناظر کو صحراؤں میں تبدیل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

کسی بھی ملک و قوم کی خوش بختی اور خوش حالی کا اندازہ اس کے زر مبادلہ کے ذخائر سے نہیں بلکہ اس کے قدرتی وسائل سے کیا جاتا ہے۔قدرتی وسائل ہی وہ اصل خزانہ ہیں جس سے اس ملک کے کھیت کھلیان شاداب ، دریاؤں میں پانی رواں دواں اور لوگوں کے چہروں پر خوشی اور مسرت کے رنگ جھلملاتے ہیں۔زمین پر زندگی کے تمام رنگ ان ہی قدرتی وسائل کے مرہون منت ہیں۔ مالا مال سمندر دریا، دنیا کے بلند پہاڑ ان کے دامن میں جھومتے بارشوں کو کھینچتے سیکڑوں سالہ قدیم درخت ، زرخیز مٹی کے میدان ،سر سبز کھیت کھلیان اور رنگ برنگا حیاتی تنوع ہی ہماری اصل دولت ہے۔

درخت یا جنگلات بھی بظاہر ہمارے لیے ایک عام سے وسائل ہیں لیکن زمین کا تمام تر فطری ماحولیاتی نظام ان ہی کے گرد گھومتا ہے۔یہی موسموں کے جن کو قابو میں رکھتے ہیں۔ جنگلات کو اگر ماحول کا نگہبان کہیں تو زیادہ غلط نہ ہوگا۔یہ بڑے پیمانے پر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں ،درجہ حرارت اور بارش کو قابو میں رکھتے ہیں۔بڑے آب گیر علاقوں( واٹر شیڈز) میں اگنے والا یہ حفاظتی پردہ نہ صرف ماحولیاتی نظاموں کو برقرار رکھتا ہے بلکہ مٹی کو اپنی جگہ قائم رکھ کر سیلابوں کے مقابلے میں رکاوٹ کاکام بھی دیتا ہے۔ اب یہ ثابت ہوچلا ہے کہ بدلتے موسم یعنی کلائمیٹ چینج جیسے پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کا ایک آسان حل زیادہ سے زیادہ شجر کاری ہے۔



پاکستان کا شماران ممالک میں ہوتا ہے جہاں دنیا میں سب سے کم جنگل پائے جاتے ہیں۔یعنی اس کی خشکی کے مجموعی رقبے کا صرف 5 فیصد ہے جو بہت کم ہے اور حکومت اسے 2011؁میں بڑھا کر 5.7 فیصد تک پہنچانا چاہ رہی ہے۔یہ محدود وسیلہ بھی مسلسل دباؤ کا شکارہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کے چپے چپے پر شجرکاری کا اہتمام کیا جائے۔ جنگلاتی وسائل کی ابتری کے باوجود بہت سی جگہوں پر بہت اچھا کام بھی ہورہا ہے اور جس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہورہے ہیں۔ ایسا ہی شجرکاری کا ایک پروجیکٹ ہمیں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

یہ مارچ کا آخری ہفتہ تھا، اسلام آباد میں ایک غیر سرکاری تنظیم ” لیڈ“ کے زیر اہتمام علاقائی سطح پر ایک تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ شرکا میں پاکستانی صحافیوں کے ساتھ ساتھ بھارتی صحافی بھی موجود تھے اور موضوع تھا"Sharing our resources: A vision for addressing cross border water scarcity caused by climate change"
بدلتے موسم آبی وسائل پر کیا اثرات مرتب کررہے ہیں اور سرحدوں کے پار کیا ہورہا ہے؟ دونوں ممالک کے صحافیوں کے لیے یہ ایک معلوماتی ،دلچسپ اور اہم تبادلہ ، خیال تھا لیکن اس کی تفصیل ایک مکمل اور علیحدہ مضمون کی متقاضی ہے۔ سر دست تو بدلتے موسم اور شجر کاری کے حوالے سے ہم اپنے پٹریاٹہ( نیو مری) کے سفر کی روداد بیان کریں گے۔ ورکشاپ کے تیسرے دن فیلڈ وزٹ کے طور پر ہمیں پٹریاٹہ یا نیو مری کا دورہ کرنا تھا جہاں ایک چھوٹی سی مقامی تنظیم ”سکھی“ نے مقامی آبادی کی شمولیت سے چھوٹے پیمانے پر ہی سہی ایک تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔

مری کے جنوب مشرقی پہاڑیوں سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر پٹریاٹہ ہے، یہ یہاںکا سب سے اونچا مقام ہے جو سمندر سے نو ہزار فٹ کی بلندی پرہے۔پائن اور روک کے درختوں سے ڈھکی پہاڑیاں،گنگناتے چشمے ،تاحد نظر پھیلی ہریالی ،پھلوں سے لدے باغات روح پرور مناظرپیش کرتے ہیں۔

پٹریاٹہ جسے نیو مری بھی کہا جاتا ہے، تحصیل مری کی ایک یونین کونسل میں واقع ہے۔ یہاں سطح سمندر سے 8,000 بلند ترین چوٹی واقع ہے۔ سرسبز و شاداب یہ چوٹی پائن کے درختوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس بلند ترین چوٹی کے ارد گرد خوبصورت وادیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہیں پر ایشیا کی طویل ترین کیبل کار اور چیئر لفٹ سسٹم ( تقریبا 6 کلومیٹر طویل) نصب ہے۔ یہاں ملک بھرسے اور بیرون ملک سے تقریبا 3000 سیاح قدرت کی عنایت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ خصوصا پیک سیزن ( جون سے اگست تک) ۔ مقامی آبادی زیادہ تر اپنے چھوٹے موٹے کاروبار مثلا ہوٹل، دکانیں، ڈرائیوری، چھوٹے پیمانے پر کاشت کاری ( مکئی، گندم اور پھلوں میں سیب ، ناشپاتی اور اخروٹ اگائے جاتے ہیں۔) سے وابستہ ہیں جبکہ کچھ لوگ سرکاری دفاتر میں بھی کام کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ یہاں سیاحوں کی تعداد بڑھنے کی وجوہات میں اسلام آباد سے نیو مری تک ایکسپریس وے کی تعمیر ہے جو اپنے معیار میں کسی موٹروے سے کم نہیں ہے جس پر سفر کرکے لوگ صرف 50 منٹ میں اسلام آباد سے پٹریاٹہ پہنچ جاتے ہیں۔

 اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل سے پٹریاٹہ تک گھنٹے بھر کا یہ سفر اونچے بلند وبالا سر سبزپہاڑ اور دوسری جانب ہزاروں فٹ گہری کھائیاں ، پیچ در پیچ گھومتا راستہ ، ایسے میں تیز رفتار اور ہموار سفر اللہ تعالی کی مہربانی اور ڈرائیوروں کی مہارت کا مرہون منت تھا۔ اسلام آباد کی خوبصورت اور بھیگی بھیگی صبح میں یہ سفر شروع ہوا۔ ایک رات پہلے ہی اسلام آباد میں طوفان بادوباراں اور اولے پڑچکے تھے جس کی ٹھنڈک ابھی تک ماحول میں رچی بسی تھی۔

غیر سرکاری تنظیم ”سکھی “ (Society For Upgradation of Knowledge Health and Infrastructure) کے ساتھیوں نے تمام صحافیوں کے گلے میں ہار ڈالے اور پرتپاک استقبال کیا۔ ”سکھی“ کے روح رواں چوہدری اسرار الحق نے اپنے کام کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔”ہم نے2007 میں یہ پروجیکٹ UNDP/GEF/کے زیر اہتمام اسمال گرانٹ پروگرام کے تعاون سے شروع کیا۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصدتحفظ ماحول اور مقامی آبادی کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔

 ”گھریلو سطح پربارش کے پانی کا ذخیرہ اور سوشل فارسٹری کا فروغ ہماری پہلی ترجیح تھی۔ شجر کاری کے لیے بھی ہم نے پھل دار پودوں کا انتخاب کیا تاکہ چند سال بعد جب وہ پھل دیں تو مقامی آبادی معاشی طور پر بھی مستحکم ہو ۔ یہاں پھل دار درخت لگانے کی روایات تو موجود تھیں لیکن یہ پودے غیر معیاری ہوتے تھے ۔ ہم نے اس بات کا بھی اہتمام کیا کہ لگائے جانے والے پھلوں کے پودے اعلی معیار کے ہوں ، اس حوالے سے تحصیل مری کی تین یونین کونسلوں میں 31,000 جنگلاتی پودے اور 34,000 پھل دار پودے 1,115مقامی افراد کو فراہم کیے ۔ آنے والے چند سالوں میں یہ درخت پھل دیں گے جس سے لوگوں کو معقول آمدنی کا ایک باقاعدہ ذریعہ حاصل ہو جائے گا۔ ان علاقوں میں بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے بھی سادہ اور آسان طریقوں کو کام میں لایا جارہا ہے۔ بہنے والے تمام پانی کو پختہ ٹنکیوں میں جمع کرلیا جاتا ہے جس سے ان پودوں کی آب پاشی اور مقامی افراد کی گھریلو ضروریات میں کام آتا ہے ۔ نیو مری کا یہ علاقہ انتہائی سرسبز اور مرطوب ہے لہذا یہاں پودوں اور درختوں کو بہت کم پانی درکار ہوتا ہے ، یوں سمجھ لیں کہ ہفتے بھر میں صرف 5 لٹر ۔ اس علاقے میں پانی کا ذخیرہ یوں بھی ضروری ہے کیونکہ یہاں دوسرے علاقوں کی نسبت بارشوں کا اوسط کم ہے۔ مقامی آبادی میں خواتین کی تعداد% 50       سے کم نہیں ہے جو کاشت کاری، گلہ بانی اور بطور ٹیچر، ڈاکٹر اور لیڈی ہیلتھ وزیٹرکام کررہی ہیں۔ ان کی ایک اہم ذمے داری دور دراز علاقوں سے پانی لانا بھی ہے لیکن ” سکھی“ کے زیر اہتمام پانی ذخیرہ کرنے اور کم استعمال کی ترغیب دھیرے دھیرے ہی سہی اس منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے۔ یہاں خواتین با اعتماد طور پرسول سوسائٹی کی چھوٹی تنظیمیں بھی چلا رہی ہیں۔

اسرار صاحب کا کہنا ہے کہ ہمارا اصل کام مقامی آبادی میں ماحول سے متعلق شعور اور آگہی پیدا کرنا ہے تاکہ انہیں اپنے ماحول اور وسائل کی اہمیت کا احساس ہوجائے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایسے تمام متاثرین جن کے گھر اور زمینیں مری اسلام آباد ایکسپریس وے کی زد میں آگئے تھے ، یا جن کے پاس تھوڑی سی زمین تھی اور جس پر کوئی قابل ذکر کاشت نہیں ہوسکتی تھی اور ایسے تمام لوگ جن کے ذرائع آمدنی محدود یا نہ ہونے کے برابر تھے انہیں پھل دار درخت اور خصوصا معیاری پھل دار پودے لگانے پر راغب کیا۔ مارکیٹنگ کے حوالے سے بھی یہاں بہترین مواقع موجود ہیں۔ان پھلوں کی مارکیٹ قریب ترین شہروں یعنی اسلام آباد، راولپنڈی اور یہاں آنے والے ہزاروں سیاح ہیں۔

ہم نے اس تمام علاقے کا چیدہ چیدہ مشاہدہ کیا اور جو بات ہمیں اچھی لگی وہ یہ ہے کہ روایتی جدید شہروں سے بہت دور اس پس ماندہ علاقے میں خواتین کا نہایت اعتماد سے اس پروجیکٹ میں حصہ لینا ہے۔ خواتین کی ان تمام کاموں میں شمولیت نے مقامی سطح پر بھی اچھے اثرات مرتب کیے ہیں اوراس سے کام کا دائرہ  کار بھی تیزی سے بڑھا ہے۔ اس کارکردگی کو دیکھتے ہوئے سکھی کو 2009 میں ایک اور پروجیکٹ دیا گیا جس میں انہیں 40,000 پھل دار پودے تصدیق شدہ معیار کے دیے گئے۔ ان میں آڑو، سیب، اخروٹ اور ناشپاتی کے پودے شامل تھے۔ یہ پودے 746 افراد میں تقسیم کیے جائیں گے۔ سکھی ہی نے اب ایک قدم اور آگے بڑھ کر یہاں پھل دار پودوں کی نرسری بھی قائم کی ہے جس میں 5,000 پودے مقامی آبادی کے لیے دستیاب ہیں۔

اس خوبصورت اور سرسبز علاقے میں ترقی کی رفتار اور تیز ہوسکتی ہے اگر سرکار تھوڑی سی توجہ ادھر کرلے۔ یہاں لڑکے اور لڑکیوں کے لیے صرف اسکول کی سطح تک تعلیم کا انتظام موجود ہے جبکہ یہاں کم از کم کالج تو قائم ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ انتہائی اہم بات یہاں صحت کی معیاری سہولیات کی عدم دستیابی ہے، کوئی معیاری اسپتال بھی نہیں ہے۔ یہ وہ دو بنیادی ضرورتیں ہیں جو ہماری حکومت بہت آسانی سے ان ہرے بھرے علاقوں کے محنت کشوں کو فراہم کرسکتی ہے۔ اس سے یہاں کی سیاحت پر بھی اچھے اثرات رونما ہوں گے۔

بدلتے موسم ایک نئے اور بدترین خطرے کی صورت ہمارے سروں پر منڈلارہے ہیں اور اس حوالے سے انتہائی تیز رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم خواتین کو اپنے ہر منصوبے میں شامل کریں۔یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ خواتین اور قدرتی وسائل لازم و ملزوم ہیں۔ ماحولیاتی انحطاط کا خسارہ زیادہ تر خواتین ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جیسے جیسے قدرتی وسائل آلودہ یا کمیاب ہوتے چلے جاتے ہیں، خواتین کے مسائل بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ قدرتی وسائل اور ماحولیاتی انحطاط سے بالواسطہ اور براہ راست خواتین ہی زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ماحولیاتی انحطاط کا عمل تیزی سے جاری ہے اور قدرتی وسائل کمیاب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

اس ماحولیاتی انحطاط میں اگرچہ عورت کا اتنا ہاتھ نہیں ہے لیکن پاکستانی معاشرے میں ماحول اور قدرتی وسائل کے انتظام و انصرام میں عورت کا کردار انتہائی اہم اور واضح ہے۔ وہ ان وسائل کی زیادہ اچھی محافظ ہے۔ یہ وسائل ہماری آئندہ نسلوں کی امانت ہیں لہٰذا ان کی حفاظت ہمارا فرض ہے اور آنے والی نسلوں کا خیال ایک ”ماں“ عورت سے زیادہ کون رکھ سکتا ہے۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے یعنی 1994 میں موسمی تبدیلیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کی توثیق کی تھی۔ یہی نہیں بلکہ اس نے دیگر متعلقہ معاہدوں Protocol کی تصدیق بھی کردی تھی۔ اگرچہ پاکستان کے بعض اہم اور متعلقہ حلقوں کا خیال یہ ہے کہ موسمی تبدیلیوں کا صنف سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور یہ مردو عورت پر یکساں ہوتے ہیں تو یہ بالکل غلط خیال ہے۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ Adaptability, Vulnerability اور Mitigation کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موسم کی تبدیلیوں کے اثرات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔


اس وقت پاکستان میں موسمی تبدیلیوں سے متعلق پالیسی پر کام جاری ہے تاہم پاکستان کو موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایسی پالیسی وضح کرنے کو ترجیح دے جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہو کہ عورتوں اور مردوں پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس پالیسی کے عمل میں اگر عورتوں کو بڑے پیمانے پر شامل کیا جائے تو ایسی صورت میں فیصلہ سازی کے لیے جو مواد حاصل ہوگا اس میں ہر مکتب خیال کو موثر نمائندگی حاصل ہوگی اور تبھی شاید کوئی بہتری کی صورت نکل سکے۔ وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح پھسل رہا ہے اور مجھ سمیت کروڑوں لوگ انتظار کررہے ہیں کہ شاید2010جاتے جاتے وقت کی کتاب پرکچھ پکے رنگوں کے انمٹ اور یادگار نقوش چھوڑ جائے۔

Sunday, February 28, 2010

دلی سے ہریانہ تک، ہری بھری یادوں کا سفر

شیخ چلی کا مزار اور پانچ ہزار سال پرانی جھیل برہماسرور، کرک شترا کی وجہ شہرت ہے

            صبح کے چھ بج رہے تھے ، ہلکا ہلکا اجالا پھیلا ہوا تھا،گاڑی انٹر کانٹی نینٹل گرینڈ ہوٹل کے باہر تیار تھی۔ اتنی صبح کوئی بھی ناشتے کے لیے تیار نہ تھا اس لیے حفظ ماتقدم کے طور پر رات ہی کو ہوٹل والوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ وہ سب کا ناشتہ پیک کردیں۔ ملگجے سے اجالے ، نومبر کی ہلکی خنک ہوا اور دلی کی ٹریفک سے خالی سڑکیں، ایک خوشگوار سفر کا آغاز ہوا جس کی منزل ہریانہ کے ضلع کرک شترا کا ایک سر سبز گاؤں بشن گڑھ تھا۔

            یہ 17نومبر 2008 کا ایک خوش گوار دن تھا۔ سینیٹشن کے حوالے سے تیسری کانفرنس SOUTH ASIAN CONFERENCE ON SANITATION (SACOSAN III) دہلی میں ہورہی تھی۔ اس کانفرنس میں تمام سارک ممالک شامل تھے، اس بار اہم بات یہ تھی کہ ہمسایہ ملک افغانستان بھی اس میں شامل تھا، یوں اب شریک ملکوں کی تعداد 8 ہوگئی تھی۔ یہ علاقائی کانفرنس ہر دوسال بعد منعقد ہوتی ہے۔ پہلی ڈھاکا، دوسری اسلام آباد اور اب یہ تیسری دہلی میں منعقد ہورہی تھی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز 18نومبر کو تھا مگر کانفرنس کے ذیلی پروگرام شروع ہوچکے تھے۔ ہم اسی کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی میں موجود تھے۔ ہمارا میزبان ورلڈبینک کا ذیلی ادارہ برائے واٹر اور سینیٹیشن (WSP) تھا۔ اسی ادارے کی گیتا شرما ہمارے ساتھ موجود تھیں۔ سادہ اور پروقار سی گیتا شرما کی آنکھوں میں خلوص کی چمک اور باتوں سے ذہانت کی خوشبو مہک رہی تھی۔ فورم آف انوائرنمنٹل جرنلسٹس آف انڈیا کے چیئرپرسن ڈیرل بھی موجود تھے اور دہلی میں یہی ٹیم لیڈر بھی تھے جبکہ WSP پاکستان سے فرحان سمیع اور عرفان سعید الراعی بھی ہمارے ساتھ تھے ۔ انڈیا کے 15اور بنگلہ دیش کے 4 صحافی اور پاکستان سے ہم چھ افراد یہاں موجود تھے۔ ان میں اسلام آباد سے ہما خاور، آفتاب ظہور، پشاور سے ثمینہ رسول (جو آج کل وائس آف امریکا سے وابستہ ہیں) اور کراچی سے میرے علاوہ سمیرا نقوی اور جان خاصخیلی بھی شامل تھے۔ یہ تمام لوگ ماحول کے حوالے سے کام کرنے والے تھے اوران سب کا ایک مقابلے کے ذریعے انتخاب کیا گیا تھا۔


            پاکستان اور انڈیا آج بھی سینیٹیشن کے حوالے سے ایک دگرگوں صورت حال سے دوچار ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اس شعبے میں بھی بہت پیچھے ہیں۔اگر صرف پاکستان ہی کی بات کریں تو پانچ کروڑ افراد کو سینیٹیشن کی سہولت میسر نہیں ہے یعنی ان کے گھروں میں لیٹرین موجود نہیں ہیں۔  یہ افراد ابھی تک رفع حاجت کے لیے گاؤں کے کھلے علاقوں مثلا جنگلوں یا کھیتوں وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ خواتین اور بچے بھی اسی چلن کے عادی ہیں۔  بچے تو دور جانے کا بھی اہتمام نہیں کرتے بلکہ گھروں کے سامنے اور گلیوں میں ہی رفع حاجت کرتے ہیں ۔کھلی جگہوں پر رفع حاجت کا سبب لوگوں کی کم علمی اور صحت و صفائی کی بنیادی باتوں سے عدم آگاہی کے ساتھ ساتھ ان کی غربت اور روایتوں پر سختی سے عمل درآمد ہے۔پاکستان میں سات کروڑ سے زائد افراد ایسے ہیں جنہیں صحت اور صفائی کے حوالے سے بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔دنیا بھر میں پانچ ہزار اورپاکستان میں ہر روز پانچ سال سے کم عمرگیارہ سو بچے سینیٹیشن کے ناقص انتظامات ، حفظان صحت کی خرابیوں ، دستوں اور آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔پاکستان کو دستوں کی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے ہر سال 55 ارب سے لے کر 84ارب تک سرمایہ خرچ کرنا پڑتا ہے جو اس غریب ملک کی معیشت پر اضافی بوجھ ہے۔آلودہ ماحول اور آلودہ پانی بچوں میں پیٹ اور جگر کی بیماریوں کا بڑا سبب ہے۔ انسانی فضلے کے مضر اثرات سے انسانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے۔ اسی لیے اب حکومت اور اس کے ساتھ بہت سے ادارے اسی حوالے سے کام کررہے ہیں اور لوگوں میں شعور و آگہی کی روشنی پھیلا رہے ہیں، WSP بھی ایسا ہی ایک نام ہے۔ ایسے گاؤں جہاں ہر گھر میں ٹوائلٹ کی سہولت موجود ہو اور وہ کھلی جگہوں پر فضلے سے پاک ہوجائے تو اسے او ڈی ایف گاؤں کہتے ہیں یعنی Open Defecation Freeاور وہ لوگ جو بلا معاوضہ رضاکارانہ طور پرشعورو آگہی کے فروغ کے لیے کام کرتے ہیں انہیں نیچرل لیڈر یا رضاکار(Barefoot ) کہا جاتا ہے اور یہ سارا عمل سی ایل ٹی ایس Community Led Total Sanitation کہلاتا ہے۔

اب تک پاکستان کے تقریبا15,00 گاؤں کھلی جہگہوں میں انسانی فضلے سے پاک ہوچکے ہیں اور 2011 تک ایسے گاؤں کی تعداد 15,000ہوجائے گی ، اس کا مطلب ہوگا کہ ایک تہائی دیہی آبادی کو یہ سہولت حاصل ہوجائے گی ۔

            ہریانہ کے ضلع کرک شتراکا گاؤں بشن گڑھ بھی ایسا ہی ایک ODF گاؤں تھا جہاں بہت کم عرصے میں اس بظاہر ناممکن کام کو ممکن بنایا گیا تھا اور اس تمام تر جدوجہد کا سہرا کرک شترا کی پرجوش اےڈیشنل ڈپٹی کمشنر ”سمیدھا کٹاریہ“ کے سر تھا۔
            ضلع کرک شترا جو دہلی سے 160کلومیٹر اور چندی گڑھ سے 90کلومیٹرکے فاصلے پر ہے ، ایک اہم روڈ جنکشن کہلاتا ہے۔ کرک شترا مذہبی اعتبار سے انڈیا کا ایک اہم علاقہ ہے اور ہندو عقیدے کے مطابق مہا بھارت کرک شترا کی سرزمین پر ہی لڑی گئی۔ یہیں پر پانچ ہزار سال پرانی جھیل ” برہما سرور“ دیکھی جس کا پانی آئینے کی طرح شفاف تھا۔ میڈم کٹاریہ ہمارے ساتھ تھیں اور انہوں نے خود ہی گویا ہماری گائیڈ کے فرائص سنبھال لیے تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہاں انڈیا بھر سے لوگ چاند گرہن میں آکر پوجا پاٹ کرتے ہیں اور اس جھیل کا پانی خود پر انڈیلنے سے وہ گناہوں سے پاک ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پانی کان پر لگانے سے بھی گناہ دھل جائیں گے ، ہم سب نے ان کے اصرار پر صرف ان کا دل رکھتے ہوئے پانی چھونے پر اکتفا کیا۔ جھیل کے سامنے بھگوان کرشنا اور ارجن کے دیو قامت دھاتی مجسمے موجود تھے۔ اسی علاقے میں شیخ چلی کا مزار بھی موجود ہے۔ یہیں پر بھگوان کرشنا میوزیم اور کرک شترا پینوراما اور سائنس میوزیم بھی موجود ہے۔ پینوراما سینٹر میں پہنچ کر آپ ہزاروں سال پرانی ہندو تہذیب میں سانس لے رہے ہوتے ہیں۔ یہاںانتہائی پر تاثیر انداز میں مہا بھارت کی ہزاروں سال پرانی 18روزہ جنگ کو زندہ کیا گیا ہے۔ دیوہیکل مجسمے اور آوازوں سے آپ کو یہی لگتا ہے کہ آپ اسی دور میں زندہ ہیں اور اس جنگ کے چشم دید گواہ ہیں، سمیدھا جی ہر قدم پر ہماری رہنمائی کررہی تھیں، انہوں نے تفصیل سے اس اٹھارہ دنوں کی جنگ کے اہم واقعات دہرائے۔

            بشن گڑھ ابھی دور تھا لہذا راستے میں آنے والے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں کچھ دیر سستانے کے لیے رکے۔ یہاں انتہائی شان دار لوازمات کے ساتھ چائے کا انتظام تھا۔ ہر قسم کی سلاد اور ہر قسم کے پکوڑوں کا ہم نے اپنے انڈیا میں قیام کے دوران لطف اٹھایا۔ یہیں پر سمیدھا کٹاریہ نے سینیٹیشن کے حوالے سے اپنے کام اور خصوصا خواتین کی جدوجہد پر روشنی ڈالی ، ان کی اس بات کی سچائی بشن گڑھ پہنچنے پر ثابت بھی ہوگئی۔ گاؤں کے لوگوں نے روایتی انداز میں ڈھول بجا کر اور عورتوں نے گاکر ہمارا استقبال کیا۔ مہمان مردوں کو پگڑیاں اور خواتین کو دوپٹے پہنائے گئے۔ روایتی پیلے پھولوں کے ہار گلے میں ڈالے گئے۔ خواتین گانے کے ساتھ ساتھ ” جے سچیتا“ یعنی صفائی زندہ باد کے نعرے بھی لگارہی تھیں۔ تعارف کے بعد پرجوش خواتین اپنی کامیابیوں کی تفصیل بتارہی تھیں، ان کے جوش سے سرخ چہرے اور باتوں سے ناممکن کو ممکن بنانے کاعزم عیاں تھا۔ ہر عورت اپنے تجربات زوروشور سے بیان کررہی تھی اور میرے ذہن میں ایک خیال کی گونج پھیل رہی تھی کہ وہ سماجی انقلاب جس کی راہ دیکھتے دیکھتے اس خطے کی کتنی نسلیں مٹی اوڑھ کر سوچکی ہیں وہ سماجی انقلاب اب دہلیز تک آپہنچا ہے، صرف دروازہ کھولنے کی دیر تھی ۔۔۔ امید بندھ چلی تھی کہ برصغیر کے اس سماجی انقلاب کے کاروواں کی علم بردار عورت ہی ہوگی۔  

Tuesday, December 29, 2009

عوام کے بے نظیر گھر

کوٹری سے ٹھٹھہ جاتے ہوئے قدیم تاریخی شہر جھرک سے کچھ فاصلے پر ایک انوکھا منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔  سنگلاخ پہاڑوں اور گھاس پھونس کی جھگیوں کے درمیان تعمیر شدہ نئے نویلے گھر ایک سنہرے خواب کی طرح نظر آتے ہیں جس نے اچانک تعبیر کا جامہ پہن لیا ہو۔  یہ منظر ابراہیم جماری گاؤں کا ہے جہاں کے مکینوں کو کم قیمت  بے نظیر ماڈل گھر تعمیر کرکے دیے جارہے ہیں۔ ہمارا ملک اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، خوف ، انتشار، سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور دہشت گردی کے عفریت نے اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے کہ لب مسکرانا اور آنکھیں خواب دیکھنا بھول گئی ہیں ۔   ایسے میں اگر کوئی اچھی بات نطر آتی ہے تو بے اختیار اسے سب تک پہنچانے کو دل چاہتا ہے۔


دریائے سندھ کے نزدیک پہاڑی علاقے میں آباد گاؤں ابراہیم جماری ان چند خوش نصیب گاؤں میں شامل ہے جہاں سمندری طوفانوں اور قدرتی آفات سے بچاؤ کی غرض سے گاؤں والوں کے لیے کم قیمت بے نظیر ماڈل گھر تعمیر کیے جارہے ہیں۔  پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے غریب و مستحق لوگوں کو یہ گھر مفت دیے جارہے ہیں ، ان گھروں کی تعمیر کی ذمے داری یو این ڈی پی کے سپرد ہے۔  اس اسکیم کے تحت آفت زدہ علاقوں میں ایسے 500 گھر مفت دیے جارہے ہیں۔

گاؤں ابراہیم جماری میں 35 گھروں پر مشتمل 192افراد آباد ہیں اور ان میں سے 25 خاندانوں کو یہ گھر ملیں گے۔  ہر گھر دو کمروں، برآمدہ، باتھ روم اور ٹوائلٹ کے ساتھ ایک چھوٹے سے کچن گارڈن پر مشتمل ہیں ۔  یو این ڈی پی کا کہنا ہے کہ یہ گھر ہر اعتبار سے ماحول دوست ہوں گے کیونکہ ان میں ایسی نئی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے کہ جس سے توانائی کی خاطر خواہ بچت ہوگی۔  یہ کشادہ اور قدرتی طور پر ہوادارگھر متوقع زلزلوں اور قدرتی آفات سے بھی محفوط ہوں گے۔

دادی جماری جس کی آنکھوں نے 75 برس کے گرم و سرد دیکھے ہیں، کام کاج سے فارغ ہوکر وہ اپنے پسندیدہ مشغلے میں مصروف ہوجاتی ہے ۔ آج کل اس کا ایک ہی کام ہے کہ اپنی جھگی سے پر امید نظروں سے ان نو تعمیر شدہ گھروں کو دیکھتی رہتی ہے۔ اسے شدت سے انتظار ہے کہ وہ کب مکمل ہوں گے اور وہ اپنے خاندان سمیت اس گھر میں منتقل ہو۔  یہ احساس ہی اس کے اندر خوشیاں جگا دیتا ہے کہ اب بارش میں اس کا گھر نہیں گرے گا اور وہ  اس کا خاندان اور اس کے بچے محفوظ ہوں گے۔  35   گھروں پر مشتمل اس گاؤں کے 25 ضرورت مند اور مستحق گھروں کا انتخاب اس گاؤں کی ترقیاتی تنظیم کے عہدیداروں نے خود کیا۔  اس گاؤں کے لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور مویشی بانی پر ہے لیکن اب کچھ لوگ چھوٹی نوکریاں اور مزدوری کے لیے دوسرے گاؤں بھی جاتے ہیں۔

 یہ گھر 20 جولائی 2009 پر مکمل ہوچکے ہیں اور لوگ ان لمحات کا شدت سے انتظار کررہے ہیں جب وہ ان گھروں میں منتقل ہوجائیں گے۔  ایسے ہی ایک منتظر دیہاتی نواز کا کہنا تھا کہ ”انتظار بہت مشکل ہے ، ہمارے لیے تو یہ گھر ایک خواب تھے جن کی تعبیر ہم دیکھ رہے ہیں۔

یو این ڈی پی جیف ٹیکنیکل ایڈوائزر پروفیسر جاوید شاہ کا کہنا ہے کہ بے نظیر ماڈل گھروں کی اس اسکیم میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جارہی ہے، یہ ٹیکنالوجی غریب اور خاص طور پر طوفانوں سے متاثرہ ساحلی علاقوں کے لیے بہترین ہے۔اس ٹیکنالوجی سے صحیح طور پر استفادہ کے لیے یو این ڈی پی نے خاص طور پر”ورک یارڈ“ بنایا ہے جہاں پر یہ مخصوص بلاک بنائے جاتے ہیں۔  پروفیسر شاہ کا کہنا تھا کہ انہیں 9 مہینوں کے مختصر وقت میں 500 گھر تعمیر کرنے تھے لہذا انہوں نے پہلے 4 ماہ تعمیراتی سامان تیار کرنے اور اس نئی ٹیکنالوجی سے متعلق کاری گروں کو ٹریننگ دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس مستری ، مزدور ، کارپینٹر اور دیگر کاری گروں کی تعداد 7000ہےجو دور دراز کے علاقوں میں بھی کام کررہے ہیں۔  اکثر کاری گر ان ہی گاؤں میں رہتے ہیں جہاں پر ان کے لیے نئے گھر تیار ہورہے ہیں۔

  یو این ڈی پی(جیف) سمال گرانٹس پروگرام کے نیشنل کوآرڈینیٹر مسعود لوہار نے کہا کہ ہم اس اسکیم میں سیمنٹ اور لکڑی کے سامان کو کم کرکے اینٹوں کا استعمال زیادہ کررہے ہیں تاکہ توانائی کم خرچ ہو۔  ان کا کہنا تھا کہ کم لاگت والے یہ گھر توانائی کے حوالے سے اپنی تعمیر میں انتہائی متوازن ہیں ماحول دوست ہیں۔ ان گھروں میں سمندری طوفان،  زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کی بھی صلاحیت موجود ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ یہ سندھ حکومت کا کمال ہے کہ وہ اس پائلٹ منصوبے کے ذریعے یہ ٹیکنالوجی عوام تک پہنچارہی ہے۔

 ایسا ہی ایک منظر ہم نے ضلع ٹھٹھہ کے کوہستانی گاؤں دریا خان بھنڈ میں بھی دیکھا ، وہاں کے 24 مستحق خاندانوں کو یہ گھر ملنے والے تھے اور خوشی سے چمکتے ان کے چہرے دیدنی تھے۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور وسیع اراضی پر پھیلی چراگاہوں میں مال مویشی چرانا ہے۔  گاؤں کے بزرگ لوگ ماضی کے حوش حال دنوں کو یاد کرتے ہیں جب ان کے پاس سیکڑوں کی تعداد میں مال مویشی ہوتے تھے۔  ان کی زرخیز زمینیں فصلیں اگاتی تھیں۔ ڈھیروں اناج اور مکھن ، دودھ ، دہی سبھی کچھ ان کے پاس تھا۔  پانی سے لبالب کنوئیں ہوا کرتے تھے۔  تب کہیں پر پانی کی کمی کی کوئی بات نہیں ہوتی تھی۔  لیکن پھر موسم بے ترتیب ہوتے چلے گئے اور ان کی زندگی دردناک ہوتی چلی گئی۔ کنوئیں پانی سے خالی اور چراگاہیں ویران ہوتی چلی گئیں۔  پانی کی کمی نے لہلہاتی فصلوں کو بھی خواب بنادیا۔ اب یہ لوگ پینے کے پانی کے لیے بھی ٹینکروں کے محتاج ہیں۔  جو گھر ٹینکر کا پانی نہیں خرید سکتے ان گھروں کی خواتین میلوں پیدل چل کر دو مٹکے پانی لے کر آتی ہیں۔  بہرحال اب سندھ حکومت کی اس اسکیم میں نہ صرف ان کے لیے مفت میں نئے گھر بنائے ہیں بلکہ نوجوانوں کو شعور اور آگاہی بھی دی ہے کہ انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ طور پر جدوجہد کرنی ہوگی۔حکومت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ یو این ڈی پی کی ٹیم کے بھی پر خلوص تعاون کو سراہتے ہیں۔  صاف ستھرے گھروں، دھوئیں سے محفوظ کچن اور صحن میں بننے والے سر سبزکچن گارڈن سے یقینا ان کی نئی زندگی کی شروعات ہوتی ہیں۔

Saturday, December 26, 2009

کوپن ہیگن کانفرنس۔ ۔ ۔ غریب ملکوں کے ہاتھ کیا آیا؟

بدلتے موسموں کے حوالے سے عالمی کانفرنس اختتام کو پہنچی ہی تھی کہ امریکا اور یورپ میں معمول سے ہٹ کرشدید برف باری نے اس حقیقت کو روز روشن کی طرح عیاں کردیا کہ اب بدلتے موسم کوئی خیالی نظریہ نہیں بلکہ حقیقت ہیں اور یہ کہ اب یہ مسئلہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پورے کرہ ارض کا ہے۔

 کہا جاتا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکا میں آنے والایہ پہلا بدترین برفانی طوفان ہے جو بعد ازاں شمالی علاقوں کی طرف سے ہوتا ہوا سمندر کی طرف نکل گیا ۔  امریکا کے مشرقی علاقوں نے برف کی چادر اوڑھ لی، اس طوفان میں برف گرنے کی مقدار دو فٹ بیان کی جارہی ہے اور اس طوفان سے امریکا کی کم از کم بارہ ریاستیں متاثر ہوئی ہیں۔ امریکی قومی موسمیاتی ادارے نیشنل ویدر سروس کے مطابق گذشتہ دس برسوں کی یہ پہلی شدید برف باری تھی۔  برفانی طوفان کے بعد ورجینیا، میری لینڈ ویسٹ ورجینیا اور ڈیلاویز کے گورنروں اور واشنگٹن کے میئر نے اپنے اپنے علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا تھا۔  جبکہ امریکی دارالحکومت کے تینوں ہوائی اڈے ہفتے کی دوپہر سے برف باری کی وجہ سے بند کردیے گئے تھے۔



دوسری جانب یورپ بھی شدید موسم کی زد میں ہے اور پورے یورپ میں انیس افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔  15 افراد پولینڈ میں ٹھٹھر کر ہلاک ہوئے اور جرمنی میں درجۂ حرارت 33 سینٹی گریڈ سے بھی نیچے گرگیا۔

برطانیہ اور یورپ کے درمیان یورو ٹنل کے ذریعے چلنے والی یورو اسٹار ٹرین سروس دو دن تک معطل رہی۔  جرمنی ، فرانس ، برطانیہ اور بیلجیئم کے بڑے بڑے ہوائی اڈوں سے سیکڑوں کی تعداد میں پروازیں اور یورو اسٹار کی سروس معطل ہونے سے ہزارہا افراد مختلف شہروں میں پھنس کر رہ گئے۔  ماہرین ماحولیات اور سائنس دانوں نے اس بدترین طوفان اور شدید موسم کو بے ترتیب موسموں کا ہی شاخسانہ قرار دیا ہے۔

بے ترتیب ہوتے موسموں کے ان ہی رویوں اور ان کی روک تھام کے لیے نئے معاہدے کی تلاش میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام 6 تا 18 دسمبر کوڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں موسمیاتی تبدیلیوں پر عالمی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔  اس کانفرنس میں پاکستان سمیت 192 سے زائد ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور وزرا نے حصہ لیا۔  یہ عالمی سطح کی پہلی کانفرنس تھی جس کے اختتامی مرحلے میں امریکا ،برطانیہ ،چین،برازیل اور بھارت سمیت 60 سے زائد ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے شرکت کی۔  اس سے پہلے ہونے والے اجلاسوں میں عام طور پر ماحولیات کے وزیر ہی شرکت کیا کرتے تھے۔  امید تھی کہ پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی اس کے اختتامی اجلاس میں شرکت کریں گے لیکن شاید سیاسی منظر نامے میں ہر پل بدلتے حالات نے انہیں فرصت نہ دی اور ان کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی۔  پاکستان کی واحد صحافی جنہیں اس کانفرنس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا وہ ایک انگریزی روزنامے سے وابستہ رعنا سعید تھیں ۔  واضح رہے کہ رعنا ایک بین الاقوامی مقابلہ جیت کراس کانفرنس کی شرکت کے مراحل تک پہنچی تھیں ۔  کوپن ہیگن میں جب انہوں نے پاکستانی سرکاری وفد سے پوچھا کہ آپ لوگ کسی پاکستانی صحافی کو ساتھ نہیں لائے تو انہوں نے وجہ وسائل کی کمی بیان کی !

6 تا18 دسمبر ۔ ۔ ۔  ان تیرہ دنوں میں عالمی ذرائع ابلاغ نے اس کانفرنس پر بھرپور توجہ منعقد کی اور اسے ہر ہر پہلو سے موضوع خبر بنایا۔  تمام خیر ملکی اخبارات اور اہم ٹی وی چینل پر روزانہ کی پیش رفت کے حوالے سے خبریں سارا دن موجود ہوتیں،اہم ممالک کے تمام سربراہان کے بیانات کو شہ سرخی میں جگہ ملتی رہی لیکن افسوس کہ ہمارے ذرائع ابلاغ نے اسے وہ اہمیت نہ دی جو دینی چاہیے تھی۔  شاید اب ہمارے ذرائع ابلاغ اور خصوصا الیکٹرانک میڈیا پرسیاست کی سنسنی خیزی کے سوا اب کسی اور شے کو اہمیت حاصل نہیں ہے۔  یہ میرے نزدیک صرف دکھ کی بات نہیں ہے بلکہ یہ رحجان انتہائی خطرناک ہے کہ وہ مسائل جو ہمارے ملک ، ہماری قوم کی بقا کے لیے خطرہ بنتے جارہے ہیں، ہمیں ان کا ادراک ہی نہیں ہے یا ہم انہیں اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

کرۂ ارض کی فضا کو گرم کرنے میں سب سے اہم گرین ہاؤ س گیسوں ، خاص طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ہے۔ یہ گیس سب سے زیادہ رکازی ایندھن (فوسل فیول) کے جلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ رکازی ایندھن  مثلاً پٹرولیم ، قدرتی گیس اور کوئلہ توانائی کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔  

یہ ایندھن دنیا بھر کی پیداواری، تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کا جزو لازم ہے۔  یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ماحولیاتی اداروں کی کوشش کے باوجود مضر گیسوں کے اخراج میں کمی نہ ہوسکی۔

گلوبل وارمنگ کے ذمے دار ترقی یافتہ ممالک ہی ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک گلوبل وارمنگ پر کنٹرول کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے ٹھوس اقدامات پر تیار ہی نہیں ہیں۔  امریکا کی صنعتیں سالانہ سب سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ سے فضا کو آلودہ کرتی ہیں۔  اس کے بعد چین ،بھارت اور دیگر بڑے ممالک کا نمبر آتا ہے۔ یہ تمام ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے اقدامات کیے گئے تواس سے ان کی صنعتی ترقی متاثر ہوگی۔

صنعتی ممالک کی چمنیوں سے خارج ہوتی خطرناک گیسوں کی روک تھام کے لیے جاپان کے شہر کیوٹو میں 1997 میں ایک معاہدہ کیوٹو پروٹوکول کا قیام عمل میں لایا گیاتھا۔ اس معاہدے کے تحت 2012 تک صنعتی ممالک کو ان گیسوں کے اخراج میں 5.2 فیصد تک کمی کرنا تھی۔  اس معاہدے پر سوائے امریکا کے سبھی ترقی یافتہ ملکوں نے دستخط کیے تھے لیکن امریکا نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔  امریکا کے اس اقدام سے یورپی ممالک اور ماہرین سخت نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا سب سے زیادہ ان گیسوں کی پیداوار کا ذمے دار ہے لہٰذا تحفظ ماحول کے ا قدامات میں بھی اسے ہی سب سے زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یوں بھی امریکا جیسے صنعتی ترقی یافتہ ملک کے تعاون کے بغیر ماحولیاتی مسائل پر قابو پانا ناممکن ہے۔  پچھلے برسوں میں یکے بعد دیگرے منعقد ہونے والی کانفرنسوں کا اہم ایجنڈا 2012 میں کیوٹو پروٹوکول کے خاتمے کے بعد بدلتے موسموں کی روک تھام کے حوالے سے ایک جامع اور متفقہ معاہدے کی تشکیل ہے ، جس میں امریکا بھی شامل ہو۔

 یہ موسم اچانک اتنے بے ترتیب کیسے ہو چلے ؟ یہ طے ہے کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں ، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔  سو یہ حادثہ بھی کئی دہائیوں کی بے پروائیوں اور غفلت سے رقم ہوا ہے ۔  حضرت انسان نے خود کو عقل کل سمجھ کرایک طرف تو فطرت کے قوانین میں دخل اندازی شروع کردی اور دوسری جانب نام نہاد ترقی سے اپنے موت کے پروانے پر خود دستخط کرنا شروع کردیا۔

 پچھلی صدی کی آخری تین دہائیوں سے ماہرین نے لوگوں کو خبردار کرنا شروع کر دیا تھا لیکن اس وقت شاید دنیا والوں کے لیے یہ نئی اور انہونی باتیں تھیں جنہیں وہ سمجھنے کے لیے تیار نہ تھے لیکن جب نوبل انعام یافتہ اقوام متحدہ کے انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) نے موسمیاتی تغیر (Climate Change) پر اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی تو جیسے دنیا کے ہر حصے میں ہلچل سی مچ گئی۔  اپریل 2007 میں جاری کردہ 1500 صفحات کی اس ضخیم رپورٹ کی تیاری میں 100 ممالک کے 2000 سائنس دانوں نے دن و رات کو ایک کردیا تھا۔  رپورٹ کے مطابق غیر مناسب صنعتی سرگرمیوں سے فضا میں خطرناک گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تناسب بڑھ رہا ہے اور ا س کے نتیجے میں زمین کے درجہ ءحرارت میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔  1990  سے جاری یہ اضافہ اگر 1.5 سے 2.5 سیلسیس تک جا پہنچا تو دنیا تباہی کے خوفناک منظر دیکھے گی۔ سیلاب، سمندری طوفان، خشک سالی اور قحط جیسے عذاب انسان کا مقدر بن جائیں گے اور زمین پر موجود 30 فیصد انواع صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ ”30 فیصد انواع کا معدوم ہونا“ کیا معنی رکھتا ہے کاش اس کی سنگینی کو ہم سمجھ سکتے۔ کسی ایک نوع کے بھی مٹنے سے فطرت کی اربوں سالہ محنت تو برباد ہوتی ہی ہے لیکن اس سے کہیں بڑا نقصان زندگی کی زنجیر میں سے ایک کڑی کا ٹوٹ جانا ٹھہرتا ہے۔  اب ذرا غور کیجئے کہ اس زنجیر کی 30فیصد کڑیوں کو باہر نکال کر پھینک دیا جائے تو اس زنجیر کا کیا حال ہو گا؟

 اس رپورٹ کے مطابق فضا کو آلودہ کرنے میں سب سے زیادہ امریکا کا ہاتھ ہے۔  ان خطرناک گیسوں کا 38 فیصد حصہ امریکا ہی کی چمنیوں سے نکلتا ہے لیکن ایک طاقتور اور وسائل سے مالا مال ملک ہونے کے ناتے وہ ان خطرات کا با آسانی مقابلہ کر سکتا ہے۔اصل مسئلہ تو غریب ممالک کا ہے جن کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ تیکنیکی مہارت۔

اگر کوپن ہیگن کانفرنس کے تیرہ دنوں کا جائزہ لیا جائے تو اس کانفرنس کی اہمیت کے حساب سے اقوام عالم کی توقعات بھی بہت زیادہ تھیں ۔ خصوصا ترقی پزیر اور غریب ممالک کی امیدیں اور آس اسی کے نتائج سے وابستہ تھیں ۔ یہ غریب ممالک اگرچہ موسموں کے بگاڑ میں ان کا کوئی قابل ذکر کردار نہیں ہے لیکن نتائج کے اعتبار سے ان کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔  چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک یا اقوام اور خطرات سے دوچار ساحلی ممالک نے مشترکہ طور پر اقوام عالم اور امیر ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ کسی ایسے معاہدے پر ضرورمتفق ہوجائیں جس پر عمل درآمد سے خطرات کم ہوجائیں ۔  فجی سے تعلق رکھنے والی ایک نوعمر خاتون خاتو ولی کوہام نے اس موقع پر کہا کہ اگر اس کانفرنس میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو پھر ان کا ملک صفحہءہستی سے مٹ جائے گا اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔  

امیر ممالک کے رویے سے نالاں لاکھوں افراد نے کانفرنس ہال سے باہر مظاہرے بھی کیے۔ کانفرنس کے اختتام پر پانچ اہم ممالک کے گروپ جس کی قیادت امریکا کررہا تھا، نے ایک معاہدہ پیش کیا۔ اس مسودے کے بارے میں امریکی صدر بارک اوباما کا کہنا تھا کہ یہ ایک ”بامعنی“ معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کو چند ترقی پزیر ممالک نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ معاہدہ ایسے اقدامات وضع نہیں کرتا جن سے خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کو روکا جاسکے۔  معاہدے کی مخالف اقوام میں نکارا گوا ، وینزویلا اور کیوبا جیسے لاطینی امریکی ممالک شامل ہیں۔  بعد ازاں اس معاہدے کی منظوری دے دی گئی لیکن یہ منظوری مکمل اتفاق رائے سے نہیں دی گئی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاہدے میں ایسا کچھ نہیں جس پر عمل درآمد سے بڑھتے ہوئے درجہ ءحرارت کو روکا جاسکے۔

اس کانفرنس کے انعقاد سے پہلے ہی یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس اجلاس کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ لیکن چونکہ اس کانفرنس میں کئی ممالک کے سربراہان خصوصا بڑی طاقتوں کے نمائندگی موجود تھی اس لیے یہ گمان بھی تھا کہ شاید عالمی حدت پر قابو پانے کے لیے کوئی معاہدہ طے پاجائے گا۔

امریکی صدر نے کانفرنس کے اختتام پر پانچوں ممالک (امریکا ،چین ، بھارت، جنوبی افریقہ اور برازیل) کے درمیان اتفاق رائے کو اہم قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ کہا کہ اتنا کافی نہیں ہے، ہم سب کو اختلاف بھلا کر اس بڑے خطرے سے نمٹنا ہوگا۔  امریکی معاہدے کے مطابق امریکا اگلے تین برسوں میں ترقی پزیر ممالک کو 30 ارب ڈالر دے گا۔ اس معاہدے کے تحت اگرچہ کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے کوئی ہدف مقرر نہیں کیا گیا البتہ تمام ممالک سے کہا گیا کہ وہ عالمی درجہ و حرارت کو دو ڈگری سلیسیس تک کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

کانفرنس میں شامل کئی ممالک ، ماحولیاتی اداروں کے سربراہ اور امریکی عوام تک نے اس معاہدے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔  یورپی کمیشن کے صدر جوزمینوئیل بروسو نے کہا کہ” میں اس معاہدے پر اپنی مایوسی نہیں چھپاؤں گا۔“ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کا کہنا تھا کہ” اس معاہدے کا متن جامع نہیں ہے"۔  گرین پیس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جان سوان نے بھی اس معاہدے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  ایسا لگتا ہے کہ اب دنیا میں بہت کم ایسے سیاست داں رہ گئے ہیں جو اپنے محدود ذاتی مفاد سے آگے دیکھنے کے قابل ہیں۔
چین اور انڈونیشیا نے کانفرنس کے نتائج کا خیر مقدم کیا۔ انڈونیشیا کے صدر نے کہا کہ انڈونیشیا خوش ہے کہ ہم نے اپنی زمین اور بچوں کے تحفظ کے لیے فیصلہ کیا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ عالمی ماحولیاتی اجلاس میں بات چیت کا نتیجہ مکمل طور پر ویسا نہیں نکلا جیسا کہ امید تھی البتہ یہ معاہدہ ایک ”ضروری ابتدا“ ہے۔

چینی وزیر خارجہ یئنگ چی چی کا کہنا تھا کہ ترقت یافتہ ملکوں اور ترقی پزیر ملکوں پر کاربن کے اخراج کے حوالے سے اہم ذمے داریاں ہیں اس لیے انہیں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے الگ الگ ذمے داریاں اور فرائض بھی سونپے جانے چاہیے۔

عالمی ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں آواز ڈاٹ آرگ نامی ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کی تازہ ترین فلمCli.Matrix بھی کوپن ہیگن کانفرنس کے دوران ریلیز ہوکر موضوع بحث بنی۔ اس فلم کے اہم ترین کردار امریکا کے صدر بارک اوباما ، جاپانی وزیر اعظم یوکیوہاتویاما اور جرمن خاتون چانسلر انجیلا مرکل ہیں۔  ان تینوں کرداروں نے سیاہ چشمے،چمڑے کی جیکٹیں زیب تن کرنے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں میں آٹومیٹک گن اٹھائی ہوئی ہیں۔  اس فلم کے پروڈیوسر لیری(Larry) اور اینڈی واچوسکی  (Andy Wachowski) ہیں۔ برطانیہ کے مشہوراخبار فنانشل ٹائمز نے اس حوالے سے ایک اشتہار بھی شائع کیا اور کانفرنس کے شرکا میں تقسیم کیا۔  آواز ڈاٹ آرگ نامی تنظیم نے ان تینوں عالمی رہنماؤں پر زوردیا ہے کہ وہ ذہنی طور پر اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار رہیں کہ صرف غریب ممالک میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی 200,000 ملین افراد متاثر ہوں گے۔  اس تنظیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا بھر کی آبادی کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے ایک مثبت اور بھرپور کردار ادا کرے۔ اس تنظیم کے اراکین کی تعداد36 لاکھ ہے۔ اور ترقی یافتہ ملکوں میں ان کے اراکین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی صدر اوباما، جاپانی وزیر اعظم ہاتویاما اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان عالمی رہنماؤں کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ وہ عالمی ماحولیاتی آلودگی میں ممکنہ حد تک کمی کرنے کے لیے طویل مدت سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔


 اتنی اہم کانفرنس جس پر اقوام عالم کا کثیر سرمایہ اور بہت سا وقت خرچ ہوا نتائج کے اعتبار سے مایوس کن رہی، اگرچہ اسے آنے والے کل کے لیے ایک خوش گوارآغاز قرار دیا جارہا ہے اور اگر ایسا ہے تو یہ بہت مہنگا آغاز ہے۔

Sunday, November 29, 2009

وزیر اعظم کے نام ایک خط

  انتہائی قابل احترام وزیر اعظم صاحب،

  سال 2009 دھیرے دھیرے مٹھی میں بند ریت کی طرح پھسلتا گیا اور اب سال کا آخری مہینہ دسمبربھی رخصت ہوا چاہتا ہے، صرف دو روز اور پھر یہ سال بھی وقت کی گہری کھائی میں اتر جائے گا۔ سال 2009 کوحکومت نے ماحول کا قومی سال قرار دیا تھا لہذا ماحول سے منسوب اس سال کی رخصتی سے پہلے کچھ باتیں آپ سے کرنا چاہ رہی ہوں۔

  محترم ، آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں، ملک کے سب سے مقتدر عہدے پر فائز گویا ملک کے کرتا دھرتا آپ ہی ہیں لہذاان اہم مسائل کے لیے ہمیں آپ ہی کی طرف دیکھنا ہوگا۔  اگرچہ کہ ان مسائل کا تعلق این آر او، کرپشن یا سیاسی پیش گوئیوں سے بالکل بھی نہیں ہے اور نہ ہی ان کا تعلق کسی کے آنے اور جانے سے ہے ، یہ مسائل تو دراصل ملک و قوم کی بقا سے متعلق ہیں گویا اصل مسائل یہ ہی ہیں۔



  محترم، آپ یقینا جانتے ہوں گے کہ ماحولیاتی مسائل اب دنیا بھر کی حکومتوں کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں، آپ حالیہ کوپن ہیگن کانفرنس کے نتائج سے بھی باخبر ہوں گے۔  یقینا یہ حقیقت بھی آپ سے ڈھکی چھپی نہیں ہوگی کہ پاکستان کا شمار فضا کوآلودہ کرنے والے ممالک میں بہت نیچے ہے لیکن موسموں کی بے ترتیبی سے ہونے والے نقصانات کا شکار ملکوں کی فہرست میں بہت اوپرہے۔  دست قدرت نے پاکستان کو دل کھول کروسائل سے نوازا ہے، پہاڑوں میں موجود گلیشیئروں سے لے کر بحیرہ عرب کے ساحلوں تک بیش بہا قدرتی وسائل ہمارے ملک کے طول و عرض میں موجود ہیں۔  ایک محتاط اندازے کے مطابق قطبین کے بعد شاید سب سے زیادہ گلیشیئرز ہمارے بالائی علاقوں میں ہی موجود ہیں۔  یہ گلیشیئرز ہمارے آبی وسائل کا سرچشمہ ہیں لیکن موسموں کی بے ترتیبی(Climate Change)  سب سے زیادہ ان ہی آبی وسائل کو متاثر کرے گی۔دنیا بھر میں اب ایسی حکمت عملیاں تیار کی جارہی ہیں جو ان بے ترتیب موسموں سے ہم آہنگ ہوں خصوصا Climate change adaptation in the water sector  اب وقت کی ضرورت تسلیم کرلی گئی ہے۔ ترقی پزیر اور ٹوٹی پھوٹی معیشت ہونے کے ناتے ہمارے مسائل اور بھی گمبھیر ہیں۔ مثلادرجۂ حرارت کے بڑھنے سے پاکستان کے لیے پہلا خطرہ ہمالیائی گلیشیئرزہوں گے، ان گلیشیئرز سے دنیا کے کئی بڑے دریا مثلاً دریائے سندھ، گنگا، برہم پترا، سلوین، میکا ونگ، یانگ ژی اور زرد دریا نکلتے ہیں جن کا پانی پاکستان، بھارت، چین اور نیپال میں زندگی کو رواں دواں رکھنے کا باعث ہے۔ گرمی کے بڑھنے سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھلیں گے اور ان دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گی جس سے کناروں پر آباد لاکھوں افراد کو سیلاب کا سامنا ہو گا۔ سیلاب سے بچاؤکے لیے جس قدر سرمایہ درکار ہوگا اس کا پاکستان جیسا غریب ملک تصور بھی نہیں کرسکتا۔  کچھ عرصے بعد جب پانی کم ہوجائے گا تویہی ممالک خشک سالی کا عذاب سہیں گے۔  زراعت تباہی سے دوچار ہوگی، قحط پھیلے گا اور غربت و افلاس کے سائے مزید گہرے ہوجائیں گے۔  یہ وہ کم از کم خطرات ہیں جو کسی ناکردہ جرم کی سزا کے طور پر ہمارے اس پیارے ملک کو بھی بھگتنا ہوگا۔ کیا ہم نے ایسی کسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی تیار کی ہے؟ اگر دریاؤں میں پانی زیادہ آجائے تو اسے کہاں ذخیرہ کیا جائے گا؟ منگلا اور تربیلا تو پہلے ہی ریت اور مٹی سے اٹ کر گنجائش سے کہیں کم پانی ذخیرہ کررہے ہیں۔ کیا ہم نے چھوٹے ڈیم یا بند تعمیر کرنے کی کوئی عملی تیاری کی۔  ماہرین کے مطابق دریائے سندھ پردسیوں ایسے مقامات ہیں جہاں پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ چھوٹے ڈیم کم مدت اور کم لاگت میں تعمیر کیے جاسکتے ہیں اس کے لیے نہ غیر ملکی قرضوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی ماہرین کی۔  اپنے وسائل اور اپنی مہارت سے اس سال ہم باآسانی یہ کام کرسکتے تھے۔۔۔ لیکن ہم یہ بھی نہ کرسکے!

محترم، آبی وسائل کی زبوں حالی کے تانے بانے جاکر ہماری کمزور ( بلکہ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں اسے ”ناکام“ کہنے کی جسارت کروں گی) خارجہ پالیسی سے بھی جاکر ملتے ہیں جس کا تسلسل کئی دہائیوں سے جاری ہے۔  ایک آمرنے بڑی فراخ دلی سے تین دریا ہندوستان کو بخش دیے تھے جبکہ گذشتہ سالوں میں دوسرے آمر نے ہندوستان کو ہمارے دریاؤں پر ڈیم بنانے کی اجازت دے کر اسے ہمارے دریاؤں کا پانی روکنے کا پروانہ عطا کیاتھا۔ صد شکر کہ آج کوئی آمر موجود نہیں ہے لیکن افسوس کہ اس کے باوجود جب ہندوستان آج بھی ہمارے دریاؤں کا پانی روک دیتا ہے تو کہیں اندرون ملک یا کسی بین الاقوامی فورم پر کوئی احتجاج نہیں ہوتا ہے ! یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہندوستان نے اپنے دریاؤں پر دسیوں بڑے ڈیم بنا کر نہ صرف اپنا پانی محفوظ کر لیا ہے بلکہ پاکستان کے دریاؤں کا پانی بھی دھڑلے سے چرا رہا ہے۔

محترم، آپ یقینا یہ بھی جانتے ہوں گے کہ پاکستان کے پاس دوسرے ممالک کے مقابلے میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بہت کم ہے مثلا امریکا اور آسٹریلیا کی آبی ذخیرے کی صلاحیت5,000 کیوبک میٹر پر کیپیٹا اور چین کی 2,200 کیوبک میٹر پر کیپیٹا ہے جبکہ پاکستان کی یہ صلاحیت صرف 150کیوبک میٹر پر کیپیٹا ہے۔ بھارت اپنے ذخیرہ کردہ پانی سے اپنے متعلقہ دریاؤں کو 120سے 220 دن تک رواں رکھ سکتا ہے جبکہ پاکستان کے دریا صرف 30دن تک رواں رہ سکتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے پانی کو کہیں ذخیرہ نہیں کر سکتے پانی کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق استعمال بھی نہیں کرسکتے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ بے ترتیب موسموں کا شاخسانہ بہت دور تک جائے گا۔  یہ بدلتے موسم یعنی خشک سالی اور سیلاب براہ راست صحت کو بھی متاثر کریں گے خصوصا پاکستان جیسے خشک ملک میں جہاں بارشیں کم ہوتی ہیں یہ خشک سالی قیامت مچا دے گی۔ زیر زمین پانی بھی کم ہوتا چلا جائے گا۔پانی میں آلودگی اور بڑھ جائے گی ۔آلودہ پانی سے آنتوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔گرمیوں میں وبائی بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ بے شمار سروے رپورٹ بتاتی ہیں کہ گرمیوں میں ہی متعدی امراض مثلا ملیریا اور ڈینگی کی شدت بڑھتی ہے۔ہمارے ملک کے سرد حصے جو ان بیماریوں سے محفوظ ہیں لیکن گلوبل وارمنگ کے تحت جب ان علاقوں کا بھی درجۂ حرارت بڑھے گا تو یہاں بھی یہ بیماریاں پھیلنے لگیں گی۔  ان بیماریوں کے علاج کے ضمن میں جواضافی بوجھ پڑے گا وہ پہلے سے بدحال معیشت کو اور تباہ حال کردے گا۔ غریبوں کے لیے جینا تو جینا مرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔

  پاکستان جیسا غریب اورترقی پذیر ملک جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرتے ہیں جہاں انسانوں کا خون پانی سے بھی ارزاں اور پینے کا صاف پانی جنس گراں مایہ بن چکا ہو، جہاں لمبی قطاروں میں لگ کر آٹا دال خریدنا پڑتا ہو وہاں کیا ہماری حکومت  "climate change" سے پیدا ہونے والے ان مسائل پر توجہ دے پائے گی ؟  مایوسی کا شدید احساس ہر امید کو ڈسنے لگتا ہے!
  ہمارا دوسرا بڑا شعبہ زراعت جس کا انحصار پانی ہی پرہے ، پانی کی کمی سے دوچار ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا 90% پانی جوزراعت میں استعمال ہوتا ہے اس میں سے 20 سے 30فی صد راستے ہی میں ضائع ہوجاتا ہے ۔ ہمیں اس ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔  پاکستان کی زرعی فصلوں پر بھی دھیان دینا ہوگا۔  کیونکہ پانی کی بچت انتہائی ضروری ہے۔ ایسی فصلیں اگانا جس میں پانی کم استعمال ہو اور وہ منافع زیادہ دیں بہت ضروری ہوگا ۔ آنے والے وقتوں میں پرانی روایتی فصلیں اگانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

 ہماری تقریبا 60 فی صد آبادی شہروں میں رہے گی اس لیے ضروری ہے کہ شہروں کے نئے ماسٹر پلان تیار کیے جائیں جن کے تحت تمام ضروریات زندگی مثلا سبزیاں ، پھل ، جانوروں کی پرورش اور دیگر تمام سرگرمیاں شہروں کے قریب ہوں۔ اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور emissions بھی کم ہوں گے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ میں درختوں کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ موجودہ جنگلات کے بچاؤ کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ کیونکہ موسمی تبدیلی سے سیلاب آئیں گے۔  اس کے لیے ہمیں مربوط منصوبہ بندی اور زون بنانے ہوں گے۔  یاد رہے کہ ان تمام تبدیلیوں اور خطرات کی زد میں ہمارا غریب اور مظلوم طبقہ ہی نشانہ بنے گااورزیادہ تر علاقوں سے غریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔  اس کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ورنہ اس نقل مکانی کے بہت برے اثرات رونما ہو سکتے ہیں۔

  پاکستان موسمی تبدیلیوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا لیکن بروقت بہترین منصوبہ بندی سے اس کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔ کیااس سال ہم نے اس حوالے سے کوئی جامع اور مربوط حکمت عملی تیار کی ہے؟

  محترم ، اب آخر میں ایک انتہائی اہم بات ! یہ چند اعدادوشمار ہیں جنہیں پڑھ کر شاید آپ مندرجہ بالا گزارشات کی سنگینی کا اندازہ کرسکیں، عالمی بینک کی ایک مستندرپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت ماحول کی تباہی کی قیمت 365 ارب روپے سالانہ(مجموعی جی ڈی پی کا 6%) ادا کررہی ہے یعنی ایک ارب روپے روزانہ ! ایک کمزور معیشت کے لیے یہ نقصان کتنا خطرناک ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے کسی ماہر کی ضرورت نہیں ہے۔ پانی کی صفائی کے ناقص نظام، پانی کی آلودگی اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی صورت 112ارب،زرعی شعبے کی بدحالی کی مد میں 70ارب ،گھریلو فضائی آلودگی کا نقصان 67ارب ،شہروں میں فضائی آلودگی 65ارب ،جبکہ چراگاہوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی پرتقریبا 7ارب روپے سالانہ ضائع ہوتے ہیں۔

  اب ذرا غور کیجیے ! ایک ارب روپے سالانہ ہم اپنی غفلت اور بے پرواہی سے ضائع کر رہے ہیں اور دوسری جانب ہماری حکومت ہر بین الاقوامی فورم پر ہاتھ میں کشکول لیے کھڑی ہے۔ شایدکبھی ہم سمجھ پائیں کہ معیشت کی جھولی کا یہ سوراخ جس سے ایک ارب روپے روزانہ گر رہے ہیں اگر رفو نہیں کیا جائے گا تو چاہے کتنا ہی قرضہ لے لیا جائے جھولی ہر گز نہیں بھرے گی۔

  محترم، میں جانتی ہوں کہ میرا ملک پاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گذر رہا ہے۔  نظام افراتفری ، ادارے انتہائی کمزور اور سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ہیں۔ کرپشن نے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں، ماضی کی غلط خارجہ پالیسیوں نے ملک میں بیرونی مداخلت اوردہشت گردی کی راہ ہموار کردی ہے۔ غریب عوام کے جسموں کے پرخچے آئے دن خودکش بمباروں کی زد میں آکر اڑ رہے ہیں۔  ایسی افراتفری میں بھلا ماحول اور ماحولیاتی مسائل کو کون پوچھے گا اگرچہ کہ ہمارے پاس وزارت ماحولیات بھی موجود ہے اور درجن بھر اس کے معاون ادارے بھی لیکن نتائج۔۔۔۔

 ا گرچہ مایوسی کا اندھیرا بہت گہرا ہے لیکن عدلیہ بحالی کی درخشاں تحریک کی کامیابی امید کے در وا کررہی ہے کہ اب پاکستان بدل رہا ہے۔  خدا کرے کہ اس بدلتے ہوئے پاکستان میں رہنے والوں کے دن بھی بدل جائیں! آمین۔


شبینہ فراز ، ایک پاکستانی